2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمظہر القرآن

Ayah 2:274

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

جو لوگ کہ خیرات کرتے ہیں اپنے مالوں کو رات دن چھپے اور ظاہر پس ان کے لئے ہے ثواب ان کا کے پروردگار کے یہاں، اور نہیں ہے خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، ان کو اللہ سے بڑے بڑے اجروں کی توقع رکھنی چاہئے۔ صحیحین وغیرہ میں جو راویتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص نیک نیتی اور عقبیٰ کے اجر کے خیال میں اپنی بی بی بچوں کے نان نفقہ میں بھی کچھ خرچ کرے گا تو اس کو بھی قیامت کے دن اس خرچ کرنے کا اجر خدا کی درگاہ سے ضرور ملے گا۔
Ayah 2:275

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader

اور جو لوگ سود کھاتے ہیں نہ اٹھیں گے (قیامت کے دن) قبر سے مگر جیسا کہ اٹھتا ہے وہ شخص کہ جس کو خبطی کیا ہے شیطان نے بسبب آسیب پینچانے کے، یہ سبب وہ ہے کہ سود کھانے والوں نے کہا کہ سودا گری (تجارت) مثل سود کے ہے حالانکہ حلال کی ہے اللہ نے سودا گری (تجارت) اور حرام کیا ہے سود کو، پس وہ شخص کہ جسے اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت آئی پس باز رہا اس کام سے۔ پس اس کا ہے جو پہلے لے چکا، اور اس کا کا کم خدا کے سپرد ہے اور جو کوئی پھر گیا سود خواری کی طرف پس وہ گروہ (ایسے لوگ) رہنے والے دوزخ کے ہیں وہ مدتوں اس میں رہیں گے

سود کی برائی مسند امام احمد وغیرہ کی شب معراج کی حدیث میں آپ نے فرمایا کہ دوزخ میں کچھ لوگ آپ نے دیکھے جن کے پیٹ بڑے بڑے گھر اور کوٹھوں کے برابر ہیں، ہزارہا سانپ اور بچھو ان کے پیٹوں میں بھرے ہیں۔ دنیا میں ایک سانپ یا بچھو کسی کو کاٹتا ہے تو وہ باؤلوں (پاگلوں) کی طرح بھاگا بھاگا پھرتا ہے۔ جس پر اس قسم کا عذاب قبر ہو کہ ہزارہا سانپ اور بچھو اس کے پیٹ میں بھرے ہوں تو باؤلوں (پاگلوں) کی طرح اس کا قبر سے اٹھنا ظاہر ہے یا جیسے آسیب زدہ اور مجنون و دیوانہ کی حالت، اور یہ حالت اس لئے ہوگی کہ انہوں نے حلال حرام کو یکساں کردیا۔ مشرکین عرب میں اکثر سود کے لین دین کا یہ طریقہ جاری تھا کہ ایک شخص دوسرے کو کچھ روپیہ قرض دیتا تھا اور اس قرض کی مدت پر اگر روپیہ ادا نہ ہوا تو مدت کچھ زیادہ کرکے قرضہ کی رقم کو کچھ بڑھا دیا جاتا تھا، اور اپنی سمجھ کے موافق وہ لوگ اس کو بیع کی ایک قسم خیال کرتے تھے اور ادائے قرضہ کی جو مدت بڑھاتے تھے اس کو خرید وفروخت کی ایک چیز اور اس مہلت کے معاوضہ میں جو رقم بڑھائی جاتی تھی، اس کو اس مہلت کی قیمت قرار دے رکھا تھا۔ لیکن وہ مدت مالیت کی چیز نہ تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس صورت کو بیع قرار دینا دیوانہ پن قرار دیا۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود سود خوار اور اس کے کار پرداز اور سودی دستاویز کے کاتب اور اس کے گواہوں پر لعنت کی ہے اور فرمایا وہ سب گناہ میں برابر ہیں۔ ” یتخبّطہ الشیطٰن من المس “ یعنی جس طرح آسیب زدہ سیدھا کھڑا نہیں ہو سکتا قیامت کے روز سود خوار کا ایسا حال ہوگا۔
Ayahs 2:276–277

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader

خد سود کو مٹاتا ہے اور خیرات کی برکت کو بڑھاتا ہے اور خدا دوست نہیں رکھتا ہے ہر ناشکر گناہ گار کو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:277 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کہ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور قائم رکھی نماز اور دی زکوٰۃ ان کے لئے ہے ثواب ان کا ان کے پروردگار کے یہاں، اور نہیں ہے خوف ان پر اور نہ غمگین ہوں۔

مسئلہ : جو سود کو حلال جانے وہ کافر ہے۔
Ayah 2:278

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو کچھ سود لینا باقی رہا ہے اگر ہو تم ایمان والے۔

