3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 3:118–120

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:118 in the Quran reader

اے مسلمانو ! غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ وہ تمہارے تباہ کرنے میں کچھ کمی نہیں کرتے، اور آرزو رکھتے ہیں تمہاری تکلیف کی البتہ ظاہر ہوئی دشمنی ان کی زبان سے، اور جو کچھ ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے وہ اس سے بہت سخت ہے، بیشک بیان کیں ہم نے تہمارے واسطے نشانیاں اگر عقل رکھتے ہو آگاہ ہو

هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:119 in the Quran reader

اے قوم ! کہ تم ان کو دوست رکھتے ہو اور وہ تم کو دوست نہیں رکھتے، حالانکہ تم ایمان لاتے ہو تمام کتاب الہٰی پر اور وہ جب ملتے ہیں تم سے کہتے ہیں :” ایمان لائے ہم “ اور جب اکیلے ہوتے ہیں تو تم پر اپنی انگلیوں کو غصہ سے چبائیں، تم فرما :” اپنے غصہ میں (آپ) مرجاؤ بیشک اللہ جاننے والا ہے جو کچھ دلوں میں ہے “

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ Open ayah 3:120 in the Quran reader

اگر تم کو نعمت پہنچتی ہے تو ان کو ناخوشی ہوتی ہے اور اگر تم کو برائی پہنچتی ہے تو اس سے خوش ہوتے ہیں، اور اگر تم صبر کرو اور تم پرہیز گاری کرو تو تم کو نہ ضرر کرے گا ان کا کچھ مکر، بیشک اللہ ان کے سب کام پر احاطہ کئے ہوئے ہے

منافقوں اور کافروں سے دوستی نہ کرنے کا حکم شان نزول : ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو ! تمہارے ساتھ منافقوں کا تو یہ حال ہے کہ منہ پر کچھ، پیٹھ کے پیچھے کچھ ہیں۔ اور یہود کا یہ حال ہے کہ تم ان کی کتاب، ان کے دین کو حق جانتے ہو، اور وہ تم سے جل جل کر اپنی بوٹیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں۔ اگرچہ یہ فرقے جل کر مر بھی جاویں تو آخر ہوگا وہی جو اللہ کو منظور ہے کہ اسلام بڑھے گا اور یہ دنیا میں خوار ہوں گے۔ لیکن جب یہ دونوں فرقے تم سے دلی بغض رکھتے ہیں جس بغض کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے تو آئندہ تم بھی ان سے دوستی خوب ترک کردو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی غیر اسلام والے شخص کو اس طرح کا دوست بنانا جس سے ہو صلاح کار اور مشیر بن سکے مسلمانوں کو منع ہے۔
Ayah 3:121

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

اور یاد کرو (اے محبوب ! ﷺ) جب تم صبح کے وقت اپنے اہل خانہ سے باہر آئے تو مسلمانوں کو لڑائی کے مورچوں پر جنگ کے واسطے قائم کرتے تھے، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

