حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

Musnad Imam Ahmad · Chapter 136 · 29 hadiths · Page 1 of 2

15120Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّ فِي السُّبْحَةِ بِاللَّيْلِ فِي السَّفَرِ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ

حضرت عامر سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دوران سفر رات کے وقت اپنی سواری پر ہی نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا ہے خواہ سواری کا رخ کسی بھی طرف ہو۔

15121Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ التَّيْمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ فَقَالَ مَا هَذَا الْقَبْرُ قَالُوا قَبْرُ فُلَانَةَ قَالَ أَفَلَا آذَنْتُمُونِي قَالُوا كُنْتَ نَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوا فَادْعُونِي لِجَنَائِزِكُمْ فَصَفَّ عَلَيْهَا فَصَلَّى

حضرت عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کا گذر کسی قبر پر ہوا نبی ﷺ نے پوچھا یہ کس کی قبر ہے لوگوں نے بتایا فلاں عورت کی قبر ہے نبی ﷺ نے فرمایا تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں لوگوں نے عرض کیا کہ آپ سوئے ہوئے تھے آپ کو جگانا ہمیں اچھا معلوم نہیں ہوا نبی ﷺ نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو بلکہ جنازے میں بلالیا کرو اس کے بعد نبی ﷺ نے اس عورت کی قبر پر صف بندی کر کے نماز جنازہ پڑھائی۔

15122Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتَ جَنَازَةً فَقُمْ حَتَّى تُجَاوِزَكَ أَوْ قَالَ قِفْ حَتَّى تُجَاوِزَكَ قَالَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا رَأَى جَنَازَةً قَامَ حَتَّى تُجَاوِزَهُ وَكَانَ إِذَا خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ وَلَّى ظَهْرَهُ الْمَقَابِرَ

حضرت عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کسی جنازے کو دیکھا کرو تو کھڑے ہوجایا کرو یہاں تک کہ وہ گذر جائے حضرت ابن عمر جب کسی جنازے کو دیکھتے تو کھڑے ہوجاتے یہاں تک کہ وہ گذر جاتا اور جب کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو اپنی پشت دوسری قبروں کی طرف فرما لیتے۔

15123Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ الْجَنَازَةَ وَلَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا فَلْيَقُمْ حَتَّى تُجَاوِزَهُ أَوْ تُوضَعَ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کسی جنازے کو دیکھا کرو اور اس کے ساتھ نہ جاسکو تو کھڑے ہوجایا کرو یہاں تک کہ وہ گزر جائے یا زمین پر رکھ دیا جائے۔

15124Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى نَعْلَيْنِ فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُ

حضرت عامر سے مروی ہے کہ بنو فزارہ کے ایک آدمی نے ایک جوتی سے دو جوتیوں کے عوض نکاح کرلیا نبی ﷺ نے اس کے نکاح کو برقرار رکھا۔

15125Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا يَقُولُ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَأْثُرُ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ الْجِنَازَةَ فَلْيَقُمْ حِينَ يَرَاهَا حَتَّى تُخَلِّفَهُ إِذَا كَانَ غَيْرَ مُتَّبِعِهَا

حضرت عامر سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کسی جنازے کو دیکھا کرو اور اس کے ساتھ نہ جاسکو تو کھڑے ہوجایا کرو یہاں تک کہ وہ گزرجائے یا زمین پر رکھ دیا جائے۔

15126Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَا أَعُدُّ وَمَا لَا أُحْصِي يَسْتَاكُ وَهُوَ صَائِمٌ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا لَا أُحْصِي يَتَسَوَّكُ وَهُوَ صَائِمٌ

حضرت عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو حالت صیام میں اتنی مرتبہ مسواک کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ میں شمار نہیں کرسکتا۔

15127Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى نَعْلَيْنِ قَالَ فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ ذَاكَ لَهُ فَقَالَ أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لَهُ كَأَنَّهُ أَجَازَ ذَلِكَ قَالَ كَأَنَّهُ أَجَازَهُ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ فَقَالَ أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ فَقَالَتْ رَأَيْتُ ذَاكَ فَقَالَ وَأَنَا أَرَى ذَاكَ

حضرت عامر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے دو جوتیوں کے عوض نکاح کرلیا وہ عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور اس بات کا ذکر کیا نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کیا تم اپنے نفس اور مال کے بدلے میں دو جوتیوں پر راضی ہو اس نے کہا جی ہاں شعبہ نے عاصم سے اس کا مطلب پوچھا کہ اس سے اجازت مراد ہے انہوں نے کہا ہاں دوسری مرتبہ ملاقات ہونے پر عاصم نے اس میں عورت کا جواب یہ نقل کیا کہ میں اسے صحیح سمجھتی ہوں تو نبی ﷺ نے فرمایا پھر میری بھی یہی رائے ہے۔

