حضرت زیاد بن حارث الصدائی (رض) کی حدیثیں

Musnad Imam Ahmad · Chapter 445 · 2 hadiths

16882Musnad Imam Ahmad

حضرت زیاد بن حارث الصدائی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ الْإِفْرِيقِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِّنْ يَا أَخَا صُدَاءٍ قَالَ فَأَذَّنْتُ وَذَلِكَ حِينَ أَضَاءَ الْفَجْرُ قَالَ فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِيمُ أَخُو صُدَاءٍ فَإِنَّ مَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ

حضرت زیاد بن حارث ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طلوع فجر کے وقت نبی ﷺ نے انہیں اذان دینے کا حکم دیا، چناچہ میں نے اذان دی، جب نبی ﷺ وضو کر کے نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو اقامت کے وقت حضرت بلال ؓ نے اقامت کہنا چاہی، نبی ﷺ نے فرمایا صدائی بھائی اقامت کہے کیونکہ جو شخص اذان دیتا ہے وہی اقامت بھی کہتا ہے۔

16883Musnad Imam Ahmad

حضرت زیاد بن حارث الصدائی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ كُنَّا نُحَاقِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ أَوْ طَعَامٍ مُسَمًّى قَالَ فَأَتَانَا بَعْضُ عُمُومَتِي فَقَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْفَعُ لَنَا وَأَنْفَعُ قَالَ قُلْنَا وَمَا ذَاكَ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلَا يُكَارِيهَا بِثُلُثٍ وَلَا رُبُعٍ وَلَا بِطَعَامٍ مُسَمًّى قَالَ قَتَادَةُ وَهُوَ ظَهِيرٌ

حضرت رافع ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں زمین کو بٹائی پر ایک تہائی، چوتھائی یا طے شدہ غلے پر کرایہ کی صورت میں دے دیا کرتے تھے لیکن ایک دن میرے ایک چچا میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ نبی ﷺ نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کردیا ہے کہ جو ہمارے لئے نفع بخش تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت زیادہ نفع بخش ہے، نبی ﷺ ہمیں بٹائی پر زمین دینے سے اور ایک تہائی، چوتھائی یا طے شدہ غلے کے عوض کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے اور زمین کے مالک کو حکم دیا ہے کہ خود کاشت کاری کرے یا دوسرے کو اجازت دے دے، لیکن کرایہ اور اس کے علاوہ دوسری صورتوں کو آپ نے ناپسند کیا ہے، قتادہ کہتے ہیں کہ ان کے چچا حضرت ظہیر ؓ تھے۔