حضرت ابولیلیٰ ابوعبدالرحمن بن ابی لیلیٰ (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي لَيْلَى قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةٍ لَيْسَتْ بِفَرِيضَةٍ فَمَرَّ بِذِكْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَقَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ وَيْحٌ أَوْ وَيْلٌ لِأَهْلِ النَّارِ
حضرت ابولیلیٰ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ایسی نماز میں جو فرض نہ تھی " قرآن کریم پڑھتے ہوئے سنا جب جنت اور جہنم کا تذکرہ آیا تو نبی کریم ﷺ کہنے لگے میں جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، اہل جہنم کے لئے ہلاکت ہے۔
حضرت ابولیلیٰ ابوعبدالرحمن بن ابی لیلیٰ (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَخِيهِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يَحْبُو حَتَّى صَعِدَ عَلَى صَدْرِهِ فَبَالَ عَلَيْهِ قَالَ فَابْتَدَرْنَاهُ لِنَأْخُذَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنِي ابْنِي قَالَ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ
حضرت ابولیلیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ حضرت امام حسن ؓ (جوچھوٹے بچے تھے . گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے آئے اور نبی کریم ﷺ کے سینہ مبارک پر چڑھ گئے تھوڑی دیر بعد انہوں نے نبی کریم ﷺ پر پیشاب کردیا ہم جلدی سے انہیں پکڑنے کے لئے آگے بڑھے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے بیٹے کو چھوڑ دو میرے بیٹے کو چھوڑ دو پھر نبی کریم ﷺ نے پانی منگوا کر اس پر بہالیا۔
حضرت ابولیلیٰ ابوعبدالرحمن بن ابی لیلیٰ (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي لَيْلَى أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى بَطْنِهِ الْحَسَنُ أَوْ الْحُسَيْنُ شَكَّ زُهَيْرٌ قَالَ فَبَالَ حَتَّى رَأَيْتُ بَوْلَهُ عَلَى بَطْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَارِيعَ قَالَ فَوَثَبْنَا إِلَيْهِ قَالَ فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ دَعُوا ابْنِي أَوْ لَا تُفْزِعُوا ابْنِي قَالَ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ قَالَ فَأَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ قَالَ فَأَدْخَلَهَا فِي فِيهِ قَالَ فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ مِنْ فِيهِ
حضرت ابولیلی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ حضرت امام حسن ؓ (جوچھوٹے بچے تھے) گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے آئے اور نبی کریم ﷺ کے سینہ مبارک پر چڑھ گئے تھوڑی دیر بعد انہوں نے نبی کریم ﷺ پر پیشاب کردیا ہم جلدی سے انہیں پکڑنے کے لئے آگے بڑھے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے بیٹے کو چھوڑ دو میرے بیٹے کو چھوڑ دو پھر نبی کریم ﷺ نے پانی منگوا کر اس پر بہالیا، تھوڑی دیر بعد انہوں نے صدقہ کی ایک کھجور پکڑ کر منہ میں ڈال لی، نبی کریم ﷺ نے ان کے منہ میں ہاتھ ڈال کر اسے نکال لیا۔
حضرت ابولیلیٰ ابوعبدالرحمن بن ابی لیلیٰ (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتْحَ خَيْبَرَ فَلَمَّا انْهَزَمُوا وَقَعْنَا فِي رِحَالِهِمْ فَأَخَذَ النَّاسُ مَا وَجَدُوا مِنْ خُرْثِيٍّ فَلَمْ يَكُنْ أَسْرَعَ مِنْ أَنْ فَارَتْ الْقُدُورُ قَالَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ وَقَسَمَ بَيْنَنَا فَجَعَلَ لِكُلِّ عَشَرَةٍ شَاةً
حضرت ابولیلی ؓ سے مروی ہے کہ فتح خیبر کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا جب اہل خیبر شکست کھا کر بھاگ گئے تو ہم ان کے خیموں میں چلے گئے لوگوں نے جو معمولی چیزیں وہاں سے ملیں اٹھالیں اور اس میں سب سے جلدی جو کام ہوسکا وہ یہ تھا کہ ہنڈیاں چڑھ گئیں لیکن نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تو انہیں الٹادیا گیا اور نبی کریم ﷺ نے ہمارے درمیان مال غنیمت تقسیم فرمایا تو ہر آدمی کو دس دس بکریاں عطاء فرمائیں۔
