3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمظہر القرآن

Ayah 3:1

الٓمَّٓۙ Open ayah 3:1 in the Quran reader

اللہ نام سے شروع کرتا ہوں جو بخشش کرنے والا مہر بان ہے۔

Ayahs 3:2–3

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

اللہ ہے جس کے سوا کسی کی پوجا نہیں جو زندہ ہے تدبیر کرنے والا عالم کا

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اس نے تم پر یہ کتاب برحق اتاری تصدیق کرنے والی اس کی جو اس سے پہلے ہے اور اس نے اتاری توریت اور انجیل

اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَالْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ اور الٓمّٓ ۔ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ الْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ ۔ ان دونوں آیتوں میں اسم اعظم ہے۔ ان کے پڑھنے کے بعد جو دعا مانگی جاوے قبول ہوتی ہے۔
Ayah 3:4

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

اس سے پہلے لوگوں کی رہنمائی کے واسطے اور نازل کیا فیصلہ تحقیق وہ لوگ کہ منکر ہوئے اللہ کی آیتوں کے ان کے واسطے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا

فضائل القرآن سورة آل عمران مسلم، ترمذی میں حضرت نواس بن سمعان ؓ کی حدیث ہے کہ قیامت کے دن قرآن شریف اور جو لوگ اس پر عمل کرتے تھے سب لائے جائیں گے اور ان سب کے آگے سورة بقرہ اور سورة آل عمران ہوں گی۔ خواص سورة آل عمران : آیۃ المٓ اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم سے الفرقاب تک مشک وگلاب وزعفراب سے لکھ کر ایک نرکل میں جو طلوع آفتاب سے پہلے کاٹا گیا ہو، رکھ کر اس کے منہ پر موم لگا کر بچے کے گلے میں پہنا دیا جائے تو آسیب، ام الصبیان، نظربد اور جمیع حوادث سے محفوظ رہے۔ دیگر ہر ن کی جھلی پر باریک قلم سے لکھ کر نگیین انگشتری کے نیچے رکھ لیا جاوے جو شخص باوضو پہنے جاہ قبولیت حاصل ہو اور دشمن سے محفوظ رہے۔ جو شخص باوضو پانچ مرتبہ ہر نماز کے بعد سورة آل عمران پڑھے، اس کے سب کام آسان ہوں، نیز حاملہ عورت پر اس سورت کو پڑھ کر دم کرے، دردزہ کی تکلیف نہ ہو اور بچہ نیک کردار شعادت اطوار پیدا ہو۔
Ayah 3:5

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

بیشک اللہ پر نہیں کوئی چیز پوشیدہ نہ زمین میں اور نہ آسمان میں

رسول کریم ﷺ کا مباحثہ عیسائیوں سے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے شان نزول : 9 ھ میں عیسائی لوگوں کی ایک جماعت شام ویمن کے مابین ایک نجران بستی تھی، وہاں سے ایلچی بن کر آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تھے اور ان عیسائی لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کا بیٹا ہونے میں بڑا مباحثہ کیا۔ اس پر اس سورة کی اکثر آیتیں نازل ہوئیں۔ اور جب وہ عیسائی لوگ مباہلہ کی آیت سے پہلے آیتوں میں طرح طرح کی جو نصیحتیں تھیں ان کو خیال میں نہ لائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہنے کی ہٹ دھرمی پر اڑے رہے تو آخر مباہلہ کی آیت اتری۔ اور اس آیت کے اترتے ہی حضرت محمد ﷺ حضرت علی وفاطمہ وحسن و حسین رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ساتھ لے کر جنگل میں تشریف لے گئے اور عیسائیوں کو آدمی بھیج کر بلایا۔ لیکن بڑے پادری نے مباہلہ منظور نہیں کیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ نبی سے مباہلہ کرنا بڑی خرابی کی بات ہے اور عیسائیوں نے سالانہ خران دینا منظور کرلیا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ مباہلہ کرتے تو ضرور آسمان سے آگ برستی اور یہ لوگ وہیں جنگل میں جل کر راکھ ہوجاتے۔
Ayah 3:6