سب سے آخری آیت کا ذکر شان نزول : بنی عمرو بن عمیر ایک قبیلہ تھا۔ اسلام سے پہلے اس قبیلہ اور دوسرے قبیلہ بنی مغیرہ میں سود کا لین دین تھا۔ سود کے حرام ہوجانے کے بعد بنی عمیرہ بنی عوف نے اپنی باقی رقم، سود کا تقاضہ بنی مغیرہ سے کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مدینہ منورہ میں نازل فرمائی کہ اگر تم کو خدا کی اطاعت کرنی ہے تو سود کا مطالبہ نہ کرو۔ اگر کوئی اللہ کے حکم کی مخالفت کرے گا تو ا کو چاہئے کہ اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑنے کو تیار ہوجائے۔
Ayahs 2:279–281

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

پس اگر (ایسا تم نے نہ کیا پس تم خبردار ہوجاؤ واسطے لڑائی اللہ اور اس کے رسول کے، اور اگر توبہ کی تم نے پس تم اپنا اصل مال لے لو نہ تم (کسی پر) ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

اور اگر ایک شخص (یعنی قرضدار) مفلس ہوئے پس لازم ہے مہلت دینا تونگری تک اور بخش دینا تو تمہارے واسطے بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور ڈرو اس دن سے کہ پھیرے جاؤ گے اس دن خدا کی طرف، پس تمام (اجر) دیا جائے گا ہر شخص کو جو کچھ عمل کیا ہے اور ان پر ظلم نہیں کئے جاویں گے

معتبی سند سے نسائی ، تفسیر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سب سے آخر قرآن شریف کی یہی آیت نازل ہوئی ہے جس میں یہ اشارہ ہے کہ اس آیت کے بعد خوف آخرت ہی ایک چیز ہے جو اللہ سے ڈرنے کا ایک ذریعہ دنیا میں قیامت تک چھوڑا جاتا ہے۔ رسول وقت کی صحبت۔ قرآن شریف کا ہر نصیحت کے موقع پر نازل ہونا آئندہ بند ہے۔ چناچہ اس آیت کے نزول سے نو راتوں کے بعد آنحضرت ﷺ نے وفات پائی۔ انا للہ وانا الیہ رٰجعون۔ جو آخری ذریعہ عقبیٰ کے پاک کرنے کا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے دنیا میں رکھا ہے وہی خوف عقبیٰ ہے۔ ہادی مطلق مسلمانوں کو ہدایت دے کہ کوئی مسلمان اس ذریعہ سے ٖغافل نہ رہے۔ (آمین) بیع سلم کا بیان حضرت سفیان ثوری ؓ نے بواسطہ مجاہد کے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ یہ آیت بیع سلم کے جائز ہونے کے حکم میں نازل ہوئی ہے۔ کسی چیز کی قیمت پیشگی دے کر وہ چیز کچھ مدت کے بعد لی جائے تو اس کو بیع سلم کہتے ہیں۔ اس کی صراحت فقہ کی کتابوں میں ہے۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بیع سلم میں ناپ تول اور مدت بیع کا معلوم ہونا ضروری ہے۔ زبانی یہ باتیں یاد نہیں رہتیں اس لئے لکھنے کا حکم آیا اور گواہی کے بعد معاملہ پکا ہوجاتا ہے۔ بھول چوک اور انکار کی گنجائش نہیں رہ سکتی۔ کاتب اور گواہوں کو یہ تاکید فرمائی ہے کہ وہ لکھنے اور گواہی کے ادا کرنے میں کوتاہی وخیانت نہ کریں، گواہوں کو جتنی بات معلوم ہو پوری گواہی اس کی ادا کردیں۔ سچی گواہی کے ادا کرنے کے اجر اور جھوٹی گواہی کے وبال میں بہت سی صحیح احادیث آئی ہیں۔ گواہی کے باب میں یہ فرمایا کہ جس شخص پر حق ہوا اگر وہ کم عمر یا کم عقل ہو تو اس کا متولی پوری ایمانداری سے پوری دستاویز لکھوا دیوے۔
Ayah 2:282

