وہ حدیثیں جو ابوعثمان نہدی نے ان سے نقل کیا ہیں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أُبَيٍّ قَالَ كَانَ ابْنُ عَمٍّ لِي شَاسِعَ الدَّارِ فَقُلْتُ لَوْ أَنَّكَ اتَّخَذْتَ حِمَارًا أَوْ شَيْئًا فَقَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ بَيْتِي مُطَنَّبٌ بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَمَا سَمِعْتُ عَنْهُ كَلِمَةً أَكْرَهَ إِلَيَّ مِنْهَا قَالَ فَإِذَا هُوَ يَذْكُرُ الْخُطَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ دَرَجَةً حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ
حضرت ابی ؓ سے مروی ہے کہ میرے ایک چچا زاد بھائی کا گھر مسجد نبوی سے دور تھا میں نے اس سے کہا کہ اگر تم کوئی گدھا وغیرہ لے لیتے تو اچھا ہوتا اس نے کہا کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرا گھر محمد ﷺ کے گھر سے ملا ہوا ہو میں نے اس کے منہ سے اس سے زیادہ کوئی کراہت آمیز جملہ نہیں سنا تھا لیکن پھر پتہ چلا کہ اس کی مراد مسجد کی طرف دور سے چل کر آنے کا ثواب حاصل کرنا ہے چناچہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے ہر قدم کے بدلے ایک درجہ ملے گا حضرت ابی بن کعب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہیں وہی ملے گا جس کی تم نے نیت کی ہو۔
وہ حدیثیں جو ابوعثمان نہدی نے ان سے نقل کیا ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ لَا أَعْلَمُ رَجُلًا كَانَ أَبْعَدَ مِنْهُ مَنْزِلًا أَوْ قَالَ دَارًا مِنْ الْمَسْجِدِ مِنْهُ فَقِيلَ لَهُ لَوْ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا فَرَكِبْتَهُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظُّلُمَاتِ فَقَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ دَارِي أَوْ قَالَ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَنْزِلِي أَوْ قَالَ دَارِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ قَالَ أَرَدْتُ أَنْ يُكْتَبَ إِقْبَالِي إِذَا أَقْبَلْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرُجُوعِي إِذَا رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي قَالَ أَعْطَاكَ اللَّهُ تَعَالَى ذَلِكَ كُلَّهُ أَوْ أَنْطَاكَ اللَّهُ مَا احْتَسَبْتَ أَجْمَعَ أَوْ أَنْطَاكَ اللَّهُ تَعَالَى ذَلِكَ كُلَّهُ مَا احْتَسَبْتَ أَجْمَعَ
حضرت ابی ؓ سے مروی ہے ایک آدمی کا گھر مسجد نبوی سے دور تھا میرے خیال میں اس سے زیادہ دور کسی کا گھر نہیں تھا کسی نے اس سے کہا کہ اگر تم کوئی گدھا وغیرہ لے لیتے تو اچھا ہوتا اس نے کہا کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرا گھر محمد ﷺ کے گھر سے ملا ہوا ہو میں نے اس کے منہ سے اس سے زیادہ کوئی کراہت آمیز جملہ نہیں سنا تھا لیکن پھر پتہ چلا کہ اس کی مراد مسجد کی طرف دور سے چل کر آنے کا ثواب حاصل کرنا ہے چناچہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے ہر قدم کے بدلے ایک درجہ ملے گا اور تمہیں وہی ملے گا جس کی تم نے نیت کی ہو۔
وہ حدیثیں جو ابوعثمان نہدی نے ان سے نقل کیا ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يَأْتِي الصَّلَاةَ فَقِيلَ لَهُ لَوْ اتَّخَذْتَ حِمَارًا يَقِيكَ الرَّمْضَاءَ وَالشَّوْكَ وَالْوَقْعَ قَالَ شُعْبَةُ وَذَكَرَ رَابِعَةً قَالَ مَحْلُوفَةً مَا أُحِبُّ أَنَّ طُنُبِي بِطُنُبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَكَ مَا نَوَيْتَ أَوْ قَالَ لَكَ أَجْرُ مَا نَوَيْتَ شُعْبَةُ يَقُولُ ذَلِكَ
حضرت ابی ؓ سے مروی ہے ایک آدمی کا گھر مسجد نبوی سے دور تھا میرے خیال میں اس سے زیادہ دور کسی کا گھر نہیں تھا کسی نے اس سے کہا کہ اگر تم کوئی گدھا وغیرہ لے لیتے تو اچھا ہوتا اس نے کہا کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرا گھر محمد ﷺ کے گھر سے ملا ہوا ہو میں نے اس کے منہ سے اس سے زیادہ کوئی کراہت آمیز جملہ نہیں سنا تھا لیکن پھر پتہ چلا کہ اس کی مراد مسجد کی طرف دور سے چل کر آنے کا ثواب حاصل کرنا ہے چناچہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے ہر قدم کے بدلے ایک درجہ ملے گا اور تمہیں وہی ملے گا جس کی تم نے نیت کی ہو۔