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہی ہے کہ تمہاری صورت بناتا ہے ماؤں کے پیٹ میں جیسی کہ چاہتا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں غالب ہے حکمت والا

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ایسا وسیع ہے کہ اس کو آسمان و زمین کی سب غیب کی باتیں معلوم ہیں کوئی بات اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔ اس لئے ماں کے پیٹ میں گورا کالا لڑکا لڑکی نیک وبد سب کچھ اس کے علم کے موافق ہوتا ہے اس کو تقدیر کہتے ہیں۔
Ayahs 3:7–11

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

وہی ہے کہ جس نے تم پر یہ کتاب اتاری بعض اس کی آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں اور کتاب کی اصل ہیں اور دوسری آیتیں وہ ہیں کہ جن کے معنی میں اشتباہ ہے۔ پس وہ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ پیروی کرتے ہیں اشتباہ والی کی اس کتاب سے واسطے تلاش فتنہ کے اور اس کی مراد کا پتہ لگانے کو اور نہیں جانتا ہے مراد اس کی مگر خدا، اور وہ لوگ جو علم میں ثابت قدم ہیں کہتے ہیں :” ایمان لائے ہم ان مشتبہات آیات پر یہ سب ہمارے پروردگار کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے “

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

(کہتے ہیں) ” اے پروردگار ہمارے ! ٹیڑھا نہ کر ہمارے دلوں کو بعد اس کے کہ راہ دکھائی تو نے ہم کو اور عطا کر ہمارے واسطے اپنے پاس نعمت، تحقیق تو ہی ہے عطا کرنے والا

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے پروردگار ہمارے ! بیشک تو اکٹھا کرنے والا ہے سب لوگوں کو اس روز کہ کچھ شبہ نہیں ہے اس میں، بیشک اللہ کا وعدہ نہیں بدلتا

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کہ کافر ہوئے کچھ نہ بچا سکیں گے انہیں ان کے مال اور ان کی اولاد خدا کے عذاب سے، اور وہی دوزخ کے ایندھن ہیں

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

حال ان کا فرعون کے آدمیوں جیسا ہے اور جو کہ پہلے ان سے تھے انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں۔ پس پکڑا ان کو خدا نے ان کے گناہوں کے سبب سے، اور خدا سخت سزا دینے والا ہے

سب سے پہلے یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن شریف میں محکم اور متشابہ کو دو معنی میں اللہ تعالیٰ نے استعمال فرمایا ہے۔ حضرت عبدا اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ قرآن شریف میں جو آیتیں عمل کے لئے نازل ہوئی ہیں وہ محکم ہیں، اور جن سے عمل متعلق نہیں صرف بندوں کا ایمان لانا اللہ کا مقصود ہے۔ جیسے صفات الہٰی کی آیات یا قیامت کے حال کی آیات یا حروف مقطعات یہ سب متشابہ ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے متشابہ آیتوں کا مطلب سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں ہے۔ تم محکم آیتوں پر عمل کرو، متشابہ پر صرف ایمان لاؤ۔ (ابن کثیر و درمنثور)
Ayahs 3:12–13

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

فرمادو کافروں سے کہ تم عنقریب مغلوب ہوجاؤ گے اور دوزخ کی طرف ہانکے جاؤ گے، اور وہ بری جگہ ہے

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader

تحقیق تمہارے واسطے ایک بڑی نشانی ہے (ان) دو گروہ میں جو آپس میں لڑے ایک گروہ خدا کی راہ میں جنگ کرتا تھا اور دوسرے گروہ کے لوگ جو کافر تھے یہ ان کو دیکھتے تھے کہ ان مسلمانوں سے دو چند میں کھلی آنکھوں دیکھنا، اور خدا اپنی مدد سے قوت دیتا ہے جس کا چاہتا ہے، بیشک اس واقعہ میں ایک نصیحت ہے آنکھوں والوں کے لئے۔

