حضرت عبدالرحمن بن ازہر کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 377 · 3 hadiths

16208Musnad Imam Ahmad

حضرت عبدالرحمن بن ازہر کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِسَكْرَانَ فَأَمَرَ مَنْ كَانَ مَعَهُ أَنْ يَضْرِبُوهُ بِمَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ

حضرت عبدالرحمن بن ازہر سے مروی ہے کہ میں نے غزوہ حنین کے دن نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ لوگوں کے درمیان سے راستہ بنا کر گذرتے جا رہے ہیں اور حضرت خالد بن ولید کے ٹھکانے کا پتہ پوچھتے جارہے ہیں، تھوڑی ہی دیر میں ایک آدمی کو نشے کی حالت میں نبی ﷺ کے پاس لوگ لے آئے، نبی ﷺ نے اپنے ساتھ آنے والوں کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہے، وہ اسی سے اس شخص کو ماریں۔

16209Musnad Imam Ahmad

حضرت عبدالرحمن بن ازہر کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَاةَ يَوْمِ الْفَتْحِ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِشَارِبٍ فَأَمَرَهُمْ فَضَرَبُوهُ بِمَا فِي أَيْدِيهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِعَصًا وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِسَوْطٍ وَحَثَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ

حضرت عبدالرحمن بن ازہر سے مروی ہے کہ میں نے فتح مکہ کے دن نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ لوگوں کے درمیان سے راستہ بنا کر گزرتے جارہے ہیں اور حضرت خالد بن ولید کے ٹھکانے کا پتہ پوچھتے جارہے ہیں، تھوڑی ہی دیر میں ایک آدمی کو نشے کی حالت میں نبی ﷺ کے پاس لوگ لے آئے، نبی ﷺ نے اپنے ساتھ آنے والوں کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہے، وہ اسی سے اس شخص کو ماریں چناچہ کسی نے اسے لاٹھی سے مارا اور کسی نے کوڑے سے اور نبی ﷺ نے اس پر مٹی پھینکی۔

16210Musnad Imam Ahmad

حضرت عبدالرحمن بن ازہر کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَزْهَرِ يُحَدِّثُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ جُرِحَ يَوْمَئِذٍ وَكَانَ عَلَى الْخَيْلِ خَيْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ الْأَزْهَرِ قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا هَزَمَ اللَّهُ الْكُفَّارَ وَرَجَعَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى رِحَالِهِمْ يَمْشِي فِي الْمُسْلِمِينَ وَيَقُولُ مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ فَمَشَيْتُ أَوْ قَالَ فَسَعَيْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنَا مُحْتَلِمٌ أَقُولُ مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدٍ حَتَّى حَلَلْنَا عَلَى رَحْلِهِ فَإِذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مُسْتَنِدٌ إِلَى مُؤْخِرَةِ رَحْلِهِ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى جُرْحِهِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ وَنَفَثَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرُ مُسْنَدِ الْمَكِّيِّينَ وَالْمَدَنِيِّينَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ

حضرت عبدالرحمن بن ازہر کہتے ہیں کہ غزوہ حنین کے موقع پر حضرت خالد بن ولید زخمی ہوگئے تھے، وہ نبی ﷺ کے گھوڑے پر سوار تھے، کفار کی شکست کے بعد میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ مسلمانوں کے درمیان جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے چلتے جارہے ہیں اور فرماتے جا رہے ہیں کہ خالد بن ولید کے خیمے کا پتہ کون بتائے گا؟ میں اس وقت بالغ لڑکا تھا، میں نبی ﷺ کے آگے آگے یہ کہتے ہوئے دوڑنے لگا کہ خالد بن ولید کے خیمے کا پتہ کون بتائے گا؟ یہاں تک کہ ہم ان کے خیمے تک جا پہنچے، وہاں حضرت خالد اپنے کجاوے کے پچھلے حصے سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، نبی ﷺ نے آکر ان کا زخم دیکھا پھر اس پر اپنا لعاب دہن لگا دیا۔