عظیم تر آیت تعارف اللہ بزبان اللہ یہ آیت آیت الکرسی ہے، جو بڑی عظمت والی آیت ہے۔ حضرت ابی بن کعب سے رسول اللہ ﷺ دریافت فرماتے ہیں کہ کتاب اللہ میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت کون سی ہے ؟ آپ جواب دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول ہی کو اس کا سب سے زیادہ علم ہے۔ آپ پھر یہی سوال کرتے ہیں، بار بار کے سوال پر جواب دیتے ہیں کہ آیت الکرسی، حضور ﷺ فرماتے ہیں ابو المنذر اللہ تعالیٰ تجھے تیرا علم مبارک کرے، اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی زبان ہوگی اور ہونٹ ہوں گے اور یہ بادشاہ حقیقی کی تقدیس بیان کرے گی اور عرش کے پایہ سے لگی ہوئی ہوگی (مسند احمد) صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے لیکن یہ…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 278
یعنی نادان لوگوں نے اپنی جگہ چاہے کتنے ہی خدا اور معبود بنا رکھے ہوں، مگر اصل واقعہ یہ ہے کہ خدائی پوری کی پوری بلا شرکت غیرے اس غیر فانی ذات کی ہے، جو کسی کی بخشی ہوئی زندگی سے نہیں، بلکہ آپ اپنی ہی حیات سے زندہ ہے اور جس کے بل بوتے ہی پر کائنات کا یہ سارا نظام قائم ہے۔ اپنی سلطنت میں خداوندی کے جملہ اختیارات کا مالک وہ خود ہی ہے۔ کوئی دوسرا نہ اس کی صفات میں اس کا شریک ہے، نہ اس کے اختیارات میں اور نہ اس کے حقوق میں۔ لہٰذا اس کو چھوڑ کر یا اس کے ساتھ شریک ٹھیرا کر زمین یا آسمان میں کہاں بھی کسی اور کو معبود (الٰہ) بنایا جا رہا ہے، ایک جھوٹ گھڑا جا رہا ہے اور حقیقت کے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اللہ (ایسا ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہے (جس کو کبھی موت نہیں آسکتی) سنبھالنے والا ہے (تمام عالم کا) نہ اس کو اونگھ دبا سکتی ہے اور نہ نیند (دبا سکتی ہے) اسی کے مملوک ہیں سب جو کچھ (بھی) آسمانوں میں (موجودات) ہیں اور جو کچھ زمین میں ہیں ایسا کون شخص ہے جو اس کے پاس (کسی کی) سفارش کرسکے بدون اس کی اجازت کے وہ جانتا ہے ان (تمام موجودات) کے تمام حاضر و غائب حالات کو اور وہ موجودات اس کی معلومات میں سے کسی چیز کو اپنے احاطہ علمی میں نہیں لاسکتے مگر جس قدر (علم دینا وہی) چاہے اس کی کرسی (اتنی بڑی ہے کہ اس) نے سب آسمانوں اور زمین کو اپنے اندر لے رکھا ہے اور اللہ…
Read the full tafseer →‘ قیوم ’ کے معنی : قیوم مبالغہ کا وزن ہے۔ اس کے معنی ہیں وہ ذات جو خود اپنے بل پر قائم اور دوسروں کے قیام و بقا کا واسطہ اور ذریعہ ہو۔
‘ سنۃ ’ کے معنی اونگھ اور نوم کے معنی نیند کے ہیں۔ ان دونوں کی نفی سے نیند کی ابتدا اور انتہا دونوں کی نفی ہوگئی جس کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ غفلت کے تمام اثرات سے کمال درجہ پاک ہے۔
مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم لوگوں کے آگے اور پیچھے اور ان کے ماضی اور مستقبل سب پر حاوی ہے۔ برعکس اس کے دوسروں کی علمی ہپنچ صرف اس حد تک ہے جس حد تک خدا نے چاہا کہ وہ اس کے علم میں سے حصہ پائیں۔ اس سے آگے کسی کی رسائی نہیں۔…
Read the full tafseer →255۔ 1 یہ آیت الکرسی ہے جس کی بڑی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے مثلاً یہ آیت قرآن کی اعظم آیت ہے۔ اس کے پڑھنے سے رات کو شیطان سے تحفظ رہتا ہے ہر فرض کے بعد پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے (ابن کثیر) یہ اللہ تعالیٰ کی صفات جلال اس کی علو شان اور اس کی قدرت و عظمت پر مبنی نہایت جامع آیت ہے۔
255۔ 2 کرسی سے بعض نے موضع قدمین (قدم رکھنے کی جگہ) بعض نے علم بعض نے قدرت و عظمت بعض نے بادشاہی اور بعض نے عرش مراد لیا ہے لیکن صفات باری تعالیٰ کے بارے میں محدثین اور سلف کا یہ مسلک ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو صفات جس طرح قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہیں ان کی بغیر تاویل اور کیفیت بیان کیے ان پر ایمان رکھا جائے اس لیے یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 254–257
173: اس سے مراد قیامت کا دن ہے
