3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 3:156–158

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 3:156 in the Quran reader

اے مومنو ! ان کافروں کی مانند نہ ہونا جو اپنے بھائیوں کے حق میں کہتے ہیں جب کہ وہ سفر کرتے ہیں زمین میں یا جہاد میں ہوتے ہیں اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے اس لئے کہ رکھا اللہ تعالیٰ نے اس بات کا افسوس ان کے دلوں میں، اور خدا زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، جو کچھ تم کرتے ہو خدا دیکھ رہا ہے

وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 3:157 in the Quran reader

اور اگر تم خدا کی راہ میں مارے جاتے یا مرگئے (ہوتے) البتہ اللہ کی طرف سے بخشش اور رحمت ان کی سب کمائی سے بہتر ہے

وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 3:158 in the Quran reader

اور اگر تم مرگئے یا مارے گئے البتہ خدا کی طرف اٹھائے جاؤ گے

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پکے مسلمانوں بندوں کو ان کچے مسلمانوں کی باتوں اور ان سا اعتقاد رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ اور فرمایا کہ موت اللہ کے اختیار میں ہے۔ جب موت کا وقت آتا ہے تو آدمی خواہ گھر میں ہو یا جنگل میں وہ وقت ٹلتا نہیں، اور یہ بھی فرمایا کہ خدا کی راہ میں جان کا دینا دنیا کے رہنے اور مال جمع کرنے سے بہتر ہے۔ جس کی بہتری تم کو حشر کے دن معلوم ہو وے گی اور فرمایا کہ یہ حسرت وافسوس کے کلمات منافقوں کی زبان سے اللہ تعالیٰ اس لئے نکلواتا ہے کہ صادق اور منافق اچھی طرح لوگوں کو معلوم ہوجاویں اور اس طرح کے کلمات سے منافقوں کا رنج اور افسوس وغم اور بڑھے۔ غرض آیت میں کفار سے مراد وہ منافق ہیں جنہوں نے پریشانی کی باتیں منہ سے نکال کر اپنے ساتھ کے مسلمانوں کو بھی پریشانی میں ڈالنا چاہا تھا اور گھڑی گھڑی یہ کہتے تھے کہ اگر وہ گھر سے باہر نہ نکلتے تو اس آفت میں نہ پھنستے۔
Ayahs 3:159–160

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ Open ayah 3:159 in the Quran reader

پس خدا کی مہربانی سے (اے محبوب ! ﷺ) تم ان کے لئے نرم دل ہوئے اور اگر تم تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ البتہ تمہارے پاس سے بھاگ جاتے، پس تم ان کو معاف کرو اور ان کے واسطے بخشش مانگو اور مشورہ کرو ان سے خاص کاموں میں پس جس وقت کہ مضبوط ارادہ تم نے کیا تو بھروسہ کرو خدا پر بیشک اللہ توکل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

اگر تم کو خدا مدد دیوے پھر کوئی تم پر غالب نہیں ہے اور (اگر ہو شان بےنیازی سے) تم کو چھوڑ دے پس ایسا کون ہے جو اس کے بعد تم کو مدد دیوے، اور سب مسلمان خدا ہی پر بھروسہ کریں

مشورہ لینے کا حکم ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اے نبی اللہ ! باوجود اس کے کہ لڑائی میں ایک طرح کی لغزش مسلمانوں سے ہوئی، اس پر بھی تم مسلمانوں سے جو نرمی سے پیش آئے اور کسی پر کچھ خفگی ظاہر نہیں کی، یہ اللہ کی رحمت تھی ورنہ ایسی حالت میں سختی سے پیش آتے تو لوگ اور بےدل ہوجاتے۔ اور لڑائی کی تیاری کے وقت صلاح ومشورہ میں جو اختلاف پڑا اس کا بھی دل میں کچھ خیال نہ لانا چاہیے۔ آئندہ حسب عادت صحابہ سے مشورہ طلب امور میں مشورہ کرلیا کرو تاکہ ان کا جی خوش ہو، اور امت کے لوگوں کو یہ معلوم ہوجاوے کہ مشورہ لینا مشروع ہے۔ ہاں بعد مشورہ کے ہر طرح کا بھروسہ اللہ پر رکھنا چاہئے۔ کہ بغیر مدد اللہ کے کسی کام میں آدمی کو کچھ سرسبزی نہیں ہو سکتی۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کو مشورہ لینے کی ترغیب دی ہے۔
Ayahs 3:161–164

