حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 994 · 37 hadiths · Page 1 of 2

22852Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ ثُمَامَةَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ إِلَى أَرْضِ الرُّومِ وَكَانَ عَامِلًا لِمُعَاوِيَةَ عَلَى الدَّرْبِ فَأُصِيبَ ابْنُ عَمٍّ لَنَا فَصَلَّى عَلَيْهِ فَضَالَةُ وَقَامَ عَلَى حُفْرَتِهِ حَتَّى وَارَاهُ فَلَمَّا سَوَّيْنَا عَلَيْهِ حُفْرَتَهُ قَالَ أَخِفُّوا عَنْهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِتَسْوِيَةِ الْقُبُورِ

ثمامہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت فضالہ بن عبید ؓ کے ساتھ سر زمین روم کی طرف نکلے وہ حضرت امیر معاویہ ؓ کی طرف سے مقام " درب " کے عامل تھے ہمارا ایک چچازاد بھائی اس دوران شہید ہوگیا حضرت فضالہ ؓ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس کی قبر پر آکر کھڑے ہوئے جب اس کا جسم مٹی سے چھپ گیا اور انہوں نے دیکھا کہ ہم نے اس کی قبر برابر کردی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اسے برابر ہی رکھنا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں قبروں کو برابر رکھنے کا حکم دیا ہے۔

22853Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ عَنْ فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فِي يَوْمٍ كَانَ يَصُومُهُ فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ فَشَرِبَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا الْيَوْمَ كُنْتَ تَصُومُهُ قَالَ أَجَلْ وَلَكِنْ قِئْتُ

حضرت فضالہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اس دن عام طور پر آپ ﷺ روزے سے ہوتے تھے نبی کریم ﷺ نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور اسے نوش فرما لیا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ اس دن تو آپ روزہ رکھتے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں! لیکن آج مجھے قے آگئی تھی۔

22854Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ شُفَيٍّ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ غَزَوْنَا أَرْضَ الرُّومِ وَعَلَى ذَلِكَ الْجَيْشِ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ فَضَالَةُ خَفِّفُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِتَسْوِيَةِ الْقُبُورِ

ثمامہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت فضالہ بن عبید ؓ کے ساتھ سر زمین روم کی طرف نکلے۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا تو انہوں نے فرمایا کہ اسے برابر ہی رکھنا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں قبروں کو برابر رکھنے کا حکم دیا ہے۔

22855Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ حَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ وَلَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجِلَ هَذَا ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ وَلِغَيْرِهِ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ رَبِّهِ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ ثُمَّ لِيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لِيَدْعُ بَعْدُ بِمَا شَاءَ

حضرت فضالہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو نماز میں دعاء کرتے ہوئے سنا کہ اس نے اللہ کا ذکر کیا اور نہ ہی نبی کریم ﷺ پر درود پڑھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس نے جلد بازی سے کام لیا پھر اسے اور دوسروں سے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ لے تو پہلے اپنے رب کی تعریف وثناء کرے پھر نبی کریم ﷺ پر درودوسلام پڑھے اس کے بعد جو چاہے دعاء مانگے۔

22856Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى بِالنَّاسِ خَرَّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِي الصَّلَاةِ لِمَا بِهِمْ مِنْ الْخَصَاصَةِ وَهُمْ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ حَتَّى يَقُولَ الْأَعْرَابُ إِنَّ هَؤُلَاءِ مَجَانِينُ فَإِذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَأَحْبَبْتُمْ لَوْ أَنَّكُمْ تَزْدَادُونَ حَاجَةً وَفَاقَةً قَالَ فَضَالَةُ وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ

حضرت فضالہ ؓ سے مروی ہے کہ کئی مرتبہ نبی کریم ﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے ہوتے تھے تو کچھ لوگ جو " اصحاب صفہ میں سے ہوتے تھے " بھوک کی وجہ سے کھڑے کھڑے گرجاتے تھے اور دیہاتی لوگ کہتے تھے کہ یہ دیوانے ہوگئے ہیں اور نبی کریم ﷺ نماز سے فارغ ہو کر فرماتے تھے اس حال میں کہ ان کی طرف متوجہ ہوتے " اگر تمہیں معلوم ہوتا کہ اللہ کے یہاں تمہارے لئے کیا نعمتیں ہیں تو تمہاری خواہش ہوتی کہ تمہارے اس فقروفاقہ میں مزید اضافہ کردیا جائے ان دنوں میں بھی نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا۔

