حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 300 · 37 hadiths · Page 1 of 2

15897Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَارَزْتُ رَجُلًا فَقَتَلْتُهُ فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ

حضرت سلمہ ؓ سے مروہ ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو مقابلہ کی دعوت دی اور اسے قتل کردیا، نبی ﷺ نے اس کا سارا سازوسامان مجھے انعام میں بخش دیا۔

15898Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ فَقَالَ كُلْ بِيَمِينِكَ فَقَالَ لَا أَسْتَطِيعُ فَقَالَ لَا اسْتَطَعْتَ قَالَ فَمَا رَجَعَتْ إِلَيْهِ

حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اس نے کہا کہ میں دائیں ہاتھ سے کھانے کی طاقت نہیں رکھتا، نبی ﷺ نے فرمایا تجھے اس کی توفیق نہ ہو، چناچہ اس کے بعد اس کا داہنا ہاتھ اس کے منہ تک نہیں جاسکا۔

15899Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَتَلْتُ رَجُلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ هَذَا فَقَالُوا ابْنُ الْأَكْوَعِ فَقَالَ لَهُ سَلَبُهُ

حضرت سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو قتل کردیا، نبی ﷺ نے فرمایا اسے کس نے قتل کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا ابن اکوع نے، نبی ﷺ نے فرمایا اس کا سارا سازو سامان اسی کا ہوگیا۔

15900Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامٌ يُسَمَّى رَبَاحًا

حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا ایک غلام تھا جس کا نام " رباح " تھا۔

15901Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَرْجِعُ فَلَا نَجِدُ لِلْحِيطَانِ فَيْئًا يُسْتَظَلُّ فِيهِ

حضرت سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم لوگ اس وقت واپس آتے تھے کہ جب ہمیں باغات میں اتنا بھی سایہ نہ ملتا کہ کوئی شخص وہاں سایہ حاصل کرسکتا ہے۔

15902Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَيَّتْنَا هَوَازِنَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَكَانَ أَمَّرَهُ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے بنو ہوازن پر حضرت صدیق اکبر ؓ کی معیت میں شب خون مارا انہیں نبی ﷺ نے ہمارا امیر مقرر کیا تھا۔

15903Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ شِعَارُنَا لَيْلَةَ بَيَّتْنَا فِي هَوَازِنَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَأَمَّرَهُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمِتْ أَمِتْ وَقَتَّلْتُ بِيَدَيَّ لَيْلَتَئِذٍ سَبْعَةً أَهْلَ أَبْيَاتٍ

حضرت سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ جس رات ہم نے حضرت صدیق اکبر ؓ کی معیت میں " جنہیں نبی ﷺ نے ہمارا امیر مقرر کیا تھا " بنو ہوازن پر حملہ کیا، اس میں باہم پہچاننے کے لئے ہماری شناخت کی علامت یہ لفظ تھا امت امت، اس رات میں نے اپنے ہاتھ سے سات گھرانے والوں کو قتل کیا تھا۔

15904Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْيَمَامِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ بُسْرُ ابْنُ رَاعِي الْعِيرِ أَبْصَرَهُ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ فَقَالَ كُلْ بِيَمِينِكَ فَقَالَ لَا أَسْتَطِيعُ فَقَالَ لَا اسْتَطَعْتَ قَالَ فَمَا وَصَلَتْ يَمِينُهُ إِلَى فَمِهِ بَعْدُ و قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ ابْنُ رَاعِي الْعِيرِ مِنْ أَشْجَعَ

حضرت سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو " جس کا نام بسر بن راعی العیر تھا " بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اس نے کہا کہ میں دائیں ہاتھ سے کھانے کی طاقت نہیں رکھتا، نبی ﷺ نے فرمایا تجھے اس کی توفیق نہ ہو، چناچہ اس کے بعد اس کا داہنا ہاتھ اس کے منہ تک نہیں جاسکا۔

15905Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَلَّ عَلَيْنَا السَّيْفَ فَلَيْسَ مِنَّا

حضرت سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اوپر تلوار سونتے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

15906Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسَ رَجُلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ مَزْكُومٌ

حضرت سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں ایک مرتبہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی کو چھینک آئی، نبی ﷺ نے یرحمک اللہ کہہ کر اسے جواب دیا، اس نے دوبارہ چھینک ماری تو نبی ﷺ نے فرمایا اس شخص کو زکام ہے۔

