2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 2:1
1 ان حروف کو مقطعات کہتے ہیں ان کے اصلی معنی تک اوروں کی رسائی نہیں۔ بلکہ یہ بھید ہے اللہ اور رسول کے درمیان جو بوجہ مصلحت و حکمت ظاہر نہیں فرمایا۔ اور بعض اکابر سے جو ان کے معنی منقول ہیں اس سے صرف تمثیل و تنبیہ و تسہیل مقصود ہے۔ یہ نہیں کہ مراد حق تعالیٰ یہ ہے۔ تو اب اس کو رائے شخصی کہہ کر تغلیط کرنا محض شخصی رائے ہے جو تحقیق علماء کے بالکل خلاف ہے۔
Ayah 2:2

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 2:2 in the Quran reader

اس کتاب میں کچھ شک نہیں2 راہ بتلاتی ہے3 ڈرنے والوں کو4

2 یعنی اس کے کلام الہٰی ہونے اور اس کے جملہ مضامین کے واقعی ہونے میں کچھ شبہ نہیں۔ جاننا چاہیے کہ کسی کلام میں اشتباہ ہونے کی دو صورتیں ہیں۔ یا تو خود اس کلام میں کوئی غلطی اور خرابی ہو، یا سننے والے کے فہم میں خلل ہو۔ اول صورت میں محل ریب یہ کلام ہے اور دوسری صورت میں محل ریب حقیقت میں سمجھنے والے کا فہم ہے۔ کلام بالکل حق ہے گو اس کو اپنی نافہمی سے وہ کلام محل ریب معلوم ہو۔ سو اس آیت میں ریب کی صورت اول کی نفی فرمائی ہے تو اب یہ شبہ کہ کلام اللہ کے کلام الہٰی اور حق ہونے میں تو سب کفار کو ریب و انکار تھا پھر اس نفی کے کیا معنی بالکل جاتا رہا۔ باقی رہی صورت ثانی اس کو آگے چل کر فرما دیا گیا وان کنتم فی ریب الخ۔ 3 یہاں سے اخیر قرآن تک جواب ہے اھدنا الصراط المستقیم کا جو سوال بندوں کی طرف سے ہوا تھا۔ 4 یعنی جو بندے اپنے خدا سے ڈرتے ہیں ان کو یہ کتاب راستہ بتلاتی ہے کیونکہ جو اپنے خدا سے خائف ہوگا اس کو امور مرضیہ اور غیر مرضیہ یعنی طاعت و معصیت کی ضرور تلاش ہوگی اور جس نافرمان کے دل میں خوف ہی نہیں اس کو طاعت کی کیا فکر اور معصیت سے کیا اندیشہ۔
Ayah 2:3

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ Open ayah 2:3 in the Quran reader

جو کہ یقین کرتے ہیں بےدیکھی چیزوں کا5 اور قائم رکھتے ہیں نماز کو6 اور جو ہم نے روزی دی ہے ان کو اس میں سے خرچ کرتے ہیں7

5 یعنی جو چیزیں ان کے عقل و حواس سے مخفی ہیں (جیسے دوزخ، جنت، ملائکہ وغیرہ) ان سب کو اللہ اور رسول کے ارشاد کی وجہ سے حق اور یقینی سمجھتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان امور غائبہ کا منکر ہدایت سے محروم ہے۔ 6 اقامت صلوٰۃ کا مطلب ہے کہ ہمیشہ رعایت حقوق کے ساتھ وقت پر ادا کرتے ہیں۔ 7 سب طاعتوں کی اصل تین ہیں۔ اول جو باتیں دل سے تعلق رکھتی ہیں، دوسری بدن سے، تیسری مال سے سو اس آیت میں ہر سہ اصول کو ترتیب وار لے لیا۔
Ayah 2:4

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 2:4 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تیری طرف اور اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تجھ سے پہلے اور آخرت کو وہ یقینی جانتے ہیں8

8 اس سے پہلی آیت میں ان لوگوں کا بیان تھا جن مشرکین نے ایمان قبول کیا (یعنی اہل مکہ) اور اس آیت میں ان کا بیان ہے جو اہل کتاب (یعنی یہود و نصاریٰ ) مشرف با اسلام ہوئے۔
Ayah 2:5

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:5 in the Quran reader

وہی لوگ ہیں ہدایت پر اپنے پروردگار کی طرف سے اور وہی ہیں مراد کو پہنچنے والے1

1 یعنی اہل ایمان کے دونوں گروہ مذکورہ بالا دنیا میں ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور آخرت میں ان کو ہر طرح کی مراد ملے گی جس سے معلوم ہوگیا کہ جو نعمت ایمان اور اعمال حسنہ سے محروم رہے ان کی دنیا و آخرت دونوں برباد ہیں۔ اب ان دونوں فریق مومنین سے فارغ ہو کر اس کے آگے کفار کی حالت بیان کی جاتی ہے۔
Ayah 2:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:6 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہوچکے برابر ہے ان کو تو ڈرائے یا نہ ڈرائے وہ ایمان نہ لائیں گے2

2 ان کفار سے خاص وہ لوگ مراد ہیں جن کے لئے کفر مقرر ہوچکا اور دولت ایمان سے ہمیشہ کے لئے محروم کردیئے گئے (جیسے ابو جہل ابو لہب وغیرہ) ورنہ ظاہر ہے کہ بہت سے لوگ جو کافر تھے مشرف با اسلام ہوئے اور ہوتے رہتے ہیں۔
Ayah 2:7

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 2:7 in the Quran reader

مہر کردی اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے3 اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے

3 انکے دلوں پر مہر کردی (یعنی حق بات کو نہیں سمجھتے) اور کانوں پر مہر کردی (یعنی سچی بات کو متوجہ ہو کر نہیں سنتے) اور آنکھوں پر پردہ ہے (یعنی راہ حق کو نہیں دیکھتے) کفار کا بیان ختم ہوگیا اب منافقوں کا حال اس کے بعد تیرہ آیتوں میں ذکر کیا جاتا ہے۔
Ayah 2:8

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ Open ayah 2:8 in the Quran reader

اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور دن قیامت پر اور وہ ہرگز مومن نہیں4

4 یعنی دل سے ایمان نہیں لائے جو حقیقت میں ایمان ہے صرف زبان سے فریب دینے کے لئے اظہار ایمان کرتے ہیں۔
Ayah 2:9

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ Open ayah 2:9 in the Quran reader

دغابازی کرتے ہیں اللہ سے اور ایمان والوں سے اور دراصل کسی کو دغا نہیں دیتے مگر اپنے آپ کو اور نہیں سوچتے5

