بنوسلیم کے ایک صحابی (رض) کی روایت
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ حَاجِبِ سُلَيْمَانَ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ سَلَامَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَطْعَمْتَ وَسَقَيْتَ وَأَشْبَعْتَ وَأَرْوَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ غَيْرَ مَكْفُورٍ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْكَ
بنو سلیم کے ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے اے اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے کھلایا پلایا، سیراب کیا اور پیٹ بھرا، تیرا شکر ہے جس میں کوئی ناشکری نہیں، اسے ترک بھی نہیں کیا جاسکتا اور نہ تجھ سے استغنا برتا جاسکتا ہے۔
بنوسلیم کے ایک صحابی (رض) کی روایت
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ عَقَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ أَوْ فِي يَدِي فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَاللَّهُ أَكْبَرُ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ
بنوسلیم کے ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک کی انگلیوں پر یہ چیزیں شمار کیں " سبحان اللہ " نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھردے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