جنگ احد وبدر کی لڑائی کا واقعہ شان نزول : جمہور مفسرین کے نزدیک یہ لڑائی احد کی ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ 2 ھ میں جنگ بدر میں شکست کھانے سے کفار کو بڑا رنج تھا۔ اس لئے انہوں نے بقصد انتقام لشکر گراں مرتب کرکے فوج کشی کی، جب آنحضرت ﷺ کو جب خبر ملی کہ لشکر کفار احد میں اترا ہے تو آپ نے اپنے اصحاب سے مشورہ فرمایا۔ اس مشورہ میں عبداللہ بن ابی منافق بھی ہم صلاح آنحضرت ﷺ کا تھا۔ بدر کی لڑائی کے وقت جب آنحضرت ﷺ مدینہ سے نکلے تو شروع میں لڑائی کا ارادہ نہ تھا۔ اس سبب سے اکثر صحابہ اس لڑائی میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ انہوں نے میدان کی لڑائی کی آرزو ظاہر کرکے اس صلح (مشورہ) کے مان لینے سے انکار کیا۔ آخر ہزار آدمی کے جمعیت سے ابتداء میں آپ مدینہ سے نکلے اور احد کے پاس مناسب مقامات مسلمانوں کے پڑاؤ کے لئے تجویز کئے۔ اس حالت کا ذکر اس آیت میں ہے۔ اس کے بعد عبداللہ بن ابی نے لوگوں کو بہکایا جس سے تین سو آدمی لشکر اسلام میں سے مدینہ واپس لے آیا۔ اب لشکر اسلام میں صرف سات سو آدمی باقی رہ گئے۔ عبداللہ بن جبیر ؓ کو تیر اندازوں کا افسر کرکے تاکید فرما دی تھی کہ تم اپنے مقام کو ہرگز ہرگز نہ چھوڑنا۔ جب تک مقام پر رہے کامیاب ہوتے رہے لیکن باوجود منع کرنے کے جگہ چھوڑ دی جس سے کفار مسلمانوں پر حملہ آور ہوگئے اور مسلمانوں کے پیر اکھاڑ دیئے۔ آخر ستر آدمی مسلمانوں کے شہید ہوئے۔ حضرت امیر حمزہ ؓ اور نامی نامی صحابی بھی انہی ستر آدمیوں میں شہید ہوئے۔ آنحضرت ﷺ کا دندان مبارک بھی یہیں شہید ہوا۔ آپ کے رخسار اور ناک مبارک میں بھی زخم آئے اور گھٹنا مبارک چھل گیا۔
Ayah 3:122

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

جبکہ تم میں سے دو فرقوں کا ارادہ ہوا کہ بزدلی کریں، اور خدا ان کا کارساز تھا، اور خدا پر چاہئے کہ ایمان والے بھروسہ کریں

دل کے وسوسہ کا ذکر شان نزول : صحیحین میں حضرت جابر بن عبداللہ ؓ روایت ہے کہ خزرج قبیلہ کی ایک شاخ بنی سلمہ اور اوس قبیلہ کی ایک شاخ بی حارثہ کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ جس وقت عبداللہ بن ابی منافق نے لوگوں کو بہکا کر میدان جنگ سے مدینہ کی واپسی کی صلاح دی تو بنی حارثہ نے بھی مدینہ کی واپسی کا دل میں خیال کیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور انہیں محفوط رکھا اور وہ حضور ﷺ نے ساتھ ثابت قدم رہے۔ حضرت اسماء ؓ نے آنحضرت ﷺ کو اکثر یا مقلب القلوب کہتے ہوئے سن کر آپ سے پوچھا کہ حضرت کیا بھی پھرجاتا ہے آپ نے فرمایا کہ ہاں ہر آدمی کا دل اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے، چاہے اسے قائم رکھے یا جس طرف چاہے موڑ دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی برے کام کا دل میں وسوسہ آکر پھر دل اس برے کام سے پھرجائے تو اس کو غیبی امداد سمجھ کر آدمی کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ کیونکہ ہر نعمت شکر سے بڑھا کرتی ہے۔ اگر آدمی اس نعمت پر شکر کرے گا تو دن بدن اللہ تعالیٰ اس کو برے کاموں سے بچاوے گا اور رفتہ رفتہ یہ شخص بڑا نیک ہوجائے گا۔
Ayahs 3:123–127

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

اور البتہ خدا نے بدر میں تم کو مدد دی جب تم بلکل بےسروسامان تھے پس اللہ سے ڈرو کہیں تم شکر گزار ہو

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

جس وقت (اے محبوب ! ) تم مسلمانوں سے کہتے تھے کیا تم کو یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتے اتار کر

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

ہاں کیوں نہیں اگر تم صبر کرو اور تم پرہیزگاری کرو اور کفار اپنے جوش سے تمہاری طرف آویں تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

