حضرت عبداللہ بن سرجس (رض) کی حدیثیں۔

Musnad Imam Ahmad · Chapter 795 · 12 hadiths

19846Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن سرجس (رض) کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ تَرَوْنَ هَذَا الشَّيْخَ يَعْنِي نَفْسَهُ كَلَّمْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْتُ مَعَهُ وَرَأَيْتُ الْعَلَامَةَ الَّتِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَهِيَ فِي طَرَفِ نُغْضِ كَتِفِهِ الْيُسْرَى كَأَنَّهُ جُمْعٌ يَعْنِي الْكَفَّ الْمُجْتَمِعَ وَقَالَ بِيَدِهِ فَقَبَضَهَا عَلَيْهِ خِيلَانٌ كَهَيْئَةِ الثَّآلِيلِ

حضرت عبداللہ بن سرجس ؓ نے ایک مرتبہ اپنے متعلق فرمایا کہ اس شیخ کو دیکھ رہے ہو میں نے نبی ﷺ سے باتیں کی ہیں آپ کے ہمراہ کھانا کھایا ہے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی ہے جو بائیں کندھے کے کونے میں مٹھی کی طرح تھی انہوں نے ہاتھ سے مٹھی کاشارہ کیا اور اس پر مہر نبوت پر مسوں کی طرح ابھرے ہوئے تل تھے۔

19847Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن سرجس (رض) کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مُسَافِرًا يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ

حضرت عبداللہ بن سرجس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سفر پر روانہ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ میں سفر کی پریشانیوں، واپسی کی تکلیفوں، ترقی کے بعد تنزلی، مظلوم کی بددعا اور اہل خانہ یا مال دولت میں کسی برے منظر کے دیکھنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔

19848Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن سرجس (رض) کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ بِالْكُوفَةِ فَلَمْ أَكْتُبْهُ فَسَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ بِهِ فَعَرَفْتُهُ بِهِ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ

حضرت عبداللہ بن سرجس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سفر پر روانہ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ میں سفر کی پریشانیوں، واپسی کی تکلیفوں، ترقی کے بعد تنزلی، مظلوم کی بددعا اور اہل خانہ یا مال دولت میں کسی برے منظر کے دیکھنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔

19849Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن سرجس (رض) کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ

حضرت عبداللہ بن سرجس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سفر پر روانہ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ میں سفر کی پریشانیوں، واپسی کی تکلیفوں، ترقی کے بعد تنزلی، مظلوم کی بددعا اور اہل خانہ یا مال دولت میں کسی برے منظر کے دیکھنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔

19850Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن سرجس (رض) کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ أَنَّهُ رَأَى الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تَكُنْ لَهُ صُحْبَةٌ

حضرت عبداللہ بن سرجس ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کی مہرنبوت کو دیکھا جو دو کندھوں کے درمیان تھی اور نبی ﷺ کو بھی دیکھا لیکن رفاقت کا موقع نہ مل سکا۔

19851Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن سرجس (رض) کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْجُحْرِ وَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ فَإِنَّ الْفَأْرَةَ تَأْخُذُ الْفَتِيلَةَ فَتَحْرِقُ أَهْلَ الْبَيْتِ وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ وَخَمِّرُوا الشَّرَابَ وَغَلِّقُوا الْأَبْوَابَ بِاللَّيْلِ قَالُوا لِقَتَادَةَ مَا يُكْرَهُ مِنْ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ قَالَ يُقَالُ إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ

حضرت عبداللہ بن سرجس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص کسی سوراخ میں پیشاب نہ کرے اور جب تم سونے لگو تو چراغ بجھا دیا کرو کیونکہ بعض اوقات چوہا اس کا دھاگہ پکڑتا ہے تو سارے گھروالوں کو جلا دیتا ہے مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کرو اور پینے کی چیزوں کو ڈھانپ دیا کرو اور رات کو دروازے بند کردیا کرو۔

19852Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن سرجس (رض) کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ عَاصِمٌ وَقَدْ كَانَ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ فِي سَفَرٍ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ وَإِذَا رَجَعَ قَالَ مِثْلَهَا إِلَّا أَنَّهُ يَقُولُ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ يَبْدَأُ بِالْأَهْلِ