وہ حدیثیں جو ابوعثمان نہدی نے ان سے نقل کیا ہیں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ الْعَنْبَرِيِّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ قَالَ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مَا أَعْلَمُ مِنْ النَّاسِ مِنْ إِنْسَانٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِمَّنْ يُصَلِّي الْقِبْلَةَ أَبْعَدَ بَيْتًا مِنْ الْمَسْجِدِ مِنْهُ قَالَ فَكَانَ يَحْضُرُ الصَّلَوَاتِ كُلَّهُنَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ لَوْ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظَّلْمَاءِ قَالَ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي يَلْزَقُ بِمَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لِكَيْمَا يُكْتَبَ أَثَرِي وَرُجُوعِي إِلَى أَهْلِي وَإِقْبَالِي إِلَيْهِ قَالَ أَنْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ أَوْ أَعْطَاكَ مَا احْتَسَبْتَ أَجْمَعَ أَوْ كَمَا قَالَ
حضرت ابی ؓ سے مروی ہے ایک آدمی کا گھر مسجد نبوی سے دور تھا میرے خیال میں اس سے زیادہ دور کسی کا گھر نہیں تھا کسی نے اس سے کہا کہ اگر تم کوئی گدھا وغیرہ لے لیتے تو اچھا ہوتا اس نے کہا کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرا گھر محمد ﷺ کے گھر سے ملا ہوا ہو میں نے اس کے منہ سے اس سے زیادہ کوئی کراہت آمیز جملہ نہیں سنا تھا لیکن پھر پتہ چلا کہ اس کی مراد مسجد کی طرف دور سے چل کر آنے کا ثواب حاصل کرنا ہے چناچہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے ہر قدم کے بدلے ایک درجہ ملے گا اور تمہیں وہی ملے گا جس کی تم نے نیت کی ہو۔
وہ حدیثیں جو ابوعثمان نہدی نے ان سے نقل کیا ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ فَكَانَ لَا تَكَادُ تُخْطِئُهُ الصَّلَاةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَتَوَجَّعْتُ لَهُ فَقُلْتُ يَا فُلَانُ لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ مِنْ حَرِّ الرَّمْضَاءِ وَيَقِيكَ مِنْ هَوَامِّ الْأَرْضِ قَالَ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي بِطُنُبِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحَمَلْتُ حِمْلًا حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَدَعَاهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ وَذَكَرَ أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ الْأَجْرَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ
حضرت ابی ؓ سے مروی ہے ایک آدمی کا گھر مسجد نبوی سے دور تھا میرے خیال میں اس سے زیادہ دور کسی کا گھر نہیں تھا کسی نے اس سے کہا کہ اگر تم کوئی گدھا وغیرہ لے لیتے تو اچھا ہوتا اس نے کہا کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرا گھر محمد ﷺ کے گھر سے ملا ہوا ہو میں نے اس کے منہ سے اس سے زیادہ کوئی کراہت آمیز جملہ نہیں سنا تھا لیکن پھر پتہ چلا کہ اس کی مراد مسجد کی طرف دور سے چل کر آنے کا ثواب حاصل کرنا ہے چناچہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے ہر قدم کے بدلے ایک درجہ ملے گا اور تمہیں وہی ملے گا جس کی تم نے نیت کی ہو۔
وہ حدیثیں جو ابوعثمان نہدی نے ان سے نقل کیا ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أُبَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا اعْتَزَى فَأَعَضَّهُ أُبَيٌّ بِهَنِ أَبِيهِ فَقَالُوا مَا كُنْتَ فَحَّاشًا قَالَ إِنَّا أُمِرْنَا بِذَلِكَ
ابو عثمان کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی کی طرف اپنی جھوٹی نسبت کی تو حضرت ابی ؓ نے اسے اس کے باپ کی شرمگاہ سے شرم دلائی لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ تو ایسی کھلی گفتگو نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا ہمیں اسی کا حکم دیا گیا ہے۔