2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمظہر القرآن

Ayah 2:1
فضائل القرآن سورة بقرہ سورة بقرہ اور سورة آل عمران، یہ دونوں سورتیں پڑھنے والے پر حشر کے دن سایہ کریں گی۔ آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ سورة بقرہ پڑھا کرو کہ اس کا پڑھنا موجب برکت اور نہ پڑھنا موجب حسرت ہے۔ جب عقبی میں اس کے پڑھنے والوں کو بلند درجہ ملے گا تو نہ پڑھنے والا حسرت سے پچھتائے گا کہ ہائے میں نے کیوں نہ پڑھی۔ حدیث سے منقول ہے کہ جو شخص سورة بقرہ پڑھے گا تو اسے بہشت میں تاج پہنایا جائے گا۔ ہر چیز کی بلندی ہے اور قرآن مجید کی بلندی سورة بقرہ ہے۔ سورة بقرہ میں ہزار امر، ہزار نہی، ہزار حکم اور ہزار خبریں ہیں۔ اس کے پڑھنے میں برکت اور نہ پڑھنے میں حسرت ہے۔ اہل باطل جادوگر اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔ جس گھر میں یہ سورت پڑھی جائے، تین دن تک سرکش شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوتا۔ مسلم شریف کی حدیث ہے کہ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں یہ سورت پڑھی جائے (جمعل) بیہقی و سعید بن منصور نے حضرت مغیر سے روایت کی کہ جو شخص سوتے وقت سورة بقرہ کی دس آیتیں پڑھے گا قرآن شریف کو نہ بھولے گا وہ آیتیں یہ ہیں چار آیتیں اول کی اور آیۃ الکرسی اور دو اس کے بعد کی اور تین آخر سورت کی۔ مسئلہ : طبرانی و بیقہی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کی کہ حضور ﷺ نے فرمایا میت کو فن کرکے قرب کے سرہانے سورة بقرہ کی اول کی چار آیتیں اور پاؤں کی طرف آخر کی دو آیتیں پڑھو۔ خواص القرآن اور سورة بقرہ اگر کسی دشمن کا کوہو تو اس سورة کو رات کے بارہ بجے پڑھے اور اپنے دل میں تصور اپنے دشمن کا رکھے اللہ تعالیٰ اس سورة کی برکت سے اس کے دشمن کی برائی دفع کردے گا۔ اور اس کا کوئی حیلہ اور فریب اس پر نہ چل سکے گا۔ مکی اور مدنی آیات کی تشریح یہ سورة مدنی ہے یعنی مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ ہاں اس میں ایک آیت (واتقوا یوما ترجعون سے آخر تک) مکہ معطمہ میں حجۃ الوداع کے دن منی میں اتری ہے، اور یہ پہلی سورة ہے جو مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ آگے اس سورت میں ایک گائے کے ذبح کرنے کا قصہ آئے گا جو بنی اسرائیل میں واقع ہوا ہے۔ بقرہ عربی میں گائے کو کہتے ہیں، اور اکثر آیتیں قران کی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ سفر حج کے اور زمانہ سفر جہاد میں نازل ہوئی ہیں لیکن آیات مکی اور مدنی میں اکثر مفسرین کے نزدیک یہ ایک اصطلاح قرار پا گئی ہے کہ جو حصہ قرآن شریف کا ہجرت سے پہلے اترا ہے اس کو مکی اور جو ہجرت کے بعد اترا ہے اس کو مدنی کہتے ہیں۔ شان نزول سورة بقرہ جب مکہ معظمہ اور اس کے گرد و نواح میں دین اسلام کی روشنی پھیلی اور وہاں کے بت پرستوں کے زور و ظلم سے نبی ﷺ اور صحابہ کرام حکمت الٰہی کے موافق مدینہ منورہ میں تشریف لائے۔ اس شہر میں اور اس کے اطراف میں عرصہ دراز سے اہل کتاب رہتے تھے، اور اس وقت میں عیسائیوں اور یہودیوں کے تعصبات اور گمراہیوں نے اس ذرا سے نور کو بھی جو مدت سے ٹمٹما رہا تھا بجھا دیا تھا، ایسی حالت میں جو یکایک ان پر آفتاب اسلام طلوع ہوا۔ یعنی نبی ﷺ رونق افروز ہوئے اس وقت باستثنا چند دیندار اکثر کو پابندی رسوم و تعصب بجائے اسلام اور قرآن کے مقابلہ پر آمادہ کیا۔ اور جہلائے عرب کو یہودی اور نصاری ان دونوں فرقوں سے مدد ملی کیونکہ یہ اہل کتاب تھے۔ اور مدینہ کے رؤساء میں سے عبداللہ بن ابی سلول وغیرہ جو کسی غرض و مصلحت دنیوی سے اسلام میں نامزد ہوئے تھے اور در پردہ سخت دشمن تھے، مل گئے۔ ان تینوں فرقوں کے ملنے سے منافقوں کی کمر ہمت بندھ گئی۔ اس کے بعد مالک ابن ضعیف یہودی نے مومنوں کے دل میں شک ڈالنے کو کہا یہ کتاب وہ نہیں ہے جس کی خبر اگلی کتابوں میں دی گئی ہے پس اللہ تعالیٰ نے اس شک کے رفع کرنے کو مومنوں کی تعریف اور کافروں کی مذمت میں یہ آیتیں بھیجنی شروع کیں یعنی سورة بقرہ نازل ہوئی اور فرمایا کہ دریافت کرلو ان لوگوں سے جو تم میں ذی علم ہیں اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ قرآن شریف کا کلام الہی ہونے کا ثبوت الم ق ن ص یس حم۔ یہ سب حروف مقطعات کہلاتے ہیں جن کے معنی اللہ تعالیٰ نے کسی مصلحت سے بندوں پر ظاہر نہیں کیے۔ ان میں بھی عجیب عجیب صفتیں ہیں۔ مشرکین مکہ ان آیتوں کے معنی بتانے سے بھی باوجود اہل زبان ہونے کے عاجز آگئے۔ اس لیے یہ بھی قران مجید کا ایک معجزہ ہے ہم کو بھی ایسے امور کی بحث نہ کرنی چاہیے۔ اللہ اور رسول جانیں اس کے حق ہونے پر ہم ایمان لاتے ہیں۔ بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر ایک نبی کی امت کے ایمان لانے کے موافق ہر نبی کو معجزہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے اور مجھ کو امید ہے کہ قیامت کے دن میری یروی کرنے والے سب سے زیادہ ہوں گے۔ الغرض انسان تو انسان جنات کا اس قرآن کو سن کر یہ کہنا (ہم نے سنا ہے پاک قرآن عجیب سمجھاتا ہے نیک راہ کہ ہم اس پر یقین لائے) اور حکم جہاد کے نازل ہونے سے پہلے ایک جماعت عظیم کا مسلمان ہوجانا اور ضعف اسلام کے زمانے میں غیر قوم کے لوگوں کا مسلمان ہوجانا واقعی یہ قرآن کا معجزہ ہے۔ اور یہی صاحب معجزہ کے نبی برحق ہونے کی پوری دلیل ہے۔
Ayah 2:2