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور شان نہیں کسی نبی کی کہ کچھ چھپا رکھے، اور جو کوئی چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اس چھپائی چیز کو لے کر آئے گا پس تمام دیا جائے گا ہر شخص کو بدلہ اس کے عمل کا جو کیا ہے اور وہ ظلم نہ کئے جائیں گے

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

تو کیا جو کوئی خدا کی رضا پر چلا وہ ہوگا مانند اس شخص کے کہ جو کوئی خدا کے غضب کا مستحق ہوا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا وہ بری جگہ ہے پلٹنے کی

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

یہ لوگ اللہ کے نزدیک درجہ درجہ پر ہیں۔ اور خدا دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

تحقیق بےانتہا نعمت ( لٹا) دی خدا نے مومنوں پر جس وقت ان کے درمیان ان کی قوم میں سے ایک پیغمبر بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور علم سکھاتا ہے، اور البتہ وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بےعنوانیوں کا ذکر فرمایا ہے جو جنگ بدر میں ہوگئی تھیں۔ (1) ایک بےعنوانی تو یہ تھی کہ جنگ بدر کے لوٹ کے مال میں کوئی چیز گم ہوگئی تھی اس پر بعضے مسلمانوں نے یہ بدگمانی گی کہ شاید وہ چیز آنحضرت ﷺ کے کام میں آگئی ہوگی۔ (2) دوسری بےعنوانی یہ کہ ستر قیدی دشمنوں کے جو جنگ بدر میں پکڑے گئے تھے ان کو بغیر مرضی اللہ کے فدیہ لے کر چھوڑ دیا تھا۔ ان دونوں بےعنوانیوں کی سزا میں یہ تمہاری شکست ہو کر ستر آدمی شہید ہوئے ہیں۔ ترمذی اور نسائی میں حضرت علی ؓ سے جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں جب ستر قیدیوں کو فدیہ پر چھوڑنے کی صلاح مسلمانوں میں جم گئی تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اللہ کی طرف سے آئے اور آنحضرت ﷺ سے کہا کہ فدیہ پر یہ ستر قیدی اس شرط سے چھوٹ سکتے ہیں کہ آئندہ کسی لڑائی میں اس قدر آدمی مسلمانوں کے شہید ہوں گے۔ مسلمانوں نے اس شرط الہٰی کو قبول کیا اور قیدیوں کو فدیہ پر چھوڑ دیا۔
Ayahs 3:165–168

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

کیا جس وقت تم کو کوئی مصیبت پہنچی تحقیق اس سے دونی تم پہنچا چکے ہو، تم کہتے ہو :” کہاں سے یہ مصیبت آئی “ (اے محبوب ! ﷺ) تم فرما دو :” وہ تمہاری ہی ذات سے آئی “ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور جو کچھ تم کو اس دن (شکست) پہنچی جس دن دونوں فوجیں بھڑیں تھیں پس خدا کے حکم سے تھی اور تاکہ پہچان کرا دے مومنوں کی

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور اس لئے پہچان کرادے ان لوگوں کی کہ جو منافق ہوئے، اور کہا گیا ان لوگوں کو کہ آؤ لڑو خدا کی راہ میں یا کافروں کو دفع کرو بولے : ” اگر ہم جنگ کرنا جانتے البتہ ہم تمہاری پیروی کرتے “ یہ لوگ اس دن بنسبت ایمان کے کفر کی طرف بہت ہی نزدیک تھے، اپنے منہ سے کہتے ہیں جو نہیں ہے ان کے دلوں میں اور خدا خوب جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

وہ جن لوگوں نے اپنے بھائیوں کی نسبت کہا اور وہ کہنے والے بیٹھ رہے :” اگر وہ ہمارا کہا مانتے مارے نہ جاتے “ تم فرماؤ :” پس خود اپنی ہی موت ٹال دو اگر تم سچے ہو “

احد کی لڑائی میں جو مسلمانوں کو شکست ہوئی اس کی تسلی میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر فرمایا کہ برخلاف مرضی اللہ تعالیٰ نے بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے لیا اور برخلاف حکم اللہ کے رسول کے تیراندازوں نے گھاٹی چھوڑ دی اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شکست میں یہ مصلحت تھی کہ کامل ایماندار اور منافقوں کا اچھی طرح پردہ کھل جاوے۔ وہی ہوا کہ ایمان دار ثابت قدم رہے اور منافق کچھ تو اپنے گھروں میں آن بیٹھے اور کچھ طرح طرح کی باتیں بنانے لگے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ایسی باتوں سے موت کے وقت کو ہرگز نہیں ٹال سکتے۔
Ayahs 3:169–171