5 یعنی ان کی فریب بازی نہ خدائے تعالیٰ کے اوپر چل سکتی ہے کہ وہ عالم الغیب ہے اور نہ مومنین پر کہ حق تعالیٰ مومنین کو بواسطہ پیغمبر ﷺ اور دیگر دلائل و قرائن کے منافقین کے فریب سے آگاہ فرما دیتا ہے بلکہ ان کی فریب بازی کا وبال اور اس کی خرابی حقیقت میں ان ہی کو پہنچتی ہے مگر وہ اس کو اپنی غفلت اور جہالت اور شرارت سے نہیں سوچتے اور نہیں سمجھتے اگر غور کریں تو سمجھ لیں کہ اس فریب بازی سے مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچتا بلکہ اس کا نتیجہ خراب ہم کو پہنچ رہا ہے حضرت شاہ صاحب قدس سرہ (شاہ عبدالقادر صاحب (رح) علیہ) کے فہم کی نزاکت ہے کہ یہاں یشعرون کا ظاہر ترجمہ چھوڑ کر اسکا ترجمہ بوجھنا یعنی سوچنا فرمایا۔
Ayah 2:10

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 2:10 in the Quran reader

ان کے دلوں میں بیماری ہے پھر بڑھا دی اللہ نے ان کی بیماری6 اور ان کے لئے عذاب دردناک ہے اس بات پر کہ جھوٹ کہتے تھے7

6 یعنی انکے دلوں میں نفاق اور دین اسلام سے نفرت اور مسلمانوں سے حسد اور عناد یہ مرض پہلے سے موجود تھے اب نزول قرآن اور ظہور شوکت اسلام اور ترقی و نصرت اہل اسلام کو دیکھ دیکھ کر ان کی وہ بیماری اور بڑھ گئی۔ 7 اس جھوٹ کہنے سے وہی اسلام کا جھوٹا دعوی اٰمنا باللّٰہ وبالیوم الاٰخر مراد ہے جو اوپر گزر چکا یعنی عذاب الیم حقیقت میں ان کے نفاق کی سزا ہے نہ مطلق جھوٹ بولنے کی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) کو اسی باریک فرق پر متنبہ فرمانا منظور ہے جو یکذبون کا ترجمہ جھوٹ بولنے کی جگہ " جھوٹ کہنا " فرماتے ہیں۔ فجزاہ اللّٰہ ما ادقَّ نظرہ۔
Ayah 2:11

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ Open ayah 2:11 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا ہے ان کو فساد نہ ڈالو ملک میں تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں8

8 خلاصہ یہ ہے کہ منافقین بچند وجوہ فساد پھیلاتے تھے اول تو خواہشات نفسانیہ میں منہمک تھے اور انقیاد احکام شرعیہ سے کاہل اور متنفر تھے، دوسرے مسلمانوں اور کافروں دونوں کے پاس آتے جاتے تھے اور اپنی قدر و منزلت بڑھانے کو ہر ایک کی باتیں دوسروں تک پہنچاتے رہتے تھے، تیسرے کفار سے نہایت مدارات و مخالطت سے پیش آتے تھے۔ اور امور دین کی مخالفت پر کفار سے اصلا مزاحمت نہ کرتے تھے اور کفار کے اعتراضات و شبہات کو جو دین کی باتوں پر ہوتے تھے مسلمانوں کے روبرو نقل کرتے تھے تاکہ ضعیف الاعتقاد اور ضعیف الفہم احکام شرعیہ میں متردد ہوجائیں اور جب کوئی ان فسادات سے ان کو منع کرتا تو جواب دیتے تھے کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تمام قوم اور ملک مثل زمانہ سابق شیر و شکر ہو کر رہیں اور دین جدید کی وجہ سے جو مخالفت بڑھ گئی ہے بالکل جاتی رہے چناچہ ہر زمانہ میں دنیا طلب ہوا پرست ایسا ہی کہا کرتے ہیں۔
Ayah 2:12

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:12 in the Quran reader

جان لو وہی ہیں خرابی کرنے والے لیکن نہیں سمجھتے9

9 یعنی اصلاح تو حقیقت میں یہ ہے کہ دین حق جملہ ادیان پر غالب ہو اور جملہ اغراض و منافع دنیاوی سے احکام شرعیہ کی رعایت زیادہ کی جائے اور دربارہ دین کسی کی موافقت و مخالفت کی پروا نہ ہو۔ " خاک بردلداری اغیار پاش " منافقین بحیلہ مصالحت و مصلحت اندیشی جو کچھ کرتے ہیں وہ حقیقت میں فساد محض ہے مگر ان کو اس کا شعور نہیں۔
Ayah 2:13

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:13 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا ہے ان کو ایمان لاؤ جس طرح ایمان لائے سب لوگ تو کہتے ہیں10 کیا ہم ایمان لائیں جس طرح ایمان لائے بیوقوف11 جان لو وہی ہیں بیوقوف لیکن نہیں جانتے1

10 یعنی اپنے دلوں میں یہ کہتے تھے یا آپس میں یا ان ضعفائے مسلمین سے جو کسی وجہ سے ان کے رازدار بن رہے تھے۔ 11 سفہاء کہا سچے مسلمانوں کو کہ احکام خداوندی پر دل سے ایسے فدا تھے کہ لوگوں کی مخالفت اور اس کے نتائج بد سے اور انقلاب زمانہ کے مضرات گوناگوں سے اپنا بچاؤ نہ کرتے تھے بخلاف منافقین کے کہ مسلمان و کفار سب سے ظاہر بنا رکھا تھا اور اغراض نفسانی کے سبب آخرت کا کچھ فکر نہ تھا مصلحت بینی اس درجہ غالب تھی کہ ایمان و پابندی احکام شرع کی ضرورت نہ سمجھتے تھے فقط دعویٰ زبانی اور ضروری اعمال بمجبوری ادا کرلینے پر قناعت تھی۔ 1 یعنی بیوقوف حقیقت میں منافقین ہی ہیں کہ مصالح و اغراض دنیاوی پادر ہوا کی وجہ سے آخرت کا خیال نہ کیا فانی کو لینا اور باقی کو چھوڑنا کس قدر حماقت ہے اور مخلوقات سے ڈرنا کہ جن سے ہزار طرح اپنا بچاؤ کرسکتے ہیں اور علام الغیوب سے نہ ڈرنا کہ جہاں کسی طرح کوئی امر پیش ہی نہ کیا جاسکے کتنی جہالت ہے اور صلح کل کیسے کہ جس میں احکم الحاکمین اور اسکے مقبول بندوں سے مخالفت کی جاتی ہے مگر منافقین اس درجہ بیوقوف ہیں کہ ایسی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے۔
Ayah 2:14

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 2:14 in the Quran reader

اور جب ملاقات کرتے ہیں مسلمانوں سے تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب تنہا ہوتے ہیں اپنے شیطان کے پاس2 تو کہتے ہیں کہ بیشک ہم تمہارے ساتھ ہیں3 ہم تو ہنسی کرتے ہیں4 (یعنی مسلمان سے)

