3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 3:38–41

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

اس وقت دعا کی زکریا نے اپنے رب سے کہا :” اے پروردگار میرے ! عنایت کر مجھ کو اپنے پاس سے ستھری اولاد بیشک تو ہی دعا کا سننے والا ہے “

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

پس فرشتوں نے اسے آواز دی اور وہ محراب میں کھڑا نماز ادا کر رہا تھا :” تحقیق خدا تجھ کو خوشخبری دیتا ہے یحییٰ کی کہ تصدیق کرنے والا ہوگا خدا کے ایک کلمہ کی اور سردار (ہوگا) اور ہمیشہ کے لئے عورتوں سے بچنے والا اور ایک پیغمبر صالحوں میں سے

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

کہا :” اے پروردگار میرے ! کہاں سے لڑکا پیدا ہوگا مجھ پر تو بڑھاپا آگیا اور میری بیوی بانجھ ہے “ فرمایا :” یوں ہی خدا کرتا ہے جو چاہتا ہے “

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

(زکریا نے) کہا :” اے پروردگار ! مقرر کر واسطے میرے (کوئی) نشانی “ فرمایا :” نشانی تیری یہ ہے کہ نہ بات کرسکے گا تو لوگوں سے تین روز مگر اشارہ سے اور یاد کر اپنے پروردگار کو بہت اور تسبیح کر شام اور صبح “

حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے باوجود بانجھ ہونے کے حضرت مریم کی ماں کو صاحب اولاد کیا۔ اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو خلاف عادت بےفصل کا میوہ عنایت فرمایا تو مجھ کو بڑھاپے میں اور میری بیوی کو بانجھ پن میں اگر وہ صاحب قدرت اولاد عطا فرمائے تو اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں۔ اسی خیال سے وہیں حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے عبادت خانہ میں انہوں نے اولاد کی دعا کی اور وہ قبول ہوئی۔
Ayahs 3:42–43

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

اور اس وقت کہ کہا فرشتوں نے :” اے مریم ! بیشک اللہ نے تجھے چن لیا اور پاک کیا اور تجھ کو سارے جہان کی عورتوں سے پسند کیا

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

اے مریم فرمانبرداری کرتی رہ اپنے پروردگار کی اور سجدہ کیا کر اور نمازیوں کے ساتھ نماز ادا کر

حضرت مریم کو یہ خوشخبری جو دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پسند کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے پہلے خدا تعالیٰ نے یہ مرتبہ کسی عورت کو نہیں دیا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو اور عورتوں کی طرح ہمیشہ کے حیض کی عادت نہیں تھی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حمل سے پہلے صرف دو دفعہ ان کو عمر بھر میں حیض آیا۔ عبادت کا حکم سن کر حضرت مریم اس قدر عبادت کیا کرتی تھیں کہ ان کے پاؤں سوج جاتے تھے۔
Ayah 3:44

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

اے محبوب ! ﷺ یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم وحی کے ذریعہ تمہیں بتاتے ہیں اور تم اس قوم کے پاس نہ تھے جب ڈالتے تھے (بطور قرعہ) اپنی قلموں کو کہ مریم کس کی پرورش میں رہے اور تم ان کے پاس نہ تھے جس وقت کہ آپس میں وہ گفتگو کرتے تھے

قرعہ ڈالنے کا طریقہ اور اس کا جائز ہونا صحیح حدیثوں سے قرعہ کا جائز ہونا ثابت ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل میں قرعہ ڈالنے کا طریقہ یہ تھا کہ کسی کام میں جب یہ بحث آن کر پڑتی کہ اس کام کون کرے تو وہ لوگ نہروں پر جاکر توریت کے لکھنے کے اپنے اپنے قلم بہتے پانی میں ڈالتے تھے۔ جس کا قلم بہاؤ کو چھوڑ کر الٹا بہنے سے رک کر ٹھہر جاوے تو وہی شخص اس کام کو کرتا تھا۔ جب حضرت مریم سلام اللہ علیہا کی ماں نے اپنی نذر کے موافق حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو بیت المقدس میں لائیں تو بیت المقدس کے مجاوروں سے اپنا خواب بیان کیا تو سب چاہنے لگے کہ مریم سلام اللہ علیہا کو ہم پالیں۔ آخر رواج کے موافق زکریا (علیہ السلام) کا قلم پانی کے بہاؤ کو چھوڑ کر الٹا بہا۔ اس لئے حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے پالنے کے وہی مستحق اور حق دار ٹھہرے۔
Ayahs 3:45–47

