4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمظہر القرآن

Ayah 4:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا Open ayah 4:1 in the Quran reader

اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت مرد اور بہت عورتیں پھیلائے، اور ڈرو خدا سے جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو، بیشک خدا ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے

یتم کے مال کی حفاظت کا حکم حضرت حوا سلام اللہ علیہا کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی بائیں پسلی سے پیدا کیا۔ اور ان دونوں سے بہت پور بڑھائی، بہیترے مرد اور عورت پیدا کئے اور ڈرو اس اللہ سے جس سے تم حاجت مانگتے ہو، اور قرابت کے توڑنے سے ڈرو یعنی ہر ایک سے مہربانی کے ساتھ رشتہ کرو۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ رحم عرش معلیٰ میں لٹکا ہو ہے اور یہ کہتا ہے کہ یا اللہ ! جو شخص صلہ رحمی کرے اس پر رحم فرما اور جو قطع رحمی کرے اس کو کاٹ ڈال۔ خواص سورة النساء : جو کوئی اس سورة کو زعفران سے لکھ کر تین روز متواتر دھو کر پیے، خدا کے فضل سے جس قسم کا ڈر یا خوف رکھتا ہو اس سے نجات ملے۔ نیز واسطے پارسائی عورت کے دس بار اس سورة کو پڑھے اور دعا کرے۔ انشاء اللہ فائدہ ہوگا۔
Ayah 4:2

وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا Open ayah 4:2 in the Quran reader

اور یتیموں کو ان کے مال دو اور پاک کو ناپاک سے نہ بدلو، اور نہ کھاؤ مال ان کے اپنے مالوں میں ملا کر، تحقیق یہ بڑا گناہ ہے

شان نزول : ایک شخص کی نگرانی میں اس کے یتیم بھتیجے کا کثیر مال تھا۔ جب وہ یتیم بالغ ہوا اور اس نے اپنا مال طلب کیا تو چچا نے دینے سے انکار کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس کو سن کر اس شخص نے یتیم کا مال اس کے حوالے کیا اور کہا کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں۔
Ayah 4:3

وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ Open ayah 4:3 in the Quran reader

اور اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ نہ انصاف کرسکو گے یتیم لڑکیوں کے حق میں تو پھر جو اور عورتیں تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرو دو دو سے اور تین تین سے اور چار چار سے، پس اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ (کئی بیویوں میں) عدل نہ کرسکو گے تو ایک ہی عورت سے نکاح کرو یا لونڈیوں پر بس کرو جن کے تم مالک ہو، یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو

لوگ یتیموں کی ولایت وسرپرستی میں تو ناانصافی کرتے تھے اور بہت سے نکاح کرنے میں کچھ پاس نہیں رکھتے تھے۔ ان کو بتایا گیا کہ جب زیادہ عورتیں نکاح میں ہوں تو ان کے حق میں ناانصافی ہونے سے بھی ڈرو۔ اتنی ہی عورتوں سے نکاح کرو جن کے حقوق ادا کرسکو۔ قریش زیادہ نکاح کرتے تھے جب ان کا بار نہیں اٹھا سکتے تھے تو جو یتیم لڑکیاں ان کی سرپرستی میں ہوتیں اس کے مال خرچ کرتے۔ اس پر اس آیت میں آیا کہ چار سے زیادہ نکاح نہ کرو تاکہ ان کے حقوق برابر رکھ سکو۔
Ayah 4:4

وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader

اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دو ، پس اگر وہ عورتیں اپنے دل کی خوشی سے مہر میں تمہیں کچھ چھوڑ دیں تو اس کو خوش ہو کر شوق سے کھاؤ

اس آیت سے معلوم ہوا کہ مہر کی مستحق عورتیں ہیں نہ کہ ان کے اولیاء۔ اگر اولیاء (ورثاء) نے مہر وصول کرلیا ہے تو انہیں لازم ہے کہ وہ مہر اس کی مستحق عورت کو پہنچا دیں۔ عورتوں کا اختیار ہے کہ وہ اپنے شوہر کو مہر کا کوئی جزو ہبہ کردیں۔ (معاف کردیں)
Ayah 4:5

وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader

اور نہ دو بیوقوفوں کو اپنے وہ مال جس کو خدا نے تمہارے واسطے سرمایہ زندگی بنایا ہے اور کھلاؤ ان کو اور پہناؤ ان کو ان (مالوں) میں سے اور ان سے بات اچھی کہو