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

اے مومنو ! اگر معاملہ کرو تم ایک دوسرے سے قرض کا میعاد مقرر تک تو اس کو لکھ لیا کرو، اور چاہئے کہ تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا لکھے انصاف سے، اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اس کو خدا نے سکھایا ہے پس چاہیے کہ وہ لکھے اور تحریر کرے کہ قرض جو اس کے ذمہ ہے اور چاہئے کہ ڈرے اپنے پروردگار سے اور حق میں سے کچھ کم نہ کرے، پس اگر ہو وے شخص کہ قرض اس کے ذمہ ہے بےعقل یا ناتواں یا قدرت نہیں رکھتا ہے وہ لکھوانے کی پس چاہئے کہ ولی اس کا انصاف سے لکھوائے اور دو گواہ کرلیا کرو اپنے مردوں میں سے، پس اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں کافی ہیں ان میں سے کہ تم رضامند ہو، گواہوں میں سے اگر ایک عورت بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلاوے، اور چاہئے کہ انکار نہ کریں گواہ اس وقت کہ بلائے جائیں، اور کاہلی نہ کرو اس سے کہ حق بات لکھو تھوڑی ہو یا بہت اس کی میعاد تک۔ یہ خدا کے نزدیک انصاف کی بات ہے اس میں بہت ٹھیک گواہی رہتی ہے اور قریب تر ہے اس سے کہ تم شک میں نہ ہو۔ مگر اس وقت کہ ہو وے وہ معاملہ تجارت کا دست بدست کہ اس کو درمیان اپنے (آپس میں) لیتے دیتے ہو، تو نہیں ہے تم پر گناہ اس میں کہ نہ لکھو اس کو اور گواہ کرلو جس وقت کہ خرید فروخت کرو اور چاہئے کہ رنج نہ دیا جاوے لکھنے والے اور نہ گواہ کو، اور اگر تم ایسا کرو گے تو تمہارے لئے تحقیق یہ گناہ ہے، اور ڈرو تم اللہ سے، اور سکھاتا ہے تم کو خدا، اور خدا ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

حضرت آدم (علیہ السلام) کا اقرار کر کے بھول جانا مسند امام احمدبن حنبل میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جس وقت اقرار کو لکھ لینے کا حکم اس آیت میں اترا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے جو اقرار کر کے اپنے اقرار کو بھول گئے ہو حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں ۔ یوم المیثاق میں اللہ تعالیٰ نے ان کی سب اولاد کو جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالا۔ تو ان میں ایک صورت کو بڑا نورانی دیکھ کر حضرت آدم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ یا اللہ ! ” یہ نوارانی صورت کس کی ہے “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تمہارے بیٹے داؤد نبی ہیں حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا :” یا اللہ داؤد (علیہ السلام) کی عمر کتنی ہے “۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” ساتھ برس “۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ : ان کی عمر کچھ اور زیادہ ہوتی تو خوب تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” تم اپنی ہزار برس کی عمر میں سے کچھ ان کو دے دو “۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے چالیس برس اپنی عمر میں سے داؤد (علیہ السلام) کو دینے کا اقرار کیا مگر اپنی روح کے وقت فرشرتہ سے کہا کہ ” ابھی میری عمر کے چالیس بر سباقی ہیں “۔ اس پر فرشتہ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کا قصہ یاد دلایا مگر حضرت آدم (علیہ السلام) اس قصہ کو بھول گئے تھے۔ اس آیت میں اقرار کے لکھ لینے کا جو حکم تھا اس کی تفسیر میں جو آنحضرت ﷺ نے آدم (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے آیت کا یہ مطلب سمجھا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے اقرار کے بعد جو بھول ہوگئی تھی اسی طرح کی بھول چوک روکنے کے لئے لکھ لینے کا یہ حکم ارشادی طور پر اس آیت میں ہے۔
Ayah 2:283

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اور اگر تم سفر میں ہو اور نہ پاؤ لکھنے والے کو پس لازم ہے قرض خواہ کے ہاتھ کوئی چیز گروی کردو، پس اگر تم میں ایک کو دوسرے پر اطمینان ہو تو وہ جیسے اس نے امین سمجھا تھا اپنی امانت ادا کردے اور اللہ سے ڈرنا چاہئے جو اس کا رب ہے، اور گواہی نہ چھپاؤ اور جو گواہی چھپائے گا تو اندر سے اس کا دل گناہ گار ہے، اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے

جب آدمی سفر میں ہوتا ہے تو بلکل اجنبی ہوتا ہے۔ کسی سے جان پہچان کم ہوتی ہے۔ اس سفر کی حالت میں اگر کچھ قرض لینے کی ضرورت ہو تو بغیر کسی چیز کے گروی رکھنے کے نہ کوئی اعتبار کرتا ہے نہ کچھ قرض مل سکتا ہے۔ اس واسطے سفر کا ذکر خاص طور پر فرما کر اللہ تعالیٰ نے گروی کو اس آیت میں جائز فرمادیا ہے۔ ” ولا تکتموالشہادۃ الخ “ کی تفسیر : حضرت ابن عباس ؓ سے ایک حدیث مروی ہے کہ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور جھوٹی گواہی دینا اور گواہی کا چھپانا ہے۔ مسائل القرآن : یہ مستحب ہے کہ حالت سفر میں رہن رکھنا اس آیت سے ثابت ہے۔
Ayah 2:284