حضرت ابولیلیٰ ابوعبدالرحمن بن ابی لیلیٰ (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِي لَيْلَى قَالَ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى صَدْرِهِ أَوْ بَطْنِهِ الْحَسَنُ أَوْ الْحُسَيْنُ قَالَ فَرَأَيْتُ بَوْلَهُ أَسَارِيعَ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ دَعُوا ابْنِي لَا تُفْزِعُوهُ حَتَّى يَقْضِيَ بَوْلَهُ ثُمَّ أَتْبَعَهُ الْمَاءَ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ بَيْتَ تَمْرِ الصَّدَقَةِ وَدَخَلَ مَعَهُ الْغُلَامُ فَأَخَذَ تَمْرَةً فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ فَاسْتَخْرَجَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا
حضرت ابولیلیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ حضرت امام حسن ؓ (جوچھوٹے بچے تھے) گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے آئے اور نبی کریم ﷺ کے سینہ مبارک پر چڑھ گئے تھوڑی دیر بعد انہوں نے نبی کریم ﷺ پر پیشاب کردیا ہم جلدی سے انہیں پکڑنے کے لئے آگے بڑھے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے بیٹے کو چھوڑ دو میرے بیٹے کو چھوڑ دو پھر نبی کریم ﷺ نے پانی منگوا کر اس پر بہالیا، تھوڑی دیر بعد انہوں نے صدقہ کی ایک کھجور پکڑ کر منہ میں ڈال لی، نبی کریم ﷺ نے ان کے منہ میں ہاتھ ڈال کر اسے نکال لیا اور فرمایا ہمارے لئے صدقے کا مال حلال نہیں ہے۔
حضرت ابولیلیٰ ابوعبدالرحمن بن ابی لیلیٰ (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ ثَابِتٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فِي الْمَسْجِدِ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ ضَخْمٍ فَقَالَ يَا أَبَا عِيسَى قَالَ نَعَمْ قَالَ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ فِي الْفِرَاءِ فَقَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُصَلِّي فِي الْفِرَاءِ قَالَ فَأَيْنَ الدِّبَاغُ فَلَمَّا وَلَّى قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ
ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک بھاری بھرکم آدمی کو لایا گیا اس نے کہا اے ابوعیسیٰ! انہوں نے فرمایا جی جناب! اس نے کہا کہ پوستین کے بارے میں آپ نے جو حدیث سنی ہے وہ ہمیں بتائیے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! کیا میں پوستین میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو دباغت کہاں جائے گی؟ جب وہ چلا گیا تو میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ سوید بن غفلہ ؓ ہیں۔
حضرت ابولیلیٰ ابوعبدالرحمن بن ابی لیلیٰ (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ عَنْ أَبِي فَزَارَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِيهِ فِيمَا أَعْلَمُ شَكَّ مُوسَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ فِي قُبَّةٍ مِنْ خُوصٍ
حضرت ابولیلیٰؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کھجور کے پتوں سے بنائے ہوئے خیمے میں اعتکاف فرمایا تھا۔
حضرت ابولیلیٰ ابوعبدالرحمن بن ابی لیلیٰ (رض) کی حدیثیں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَأَبُو مَعْمَرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ قَالُوا ثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ عَنْ أَبِي فَزَارَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ فِي قُبَّةٍ مِنْ خُوصٍ
حضرت ابولیلیٰ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ نے کھجور کے پتوں سے بنائے ہوئے خیمے میں اعتکاف فرمایا تھا۔