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 2:2 in the Quran reader

(1) یہ کتاب (2) (الہی) ہے (یعنی قرآن) اس میں کچھ شک نہیں، راہ دکھانے والی ہے پرہیزگاروں کو

تقوی کیا ؟ اور متقی کون ؟ متقی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ہر طرح کی نافرمانی سے بچتے ہیں اور اس کی ہر طرح کی اطاعت بجا لاتے ہیں۔ حضرت عمر رضٰ اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے ایک دن پوچھا کہ تقوی کے کیا معنی ہیں، انہوں نے جواب دیا کہ کبھی تمہارا گزر ایسے راستہ سے ہوا ہے جس میں ہر طرف کثرت سے خار دار درخت ہوں۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : ہاں۔ ابی بن کعب نے کہا : پھر تم نے وہاں کیا کیا۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : ہر طرف سے دامن سمیٹ کر اپنے کپڑوں کو کانٹوں سے بچایا۔ ابی بن کعب نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے اسی طرح بچنے کو تقوی کہتے ہیں۔
Ayahs 2:3–5

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ Open ayah 2:3 in the Quran reader

وہ جو بغیر دیکھے ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور ہم نے جو کچھ روزی ان کو دے رکھی ہے اس میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 2:4 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو (اے محبوب) اتارا گیا تمہاری طرف اور جو کچھ تم سے پہلے اتارا گیا اور یہ لوگ آخرت پر (بھی) یقین رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:5 in the Quran reader

ہی لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ (دنیا وآخرت میں) کامیاب ہیں۔ (1)