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بد سلیقہ خواہ بی بی بچے ہوں یا یتیم، مال ان کے حوالے نہ کیا جائے۔ ہاں ان کو اس مال میں سے کھلانا چاہیے اور ایسی باتیں ان سے کریں کہ ان کا دل خوش ہو وے۔
Ayah 4:6

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور یتیموں کو آزماتے رہو جب تک کہ وہ نکاح کے قابل ہوں، پس اگر تم ان کی سمجھ ٹھیک دیکھو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو ، اور ان کے مال کو نہ کھاؤ حد سے بڑھ کر اور اس جلدی میں کہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں، اور جو کوئی آسودہ ہو تو اس کو بچنا چاہئے، اور اگر کوئی محتاج ہو پس وہ مناسب مقدار سے کھائے، پس جب ان کے مال ان کے سپرد کرو تو ان پر گواہ کرلو، اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو

اس کے یہ معنی ہیں کہ یتیم لڑکا لڑکی جب بالغ ہوجاویں اور مال سنبھالنے کے قابل نظر آویں اس وقت ان کا مال دو گواہوں کے رو برو حوالہ کر دو تاکہ آئندہ جھگڑا نہ پڑے۔
Ayah 4:7

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

مردوں کے واسطے حصہ ہے اس چیز سے کہ چھوڑ جائیں ماں باپ اور ناتے والے اور عورتوں کے واسطے بھی حصہ ہے اس چیز سے کہ چھوڑ جائیں ماں باپ اور ناتے والے (رشتہ دار) خواہ ترکہ تھوڑا ہو یا بہت، حصہ مقرر کیا گیا ہے

میراث کا بیان اس آیت سے معلوم ہوا کہ زمانہ جاہلیت میں عورتوں اور بچوں کو ورثہ نہ دیتے تھے۔ اس آیت میں اس رسم کو باطل کیا گیا۔
Ayah 4:8

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور جب تقسیم کے وقت رشتہ دار ( جن کا کوئی حصہ معین نہیں) اور یتیم اور مساکین آجائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دو اور ان کو اچھی بات کہو

اس آیت سے ظاہر ہے کہ میت کے ترکہ سے غیر وارث رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کو کچھ بطور صدقہ دینے اور قول معروف کہنے کا حکم دیا۔ زمانہ صحابہ میں اس پر عمل تھا۔ مسلمانوں میں یہ معمول ہے کہ وہ بھی اس آیت کا اتباع کرتے ہیں جس کو سوئم کہتے ہیں لیکن اسراف بےجا نہیں کرنا چاہیے اور عذر نرم لفظوں میں کردیا جاوے۔
Ayahs 4:9–10

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

اور چاہئے کہ ڈریں کہ اگر وہ لوگ اپنے پیچھے اپنی ناتواں اولاد چھوڑ جائیں تو ان کا کیسا خطرہ ہو (کہ کہیں ضائع نہ ہوجائیں) پس چاہئے کہ ڈریں اللہ سے اور سیدھی بات کہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

بیشک جو لوگ یتیموں کا مال کھاتے ہیں ظلم سے وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اور عنقریب جلتی آگ میں داخل ہوں گے

قریب المرگ بیمار کے پاس اوپر والے لوگ ایسی ایسی صلاحیں دیا کرتے تھے کہ وہ حق دار وارثوں کا حق مار کر غیروں کے نام پر تیسرے حصہ سے زیادہ نام ونمود کے لئے وصیت کرے۔ ان کی ممانعت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آنحضرت ﷺ نے ایک دن فرمایا کہ قیامت کے دن ایک گروہ خلقت کا قبروں سے اٹھے گا تو ان کے ک منہ، آنکھ، ناک اور کانوں سے آگ کے شعلے نکلتے ہوں گے۔ صحابہ نے پوچھا کہ حضرت وہ کون لوگ ہیں آپ نے فرمایا :” یتیموں کا مال کھانے والے “ اور وصیت میں بےاحتیاطی کی ممانعت فرمائی۔
Ayah 4:11