دنیا سے نفرت اور آخرت کی ترغیب کا ذکر شان نزول : ابو داؤد اور بیہقی اور تفسیر ابن منذر میں بسند معتبر حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب قریش کو مسلمانوں کے ہاتھ سے جنگ بدر میں صدمہ پہنچا جس کا قصہ سورة انفال میں آوے گا تو اس پر یہود نے آنحضرت سے ذکر کیا کہ قریش اناڑی اور لڑائی سے ناواقف تھے، جس دن آپ سے ہم لوگوں کی لڑائی ہوگئی اس دن قدر کھل جائے گی کہ لڑائی ایسی ہوتی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :” اللہ سچا ہے اور اللہ کا کلام سچا ہے “۔ آخر کو وہی ہوا جو اس آیت میں لکھا تھا اللہ ہمیشہ حق کا مدد گار ہے۔ اس لئے اللہ کی مدد اہل اسلام کو باوجود قلت لشکر اور قلت سامان جنگ کے جو فتح ہوئی وہ کچھ اسی بدر کی لڑائی پر منحصر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اس دین حق کی ہمیشہ ایسی ہی مدد کرے گا۔ اس لڑائی میں مسلمانوں کے کل تین سو تیرہ آدمی تھے اور دو گھوڑے اور چھ زرہیں اور آٹھ تلواریں تھیں۔ اور مشرکین مکہ ہزار کے قریب تھے اور لڑائی کا سامان بھی ان کے پاس بہت کچھ تھا۔ اس صورت میں دشمنوں کی فوج اگرچہ مسلمانوں کی تین گنی تعداد سے بھی زیادہ تھی لیکن اللہ تعالیٰ دوگنی دکھاتا تھا کہ خوف نہ کھاویں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح دی۔ اس سے چاہئے کہ سب کافر عبرت پکڑیں۔
Ayahs 3:14–16

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ Open ayah 3:14 in the Quran reader

مردوں کے لئے آراستہ کی گئی ہے خواہشات کی محبت عورتیں اور بیٹے اور خزانے جمع کئے گئے سونے اور چاندی کے اور نشان کئے ہوئے گھوڑے اور چار پائے اور کھیتی، یہ سب سامان زندگانی دنیا کا (ہے) اور اللہ کے ہاں بہت عمدہ رہنے کی جگہ ہے

قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ Open ayah 3:15 in the Quran reader

تم فرماؤ اے محبوب ! ﷺ کیا خبر دوں میں تم کو اس سے بہترین چیز کی کہ پرہیز گاروں کے لئے ان کے پروردگار کے یہاں بہت سے باغ ہیں کہ جاری ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے اس میں اور ہوں گی عورتیں پاکیزہ اور ہوگی خوشنودی اللہ کی طرف سے اور اللہ دیکھتا ہے بندوں کے حال کو

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ Open ayah 3:16 in the Quran reader

جو لوگ کہتے ہیں :” اے پروردگار ہمارے ! بیشک ہم ایمان لائے پس تو ہمارے گناہ معاف کر اور ہم کو بچا عذاب دوزخ سے “

صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جنت میں وہ وہ نعمتیں ہیں جن کا حال دنیا میں نہ کسی نے آنکھ سے دیکھا، نہ کسی کان سے سنا، نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے۔ دنیا میں آدمی دنیا کی نعمتوں کی کبھی ناشکری کرتا ہے جس کے سبب سے اللہ کی ناخوشنودی ہو کر دنیا کی نعمتوں میں کمی ہوجاتی ہے۔ جنت میں شروع کی تکلیف کے نہ ہونے سے اللہ تعالیٰ کی ناخوشی کا کھٹکا جنتیوں کو نہیں۔ اس لئے جنت کی نعمتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہمیشہ کی رضا مندی کا ذکر اس آیت میں فرمایا ہے جو سب سے بڑھ کر ایک نعمت ہے۔ انسان کو دنیا کی نعمتوں پر اس قدر گرویدہ نہیں ہونا چاہئے جس سے دین کے کاموں میں فتور پڑ کر جنت کی نعمتوں سے محروم رہ جاوے۔ چناچہ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے آیت کو واللہ بصیر بالعباد پر ختم کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جنت کی نعمتیں ہر شخص کو اس کے عمل کے موافق ملیں گی۔
Ayah 3:17

اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ Open ayah 3:17 in the Quran reader