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

اور یاد کرو اس وقت کو کہ کہا فرشتوں نے : ” اے مریم ! بیشک اللہ بشارت دیتا ہے تجھ کو ایک کلمہ کے ساتھ اپنی جانب سے کہ نام اس کا مسیح عیسیٰ ہے مریم کا بیٹا آبرو والا دنیا میں اور آخرت میں اور خدا کے مقرب لوگوں میں سے ہوگا

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

اور لوگوں سے باتیں کرے گا پالنے میں اور بڑی عمر میں اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا “

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

مریم نے کہا :” اے پروردگار میرے ! کیونکر ہوگا میرے بیٹا کیونکہ مجھ کو تو کسی آدمی نے ہاتھ بھی نہیں لگایا “ فرمایا خدا یوں ہی پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے جب کسی کام کا حکم فرمائے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہوجا، پس (وہ فوراً ) ہوجاتا ہے “

کلمہ سے مراد حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے کن فرما کر بغیر باپ کے پیدا کیا اور ان پر سب سے پہلے ایمان لانے والے اور ان کے تصدیق کرنے والے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے عمر میں چھ ماہ بڑے تھے۔ یہ دونوں حضرات خالہ زاد بھائی تھے۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی والدہ اپنی بہن حضرت مریم سلام اللہ علیہا سے ملیں تو انہوں نے اپنے حاملہ ہونے پر مطلع کیا۔ حضرت مریم (علیہا السلام) نے فرمایا :” میں بھی حاملہ ہوں “۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے کہا : ” اے مریم ! (سلام اللہ علیہا) مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میرے پیٹ کا بچہ تمہارے پیٹ کے بچہ کو سجدہ کرتا ہے “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا ذکر اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حمل سے پہلے حضرت مریم کو دو حیض آئے تھے۔ ان میں سے آخری حیض سے فارغ ہو کر جب وہ سب سے الگ نہانے کو گئیں ، اور پردہ کرکے نہانے لگیں تو ایک خوبصورت مرد کی شکل میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ان کو نظر آئے۔ حضرت مریم سلام اللہ علیہا نے ان کو دیکھ کر یہ کہا کہ اے شخص ! اگر تو پرہیز گار آدمی ہے تو میں تیرے بد ارادہ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ اے مریم ! (سلام اللہ علیہا) میں تو تیرے رب کی طرف سے تجھ کو ایک بڑی شان کے لڑکے کے پیدا ہونے کی خوشخبری دینے آیا ہون حضرت مریم سلام اللہ علیہا نے کہا کہ میرے یہاں لڑکا کیونکر پیدا ہوگا۔ مجھ کو تو کسی مرد نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ کا حکم یوں ہی ہے کہ بغیر باپ کا ایک لڑکا تمہارے ہاں پیدا ہو کر اللہ کی قدرت کی ایک نشانی دنیا میں لوگوں کو نظر آوے۔ یہ کہ کر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی روح حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے جسم میں پھونک دی اور حضرت مریم کو حمل رہ گیا۔ اور وقت مقررہ پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔
Ayah 3:48

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

اور اللہ اسے سکھائے گا کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل

حکمت سے مراد تہذیب واخلاق ہے
Ayah 3:49

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور کرے گا اس کو پیغمبر طرف بنی اسرائیل کے اس دعوے کے ساتھ کہ لایا ہوں میں تمہارے سامنے نشانی تمہارے پروردگار کی طرف سے، یہ کہ بناتا ہوں تمہارے واسطے مٹی سے پرند کی سی مورت پھر اس میں پھونک مارتا ہوں پس ہوجاتا ہے اڑنے والا خدا کے حکم سے، اور اچھا کرتا ہوں میں مادر زاد اندھے کو اور سفید داغ والے کو اور زندہ کرتا ہوں میں مردوں کو خدا کے حکم سے اور خبر دیتا ہوں میں تم کو اس چیز کی جو تم کھاتے ہو اور جو ذخیرہ اپنے گھروں میں رکھتے ہو، تحقیق اس میں بڑی نشانی ہے تمہارے واسطے اگر تم ایمان والے ہو

اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس زمانے کے موافق معجزہ دیا ہے چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جادو کا کیونکہ اس زمانہ میں جادو کا بہت زور تھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طبیبوں کا بڑا زور تھا۔ اس واسطے ان کو ویسا ہی معجزہ دیا کہ مردہ کو جلانا تو در کنار مادر زاد اندھے اور بدن کے اوپر سفید داغ والے کو بھی طبیب اچھا نہیں کرسکتا اور نہ کوئی طبیب یہ بتلا سکتا ہے کہ بیمار نے کل کیا کھایا تھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ سب کچھ کھول کر کہہ دیتے تھے۔ جس سے طبیب حیران تھے۔ اسی طرح نبی آخر الزماں کے زمانہ میں عربی زبان کی فصاحت وبلاغت کا بڑا زور تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان ان فصیح وبلیغ لفظوں میں قرآن اتارا کہ کسی سے ایک آیت بھی نہ بن سکی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بڑے خوشنویس تھے اور توریت انجیل ان کو زبانی یاد تھی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے لوگوں کی درخواست پر چگادڑ کی صورت بنائی۔ پھر اس میں پھونک ماری تو وہ اڑنے لگی۔ یہ نمونہ نبوت کا تھا۔
Ayah 3:50

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

اور تصدیق کرتا آیا ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی اور آیا ہوں میں تاکہ حلال کروں تمہارے واسطے بعض وہ چیز جو حرام کی گئی تھی تم پر اور لایا ہوں میں تمہارے پاس نشانی تمہارے پروردگار سے پس ڈرو خدا سے اور میرا کہا مانو

بعضی چیزیں جو یہود پر ان کی شرارت کے سبب سے حرام تھیں، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر ان چیزوں کو اللہ کے حکم سے حلال کردیا۔ جس سے بہ نسبت موسوی کے شریعت عیسوی بہت آسان ہوگئی۔
Ayah 3:51

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

بیشک میرا تمہارا سب کا رب اللہ ہے پس اسی کی عبادت کرو، یہ (ہی) ہے راہ سیدھی

اس آیت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے سیدھا راستہ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کو بتلایا۔ جس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کی عبادت میں شریک ٹھہراتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔
Ayahs 3:52–53

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

پس جب کہ عیسیٰ نے اپنی قوم (یعنی یہودیوں) میں کفر پایا تو کہا : ” کون میری مدد گار ہوتے ہیں اللہ کے واسطے “ حواریوں نے کہا :” ہم ہیں مدد دینے والے اللہ کے دین کے “ ایمان لائے ہم خدا پر اور آپ گواہ ہوجائیں کہ ہم فرمابردار ہیں

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

اے پروردگار ہمارے ! ہم ایمان لائے اس پر جو اتارا تو نے اور پیروی کی ہم نے پیغمبر کی پس لکھ ہم کو حق پر گواہی دینے والوں میں

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان پر جانا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بارہ شخص جو ایمان لائے تھے ان کو حواری کہتے ہیں۔ حواری کے معنی : ” مددگار “ کے ہیں۔
Ayah 3:54

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ Open ayah 3:54 in the Quran reader

اور ان کافروں نے برا ارادہ کیا اور اللہ نے ہلاک کی خفیہ تدبیر کی اور خدا سب سے بہتر چھپی تدبیر کرنے والا ہے

