حضرت ام خالد بنت خالد بن سعید کی حدیثیں
حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ الزُّبَيْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
حضرت ام خالد سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔
حضرت ام خالد بنت خالد بن سعید کی حدیثیں
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِكِسْوَةٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ صَغِيرَةٌ فَقَالَ مَنْ تَرَوْنَ أَحَقَّ بِهَذِهِ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ فَأُتِيَ بِهَا فَأَلْبَسَهَا إِيَّاهَا ثُمَّ قَالَ لَهَا مَرَّتَيْنِ أَبْلِي وَأَخْلِقِي وَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى عَلَمٍ فِي الْخَمِيصَةِ أَحْمَرَ أَوْ أَصْفَرَ وَيَقُولُ سَنَاهْ سَنَاهْ يَا أُمَّ خَالِدٍ وَسَنَاهْ فِي كَلَامِ الْحَبَشِ الْحَسَنُ
حضرت ام خالد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے پاس کہیں سے کچھ کپڑے آئے جن میں ایک چھوٹا ریشمی کپڑا بھی تھا، نبی ﷺ نے صحابہ سے پوچھا کہ تمہارے خیال میں اس کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ لوگ خاموش رہے نبی ﷺ نے فرمایا ام خالد کو میرے پاس بلا کر لاؤ، انہیں لایا گیا تو نبی ﷺ نے وہ کپڑے انہیں پہنا دیئے اور دو مرتبہ ان سے فرمایا پہننا اور پرانا کرنا نصیب ہو، پھر نبی ﷺ اس کپڑے پر سرخ یا زرد رنگ کے نشانات کو دیکھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے اے ام خالد! کتنا اچھا لگ رہا ہے۔
حضرت ام خالد بنت خالد بن سعید کی حدیثیں
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ سَمِعَ أُمَّ خَالِدٍ بِنْتَ خَالِدٍ قَالَ وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
حضرت ام خالد سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