حضرت ہشام بن حکیم بن حزام کی مرویات۔

Musnad Imam Ahmad · Chapter 36 · 6 hadiths

14792Musnad Imam Ahmad

حضرت ہشام بن حکیم بن حزام کی مرویات۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ حِزَامٍ أَنَّهُ مَرَّ بِأُنَاسٍ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ قَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ بِالشَّامِ فَقَالَ مَا هَؤُلَاءِ قَالُوا بَقِيَ عَلَيْهِمْ شَيْءٌ مِنْ الْخَرَاجِ فَقَالَ إِنِّي أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعَذِّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ قَالَ وَأَمِيرُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ عُمَيْرُ بْنُ سَعْدٍ عَلَى فِلَسْطِينَ قَالَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَحَدَّثَهُ فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمٍ أَنَّهُ مَرَّ بِالشَّامِ عَلَى قَوْمٍ مِنْ الْأَنْبَاطِ وَقَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

ایک مرتبہ ملک شام میں حضرت ابن حزام کا گذر کچھ ذمیوں پر ہوا جنہیں سورج کی دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا انہوں نے پوچھا کہ ان لوگوں کا کیا معاملہ ہے لوگوں نے بتایا کہ ان پر کچھ ٹیکس واجب الاداء ہے۔ (ادا نہ کرسکنے کی وجہ سے انہیں اس طرح سزا دی جاری ہے) انہوں نے فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو عذاب دیتے ہیں ان دنوں فلسطین کے گورنر عمیر بن سعد تھے انہوں نے یہ حدیث ان کے پاس جا کر سنائی تو انہوں نے ان ذمیوں کا راستہ چھوڑ دیا۔ (معاف کردیا) گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

14793Musnad Imam Ahmad

حضرت ہشام بن حکیم بن حزام کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ رَأَى نَاسًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ قِيَامًا فِي الشَّمْسِ فَقَالَ مَا هَؤُلَاءِ فَقَالُوا مِنْ أَهْلِ الْجِزْيَةِ فَدَخَلَ عَلَى عُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ وَكَانَ عَلَى طَائِفَةِ الشَّامِ فَقَالَ هِشَامٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ عَذَّبَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا عَذَّبَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَالَ عُمَيْرٌ خَلُّوا عَنْهُمْ

ایک مرتبہ ملک شام میں حضرت ابن حزام کا گذر کچھ ذمیوں پر ہوا جنہیں سورج کی دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا انہوں نے پوچھا کہ ان لوگوں کا کیا معاملہ ہے لوگوں نے بتایا کہ ان پر کچھ ٹیکس واجب الاداء ہے۔ (ادا نہ کرسکنے کی وجہ سے انہیں اس طرح سزا دی جاری ہے) انہوں نے فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو عذاب دیتے ہیں ان دنوں فلسطین کے گورنر عمیر بن سعد تھے انہوں نے یہ حدیث ان کے پاس جا کر سنائی تو انہوں نے ان ذمیوں کا راستہ چھوڑ دیا۔ (معاف کردیا)۔

14794Musnad Imam Ahmad

حضرت ہشام بن حکیم بن حزام کی مرویات۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيُّ وَغَيْرُهُ قَالَ جَلَدَ عِيَاضُ بْنُ غَنْمٍ صَاحِبَ دَارِيَا حِينَ فُتِحَتْ فَأَغْلَظَ لَهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ الْقَوْلَ حَتَّى غَضِبَ عِيَاضٌ ثُمَّ مَكَثَ لَيَالِيَ فَأَتَاهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ هِشَامٌ لِعِيَاضٍ أَلَمْ تَسْمَعْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا أَشَدَّهُمْ عَذَابًا فِي الدُّنْيَا لِلنَّاسِ فَقَالَ عِيَاضُ بْنُ غَنْمٍ يَا هِشَامُ بْنَ حَكِيمٍ قَدْ سَمِعْنَا مَا سَمِعْتَ وَرَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ أَوَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْصَحَ لِسُلْطَانٍ بِأَمْرٍ فَلَا يُبْدِ لَهُ عَلَانِيَةً وَلَكِنْ لِيَأْخُذْ بِيَدِهِ فَيَخْلُوَ بِهِ فَإِنْ قَبِلَ مِنْهُ فَذَاكَ وَإِلَّا كَانَ قَدْ أَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ لَهُ وَإِنَّكَ يَا هِشَامُ لَأَنْتَ الْجَرِيءُ إِذْ تَجْتَرِئُ عَلَى سُلْطَانِ اللَّهِ فَهَلَّا خَشِيتَ أَنْ يَقْتُلَكَ السُّلْطَانُ فَتَكُونَ قَتِيلَ سُلْطَانِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى

شریح بن عبید وغیرہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عیاض بن غنم نے دار کا شہر فتح کیا تو اس کے گورنر کو کوڑے مارے اس پر حضرت ہشام بن حکیم نے انہیں تلخ جملے کہے حتی کہ عیاض ان سے ناراض ہوگئے کچھ دن گذرنے کے بعد ہشام، ان کے پاس دوبارہ آئے اور ان سے معذرت کرکے کہنے لگے کہ کیا آپ نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس شخص کو ہوگا جو دنیا میں لوگوں کو سب سے سخت عذاب دیتارہا ہوگا اس پر حضرت عیاض نے کہا ہشام جیسے آپ نے نبی ﷺ سے سنا ہے اس طرح ہم نے بھی سنا ہے جیسے آپ نے دیکھا ہے ہم نے بھی دیکھا ہے لیکن کیا آپ نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے کہ جو شخص کسی معاملے میں بادشاہ کی نصیحت کرنا چاہے تو سب کے سامنے نہ کرے بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے خلوت میں لے جائے اگر بادشاہ اس کی نصیحت کو قبول کرلے تو بہت اچھا ورنہ اس کی ذمہ داری پوری ہوگئی اور اے ہشام آپ بڑے جری آدمی ہیں اللہ کی طرف سے مقرر ہونے والے بادشاہ کے سامنے بھی جرات کا مظاہرہ کرتے ہیں کیا آپ کو اس سے ڈر نہیں لگتا کہ بادشاہ آپ کو قتل کردے اور آپ اللہ کے بادشاہ کے مقتول بن جائیں؟

14795Musnad Imam Ahmad

حضرت ہشام بن حکیم بن حزام کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عِيَاضَ بْنَ غَنْمٍ رَأَى نَبَطًا يُشَمَّسُونَ فِي الْجِزْيَةِ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا

ایک مرتبہ حضرت عیاض بن غنم کا گذر کچھ ذمیوں پر ہوا جنہیں سورج کی دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا انہوں نے فرمایا میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔

14796Musnad Imam Ahmad

حضرت ہشام بن حکیم بن حزام کی مرویات۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ وَجَدَ عِيَاضَ بْنَ غَنْمٍ وَهُوَ عَلَى حِمْصَ يُشَمِّسُ نَاسًا مِنْ النَّبَطِ فِي أَدَاءِ الْجِزْيَةِ فَقَالَ لَهُ هِشَامٌ مَا هَذَا يَا عِيَاضُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا

ایک مرتبہ ملک شام میں حضرت ابن حزام کا گذر کچھ ذمیوں پر ہوا جنہیں سورج کی دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا انہوں نے پوچھا کہ ان لوگوں کا کیا معاملہ ہے لوگوں نے بتایا کہ ان پر کچھ ٹیکس واجب الاداء ہے۔ (ادانہ کرسکنے کی وجہ سے انہیں اس طرح سزا دی جاری ہے) انہوں نے فرمایا عیاض یہ کیا ہے؟ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔

14797Musnad Imam Ahmad

حضرت ہشام بن حکیم بن حزام کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عِيَاضَ بْنَ غَنْمٍ وَهِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ مَرَّا بِعَامِلِ حِمْصَ وَهُوَ يُشَمِّسُ أَنْبَاطًا فِي الشَّمْسِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْعَامِلِ مَا هَذَا يَا فُلَانُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا

ایک مرتبہ حمص میں حضرت ابن حزام کا گذر کچھ ذمیوں پر ہوا جنہیں سورج کی دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا انہوں نے پوچھا کہ ان لوگوں کا کیا معاملہ ہے لوگوں نے بتایا کہ ان پر کچھ ٹیکس واجب الاداء ہے۔ (ادا نہ کرسکنے کی وجہ سے انہیں اس طرح سزا دی جاری ہے) انہوں نے فرمایا عیاض یہ کیا ہے؟ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