15128Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً لَمْ تَزَلْ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا صَلَّى عَلَيَّ فَلْيُقِلَّ عَبْدٌ مِنْ ذَلِكَ أَوْ لِيُكْثِرْ

حضرت عامربن ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دوران خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مجھ پر درود پڑھے تو جب تک وہ مجھ پر درود پڑھتا رہے گا فرشتے اس پر درود پڑھتے رہیں گے اب انسان کی مرضی ہے کہ کم پڑھے یا زیادہ؟

15129Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهَا سَتَكُونُ مِنْ بَعْدِي أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَيُؤَخِّرُونَهَا عَنْ وَقْتِهَا فَصَلُّوهَا مَعَهُمْ فَإِنْ صَلَّوْهَا لِوَقْتِهَا وَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ فَلَكُمْ وَلَهُمْ وَإِنْ أَخَّرُوهَا عَنْ وَقْتِهَا فَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً وَمَنْ نَكَثَ الْعَهْدَ وَمَاتَ نَاكِثًا لِلْعَهْدِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ قُلْتُ لَهُ مَنْ أَخْبَرَكَ هَذَا الْخَبَرَ قَالَ أَخْبَرَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يُخْبِرُ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عاصم بن عبیداللہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے بعد کچھ ایسے امراء بھی آئیں گے جو کبھی وقت مقررہ پر نماز پڑھ لیاکریں گے اور کبھی تاخیر کردیاکریں گے تم ان کے ساتھ نماز پڑھتے رہنا اگر وہ بروقت نماز پڑھیں اور تم بھی ان کے ساتھ شامل ہو تو تمہیں ثواب ملے گا اور انہیں بھی اگر وہ موخر کردیں اور تم ان کے ساتھ ہی نماز پڑھو تمہیں ثواب ملے گا اور انہیں تاخیر کی سزا ملے گی جو شخص جماعت سے علیحدگی اختیار کرلیتا ہے اور مرجاتا ہے تو جاہلیت کی موت مرتا ہے اور جو شخص وعدہ توڑ دیتا ہے اور اسی حال میں مرجاتا ہے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہوگی۔

15130Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ الْجِنَازَةَ فَلْيَقُمْ حَتَّى تُخَلِّفَهُ أَوْ تُوضَعَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت عامر سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کسی جنازے کو دیکھا کرو اور اس کے ساتھ نہ جاسکو تو کھڑے ہوجایا کرو یہاں تک کہ وہ گزر جائے یا زمین پر رکھ دیا جائے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

15131Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ النَّوَافِلَ فِي كُلِّ جِهَةٍ

حضرت عامر سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دوران سفر رات کے وقت اپنی سواری پر ہی نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا ہے خواہ سواری کا رخ کسی بھی طرف ہو۔

15132Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَيْتَ جَنَازَةً فَإِنْ لَمْ تَكُ مَاشِيًا مَعَهَا فَقُمْ لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكَ أَوْ تُوضَعَ قَالَ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رُبَّمَا تَقَدَّمَ الْجِنَازَةَ فَقَعَدَ حَتَّى إِذَا رَآهَا قَدْ أَشْرَفَتْ قَامَ حَتَّى تُوضَعَ وَرُبَّمَا سَتَرَتْهُ

حضرت عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کسی جنازے کو دیکھا کرو تو کھڑے ہوجایا کرو یہاں تک کہ وہ گذر جائے حضرت ابن عمر جب کسی جنازے کو دیکھتے تو کھڑے ہوجاتے یہاں تک کہ وہ گذر جاتا اور جب کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو اپنی پشت دوسری قبروں کی طرف فرما لیتے۔

15133Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ

حضرت عامر سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دوران سفر رات کے وقت اپنی سواری پر ہی نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا ہے خواہ سواری کا رخ کسی بھی طرف ہو۔

15134Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ الْجِنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ

حضرت عامر سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کسی جنازے کو دیکھا کرو اور اس کے ساتھ نہ جاسکو تو کھڑے ہوجایا کرو یہاں تک کہ وہ گزرجائے یا زمین پر رکھ دیا جائے۔

15135Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ مَا لَا أَعُدُّ وَلَا أُحْصِي وَهُوَ صَائِمٌ