Read the full tafseer →اس آیت میں جن صفات کو گنوایا گیا ہے ان میں ہر ایک اسلامی تصور کائنات کے اساسی اصولوں میں کسی ایک اصول پر مشتمل ہے ۔ اگرچہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلام کے اساسی عقائد پر مکی دور میں نازل ہونے والی آیات میں تفصیلی بحث کی گئی ہے ۔ تاہم اس اہم اور اساسی موضوع پر مدینہ میں نازل ہونے والی آیات میں بھی بعض اوقات بحث کی گئی ہے ۔ اس لئے کہ ان عقائد و تصورات پر ہی اسلامی نظام زندگی کی بنیادرکھی گئی ہے اور جب تک اساس ٹھیک نہ ہو ، پوری دیوار درست نہیں ہوسکتی ۔ نہ اس نظام کی تشریح ہوسکتی اور نہ یہ نظام نفس انسانی کے مسلمہ حقائق سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے ۔ نہ اس کی کوئی معقول اور پر از تعین تعبیر کی جاسکتی…
Read the full tafseer →1 پہلی آیت سے حق سبحانہ، کی عظمت شان بھی مفہوم ہوتی ہے اب اس کے بعد اس آیت کو جس میں توحید ذات اور اس کا تقدس و جلال غایت عظمت و وضاحت کے ساتھ مذکور ہے نازل فرمائی اور اسی کا لقب آیۃ الکرسی ہے اسی کو حدیث میں اعظم آیات کتاب اللہ فرمایا ہے اور بہت فضیلت اور ثواب منقول ہے اور اصل بات یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں رلا ملا کر تین قسم کے مضمون کو جگہ جگہ بیان فرمایا ہے علم توحید وصفات، علم احکام، علم قصص و حکایات سے بھی توحید وصفات کی تقریر و تائید مقصود ہوتی ہے یا علم احکام کی تاکید و ضرورت اور علم توحید وصفات اور علم احکام بھی باہم ایسے مربوط ہیں کہ ایک دوسرے کے لئے علت اور علامت ہے…
Read the full tafseer →آیت 255 اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ الاَّ ہُوَ ج اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ج ۔
وہ از خود اور باخود زندہ ہے۔ اس کی زندگی مستعار نہیں ہے۔ اس کی زندگی ہماری زندگی کی مانند نہیں ہے ‘ جس کے بارے میں بہادر شاہ ظفر نے کہا تھا
عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں !
اللہ تعالیٰ کی زندگی حیات مستعار نہیں ہے ‘ وہ کسی کی دی ہوئی نہیں ہے۔ اس کی زندگی میں کوئی ضعف ‘ کوئی کمزوری اور کوئی احتیاج نہیں ہے۔ وہ خود اپنی جگہ زندہ وجاوید ہستی ہے اور باقی ہر شے کا وجود اس کے حکم سے قائم ہے۔ وہ اَلْقَیُّوْمُ ہے۔ اس کے اذن کے بغیر کوئی شے قائم نہیں ہے۔ سورة الاخلاص میں اللہ تعالیٰ کے لیے دو الفاظ…
Read the full tafseer →361 یہ آیت آیۃ الکرسی کے نام سے مشہور ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی ایسی مکمل معرفت بیان کی گئی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ اسی لیے اس آیت کو قرآن کی سب سے افضل آیت قرار دیا گیا ہے۔ جیسا درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔
1۔ ابی بن کعب سے روایت ہے کہ آپ نے مجھ سے پوچھا ابو منذر ! جانتے ہو، تمہارے پاس کتاب اللہ کی سب سے عظمت والی آیت کونسی ہے ؟ میں نے کہا : اللہ و رسولہ، اعلم آپ نے پھر پوچھا : ابو منذر ! جانتے ہو تمہارے پاس کتاب اللہ کی کونسی آیت سب سے عظیم ہے : میں نے کہا : (لاَ اِلٰہَ الاَّ ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ) آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : ابو منذر ! تمہیں علم مبارک ہو۔ (مسلم، کتاب…
Read the full tafseer →978 ۔ (نہ بڑا چھوٹا، نہ اصلی نہ ظلی، نہ خدا نہ خدا زادہ) خدا کے نفس وجود کے قائل تو جاہلی مذاہب بھی ہوئے ہیں، البتہ وہ اس معبود اعظم (ہندوؤں کی اصطلاح میں ایشور) کے علاوہ تحتانی معبودوں اور دیوتاؤں کے بھی قائل رہے ہیں۔ یہ تعلیم اسلام ہی کی ہے کہ اس ایک خدا کے سوا کسی اور خدا کا سرے سے وجود ہی نہیں، یہ نہیں کہ وہ تو معبود اعظم ہے باقی چھوٹے چھوٹے معبود اور بھی موجود ہیں۔ عیسائی بھی چونکہ شرک میں مبتلا ہوچکے تھے اس لیے ان کے مقابلہ میں بھی توحید کامل کے اثبات اور پھر غیر اللہ کی الوہیت کی نفی کی اس قدر ضرورت تھی یہ آیت ایۃ الکرسی کے نام سے مشہور ہے۔ اس کی برکتوں اور فضیلتوں سے شاید ہی کوئی…
Read the full tafseer →آیت الکرسی کی فضیلت : آیت الکرسی کی بڑی فضیلت صحیح احادیث میں وارد ہوئی ہے اس کی برکتوں اور فضیلتوں سے شاید ہی کوئی مسلمان ناواقف ہو، اسکی جامعیت اور معنویت بھی اتنی نمایاں ہے کہ اپنے تو خیر اپنے ہیں بیگانے (جیسے سیل مترجم قرآن مجید) اور معاندین (جیسے میور اور ہیری) نے بھی بےساختہ اس کی داد دی ہے۔ یہ آیت قرآن کریم کی عظیم آیت ہے، مسند احمد کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کو تمام آیات سے افضل فرمایا ہے اُبیّ بن کعب ؓ اور ابوذر ؓ سے بھی اسی قسم کی روایت مروی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سورة بقرہ میں ایک آیت ہے جو تمام آیتوں کی سردار ہے وہ جس گھر میں پڑھی جائے شیطان…