15907Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ وَأَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا قَالَ غَزَوْنَا فَزَارَةَ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ الْمَاءِ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَعَرَّسْنَا قَالَ فَلَمَّا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَشَنَنَّا الْغَارَةَ فَقَتَلْنَا عَلَى الْمَاءِ مَنْ قَتَلْنَا قَالَ سَلَمَةُ ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى عُنُقٍ مِنْ النَّاسِ فِيهِ الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ نَحْوَ الْجَبَلِ وَأَنَا أَعْدُو فِي آثَارِهِمْ فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ قَالَ فَجِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَيْتُهُ عَلَى الْمَاءِ وَفِيهِمْ امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ قَالَ فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا قَالَ فَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ثُمَّ بِتُّ فَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا قَالَ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ لِي يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَنِي حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ الْغَدِ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ أَعْجَبَتْنِي مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا وَهِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَفِي أَيْدِيهِمْ أُسَارَى مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَفَدَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ

حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا صدیق اکبر ؓ کے ساتھ نکلے جنہیں نبی ﷺ نے ہمارا امیر مقرر کیا تھا، ہم بنو فزارہ سے جہاد کے لئے جا رہے تھے، جب ہم ایسی جگہ پر پہنچے جو پانی کے قریب تھی تو حضرت صدیق اکبر ؓ نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے پڑاؤ ڈال دیا، فجر کی نماز پڑھ کر انہوں نے ہمیں دشمن پر حملہ کا حکم دیا اور ہم ان پر ٹوٹ پڑے اور اس ندی کے قریب بیشمار لوگوں کو قتل کردیا، اچانک میری نظر ایک تیز رفتار گروہ پر پڑی جو پہاڑ کی طرف چلا جا رہا تھا، اس میں عورتیں اور بچے تھے، میں ان کے پیچھے روانہ ہوگیا، لیکن پھر خطرہ ہوا کہ کہیں وہ مجھے سے پہلے ہی پہاڑ تک نہ پہنچ جائیں اس لئے میں نے ان کی طرف ایک تیر پھینکا جو ان کے اوپر پہاڑ کے درمیان جاگرا۔ پھر میں انہیں ہانکتا ہوا حضرت صدیق اکبر ؓ کے پاس لے آیا اور اسی ندی کے پاس پہنچ گیا، ان میں بنو فزارہ کی ایک عورت بھی تھی جس نے چمڑے کی پوستین پہن رکھی تھی، اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی جو عرب کی انتہائی حسین و جمیل لڑکی تھی، اس کی وہ بیٹی حضرت صدیق اکبر ؓ نے مجھے انعام کے طور پر بخش دی، میں نے مدینہ منورہ پہنچنے تک اس کا گھونگھٹ بھی کھول کر نہیں دیکھا، پھر رات ہوئی تب بھی میں نے اس کا گھونگھٹ نہیں ہٹایا، اگلے دن سر بازار نبی ﷺ سے میری ملاقات ہوگئی، نبی ﷺ مجھ سے فرمانے لگے سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کردو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! مجھے وہ اچھی لگی ہے اور میں نے اب تک اس کا گھونگھٹ بھی نہیں ہٹایا، یہ سن کر نبی ﷺ خاموش ہوگئے اور مجھے چھوڑ کر چلے گئے، اگلے دن پھر سر بازار نبی ﷺ سے ملاقات ہوئی تو نبی ﷺ نے اپنی بات دہرائی اور مجھے میرے باپ کی قسم دی، میں نے قسم کھا کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! مجھے وہ اچھی لگی ہے اور میں نے اب تک اس کا گھونگھٹ بھی نہیں ہٹایا، لیکن یا رسول اللہ ﷺ! اب میں وہ آپ کو دیتا ہوں، نبی ﷺ نے وہ لڑکی اہل مکہ کے پاس بھجوادی جن کے قبضے میں بہت سے مسلمان قیدی تھے، نبی ﷺ نے ان کے فدیئے میں اس لڑکی کو پیش کر کے ان قیدیوں کو چھڑا لیا۔

15908Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالًا شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ وَشَكُّوا فِيهِ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ شَكُّوا فِي بَعْضِ أَمْرِهِ قَالَ سَلَمَةُ فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَرْجُزَ بِكَ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ اعْلَمْ مَا تَقُولُ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقْتَ فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ هَذَا قُلْتُ أَخِي قَالَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ أَنْ يُصَلُّوا عَلَيْهِ وَيَقُولُونَ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ مِثْلَ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ قَالَ مَعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ كَذَبُوا مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعَيْهِ

حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی ﷺ کی معیت میں میرے بھائی (دوسری روایت کے مطابق چچا) نے سخت جنگ لڑی، لیکن اسی دوران اس کی تلوار اچٹ کر خود اسی پر لگ گئی اور وہ اسی کی دھار سے شہید ہوگیا، نبی ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ان کے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کر کے چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ وہ اپنے ہی ہتھیار سے مارا گیا، نبی ﷺ جب واپس ہوئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ کی طرف سے مجھے رجزیہ اشعار پڑھنے کی اجازت ہے؟ نبی ﷺ نے اجازت دے دی، حضرت عمر ؓ کہنے لگے کہ سوچ سمجھ کر کہنا۔ میں نے شعر پڑھتے ہوئے کہا کہ بخدا! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم کبھی ہدایت یافتہ نہ ہوتے، صدقہ و خیرات کرتے اور نہ ہی نماز پڑھتے، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے سچ کہا، میں نے آگے کہا کہ اے اللہ! ہم پر سکینہ نازل فرما اور دشمنوں سے آمنا سامنا ہونے پر ہمیں ثابت قدمی عطاء فرما کہ مشرکین نے ہمارے خلاف سرکشی پر کمر باندھ رکھی ہے۔ میں نے جب اپنے رجزیہ اشعار مکمل کئے تو نبی ﷺ نے پوچھا کہ یہ اشعار کس نے کہے ہیں؟ میں نے عرض کیا میرے بھائی نے کہے، نبی ﷺ نے فرمایا اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! کچھ لوگ ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے گھبرا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اپنے ہتھیار سے ہی مرا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا وہ محنت کرتا ہوا مجاہد بن کر شہید ہوا ہے۔ ایک دوسری سند میں یوں بھی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو لوگ ان پر نماز جنازہ پڑھنے سے گھبرا رہے ہیں انہیں غلطی لگی ہے، وہ تو محنت کرتا ہوا مجاہد بن کر شہید ہوا ہے اور اسے دوہرا اجر ملے گا، یہ کہہ کر آپ ﷺ نے دو انگلیوں سے اشاردہ فرمایا۔

15909Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمَا قَالَا كُنَّا فِي غَزَاةٍ فَجَاءَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اسْتَمْتِعُوا

حضرت جابر ؓ اور سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی جہاد میں شریک تھے، اسی دوران ہمارے پاس نبی ﷺ کا ایک قاصد آیا اور کہنے لگا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے تم عورتوں سے فائدہ اٹھاسکتے ہو۔

15910Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ عَنْ عِكْرِمَةَ الْيَمَامِيِّ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فِي غَزَاةِ هَوَازِنَ فَنَفَّلَنِي جَارِيَةً فَاسْتَوْهَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ بِهَا إِلَى مَكَّةَ فَفَدَى بِهَا أُنَاسًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ

حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا صدیق اکبر ؓ کے ساتھ بنو ہوازن سے جہاد کے لئے نکلے، حضرت صدیق اکبر ؓ نے ایک باندی مجھے انعام کے طور پر بخش دی، نبی ﷺ مجھ سے فرمانے لگے سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کردو، نبی ﷺ نے وہ لڑکی اہل مکہ کے پاس بھجوادی جن کے قبضے میں بہت سے مسلمان قیدی تھے، نبی ﷺ نے ان کے فدیئے میں اس لڑکی کو پیش کر کے ان قیدیوں کو چھڑا لیا۔

15911Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹی بات کی نسبت کرتا ہے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہئے۔

15912Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ مَنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ وَمَنْ كَانَ أَكَلَ فَلَا يَأْكُلْ شَيْئًا وَلِيُتِمَّ صَوْمَهُ

حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے عاشورہ کے دن قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو حکم دیا کہ لوگوں میں منادی کر دے کہ جس شخص نے آچ کا روزہ رکھا ہوا ہو، اسے اپنا روزہ پورا کرنا چاہئے اور جس نے کچھ کھاپی لیا ہو، وہ اب کچھ نہ کھائے اور روزے کا وقت ختم ہونے تک اسی طرح مکمل کرے۔

15913Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَدْوِ فَأَذِنَ لَهُ

حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے جنگل میں رہنے کی اجازت مانگی تو نبی ﷺ نے انہیں اجازت دے دی۔

15914Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ فِي الْحُدَيْبِيَةِ ثُمَّ قَعَدْتُ مُتَنَحِّيًا فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ أَلَا تُبَايِعُ قَالَ قُلْتُ قَدْ بَايَعْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَيْضًا قُلْتُ عَلَامَ بَايَعْتُمْ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ

حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ میں نے حدیبیہ کے موقع پر دوسرے لوگوں کے ساتھ نبی ﷺ کے دست حق پرست پر بیعت کی اور ایک طرف کو ہو کر بیٹھ گیا، جب نبی ﷺ کے پاس سے لوگ چھٹ گئے تو نبی ﷺ نے فرمایا ابن اکوع! تم کیوں نہیں بیعت کر رہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میں بیعت کرچکا ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا دوبارہ سہی، راوی نے پوچھا کہ اس دن آپ نے کس چیز پر نبی ﷺ سے بیعت کی تھی؟ انہوں نے فرمایا موت پر۔

15915Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ قَالُوا لَا قَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ قَالُوا لَا قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ بِأُخْرَى فَقَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ قَالُوا لَا قَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ قَالُوا نَعَمْ ثَلَاثَ دَنَانِيرَ قَالَ فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ ثَلَاثَ كَيَّاتٍ قَالَ ثُمَّ أُتِيَ بِالثَّالِثَةِ فَقَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ قَالُوا نَعَمْ قَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ قَالُوا لَا قَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَيَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ

حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ لایا گیا، نبی ﷺ نے پوچھا کیا اس نے اپنے پیچھے کوئی قرض چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا نہیں، نبی ﷺ نے پوچھا کیا اس نے کوئی ترکہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا نہیں، نبی ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی، پھر دوسرا جنازہ آیا اور نبی ﷺ نے اس کے متعلق بھی یہی پوچھا کہ اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا نہیں، نبی ﷺ نے پوچھا کیا اس نے ترکہ میں کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا جی ہاں! تین دینار، نبی ﷺ نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا جہنم کے تین داغ ہیں، پھر تیسرا جنازہ لایا گیا اور نبی ﷺ نے حسب سابق پوچھا کہ اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا جی ہاں! پھر پوچھا کہ ترکہ میں کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا جی ہاں! پھر پوچھا کہ ترکہ میں کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا تو پھر اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو، اس پر ایک انصاری نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اس کا قرض میرے ذمے ہے، چناچہ نبی ﷺ نے اس کی بھی نماز جنازہ پڑھا دی۔

15916Musnad Imam Ahmad

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ يَزِيدَ عَنْ سَلَمَةَ قَالَ كَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا فَنَزَلَ يَحْدُو قَالَ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَاغْفِرْ فِدًى لَكَ مَا أَتَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَتَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا الْحَادِي قَالُوا ابْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ وَجَبَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْلَا أَمْتَعْتَنَا بِهِ قَالَ فَأُصِيبَ ذَهَبَ يَضْرِبُ رَجُلًا يَهُودِيًّا فَأَصَابَ ذُبَابُ السَّيْفِ عَيْنَ رُكْبَتِهِ فَقَالَ النَّاسُ حَبِطَ عَمَلُهُ قَتَلَ نَفْسَهُ قَالَ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَزْعُمُونَ أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ قَالَ وَمَنْ يَقُولُهُ قَالَ قُلْتُ رِجَالٌ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْهُمْ فُلَانٌ وَفُلَانٌ قَالَ كَذَبَ مَنْ قَالَهُ إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ بِإِصْبَعَيْهِ وَإِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ وَقَلَّ عَرَبِيٌّ مَا مَشَى بِهَا يُرِيدُكَ عَلَيْهِ

حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ (میرا بھائی) عامر ایک شاعر آدمی تھا، وہ ایک مقام پر پڑاؤ کر کے حدی کے یہ اشعار پڑھنے لگے اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے، ہم صدقہ و خیرات کرتے اور نہ ہی نماز پڑھتے، ہم تیرے لئے قربان ہوں جب ہم آگئے ہیں تو ہماری مغفرت فرما اور دشمن سے آمنا سامنا ہونے پر ہمیں ثابت قدمی عطاء فرما اور ہم پر سکینہ نازل فرما، جب ہمیں آواز دے کر بلایا جاتا ہے تو ہم آجاتے ہیں اور لوگ صرف آواز دے کر ہم پر اعتماد اور بھروسہ کرلیتے ہیں۔ نبی ﷺ نے پوچھا کہ یہ حدی خان کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ابن اکوع ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ اس پر رحم کرے، یہ سن کر ایک آدمی نے کہا واجب ہوگئی، یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے ہمیں اس سے فائدہ کیوں نہ اٹھانے دیا؟ راوی کہتے ہیں کہ اسی غزوے میں عامر شہید ہوگئے، وہ ایک یہودی کو مارنے کے لئے آگے بڑھے تھے کہ ان کی تلوار کی دھار اچٹ کر انہیں کے گھٹنے پر آلگی اور وہ شہید ہوگئے۔