حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ ظِلَّ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَدَقَتُهُ
ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مسلمان کے لئے قیامت کے دن سایہ اس کا صدقہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ كُنْتُ فِي بَيْتٍ فِيهِ عُتْبَةُ بْنُ فَرْقَدٍ فَأَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَ بِحَدِيثٍ قَالَ فَكَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ أَوْلَى بِالْحَدِيثِ مِنْهُ قَالَ فَحَدَّثَ الرَّجُلُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي رَمَضَانَ تُفَتَّحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَتُغَلَّقُ أَبْوَابُ النَّارِ وَيُصَفَّدُ فِيهِ كُلُّ شَيْطَانٍ مَرِيدٍ وَيُنَادِي مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ يَا طَالِبَ الْخَيْرِ هَلُمَّ وَيَا طَالِبَ الشَّرِّ أَمْسِكْ
عرفجہ (رح) کہتے ہیں کہ میں ایک گھر میں تھا جہاں عتبہ بن فرقد بھی موجود تھے میں نے وہاں ایک حدیث بیان کرنے کا ارادہ کیا لیکن وہاں نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی ؓ بھی موجود تھے اور وہی حدیث بیان کرنے کے زیادہ حقدار تھے، چناچہ انہوں نے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ماہ رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور اس میں ہر سرکش شیطان کو پابند سلاسل کردیا جاتا ہے اور ہر رات ایک منادی نداء لگاتا ہے کہ اے خیر کے طالب! آگے بڑھ اور اے شر کے طالب! رک جا۔
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ رَمَضَانَ قَالَ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهُ عُتْبَةُ هَابَهُ فَسَكَتَ قَالَ فَحَدَّثَ عَنْ رَمَضَانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رَمَضَانَ تُغَلَّقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ وَتُفَتَّحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَتُصَفَّدُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ قَالَ وَيُنَادِي فِيهِ مَلَكٌ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَبْشِرْ يَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ حَتَّى يَنْقَضِيَ رَمَضَانُ
عرفجہ (رح) کہتے ہیں کہ میں ایک گھر میں تھا جہاں عتبہ بن فرقد بھی موجود تھے میں نے وہاں ایک حدیث بیان کرنے کا ارادہ کیا لیکن وہاں نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی ؓ بھی موجود تھے اور وہی حدیث بیان کرنے کے زیادہ حقدار تھے، چناچہ انہوں نے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ماہ رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور اس میں ہر سرکش شیطان کو پابند سلاسل کردیا جاتا ہے اور ہر رات ایک منادی نداء لگاتا ہے کہ اے خیر کے طالب! آگے بڑھ اور اے شر کے طالب! رک جا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيُفْتَحُ عَلَيْكُمْ الشَّامُ وَإِنَّ بِهَا مَكَانًا يُقَالُ لَهُ الْغُوطَةُ يَعْنِي دِمَشْقَ مِنْ خَيْرِ مَنَازِلِ الْمُسْلِمِينَ يَعْنِي فِي الْمَلَاحِمِ
ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب تمہارے ہاتھوں شام فتح ہوجائے گا جب تمہیں وہاں کسی مقام پر ٹھہرنے کا اختیار دیا جائے تو " دمشق " نامی شہر کا انتخاب کرنا، کیونکہ وہ جنگوں کے زمانے میں مسلمانوں کی بہترین پناہ گاہ ہوگا۔