حضرت قیس بن سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں

Musnad Imam Ahmad · Chapter 983 · 5 hadiths

22764Musnad Imam Ahmad

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ سَأَلْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ عَنْ صَدَقَةِ الْفِطْرِ فَقَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّكَاةُ ثُمَّ نَزَلَتْ الزَّكَاةُ فَلَمْ نُنْهَ عَنْهَا وَلَمْ نُؤْمَرْ بِهَا وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ ثُمَّ نَزَلَ رَمَضَانُ فَلَمْ نُؤْمَرْ بِهِ وَلَمْ نُنْهَ عَنْهُ وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ

حضرت قیس بن سعد ؓ سے مروی ہے کہ زکوٰۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے نبی کریم ﷺ صدقہ فطر کی ادائیگی کا حکم دیتے تھے جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہوگیا تو ہمیں اس سے منع کیا گیا اور نہ حکم دیا گیا البتہ ہم اسے ادا کرتے رہے اور ماہ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہونے سے پہلے نبی کریم ﷺ نے ہمیں یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا جب ماہ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہوا تو نبی کریم ﷺ نے ہمیں عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا البتہ ہم خود ہی رکھتے رہے۔

22765Musnad Imam Ahmad

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ شَدَّدَ سُلْطَانَهُ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ أَوْهَنَ اللَّهُ كَيْدَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت قیس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کی نافرمانی پر اپنے حکمران کو درست قرار دیتا ہے قیامت کے دن اللہ اس کی تدبیر کو کمزور کر دے گا۔

22766Musnad Imam Ahmad

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى أَنَّ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ وَقَيْسَ بْنَ سَعْدٍ كَانَا قَاعِدَيْنِ بِالْقَادِسِيَّةِ فَمَرُّوا بِجِنَازَةٍ فَقَامَا فَقِيلَ إِنَّمَا هُوَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَقَالَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ فَقَامَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ يَهُودِيٌّ فَقَالَ أَلَيْسَتْ نَفْسًا

حضرت سہل بن حنیف ؓ اور قیس بن سعد ؓ ایک مرتبہ قادسیہ میں بیٹھے ہوئے تھے اسی اثناء میں کچھ لوگ ایک جنازہ لے کر گذرے یہ دونوں کھڑے ہوگئے کسی نے کہا کہ یہ اسی علاقے کے رہنے والوں میں سے تھا انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ لے کر گذرے تو نبی کریم ﷺ کھڑے ہوگئے کسی نے کہا کہ یہ تو یہودی تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا وہ انسان نہیں تھا۔

22767Musnad Imam Ahmad

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ أَبِي عَمَّارٍ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّكَاةُ فَلَمَّا نَزَلَتْ الزَّكَاةُ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا وَنَحْنُ نَفْعَلُهَا

حضرت قیس بن سعد ؓ سے مروی ہے کہ زکوٰۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے نبی کریم ﷺ صدقہ فطر کی ادائیگی کا حکم دیا تھا جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا تو نبی کریم ﷺ نے ہمیں صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا البتہ ہم خود ہی ادا کرتے رہے۔

22768Musnad Imam Ahmad

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْنَا لَهُ غِسْلًا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ أَتَيْنَاهُ بِمِلْحَفَةٍ وَرْسِيَّةٍ فَاشْتَمَلَ بِهَا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْوَرْسِ عَلَى عُكَنِهِ ثُمَّ أَتَيْنَاهُ بِحِمَارٍ لِيَرْكَبَ فَقَالَ صَاحِبُ الْحِمَارِ أَحَقُّ بِصَدْرِ حِمَارِهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْحِمَارُ لَكَ

حضرت قیس بن سعد ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ہمارے یہاں تشریف لائے ہم نے نبی کریم ﷺ کے لئے غسل کا پانی رکھا نبی کریم ﷺ نے غسل کیا پھر ہم اس سے رنگا ہو ایک لحاف لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے جسے نبی کریم ﷺ نے اپنے اوپر لپیٹ لیا اس کے نشانات جو نبی کریم ﷺ کے پیٹ کی سلوٹوں پر پڑے تو اس کا منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے پھر ہم سواری کے لئے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک گدھا لے کر آئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا سواری کا مالک آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ پھر یہ سواری آپ ہی کی ہے۔