اور یہ فتح اللہ نے نہ کی مگر تمہاری خوشی کے واسطے اور اس لئے کہ اس سے تمہارے دلوں کو چین ملے، اور مدد نہیں مگر خدا غالب حکمت والے کے نزدیک سے

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

اس لئے کہ کافروں میں سے ایک گروہ کو ہلاک کرے یا ان کو مغلوب کرے پس نامراد ہو کر لوٹ جائیں

پانچ ہزار فرشتوں کی امداد احد کی لڑائی سے مسلمانوں میں پریشانی پھیل گئی تھی اس واسطے اللہ تعالیٰ نے احد کی لڑائی کے ذکر میں بدر کا ذکر فرمایا کہ احد کی لڑائی میں تمہارے ستر آدمی شہید ہوگئے تو تم بھی بدر کی لڑائی میں کافروں کے ستر آدمی مار چکے ہو اور ستر کو قید کیا۔ مسلمانوں نے بدر کی لڑائی میں صبر وتقویٰ سے کام لیا، اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ پانچ ہزار نشان والے فرشتوں کی مدد بھیجی اور مسلمانوں کی فتح اور کافروں کی شکست ہوئی۔ احد کی لڑائی میں آنحضرت ﷺ کی رفاقت خاص کے لئے صرف جبرائیل ومیکائیل (علیہما السلام) آئے تھے۔ بدر کی لڑائی کی طرح عام ملائکہ احد کی لڑائی میں آتے تو مسلمانوں کو ضرور فتح ہوتی۔
Ayahs 3:128–129

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

یہ تمہارے ہاتھ بات نہیں، اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے یا ان پر عذاب نازل کرے اس لئے کہ وہ ظالم ہیں

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے واسطے ہے جو کچھ کہ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے جس کو چاہتا ہے بخشتا ہے اور عذاب کرتا ہیے جس کو چاہتا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

اس آیت میں ہے کہ ان لوگوں کا حال یعنی جہنوں نے جنگ احد میں ظلم کیا ہے۔ اللہ پر چھوڑ دیا جاوے۔ ان میں سے جو حالت کفر میں مرے گا اس کو اللہ تعالیٰ عذاب کرے گا جو اسلام لاوے گا اس کی توبہ قبول ہوگی، چناچہ ایسا ہی ہوا۔
Ayah 3:130

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

اے مومنو ! نہ کھاؤ بیاج (سود) دونے پر دونا اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم نجات پاؤ

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سود کو سخت منع فرمایا ہے۔
Ayahs 3:131–132

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ Open ayah 3:131 in the Quran reader

اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ Open ayah 3:132 in the Quran reader

اور خدا کے اور رسول کے فرمانبردار رہو تاکہ تم پر مہربانی کی جاوے

اس آیت سے ثابت ہوا کہ جنت و دوزخ پیدا ہو چکیں، موجود ہیں۔
Ayah 3:133

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 3:133 in the Quran reader

اور دوڑو اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور ایسے بہشت کی طرف کہ جس کے عرض میں سب آسمان و زمین آجائیں پرہیزگاروں کے واسطے تیار رکھی ہے

آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کرسی کے مقابلے میں یہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایسی ہیں جس طرح بہت بڑے میدان میں ایک انگلی کا چھلا گرا پڑا ہو، اور عرش معلیٰ کرسی سے اتنا بڑا ہے جیسا چھلے سے وہ میدان خیال کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 3:134

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں آسائش اور تنگی میں اور دور کرنے والے غصے کے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور خدا دوست رکھتا ہے نیکی کرنے والوں کو

اور اس آیت میں غصہ کو ٹال جانے کا جو ذکر ہے اس کی نسبت امام مسند احمد بن حنبل وغیرہ میں روایتیں ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو غصہ آوے اور باوجود طاقت بدلہ لینے کے وہ اپنے غصہ کو پی جاوے اور بدلہ نہ لیوے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اختیار دیوے گا کہ جنت کی جس حور کو وہ چاہے پسند کرلے۔
Ayahs 3:135–136