22857Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ قَالَا أَنْبَأَنَا أَبُو هَانِئٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِلَادَةٍ فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ تُبَاعُ وَهِيَ مِنْ الْغَنَائِمِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالذَّهَبِ الَّذِي فِي الْقِلَادَةِ فَنُزِعَ وَحْدَهُ ثُمَّ قَالَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ

حضرت فضالہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک ہار پیش کیا گیا جس میں سونے اور جواہرات ٹکے ہوئے تھے یہ مال غنیمت تھا جسے فروخت کیا جارہا تھا نبی کریم ﷺ نے اس ہار پر لگے ہوئے سونے کے متعلق حکم دیا تو اسے الگ کرلیا گیا پھر فرمایا کہ سونے کو سونے کے بدلے برابر وزن کے ساتھ بیچا جائے۔

22858Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْجَنْبِيِّ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ

حضرت فضالہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سوار پیدل چلنے والوں کو اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کیا کریں۔

22859Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِبْرَهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَاتَ عَلَى مَرْتَبَةٍ مِنْ هَذِهِ الْمَرَاتِبِ بُعِثَ عَلَيْهَا قَالَ حَيْوَةُ يَقُولُ رِبَاطٌ حَجٌّ أَوْ نَحْوُ ذَلِكَ

حضرت فضالہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی بھی مرتبہ پر فوت ہوگا وہ اسی مرتبہ پر اٹھایا جائے گا۔

22860Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

و حَدَّثَنَاه الطَّالَقَانِيُّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ قَالَ يُسَلِّمُ الْفَارِسُ عَلَى الْمَاشِي وَالْمَاشِي عَلَى الْقَائِمِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ مِثْلَهُ

حضرت فضالہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سوارپیدل چلنے والوں کو اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کیا کریں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

22861Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ حَدَّثَهُ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ثَلَاثَةٌ لَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَعَصَى إِمَامَهُ وَمَاتَ عَاصِيًا وَأَمَةٌ أَوْ عَبْدٌ أَبَقَ فَمَاتَ وَامْرَأَةٌ غَابَ عَنْهَا زَوْجُهَا قَدْ كَفَاهَا مُؤْنَةَ الدُّنْيَا فَتَبَرَّجَتْ بَعْدَهُ فَلَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ وَثَلَاثَةٌ لَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ رَجُلٌ نَازَعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رِدَاءَهُ فَإِنَّ رِدَاءَهُ الْكِبْرِيَاءُ وَإِزَارَهُ الْعِزَّةُ وَرَجُلٌ شَكَّ فِي أَمْرِ اللَّهِ وَالْقَنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ

حضرت فضالہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تین آدمیوں کے متعلق کچھ نہ پوچھو ایک تو وہ آدمی جو جماعت سے جدا ہوجائے اپنے امام کی نافرمانی کرے اور اسی حال میں فوت ہوجائے دوسرے وہ باندی یا غلام جو اپنے آقا کے پاس سے بھاگ جائے اور اسی بھگوڑے پن کے زمانے میں مرجائے اور تیسرے وہ عورت جس کا شوہر موجود نہ ہو وہ اس کی تمام دنیوی ضرورت میں اس کی کفایت کرتا ہو اور وہ اس کے پیچھے دور جاہلیت کی طرح اپنی جسمانی نمائش کرنے لگے ان کے متعلق کچھ نہ پوچھو اور تین آدمی اور ہیں ان کے متعلق بھی کچھ نہ پوچھو، ایک تو وہ آدمی جو اللہ سے اس کی چادر لینے میں جھگڑا کرے کہ اللہ کی اوپر کی چادر " کبریائی ہے اور نیچے کی چادر عزت ہے " دوسرا وہ آدمی جو اللہ کے کاموں میں شک کرے اور تیسرا اللہ کی رحمت سے مایوس ہونے والا۔

22862Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ طُوبَى لِمَنْ هُدِيَ إِلَى الْإِسْلَامِ وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وَقَنَعَ

حضرت فضالہ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جسے اسلام کی طرف ہدایت مل گئی اور اس کی روزی بقدر کفایت ہو اور وہ اس پر قناعت کرے۔

22863Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ قَالَا أَنْبَأَنَا أَبُو هَانِئٍ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ مَاتَ عَلَى مَرْتَبَةٍ مِنْ هَذِهِ الْمَرَاتِبِ بُعِثَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت فضالہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی بھی مرتبہ پر فوت ہوگا وہ اسی مرتبہ پر اٹھایا جائے گا۔