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان پر جانا یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دشمن ہوگئے اور اس وقت کے بادشاہ سے مل کی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل پر آمادہ ہوگئے۔ یہاں تک کہ موقع پاکر ان کے مکان کو گھیر لیا۔ اسی وقت خدائے تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تو آسمان پر اٹھا لیا اور یہود کے ایک آدمی میں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شکل پیدا کردی اور یہود نے اسی شخص مشابہ عیسیٰ کو عیسیٰ سمجھ کر سولی پر چڑھا دیا۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفوں کے مکروفریب کو ایک حکمت وتدبیر سے نیست ونابود کیا ہے اسی کو مقابلہ کلام کے طور پر، مکرا اللہ فرمایا ہے۔ مسئلہ : لفظ ” مکر “ لغت عرب میں ستراً یعنی پوشیدگی کے معنی میں ہے۔ اسی لئے خفیہ تدبیر کو بھی کہتے ہیں، اور وہ تدبیر اگر اچھے مقصد کے لئے ہو تو محمود اور اگر کسی قبیح غرض کے لئے ہو تو مذموم ہوتی ہے۔ مگر اردو زبان میں یہ لفظ فریب کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے اس لئے ہر گز شان الہٰی میں نہ کہا جائے گا۔
Ayahs 3:55–58

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 3:55 in the Quran reader

جب کہ خدا نے کہا : ” اے عیسیٰ ! البتہ میں تجھے پوری عمر تک پہنچاؤں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور پاک کرنے والا ہوں تجھ کو ان کافروں کی صحبت سے اور کرنے والا ہوں میں تیرے تابعداروں کو اونچا کافروں پر یعنی غالب دن قیامت تک پھر تم سب پلٹ کر میری طرف آؤ گے۔ پس میں تم میں فیصلہ کردوں گا جس بات میں اختلاف کرتے تھے “

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:56 in the Quran reader

پس وہ جو کافر ہوئے پس میں سزا کروں گا ان کو سخت عذاب سے دنیا میں اور آخرت میں، اور نہیں ہوگا ان کے واسطے کوئی مدد دینے والا

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:57 in the Quran reader

اور جو لوگ کہ ایمان لائے اور کام کئے اچھے پس پورے پورے دے گا ان کو خدا ان کا ثواب، اور خدا دوست نہیں رکھتا ہے ظالموں کو

ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ Open ayah 3:58 in the Quran reader

یہ کچھ آیتیں ہم تم پر پڑھتے ہیں اور حکمت والی نصیحت ہے

حضرت ابوہریرہ ؓ کی متفق علیہ کی حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پھر دنیا میں آویں گے اور اس باب میں اور بہت سی حدیثیں ہیں۔ اسی طرح ابو داؤد اور حاکم کی ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دنیا میں دوبارہ آنے کے بعد پھر ان کی وفات ہوگی، اور اس وقت کے مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھایا تو حضرت عیسیٰ کی حالت نیند کی سی تھی ۔ انہی مفسروں کا قول صحیح معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ تمہارے تابع قیامت تک یہود پر غالب رہیں گے۔ اس کا ظہور اب موجود ہے کہ ہر شہر میں یہود بلکل بلا حکومت اور عیسائی یا مسلمانوں کے زیر حکومت ہیں۔ اس آیت میں قیامت کے دن جس اختلاف کے فیصلہ کا ذکر ہے اس میں وہ بھی داخل ہے جو قسطنطین بادشاہ نے اصلی عیسائی دین میں طرح طرح کا اختلاف ڈالا ہے۔ آخر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی نبوت کی تصدیق اس طرح کی ہے جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گزرا۔
Ayahs 3:59–63

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:59 in the Quran reader

بیشک خدا کے نزدیک عیسیٰ کا حال آدم کے حال کی مثال ہے پیدا کیا اس کو مٹی سے پھر کہا اس کو ” ہوجا “ پس وہ ہوگیا (یعنی انسان)

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 3:60 in the Quran reader

(اے سننے والے) یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے پس نہ ہو تو شک لانے والوں میں سے

فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 3:61 in the Quran reader

پس ( اے محبوب) جو کوئی تم سے عیسیٰ کے بارے میں جھگڑا کرے بعد اس کے کہ تمہیں علم آچکا تو ان سے فرمادو آؤ بلاویں ہم اپنے فرزندوں کو اور تمہارے فرزندوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو اور پنی ذات کو اور تمہاری ذات کو پس ہم سب رو کر دعا کریں ( یعنی مباہلہ) اور خدا کی لعنت ڈالیں جھوٹ بولنے والوں پر

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:62 in the Quran reader

بیشک یہی ہے سچی خبر اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے خدا کے اور بیشک خدا غالب ہے مضبوط کام والا

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 3:63 in the Quran reader

پس اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ جاننے والا ہے مفسدوں کا