2 شیاطین (یعنی شریر لوگ) مراد ان سے یا تو وہ کفار ہیں جو اپنے کفر کو سب پر ظاہر کرتے تھے یا وہ منافقین مراد ہیں جو ان میں رئیس سمجھے جاتے تھے۔ 3 یعنی کفر و اعتقاد دین کے معاملہ میں ہم بالکل تمہارے ساتھ ہیں تم سے کسی حالت میں جدا نہیں ہوسکتے۔ 4 یعنی ظاہری موافقت جو ہم مسلمانوں سے کرتے ہیں اس سے یہ نہ سمجھنا کہ ہم واقعہ میں انکے موافق ہیں۔ ہم تو ان سے تمسخر کرتے ہیں اور ان کی بیوقوفی سب پر ظاہر کرتے ہیں کہ باوجودیکہ ہمارے افعال ہمارے اقوال کے مخالف ہیں مگر وہ اپنی بیوقوفی سے صرف ہماری زبانی باتوں پر ہم کو مسلمان سمجھ کر ہمارے مال اور اولاد پر ہاتھ نہیں ڈالتے اور مال غنیمت میں ہم کو شریک کرلیتے ہیں اور اپنی اولاد سے ہمارا نکاح کردیتے ہیں اور ہم انکے راز کی باتیں اڑا لاتے ہیں۔ اور وہ اس پر بھی ہمارے فریب کو نہیں سمجھتے۔
Ayah 2:15

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 2:15 in the Quran reader

اللہ ہنسی کرتا ہے ان سے5 اور ترقی دیتا ہے ان کو ان کی سرکشی میں (اور) حالت یہ ہے کہ وہ عقل کے اندھے ہیں6

5 چونکہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کو فرما دیا کہ منافقین کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ کرو ان کے جان و مال سے ہرگز تعرض نہ کرو اس سے منافقین اپنی حماقت سے سمجھ گئے کہ ایمان لانے سے جو فائدہ مسلمانوں کو ہوا وہ سب فوائد ہم کو بھی صرف زبانی اظہار اسلام سے حاصل ہوگئے اس وجہ سے بالکل مطمئن ہوگئے حالانکہ انجام کار یہ امر منافقین کو سخت بلا میں پھنسانے والا ہے اس کا انجام نہایت خراب ہے تو اب انصاف کیجیئے کہ حقیقت میں تمسخر مسلمانوں کا ہوا یا منافقین کا اور یا تمسخر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس تمسخر کا بدلہ اور سزا ان کو دے گا۔ 6 یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انکو ڈھیل دی گئی حتیٰ کہ انہوں نے سرکشی میں خوب ترقی کی اور ایسے بہکے کہ اس کا انجام کچھ نہ سوچا اور خوش ہوئے کہ ہم مسلمانوں سے ہنسی کرتے ہیں حالانکہ معاملہ بالعکس تھا جاننا چاہیے کہ آیت میں فی طغیانھم فعل یمدھم کے متعلق ہے مگر تراجم دہلویہ جدیدہ میں اس کو یعمھون کے متعلق کردیا (جس سے معنی بگڑ کر معتزلہ کے موافق اور اہل سنت کے خلاف اور استعمال اہل عرب کے مخالف ہوگئے) جو غلط ہے اور جاننے والے اس کو خوب جانتے ہیں۔
Ayah 2:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى١۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 2:16 in the Quran reader

یہ وہی ہیں جنہوں نے مول لی گمراہی ہدایت کے بدلے سو نافع نہ ہوئی ان کی سوداگری7 اور نہ ہوئے راہ پانے والے8

7 تجارت سے مراد وہی گمراہی کا ہدایت کے بدلے مول لینا ہے جو اس سے پہلے مذکور ہے۔ 8 یعنی منافقین نے بظاہر ایمان قبول کیا اور دل میں کفر کو رکھا جسکی وجہ سے آخرت میں خراب اور دنیا میں خوار ہوئے کہ حق تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں ان کے احوال پر سب کو مطلع فرما دیا۔ ایمان لاتے تو دارین میں سرخرو ہوتے تو اب ان کی تجارت نے کوئی نفع ان کو نہ پہنچایا نہ دنیا کا اور نہ آخرت کا۔ اور وہ کچھ نہ سمجھے کہ مجرد ایمان زبانی کو کافی اور نافع سمجھ کر اس خرابی اور رسوائی میں گرفتار ہوئے۔ اب ان منافقین کے مناسب حال دو مثالیں بیان فرمائی ہیں۔
Ayah 2:17

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 2:17 in the Quran reader

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی پھر جب روشن کردیا آگ نے اس کے آس پاس کو تو زائل کردی اللہ نے ان کی روشنی اور چھوڑا ان کو اندھیروں میں کہ کچھ نہیں دیکھتے9

9 یعنی منافقوں کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص اندھیری گھنگھور رات میں آگ روشن کرے جنگل میں راستہ دیکھنے کو اور جب آگ روشن ہوگئی اور راستہ نظر آنے کو ہوا تو خدا تعالیٰ نے اسکو بجھا دیا اور اندھیری رات میں جنگل میں کھڑا رہ گیا کہ کچھ نظر نہیں آتا۔ ایسے ہی منافقین نے مسلمانوں کے خوف سے کلمہ شہادت کی روشنی سے کام لینا چاہا مگر سردست کچھ فائدہ حقیر (مثل حفظ جان و مال) اٹھانے پائے تھے کہ نور کلمہ شہادت اور منافع سب نیست و نابود ہوگئے اور مرتے ہی عذاب الیم میں مبتلا ہوگئے۔
Ayah 2:18

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ Open ayah 2:18 in the Quran reader

بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں سو وہ نہیں لوٹیں گے10

10 یعنی بہرے ہیں جو سچی بات نہیں سنتے گونگے ہیں جو سچی بات نہیں کہتے۔ اندھے ہیں جو اپنے نفع و نقصان کو نہیں دیکھتے۔ سو جو شخص بہرا بھی ہو اور گونگا بھی ہو وہ کس طرح راہ پر آئے صرف اندھا ہو تو کسی کو پکارے یا کسی کی بات سنے تو اب ان سے ہرگز توقع نہیں کہ گمراہی سے حق کی طرف لوٹیں۔
Ayah 2:19

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:19 in the Quran reader

یا ان کی مثال ایسی ہے جیسے زور سے مینہ پڑ رہا ہو آسمان سے ان میں اندھیرے ہیں اور گرج اور بجلی دیتے ہیں انگلیاں اپنے کانوں میں مارے کڑک کے موت کے ڈر سے اور اللہ احاطہ کرنے والا ہے کافروں کا11