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

اور وہ لوگ جب کہ برا کام کریں یا اپنی جان پر ظلم کریں (یعنی گناہ) تو اسی وقت خدا کو یاد کریں پھر اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں اور خدا کے سوا گناہوں کو کون بخش سکتا ہے ؟ اور نہ اصرار کریں اس پر جو دانستہ کیا

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

ان لوگوں کا بدلہ ان کے پروردگار کی طرف سے بخشش ہے اور بہشتیں چلتی ہیں جن کے نیچے نہریں ہمیشہ ان میں رہیں گے، اور کیا اچھا ثواب ہے عمل کرنے والوں کا

گناہوں کی توبہ کا طریقہ شان نزول : ابی صالحہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک صحابی انصاری اور دوسرے ثقفی میں دینی بھائی چارہ کرادیا تھا۔ ثقفی تو آحضرت ﷺ کے ساتھ لڑائی پر گیا اور انصاری مدینہ میں رہا۔ ثقفی نے جاتے وقت اپنی بیوی کی خبر گیری انصاری کو سونپی جو سودا سلف لا کردیا کرتا تھا۔ ایک دن انصاری نے گوشت لا کر کو اڑ کی جھری میں سے دیا۔ عورت نے ہاتھ نکال کر گوشت لے لیا۔ اس عورت کا ہاتھ دیکھ کر انصاری کی نیت بگڑ گئی اور وہ گھر میں گھس گیا اور عورت کے ہاتھ کو بوسہ دیا۔ اتنے میں خدا نے ہدایت کی فوراً باہر چلا آیا اور بہت نادم ہوا۔ سر پر خاک ڈالی اور جنگل اور پہاڑوں میں ندامت زدہ پھرتا رہا۔ ثقفی نے لڑائی سے واپس آکر دینی بھائی کا حال اپنی بی بی سے پوچھا، اس نے سارا قصہ بیان کیا۔ ثقفی جنگل سے تلاش کرکے اس کو لایا اور پہلے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس لے گیا اور سارا قصہ نقل کیا۔ انصاری نے بھی اپنے قصور کا اقرار کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے انصاری سے فرمایا :” تجھے معلوم نہیں کہ اللہ کو لڑائی پر جانے والے لوگوں کے اہل و عیال کی کیا کچھ عزت و حرمت مدنظر ہے “۔ پھر یہ دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس گئے انہوں نے بھی یہی فرمایا۔ پھر یہ آنحضرت ﷺ کے پاس گئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ جو لوگ کبیرہ یا صغیرہ گناہ کرکے اللہ کو یاد کرتے ہیں کہ ایک دن اللہ کو منہ دکھانا ہے اور اس ڈر سے توبہ و استغفار کرتے ہیں تو وہ فوراً معاف کردیتا ہے۔ گناہ پر ہٹ کرنے ( ڈٹ جانے) اور اڑانے کے یہ معنی ہیں کہ آدمی گناہ کرکے توبہ نہ کرے۔ حدیث میں ہے کہ توبہ کے لئے دو رکعت نفل پڑھے اور پھر عاجزی سے توبہ کرے۔ کیونکہ عاجزی اللہ کو پسند ہے، اللہ معاف کرے گا۔
Ayahs 3:137–142

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

تم سے پہلے گزر گئے ہیں بہت سے طریقے، پس تم زمین میں سیر کرو پس دیکھو کہ کیسا انجام ہوا آخر جھٹلانے والوں کا

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

یہ لوگوں کے بیان واضح ہے اور ہدایت اور نصیحت پرہیزگاروں کے واسطے

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ تم ہی غالب آؤ گے اگر مسلمان ہو

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

اگر تم کو پینچے کوئی تکلیف پس گروہ کفار بھی ایسی ہی تکلیف پا چکے ہیں، اور یہ دن ہیں جن میں ہم نے باریاں رکھی ہیں درمیان لوگوں کے اور (یہ تکلیف اس لئے پہنچی) کہ خدا مومنوں کی پہچان کرادے اور تم میں سے بعض لوگوں کو شہادت کا مرتبہ دے، اور اللہ نہٰیں دوست رکھتا ظالموں کو

