ابوجبیرہ بن ضحاک کی اپنے چچاؤں سے روایت

Musnad Imam Ahmad · Chapter 342 · 5 hadiths

16047Musnad Imam Ahmad

ابوجبیرہ بن ضحاک کی اپنے چچاؤں سے روایت

قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بنُ غِيَاثٍ قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا لَهُ لَقَبٌ أَوْ لَقَبَانِ قَالَ فَكَانَ إِذَا دَعَا بِلَقَبِهِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَكْرَهُ هَذَا قَالَ فَنَزَلَتْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ

ابوجبیرہ اپنے چچاؤں سے نقل کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم میں کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے ایک یا دو لقب نہ ہوں، نبی ﷺ جب کسی آدمی کو اس کے لقب سے پکار کر بلاتے تو ہم عرض کرتے یا رسول اللہ! یہ اس نام کو ناپسند کرتا ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ایک دوسرے کو مختلف القاب سے طعنہ مت دیا کرو۔

22147Musnad Imam Ahmad

ابوجبیرہ بن ضحاک کی اپنے چچاؤں سے روایت

وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا لَهُ لَقَبٌ أَوْ لَقَبَانِ قَالَ فَكَانَ إِذَا دَعَا رَجُلًا بِلَقَبِهِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَكْرَهُ هَذَا قَالَ فَنَزَلَتْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ

ابوجبیرہ (رح) اپنے چچاؤں سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے ایک یا دو لقب نہ ہوں نبی کریم ﷺ جب کسی آدمی کو اس کے لقب سے پکار کر بلاتے تو ہم عرض کرتے یا رسول اللہ! ﷺ یہ اس نام کو ناپسند کرتا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی " ایک دوسرے کو مختلف القاب سے طعنہ مت دیا کرو۔

22148Musnad Imam Ahmad

ابوجبیرہ بن ضحاک کی اپنے چچاؤں سے روایت

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ شَيْخٌ صَالِحٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ مَدَنِيٌّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ قَالَ كُنَّا فِي مَجْلِسٍ فَطَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرَاكَ طَيِّبَ النَّفْسِ قَالَ أَجَلْ قَالَ ثُمَّ خَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنْ اتَّقَى وَالصِّحَّةُ لِمَنْ اتَّقَى خَيْرٌ مِنْ الْغِنَى وَطِيبُ النَّفْسِ مِنْ النَّعِيمِ

عبداللہ بن خبیب اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مجلس میں تھے کہ نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے سر مبارک پر پانی کے اثرات تھے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ ہم آپ کو بہت خوش دیکھ رہے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں! پھر لوگ مالداری کا تذکرہ کرنے لگے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ سے ڈرنے والے کے لئے مالداری میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ اللہ سے ڈرنے والے کے لئے مالداری سے زیادہ بہتر چیز صحت ہے اور دل کا خوش ہونا بھی نعمت ہے۔

22149Musnad Imam Ahmad

ابوجبیرہ بن ضحاک کی اپنے چچاؤں سے روایت

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى بَابِ مَسْجِدِهِ مُحْتَبٍ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ لَهُ قُطْنٌ لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ غَيْرُهُ وَهُوَ يَقُولُ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ ثُمَّ أَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ يَقُولُ التَّقْوَى هَاهُنَا التَّقْوَى هَاهُنَا

بنوسلیط کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اپنے ان قیدیوں کے متعلق گفتگو کرنے کے لئے حاضر ہوا جو زمانہ جاہلیت میں پکڑ لئے گئے تھے اس وقت نبی کریم ﷺ تشریف فرما تھے اور لوگوں نے حلقہ بنا کر آپ ﷺ کو گھیر رکھا تھا نبی کریم ﷺ نے ایک موٹی تہنبد باندھ رکھی تھی نبی کریم ﷺ اپنی انگلیوں سے اشارہ فرما رہے تھے میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہوتا ہے وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بےیارو مددگار چھوڑتا ہے تقویٰ یہاں ہوتا ہے تقویٰ یہاں ہوتا ہے یعنی دل میں۔

22150Musnad Imam Ahmad

ابوجبیرہ بن ضحاک کی اپنے چچاؤں سے روایت

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ فَرَسٌ يَرْبُطُهُ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى فَثَمَنُهُ أَجْرٌ وَرُكُوبُهُ أَجْرٌ وَعَارِيَتُهُ أَجْرٌ وَعَلَفُهُ أَجْرٌ وَفَرَسٌ يُغَالِقُ عَلَيْهَا الرَّجُلُ وَيُرَاهِنُ فَثَمَنُهُ وِزْرٌ وَعَلَفُهُ وِزْرٌ وَرُكُوبُهُ وِزْرٌ وَفَرَسٌ لِلْبِطْنَةِ فَعَسَى أَنْ يَكُونَ سَدَّادًا مِنْ الْفَقْرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى

ایک انصاری صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں (١) وہ گھوڑے جنہیں انسان اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے تیار کرے اس کی قیمت بھی باعث اجر اس کی سواری بھی باعث اجر اسے عاریت پر دینا بھی باعث اجر اور اس کا چارہ بھی باعث اجر ہے (٢) وہ گھوڑے جو انسان کو تکبر کے خول میں جکڑ دیں اور وہ شرط پر انہیں دوڑ میں شریک کرے اس کی قیمت بھی باعث وبال اور اس کا چارہ بھی باعث وبال ہے (٣) وہ گھوڑے جو انسان کے پیٹ کے کام آئیں عنقریب یہ گھوڑے اس کے فقروفاقہ کو دور کرنے کا سبب بن جائیں گے۔ انشاء اللہ۔