11 دوسری مثل ان منافقین کی ان لوگوں کی سی ہے کہ ان پر آسمان سے مینہ شدت کے ساتھ پڑ رہا ہو اور کئی طرح کی تاریکی اس میں ہو۔ مثلا بادل بھی تو بر تو بہت غلیظ و کثیف ہے اور قطرات ابر کی بھی بہت کثرت اور ہجوم ہے اور رات بھی اندھیری ہے اور تاریکی شدید کے ساتھ بجلی کی کڑک اور چمک بھی ایسی ہولناک ہے کہ وہ لوگ موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دیتے ہیں کہ آواز کی شدت سے دم نہ نکل جائے۔ اسی طرح پر منافقین تکالیف و تہدیدات شرعیہ کو سن کر اور اپنی خواری و رسوائی کو دیکھ کر اور اغراض و مصالح دنیاوی کو خیال کر کے عجب کشمکش اور خوف و پریشانی میں مبتلا ہیں اور اپنی بیہودہ تدبیروں سے اپنا بچاؤ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر حق تعالیٰ کی قدرت سب طرف سے کفار کا احاطہ کئے ہوئے ہے اسکی گرفت و عذاب سے وہ کسی طرح بچ نہیں سکتے۔
Ayah 2:20

یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ١ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ١ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 2:20 in the Quran reader

قریب ہے کہ بجلی اچک لے ان کی آنکھیں جب چمکتی ہے ان پر تو چلنے لگتے ہیں اس کی روشنی میں اور جب اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر چاہے اللہ تو لے جائے ان کے کان اور آنکھیں بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے1

1 حاصل یہ ہے کہ منافقین اپنی ضلالت اور ظلماتی خیال میں مبتلا ہیں لیکن جب غلبہ نور اسلام اور ظہور معجزات قویہ دیکھتے ہیں اور تاکید و تہدید شرعی سنتے ہیں تو متنبہ ہو کر ظاہر میں صراط مستقیم کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں اور جب کوئی اذیت و مشقت دنیاوی نظر آتی ہے تو کفر پر اڑ جاتے ہیں جیسے شدت باراں اور تاریکی میں بجلی چمکی تو قدم رکھ لیا پھر کھڑے ہوگئے مگر چونکہ اس کو سب کا علم ہے اور اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں تو ایسے حیلوں اور تدبیروں سے کیا کام نکل سکتا ہے۔ فائدہ : سورۃ کے اول سے یہاں تک تین طرح کے لوگوں کا ذکر فرمایا۔ اول مومنوں کا پھر کافروں کا (جن کے دلوں پر مہر ہے کہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے) تیسرے منافقوں کا (جو دیکھنے میں مسلمان ہیں مگر دل ان کا ایک طرف نہیں) ۔
Ayahs 2:21–22

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:21 in the Quran reader

اے لوگوں بندگی کرو اپنے رب کی جس نے پیدا کیا تم کو اور ان کو جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:22 in the Quran reader

جس نے بنایا واسطے تمہارے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت اور اتارا آسمان سے پانی پھر نکالے اس سے میوے تمہارے کھانے کے واسطے سو نہ ٹھہراؤ کسی کو اللہ کے مقابل اور تم تو جانتے ہو2

2 اب سب بندوں کو مومن ہوں یا کافر یا منافق خطاب فرما کر توحید جناب باری تعالیٰ سمجھائی جاتی ہے جو ایمان کے لئے اصل الاصول ہے خلاصہ معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو اور تم سے پہلوں کو سب کو پیدا کیا اور تمہاری ضروریات اور کل منافع کو بنایا۔ پھر اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو معبود بنانا جو تم کو نہ نفع پہنچا سکے نہ مضرت (جیسے بت) کس قدر حماقت اور جہالت ہے حالانکہ تم یہ بھی جانتے ہو کہ اس جیسا کوئی نہیں۔
Ayah 2:23

وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:23 in the Quran reader

اور اگر تم شک میں ہو اس کلام سے جو اتارا ہم نے اپنے بندہ پر تو لے آؤ ایک سورت اس جیسی3 اور بلاؤ اس کو جو تمہارا مددگار ہو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو4

3 یہ بات گزر چکی ہے کہ اس کلام پاک میں شبہ کی وجہ یا یہ ہوسکتی تھی کہ اس کلام میں کوئی بات کھٹکے کی ہو سو اس کے دفعیہ کے لئے لا ریب فیہ فرما چکے ہیں۔ اور یا یہ صورت ہوسکتی ہے کہ کسی کے دل میں اپنی کوتاہی فہم یا زیادت عناد سے شبہ پیدا ہو تو یہ صورت چونکہ ممکن بلکہ موجود تھی تو اس کے رفع کرنے کی عمدہ اور سہل صورت بیان فرما دی کہ اگر تم کو اس کلام کے کلام بشری ہونے کا خیال ہے تو تم بھی تو ایک سورة ایسی فصیح وبلیغ تین آیت کی مقدار بنا دیکھو اور جب تم باوجود کمال فصاحت و بلاغت چھوٹی سی سورة کے مقابلہ سے بھی عاجز ہوجاؤ تو پھر سمجھ لو کہ یہ اللہ کا کلام ہے کسی بندہ کا نہیں، اس آیت میں آپ کی نبوت کو مدلل فرما دیا۔ 4 یعنی اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ یہ بندے کا کلام ہے تو جس قدر قابل اور شاعر اور فصحاء و بلغاء موجود ہیں خدائے تعالیٰ کے سوا سب سے مدد لے کر ہی ایک چھوٹی سی سورة ایسی بنا لاؤ یا یہ مطلب ہے کہ خداوند کریم کے سوا تمہارے جتنے معبود ہیں سب سے تضرع اور گریہ وزاری کے ساتھ دعا مانگو کہ اس مشکل بات میں تمہاری کچھ مدد کریں۔
Ayah 2:24

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:24 in the Quran reader

پھر اگر ایسا نہ کرسکو اور ہرگز نہ کرسکو گے تو پھر بچو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں تیار کی ہوئی ہے کافروں کے واسطے5

5 پھر اس پر بھی اگر تم ایسی ایک سورة نہ بنا سکو اور یہ بات یقینی ہے کہ ہرگز نہ بنا سکو گے تو پھر ڈرو اور بچو نار دوزخ سے جو سب آگوں سے تیز ہے اس کا ایندھن کافر اور پتھر ہیں جن کی تم پرستش کرتے ہو اور بچنے کی صورت یہی ہے کہ کلام الٰہی پر ایمان لاؤ اور وہ آگ کافروں کے واسطے تیار کی ہوئی ہے جو کہ قرآن شریف اور نبی کریم ﷺ کو جھوٹا بتلاتے ہیں۔
Ayah 2:25

وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:25 in the Quran reader

اور خوشخبری دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے کہ ان کے واسطے باغ ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں جب ملے گا ان کو وہاں کا کوئی پھل کھانے کو تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ملا تھا ہم کو اس سے پہلے اور دیے جائیں گے ان کو پھل ایک صورت کے6 اور ان کے لئے وہاں عورتیں ہوں گی پاکیزہ اور وہ وہیں ہمیشہ رہیں گے1

6 جنت کے میوے دنیا کے میووں سے شکل و صورت میں ملتے جلتے ہوں گے مگر لذت میں زمین و آسمان کا فرق ہوگا یا جنت کے میوے باہم ایک شکل و صورت کے ہوں گے اور مزا جدا جدا تو جب کسی میوے کو دیکھیں گے تو کہیں گے وہی قسم ہے جو پہلے دنیا میں یا جنت میں کھاچکے ہیں۔ اور چکھیں گے تو مزا اور ہی پائیں گئے۔ 1 جنت کی عورتیں نجاسات ظاہرہ و باطنہ (اخلاق رذیلہ) سے سب سے پاک وصاف ہونگی۔ فائدہ : یہاں تک تین چیزیں جن کا جاننا ضروری تھا بیان فرمائیں اول مبدا (یعنی ہم کہاں سے آئے اور کیا تھے) دوسرے معاش (کہ کیا کھائیں اور کہاں رہیں) تیسرے معاد (کہ ہمارا انجام کیا ہے) ۔
Ayah 2:26

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا١ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ Open ayah 2:26 in the Quran reader

بیشک اللہ شرماتا نہیں اس بات سے کہ بیان کرے کوئی مثال مچھر کی یا اس چیز کی جو اس سے بڑھ کر ہے2 سو جو لوگ مومن ہیں وہ یقینا جانتے ہیں کہ یہ مثال ٹھیک ہے جو نازل ہوئی ان کے رب کی طرف سے اور جو کافر ہیں سو کہتے ہیں کیا مطلب تھا اللہ کا اس مثال سے گمراہ کرتا ہے خدائے تعالیٰ اس مثال سے بہتیروں کو اور ہدایت کرتا ہے اس سے بہتیروں کو3 اور گمراہ نہیں کرتا اس مثال سے مگر بدکاروں کو

2 اس آیت میں اس معارضہ کا جواب دیا گیا جو کفار کی طرف سے پہلی آیت پر ہوا۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ جب چھوٹی سی سورت بھی اس کلام جیسی ان سے نہ ہوسکی جس سے اس کا کلام الٰہی ہونا ثابت ہوچکا تو کفار نے کہا ہر چند ہم اس کلام کے مقابلہ سے عاجز ہیں مگر ہم دوسری دلیل سے اس کا کلام الٰہی نہ ہونا اور کلام بشری ہونا ثابت کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ بڑے بزرگ عظیم الشان اپنے کلام میں ذلیل و حقیر چیزوں کے ذکر سے اجتناب کیا کرتے ہیں حق تعالیٰ جو سب بزرگوں سے برتر اور اعظم ہے اس نے کیسے اپنے کلام میں مکھی اور مکڑی کا ذکر فرمایا اس معارضہ کا جواب دیا گیا کہ اس میں کوئی شرم اور عار کی بات نہیں کہ حق تعالیٰ مچھر یا اس سے بڑی چیز مثل مکھی اور مکڑی کی مثال بیان فرمائے کیونکہ مثال سے تو توضیح و تفصیل ممثل لہ کی مطلوب ہوتی ہے۔ حقارت اور عظمت سے کیا بحث اور یہ مطلوب جبھی حاصل ہوگا کہ مثال اور ممثل لہ میں پوری مطابقت ہو ممثل لہ حقیر ہوگا تو اس کی مثال بھی حقیر ہونی چاہیے ورنہ تمثیل ہی بیہودہ سمجھی جائے گی۔ ہاں اگر تمثیل میں یہ ہوتا کہ مثال اور مثال دینے والے میں موافقت ضروری ہوتی تو بیوقوفوں کا یہ اعتراض چل سکتا مگر اس کا تو کوئی بیوقوف بھی قائل نہ ہوگا اور تورات و انجیل و کلام حکماء و سلاطین میں ایسی مثالیں بکثرت موجود ہیں۔ اس کے خلاف کہنا کفار کی حماقت اور عناد کی بات ہے اور فما فوقھا کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ مچھر سے حقارت اور چھوٹائی میں زیادہ ہو جیسے مچھر کے بازو کہ بعض احادیث میں اس کو دنیا کی تمثیل میں ذکر فرمایا ہے۔ 3 یعنی ایمان والے تو ان مثالوں کو حق اور مفید سمجھتے ہیں اور کفار بطور تحقیر کہتے ہیں کہ ایسی حقیر مثالوں سے خدا کی مراد اور غرض کیا ہوگی، جواب دیا گیا کہ اس کلام سراپا ہدایت سے بہتیروں کو گمراہی میں ڈالنا اور بہتیروں کو راہ راست دکھلانا منظور ہے (یعنی اہل حق اور اہل باطل میں تمیز تام منظور ہے جو نہایت مفید اور ضروری ہے۔
Ayah 2:27

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ١۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 2:27 in the Quran reader

جو توڑتے ہیں خدا کے معاہدہ کو مضبوط کرنے کے بعد اور قطع کرتے ہیں اس چیز کو جس کو اللہ نے فرمایا ملانے کو4 اور فساد کرتے ہیں ملک میں5 وہی ہیں ٹوٹے والے6

4 جیسے قطع رحم کرنا، انبیاء اور علماء اور واعظین، اور مومنین اور نماز اور دیگر جملہ امور خیر سے اعراض کرنا۔ 5 فساد سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو ایمان سے نفرت دلاتے تھے اور مخالفان اسلام کو ورغلا کر مسلمانوں سے مقاتلہ کراتے تھے اور حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور صلحائے امت کے عیب نکال کر تشہیر کرتے تھے تاکہ آپ کی اور دین اسلام کی بےوقعتی لوگوں کے ذہن نشین ہوجائے۔ اور مسلمانوں کا راز مخالفوں تک پہنچاتے تھے اور طرح طرح کی رسوم و بدعات خلاف طریقہ اسلام پھیلانے میں سعی کرتے تھے۔ 6 مطلب یہ ہے کہ ان حرکات ناشائستہ سے اپنا ہی کچھ کھوتے ہیں، توہین اسلام اور تحقیر صلحائے امت کچھ بھی نہ ہو سکے گی۔
Ayah 2:28

كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ١ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:28 in the Quran reader

کس طرح کافر ہوتے ہو خدائے تعالیٰ سے حالانکہ تم بےجان تھے7 پھر جلایا تم کو8 پھر مارے گا تم کو9 پھر جلائے گا تم کو10 پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے11