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور اس لئے کہ خدا مسلمانوں کا نکھار کر دے اور کافروں کو مٹا دے

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

کیا تم اس گمان میں ہو کہ بہشت میں چلے جاؤ گے ؟ اور ابھی چھانٹا نہیں ہے خدا نے تم میں سے مجاہدوں کو اور نہ صبر کرنے والوں کو جدا کیا

حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں ہر کام کا وقت مقرر ہے۔
Ayah 3:143

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

اور البتہ تم موت کی آرزو کرتے تھے اس کے ملنے سے پہلے پس تحقیق تم نے اس کو دیکھ لیا اور آنکھوں کے سامنے

عہد کرکے پھرجانے کا ذکر شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ روایت ہے کہ بعض صحابہ کہا کرتے تھے کہ کاش بعد جیسی لڑائی پھر ہو تو ہم بھی کافروں سے لڑ کر اپنے دل کی ہوس نکالیں۔ یا تو شہید ہو کر ثواب پائیں یا زندہ واپس آئیں تو مال لائیں اور غازی کہلائیں۔ جب جنگ احد ہوئی تو بعض آدمیوں کے سوا سب بھاگ گئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تنبیہ میں یہ آیت نازل فرمائی تاکہ عہد کو پورا نہ کرنے پر ان کی آنکھیں نیچی ہوں۔
Ayahs 3:144–148

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

اور محمد ﷺ تو ایک رسول ہیں بیشک گزرے ہیں اس سے پہلے بھی بہت پیغمبر، پھر کیا اگر وہ انتقال کریں یا شہید ہوں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے، اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرجائے گا پس (وہ) خدا کو کچھ ضرر نہ پہنچائے گا، اور عنقریب خدا صلہ دے گا شکر کرنے والوں کو

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور کوئی جان بغیر حکم الہٰی کے نہیں مر سکتی سب کا وقت لکھا رکھا ہے، اور جو کوئی دنیا میں انعام چاہتا ہے تو ہم کسی قدر اس میں سے دے دیتے ہیں، اور جو کوئی آخرت کا انعام چاہتا ہے تو ہم اس کو اس میں سے (آخرت میں دیں گے) اور عنقریب نیک بدلہ دیں گے ہم شکر گزاروں کو

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور بہت انبیاء نے کافروں سے جہاد کیا ان کے ہمراہ خدا والے بہت تھے پس سستی نہ کی بسبب اس مصیبت کے کہ ان کو خدا کی راہ میں پہنچی اور نہ کم ہمتی کی اور نہ بےچارگی دکھائی، اور خدا دوست رکھتا ہے صبر والوں کو

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

اور کچھ بھی نہ کہتے تھے سوائے اس دعا کے کہ کہا انہوں نے :” اے پروردگار ہمارے ! بخش دے ہمارے گناہ اور جو زیادتیاں ہم نے اپنے کام میں کیں اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور نصرت دے ہم کو کافروں کے گروہ پر “

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

پس عطا کیا خدا نے ان کو نیک بدلہ دنیا میں اور ثواب کی خوبی آخرت میں اور خدا دوست رکھتا ہے نیکی کرنے والوں کو

جب احد کی لڑائی میں شیطان نے یہ افواہ اڑا دی کہ آنحضرت ﷺ شہید ہوگئے تو مسلمانوں میں طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں۔ کچھ لوگ تو یہ کہتے تھے اگر آپ نبی ہوتے تو زندہ رہتے اور کچھ لوگ یہ کہتے تھے کہ دین تو اللہ کا ہے اگر آپ شہید ہو بھی گئے تو جس دین کے واسطے آپ لڑے تھے ہم کو بھی ضرور لڑنا چاہئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی اس آیت کا یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں انبیاء اور ان کے ساتھ کے لوگ لڑے اور امت کے لوگوں کے سامنے بعضے نبی شہید ہوگئے، لیکن وہ لوگ اسی طرح ثابت قدم رہے۔ جس طرح اپنے نبی کے رو برو تھے، اسی طرح تم کو بھی چاہیے۔ مسائل القرآن : اس آیت سے معلوم ہوا کہ موت اپنے مقررہ وقت پر آتی ہے آگے پیچھے نہیں آتی اور جو کوئی مارا جاتا ہے وہ اپنی موت سے مرتا ہے۔
Ayahs 3:149–151