Read the full tafseer →اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ (یعنی عبادت کا مستحق اللہ ہی ہے اس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، اسی کا دانا بینا شنوا اور صاحب قدرت و ارادہ ہونا درست ہے اور تمام مناسب صفات اس کے لیے لازم ہیں وہ خود ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور اس کی تمام صفات بھی ازلی ابدی ہیں کیونکہ عدم فعلیت اور امکان سے وہ پاک ہے پس حیات ہی اس کی تمام صفات کمالیہ کا سرچشمہ ہے۔
الْقَيُّوْمُ (مخلوق کو تھامنے والا) عمر وبن مسعود ؓ کی قرأت میں اَلْقِیَّام اور علقمہ کی قرأت میں اَلْقَیّمُ ہے۔ بغوی (رح) نے لکھا ہے ان تمام الفاظ کا معنی ایک ہی ہے۔ قیوم کا معنی ہے نگران۔ (ابن مجاہد) یا ہر نفس کے اعمال کا نگران۔…
Read the full tafseer →(255) اب اللہ تعالیٰ اپنی تعریف و توصیف بیان فرماتے ہیں کہ وہ ایسا ہے جس کو کبھی موت نہیں کہ سارے جہان کا سنبھالنے والا ہے جس کی کوئی ابتداء نہیں اور نہ اس کو اونگھ آسکتی ہے اور نہ ہی نیند، جو کہ عالم کی تدبیر اور احکام میں سے اسے بےتوجہ کر دے، تمام فرشتے اور سب مخلوقات اسی کی ملکیت میں ہیں تمام آسمانوں اور زمین والوں میں سے قیامت کے دن اسی کی اجازت سے کوئی سفارش کرسکتا ہے، امور آخرت میں سے جو چیزیں فرشتوں کے سامنے ہیں اور امور دنیا میں سے سب کو وہ جانتا ہے ان چیزوں کے علاوہ جن کی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اطلاع دی ہے، فرشتے دنیا وآخرت کے کاموں میں سے کسی چیز کو نہیں جانتے، اس کی کرسی تمام…
Read the full tafseer →یہ آیت الکرسی ہے جو قرآن مجید کی تمام آیات سے عظیم آیت ہے۔
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اے ابو منذر ! کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے پاس اللہ کی کتاب میں سے کون سی آیت سب سے بڑی ہے ؟“ فرماتے ہیں، میں نے کہا، اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اے ابو منذر ! کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے پاس اللہ کی کتاب میں سے کون سی آیت سب سے بڑی ہے ؟“ کہتے ہیں، میں نے عرض کیا : (اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ) (ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : ”اللہ کی قسم ! (تم نے درست کہا) اے ابو منذر ! تمہیں یہ علم مبارک ہو۔“ [ مسلم، صلوٰۃ المسافرین،…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 255۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔ یہ آیۃ الکرسی ہے، یہ قرآن کی آیات کی سردار ہے اور سب سے بڑی آیت ہے، جیسا کہ سورة الفاتحہ میں اس کا بیان گزر چکا ہے، یہ رات کے وقت نازل ہوئی اور حضور نبی مکرم ﷺ نے حضرت زید ؓ کو بلایا اور یہ آیت لکھوا دی۔
حضرت محمد بن حنیفہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : جب آیۃ الکرسی نازل ہوئی دنیا میں تمام بت گر گئے اور اسی طرح دنیا میں تمام بادشاہ گر پڑے اور ان کے سروں سے تاج گر گئے اور شیاطین بھاگ پڑے، وہ آپس میں ایک دوسرے کو مارنے لگے اور ابلیس کے پاس تمام جمع ہوگئے اور اسے اس کے بارے مطلع کیا، تو اس نے انہیں کہا کہ وہ اس کے بارے تفتیش…
Read the full tafseer →(1) احمد، مسلم، ابو داؤد، ابن الضریس، حاکم اور الہروی ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے پوچھا کہ اللہ کی کتاب میں کون سی آیت سب سے اعظم ہے (یعنی سب سے بڑی عظمت والی ہے) میں نے عرض کیا وہ آیۃ الکرسی (یعنی) لفظ آیت ” اللہ لا الہ الا ھو “ ہے۔ آپ نے فرمایا اے ابو المنذر (یہ ان کی کنیت ہے) تمہیں علم مبارک ہو۔ ( پھر فرمایا) قسم ہے اس ذات کی جو کے قبضہ میں میری جان ہے بلاشہ اس آیۃ الکرسی کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں، عرش کے پایہ کے پاس وہ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہوگی۔
آیت الکرسی کی فضیلت
(2) امام نسائی، ابو یعلی، ابن حبان ابو الشیخ نے العظمہ میں طبرانی، حاکم ابو نعیم اور بیہقی…