7 یعنی اجسام بےجان کہ حس و حرکت کچھ نہ تھی۔ اول عناصر تھے اس کے بعد والدین کی غذا بنے، پھر نطفہ، پھر خون بستہ پھر گوشت۔ 8 یعنی حالات سابقہ کے بعد نفخ روح کیا گیا جس سے رحم مادر اور اس کے بعد دنیا میں زندہ رہے۔ 9 یعنی جب دنیا میں وقت مرنے کا آئے گا۔ 10 یعنی قیامت کو زندہ کئے جاؤ گے حساب لینے کے واسطے۔ 11 یعنی قبروں سے نکل کر اللہ تعالیٰ کے روبرو حساب و کتاب کے واسطے کھڑے کئے جاؤ گے۔ سو اب انصاف کرو کہ جب تم اول سے آخر تک اللہ تعالیٰ کے احسانات کے مرہون ہو اور ہر حالت اور حاجت میں اس کے محتاج اور اس کے متوقع ہو۔ پھر اس پر بھی کفر کرنا اور اس کی نافرمانی کرنا کس قدر تعجب خیز امر ہے۔
Ayah 2:29

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:29 in the Quran reader

وہی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے واسطے جو کچھ زمین میں ہے سب پھر قصد کیا آسمان کی طرف سو ٹھیک کردیا ان کو سات آسمان اور خدائے تعالیٰ ہر چیز سے خبردار ہے12

12 اس آیت میں دوسری نعمت بیان فرمائی یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا اور تمہاری بقاء اور انتفاع کے لئے زمین میں ہر طرح کی چیزیں بکثرت پیدا فرمائیں (مطعومات اور مشروبات اور ملبوسات اور ہر چیز کے لئے آلات و سامان) اس کے بعد متعدد آسمان بنائے گئے جس میں تمہارے لئے طرح طرح کے منافع ہیں۔
Ayah 2:30

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:30 in the Quran reader

اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو کہ میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک نائب13 کہا فرشتوں نے کیا قائم کرتا ہے تو زمین میں اس کو جو فساد کرے اس میں اور خون بہائے اور ہم پڑھتے رہتے ہیں تیری خوبیاں اور یاد کرتے ہیں تیری پاک ذات کو1 فرمایا بیشک مجھ کو معلوم ہے جو تم نہیں جانتے2

13 اب ایک بڑی نعمت کا ذکر کیا جاتا ہے جو جملہ بنی آدم پر کی گئی اور وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی آفرنیش کا قصہ ہے جو تفصیل سے بیان کیا گیا اور ان کو خلیفتہ اللہ بنایا گیا۔ پہلی آیت میں جو خلق لکم مافی الارض جمیعا فرمایا تھا۔ اس میں کسی کو انکار پیش آئے تو قصہ حضرت آدم سے اس کا جواب بھی بخوبی ہوگیا۔ 1 ملائکہ کو جب یہ خلجان ہوا کہ ایسی مخلوق کہ جس میں مفسد اور خونریز تک ہوں گے ہم ایسے مطیع اور فرمانبردار کے ہوتے ان کو خلیفہ بنانا اس کی وجہ کیا ہوگی ؟ تو بطریق استفادہ یہ سوال کیا۔ اعتراض ہرگز نہ تھا رہا یہ امر کہ ملائکہ کو بنی آدم کا حال کیونکر معلوم ہوا، اس میں بہت سے احتمال ہیں۔ جنات پر قیاس کیا یا حق تعالیٰ نے پہلے بتادیا تھا یا لوح محفوظ پر لکھا دیکھا۔ یا سمجھ گئے کہ حاکم و خلیفہ کی ضرورت جبھی ہوگی جب ظلم و فساد ہوگا یا حضرت آدم کے قالب کو دیکھ کر بطور قیافہ سمجھ گئے ہوں (جیسا ابلیس نے حضرت آدم کو دیکھ کر کہا کہ بہکول ہونگے) اور ایسا ہی ہوا۔ 2 فرشتوں کو سردست بالا جمال یہ جواب دیا گیا کہ ہم خوب جانتے ہیں اس کے پیدا کرنے میں جو حکمتیں ہیں تم کو ابھی تک وہ حکمتیں معلوم نہیں ورنہ اس کی خلافت اور افضلیت میں شبہ نہ کرتے۔
Ayahs 2:31–32

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:31 in the Quran reader

اور سکھلا دیے اللہ نے آدم کو نام سب چیزوں کے پھر سامنے کیا ان سب چیزوں کو فرشتوں کے پھر فرمایا بتاؤ مجھ کو نام ان کے اگر تم سچے ہو

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 2:32 in the Quran reader

بولے پاک ہے تو ہم کو معلوم نہیں مگر جتنا تو نے ہم کو سکھایا بیشک تو ہی ہے اصل جاننے والا حکمت والاف 3

3 خلاصہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے حضرت آدم کو ہر ایک چیز کا نام مع اس کی حقیقت اور خاصیت کے اور نفع اور نقصان کے تعلیم فرما دیا اور یہ علم ان کے دل میں بلاواسطہ کلام القاء کردیا کیونکہ بدون اس کمال علمی کے خلافت اور دنیا پر حکومت کیونکر ممکن ہے اس کے بعد ملائکہ کو اس حکمت پر مطلع کرنے کی وجہ سے ملائکہ سے امور مزکورہ کا سوال کیا گیا اگر تم اپنی اس بات میں کہ تم کار خلافت انجام دے سکتے ہو، سچے ہو تو ان چیزوں کے نام و احوال بتاؤ لیکن انہوں نے اپنے عجز و قصور کا اقرار کیا اور خوب سمجھ سے کہ بدون اس علم عام کے کوئی کار خلافت زمین میں نہیں کرسکتا اور اس علم عام سے قدر قلیل ہم کو اگر حاصل ہوا بھی تو اتنی بات سے ہم قابل خلافت نہیں ہوسکتے۔ یہ سمجھ کر کہہ اٹھے کہ تیرے علم و حکمت کو کوئی نہیں پہنچ سکتا۔
Ayah 2:33

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ Open ayah 2:33 in the Quran reader

فرمایا اے آدم بتادے فرشتوں کو ان چیزوں سے نام پھر جب بتا دیے اس نے ان کے نام فرمایا کیا نہ کہا تھا میں نے تم کو کہ میں خوب جانتا ہوں چھپی ہوئی چیزیں آسمانوں کی اور زمین کی اور جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو4