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

اے مومنو ! اگر تم کہا مانو گے کافروں کا تو وہ تم کو الٹے پاؤں لوٹا دیں گے پس تم نقصان میں پڑجاؤ گے

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

بلکہ خدا مددگار تمہارا ہے اور اس کی مدد سب سے بہتر ہے

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

ہم کافروں کے دلوں میں جلد ڈالیں گے رعب اس لئے کہ انہوں نے خدا کا شریک ٹھہرایا کہ جس کے لئے کچھ بھی خدا نے کوئی دلیل نہیں نازل کی اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا وہ برا ٹھکانا ہے ظالموں کا

جنگ احد میں حضور ﷺ کی شہادت کی بابت شیطانی خبر اور مسلمانوں کی پریشانی شان نزول : جب شیطان نے یہ خبر اڑا دی کہ آنحضرت ﷺ شہید ہوگئے تو بعضے کچے مسلمان یہ کہنے لگے کہ اب ہم اپنے باپ دادا کے دین پر قائم ہوجاویں تو اچھا ہے۔ ان لوگوں کی اصلاح کرنے کی تنبیہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اور فرمادیا کہ ایسے لوگوں کا کہنا ماننے میں دین ودنیا دونوں کا خسارہ ہے۔ دنیا کو تو یہ کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا حامی و مددگار ہے، اس لئے آخر ان کو غلبہ ہوگا اور جس طرح اب تم کو جان ومال کا خوف کافروں سے ہے اگر تم کافروں میں شریک ہوگئے تو وہی خوف تم کو مسلمانوں سے کرنا پڑے گا اور دین کا یہ نقصان کہ عقبیٰ میں اللہ کے عذاب میں پکڑے جاؤ گے۔ اور جن کافروں کا تم کو خوف ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں بسبب ان کے جھوٹے دین پر ہونے کے مسلمانوں کا رعب ڈال دیا ہے۔ اس لئے ان سے ڈرنا بےفائدہ ہے۔ صحیحین میں حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایک مہینہ کے راستہ پر سے میرا رعب دشمنوں پر پڑتا ہے۔
Ayahs 3:152–153

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور البتہ سچ کر دکھایا خدا نے اپنا وعدہ تمہارے حق میں جب کہ تم قتل کرتے تھے کافروں کو خدا کے حکم سے یہاں تک کہ تم نے بزدلی کی اور تم نے جھگڑا کیا حکم میں اور تم نے نافرمانی کی بعد اس کے کہ اللہ تمہیں دکھا چکا جو تم چاہتے تھے تم میں سے کوئی دنیا کو چاہتا تھا اور تم میں سے کوئی چاہتا تھا آخرت کو پھر تمہارا منہ ان سے پھیر دیا تاکہ تمہارا امتحان کرے اور تحقیق اس نے تم کو معاف کیا اور خدا رحمت والا ہے مومنوں پر

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

جب تم ( منہ اٹھائے) بھاگے جاتے تھے اور کسی پر مڑ کر بھی نہ دیکھتے تھے اور ہمارے رسول ﷺ پیچھے سے دوسری جماعت میں تم کو پکار رہے تھے پس تم کو غم کا بدلہ غم دیا (یہ نصیحت اس لئے دی گئی) تاکہ تم غمگین نہ ہو اس پر جو کچھ تہارے ہاتھ سے گیا اور نہ اس پر جو مصیبت تم کو پہنچی، اور خدا کو تمہارے کاموں کی خبر ہے