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

(ہرگز) ان کو مردہ خیال نہ کرو کہ جو اللہ کی راہ میں مارے گئے بلکہ وہ اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں وہ رزی پاتے ہیں

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

اور خوشی مناتے ہیں اس پر جو اللہ نے عطا کی ہے ان کو اپنے فضل سے، اور خوش ہوتے ہیں اپنے پچھلوں کی ( حالت پر) جو ابھی ان سے نہیں ملے، اس واسطے ان پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

خوش ہوتے ہیں اللہ کی نعمت سے اور اس کے فضل سے، اور اس لئے کہ خدا مومنوں کا اجر ضائع نہٰں کرتا ہے

شہیدوں کی روحوں کا ذکر حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب تمہارے بھائی احد میں شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو سبز پرندوں کے قالب عطا فرمائے اور وہ جنت کے شہروں پر سیر کرتے پھرتے ہیں، جنتی میوے کھاتے ہیں طلائی قنادیل میں زیر عرش معلیٰ ہیں ان میں رہتے ہیں۔ جب انہوں نے کھانے پینے رہنے کے پاکیزہ عیش پائے تو کہا کہ ہمارے بھائیوں کو کون خبر دے گا کہ ہم جنت میں زندہ ہیں تاکہ وہ جنت سے بےرغبتی نہ کریں اور جنگ سے بیٹھ نہ رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہاری خبر تمہارے بھائیوں کو پہنچا دیتا ہوں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس سے ثابت ہوا کہ ارواح باقی ہیں جسم فنا کے ساتھ فنا نہیں ہوتیں۔ اور زندوں کی طرح کھاتے پیتے عیش کرتے ہیں۔ علماء فرماتے ہیں کہ شہداء کے جسم قبروں میں محفوظ رہتے ہیں مٹی ان کو نقصان نہیں پہنچاتی۔ مسلم شریف کی حدیث ہے کہ شہید کے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں سوائے قرض کے۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا :” جس کسی کو راہ خدا میں زخم لگا وہ روز قیامت میں ویسا ہی آئے گا جیسا زخم لگنے کے وقت تھا۔ اس کے خون میں مشک کی خوشبو ہوگی “۔ ترمذی ونسائی کی حدیث میں ہے کہ شہید کو قتل سے تکلیف نہیں ہوتی۔ مگر صرف ایسی جیسے کسی کو رگڑ لگے۔
Ayahs 3:172–175

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا اور رسول کے حکم کو قبول کرلیا بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکا تھا، ان لوگوں کے واسطے کہ نیکی کی اس جماعت میں سے اور پرہیزگاری کی ان کے لئے بڑا ثواب ہے

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

وہ لوگ کہ جن سے لوگوں نے کہا کہ تحقیق کافروں نے تمہارے واسطے لشکر جمع کیا ہے پس اس لشکر سے ڈرو۔ پس (اس بات نے) ان کا ایمان اور زیادہ کیا اور کہا کہ ہمارا خدا کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

پھر یہ مسلمان اللہ کے احسان اور اس کے فضل اور اس کے فضل سے واپس آئے اور ان کو کچھ برائی نہ پہنچی اور خدا کی رضامندی پر چلے اور خدا بڑا فضل والا ہے

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

یہ خبر دینے والا تو صرف شیطان ہی ہے کہ اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے پس تم کافروں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر تم مومن ہو