4 اس کے بعد حضرت آدم سے جو تمام اشیائے عالم کی نسبت سوال ہوا تو فرفر سب امور ملائکہ کو بتا دیئے کہ وہ بھی سب دنگ رہ گئے، اور حضرت آدم کے احاطہ علمی پر عش عش کر گئے تو اللہ تعالیٰ نے ملائکہ سے فرمایا کہ کہو ہم نہ کہتے تھے کہ ہم جملہ مخفی امور آسمان و زمین کے جاننے والے ہیں اور تمہارے دل میں جو باتیں مکنون ہیں وہ بھی سب ہم کو معلوم ہیں۔ فائدہ۔ اس سے علم کی فضیلت عبادت پر ثابت ہوئی دیکھئے عبادت میں ملائکہ اس قدر بڑھے ہوئے ہیں کہ معصوم، مگر علم میں چونکہ انسان سے کم ہیں اس لئے مرتبہ خلافت انسان ہی کو عطا ہوا اور ملائکہ نے بھی اس کو تسلیم کرلیا اور ہونا بھی یوں ہی چاہیے کیونکہ عبادت تو خاصہ مخلوقات ہے خدا کی صفت نہیں، البتہ علم خدائے تعالیٰ کی صفت اعلیٰ ہے اس لئے قابل خلافت یہی ہوئے کیونکہ ہر خلیفہ میں اپنے مستخلف عنہ کا کمال ہونا ضروری ہے۔
Ayah 2:34

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١٘ۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:34 in the Quran reader

اور جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب سجدہ میں گرپڑے مگر شیطان5 اس نے نہ مانا اور تکبر کیا اور تھا وہ کافروں میں کا6

5 جب حضرت آدم کا خلیفہ ہونا مسلم ہوچکا تو فرشتوں کو اور ان کے ساتھ جنات کو حکم ہوا کہ حضرت آدم کی طرف سجدہ کریں اور ان کو قبلہ سجود بنائیں جیسا سلاطین اپنا اول ولی عہد مقرر کرتے ہیں پھر ارکان دولت کو نذریں پیش کرنے کا حکم کرتے ہیں تاکہ کسی کو سرتابی کی گنجاہش نہ رہے چناچہ سب نے سجدہ مذکور ادا کیا سوائے ابلیس کے کہ اصل سے جنات میں تھا اور ملائکہ کے ساتھ کمال اختلاط رکھتا تھا اور سبب اس سرکشی کا یہ ہوا کہ جنات چند ہزار سال سے زمین میں متصرف تھے اور آسمان پر بھی جاتے تھے۔ جب ان کا فساد اور خونریزی بڑھی تو ملائکہ نے بحکم الٰہی بعض کو قتل کیا اور بعض کو جنگل پہاڑ اور جزائر میں منتشر کردیا۔ ابلیس ان میں بڑا عالم و عابد تھا اس نے جنات کے فساد سے اپنی بےلوثی ظاہر کی، فرشتوں کی سفارش سے یہ بچ گیا اور ان ہی میں رہنے لگا اور اس طمع میں کہ تمام جنات کی جگہ اب صرف میں زمین میں متصرف بنایا جاؤں عبادت میں بہت کوشش کرتا رہا اور خلافت ارض کا خیال پکاتا رہا۔ جب حکم الٰہی حضرت آدم کی نسبت خلافت کا ظاہر ہوا تو ابلیس مایوس ہوا اور عبادت ریائی کے رائگاں جانے پر جوش حسد میں سب کچھ کیا اور ملعون ہوا۔ 6 یعنی علم الٰہی میں پہلے ہی کافر تھا اوروں کو گو اب ظاہر ہوا یا یوں کہو کہ اب کافر ہوگیا اس وجہ سے کہ حکم الٰہی کا بوجہ تکبر انکار کیا اور حکم الٰہی کو خلاف حکمت و مصلحت اور موجب عار سمجھا یہ نہیں کہ فقط سجدہ ہی نہیں کیا۔
Ayah 2:35

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:35 in the Quran reader

اور ہم نے کہا اے آدم رہا کر تو اور تیری عورت جنت میں اور کھاؤ اس میں جو چاہو جہاں کہیں سے چاہو اور پاس مت جانا اس درخت کے پھر تم ہوجاؤ گے ظالم7

7 مشہور ہے کہ وہ درخت گیہوں کا تھا یا بقول بعض انگور یا انجیر، یا ترنج وغیرہ کا واللہ اعلم۔
Ayah 2:36

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

پھر ہلا دیا ان کو شیطان نے اس جگہ سے پھر نکالا ان کو اس عزت و راحت سے کہ جس میں تھے8 اور ہم نے کہا تم سب اترو تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے9 اور تمہارے واسطے زمین میں ٹھکانا ہے اور نفع اٹھانا ہے ایک وقت تک1

8 کہتے ہیں کہ حضرت آدم اور حوا بہشت میں رہنے لگے اور شیطان کو اس کی عزت کی جگہ سے نکال دیا، شیطان کو اور حسد بڑھا بالآخر مور اور سانپ سے مل کر بہشت میں گیا اور بی بی حوّا کو طرح طرح سے ایسا پھسلایا اور بہکایا کہ انہوں نے وہ درخت کھالیا اور حضرت آدم کو بھی کھلایا اور ان کو یقین دلا دیا تھا کہ اس کے کھانے سے اللہ کے ہمیشہ کو مقرب ہوجاؤ گے اور حق تعالیٰ نے جو ممانعت فرمائی تھی اس کی توجیہ گھڑ دی۔ آئیندہ یہ قصہ مفصل آئے گا۔ 9 اس خطا کی سزا میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا اور جو اولاد پیدا ہونے والی تھی سب کی نسبت یہ حکم ہوا کہ بہشت سے زمین پر جاکر رہو۔ باہم ایک دوسرے کے دشمن ہو نگے جس کی وجہ سے تکلیفیں پیش آئیں گی۔ بہشت دارالعصیان اور دارالعداوۃ نہیں۔ ان امور کے مناسب دار دنیا ہے جو تمہارے امتحان کے لئے بنایا گیا ہے۔ 1 یعنی دنیا میں ہمیشہ نہ رہو گے بلکہ ایک وقت معین تک وہاں رہو گے اور وہاں کی چیزوں سے بہرہ مند ہو گے اور پھر ہمارے ہی رو برو آؤ گے اور وہ وقت معین ہر ہر شخص کی نسبت تو اس کی موت کا وقت ہے اور تمام عالم کے حق میں قیامت کا۔
Ayah 2:37

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:37 in the Quran reader

پھر سیکھ لیں آدم نے اپنے رب سے چند باتیں پھر متوجہ ہوگیا اللہ اس پر بیشک وہی ہے توبہ قبول کرنے والا مہربان2

2 جب حضرت آدم (علیہ السلام) نے حق تعالیٰ کا حکم عتاب آمیز سنا اور جنت سے باہر آگئے تو بحالت ندامت و انفعال گریہ وزاری میں مصروف تھے اس حالت میں حق تعالیٰ نے اپنی رحمت سے چند کلمات ان کو القاء اور الہام کے طور پر بتلائے جن سے ان کی توبہ قبول ہوئی وہ کلمات یہ ہیں ربنا ظلمنا انفسنا آخر آیت تک۔
Ayah 2:38