عذاب قبر۔ حشر۔ پل صرا۔ جنت۔ دوزخ سب غیب کے معنوں میں ہیں، جن پر بےدیکھے ایمان لائیں۔ نماز کے قائم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ نماز کے ارکان وضو، طہارت، رکوع، سجدہ اچھی طرح سے ادا کیا جائے وقت پر۔ راہ خدا میں خرچ کرنے سے مراد زکوۃ ہے یا صدقات نافلہ جیسے ایصال ثواب وہ لوگ جو قرآن پر ایمان لائے۔ اور جو اس سے پہلے کلام اترا یعنی توریت۔ انجیل وغیرہ اس پر ایمان لائے۔
Ayah 2:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:6 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہوئے ان کے حق میں تمہارا (اے محبوب) ڈرانا یا نہ ڈرانا (دونوں) برابر ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے

کفر کی چار اقسام : علماء نے کفر کی چار قسمیں بیان کی ہیں : ایک کفر جیسا فرعون کا کفر تھا کہ وہ اللہ کی ذات کا ہی دل و زبان دونوں سے منکر تھا۔ اللہ تعالیٰ کو دل سے ماننا زبان سے اقرار نہ کرنا جیسے ابلیس کا کفر۔ دل و زبان دونوں سے خدا کو ماننا لیکن اس کا حکم نہ ماننا جیسے ابو طالب اور اہل کتاب کفر۔ کفر منافقوں کا کہ زبان سے سب کچھ کہنا اور دل میں کچھ نہیں۔ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے علم میں جن لوگوں کا حالت کفر میں مرنا ٹھہر چکا ہے، ان کے دلوں میں حق بات کے سمجھنے کی اور ان کے کانوں میں حق بات کے سننے کی کچھ گنجائش نہیں اور نبی کے معجزات دیکھنے سے ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ ترمذی اور نسائی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر اس گناہ کی شام سے ایک سیاہ داغ پڑجاتا ہے۔ اگر اس گناہ سے اس نے توبہ کرلی اور آئندہ گناہوں سے باز رہا تو وہ داغ مٹ گیا اور دل صاف ہوگیا، ورنہ یہ داغ روز بروز بڑھتے بڑھتے تمام دل کو گھیر لیتا ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے آیت کلا بل ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون میں ران سے (دل کا زنگ) سے تعبیر فرمایا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جب گناہ کی شامت سے دلوں کا یہ حال ہوجاتا ہے تو کفر کی شامت سے دلوں کا یہی حال ہونا چاہیے کہ اللہ کی طرف سے ان پر مہر لگ گئی ہے۔ نہ ایمان ان میں سما سکتا ہے، نہ کفر ان میں سے نکل سکتا ہے۔ پس ایسے لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔
Ayahs 2:7–18

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 2:7 in the Quran reader

خدا نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے ( پس نہ وہ حق جان سکتے ہیں اور نہ سن سکتے ہیں) اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے (کہ دیکھ نہیں سکتے) اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ Open ayah 2:8 in the Quran reader

اور بعضے ان لوگوں میں سے (منہ سے تو) یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور وہ لوگ ایمان والے نہیں

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ Open ayah 2:9 in the Quran reader

(اپنے نزدیک) فریب دیتے ہیں خدا کو اور مسلمانوں کو، حقیقت میں وہ (دوسروں کو کیا فریب دیں گے) خود اپنی جانوں کو فریب دیتے ہیں اور (جہالت و سرکشی کی وجہ سے) آگاہ نہیں ہوتے

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 2:10 in the Quran reader

ان کے دلوں میں (کفر کی) بیماری ہے ، پس اللہ نے (دین حق کو کامیاب کر کے) ان کی بیماری اور بڑھا دی اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے بسبب اس کے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے ۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ Open ayah 2:11 in the Quran reader

اور جب ان (منافقوں) سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو کہتے ہیں کہ ہم تو (لوگوں میں) اصلاح کرنے والے ہیں

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:12 in the Quran reader

آگاہ ہو بیشک یہی (منافق لوگ) فساد کرنے والے ہیں و لیکن انہیں سمجھ نہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:13 in the Quran reader

ور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ جیسے اور لوگ ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں : کیا ہم بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح (یہ) بیوقوف آدمی ایمان لے آئے ہیں، دیکھو یہی لوگ ( فی الحقیقت) بیوقوف ہیں و لیکن جانتے نہیں

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 2:14 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیاطین (سرداروں) کے ساتھ اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں : ہم (دل سے) تو تمہارے ساتھ ہیں ہم تو صرف (مسلمانوں سے) دل لگی کرتے ہیں

