حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ مُدْرِكِ بْنِ عُمَارَةَ عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَزْنِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ أَوْ سَرَفٍ وَهُوَ مُؤْمِنٌ
حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص شراب نوشی کرتا ہے اس وقت وہ مومن نہیں رہتا جو شخص بدکاری کرتا ہے اس وقت وہ مؤمن نہیں رہتا اور جو کسی مالدار کے یہاں ڈاکہ ڈالتا ہے وہ اس وقت مومن نہیں رہتا۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي الشَّيْبَانِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ قَالَ قُلْتُ فَالْأَبْيَضُ قَالَ لَا أَدْرِي
شیبانی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے سبز مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے میں نے ان سے پوچھا سفید مٹکے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمُزَنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ حَسَنٍ عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ وَلَمْ يَقُلْ فِي الصَّلَاةِ
حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر یہ فرماتے اے ہمارے پروردگار اللہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں زمین و آسمان کے بھرپور ہونے کے برابر اور اس کے علاوہ جن چیزوں کو آپ چاہیں ان کے بھرپور ہونے کے برابر۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنِي الشَّيْبَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ قَالَ قُلْتُ فَالْأَبْيَضُ قَالَ لَا أَدْرِي
شیبانی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے سبزمٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے میں نے ان سے پوچھا سفید مٹکے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَيَعْلَى هُوَ ابْنُ عُبَيْدٍ قَالَا ثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ وَهُوَ إِسْمَاعِيلُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ فَقَالَ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمْ الْأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ
حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ احزاب کے موقع پر مشرکین کے لشکروں کے لئے بدعاء کرتے ہوئے فرمایا اے کتاب کو نازل کرنے والے اللہ! جلدی حساب لینے والے لشکروں کو شکست دینے والے، انہیں شکست سے ہمکنار فرما اور انہیں ہلا کر رکھ دے۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ قَدِمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَعْنِي فِي الْعُمْرَةِ وَنَحْنُ نَسْتُرُهُ مِنْ الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُؤْذُوهُ بِشَيْءٍ
حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ مکہ مکرمہ پہنچے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی اور اس دوران مشرکین کی ایذاء رسانی سے بچانے کے لئے نبی کریم ﷺ کو اپنی حفاظت میں رکھا۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ لَوْ كَانَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ مَا مَاتَ ابْنُهُ إِبْرَاهِيمُ
حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ اگر نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی آنا ہوتا تو نبی کریم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم ؓ کا انتقال کبھی نہ ہوتا۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَخْذَ شَيْءٍ مِنْ الْقُرْآنِ فَعَلِّمْنِي مَا يُجْزِئُنِي قَالَ قُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَمَا لِي قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي ثُمَّ أَدْبَرَ وَهُوَ مُمْسِكُ كَفَّيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ مَلَأَ يَدَيْهِ مِنْ الْخَيْرِ قَالَ مِسْعَرٌ فَسَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَّتَنِي فِيهِ غَيْرِي
حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میں قرآن کریم کا تھوڑا ساحصہ بھی یاد نہیں کرسکتا، اس لئے مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئے جو میرے لئے کافی ہو نبی کریم ﷺ نے فرمایا یوں کہہ لیا کرو سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر و لاحول ولاقوۃ الاباللہ اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ! یہ تو اللہ تعالیٰ کے لئے ہے میرے لئے کیا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یوں کہہ لیا کرو اے اللہ! مجھے معاف فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت عطاء فرما، مجھے ہدایت عطاء فرما اور مجھے رزق عطاء فرما، پھر وہ آدمی پلٹ کر چلا گیا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے بند کر رکھا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ شخص تو اپنے ہاتھ خیر سے بھر کرچلا گیا۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ كَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ مَالِهِ صَلَّى عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُ بِصَدَقَةِ مَالِ أَبِي فَقَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى
حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص نبی کریم ﷺ کے پاس اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر آتا تو نبی کریم ﷺ اس کے لئے دعاء فرماتے تھے ایک دن میں بھی اپنے والد کے مال کی زکوٰۃ لے کر حاضر ہوا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہم صل علی آل ابی اوفی۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ فَكُنَّا نَأْكُلُ فِيهَا الْجَرَادَ
حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کے ہمراہ سات غزوات میں شرکت کی ہے ان غزوات میں ہم لوگ ٹڈی دل کھایا کرتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَجِيلَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ جَارِيَةٌ تَضْرِبُ بِالدُّفِّ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَدَخَلَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَمْسَكَتْ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ
حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے نبی کریم ﷺ کے کاشانہ اقدس میں داخل ہونے کی اجازت چاہی اس وقت ایک باندی دف بجارہی تھی حضرت صدیق اکبر ؓ اجازت پا کر اندر آگئے پھر حضرت عمر ؓ نے آکر اجازت طلب کی اور اندر آگئے پھر حضرت عثمان ؓ نے آکر اجازت طلب کی تو وہ خاموش ہوگئی نبی کریم ﷺ نے فرمایا عثمان بڑے حیاء دار آدمی ہیں۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ قَالَ سَمِعْتُ شَيْخًا بِالْمَدِينَةِ يُحَدِّثُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى كَتَبَ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ إِذْ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ الْحَرُورِيَّةَ فَقُلْتُ لِكَاتِبِهِ وَكَانَ لِي صَدِيقًا انْسَخْهُ لِي فَفَعَلَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الْعَافِيَةَ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ قَالَ فَيَنْظُرُ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ نَهَدَ إِلَى عَدُوِّهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ
ایک بزرگ کہتے ہیں کہ جب عبیداللہ نے خارجیوں سے جنگ کا ارادہ کیا تو حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ نے اسے ایک خط لکھا میں نے ان کے کاتب سے " جو میرا دوست تھا " کہا کہ مجھے اس کی ایک نقل دے دو تو اس نے مجھے اس کی نقل دے دی وہ خط یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے دشمن سے آمنا سامنا ہونے کی تمنا نہ کیا کرو، بلکہ اللہ سے عافیت کا سوال کیا کرو اور جب آمنا سامنا ہوجائے تو ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا کرو اور یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے پھر نبی کریم ﷺ زوال آفتاب کا انتظار کرتے اور اس کے بعد دشمن پر حملہ کردیتے تھے اور یہ دعاء فرماتے تھے اے کتاب کو نازل کرنے والے اللہ! بادلوں کو چلانے اور لشکروں کو شکست دینے والے! انہیں شکست سے دوچار فرما اور ہماری مدد فرما۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِصَدَقَةٍ قَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ وَإِنَّ أَبِي أَتَاهُ بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى
حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص نبی کریم ﷺ کے پاس اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر آتا تو نبی کریم ﷺ اس کے لئے دعاء فرماتے تھے ایک دن میں بھی اپنے والد کے مال کی زکوٰۃ لے کر حاضر ہوا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللھم صل علی آل ابی اوفی۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيٍّ قَالَ بَهْزٌ أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَابْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَا أَصَابُوا حُمُرًا يَوْمَ خَيْبَرَ فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكْفِئُوا الْقُدُورَ وَقَالَ بَهْزٌ عَنْ عَدِيٍّ عَنِ الْبَرَاءِ وَابْنِ أَبِي أوْفَى
حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر کچھ گدھے ہمارے ہاتھ لگے تو نبی کریم ﷺ کے منادی نے اعلان کردیا کہ ہانڈیاں الٹادو۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ كَانَتْ جَارِيَةٌ تَضْرِبُ بِالدُّفِّ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَمْسَكَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ
حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے نبی کریم ﷺ کے کاشانہ اقدس میں داخل ہونے کی اجازت چاہی اس وقت ایک باندی دف بجا رہی تھی حضرت صدیق اکبر ؓ اجازت پا کر اندر آگئے پھر حضرت عمر ؓ نے آکر اجازت طلب کی اور اندر آگئے پھر حضرت عثمان ؓ نے آکر اجازت طلب کی تو وہ خاموش ہوگئی نبی کریم ﷺ نے فرمایا عثمان بڑے حیاء دار آدمی ہیں۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ وَحَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ وَرَوْحٍ قَالَا ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنْ الذُّنُوبِ وَنَقِّنِي مِنْهَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنْ الْوَسَخِ
حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ فرماتے تھے اے اللہ تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں زمین و آسمان کے بھرپور ہونے کے برابر اور اس کے علاوہ جن چیزوں کو آپ چاہیں ان کے بھرپور ہونے کے برابر اے اللہ! مجھے برف اولوں اور ٹھنڈے پانی سے پاک کردے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کردے جیسے سفید کپڑے کی میل کچیل دور ہوجاتی ہے۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدًا أَبَا الْحَسَنِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ قَالَ حَجَّاجٌ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِي أَبُو عِصْمَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ عَنْ عُبَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ
حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ فرماتے تھے اے اللہ تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں زمین و آسمان کے بھرپور ہونے کے برابر اور اس کے علاوہ جن چیزوں کو آپ چاہیں ان کے بھرپور ہونے کے برابر۔ حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب رکوع سے سر اٹھاتے تودعاء کرتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْفِئُوا الْقُدُورَ وَمَا فِيهَا قَالَ شُعْبَةُ إِمَّا أَنْ يَكُونَ قَالَهُ سُلَيْمَانُ وَمَا فِيهَا أَوْ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَهُ مِنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى
حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہانڈیاں اور ان میں جو کچھ ہے الٹادو۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ مَنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ كُنَّا فِي سَفَرٍ فَلَمْ نَجِدْ الْمَاءَ قَالَ ثُمَّ هَجَمْنَا عَلَى الْمَاءِ بَعْدُ قَالَ فَجَعَلُوا يَسْقُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُلَّمَا أَتَوْهُ بِالشَّرَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى شَرِبُوا كُلُّهُمْ
حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی سفر میں تھے ہمیں پانی نہیں مل رہا تھا تھوڑی دیر بعد ایک جگہ پانی نظر آگیا لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پانی لے کر آنے لگے جب بھی کوئی آدمی پانی لے کر آتا تو نبی کریم ﷺ یہی فرماتے کسی بھی قوم کا ساقی سب سے آخر میں پیتا ہے یہاں تک کہ سب لوگوں نے پانی پی لیا۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْمُجَالِدِ قَالَ اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَفِ فَبَعَثَانِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كُنَّا نُسْلِفُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ أَوْ التَّمْرِ شَكَّ فِي التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَمَا هُوَ عِنْدَهُمْ أَوْ مَا نَرَاهُ عِنْدَهُمْ ثُمَّ أَتَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبْزَى فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ
عبداللہ بن ابی المجاہد کہتے ہیں کہ ادھاربیع کے مسئلے میں حضرت عبداللہ بن شداد ؓ اور ابوبردہ ؓ کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا ان دونوں نے مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ کے پاس بھیج دیا میں نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ اور حضرات شخین ؓ کے دور میں گندم، جو، کشمش یا جو چیزیں بھی لوگوں کے پاس ہوتی تھیں، ان سے ادھار بیع کرلیا کرتے تھے، پھر میں حضرت عبدالرحمن بن ابزی ؓ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی یہی بات فرمائی۔