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:38 in the Quran reader

ہم نے حکم دیا نیچے جاؤ یہاں سے تم سب3 پھر اگر تم کو پہنچے میری طرف سے ہدایت تو جو چلا میری ہدایت پر نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے4

3 مطلب یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی توبہ تو قبول فرمائی مگر فی الفور جنت میں جانے کا حکم نہ فرمایا بلکہ دنیا میں رہنے کا جو حکم ہوا تھا اسی کو قائم رکھا کیونکہ مقتضائے حکمت و مصلحت یہی تھا۔ ظاہر ہے کہ زمین کے لئے خلیفہ بنائے گئے تھے نہ کہ جنت کے لئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ جو ہمارے مطیع ہوں گے ان کو دنیا میں رہنا مضر نہ ہوگا بلکہ مفید، ہاں جو نافرمان ہیں ان کے لئے جہنم ہے اور اس تفریق و امتحان کے لئے بھی دنیا ہی مناسب ہے۔ 4 جو صدمہ اور اندیشہ کسی مصیبت پر اس کے ہونے سے پہلے ہوتا ہے اس کو " خوف " کہتے ہیں اور اس کے واقع ہو چکنے کے بعد جو غم ہوتا ہے اس کو " حزن " کہتے ہیں۔ مثلا کسی مریض کے مرجانے کے خیال پر جو صدمہ ہے وہ خوف ہے اور مرجانے کے بعد جو صدمہ ہے وہ حزن ہے۔ اس آیت میں جو خوف و حزن کی نفی فرمائی اس سے اگر خوف و حزن دنیاوی مراد لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ جو لوگ ہماری ہدایت کے موافق چلیں گے اس میں اس اندیشہ کی گنجائش نہیں کہ شاید یہ ہدایت حقہ نہ ہو شیطان کی طرف سے دھوکہ اور مغالطہ ہو اور نہ وہ اس وجہ سے کہ ان کے باپ سے بالفعل بہشت چھوٹ گئی محزون ہوں گے کیونکہ ہدایت والوں کو عنقریب جنت ملنے والی ہے اور اگر خوف وحزن آخرت مراد ہو تو یہ مطلب ہوگا کہ قیامت کو اہل ہدایت کو نہ خوف ہوگا نہ حزن مگر حزن کا نہ ہونا تو بیشک مسلم لیکن خوف کی نفی فرمانے پر ضرور یہ خلجان ہوتا ہے کہ اس روز خوف تو حضرات انبیاء (علیہم السلام) تک کو ہوگا کوئی بھی خوف سے خالی نہ ہوگا۔ تو بات یہ ہے کہ خوف دو طرح ہوتا ہے کبھی تو خوف کا باعث اور مرجع خائف (یعنی ڈرنے والے) میں پایا جاتا ہے جیسے مجرم بادشاہی جو بادشاہ سے ڈرتا ہے تو موجب خوف جرم ہے جو مجرم کی طرف رجوع ہوتا ہے اور کبھی مرجع خوف مخوف منہ یعنی جس سے ڈرتے ہیں اس میں کوئی امر ہوتا ہے مثلا اگر کوئی شخص کسی بادشاہ صاحب جاہ و جلال کے روبرو یا شیر کے روبرو ہو تو اس کے خائف ہونے کی یہ وجہ نہیں کہ اس نے بادشاہ یا شیر کا جرم کیا ہے بلکہ قہر و جلال سلطانی اور ہیبت اور غضب و درندگی شیر موجب خوف ہے جس کا مرجع ذات سلطانی اور خود شیر ہے۔ آیت سے پہلی قسم کی نفی ہوئی نہ دوسری قسم کی، شبہ تو جب ہوسکتا تھا کہ لاخوف علیھم کی جگہ لاخوف فیھم یا لایخافون فرماتے۔
Ayahs 2:39–40

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:39 in the Quran reader

اور جو لوگ منکر ہوئے اور جھٹلایا ہماری نشانیوں کو وہ ہیں دوزخ میں جانے والے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 2:40 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل5 یاد کرو میرے وہ احسان جو میں نے تم پر کئے6 اور تم پورا کرو میرا قرار تو میں پورا کروں تمہارا قرار7 اور مجھ ہی سے ڈرو8

5 اول یایھا الناس اعبدوا خطاب عام تھا اور ان نعمتوں کا ذکر فرمایا تھا جو تمام بنی آدم پر عام تھیں مثلا زمین و آسمان و جملہ اشیاء کا پیدا کرنا۔ پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کر کے ان کو خلیفہ بنانا اور بہشت میں داخل کرنا وغیرہ۔ اب ان میں سے خاص بنی اسرائیل کو خطاب کیا گیا، اور خاص نعمتیں جو وقتا فوقتا پشت در پشت ان پر ہوتی چلی آئیں اور انہوں نے جو کفران نعمت کیا ان سب باتوں کو مفصل ذکر کیا جاتا ہے۔ کیونکہ بنی اسرائیل تمام فرقوں سے بنی آدم میں ممتاز اور اہل علم و کتاب و نبوت اور انبیاء کو پہچاننے والے سمجھے جاتے تھے کیونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک چار ہزار نبی ان میں آچکے تھے تمام عرب کی نظریں ان کی طرف تھیں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کرتے ہیں یا نہیں اس لئے ان انعامات اور خرابیوں کو بسط کے ساتھ ذکر فرمایا کہ شرما کر ایمان لائیں، ورنہ اور لوگ ان کی حرکات سے واقف ہو کر ان کی بات کا اعتبار نہ کریں اور اسرائیل نام ہے حضرت یعقوب کا، اس کے معنی ہیں عبداللہ۔ 6 ہزاروں انبیاء ان میں بھیجے گئے۔ تورات وغیرہ کتابیں نازل فرمائیں۔ فرعون سے نجات دے کر ملک شام میں تسلط دیا، من وسلوی نازل ہوا، ایک پتھر سے بارہ چشمے جاری کئے جو نعمتیں اور خوارق عادات کسی فرقہ کو نصیب نہیں ہوئیں۔ 7 توریت میں یہ قرار کیا تھا کہ تم تورات کے حکم پر قائم رہو گے اور جس پیغمبر کو بھیجوں اس پر ایمان لا کر اس کے رفیق رہو گے تو ملک شام تمہارے قبضہ میں رہے گا (بنی اسرائیل نے اس کو قبول کرلیا تھا) مگر پھر قرار پر قائم نہ رہے بدنیتی کی رشوت لے کے مسئلے غلط بتائے حق کو چھپایا اپنی ریاست جمائی، پیغمبر کی اطاعت نہ کی بلکہ بعض پیغمبروں کو قتل کیا، تورات میں جہاں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی صفت تھی اس کو بدل ڈالا اس لئے گمراہ ہوئے۔ 8 یعنی منافع دنیاوی کے فوت ہونے سے مت ڈرو۔