مباہلہ (یعنی بحث) شان نزول : نصاریٰ نجران کے سرغنہ اور پادری لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس بحث کو آئے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو اسلام لانے کو کہا۔ انہوں نے کہا : ” ہم تو پہلے سے اسلام لا چکے ہیں “۔ آپ نے فرمایا :” تم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے ہو اور مریم کی تصویروں کی اور صلیب کی پوجا کرتے ہو۔ یہ باتیں تمہارے دین میں کب جائز ہیں “۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اگر خدا کے بیٹے نہیں تو بتلاؤ دنیا میں کون ان کا باپ ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ جس طرح بےماں باپ کے حضرت آدم (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے، اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ بددعا کرنے طریقہ جو ہے دونوں فریق مسلمان ونصاریٰ جنگل میں جا کر اس جاری کریں، جھوٹا گروہ خود وبال میں پھنس جاوے گا۔ یہ سن کر آنحضرت ﷺ سے کل کا وعدہ کیا۔ دوسرے روز آنحضرت ﷺ حضرت علی اور حسنین اور فاطمہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ساتھ لے کر جنگل میں جاکر جھوٹے گروہ پر بددعا کرنے کے لئے تیار ہوگئے اور اپنے ساتھیوں سے یہ کہا کہ جب میں بددعا کروں تو تم سب آمین کہنا۔ نجران کے سب سے بڑے نصرانی پادری نے جب ان حضرات کو دیکھا تو کہنے لگا کہ اے جماعت نصاریٰ ! میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ لوگ اللہ سے پہاڑ کو جگہ سے ہٹا دینے کی دعا مانگیں تو ان کی دعا قبول ہوجائے گی۔ ان سے مباہلہ نہ کرنا اچھا ہے ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے، اور روز قیامت تک روئے زمین پر کوئی نصرانی باقی نہ رہے گا۔ یہ سن کر نصاریٰ نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ مباہلہ کی تو ہماری رائے نہیں ہے۔ آخر کار انہوں نے جزیہ دینا منظور کیا مگر مباہلہ نہیں کیا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نجران والوں پر عذاب قریب آ ہی چکا تھا اگر وہ مباہلہ کرتے تو بندروں اور سوروں کی صورت میں مسخ کردیئے جاتے اور جنگل آگ سے بھڑک اٹھتا اور نجران اور وہاں کے رہنے والے پرند تک نیست ونابود ہوجاتے۔
Ayah 3:64

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:64 in the Quran reader

تم فرماؤ :” اے اہل کتاب آؤ ایسی بات کی طرف کہ جو یکساں ہے “ ہمارے اور تمہارے درمیان کہ نہ ہم سوائے خدا کے کسی کی عبادت کریں اور نہ کسی کو اس کا شریک ٹھہرائیں اور نہ بنائے ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو رب سوائے خدا کے، پس اگر وہ نہ مانیں تو کہہ دو تم گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں

اس کا مطلب ہے کہ نبی آخر الزماں جس مسئلہ توحید کی تم لوگوں کو ہدایت کرتے ہٰں وہی مسئلہ سب شریعتوں میں ہے اور جو اس پر عمل کرے وہی حکم الہٰی کا تابع ہے۔
Ayahs 3:65–68

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:65 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑا کرتے ہو حالانکہ توریت اور انجیل تو ابراہیم کے بعد ہی اتری ہیں، پس کیا تم نہیں سمھجتے ہو

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:66 in the Quran reader

آگاہ ہو تم وہ لوگ ہو کہ جھگڑا کیا تم نے اس میں جس کا تم کو علم تھا پس کس واسطے جھگڑا کرتے ہو تم اس میں جس کا تم کو علم نہیں، اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:67 in the Quran reader

نہ تھے ابراہیم (علیہ السلام) یہودی اور نہ نصرانی لیکن تھے ایک طرفہ مسلمان، اور نہ تھے شرک کرنے والوں میں سے