صبر کرنے والے اور سچ بولنے والے اور فرمابرداری کرنے والے اور (راہ خدا میں) خرچ کرنے والے اور بخشش مانگنے والے پچھلے پہرے میں

دعا کی مقبولیت کا وقت جن کے قول اور ارادے سچے ہوں اس میں آخر شب میں نماز پڑھنے والے بھی داخل ہیں، اور وقت سحر دعا و استغفار والے بھی۔ یہ وقت خلوت واجابت دعا کا ہے۔ چناچہ صحیحین وغیرہ میں صحابہ کی ایک جماعت سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ تہائی رات باقی رہے ہر رات کو اللہ تعالیٰ اول آسمان پر نزول فرما کر یہ فرماتا ہے کہ کوئی دعا یا استغفار کرنے والا ہو تو اس کی دعا اور توبہ قبول کرنے کو اور کوئی کچھ حاجت رکھتا ہو تو اس کی حاجت روائی کو میں موجود ہوں۔
Ayahs 3:18–20

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ Open ayah 3:18 in the Quran reader

گواہی دی خدا نے یعنی آشکار کیا یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور عالموں نے انصاف سے قائم ہو کر کہ خدا کہ خدا تدبیر کرنے والا عالم کا ہے انصاف سے۔ نہیں کوئی معبود مگر وہ غالب حکمت والا

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:19 in the Quran reader

تحقیق دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے اور اختلاف نہ کیا ( یعنی قبول اسلام میں) اہل کتاب نے مگر بعد اس کے کہ آیا ان کے پاس علم اپنے دلوں کے حسد سے، اور جو کوئی منکر ہو خدا کی آیتوں سے پس تحقیق خدا جلد حساب کرلینے والا ہے

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

پس اے محبوب ! ﷺ اگر وہ تم سے جھگڑا کریں پس فرما دو میں اپنا منہ اللہ کے حضور میں جھکائے ہوں اور جس نے میری پیروی کی اور فرماؤ اہل کتاب اور ان پڑھوں سے :” کیا تم اسلام لاتے ہو “ پس اگر وہ ایمان لائے تحقیق راہ پاگئے، اور اگر منہ پھیرلیا پس سوائے اس کے نہیں کہ تم پر لازم پیغام پہنچانا ہے، اور اللہ دیکھ رہا ہے بندوں کے حال کو۔

اس آیت کے نازل ہونے پر 360 بتوں کا گر جانا شان نزول : احبار شام میں سے دو شخص رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب انہوں نے مدینہ طیبہ دیکھا تو ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ نبی آخر الزماں کے شہر کی یہی صفت ہے جو اس شہر میں پائی جاتی ہے “۔ جب حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے توبموجب توریت کے حضور کو پہچان لیا اور عرض کیا :” آپ محمد ﷺ ہیں “ حضور ﷺ نے فرمایا :” ہاں “۔ پھر عرض کیا :” کیا آپ احمد ہیں “ ۔ ۔۔ ۔ فرمایا :” ہاں ! “۔ ۔۔ ۔ پھر عرض کیا :” ہم ایک سوال کرتے ہیں اگر آپ نے ٹھیک جواب دے دیا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے “۔ فرمایا :” سوال کرو “۔ انہوں نے عرض کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے بڑی شہادت کون سی ہے “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس کو سن کر دونوں مسلمان ہوگئے۔ حضرت سعید بن جبیر ؓ سے مروی ہے کہ کعبہ شریف میں تین سو ساٹھ بت تھے۔ جب مدینہ طیبہ میں یہ آیت نازل ہوئی تو کعبہ شریف کے اندر وہ سب سجدہ میں گر گئے۔ یہود ونصاریٰ وغیرہ کفار جو اپنے دین کو افضل اور مقبول کہتے ہیں اس آیت میں ان کے دعوے کو باطل کردیا۔ یہ آیت یہود ونصاریٰ کے حق میں وارد ہوئی۔ جہنوں نے اسلام کو چھوڑا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نبوت میں اختلاف کیا وہ اپنی کتابوں میں حضور کی صفات دیکھ چکے اور انہوں نے پہچان لیا کہ وہ نبی ہیں جن کی خبریں کتب میں دی ہوئی ہیں۔ ان کے اختلاف کا سبب ان کا حسد اور منافع دنیویہ کی طمع ہے۔ میں اور میرے متبعین ہمہ تن اللہ تعالیٰ کے فر مابردار ہیں۔ ہمارا دین، دین توحید ہے جس کی صحت تمہاری خود اپنی کتابوں سے بھی ثابت ہوچکی ہے۔
Ayahs 3:21–22