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader

تم کو حکم کرتا ہے خدا تمہاری اولاد کے بارے میں، مرد کا حصہ ہے دو عورتوں کے برابر پس اگر (اولاد میت کی) صرف لڑکیاں ہوں دو سے زیادہ تو ان کے واسطے دو تہائی حصہ ہے اس میں سے جو میت نے چھوڑا ہے اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو آدھا اس کو ملے گا، اور میت کے ماں باپ کے واسطے ہر ایک کو ان میں سے چھٹا حصہ اس سے جو چھوڑا گیا ہے بشرطیکہ میت کے کوئی اولاد ہو۔ پس اگر اس کے کوئی اولاد نہ ہو اور ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کے لئے تہائی حصہ ہے، پس اگر میت کے کئی بہن بھائی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ ہے مگر یہ حصے میت کی وصیت کے نکالنے کے بعد یا ادائے قرض کے بعد تقسیم ہوں گے، تمہارے باپ اور تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم جان نہیں سکتے کہ ان میں کون سا تمہارے نزدیک زیادہ نفع پہنچانے میں ہے، یہ حصہ مقرر کیا گیا اللہ کی طرف سے بیشک اللہ بڑا علم و حکمت والا ہے

اس آیت میں دو میراثیں بیان فرمائیں اولاد کی اور ماں باپ کی۔ اولاد میں اگر لڑکے لڑکیاں دونوں ہوں تو لڑکوں کا دوہرا حصہ ہے اور لڑکیوں کا اکہرا۔ اور اگر میت کا کوئی لڑکا نہ ہو بلکہ فقط ایک لڑکی اولاد میں ہو تو آدھا مال لیوے، اور کئی لڑکیاں ہوں تو دہ تہائی مال برابر بانٹ لیویں۔ اگر میت نے کچھ وصیت کی ہو یا اس کے ذمہ کچھ قرض ہو تو اجرائے وصیت اور ادائے قرض کے بعد یہ حصے ہوں گے۔ آخر آیت کا مطلب یہ ہے کہ میت کا نفع ماں باپ و اولاد دونوں سے متعلق ہے۔
Ayahs 4:12–14

وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ Open ayah 4:12 in the Quran reader

اور تمہارے واسطے آدھا ہے اس میں سے جو تمہاری بیبیاں چھوڑ گئی ہیں اگر ان کے کوئی اولاد نہ ہو، پس اگر ان کے کوئی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی حصہ ہے بعد ادائے وصیت کے جو وہ کہہ مری ہیں یا بعد ادائے قرض کے، اور بیویوں کو تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی حصہ ہے اگر تمہاری اولاد نہ ہو۔ پس اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کے لئے آٹھوں حصہ ہے۔ اس میں سے جو تم نے چھوڑا ہے بعد ادائے وصیت کے کہ جو تم اس کی وصیت کر جاؤ یا قرض نکال کر، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹتا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ہے۔ پس اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو وہ سب تہائی میں شریک ہوں گے وصیت نکالنے کے بعد کہ اس کی وصیت کی گئی ہو یا ادائے قرض کے بعد جس میں اسے نقصان نہ پہنچا ہو، یہ خدا کی طرف سے حکم کیا گیا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بردبار ہے

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 4:13 in the Quran reader

یہ سب خدا کی حدیں مقرر کی ہوئی ہیں اور جو کوئی فرماں بردار کرے خدا کی اور اس کے رسول کی داخل کرے گا اس کو بہشتوں میں چلتی ہیں جن کے نیچے نہریں اس میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بڑی کامیابی ہے

وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 4:14 in the Quran reader

اور جو کوئی نافرمانی کرے اللہ اور اس کے رسول کی اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے نکل جائے اللہ اس کو آگ میں داخل کرے گا اس میں ہمیشہ رہے گا اور (یہ) اس کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے

حاصل مطلب یہ ہے کہ بی بی کے مال میں شوہر کا آدھا حصہ ہے جبکہ بی بی کی اولاد نہ ہو، اور اگر اس شوہر یا اور شوہر سے اولاد ہو تو شوہر کا چوتھائی حصہ مال کا ہے۔ اس طرح شوہر کے مال میں بی بی کا چوتھائی حصہ ہے جبکہ شوہر کی کوئی اولاد نہ ہو ۔ اور اگر اولاد ہو تو بی بی کو آٹھواں حصہ ملے گا۔ عورت کا مہر قرض میں داخل ہے۔ اب میاں بی بی کی میراث کے بعد آیت میں بھائی بہن کی میراث کا جو ذکر ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ باپ اور بیٹے کے ساتھ بھائی اور بہن کو کچھ نہیں ملتا۔ جب باپ اور بیٹا نہ ہوں تو میت کے بھائی بہن کی یہ صورت ہے کہ اگر وہ بھائی بہن سگے ہوں یا فقط باپ میں شریک ہوں تو ان کا حصہ مثل میت کے اولاد کے دوہرا اور اکہرا ہے، لیکن ان کے حصہ کا ذکر اس آیت میں نہیں ہے بلکہ اس آیت میں فقط ان بھائی بہن کے حصہ کا ذکر ہے جو ماں شریک ہیں کہ ایک کو ان میں سے چھٹا حصہ ہے اور زیادہ کو تہائی۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ جس میت کا باپ بیٹا دونوں میں سے کوئی نہ ہو اس کو کلالہ کہتے ہیں۔ شروع رکوع سے یہاں تک حصہ داروں کا بیان ہوا۔ زیادہ تفصیل اس کی فرائض کی کتابوں میں ہے۔ اب حصہ داروں کے سوا اور قسم کے وارث ہیں جن کو عصبہ کہتے ہیں ان کا کچھ حصہ نہیں ہے۔ لیکن اگر حصہ دار نہ ہوں تو عصبہ سب مال لے لیتا ہے اور کبھی عصبہ کو حصہ داروں سے بچا ہوا مال مل جاتا ہے۔ جیسے اوپر گزرا کہ میت کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ ہوں تو ماں کو تہائی مال دے کر باقی سب مال باپ کو مل جاتا ہے۔ اگر حصہ دار اور عصبہ دونوں نہ ہوں تو تیسری قسم ذوی الارحام کی ہے وہ ایسے قرابت دار ہیں جن میں عورت کا واسطہ ہے جیسے نانا یا نواسا، ان کا حساب بھی عصبہ کا سا ہے۔ زیادہ تفصیل فقہ کی کتابوں میں ہے۔ وصیت میں نقصان کی دو صورتیں ہیں یا تو یہ کہ تہائی سے زیادہ وارثوں کے سوا کسی اجنبی شخص کے نام وصیت کرائی جاوے یا یہ کہ جس وارث کا حصہ معین ہے، اس کو اپنی طرف سے رعایت کر کے کچھ زیادہ کی وصیت کردے۔
Ayahs 4:15–16

وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا Open ayah 4:15 in the Quran reader

اور تمہاری عورتوں میں جو کوئی بدکاری کریں پس ان پر چار مرد اپنوں میں سے گواہ طلب کرو، پس اگر انہوں نے گواہی دے دی تو ان عورتوں کو بند رکھو گھروں میں یہاں تک کہ وہ مر جاویں یا اللہ ان کے واسطے کوئی راہ مقرر کرے

وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader

اور جو دو مرد تم سے بےحیائی کا کام کریں تو ان دونوں کو سزا دو پس اگر وہ توبہ کرلیں اور نیک ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو ، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

زنا کاری و توبہ اور مہر کا بیان حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ سورة نور کی آیت ” الزانیۃ والزانی “ کے نازل ہونے تک بدکار عورت کو بدکاری سے باز رکھنے کے لئے گھر میں تازیست بند رکھنے کا حکم تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ سورة نور میں کنواری عورت ومرد کے لئے سو کوڑے مارنے اور سال بھر کی جلا وطنی کا اور بیا ہے ہوئے مردو عورت کے لئے سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ مسند امام احمد، صحیح مسلم اور سنن میں عبادہ بن صامت سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سورة نور کی آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایسی عورتوں کے تازیست گھر میں بند رکھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ نے کنوارے مرد وعورت کے لئے سو کوڑے اور ایک برس کی جلا وطنی کا اور بیا ہے ہوئے مرد وعورت کے لئے سنگسار کرنے کا حکم نازل فرما دیا اس حکم کو یاد کرلو۔
Ayahs 4:17–18

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:17 in the Quran reader

وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ ان ہی کی ہے جو نادانی سے گناہ کر بیٹھیں، پھر جھٹ سے (فوراً ) توبہ کرلیں پس ایسے لوگوں پر خدا اپنی رحمت سے توجہ فرماتا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہے

وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:18 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی توبہ قبول نہیں کہ جو گناہ کرتے رہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آئے کہنے لگے کہ میں نے اب توبہ کی اور نہ ان کی (کچھ توبہ ہے) جو کافر مریں، یہ لو ہیں کہ ہم نے ان کے واسطے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے

توبہ کب تک قبول ہوتی ہے ؟ توبہ کے قبول ہونے کا وقت وہی ہے کہ آدمی گناہ کر کے اضطرار کی حالت سے پہلے توبہ کر لیوے ورنہ موت کے آثار پیدا ہوجانے اور اضطرار کی حالت پیش آجانے کے وقت کی توبہ قبول نہیں ہوئی، اسی طرح غراٹا لگ جانے اور دم اکھڑ جانے کے وقت کوئی شخص توبہ کرے گا تو اس کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ توبہ قبول ہونے کے لئے آئندہ گناہ سے باز رہنے اور نیک کام کرنے کا ارادہ کرنا ضروری ہے۔
Ayahs 4:19–21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

