حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقِفُ عَلَى بَابِي حَتَّى أَسْتَحْيِيَ فَلَا أَجِدُ فِي بَيْتِي مَا أَرْفَعُ فِي يَدِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْفَعِي فِي يَدِهِ وَلَوْ ظِلْفًا مُحْرَقًا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ أَخِي بَنِي حَارِثَةَ أَنَّهُ حَدَّثَتْهُ جَدَّتُهُ وَهِيَ امْرَأَةُ بُجَيْدٍ وَكَانَتْ تُزْعَمُ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حضرت ام بجید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! بعض اوقات کوئی مسکین میرے گھر کے دروازے پر آ کر کھڑا ہوجاتا ہے اور مجھے شرم آتی ہے کہ میرے پاس گھر میں کچھ بھی نہیں ہے، جو اسے دے سکوں، نبی ﷺ نے فرمایا اس کے ہاتھ پر کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو اگرچہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ أَخِي بَنِي حَارِثَةَ أَنَّهُ حَدَّثَتْهُ جَدَّتُهُ وَهِيَ أُمُّ بُجَيْدٍ وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ لَمْ تَجِدِي لَهُ شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ
حضرت ام بجید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! بعض اوقات کوئی مسکین میرے گھر کے دروازے پر آ کر کھڑا ہوجاتا ہے اور مجھے شرم آتی ہے کہ میرے پاس گھر میں کچھ بھی نہیں ہے، جو اسے دے سکوں، نبی ﷺ نے فرمایا اس کے ہاتھ پر کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو اگرچہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَتَّخِذُ لَهُ سَوِيقَةً فِي قَعْبَةٍ لِي فَإِذَا جَاءَ سَقَيْتُهَا إِيَّاهُ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَأْتِينِي السَّائِلُ فَأَتَزَهَّدُ لَهُ بَعْضَ مَا عِنْدِي فَقَالَ ضَعِي فِي يَدِ الْمِسْكِينِ وَلَوْ ظِلْفًا مُحْرَقًا
حضرت ام بجید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! بعض اوقات کوئی مسکین میرے گھر کے دروازے پر آ کر کھڑا ہوجاتا ہے اور مجھے شرم آتی ہے کہ میرے پاس گھر میں کچھ بھی نہیں ہے، جو اسے دے سکوں، نبی ﷺ نے فرمایا اس کے ہاتھ پر کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو اگرچہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ الْأَسَدِيِّ عَنِ ابْنِ بِجَادٍ عَنْ جَدَّتِهِ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفِ شَاةٍ مُحْرَقٍ أَوْ مُحْتَرِقٍ
حضرت ام بجید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا سائل کے ہاتھ پر کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو اگرچہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