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

اور جو لوگ کہ منکر ہوتے ہیں خدا کی آیتوں کے اور شہید کر ڈالتے ہیں پیغمبروں کو ناحق، اور قتل کرتے ہیں ان کو جو انصاف کا حکم کرتے ہیں لوگوں میں پس خبردو ان کو عذاب دکھ دینے والے کی

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

یہ لوگ وہ ہیں کہ مٹ گئے اعمال ان کے دنیا میں اور آخرت میں اور نہیں ان کو کوئی مدد دینے والا۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی جناب میں بےادبی کفر ہے اور یہ بھی کہ کفر سے تمام اعمال اکارت ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 3:23–25

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا کہ جن کو دیا گیا ایک حصہ علم کتاب کا ان کو اللہ کی کتاب کی طرف اس لئے بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے۔ پس منہ پھیر لیتا ہے ایک گروہ ان میں سے اور وہ توریت کے حکم کے ماننے سے منہ موڑتے ہیں۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader

یہ اس سبب سے ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہر گز نہ پہنچے گی ہم کو دوزخ کی آگ مگر چند روز گنتی کے اور فریب دیا ہے ان کو ان کے دین میں اس جھوٹ نے جو بانھتے تھے

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader

تو کیا حال ہوگا اس وقت کہ جب اکٹھا کریں گے ہم ان کو اس دن کہ کچھ شک نہیں ہے، اس میں اور پورا دیا جائے ہر شخص کو بدلہ جو عمل کیا اور وہ نہ ظلم کئے جائیں گے

شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ اور چند یہود کا ایک مدرسہ میں آمنا سامنا ہوا۔ آپ نے ان کو اسلام کی دعوت دی۔ اس پر دو شخص نعیم بن عمر اور حارث بن زید نے آپ سے پوچھا کہ آپ کس دین پر ہیں۔ آپ نے فرمایا :” میں ملت ابراہیمی پر ہوں “۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم تو خود دین یہود پر تھے۔ پھر آپ ہم میں سے کون سا دین اختیار کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا :” اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دین یہود پر تھے تو توریت میں کہیں اس کا ذکر ہوگا اگر تم سچے ہو تو توریت لا کر دکھاؤ “۔ دونوں شخصوں نے توریت لانے سے انکار کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہود کو قائل کرنے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ لوگ توریت کے بھی پابند نہیں ہیں۔ آگے کی آیت میں یہود کا ایک اور جھوٹ ظاہر کیا کہ یہ لوگ جو کہتے ہیں ہم کو چند روز کے واسطے دوزخ میں رہنا ہوگا تو یہ بات بھی توریت کے خلاف ہے اور اس جھوٹے عقیدے نے ان کو دوزخ سے بےخوف کردیا ہے لیکن آخرت میں ان کو سب حال کھل جائے۔
Ayahs 3:26–27

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader

یوں عرض کرو :” اے اللہ ملک کے مالک ! تو جس کو چاہتا ہے باشاہی دیتا ہے اور چھین لیتا ہے تو بادشاہی جس کی چاہے، اور عزت دیتا ہے تو جس کو چاہے اور ذلت دیتا ہے تو جس کو چاہے، تیرے ہی ہاتھ میں بھلائی ہے، تحقیق تو ہر چیز پر قادر ہے۔

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader

داخل کرتا ہے تو رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے تو دن کو رات میں، نکالتا ہے تو زندہ کو مردہ سے (جیسے بیضہ سے بچہ) اور نکالتا ہے تو مردہ کو زندہ سے (جیسے پرندے سے بیضہ) اور روزی دیتا ہے تو جس کو چاہے بیشمار