اے مومنو ! تم کو یہ حلال نہیں ہے کہ تم زبردستی سے عورتوں کے وارث بن جاؤ، اور نہ ان کو اس نیت سے روک رکھو جہ جو مہر ان کو دیا تھا اس میں سے کچھ واپس لے لو مگر اس صورت میں کہ کریں وہ کھلم کھلا بدکاری (یا شوہر کی نافرمانی تو مضائق نہیں) ، اور گزران کرو عورتوں کے ساتھ اچھی طرح سے۔ پھر اگر وہ تم کو نہ بھاویں تو قریب ہے کہ تم کو بعض چیز ناپسند ہو اور اس میں تمہارے ساتھ اللہ بہت بھلائی رکھے

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اور اگر مت چاہو بدلنا ایک بی بی کی جگہ دوسری بی بی اور ان میں سے ایک کو بہت سا مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو، کیا بہتان باندھ کر اور صریح گناہ سے اس کو لو گے

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور تم اس کو کیونکر لو گے حالانکہ ایک دوسرے سے خلوت کرچکا ہے اور عورتوں نے مت سے مضبوط عہد لیا ہے

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسلام سے پہلے یہ دستور تھا کہ مردے کے وارث بیوہ عورت کو غیر جگہ نکاح نہیں کرنے دیتے تھے۔ بلکہ مجبور کرکے خود ہی کرتے تھے اور اگر دوسرے شخص سے نکاح کرنے کی اجازت دیتے بھی تو مہر کی ساری رقم یا جزو اس عورت سے خود لے لیتے تھے۔ اس دستور کو اسلام میں بند کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 4:22

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

اور نہ نکاح کرو ان عورتوں سے کہ ان کے ساتھ تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے مگر جو بات گزر گئی، تحقیق یہ بےحیائی ہے اور گناہ کی بات، اور بہت بری راہ ہے

کن کن عورتوں سے نکاح حرام ہے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں رواج تھا کہ اپنے ماں کے سوا باپ کے بعد اس کی دوسری عورت کو بیٹا بیاہ لیتا تھا کیونکہ باپ کی بیوی بمزلہ ماں کے ہے۔ جس سے اس نے صحبت کی ہو خواہ نکاح کرکے یا بطریق زنا۔ یا وہ باندی ہو اس کا ہو مالک ہو کہ ان میں ہر صورت میں بیٹے کا اس سے نکاح حرام ہے۔
Ayah 4:23

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور تمہاری بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے اور تمہاری دودھ اور تمہاری دودھ (شریک) بہنیں اور تمہاری بیبیوں کی مائیں اور بیٹیاں تمہاری بیبیوں کی جو کہ تمہاری پرورش میں رہتی ہیں ان بیبیوں سے جن سے تم نے صحبت کی ہو۔ پس اگر تم نے صحبت نہ کی ہو ان بیبیوں سے تو ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں اور حرام ہیں تمہارے ان بیٹوں کی بیبیاں جو کہ تمہاری نسل سے ہیں، اور حرام ہے دو بہنوں کا جمع کرنا لیکن جو پہلے گزر چکا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