دوبارہ جنگ کی تیاری جنگ احد سے واپس ہوتے ہوئے ابو سفیان نے آنحضرت ﷺ سے پکار کر کہہ دیا تھا کہ اگلے سال ہماری آپ کے مقام بدر میں جنگ ہوگی۔ حضور نے اس کے جواب میں انشاء اللہ ارشاد فرمایا۔ جب وہ وقت آیا اور ابو سفیان اہل مکہ کو لے کر جنگ کے لئے روانہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں خوف ڈالا، اور انہوں نے واپس ہوجانے کا ارادہ کیا۔ اس موقع پر ابو سفیان کی نعیم بن مسعود اشجعی سے ملاقات ہوئی جو عمرہ کرنے آیا تھا۔ ابو سفیان نے اس سے کہا کہ اے نعیم ! اس زمانہ میں میری لڑائی مقام بدر میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ طے ہوچکی ہے، اور اس وقت مجھے مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ میں جنگ میں نہ جاؤں، واپس چلا جاؤں، تو مدینہ جا اور تدبیر کے ساتھ مسلمانوں کو میدان میں جانے سے روک دے، اس کے عوض میں تجھ کو دس اونٹ دوں گا۔ نعیم نے مدینہ پہنچ کر دیکھا۔ مسلمان جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان سے کہنے لگا : ” تم جنگ کے لئے جانا چاہتے ہو اہل مکہ نے تمہارے لئے بڑے لشکر جمع کئے ہیں، خدا کی قسم تم میں سے ایک بھی پھر کر نہ آئے گا “۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! میں ضرور جاؤں گا چاہے میرے ساتھ کوئی بھی نہ ہو۔ پس حضور ﷺ ستر سواروں کو ہمراہ لے کر حسبنا اللہ ونعم الوکیل پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے۔ بدر میں پہنچے۔ وہاں آٹھ شب قیام کیا۔ مال تجارت ساتھ تھا اس کو فروخت کیا خوب نفع ہوا، امن کے ساتھ گھر واپس آئے دشمن کے مقابلہ کے لئے جرأت سے نکلے اور جہاد کا ثواب پایا۔ (جب کہ دشمن کو سامنے آنے کی جرأت ہی نہ ہوئی) ۔
Ayahs 3:176–178

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

اور (اے محبوب ! ﷺ) تم ان لوگوں کا کچھ غم نہ کرو جو کفر پر دوڑتے ہیں بیشک وہ خدا کو کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے خدا چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کے لئے کچھ حصہ نہ رکھے، اور ان کے واسطے بڑا عذاب ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

تحقیق جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خرید لیا ہے وہ خدا کو ہرگز کچھ بھی ضرر نہ پہنچائیں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

اور کافر لوگ یہ گمان نہ کریں کہ ہمارا مہلت دینا بہتر ہے ان کے لئے، ہم تو اسی لئے انہیں مہلت دیتے ہیں کہ وہ اور گناہ میں پڑیں، اور ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے

اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو قیامت کی تمام چیزوں کا علم عطا فرمایا گیا ہے۔ بخیل کا انجام : بخل کے معنی ہیں :” واجب کا ادا نہ کرنا “۔ یہاں بخل سے زکوٰۃ کا نہ دینا مراد ہے۔ بخاری شریف کی حدیث ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی روز قیامت میں وہ مال سانپ بن کر اس کو طوق کی طرح لپٹے گا اور یہ کہہ کر ڈستا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔
Ayah 3:179

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

خدا مسلمانوں کو اس حال میں ہرگز نہ چھوڑے گا جس پر کہ تم ہو جب تک جدا نہ کر دے ناپاک کو پاک سے، اور (اے لوگو ! ) خدا تم کو غین پر مطلع نہیں کرتا و لیکن خدا چھانٹ لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے، پس ایمان لاؤ خدا پر اور اس کے پیغمبروں پر، اور اگر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے واسطے بڑا اجر ہے

اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو قیامت کی تمام چیزوں کا علم عطا فرمایا گیا ہے۔
Ayah 3:180

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

اور چاہئے کہ گمان نہ کریں وہ لوگ کہ بخل کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے ان کو عطا کیا ہے اپنے فضل سے وہ اس کو ہرگز اپنے لئے بہتر نہ سمجھیں بلکہ یہ ان کے حق میں بہت برا ہے، عنقریب جس میں بخل کیا تھا وہ ان کے گلے کا طوق ہوگا قیامت کے روز، اور خدا ہی وارث ہے آسمانوں اور زمینوں کا، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ خبر رکھتا ہے

بخیل کا انجام : بخل کے معنی ہیں :” واجب کا ادا نہ کرنا “۔ یہاں بخل سے زکوٰۃ کا نہ دینا مراد ہے۔ بخاری شریف کی حدیث ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی روز قیامت میں وہ مال سانپ بن کر اس کو طوق کی طرح لپٹے گا اور یہ کہہ کر ڈستا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔
Ayahs 3:181–182