Read the full tafseer →[اَللّٰہُ : اللہ ] [لَآ اِلٰــہَ : کسی قسم کا کوئی الٰہ نہیں ہے ] [اِلاَّ : سوائے اس کے کہ ] [ہُوَ : وہ ہے ] [اَلْحَیُّ : جو (حقیقتاً ) زندہ ہے ] [الْقَیُّوْمُ : جو (حقیقی) نگران و کفیل ہے ] [لاَ تَاْخُذُہٗ : نہیں پکڑتی اس کو ] [سِنَـۃٌ : کوئی اونگھ ] [وَّلاَ نَوْمٌ : اور نہ کوئی نیند ] [لَہٗ : اس کی ہی (ملکیت) ہے ] [مَا : وہ جو ہے ] [فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ] [وَمَا : اور وہ جو ہے ] [فِی الْاَرْضِ : زمین میں ] [مَنْ ذَا الَّذِیْ : کون ہے وہ جو ] [یَشْفَعُ : شفاعت کرے ] [عِنْدَہٗ : اس کے پاس ] [اِلاَّ : مگر ] [بِاِذْنِہٖ : اس کی اجازت سے ] [یَعْلَمُ : وہ جانتا ہے ] [مَا : اس کو جو ]…
Read the full tafseer →اللہ جل شانہ، کی صفات جلیلہ کا بیان
یہ آیت کریمہ آیۃ الکرسی ہے احادیث شریفہ میں اس کی بہت فضیلت وارد ہوئی ہے۔ حضرت ابی بن کعب ؓ نے بیان فرمایا کہ کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے ابو المنذر (یہ ان کی کنیت ہے) کیا تم جانتے ہو اللہ کی کتاب میں وہ کون سی آیت تمہارے پاس ہے جو اعظم ہے (سب سے بڑی عظمت والی ہے) میں نے عرض کیا کہ وہ آیت (اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ) ہے، آپ نے میرے سینہ پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ اے ابو المنذر، تمہیں علم مبارک ہو۔ (رواہ مسلم ص 271 ج 1)
بعض احادیث میں اس آیت کو قرآن مجید کی تمام آیات کی سردار بتایا ہے۔ (الدر المنثور ص 324 ج 1)
چونکہ اس آیت…
Read the full tafseer →اثبات توحید ذات و کمال صفات۔
قال تعالی، اللہ لاالہ۔۔۔ الی۔۔ العظیم۔
گزشتہ رکوع کی آیت وانک لمن المرسلین میں اثبات رسالت کا ذکر تھا اور اس آیت میں اثبات توحید کا بیان ہے نیز ولو شاء اللہ مااقتتلوا۔ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت کا ذکر تھا اور اس بیان کا تھا کہ قیامت کے دن کوئی سفارش اور کوئی دوستی کام نہ آئے گی جس سے اللہ کی کبریائی اور عظمت مفہوم ہوتی ہے کہ اس کے سامنے کسی کو مجال دم زدن نہیں اسلیے اس آیت میں اللہ کی توحید ذات اور کمال صفات بیان فرماتے ہیں ہیں نیز گزشتہ آیت والکافرون ھم الظالمون میں کافروں کو ظالم بتلایا تھا اب اس آیت میں ان کے ظلم کی وجہ بیان فرماتے ہیں کہ کافر اور مشرک…
Read the full tafseer →500 یہاں دعوی توحید کا دوبارہ اعادہ کیا گیا ہے اور جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے یہاں اعادہ دعویٰ سے مقصد شفاعت قہری کی نفی ہے جیسا کہ یہود ونصاریٰ کا خیال تھا کہ ہمارے آباء و اجداد جو اللہ کے پیارے اور برگزیدہ پیغمبر تھے وہ ہمیں خدا کو ان کی سفارش ماننی پڑے گی تو مطلب یہ ہوا کہ جس طرح اللہ کے سوا کوئی کارساز اور اور فریاد رس نہیں۔ جس کو پکارا جائے یا جس کی تعظیم اور رضا جوئی کے لیے نذریں نیازیں دی جائیں اسی طرح اس کے سامنے کوئی شفیع غالب بھی نہیں کہ دنیا وآخرت میں مصیبت کے وقت اس کی پناہ ڈھونڈی جائے اور اسے سفارشی بنایا جائے۔ لہذا کسی کو شفیع غالب سمجھ کر نہ پکارا جائے۔ اس جگہ دعویٰ توحید کا…
Read the full tafseer →ربطہ آیات
پہلے دو رکوع میں اللہ تعالیٰ نے نظام خلافت کا ذکر فرمایا ہے۔ بنی اسرائیل کا واقعہ بیان کرکے جہاد کا مسئلہ سمجھایا ہے اور پھر نظام اسلام کی نشاندہی کی ہے کہ امیر کیسا ہوناچاہئے۔ سپاہی اور لشکر کی صفات کیا ہوں جہاد ہی کے سلسلہ میں جان و مال کی قربانی کا خصوصی ذکر فرمایا ہے۔ پھر اس اعتراض کا جواب دیا ہے کہ جہاد کرنا نبیوں کا کام نہیں۔ فلسفہ جہاد بیان کیا ہے کہ اگر جہاد کا حکم نہ ہو ، تو فسادی لوگ زمین میں فساد برپا کریں گے۔ لہٰذا سوسائٹی کو درندہ صفت لوگوں سے محفوظ کرنے کے لیے جہاد ضروری ہے۔
اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان اور توحید کا مسئلہ بیان کیا ہے۔ اور اس کا ربطہ پہلی آیتوں کے…
Read the full tafseer →اَللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ 0 ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ 0ۥۚ لَا تَاْخُذُہٗ سِـنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ 0 ۭ لَہٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ 0 ۭ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِـاِذْنِہٖ 0 ۭ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْہِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ 0 ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ 0 ۚ وَسِعَ كُرْسِـيُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ 0 ۚ وَلَا يَـــــُٔـــوْدُہٗ حِفْظُہُمَا 0 ۚ وَھُوَالْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ 255