حضرت عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو حالت صیام میں اتنی مرتبہ مسواک کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ میں شمار نہیں کرسکتا۔

15136Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَلَّى عَلَيَّ أَحَدٌ صَلَاةً إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ مَا دَامَ يُصَلِّي عَلَيَّ فَلْيُقِلَّ عَبْدٌ مِنْ ذَلِكَ أَوْ لِيُكْثِرْ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ بَدْرِيًّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً فَذَكَرَهُ

حضرت عامربن ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دوران خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مجھ پر درود پڑھے تو جب تک وہ مجھ پر درود پڑھتا رہے گا فرشتے اس پر درود پڑھتے رہیں گے اب انسان کی مرضی ہے کہ کم پڑھے یا زیادہ؟ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

15137Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلِ بْنِ هِلَالِ بْنِ أَسَدٍ الشَّيْبَانِي قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى نَعْلَيْنِ فَأَجَازَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عامر سے مروی ہے کہ بنو فزارہ کے ایک آدمی نے ایک عورت سے دو جوتیوں کے عوض نکاح کرلیا نبی ﷺ نے اس کے نکاح کو برقرار رکھا۔

15138Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ بَدْرِيًّا قَالَ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنَا فِي السَّرِيَّةِ يَا بُنَيَّ مَا لَنَا زَادٌ إِلَّا السَّلْفُ مِنْ التَّمْرِ فَيَقْسِمُهُ قَبْضَةً قَبْضَةً حَتَّى يَصِيرَ إِلَى تَمْرَةٍ تَمْرَةٍ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَتِ وَمَا عَسَى أَنْ تُغْنِيَ التَّمْرَةُ عَنْكُمْ قَالَ لَا تَقُلْ ذَلِكَ يَا بُنَيَّ فَبَعْدَ أَنْ فَقَدْنَاهَا فَاخْتَلَلْنَا إِلَيْهَا

حضرت عامر بن ربیعہ جو بدری صحابی تھے مروی ہے کہ بعض مرتبہ نبی ﷺ ہمیں کسی دستے کے ساتھ روانہ فرماتے تو بیٹا ہمارے پاس سوارئے چند کھجوروں کے اور کوئی چیز نہ ہوتی جو نبی ﷺ ہمارے درمیان ایک ایک مٹھی تقسیم کردیتے یہاں تک کہ ایک ایک کھجور تک نوبت آجاتی عبداللہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا اباجان ایک کھجور آپ کے کس کام آتی ہوگی انہوں نے فرمایا کہ بیٹا یوں نہ کہو جب ہمیں ایک کھجور بھی نہ ملی تو ہمیں اس کی قدر آئی۔

15139Musnad Imam Ahmad

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيَكُونُ أُمَرَاءُ بَعْدِي يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَيُؤَخِّرُونَهَا فَصَلُّوهَا مَعَهُمْ فَإِنْ صَلَّوْهَا لِوَقْتِهَا وَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ فَلَكُمْ وَلَهُمْ وَإِنْ أَخَّرُوهَا عَنْ وَقْتِهَا وَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً وَمَنْ نَكَثَ الْعَهْدَ فَمَاتَ نَاكِثًا لِلْعَهْدِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ قُلْتُ مَنْ أَخْبَرَكَ هَذَا الْخَبَرَ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يُخْبِرُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عاصم بن عبیداللہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے بعد کچھ ایسے امراء بھی آئیں گے جو کبھی وقت مقررہ پر نماز پڑھ لیاکریں گے اور کبھی تاخیر کردیاکریں گے تم ان کے ساتھ نماز پڑھتے رہنا اگر وہ بروقت نماز پڑھیں اور تم بھی ان کے ساتھ شامل ہو تو تمہیں ثواب ملے گا اور انہیں بھی اگر وہ موخر کردیں اور تم ان کے ساتھ ہی نماز پڑھو تمہیں ثواب ملے گا اور انہیں تاخیر کی سزا ملے گی جو شخص جماعت سے علیحدگی اختیار کرلیتا ہے اور مرجاتا ہے تو جاہلیت کی موت مرتا ہے اور جو شخص وعدہ توڑ دیتا ہے اور اسی حال میں مرجاتا ہے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہوگی۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عاصم سے پوچھا یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی انہوں نے بتایا کہ مجھے یہ حدیث عبداللہ بن عامر نے اپنے والد کے حوالے سے اور انہوں نے نبی ﷺ کے حوالے سے بتائی ہے۔