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 2:15 in the Quran reader

یہ لوگ مسلمانوں سے کیا دل لگی کریں گے ( حقیقت میں) اللہ ان کو ان کی ہنسی کا بدلہ دیتا ہے اور ان کو ڈھیل دیتا ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى١۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 2:16 in the Quran reader

یہی (منافق) وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی مول لی ، پس نہ ان کی اس تجارت نے ان کو نفع دیا اور نہ راہ (ہدایت) پانے والے ہوئے

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 2:17 in the Quran reader

ان (منافقوں) کی مثال اس کی سی مثال ہے جس نے (مجمع میں رات کے وقت روشنی کے لیے) آگ روشن کی، پھر جب (آگ کے شعلوں سے) اس کے آس پاس کی چیزیں خوب روش ہوگئیں تو اللہ نے ان کا نور سلب کرلیا اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ اب ان کو کچھ نہیں سمجھائی دیتا

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ Open ayah 2:18 in the Quran reader

(کانوں سے) (1) بہرے ہیں (حق بات سن نہیں سکتے) (منہ سے) گونگے ہیں (کہ زبان سے کلمہ خیر نہیں نکال سکتے) (آنکھوں سے) اندھے ہیں (کہ راہ ہدایت نہیں دیکھ سکتے) پس دین حق کی طرف رجوع نہ ہوں گے

شان نزول : جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں ہجرت کرکے تشیف لائے اور اہل اسلام کی جماعت کی قوت بڑھی تو اہل مدینہ میں سے جن کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے اسلام لکھا تھا وہ تو خالص مسلمان ہوگئے۔ لیکن ایک جماعت اہل مدینہ کی ان یہود سے میل جول رکھتی تھی، جو مدینہ کے گرد و نواح میں رہتے تھے۔ ان یہود کے بہکانے سے اہل مدینہ کے کچھ لوگ مسلمانوں کی قوت اور شوکت کو دیکھ کر جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنا جان و مال بچانے کے لیے مسلمانوں کے روبرو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے۔ اور جب اپنے ساتھیوں سے ملتے تو کہتے : ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو دل لگی کے طور پر اپنا اوپری اسلام ظاہر کردیتے ہیں۔ لوگوں کی دغا بازی ظاہر کرنے کو اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ یہ لوگ دغا باز ہیں ان کی دغا بازی ان ہی کی عقبیٰ خراب کرے گی۔
Ayahs 2:19–20

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:19 in the Quran reader

یا ان کی مثال ایسی ہے کہ آسمان سے بھاری مینہ برسے جس میں اندھیریاں ہیں اور کڑک اور بجلی ہے ۔ کڑک کی ڈراؤنی آواز کے سبب سے چلنے والے لوگ اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں موت کے خوف سے اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے

یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ١ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ١ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 2:20 in the Quran reader

قریب ہے کہ بجلی ان کی بینائی کو اچک لے جائے گی، جب بجلی کی چمک سے روشنی ہوتی ہے تو اس کی روشنی میں چلنے لگتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں، اور اگر اللہ چاہے تو (یوں بھی) ان کے سننے اور دیکھنے کی قوتیں (ان سے) سلب کرلے، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے

فرشتہ رعد اور منافقوں کا ذکر آنحضرت ﷺ کے مدینہ میں آنے کے وقت پہلے پہل ان لوگوں نے کچھ نور ایمان کما لیا تھا، پھر نفاق کے سبب سے اسی کفر کی تاریکی میں یہ لوگ پھنس گئے۔ دوسری مثال کی مطابقت صحابہ نے منافقوں کے حال سے اس طرح بیان کی ہے کہ بجلی کی آناً فاناً چمک کی طرح مسلمانوں کے دباؤ سے کبھی ان لوگوں میں ایمان کی عارضی جھلک آجاتی ہے، اور جس طرح کڑک کی آواز کے ڈر سے کوئی شخص کانوں میں انگلیاں دے کر اپنا ڈر رفع کرلیتا ہے۔ اسی طرح عارضی ایمان جھلک سے مسلمانوں کے ہاتھ سے ان کی جان و مال کی خیر ہوجاتی ہے لیکن اس عارضی ایمان سے کیا ہوتا ہے۔ ان کے دلوں پر تو وہی کفر و نفاق کی گھٹا چھائی ہوئی ہے جس کے سبب سے ان کا انجام برا اور عاقبت برباد ہے۔ آخیر کو اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کو یہ بھی جتلا دیا کہ اپنے اعضاء کے بھروسہ پر یہ منافق چالاکیاں دغا بازیاں کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ چاہے تو ان کے اعضاء کو بالکل بیکار کردے۔ پھر یہ اپنے گھروں میں بالکل اپاہج بن کر بیٹھ جاویں اور ان کی چالاکیاں اور دغا بازیاں ان کے آگے آجائیں۔ ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ رعد ایک فرشتہ ہے جو بادلوں کو ہانکتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہے۔ بادلوں کے ہانکنے میں اس کوڑے کا کوئی تس جو جھڑا جاتا ہے وہ بجلی ہے اور کڑک اس فرشتے کی آواز ہے جو بادلوں کے ہانکنے کے وقت اس کے منہ سے نکلتی ہے۔
Ayahs 2:21–23