اسم اعظم کی آیت : قتادہ سے ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے ملک روم وفارس اپنی امت کے قبضہ میں آجانے کی ایک روز دیا کی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اپنے نبی کی تسکین فرمائی کہ روم وفارس کیا چیز ہے، اس پاک ذات کے دست قدرت میں بڑے بڑے متصرفات ہیں۔ کبھی راتیں بڑی ہیں کبھی دن۔ کبھی نبوت بنی اسرائیل میں تھی آج بنی اسماعیل میں ہے۔ وہ صاحب تصرف جو چاہے کرسکتا ہے۔ چناچہ پھر ایسا ہی ہوا کہ بڑے بڑے ملک آپ کے اور آپ کی امت کے قبضہ میں آگئے۔ طبرانی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسم اعظم اسی آیت میں ہے جو کوئی شخص اس آیت کو پڑھے گا اس پر اگر احد پہاڑ کے برابر قرضہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ وہ ادا کرا دیوے گا۔
Ayahs 3:28–30

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader

چاہئے کہ دوست نہ رکھیں مسلمان کافروں کو سوائے اہل ایمان کے اور جو کوئی ایسا نہیں کرے گا پس نہیں اللہ سے (کچھ علاقہ) کسی چیز میں مگر یہ کہ تم ان کے شر سے بچاؤ کی صورت پیدا کرو، اور ڈراتا ہے تم کو خدا اپنے غضب سے، اور خدا کی طرف لوٹنا ہے

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

تم فرماؤ :” اگر تم چھپاؤ گے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے یا تم اس کو ظاہر کرو گے اللہ اس کو جانتا ہے، اور جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور خدا ہر چیز پر قادر ہے “

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader

جس دن ہر شخص اس کو موجود پائے گا جو کچھ عمل کیا ہے بھلائی سے، اور جو کچھ کیا ہے برائی سے، تمنا کرے گا :” کاش ! اس کے درمیان اور بدی کے درمیان دور کا فاصلہ ہوتا “ ، اور ڈراتا ہے تم کو اللہ اپنے غضب سے، اور خدا بندوں پر بہت مہربان ہے

کافروں سے دوستی کا حال : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے کہ مسلمانوں کو کافروں سے دوستی نہیں رکھنی چاہیے۔ کیونکہ اللہ کی محبت اور کافروں کی محبت ایک جگہ ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتی۔ ہاں اگر ایسا ہی کہیں جان کا خوف ہو تو ظاہر میں ان سے دفع ضرر کے لئے میٹھی بات کرلی جاوے مگر دلی دوستی ان سے نہ رکھی جائے۔
Ayah 3:31

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

اے محبوب ﷺ تم فرمادو :” اگر دوست رکھتے ہو خدا کو پس تم میری پیروی کرو تاکہ خدا تم کو دوست رکھے اور تمہارے گناہ معاف کردے، اور خدا بخشنے والا مہربان ہے “

اللہ کی محبت کا دعویٰ کرنے کا ذکر صحیحین میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایت ہے اس میں آنحضرت ﷺ نے صاف فرما دیا ہے کہ میری اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے اور میری نافرمانی عین اللہ کی نافرمانی ہے۔ اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوگیا کہ کوئی طریقہ جس میں رسول ﷺ کی اطاعت نہ پائی جائے خواہ کسی قدر محبت الہٰی کے جوش کے دعوے کا ہو ہر گز اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول نہیں ہے۔
Ayah 3:32

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

تم فرمادو کہ نافرمانبرداری کرو اللہ کی اور رسول کی، پس اگر وہ نہ مانیں تو خدا بھی دوست نہ رکھے گا کافروں کو

اللہ تعالیٰ نے رسولوں (علیہم السلام) کو دنیا میں اسی واسطے بھیجا ہے کہ وہ تم کو اللہ تعالیٰ کی مرضی اور نامرضی کی باتیں بتلا دیں اور ان کے ذریعہ سے اللہ کے حکم جو تم پر آتے ہیں وہ تم کو سنا دیں۔
Ayahs 3:33–34