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ…
Read the full tafseer →متعلقات
(1) اللّٰہ لا الہ الا ھو منصب نبوت کا یہ پہلا کام ہے کہ اس کی ذات کا ثبوت کرکے جس قدر بیوقوفوں نے اس کے ساتھ شریک بنا رکھے ہیں۔ ان کی نفی کرکے اس کی صفات کاملہ کا ثبوت کرے اور جو کچھ قوت متوہمہ نے مخلوقات و محسوسات پر قیاس کرکے اس بیچوں و بیچگوں میں عیوب ثابت کر رکھے ہیں ٗ ان کو مٹا دے۔ اس لیے سب سے مقدم لفظ اللہ کو ذکر کیا کہ جو ایسی ذات کا نام ہے کہ جس میں تمام خوبیاں ہوں اور وہ کسی کا کسی بات میں محتاج نہ ہو اور پھر سب نقصان کی باتوں سے پاک ہو۔ سو جب عاقل اس مضمون کو خیال کرکے تمام کائنات کی طرف دیکھے گا تو سب کو حادث اور فانی اور مستعار الوجود جان کر ضرور یقین کرے گا کہ اس عالم…
Read the full tafseer →اَللّٰہُ لَآ اِلٰـہَ اِلَّاھُوَ ج اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ 5 ج لاَ تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ ط لَـہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط مَنْ ذَاالَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِاِذْنِہٖط یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ ج وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَا شَآئَ وَسِعَ کُرْسِیُّـہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ج وَلَا یَــُٔوْدُہٗ حِفْظُہُمَاج وَھُوَالْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ۔
(اللہ ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ ہے سب کا قائم رکھنے والا ہے، نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، اسی کی ملکیت ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : صاحب ایمان مخیر حضرات کو ان کے نیک اعمال اور صدقات کا بدلہ عطا کرنے والا اور ظالموں کو ٹھیک ٹھیک سزا دینے والا اللہ تعالیٰ ہے جس کی ذات اور صفات میں کوئی شریک نہیں۔ لہٰذا وہی دنیا و آخرت میں تمہارا مالک ‘ خالق اور نگران ہے۔ آخرت میں کوئی اس کے سامنے دم نہیں مار سکے گا۔ البتہ دنیا میں اس نے بطور آزمائش تمہیں کچھ اختیار دے رکھے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ کسی پر ہدایت مسلط نہیں کرتا۔ اس آیت مبارکہ کو آیت الکرسی کہا گیا ہے۔ کچھ اہل علم نے کرسی کا معنیٰ اللہ تعالیٰ کا اقتدار لیا ہے لیکن صحابہ اور تابعین کی اکثریت نے اس سے مراد کرسی لی ہے۔
اس آیت کی عظمت و فضیلت کے بارے میں رسول…
Read the full tafseer →آیت 255 :
اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ (اللہ تعالیٰ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مگر وہی)
نحو : لفظ اللہ مبتداء اور جملہ اسمیہ لا الہ الا ہو اس کی خبر ہے۔ لا نفی جنس الٰہ اس کا اسم اِلّا ادات حصر ھُوَبدل از محل لَا۔
اَلْحَیُّ (زندہ) یعنی ایسی باقی رہنے والی ذات جس پر فنا کا کوئی راستہ نہ ہو۔
اَلْقَیُّوْمُ (مخلوق کو تھامنے والا) یعنی ایسی ہمیشگی والی ذات جو مخلوق کی تدبیر کرنے والی ہو۔ اور اس کی نگہبانی کرنے والی ہو۔
نیند و اونگھ کا فرق :
لَا تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ (اس کو اونگھ اور نیند نہیں آتی) سنۃ اونگھ اعصاب دماغی کی وہ سستی جو نیند سے پہلے آئے۔ النوم نیند دماغ کے اعصاب میں…
Read the full tafseer →255۔ (آیت)” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔ ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں : کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے ابو المنذر کتاب میں بڑی آیت کون سی ہے ؟ (ابو منذر کہتے ہیں) کہ میں نے کہا (آیت)” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔ فرمایا ، آپ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا پھر فرمایا تجھ کو علم مبارک ہو اے ابو المنذر ۔ پھر فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ اس آیت کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں، پایہ عرش کے قریب فرشتہ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہے ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے رمضان کی زکوۃ کی حفاظت پر مامور فرمایا ، کوئی آکر چلو بھر…