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:21 in the Quran reader

اے لوگو (1) اپنے پروردگار کی عبادت کرو (اس پروردگار کی) جس نے تم کو اور ان لوگوں کو جو تم سے پہلے تھے پیدا کیا تاکہ تم (عذاب سے) بچ جاؤ

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:22 in the Quran reader

وہ (پروردگار عالم) جس نے تمہارے لیے زمین فرش کی طرح بچھا دی اور آسمان کو چھت کی طرح بلند کردیا اور برسایا آسمان سے پانی (جس سے زمین شاداب ہوجاتی ہے) پھر ہر طرح کے پھل تمہارے کھانے کے لیے پیدا کیے پس اللہ کے لیے جان بوجھ کر برابر والے نہ ٹھہراؤ

وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:23 in the Quran reader

اور اگر (1) تمہیں اس (قرآن کی سچائی) میں کچھ شک ہے کہ جو ہم نے اپنے خاص بندے (محمد) پر اتارا تو (اگر یہ انسانی دماغ کی بناوٹ ہے تو تم بھی انسان ہو تو صرف) اس کی مانند ایک سورت تو لے آؤ، اور اللہ کے سوا جس قدر تمہارے حمایتی ہیں سب سے مدد لو اگر تم (اس دعوے میں) سچے ہو

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اس کی تعظیم اور عبادت میں کسی کو شریک کرنا اس سے بڑھ کر کوئی گناہ دنیا میں نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن مسعود ؓ اور سلف نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بت پرستوں، منافقوں اور اہل کتاب سب کو خالص عبادت الہی کی اور جس خالص توحید الہی کی ترغیب نبی آخر الزماں ﷺ دلاتے تھے، اس کے اتباع کی تاکید ان سب کو فرمائی ہے۔
Ayah 2:24

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:24 in the Quran reader

پس اگر تم ایسا نہ لاسکو اور (حقیقت یہ ہے کہ) ہرگز نہیں لاسکو گے تو چاہیے کہ سچائی کے انکار سے (باز آؤ) پس اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی (یعنی کافر) اور پتھر (یعنی بت) ہیں (وہ) کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے ۔

جنت و دوزخ کے حالات اور جنت کے نام مسند امام احمد اور صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ دوزخ کی آگ کی حرارت دنیا کی آگ سے انہتر حصہ بڑھ کر ہے۔ کسی جیتے آدمی کو دنیا کی آگ میں ڈال دیا جائے تو ایک لمحہ بھی اس کی برداشت نہ ہوگی۔ جو لوگ توحید الہی اور تسلیم رسالت میں کوتاہی کرتے ہیں، معلوم نہیں پورے ستر حصے حرارت والی آگ کی برداشت کروڑوں برس ان سے کیونکر ہوگی نعوذ باللہ منہا۔ یہ جو فرمایا کہ اعدت للکفرین یعنی آگ منکروں کیلئے تیار کی جا چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ اس وقت تیار موجود ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ دوزخ کو خاص قیامت کے دن پیدا کیا جاوے گا وہ لوگ غلطی پر ہیں۔
Ayah 2:25

وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:25 in the Quran reader

اور (اے محبوب) (2) ان لوگوں کو خوشخبری سنا دو جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے اچھے کام کیے کہ ان کے واسطے (بہشت کے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جب ان کو ان باغوں سے کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا (صورت دیکھ کر) کہیں گے : یہ تو وہی رزق ہے جو ہمیں پہلے مل چکا ہے (مگر کھانے سے نئی لذت پائیں گے) اور ان کو ایک ہی صورت و شکل کے میوے ملا کریں گے ، اور ان کے لیے ان باغوں میں پاکیزہ بیبیاں ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے

حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنت کی نعمتیں نہ کبھی آنکھ نے دیکھیں، نہ کان نے سنیں، نہ کسی کے دل پر ان کا تصور گزر سکتا ہے۔ یہ حدیث صحیحین وغیرہما میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آئی ہے۔ ایمان کے ساتھ نیک کاموں کے ذکر سے معلوم ہوا کہ جنب جب ملے گی کہ ایمان اور نیک عمل دونوں ہوں۔ جنت کی نہروں کے کنارے نہیں ہیں، برابر زمین پر جاری ہیں ان میں سے دودھ، شہد، شراب جنتی لوگ بلا دقت لے سکیں گے۔ جنت کی بیبیاں حیض و نفاس سے پاک ہوں گی، اس لیے ان کو ستھری فرمایا۔ جنت کے میوے دنیا کے میووں کے مشابہ سمجھیں گے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جنبی جنت اور دوزخی دوزخ میں جا چکیں گے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ یہ آواز دے گا کہ اب موت نہیں جو شخص جس حال میں ہے ہمیشہ اسی حال میں رہے گا۔ دنیا کی ہر نعمت کو ہر دم زوال لگا ہوا ہے۔ جنت کی نعمتوں میں یہ کتنی بڑی خوبی ہے کہ ان کو زوال نہیں۔ جنتیں کل سات ہیں جن کے نام یہ ہیں : جنت الفردوس۔ جنت نعیم۔ جنت عدن۔ جنت دارالسلام۔ دار الخلد۔ جنت الماوی۔ جنت دار القرار۔
Ayahs 2:26–29

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا١ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ Open ayah 2:26 in the Quran reader

بیشک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا (1) کہ کسی (حقیقت کے سمجھانے کے لیے کسی حقیر سے حقیر چیز) کی مثال بیان کرتے (مثلا) مچھر کی یا اس سے زیادہ حقیر چیز کی پس جو لوگ ایمان رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ مثال حق ہے ان کے پروردگار کی طرف سے ، اور وہ لوگ جو کافر ہیں کہتے ہیں : بھلا ایسی مثال بیان کرنے سے اللہ کیا چاہتا ہے ، ایسی ہی مثال سے اللہ بہتیروں کو گمراہ کرتا ہے اور ایسی ہی مثال سے بہتیروں کو ہدایت دیا کرتا ہے اور وہ گمراہ نہیں کرتا مگر انہیں لوگوں کو جو بےحکم (نافرمان) ہیں

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ١۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 2:27 in the Quran reader

بےحکم وہ لوگ ہیں جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں اس کے پکا ہونے کے بعد اور جس چیز کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو قطع کردیتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ١ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:28 in the Quran reader

(لوگو) (1) بھلا تم کیونکر منکر ہوسکتے ہو خدا سے اور حالانکہ تم بےجان تھے، پھر اس نے تم میں جان ڈالی پھر وہی (ہے جو زندگی کے بعد) تم کو موت دے گا، پھر تم کو (دوبارہ قیامت میں) زندہ کرے گا، پھر (بالآخر) تم سب کو اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:29 in the Quran reader

وہی (اللہ) ہے کہ جس نے تمہارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں، پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا پس ٹھیک سات آسمان بنائے اور وہ سب چیزوں کا جاننے والا ہے

قرآن کے منکر لوگ یہ طعن کرتے تھے کہ جس کلام میں ایسی حقیر چیزوں کا ذکر ہو وہ کلام الہی کیونکر ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کا جواب دیا کہ مخلوق ہونے میں حقیر اور صاحب شان چیزیں سب برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات سے جس چیز کی چاہے مثال بیان کرے اس پر طعن نافہمی ہے۔ بد عہد لوگوں سے مراد یہود لوگ ہیں کہ تورات میں ان سے حضور سید عالم ﷺ کی اطاعت اور رشتہ و قرابت کے تلقات، مسلمانوں کی دوتی و محبت، تمام انبیاء کا ماننا، تمام کتب الہی کی تصدیق، حق پر جمع ہونا وہ چیزیں ہیں جن کے ملانے کا حکم فرمایا گیا۔ ان میں قطع کرنا بعض کو بعض سے ناحق جدا کرنا، تفرقوں کی بنا ڈالنا ممنوع فرمایا گیا۔
Ayah 2:30