22864Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ حَجَّاجًا يَذْكُرُ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ قَالَ قُلْتُ لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَرَأَيْتَ تَعْلِيقَ يَدِ السَّارِقِ فِي الْعُنُقِ أَمِنَ السُّنَّةِ قَالَ نَعَمْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَتْ يَدُهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ قَالَ حَجَّاجٌ وَكَانَ فَضَالَةُ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ سَمِعْتَ مِنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيِّ شَيْئًا قَالَ أَيُّ شَيْءٍ كَانَ عِنْدَهُ قُلْتُ حَدِيثُ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ فِي تَعْلِيقِ الْيَدِ فَقَالَ لَا حَدَّثَنَا بِهِ عَفَّانُ عَنْهُ

عبدالرحمن بن محیریز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت فضالہ ؓ سے پوچھا یہ بتائیے کہ کیا چور کا ہاتھ اس کے گلے میں لٹکانا سنت ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک چور کو لایا گیا نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر حکم دیا تو اسے اس کے گلے میں لٹکا دیا گیا حضرت فضالہ ؓ بیعت رضوان کے شرکاء میں سے تھے۔ امام احمد (رح) کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین سے پوچھا کیا آپ نے عمر بن علی مقدمی سے کوئی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ اس کے پاس کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ حضرت فضالہ بن عبید ؓ کی حدیث جو چور کا ہاتھ گلے میں لٹکانے سے متعلق ہے انہوں نے فرمایا نہیں یہ حدیث ہم سے عفان نے بیان کی ہے۔

22865Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطَّالَقَانِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَلَّهُ أَشَدُّ أَذَنًا إِلَى الرَّجُلِ حَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ مِنْ صَاحِبِ الْقَيْنَةِ إِلَى قَيْنَتِهِ

حضرت فضالہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی گلو کا رہ کا مالک جتنی توجہ سے اس گلوکارہ کا گانا سنتا ہے اللہ تعالیٰ کہیں زیادہ توجہ کے ساتھ اس شخص کی آواز سنتا ہے جو خوبصورت آواز میں قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے۔

22866Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ صَائِمًا فَدَعَا بِشَرَابٍ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تُصْبِحْ صَائِمًا قَالَ بَلَى وَلَكِنْ قِئْتُ

حضرت فضالہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اس دن عام طور پر آپ ﷺ روزے سے ہوتے تھے نبی کریم ﷺ نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور اسے نوش فرما لیا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ اس دن تو آپ روزہ رکھتے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں! لیکن آج مجھے قے آگئی تھی۔

22867Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ عَنْ أَبِي عَلِيٍّ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ

حضرت فضالہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سوار پیدل چلنے والوں کو اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کیا کریں۔

22868Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَاتَ عَلَى مَرْتَبَةٍ مِنْ هَذِهِ الْمَرَاتِبِ بُعِثَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ حَيْوَةُ يَقُولُ رِبَاطٌ أَوْ حَجٌّ أَوْ نَحْوُ ذَلِكَ

حضرت فضالہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی بھی مرتبہ پر فوت ہوگا وہ اسی مرتبہ پر اٹھایا جائے گا۔

22869Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الَّذِي مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَنْمُو عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيَأْمَنُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ

حضرت فضالہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر مرنے والے کا نامہ اعمال بند ہو کر سر بمہر کردیا جاتا ہے سوائے اس شخض کے جو اللہ کے راستہ میں، سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے فوت ہوجائے کہ اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہے گا اور وہ قبر کی آزمائش سے محفوظ رہے گا۔

22870Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

قَالَ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ لِلَّهِ أَوْ قَالَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت فضالہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حقیقی مجاہد وہ ہے جو اللہ کے راستہ میں اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرے۔

22871Musnad Imam Ahmad

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ عَنْ حَنَشٍ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَتْ نُورًا لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَ ذَلِكَ فَإِنَّ رِجَالًا يَنْتِفُونَ الشَّيْبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَاءَ فَلْيَنْتِفْ نُورَهُ

حضرت فضالہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہوا اس کے بالوں کی سفیدی قیامت کے دن اس کے لئے باعث نور ہوگی ایک شخص نے عرض کیا کہ کچھ لوگ اپنے سفید بالوں کو نوچ لیتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو اپنا نور نوچنا چاہتا ہے وہ ایسا ہی کرے۔