Read the full tafseer →جس طرح آیت { وَاِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَاحِدْ } اور توحید کی آیتیں مثلاً قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدْ وغیرہ توحید کے ثابت کرنے اور غیر اللہ کی پرستش کو باطل کرنے کے لئے نازل ہوئی ہیں اسی مطلب کے لئے یہ آیت بھی نازل ہوئی ہے اس آیت کی فضیلت میں بہت حدیثیں وارد ہوئی ہی ان میں سے ابو امامہ ؓ کی ایک وہ حدیث ہے جس کو نسائی اور طبرانی وغیرہ نے معتبر سند سے روایت کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص ہر نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے گا اس کے جنت کے جانے میں فقط اتنی ہی دیر ہے اس کی آنکھ بند ہو اور وہ دنیا سے اٹھے 1۔ ابن جوزی نے اس حدیث کو موضوع بتلایا ہے لیکن حافظ ابن حجر (رح) نے کہا ہے کہ یہ ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 255–256
آیت 255
یہ آیت قرآن مجید کی عظیم ترین آیت ہے اور یہ سب سے افضل آیت ہے جس میں عظیم مسائل اور اللہ کی صفات کریمہ بیان ہوئی ہیں اس لئے بہت سی احادیث میں اس کی تلاوت کی ترغیب وارد ہے کہ اسے صبح شام، سوتے وقت اور فرض نمازوں کے بعد پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں فرمایا : (لا الہ الا ھو) ” اللہ ہی معبود برحق ہے۔ “ لہٰذا ہر قسم کی عبادت اور اطاعت اسی کے لئے ہونی چاہیے کیونکہ وہ تمام صفات سے متصف اور عظیم نعمتیں دینے والا ہے۔ بندے کا یہ حق ہے کہ اپنے رب کا بندہ بن کر رہے، اس کے احکامات کی تعمیل کرتا رہے، اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے بچتا رہے۔ اللہ کے سوا ہر شے باطل ہے، پس اس کے سوا ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 250–256
قول باری ہے (لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی، (a) دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے صحیح بات غلط بات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے) ۔ ضحاک، سدی اور سلیمان بن موسیٰ سے مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے اور اس کی ناسخ یہ آیت ہے (یآیھا النبی جاھد الکفار والمنافقین، (a) اے نبی کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو) ۔
نیز یہ قول باری ہے (فاقتلوا المشرکین، (a) مشرکین کو قتل کرو) حسن بصری اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ آیت اہل کتاب کے ساتھ خاص ہے جنہوں نے جزیہ ادا کرنا قبول کرلیا تھا۔ مشرکین عرب کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہے کیونکہ ان کے حق میں جزیہ قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے لئے صرف ایک ہی راستہ…
Read the full tafseer →730 اللہ ہی زندہ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی زندہ ہے اور یہ اس لیے کہ وہ ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ کیلئے زندہ رہے گا۔ نہ وہاں عدم سابق تھا اور نہ عدم لاحق کا کوئی سوال و امکان۔ سو جب کچھ نہیں تھا تو وہ تھا اور جب کچھ نہیں ہوگا تب بھی وہ موجود ہوگا ۔ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰیْ وَجَلَّ جَلالُہٗ وَ عَزَّ بُرْہَانُہٗ ۔ اور یہ صرف اسی وحدہ لاشریک کی شان اقدس و اعلی ہے دوسری کسی بھی ہستی میں یہ نہ پائی گئی ہے، نہ پائی جاتی ہے، نہ پائی جانی ممکن ہے کہ اس کے سوا مخلوق کی ہر چیز عدم سابق اور عدم لاحق دونوں کے اندھیروں میں گھری ہوئی ہے۔ سو ایسے میں مخلوق میں…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی صفات
تشریح : یہ آیت اللہ تعالیٰ کی صفات، جلال، وحدانیت اور علو شان پر مبنی ہے۔ کرسی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے یعنی مکمل اقتدار، حکومت اور اختیارات ایسے اختیارات جن میں کوئی دوسرا شریک نہیں یہ دس جملوں پر مشتمل ہے ہر جملہ اللہ کی وحدانیت کا ثبوت پیش کر رہا ہے اور دو اہم جملوں پر اس کی بنیاد ہے۔ پہلا وہ واحد ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور دوسرا ” اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ “ وہ زندہ ہے اور قائم ہے۔ (ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا) بلکہ آنحضرت ﷺ نے تو ” یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ “ کو اسم اعظم کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مندرجہ ذیل صفات سے مکمل اور اٹل کردیا گیا ہے۔