ان آیتوں میں ایسی عورتوں کا ذکر فرمایا ہے جن سے نکاح حرام ہے۔ آدمی کی پیدائش جس خاندان میں ہوئی اس میں سے سات عورتیں اس شخص پر حرام ہیں وہ عورتیں یہ ہیں : ماں، بہن، بیٹی، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی، ان سب کو محرمات نسبی کہتے ہیں۔ دودھ پلانے سے بھی جو عورتیں اس رشتے کی ہوں وہ ساتوں حرام ہیں۔ بیاہ شادی کے سبب سے ساس اور سوتیلی بیٹی کے حرام ہونے کا ذکر بھی اس آیت میں ہے۔ سوتیلی ماں کا ذکر اوپر کی آیت میں گزرا۔ سوتیلی بیٹی کے حرام ہونے کی یہ شرط بھی ہے کہ اس کی ماں سے اس سوتیلے باپ نے صحبت بھی کی ہو۔ ان ماؤں سے طلاق یا موت وغیرہ کے ذریعہ سے قبل صحبت جدائی ہونے کی صورت میں ان کے ساتھ نکاح جائز ہے۔ اس سے متبنیٰ (منہ بولے بیٹے) نکل گئے ان کی عورتوں کے ساتھ نکاح جائز ہے۔ اور رضاعی بیٹے کی بی بی بھی حرام ہے کیونکہ وہ نسبتی کے حکم میں ہے۔ پوتے پڑ پوتے بیٹوں میں داخل ہیں یہ بھی حرام ہیں۔ دونوں بہنوں کو نکاح میں ساتھ لانا حرام ہے۔ اسی طرح ایک عورت اور اس کی پھوپھی یا خالہ دونوں میں سے کوئی بھی اسی عورت کے ساتھ نکاح میں نہیں رکھی جاسکتی۔ شان نزول : زمانہ جاہلیت کا دستور یہ بھی تھا کہ جس کو اپنی زبان سے بیٹا کہہ کر متبنیٰ بنا لیا تو پھر اس کی بیوی سے اپنا نکاح کرنا حرام جانتے تھے۔ اس رسم بد کو توڑنے کو بنی مکرم ﷺ نے اپنے متبنیٰ زید بن حارثہ کی بیوی زینب سے ان کے طلاق دینے کے بعد نکاح کرلیا۔ اس پر مشرکین نے بہت طعن کئے، تب صلبی بیٹوں کی بیبیاں حرام ہونے کے حکم میں یہ آیت نازل ہوئی۔ جس سے متبنیٰ کی بیوی کا حرام ہونا باطل معلوم ہوا۔ (لباب المنقول)
Ayah 4:24

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader

اور وہ عورتیں جو کہ شوہر والیاں ہیں حرام کی گئیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آجائیں، یہ خدا کا نوشتہ ہے تم پر اور ان کے سوا اور عورتیں تمہارے واسطے حلال کی گئی ہیں یہ کہ تم بذریعہ اپنے مالوں کے نکاح طلب کرو بیوی بنانے کی غرض سے نہ کہ مستی نکالنے کے لئے ، پس جن عورتوں سے تم نے (صحبت کا) لطف حاصل کیا ہے پس ان کو مہران ان کا مقرر کیا ہوا دو ، اور نہیں ہے تم پر گناہ اس میں کہ آپس میں راضی ہوگئے یعنی (کمی مہر) پر بیشک خدا جاننے والا پختہ کا رہے۔

حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ خاوند والی عورت سے دوسرے کو صحبت حرام ہے کہ حمل کے ہونے نہ ہونے کا حال معلوم ہوجاوے تاکہ آئندہ اولاد میں شبہ نہ پڑے کہ کس کی ہے ۔ اس آیت سے چند روزہ نکاح کے جائز ہونے کا مطلب نکالا ہے جس کو متعہ کہتے ہیں ۔ اوائل اسلام میں یہ چند روزہ نکاح جائز تھا مگر اب قطعی حرام ہے اور قیامت تک حرام رہے گا۔ جن عورتوں سے تم نے نکاح کیا اور ان سے گھر داری کی ، ان کا مہر ادا کرنا تم پر واجب ہے ۔ اگر میاں بی بی کی رضا مندی سے اس میں کچھ کمی وبیشی ہو تو اس کا مضائقہ نہیں اللہ تعالیٰ غیب داں ہے۔
Ayah 4:25

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور جس کو تم میں سے اس بات کا مقدور نہ ہو کہ وہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرے پس چاہئے کہ نکاح کریں ان سے جو تمہاری ملک میں مسلمان لونڈیاں ہوں، اور خدا تمہارے ایمان سے خوب واقف ہے، تم آپس میں ایک دوسرے کے برابر ہو پس تم نکاح کرو لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں کی اجازت سے اور حسب دستور ان کے مہر خوشی سے ان کو دو اس حالت میں کہ وہ پارسا ہوں نہ کہ چھنال ہوں اور نہ در پردہ آشنا بنانے والی ہوں، پھر جب وہ شوہر کی قید میں آجائیں پس اگر زنا کریں تو ان پر آدھی وہ سزا ہے جو کہ آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) پر مقرر ہے، نکاح لونڈیوں سے اس شخص کے واسطے ہے جسے تم میں سے بدکاری کا خوف ہو اور صبر کرنا تو تمہارے لئے بہت بہتر ہے ، اور کدا بخشنے والا مہربان ہے۔