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

تحقیق خدا نے چن لیا آدم کو اور نوح کو اور ابراہیم کی آل کو اور عمران کی آل کو سارے جہاں پر

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

اس حالت میں کہ یہ جماعت ایک نسل تھی جو ایک دوسرے سے پیدا ہوئی، اور خدا سننے والا جاننے والا ہے

اس آیت میں رسولوں کے انتخاب کا سلسلہ بیان فرمایا۔ پہلے نبی آدم (علیہ السلام) تھے جن سے سب انبیاء اور امتوں کا سلسلہ دنیا میں چلا۔ لیکن حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) کے نبی ہونے تک کوئی حرام و حلال کی شریعت نہیں تھی۔ چناچہ شفاعت کی صحیح حدیث میں حضرت محمد ﷺ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اول صاحب شریعت نبی فرمایا، دوسرے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جن دو شاخیں ایک شاخ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی جس میں بنی اسرائیل ہیں اور ان میں آنحضرت ﷺ کے زمانہ تک رہی اور دوسری شاخ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی جس میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور اس آیت میں عمران کے ذکر کے بعد حضرت مریم سلام اللہ علیہما اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ اس لئے آیت میں حضرت مریم کے والد عمران ثانی کا ذکر معلوم ہوتا ہے۔ ان دونوں عمرانوں کا اٹھارہ سو برس کے قریب کا فاصلہ ہے۔ اس میں اہل کتاب اور مشرکین عرب دونوں کو تنبیہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شاخوں میں اگرچہ یہ دونوں ہیں مگر ان کے طریقہ پر دونوں میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔
Ayahs 3:35–36

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

جس وقت کہ کہا عمران کی بیوی نے :” اے پروردگار میرے ! تحقیق میں نے نذر مانی ہے تیری جو کچھ میرے پیٹ میں ہے خالص تیری ہی خدمت میں رہے، پس قبول کر مجھ سے، بیشک تو ہے سننے والا جاننے والا “

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

پس جب لڑکی جبی تو بولی :” اے پروردگار میرے ! جنی میں نے یہ لڑکی، اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ میں نے جنا، اور نہیں ہے لڑکا مانند لڑکی کے، اور میں نے اس کا نام مریم رکھا اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے “

حضرت مریم کی ماں کا نام حنہ تھا، یہ بانجھ تھیں۔ اللہ تعالیٰ سے بچہ پیدا ہونے کی دعا کی اور نذر مانی کہ جب بچہ پیدا ہوگا تو اس کو بیت المقدس کا خادم بنایا جائے گا۔ اتفاق سے لڑکی پیدا ہوئی اور لڑکی کو بیت المقدس کی خادمہ بنانے کا دستور نہ تھا۔ اس پر انہوں نے افسوس سے وہ باتیں منہ سے نکالیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ مگر انہوں نے خواب دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے بجائے لڑکے کے اس لڑکی کو نذر میں قبول کرلیا۔ پھر حضرت مریم (علیہا السلام) کو بیت المقدس کے خادموں کے سپرد کرکے اپنا خواب ظاہر کیا جس کو خادموں نے منظور کرلیا۔ صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر بچہ کی پیدائش کے وقت شیطان بچہ کے پہلو میں ایک انگلی چبھوتا ہے جس سے بچہ روتا ہے۔ حضرت مریم سلام اللہ علیھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس سے محفوظ رہے۔
Ayah 3:37

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

پس قبول کیا مریم کو اس کے پروردگار نے اچھی طرح سے اور پرورش کی اس کی اچھی طرح سے، اور اسے زکریا (علیہ السلام) کی نگہبانی میں دے دیا، جب زکریا اس کے پاس (محراب) مسجد میں آتے تو اس کے پاس نیا رزق پاتے، کہا اے مریم ! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا “ بولیں :” وہ اللہ کے پاس سے ہے بیشک اللہ روزی دیتا ہے بےحساب جس کو چاہتا ہے “

اس آیت میں اولیاء کی کرامت کا ثبوت ہے۔ اکثر احادیث سے بھی اس کا ثبوت پایا جاتا ہے۔ (محراب عبادت خانہ کو کہتے ہیں) ۔