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 3:181 in the Quran reader

تحقیق خدا نے سنی بات ان لوگوں کی کہ کہا انہوں نے :” خدا فقیر ہے اور ہم دولت مند ہیں “ ہم ابھی لکھ رکھیں گے جو کچھ انہوں نے کہا اور پغمبروں کو ان کا ناحق شہید کرنا اور ہم ان سے کہیں گے :” لو چکھو آگ کا عذاب

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ Open ayah 3:182 in the Quran reader

یہ عذاب اس سبب سے ہے کہ تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور اس سبب سے کہ اللہ نہیں ہے بندوں پر ظلم کرنے والا “

زکوٰۃ پر یہود کا اعتراض شان نزول : ان آیات کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب آیت (من ذالذی یقرض اللہ) اتری تو یہود کہتے تھے کہ اللہ محتاج اور فقیر ہے جو لوگوں سے قرض مانگتا ہے۔ ایک روز ابوبکر صدیق ؓ یہود کے مدرسہ میں گئے وہاں فخاص یہودیوں کا بڑا عالم اور بہت سے یہود جمع تھے۔ فخاص نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے یہی بات کہی کہ اللہ فقیر ہے جو لوگوں سے قرض مانگتا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فخاص کے منہ پر ایک طمانچہ مارا۔ فخاص نے آنحضرت ﷺ سے اس کی فریاد کی۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے طمانچہ مارنے کا سبب پوچھا انہوں نے سارا قصہ بیان کیا۔ فخاص اس بات کے کہنے سے منکر ہوگیا۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ان لوگوں کی گستاخیاں جو یہ لوگ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ کر رہے ہیں اللہ کو وہ سب معلوم ہیں وقت مقررہ آنے کی دیر ہے پھر ان کو سب گستاخیوں کا بدلہ مل جاوے گا۔
Ayahs 3:183–184

اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:183 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ خدا نے ہماری طرف یہ حکم بھیجا ہے کہ ایمان نہ لاویں ہم کسی پیغمبر پر جب تک کہ وہ ہمارے پاس ایسی قربانی نہ لاوے کہ جس کو آگ کھا جاوے تم فرماؤ :” تمہارے پاس بہت سے پیغمبر مجھ سے پہلے معجزات اور یہ حکم لے کر آئے جو تم کہتے ہو پس تم نے ان کو کیوں شہید کیا اگر تم سچے ہو “

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 3:184 in the Quran reader

پس اگر جھٹلائیں تم کو (اے محبوب ! ﷺ) تو تم سے پہلے بہت سے پیغبر جھٹلائے گئے تھے جو صاف نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتاب لائے تھے

یہود کی ایک جماعت نے کہا تھا کہ ہم سے توریت میں عہد لیا گیا ہے کہ جو مدعی رسالت ایسی قربانی نہ لائے جس کو آسمان سے سفید آگ اتر کر کھائے اس پر ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کیونکہ اس شرط کا توریت میں نام ونشان بھی نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ نبی کی تصدیق کے لئے معجزہ کافی ہے، کوئی بھی معجزہ ہو۔ جب نبی نے معجزہ دکھایا، اس کے صدق پر دلیل قائم ہوگئی اور اس کی تصدیق کرنا اور اس کی نبوت ماننا لازم ہوگیا، اور جب تم نے یہ نشانی لانے والے انبیاء ( علیہم السلام) کو قتل کیا اور ان پر ایمان نہ لائے تو ثابت ہوگیا کہ تمہارا یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ قتل انبیاء (علیہم السلام) کو اس مقولہ پر ارادہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں جرم عظیم ترین ہیں اور قباحت میں برابر ہیں، اور شان انبیاء (علیہم السلام) میں گستاخی کرنے والا شان الہٰی میں بےادب ہوجاتا ہے۔
Ayahs 3:185–186

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 3:185 in the Quran reader

ہر جان موت کا ذائقہ چکھنے والی ہے اور تم کو تو پورے بدلے ملیں گے قیامت ہی کے دن پس جو کوئی دور رکھا گیا دوزخ سے اور داخل کیا گیا بہشت میں البتہ وہ مراد کو پہنچا، اور نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر دھوکے کی پونجی

لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ Open ayah 3:186 in the Quran reader

البتہ تم ضرور آزمائے جاؤ گے اپنے مالوں اور اپنے جانوں میں، اور البتہ سنو گے ان لوگوں سے کہ جن کو کتاب ملی ہے پہلے تم سے اور مشرکوں سے دل آزاری کی بہت سی باتیں، اور اگر تم صبر کرو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو بیشک یہ بڑی ہمت کا کام ہے