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اگر ظاہر کرو تم جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے یا پوشیدہ رکھو تم اس کو تحقیق حساب لے گا تم سے خدا، پس بخشے گا جس کو چاہے گا اور عذاب کرے گا جس کو چاہے گا، اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

دل کے وسوسات کا ذکر : اس آیت میں دل کے وسوسہ پر حساب و عذاب کا حکم آنے سے صحابہ کرام کو بڑا رنج ہوا۔ پھر آنحضرت ﷺ نے ان کو سمجھایا اور کہا کہ یہود اور نصاریٰ کی طرح اللہ کے حکم سے انحراف نہ ہو اور اللہ کا جو حکم ہو اس کو بسرو چشم مان لو۔ اللہ ضرور تم پر رحم کرے گا۔ جب انہوں نے خوشی سے اللہ کا حکم مان لیا و اس سے آگے کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کی تعریف کی اور دل کے وسوسہ پر جو عذاب ک حکم تھا اسے منسوخ فرمادیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دل کے وسوسہ کو معاف کردیا ہے اور صحیح حدیثوں میں یہ بھی ہے کہ جب ظاہر عملوں میں کوئی شخص شیطان کے قابو کا نہیں ہوتا اور شیطان آدمی کو فعلوں میں بہکانے کا موقع نہیں پاتا تو آدمی کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ اس لئے دل میں وسوسوں کا آنا عین ایمان کی نشانی ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان کے وسوسات یاد دلا کر معاف فرمادے گا۔
Ayah 2:285

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

یقین لایا پغمبر اس پر جو کچھ اتارا گیا ہے اس کے پروردگار کی طرف سے اور مومن بھی تمام ایمان لائے خدا پر اور اس کے (سب) فرشتوں پر اور اس کی (سب) کتابوں پر، اور اس کے (سب) پیغمبروں پر بولے : ” فرق نہیں کرتے ہیں ہم درمیان کسی کے اس کے پیغمبروں میں سے اور بو لے سنا ہم نے اور مانا ہم نے تیری بخشش چاہتے ہیں اے پروردگار ہمارے ! اور تیری طرف لوٹنا ہے

اعمال و خواص القرآن : حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص رات کو سورة بقرہ کی یہ دونوں آیتیں اٰمن الرسول سے سورة کے ختم تک پڑھ لے گا اس کی تمام رات کی عبادت اس کے نامہ اعمال میں لکھی جاوے گی۔ مسند امام احمد وغیرہ میں معتبر سند سے جو رویتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عرش معلیٰ کے نیچے اللہ تعالیٰ کا ایک خزانہ ہے اس میں سے یہ دونوں آیتیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائی ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں سورة بقرہ کی یہ آیتیں پڑھی جاویں اس گھر پر شیطان کا اثر پھر باقی نہیں رہتا۔ حاصل مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ جتنے ایماندار لوگ ہیں ان کو اس بات کا پوار یقین ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے، اس کی ذات وصفات میں کوئی اس کا شریک نہیں، اللہ کے سب رسول اور سب آسمانی کتابیں برحق ہیں۔ اللہ کے حکم سے اگرچہ بعضے شریعتیں بعضے شریعتوں سے منسوخ ہو کر، پھر پچھلی سب شریعتیں شریعت محمدی سے منسوخ ہوئی ہیں اور اب قیامت تک یہی شریعت محمدی قائم رہے گی لیکن اپنے اپنے وقت پر وہ سب نبی اللہ کے نبی اور سب کتابیں اللہ کی کتابیں ہیں۔ اللہ کے فرشتے اللہ کی مخلوق ہیں۔
Ayah 2:286

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 2:286 in the Quran reader

خدا کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر، جس نے نیکی کمائی تو اپنے لئے اور جو کچھ گناہ کیا اپنے اوپر، بولے :” اے پروردگار ہمارے ! سزا میں نہ پکڑ ہم کو اگر بھولیں ہم یا خطا کریں ہم، اے پروردگار ہمارے ! اور نہ رکھ ہمارے سر پر بوجھ بھاری جیسا کہ رکھا تو نے اس کو ان لوگوں پر جو ہم سے پہلے تھے، اے پروردگار ہمارے ! اور نہ رکھ ہمارے سر پر وہ چیز جس کی ہم کو برداشت نہیں ہے، اور معاف کر ہمیں اور بخش دے ہم کو، اور مہربانی کر ہم پر، تو ہی ہمارا مولیٰ ہے پس فتح دے ہم کو کافروں کے گروہ پر “

یہ لفظ ان دونوں آیتوں میں دعا کے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سکھائے ہیں کہ وہ اس معبود سے دعا کیا کریں۔