حضرت عبداللہ بن سرجس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سفر پر روانہ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ میں سفر کی پریشانیوں، واپسی کی تکلیفوں، ترقی کے بعد تنزلی، مظلوم کی بددعا اور اہل خانہ یا مال دولت میں کسی برے منظر کے دیکھنے سے آپ کی پناہ میں آتاہوں۔

19853Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن سرجس (رض) کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ فَقَالَ لَهُ بِأَيِّ صَلَاتَيْكَ احْتَسَبْتَ بِصَلَاتِكَ وَحْدَكَ أَوْ صَلَاتِكَ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا

حضرت عبداللہ بن سرجس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز فجر کی اقامت ہوگئی نبی ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ فجر کی دو رکعت پڑھ رہا ہے نماز کے بعد نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تم نے کون سے نماز کو فجر کی نماز شمار کیا؟ جو تم نے تنہا پڑھی اسے یا وہ جو ہمارے ساتھ پڑھی اسے۔

19854Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن سرجس (رض) کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَرْجِسَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْتُ مَعَهُ مِنْ طَعَامِهِ فَقُلْتُ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ أَسْتَغْفَرَ لَكَ قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ قَالَ نَعَمْ وَلَكُمْ وَقَرَأَ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى نُغْضِ كَتِفِهِ الْأَيْمَنِ أَوْ كَتِفِهِ الْأَيْسَرِ شُعْبَةُ الَّذِي يَشُكُّ فَإِذَا هُوَ كَهَيْئَةِ الْجُمْعِ عَلَيْهِ الثَّآلِيلُ

حضرت عبداللہ بن سرجس ؓ نے ایک مرتبہ اپنے متعلق فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضری دی ہے اور آپ کے ہمراہ کھانا کھایا ہے میں نے ان سے عرض کیا یا رسول اللہ اللہ کی بخشش فرمائے راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے آپ کے لئے بھی استغفار کیا تھا انہوں نے کہا ہاں اور تمہارے لئے بھی کیا تھا پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی " اپنی لغزشات اور مومن مردروں اور عورتوں کے لئے بخشش کی دعا کیجیے " پھر دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی ہے جو بائیں کندھے کے کونے میں مٹھی کیطرح تھی انہوں نے مٹھی بنا کر اشارہ کرکے دکھایا اور اس میں مہر نبوت پر مسوں کی طرح ابھرے ہوئے تل تھے۔

19855Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن سرجس (رض) کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى أَبُو بِشْرٍ الرَّاسِبِيُّ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ الْقَيْسِيُّ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ أَنَّهُ قَالَ قَدْ رَأَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَرْجِسَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ تَكُنْ لَهُ صُحْبَةٌ

حضرت عبداللہ بن سرجس ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے لیکن رفاقت کا موقع مل سکا۔

19856Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن سرجس (رض) کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَا ثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَأَكَلْتُ مِنْ طَعَامِهِ وَشَرِبْتُ مِنْ شَرَابِهِ وَرَأَيْتُ خَاتَمَ النُّبُوَّةِ قَالَ هَاشِمٌ فِي نُغْضِ كَتِفِهِ الْيُسْرَى كَأَنَّهُ جُمْعٌ فِيهَا خِيلَانٌ سُودٌ كَأَنَّهَا الثَّآلِيلُ

حضرت عبداللہ بن سرجس ؓ نے ایک مرتبہ اپنے متعلق فرمایا میں نے نبی ﷺ سے باتیں کی ہیں آپ کے ہمراہ کھانا کھایا ہے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی ہے جو بائیں کندھے کے کونے میں مٹھی کی طرح تھی انہوں نے ہاتھ سے مٹھی کاشارہ کیا اور اس پر مہر نبوت پر مسوں کی طرح ابھرے ہوئے تل تھے۔

19857Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن سرجس (رض) کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ أَنَّهُ كَانَ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَمِنْ الْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ قَالَ وَسُئِلَ عَاصِمٌ عَنْ الْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ قَالَ حَارَ بَعْدَ مَا كَانَ

حضرت عبداللہ بن سرجس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سفر پر روانہ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ میں سفر کی پریشانیوں، واپسی کی تکلیفوں، ترقی کے بعد تنزلی، مظلوم کی بددعا اور اہل خانہ یا مال دولت میں کسی برے منظر کے دیکھنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