موت کی حقیقت یہ آیتیں اس ہدایت کی تکمیل میں نازل فرما کر فرمایا کہ یہ تو آخر سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ دنیا میں اچھے برے کسی کو قیام نہیں۔ موت سب کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ اچھے برے جو مر گئے ان کو تو دنیا کی بھلائی برائی کا نتیجہ معلوم ہوگیا جو رہ گئے ہیں ان کو بھی یہی موقع پیش آنے والا ہے، فقط آنکھ بند ہونے کی دیر ہے اور آنکھ کا بند ہونا کچھ دور نہیں کوئی اس میں آگے ہے کوئی پیچھے۔ اور جب برائی بھلائی کا نتیجہ وقت مقررہ پر سامنے آنے والا ہے تو بھلوں کو ہر طرح کی آزمائش کا موجب اجر جاننا اور اس پر صبر کرنا چاہیے کہ دنیا میں بڑی ہمت اور عقبیٰ میں بڑے اجر کا کام ہے۔ دنیا کی حقیقت اس مبارک جملہ نے بےحجاب کردی۔
Ayah 3:187

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ Open ayah 3:187 in the Quran reader

اور یاد کرو جب خدا نے عہد لیا اہل کتاب سے کہ تم ضرور کتاب کو لوگوں کے سامنے بیان کردینا اور اس کو نہ چھپانا پس پھینک دیا اس عہد کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کئے، پس بہت ہی برا سودا کر رہے ہیں

ان آیتوں میں یہ تنبیہ فرمائی کہ دنیا کے تھوڑے سے لالچ کے لئے اتنے بڑے سخت اور قدیمی معاہدہ کی مخالفت جو ان لوگوں نے اختیار کی ہے، اور پھر اس پر اس بات کی ان کو خوشی ہے کہ ان کی چوری کوئی نہیں پکڑ سکتا۔ یہ ان کی تجارت ایک بڑے ٹوٹے (نقصان) کی ہے۔ دنیا چند روزہ ہے اس میں چل پھر کر اگر کچھ کیا، یا کما لیا تو پھر عقبیٰ کے ابد الآباد عذاب سے بچ کر کہاں جاویں گے۔ وہ اللہ جس کی بادشاہت زمین وآسمان میں ہے کیا کوئی ایسا ہے جو ان کو عذاب سے چھڑا سکے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ جو عالم جان کر کسی دین کی بات کو چھپاوے گا تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جاوے گی۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اور حاکم نے اس حسن کو بخاری ومسلم کی شرط کے موافق صحیح بتلایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے علماء توریت وانجیل پر واجب کیا تھا کہ ان دونوں کتابوں میں حضرت محمد ﷺ کی نبوت پر دلالت کرنے والے جو دلائل ہیں وہ لوگوں کو خوب اچھی طرح شرح کرکے سمجھا دینا اور ہرگز نہ چھپانا۔
Ayahs 3:188–189

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:188 in the Quran reader

ہرگز گمان نہ کرنا ان لوگوں کو جو خوش ہوتے ہیں اس سے جو کچھ کیا ہے اور چاہتے کہ تعریف کئے جائیں ساتھ اس کے جو کام نہیں کیا ہے پس ہرگز نہ خیال کرہ کہ انہوں نے عذاب سے خلاصی پائی ہے اور ان کے لئے عذاب ہے درد دینے والا

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 3:189 in the Quran reader

اور خدا ہی کے واسطے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

جھوٹ بول کر اپنے تعریف کے خواہاں پر عذاب کا ذکر شان نزول : جو لوگ اس بےجا حرکت یعنی پیغمبر آخر الزماں ﷺ کی تعریف چھپانے سے خوش ہوتے ہیں اور اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی تعریف کی جائے۔ ایسے لوگوں کا اے محمد ﷺ آپ کوئی وقعت و اعتبار نہ سمجھیں۔ آنحضرت ﷺ نے یہود سے ایک بات پوچھی، یہود نے اس کا واقعی جواب چھپا کر دوسری طرح پر بات شروع کی اور ایسی بات بنا کر ظاہر کی کہ گویا سچا جواب دیا، اور جھوٹ جواب پر تحسین کے خواہاں بھی تھے۔ پس یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے محمد ﷺ تم یہ نہ سمجھنا کہ یہ عذاب سے چھوٹ جائیں گے اور ان کے واسطے دردناک عذاب ہے۔ آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہت اللہ ہی کے واسطے ثابت ہے اور اس کی ذات مقدس ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayah 3:190