لونڈی سے نکاح کے جائز ہونے کی شرطیں ان آیتوں میں بیان فرمائیں کہ جس شخص کو آزاد عورت کے مہر اور روٹی کپڑے کا مقدور نہ ہو، اور بغیر نکاح کے اس کو بدکاری میں گرفتار ہوجانے کا اندیشہ ہو تو لونڈی کے مالک کی مرضی سے ایسا شخص لونڈی سے نکاح کرسکتا ہے ، اور جب نکاح ہوجائے تو اس کا مہر جو کچھ ہو وہ دستور کے موافق پورا دینا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ لونڈی ہونے کے خیال سے اس کے مہر کی ادائیگی میں کچھ حیل وحجت کی جاوے۔ اکثر سلف کا قول ہے کہ یہ مہر مالک کو ملے گا، کوئی لونڈی نکاح کے بعد اگر بدفعلی کر بیٹھے تو اس پر آزاد عورت سے آدھی مار (حد) قائم کی جاوے۔ آدمی کو بدکاری میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ ہو اور آزاد عورت سے نکاح کے قابل نہیں ہے تو لونڈی سے نکاح کرلے ورنہ روک تھام کرے۔ کیونکہ نکاح کرنے اور اولاد کی آزادی کو بٹہ لگانے سے یہ روک تھام بہتر ہے۔ لیکن جن سے صبر نہ ہوسکے اللہ اپنی رحمت کے سبب ایسے شخص سے اسی طرح درگزر کرنے والا ہے جس طرح لونڈیوں کے نکاح کا حکم اپنے بندوں کی آسانی کے لئے نازل فرمایا ہے۔
Ayahs 4:26–28

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

خدا چاہتا ہے کہ اپنے احکام تمہارے لئے بیان کردے اور تمہین راستہ دکھائے ان لوگوں کا جو تم سے پہلے تھے، اور تم پر مہربانی سے توجہ کرے اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

اور خدا تم پر اپنی رحمت سے توجہ فرمانا چاہتا ہے اور جو شہوت کے بندے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھی راہ سے بہت دور ہٹ جاؤ

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

خدا یہ چاہتا ہے کہ تم سے (بوجھ) ہلکا کرے اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے

ابوداؤد میں معتبر سند سے حضرت انس ؓ کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ پہلی امتوں کے لوگوں نے اپنی طاقت سے باہر کچھ عبادتیں اپنے پیچھے لگائیں ، اور ان عبادتوں کے ادا کرنے کے لئے جنگلوں میں عبادت خانے بنائے ۔ آخر سختی کے سبب سے عبادت اور عبادت خانے سب کچھ چھوڑ بیٹھے ۔ پھر فرمایا کہ تم لوگوں کو ایسا نہیں کرنا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ کو ایسا عمل پسند نہیں کہ آج ہو اور کل نہ ہو ، بلکہ اللہ تعالیٰ کو تو وہ عمل پسند ہے جسے آدمی برابر نباہ سکے ۔
Ayahs 4:29–31

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

اے مومنو ! تم آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر اس وقت کہ لین دین تجارت کا ہو بعد رضا مندی ایک دوسرے کے تم میں سے (تو کوئی مضائقہ نہیں) اور اپنی جانیں قتل نہ کرو ، بیشک خدا تم پر بڑا مہربان ہے

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

اور جو کوئی ایسا (کام) کرے زیادتی سے اور ظلم سے تو عنقریب ہم اس کو دوزخ میں داخل کریں گے ، اور یہ بات خدا پر آسان ہے

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

اگر تم پرہیز کرو کبیرہ (یعنی بڑے) گناہوں سے جن سے تم منع کئے گئے ہو تو ہم بخش دیں گے تمہارے تم سے صغیرہ گناہ اور ہم تم کو عزت کے مقام میں داخل کریں گے