یہ ہدایت اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمائی ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اس رعب کے سبب سے باوجود اس کے کہ مسلمان سات سو تھے اور دشمن تین ہزار تھے، اول اول مسلمانوں کی فتح ہوگئی تھی لیکن تیر اندازوں نے لوٹ کے لالچ سے اللہ کے رسول کے حکم کی نافرمانی کی، اس سبب سے یہ شکست خود تمہارے ہاتھوں ہوئی، اور تمام صدمے پر صدمے سہنے پڑے۔ خیر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمہارا قصور معاف کیا۔ مگر آئندہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ تم نے جو رسول کریم ﷺ کے حکم کی مخالفت کرکے آپ کو غم پہنچایا، اس کے بدلے تم کو ہر میت کے غم میں مبتلا کیا۔
Ayahs 3:154–155

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:154 in the Quran reader

پھر اتارا تم پر بعد غم کے اطمینان کہ وہ اونگھ تھی جو تم میں سے ایک گروہ کو گھیر رہی تھی اور دوسرا گروہ تھا کہ غمگین کیا تھا ان کو اپنی جان کی فکر نے، خدا پر ناحق گمان کرتے تھے جاہلیت کے سے (یعنی کفر بکتے تھے) کہتے تھے :” کیا ہمارا بھی اس کام میں کچھ اختیار ہے “ تم فرماؤ :” اختیار تو تمام اللہ کا ہے “ پوشیدہ رکھتے ہیں اپنے دلوں میں وہ چیز کہ تم پر ظاہر نہیں کرتے ہیں کہتے ہیں :” اگر ہمارا اس کام میں کچھ اختیار ہوتا تو ہم نہ مارے جاتے یہاں “ تم فرما دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے البتہ باہر نکلتے وہ لوگ کہ کھا گیا ہے اوپر ان کے مارا جانا طرف اپنی قتل گاہوں کے اور اس لئے کہ خدا آزمائے جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اور تاکہ کھول دے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اور خدا جانتا ہے جو کچھ دلوں میں ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 3:155 in the Quran reader

البتہ وہ لوگ جو تم سے پھرگئے جس روز کہ دونوں فوجیں آپس میں مقابل ہوئیں ان کو صرف شیطان نے ڈگمگا دیا تھا ان کے بعض اعمال کی شامت ہے، اور تحقیق اللہ نے انہیں معاف کیا، بیشک خدا بخشنے والا بردبار ہے

تدبیر سے تقدیر کے نہ ٹلنے کا ذکر شان نزول : جب مسلمان ان طرح طرح کے غموں میں مبتلا ہوئے جن کا ذکر اوپر گزرا تو اللہ تعالیٰ نے عین لڑائی کے وقت ان پر تھوڑی دیر کے لئے ایک طرح کی غنودگی طاری کردی جس سے ان کی تھکان ذرا رفع ہوگئی۔ مگر اس غنودگی میں یہ حکمت الہٰی تھی کہ جو پکے مسلمان تھے ان کو تو غنودگی ہوگئی اور جو کچے تھے وہ اسی طرح پریشانی کی حالت میں رہے، اور گھبرا کر یہ کہتے تھے کہ ہمارا کچھ اختیار ہوتا اور مدینہ کے اندر سے لڑائی لڑنے کی صلاح (تجویز) مان لی جاتی تو ہم یہاں جنگل میں کیوں ہلاکت میں پڑتے۔ یہ بات دبی زبان سے کہتے تھے تاکہ آنحضرت ﷺ کو معلوم نہ ہو، حضور تک یہ چرچا نہیں پہنچا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کچے مسلمانوں کا کچا پن ظاہر ہوجانے کی غرض سے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل کلام اس آیت کا یہ ہے کہ تدبیر سے تقدیر نہیں ٹلتی خواہ آدمی گھر میں ہو یا جنگل میں۔