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:30 in the Quran reader

(اے محبوب) یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ زمین میں (اپنا ایک) نائب بنانے والے ہوں فرشتوں نے کہا : کیا ایسی ہستی کو نائب کرے گا جو زمین میں فساد پھیلائے اور خونریزی کرے اور ہم تیری حمد وثنا کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں (اللہ نے) فرمایا : بیشک میں وہ جانتا ہوں جس کی تمہیں خبر نہیں

حضرت آدم (علیہ السلام) سے پہلے زمین پر جنات تھے شان نزول : ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں فرقوں کو جتلایا کہ پیدا ہونے سے پہلے یہ لوگ مٹی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا، ان کی راحت کی چیزیں جو کچھ دنیا میں ہیں پیدا کیں، کل چیز کا ذرا ذرا حال اس کو معلوم ہے، اپنے علم میں جس قدر عمر ان لوگوں کی اس نے لکھی ہے اس کے ختم ہوجانے کے بعد ان کو مارے گا اور پھر حشر کے دن ان کو زندہ کرکے ذرہ ذرہ کا حساب لیوے گا۔ غرض لوگوں سے لوگ اپنے دل کی باتیں چھپا سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اس سے ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔ پیدائش حضرت آدم (علیہ السلام) پر فرشتوں کا اعتراض حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور سلف سے اس قصہ کی جو روایات آئی ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے دو ہزار برس پہلے زمین پر جنات رہتے تھے۔ انہوں نے زمین پر طرح طرح کے فساد کیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ایک گروہ کو جنات کی تنبیہ اور سرکوبی کیلئے بھیجا۔ ان فرشتوں نے جنات کو مار کر دریا کے ٹاپوؤں اور جزیروں میں نکال دیا۔ اب بنی آدم کی پیدائش کا حال سن کر فرشتوں نے اسی قیاس پر یہ بات کہی کہ جنات کی طرح بنی آدم بھی زمین میں فساد پھیلائیں گے، لیکن فرشتوں کی یہ بات کچھ اعتراض کے طور پر نہیں تھی کیونکہ خلاف مرضی اللہ تعالیٰ کے وہ کوئی بات منہ سے نکالنے میں معصوم ہیں۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں خفگی ظاہر نہیں فرمائی بلکہ اتنا ہی فرمایا کہ بنی آدم کی پیدائش کی جو حکمت مجھ کو معلوم ہے اس کو تم نہیں جانتے۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ بنی آدم کی پیدائش سے زمین میں فقط فساد ہی نہیں پھیلے گا بلکہ ان میں انبیاء، صدیق، شہداء اور صلحاء بھی ہوں گے جن سے زمین میں اللہ کا دین پھیلے گا اور پھر آخر کو اللہ کی جنت آباد ہوگی۔
Ayahs 2:31–34

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:31 in the Quran reader

اور (1) اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام بتا دیئے، پھر اللہ نے وہ تمام چیزیں فرشتوں کے سامنے پیش کیں، پس فرمایا : اگر تم (اپنے خیال میں) سچے ہو تو مجھ کو ان چیزوں کے نام تو بتاؤ

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 2:32 in the Quran reader

(فرشتوں نے) عرض کیا : ساری پاکیاں تیرے ہی لیے ہیں ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے ہمیں بتلا دیا ہے ، بیشک تو ہی علم و حکمت والا ہے

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ Open ayah 2:33 in the Quran reader

(تب خدا نے آدم کو) حکم دیا کہ اے آدم ! تم فرشتوں کو ان چیزوں کے نام بتا دو پھر جب آدم نے فرشتوں کو ان چیزوں کے نام بتا دیئے تو فرمایا : کیوں میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ بیشک آسمان و زمین کی تمام پوشیدہ چیزوں کو میں جانتا ہوں اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی میرے علم میں ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو (وہ بھی مجھ سے مخفی نہیں)

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١٘ۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:34 in the Quran reader

ور (یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ : آدم کو سجدہ کرو پس سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے قبول نہیں کیا اور تکبر کیا اور کافر ہوگیا