-1 اللہ کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 254–257
آیات 254- 257
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا انفقوا………………والکفرون ھم الظلمون۔
اصلاح احوال کی بنیاد :
اصلاح احوال کی بنیاد معاشیات پر ہے اگر دیکھا جائے تو تمام مذاہب باطلہ کا ماحصل دنیاوی خواہشات کی تکمیل کی آرزو ہے انسان مختلف امور میں ساری محنت حصول زر پہ کرتا ہے کہ تکمیل خواہشات کا بہت بڑا ذریعہ دولت ہی ہے اور یہیں سے اختلافات اور فسادات کی ابتداء ہوتی ہے لیکن اگر دولت کے خرچ کو محدود کردیا جائے تو ناجائز ذرائع سے حصول دولت کی ضرورت رہتی ہے نہ فائدہ۔
دنیا کی معاشی نظام صرف حصول زر کے قواعد سے بحث کرتے ہیں ، مگر اسلام رزق کو اللہ کی طرف سے تسلیم کرتا ہے کہ انسان صرف محنت کرنے کا مکلف ہے رزق…
Read the full tafseer →ف 7 قرآن نے متعدد آیات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی شخص کسی کی شفاعت نہیں کرسکے گا۔ آنحضرت ﷺ بھی قیامت کے دن جو شفاعت فرمائیں گے اور آپ ﷺ کی شفاعت قبول بھی کی جائے گی تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد ہی ہوگی جیسا کہ حدیث شفاعت میں ہے تحت العرش فاخر ساجدا۔۔ لم یقال لی ارفع راسک وقل تسمع وشفع تشفح کہ میں عرش کے نیچے سجدہ میں گرجاؤں گا۔ پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ سجدہ سے اٹھو جو بات کہو گے سنی جائے گی شفاعت کرو تو قبول کی جائے گی۔ اس آیت سے مطلقا شفاعت کی نفی نہیں کی جیسا کہ معتز اہل بدعت کا خیا ہے ہے۔ (کبیر۔ ابن کثیر)8 اللہ تعالیٰ کی کر سی کی وسعت…
Read the full tafseer →(2:255) اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔ اللہ مبتدا لا الہ الا ھو خبر اول۔ الحی القیوم خبر ثانی۔ الہ معبود۔ بروزن فعال معنی مفعول مالوہ ہے۔ ہر قوم کے نزدیک جس کی بندگی کی جائے الہ ہے خواہ وہ معبود برحق ہو یا معبود باطل۔ منصوب بوجہ عمل لا۔ الحی۔ زندہ۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے جب اس کا تعلق خداوند تعالیٰ کی ذات سے ہو تو معنی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہوگا جس کی نہ ابتدا معلوم نہ انتہا۔ القیوم۔ صیغہ مبالغہ۔ بروزن فیعول۔ وہ ذات جو خود قائم رہنے والی ہو اور دوسروں کو قائم رکھنے والی ہو ۔ خواہ موجود و باقی ہے۔ اور دوسروں کو ضروریات ہستی و درستی عطا کرنے والی ہے جس کو ہر چیز اپنے وجود وبقاء و نشو و نما کے لئے…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 255
الحی (زندہ) ۔ القیوم (تھامنے والا) ۔ سنۃ (اونگھ) نوم (نیند) ۔ یشفع (سفارش کرے گا) ۔ باذنہ (اس کی اجازت سے) ۔ بین ایدی ( سامنے) ۔ خلف (پیچھے ) ۔ لا یحیطون (نہیں گھیر سکتا ہے) ۔ وسع (وسیع ہے) ۔ لا یؤدہ (وہ اس کو تھکاتا نہیں) ۔ العلی (بلند) ۔ العظیم (برتر) ۔
تشریح : آیت نمبر 255
آیت الکرسی قرآن کریم کی عظیم آیتوں میں سے ایک ہے جس کے احادیث میں بہت زیادہ فضائل بیان کئے گئے ہیں خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے حضرت ابی ابن کعب ؓ سے پوچھا بتاؤ قرآن کریم میں کون سی آیت سب سے زیادہ عظمت والی ہے۔ حضرت ابی ابن کعب ؓ نے فرمایا آیت الکرسی۔ آپ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 255–257
تفسیرالقرآن : اللہ لآ الہ الا ھو کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں۔ لہ ما فی السمٰوٰت وما فی الارض کا مطلب یہ ہے کہ ستارہ پرستوں کے ستارے اور بت پرستوں کے بت اور سوا اللہ کے جس کی پر ستش کی جاوے۔ یہ سب اللہ کی مخلوق ہیں، ان میں خالق بننے کی صلاحیت ہر گز نہیں ہے۔ لاتا خذہ سنۃ ولا نوم کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے بادشاہوں کے دربار کی طرح اس کی بارگاہ میں کسی غفلت اور بیخبر ی نہیں ہے۔ من ذالذی یشفع عندہٓ الا باذنہ کا مطلب یہ ہے کہ شفاعت کے لئے اللہ تعالیٰ کی اجازت درکار ہے۔ یعلم ما بین ایدھم وما خلفھم کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق کا حال اور آئندہ کا ذرا ذرا سب حال…
Read the full tafseer →[172] '' حی '' یعنی وہ زندہ ہے اور اس کی زندگی کو فنا وزوال نہیں۔ '' قیوم '' یعنی ہر چیز اس کے حکم سے قائم ہے اور وہ اپنے قیام کے لئے کسی کا محتاج نہیں۔