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:68 in the Quran reader

تحقیق سب لوگوں سے ابراہیم (علیہ السلام) کے زیادہ حق دار وہ تھے جو ان کے پیرو ہوئے (ان کے زمانہ میں) اور یہ نبی اور ایمان والے اور اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ کے روبرو علماء یہود اور نجران کے پادریوں میں جھگڑا ہوا۔ یہود کہتے تھے کہ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے اور نصاریٰ کہتے تھے کہ نصرانی تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمادیا کہ توریت اور انجیل جن دونوں کتابوں سے یہود اور نصاریٰ کا دین دنیا میں چلا ہے۔ وہ تو ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد اتری ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) میں ہزار برس کے قریب کا فاصلہ ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں تین ہزار برس کے قریب کا۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی یا نصرانی کیونکر ہو سکتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں اب کون سے دین سے مناسبت ہے۔ خلاف الہٰی انجانی بات میں یہ لوگ بحث کر رہے ہیں یہ اللہ کو ہر گز پسند نہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو بات آدمی کو معلوم نہ ہو اس میں نفسانیت سے ہرگز بحث نہ کرے۔
Ayahs 3:69–71

وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 3:69 in the Quran reader

یہ آرزو تھی اہل کتاب کے ایک گروہ کی کہ تم کو کس طرح گمراہ کریں، اور وہ تو اپنے آپ ہی کو گمراہی میں ڈالتے ہیں اور آگاہ نہیں ہیں۔

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 3:70 in the Quran reader

اے اہل کتاب تم خدا کی آیتوں سے کیوں منکر ہوتے ہو حالانکہ تم خود گواہ ہو

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 3:71 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! کیوں ملاتے ہو حق میں باطل اور کیوں چھپاتے ہو حق کو حلان کہ تم کو خبر ہے

یہود کی شرارت شان نزول : چند یہود نے حضرت معاذ بن جبل ؓ اور حضرت حذیفہ بن الیمان ؓ وغیرہ کو یہ رغبت دلائی کہ وہ دین محدی ( ﷺ) کو چھوڑ کر یہودی ہوجائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ مسلمان اپنے دین پر خدا عزوجل کی طرف سے پکے ہیں، ان کو تو کسی کے بہکانے سے کچھ ضرر نہیں پہنچ سکتا مگر بہکانے کا اثر بہکانے والوں کے نامہ اعمال میں لکھا جاوے گا جس سے وہ غافل ہیں۔
Ayah 3:72

وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ Open ayah 3:72 in the Quran reader

اور کہا اہل کتاب کے ایک گروہ نے :” وہ جو ایمان والوں پر اترا اس پر صبح کو ایمان لاؤ اور شام کو انکار کرو شاید کہ (مسلمان) پھر جاویں یعنی شک میں پڑجائیں (اپنے دین سے

یہودیوں کا دھوکا جب دن بدن دین محمدی (ﷺ) میں لوگ بڑھنے لگے تو یہود کو یہ امر شاق گزرا، اس لئے عداوت سے خیبر کے بارہ یہودیوں نے یہ صلاح کی کہ تازہ دم نئے مسلمانوں کو دھوکے میں ڈالنے کے لئے ایک صبح کو فریب کے طور پر مسلمان ہوگئے، اور صبح کی نماز بھی مسلمانوں کے ساتھ پڑھی اور سہ پہر کو یہ مرتد ہوگئے۔ تاکہ نئے مسلمان اپنے دل میں خیال کریں کہ اس دین محمدی ( ﷺ) میں کچھ نقصان ضرور تھا جو یہ اہل کتاب اس دین میں داخل ہو کر پھر منحرف ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان یہود کا یہ ادنیٰ فریب ظاہر کرنے اور نئے مسلمانوں کا وسوسہ دور کرنے کی غرض سے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمادیا کہ ایسے فریبوں سے کچھ نہیں ہوتا، ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور نبوت اللہ کا ایک فضل ہے۔
Ayahs 3:73–74

وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚۙ Open ayah 3:73 in the Quran reader

اور تم فرمانبردار نہ ہو “ مگر اس شخص کے کہ پیروی کرے تمہارے دین کی، (اے محبوب ! ﷺ) تم فرماؤ :” البتہ ہدایت وہی ہے جو ہدایت خدا کی ہے “ (بولے) کہ تم اس پر یقین نہ کرو کہ کسی کو اس جیسا دین دیا جائے جیسا تمہیں دیا گیا یا ایک گروہ تمہارے پروردگار کے پاس تم کو الزام دیوے (اے محبوب ! ﷺ) تم فرماؤ کہ فضل تو خدا کے ہاتھ ہے جس کو چاہے دے اور خدا وسعت والا علم والا ہے

یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 3:74 in the Quran reader

اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑا فضل والا ہے

تفسیر ابن ابی حاتم میں ابی مالک سے روایت ہے کہ اس آیت کے دو ٹکڑے ہیں : (1) پہلا ٹکڑا علماء یہود کا ہے کہ وہ اپنی قوم کے ان پڑھ لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ دیکھو اپنے دین والے کے سوا کسی کی بات ہرگز نہ ماننا۔ (2) دوسرا ٹکڑا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کے جواب میں اتارا ہے کہ ” ان سے اے نبی اللہ کے ! تم کہہ دو کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے، ایسی باتوں سے وہ اللہ کی ہدایت کو نہیں روک سکتے “۔ چناچہ وہی ہوا کہ اللہ کی ہدایت دن بدن پھیل کر اسلام بڑھتا گیا اور اور یہود حسد وعداوت میں ذلیل و خوار ہوتے گئے۔ ہرچند انہوں نے آنحضرت ﷺ کے اوصاف کو جو توریت میں مذکور تھے چھپایا اور ان پڑھ یہود غیر دین کی بات ماننے سے روکا مگر اللہ سے کون مقابلہ کرسکتا ہے آخر ہواوہی جو اللہ کو منظور تھا۔
Ayahs 3:75–76

وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:75 in the Quran reader

اور بعضے اہل کتاب میں ایسے ہیں کہ اگر تو ان کے پاس خزانہ بھی امانت رکھے تو واپس دیویں اور بعض ان میں سے ایسے ہیں کہ اگر تو ان کو ایک دینار سپرد کرے تو وہ تجھ کو واپس نہ دیویں مگر اس وقت کہ کھڑا رہے تو ان کے سر پر، یہ خیانت ہے اس سبب سے کہ انہوں نے کہا :” ہم پر ان پڑھوں کے بارے میں کوئی مواخذہ نہیں ہے “ اور بولتے ہیں اللہ پر جھوٹ جان کر

بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:76 in the Quran reader

ہاں کیوں نہیں جو کوئی پورا کرے اپنے عہد کو اور پرہیزگاری کرے پس تحقیق اللہ دوست رکھتا ہے پر ییز گاروں کو

امانت میں خیانت کا ذکر شان نزول : یہ آیت اہل کتاب کے حق میں نازل ہوئی اور اس میں ظاہر فرما دیا گیا کہ ان میں دو قسم کے لوگ ہیں بعض تو ایسے ہیں کہ کثیر المال ان کے پاس امانت رکھوا دیوے تو بےکم وکاست وقت پر ادا کردیں، اور بعضے ایسے ہیں کہ تھوڑے پر بھی ان کی نیت بگڑ جاتی ہے، صحیحین میں حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ امانت میں خیانت کرنا، جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، لڑائی کے وقت گالیاں بکنا یہ منافقوں کی علامت ہے۔ اللہ متقیوں کو دوست رکھتا ہے۔
Ayah 3:77

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:77 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام حاصل کرتے ہیں ان کے لئے آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہے اور نہ ان سے اللہ کلام کرے اور نہ ان پر نظر رحمت کرے گا قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لئے ہے عذاب درد دینے والا

جھوٹی قسم کھانے کا وبال شان نزول : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا کی تھوڑی سی طمع کے لئے جو کوئی بھی جھوٹی قسم کھائے گا وہ عقبیٰ میں جنت کی بڑی بڑی نعمتوں سے محروم رہے گا، اور اللہ تعالیٰ کا اس پر ایسا غضب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے اس کی طرف نہ دیکھے گا، اور نہ اس سے بات کرے اور نہ اس کے گناہ درگزر فرمائے گا۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ٹخنہ سے نیچے پائجامہ رکھنے والا، جھوٹی قسم کھانے والا، صدقہ دے کر احسان جتانے والا۔ ان تینوں شخصوں پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا ایسا غصہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نہ ان سے بات کرے گا اور نہ ان کے گناہوں سے درگزر کرے گا۔