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) پر تمام اشیاء پیش فرما کر سب چیزوں کا علم آپ کو عطا فرمایا۔ پھر اللہ جل شانہ نے فرشتوں سے پوچھا کہ اگر تم اپنے خیال میں سچے ہو کہ میں کوئی مخلوق تم سے زیادہ عالم پیدا نہ کروں اور خلافت کے تم ہی مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ چونکہ فرشتوں میں وہ علم نہ تھا وہ کیا بتاتے اور اپنے قصور فہم اور کم علمی کا قائل ہونا پڑا۔ معذرت کرکے عرض کرنے لگے : " ہم کیا بتا سکتے ہیں، ہماری کیا حقیقت ہے " پھر خدا نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے ارشاد کیا کہ اب تم ان تمام اشیاء کے نام بتاؤ تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے تمام نام تفصیلاً بتا دئیے، تو فرشتے ان کے قائل ہوئے۔ جب ان کی فضیلت ثابت ہوچکی تو اللہ جل شانہ نے ان کو اپنی بزرگی عطا فرمائی اور سب کو اس کی تخت نشینی سے مطلع کرکے حکم کیا کہ سجدہ کرو۔ سب فرشتے حکم الہی بجا لائے اور سب نے بلا تامل حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا مگر شیطان نے سجدہ نہ کیا اور براہ تکبر یہ اعتقاد کرتا رہا کہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے افضل ہے اس کے لیے سجدہ کا حکم معاذ اللہ خلاف حکمت ہے۔ اس اعتتقاد باطل سے وہ کافر ہوگیا۔
Ayahs 2:35–36

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:35 in the Quran reader

اور ہم نے (1) (آدم سے) کہا : اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی اس جنت میں رہو اور جنت میں سے جس چیز کو دل چاہے بےروک ٹوک ہر جگہ سے کھاؤ (پیو) مگر اس درخت کے نزدیک نہ جانا (اگر تم اس کے قریب گئے) تو حد سے بڑھنے والوں میں ہوجاؤ گے

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

پس شیطان نے ان دونوں کو جنت سے لغزش دی، پس (آخر کار) جن نعمتوں میں وہ ہر تے تھے اس سے انہیں الگ کردیا اور ہم نے کہا : تم نیچے اترو تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے اور اب تمہیں زمین میں ایک خاص وقت تک رہنا اور برتنا ہے

حضرت آدم کے جنت میں جانے اور حضرت حوا سلام اللہ علیہما کی پیدائش کا ذکر، عورت کی بد مزاجی کا سبب۔ ظاہر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے جنت میں جانے سے پہلے حضرت حوا سلام اللہ علیہا پیدا ہوئی ہیں اور پھر دونوں کو جنت میں رہنے کا حکم ہوا ہے۔ لیکن حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور دیگر صحابہ ؓ کی ایک جماعت کا یہ قول ہے کہ پہلے تن تنہا حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت میں رہنے کا حکم ہوا تھا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جنت میں رہتے تھے مگر تنہائی کے سبب سے اکثر گھبرایا کرتے تھے۔ ایک دن حضرت آدم (علیہ السلام) جب سو رہے تھے تو ان کی نیند کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت حوا کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی بائیں پسلی سے پیدا کردیا اور ان دونوں کو جنت میں رہنے کا حکم دیا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ کی وجہ سے گیہوں کھانے سے منع فرمایا۔ شیطان ان کو بھانپ رہا تھا۔ جھٹ پٹ سانپ کی صورت میں آپ کے پاس گیا اور حضرت حوا کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی بائیں پسلی سے پیدا کردیا اور ان دونوں کو جنت میں رہنے کا حکم دیا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ کی وجہ سے گیہوں کھانے سے منع فرمایا۔ شیطان ان کو بھانپ رہا تھا۔ جھٹ پٹ سانپ کی صورت میں آپ کے پاس گیا اور حضرت حوا کو بہکایا۔ چونکہ عورت ناقص العقل ہوتی ہے اس لیے وہ بہکاوے میں آگئیں اور گیہوں کھانے پر آمادہ ہوگئیں۔ ان کے اصرار سے حضرت آدم (علیہ السلام) نے بھی کھالیا۔ حدیث میں آیا ہے کہ عورت اگرچہ عقل میں ادھوری ہوتی ہے مگر اس کا یہ خاصہ ہے کہ مرد عاقل کی رفو چکر کردیتی ہے، آخر آدم (علیہ السلام) کو جنت سے نکلوا دیا۔ بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ پسلی کی ہڈی سے پیدا ہونے کے سبب پسلی کی ہڈی کی طرح ہر عورت کے مزاج میں ایک کجی ہے۔ جو کوئی اوس کجی کو جھیل کر عورت کو نرمی سے رکھے گا اس کی تو گزر ہوجاوے گی ورنہ گزر مشکل ہوگی۔ (یعنی میاں بیوی کی زندگی مشکل گزرے گی)