3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 3:196–198

لَا یَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِی الْبِلَادِؕ Open ayah 3:196 in the Quran reader

(اے سننے والے) فریب میں نہ ڈالے تجھ کو کافروں کا شہروں میں آنا جانا

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۫ ثُمَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:197 in the Quran reader

یہ تھوڑا سا (دنیا کا) اسباب ہے پھر (تو) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور وہ بری جگہ ہے

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ Open ayah 3:198 in the Quran reader

لیکن جو لوگ کہ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بہشتیں ہیں جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے (یہ) اللہ کی طرف سے مہمانی ہوگی اور جو کچھ اللہ کے یہاں ہے نیکی کرنے والوں کے لئے بہت ہی بہتر ہے

شان نزول : مسلمانوں کی ایک جماعت نے کہا کہ کفار ومشرکین اللہ کے دشمن تو عیش و آرام میں ہیں اور ہم تنگی ومشقت میں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں یہ کہا گیا کہ یہ عیش عارضی ہے اور اس کا انجام خراب ہے۔
Ayahs 3:199–200

وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:199 in the Quran reader

اور البتہ اہل کتاب سے بعض وہ لوگ ہیں کہ ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور اس پر جو کچھ تمہاری طرف اتارا گیا اور جو کچھ ان کی طرف اتارا گیا ان کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے ( ہیں) ، اللہ کی آیتوں کے بدلے ذلیل دام نہیں لیتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ثواب ان کے پروردگار کے پاس ہے، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 3:200 in the Quran reader

اے مومنو ! ٓصبر کرو اور محنت کی برداشت کرو اور جہاد کے واسطے تیار رہو اور خدا سے ڈرو تاکہ تم مراد کو پہنچو

شان نزول : نجاشی بادشاہ حبشہ کا جب انتقال ہوگیا تو آپ نے صحابہ کرام کو ساتھ لے کر بقیع میں جا کر نجاشی کی نماز غائبانہ پڑھی۔ بعضے منافقوں نے یہ چرچا کیا کہ نصرانی غلام حبشی کی نماز جنازہ مسلمانوں سے حضور ﷺ نے کیوں پڑھوائی۔ اس چرچے کو غلط ٹھہرانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت یہ ہیں کہ سب اہل کتاب ایک سے نہیں ہیں۔ بعضے وہ ہیں کہ عہد کے بعد اللہ کے احکام کو بدلتے اور چھپاتے ہیں۔ جن کا ذکر اوپر گزرا اور بعضے وہ ہیں جو اللہ کی کتابوں پر پورا ایمان رکھتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھ اور نجاشی۔ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ اجر دیوے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ نجاشی در پردہ مسلمان تھا۔ بخاری ومسلم میں ہے کہ حضرت عمر ؓ آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کی دولت سرائے میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ سلطان کونین ایک بوریئے پر آرام فرما ہیں۔ چمڑے کا تکیہ جس میں ناریل کے ریشے بھرے تھے، زیر سر مبارک ہے۔ جسم اقدس میں بوریئے کے نشان ہوگئے ہیں یہ دیکھ کر حضرت فاروق ؓ رو پڑے۔ حضور نے رونے کا سبب دریافت کیا تو عرض کیا :” یا رسول اللہ ! قیصر وکسریٰ تو عیش و راحت میں ہوں اور آپ رسول خدا ہو کر اس حالت میں “ فرمایا :” کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ ان کے لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے آخرت “۔