[173] اس آیت کو آیت الکرسی کہتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی ایسی مکمل معرفت بیان کی گئی ہے جس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔ اس بنا پر احادیث میں اس کے فضائل بکثرت بیان کئے گئے ہیں اور اسے قرآن کی افضل ترین آیت قرار دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →بیدار خدا :
(ف 2) ان آیات میں اللہ کی توحید وصفات کو نہایت خوبصورتی اور نزاکت سے بیان فرمایا ہے جس سے ایک طرف تو رب ذوالجلال کی عظمت وعزت دلوں میں پیدا ہوتی ہے اور دوسری طرف تمام شبہات جو اس کے متعلق یہودیوں اور عیسائیوں کے دلوں میں تھے ‘ دور ہوجاتے ہیں ۔ (آیت) ” اللہ لا الہ الا ھو “۔ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک وسہیم نہیں ہے اللہ اپنی وحدت وقدرت میں بےنظیر ہے ۔ ایک ہے ، اس کا کوئی اقنوم نہیں ‘ جسے اس کا حصہ وعنصر ٹھہرایا جائے ۔ الحی کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور کائنات میں جو زندگی نظر آرہی ہے ‘ وہ اس کا عطیہ وفیضان ہے ، اسی کیوجہ سے وہ قائم ہے ۔ ” القیوم “…
Read the full tafseer →ف 1۔ اللہ تعالیٰ ایسا ہے کہ اس کے سوا کوئی دوسرا عبادت اور بندگی کے قابل نہیں وہ زندہ ہے جس کو کبھی موت نہیں آئے گی وہ خود قائم رہنے والا اور دوسروں کو قائم رکھنے والا ہے ۔ اس پر نہ اونگھ طاری ہوسکتی ہے اور نہ اس کو نیند دبا سکتی ہے ۔ جو موجودات آسمانوں میں سے اور جو مخلوقات زمین میں ہے سب اسی کی ملک ہے اور اسی کی مملوک ہے ایسا کون ہے جو اسکی بارگاہ میں اسکی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کرسکے جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے وہ اس کو بھی جانتا ہے اور جو ان کے بعد ہونے والا ہے اس کو بھی جانتا ہے اور وہ تمام مخلوقات و موجودات اس کی معلومات میں سے کسی شے کو بھی اپنے احاطہ علمی میں نہیں لاسکتے۔ مگر…
Read the full tafseer →ف 3۔ یہ آیت ملقب بہ آیت الکرسی ہے۔
4۔ قیامت میں انبیاء واولیا گناہ گاروں کی شفاعت کریں گے وہ اول حق تعالیٰ کی مرض پالیں گے جب شفاعت کریں گے۔
5۔ کرسی ایک جسم ہے عرش سے چھوٹا اور آسمانوں سے بڑا۔
Read the full tafseer →اللہ ہی معبود حقیقی ہے اور اس کو کبھی فنا نہیں :
431: اللہ کے نفس وجود کے قائل تو جاہلی مذاہب بھی ہوئے ہیں البتہ وہ اس معبود اعظم جیسے ہندوؤں کی اصطلاح میں ایشور کے علاوہ تحتانی معبودوں اور دیوتاؤں کے بھی قائل رہے ہیں۔ یہ تعلیم اسلام ہی کی ہے کہ ایک اللہ کے سوا کسی اور خدا کا سرے سے وجود ہی نہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ تو معبود اعظم ہے باقی چھوٹے چھوٹے معبود اور بھی موجود ہیں۔
اسلام کہتا ہے کہ انسان بالطبع آزاد پیدا کیا گیا ہے۔ صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کی ذات ہے جس کی غلامی کرنا انسان کے لئے باعث صد ہا فخر و امتیاز ہے ۔ وہی ایک قوت قدس ہے جو تمام زمین و آسمان میں مصروف عمل ہے ۔ اصل میں ذکر حقیقی صرف…
Read the full tafseer →The merits of Ayat-al Kursi
This is the greatest verse of the noble Qur'an. Ahadith carry statements featuring its wonderful merits and blessings. It appears in the Musnad of Ahmad that the Holy Prophet ﷺ has said that this verse is the most meritorious of all. According to another hadith, the Holy Prophet ﷺ asked Sayyidna 'Ubayy ibn Ka'b ؓ 'Which is the greatest ayah (verse) of the Qur'an?' Sayyidna 'Ubayy ibn Ka'b ؓ said: "Ayah al-Kursi'. Approvingly, the Holy Prophet ﷺ said: '0 Abu al-Mundhir, may Allah bless you in your knowledge'.
Sayyidna Abu Dharr ؓ ، asked the Holy Prophet ﷺ : '0…
Read the full tafseer →278. Irrespective of the number of gods or objects of worship set up by ignorant people, the fact remains that godhead in its entirety, belong's exclusively to the Eternal Being, Who is indebted to no one for His existence. In fact, He is not only self-existent, but upon Him rests the entire order of the universe. He alone wields all sovereign authority over His dominion. None shares either His attributes or His power and might, and no one has the same claims against the creatures as He. Hence, if anywhere in the heavens or the earth someone sets up anything or anybody as an object of worship…
Read the full tafseer →