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ Open ayah 3:190 in the Quran reader

بیشک آسمانوں کی اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے بدلنے میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لئے

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ قریش نے یہود کے پاس جاکر پوچھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس کیا لائے تھے۔ کہا :” عصا اور ید بیضا “۔ پھر انصار کے پاس جاکر پوچھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کیا کرتے تھے۔ کہا کہ اندھوں کو بینا کرنا اور مردوں کو جلانا، روگیوں کو چنگا کرنا، بیماروں کو ٹھیک کرنا۔ یہ سن کر قریش آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ تم خدا سے دعا کرو کہ کوہ صفا ہمارے لئے سونا کردے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ تم ان نشانیوں میں غور کرو۔ نبی سے معجزہ مانگنا کیا ضروری ہے جو بات وہ کہتا ہے یعنی توحید اس کی نشانیاں سارے عالم میں نمودار ہیں۔ مسئلہ : علماء پر واجب ہے کہ اپنے علم سے فائدہ پہنچائیں اور حق ظاہر کریں اور کسی غرض فاسد کے لئے اس میں سے کچھ نہ چھپائیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جس شخص سے کسی نے کچھ دریافت کیا جس کو وہ جانتا ہے اور اس نے کچھ چھپایا، روز قیامت میں اس کے منہ میں آگ کی لگام لگائی جائے گی۔
Ayahs 3:191–192

الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا١ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 3:191 in the Quran reader

جو لوگ کہ خدا کو کھڑے اور بیٹھے یاد کرتے ہیں اور اپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے اور غور کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، (کہتے ہیں) ” اے رب ہمارے ! نہیں پیدا کیا تو نے اس کو بےفائدہ، پاکی ہے تیرے واسطے پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا لے

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 3:192 in the Quran reader

اے پروردگار ہمارے ! تحقیق تو جس کو داخل کرے دوزخ میں، بیشک تو نے اس کو رسوا کردیا اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں

مسلم شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ تمام احوال میں اللہ کا ذکر فرماتے تھے۔ بندہ کا کوئی حال یاد الہٰی سے خالی نہ ہونا چاہئے۔
Ayahs 3:193–194

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا١ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ Open ayah 3:193 in the Quran reader

اے رب ہمارے ! البتہ ہم نے بلند آواز سے پکارنے والے کو ایمان کی طرف پکارتے سنا ہے کہ اپنے رب کی طرف ایمان لاؤ پس ہم ایمان لے آئے، اے رب ہمارے ! ” پس ہمارے گناہوں کو معاف کردے اور ہماری برائیاں دور کردے اور نیکوں کے ساتھ ہم کو موت دے “

رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ Open ayah 3:194 in the Quran reader

اے رب ہمارے اور ہم کو وہ عنایت کر جو کچھ تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے اپنے رسولوں کی معرفت اور ہم کو قیامت کے دن رسوا نہ کر بیشک تو نہیں وعدہ خلافی کرتا

منادی سے مراد نبی ﷺ ہیں یا قرآن شریف ہے۔
Ayah 3:195

فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى١ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ Open ayah 3:195 in the Quran reader

پس ان کی دعا قبول کرلی ان کے پروردگار نے کہ میں کسی کام والے کی محنت ضائع نہیں کرتا تم میں سے خواہ مرد ہو خواہ عورت (کیونکہ) تم آپس میں ایک ہو، پس وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھر سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گئے بیشک ان کے سب گناہ دور کروں گا اور ضرور میں ان کو بہشتوں میں داخل کروں گا نیچے ان کے چلتی ہیں نہریں، (یہ) اللہ کے پاس سے ثواب ہے اور اللہ ہی کے یہاں اچھا ثواب ہے

اللہ تعالیٰ عورت مرد کو برابر کا اجر دیتا ہے شان نزول : حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ ایک روز میں نے آنحضرت ﷺ سے ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی ہجرت کے اجر کا ذکر قرآن شریف میں نہیں فرمایا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نیک کاموں کا بڑا قدر دان ہے۔ خواہ کوئی مرد کرے یا عورت، اللہ تعالیٰ ضرور اس کا اجر دیوے گا۔