ان آیتوں میں انسان کی کمائی کا ذکر فرمایا کہ سود ، چوری خیانت وغیرہ یہ سب مال کے ناحق طور پر کمانے کے طریقے ہیں اور ان میں ہر ایک طریقہ کی جدا جدا ممانعت کی بڑی تفصیل سے شریعت کے احکام ہیں۔ اس کے بعد جائز اور حق طور پر کمائی کے طریقے خریدو فروخت کو مستثنیٰ فرما کر ذکر فرمایا خریدو فروخت کی بہت سی مختلف صورتیں ہیں، ہر ایک صورت کا شریعت میں جدا جدا حکم ہے جو فرمایا : نہ خون کرو آپس میں اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ لوگوں کا مال ناحق کھا کر اپنی جاں ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اللہ کا تم پر رحم ہے ۔ کا یہ مطلب ہے کہ پچھلی امتوں کی توبہ ان کا قتل کرنا قرار پائی تھی اور تم پر ایسا سخت حکم نازل نہیں کیا جاتا۔ اور جو کوئی یہ کام کرے زور اور ظلم سے تو ہم اس کو ڈالیں گے آگ میں اور یہ اللہ پر آسان ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ جو کوئی شخص خود کشی کرے گا اس پر جنت حرام ہوجائے گی ، اور اس کو ہمیشہ دوزخ میں رہنا پڑے گا ۔ آگے کی آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ کبیرہ گناہوں سے بچتے رہیں گے ، اگر ان سے کچھ صغیرہ گناہ ہوجائیں گے تو نیک عملوں کے طفیل سے وہ صغیرہ گناہ خود بخود معاف ہوجائیں گے ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص نماز ، روزہ اور ادائے زکوٰۃ کا پابند ہوگا اور سات کبیرہ گناہوں سے بچے گا وہ جنت میں جاوے گا۔ اس وقگت تک حج فرض نہیں ہوا تھا اس لئے حج کا ذکر نہیں فرمایا۔ اب حج بھی دین کا ایک رکن ہے ۔ سات کبیرہ گناہوں کی تفصیل یہ ہے : (1) شرک ، (2) قتل ناحق۔ (3) جادو کرنا۔ (4) سود کھانا۔ (5) یتیم کا مال کھانا۔ (6) جہاد سے بھاگنا۔ (7) پارسا عوتوں پر بدکاری کی تہمت لگانا۔
Ayah 4:32

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

اور نہ ہوس کرو ایسے مرتبہ کی کہ بزرگی دی ہے خدا نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر مردوں کو ان کی کمائی سے حصہ ہے۔ اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اس چیز سے کہ جو انہوں نے حصل کیا ہے، اور اللہ سے اس کا فضٖل مانگو، البتہ خدا ہر چیز کا جاننے والا ہے

حسد کا بیان اور میان بیوی کے حقوق کا ذکر شان نزول : آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بعض عورتوں نے حسد کے طور پر یہ کہا تھا کہ مرد جہاد میں جاتے ہیں ، اس لئے ان کو لوٹ کے مال میں حصہ ملتا ہے اور جہاد کا ثواب بھی پاتے ہیں اور میراث میں بھی مردوں کا دوہراحصہ ہے ۔ عورتیں بڑے ٹوٹے (نقصان) میں ہیں کہ ان باتوں سے محروم ہیں ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ عالم الغیب ہے جس کو جو فضل دیا وہ عین حکمت ہے ، بندے کو چاہیے کہ وہ اس کی رضا پر راضی رہے۔ مرد جہاد سے ثواب حاصل کرتے ہیں تو عورتیں شوہروں کی اطاعت اور پاک دامنی سے ثواب حاصل کر ستی ہیں۔
Ayah 4:33

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ Open ayah 4:33 in the Quran reader

اور مقرر کئے ہیں ہم نے واسطے ہر چیز کے اس میں سے کہ چھوڑ گئے ہیں ماں باپ اور ناطے والے (رشتہ دار) اور وہ لوگ کہ جن سے تمہارا عہد بندھ چکا ہے پس تم ان کو ان کا حصہ دو بیشک خدا کے سامنے ہر چیز حاضر ہے

میراث رشتہ داری پر ہے اور قول کے بھائیوں سے زندگی میں سلوک کیا جاتا ہے یا مرتے وقت کچھ وصیت کی جاتی ہے ۔
Ayah 4:34

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا Open ayah 4:34 in the Quran reader

مرد تدبیر کے کام کرنے والے حاکم ہیں عورتوں پر بسبب اس کے کہ بزرگی دی ہے اللہ نے بعض آدمیوں کو بعض پر اور بسبب اس کے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کئے ہیں۔ پس جو نیک عورتیں فرمانبردار ہیں شوہر کی پیٹھ پیچھے (اپنی عفت اور ان کے مال اور ان کے راز کی) حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا، اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو پس ان کو نصیحت کرو اور ان کو ساتھ نہ سلاؤ اور ان کو مارو ، پس اگر وہ تمہاری فرمانبرداری کریں تو تم بھی نہ نکالو ان پ کوئی راہ (یعنی الزام) بیشک خدا بلند بڑا ہے

شان نزول : انصار میں سے ایک صحابی نے اپنی بی بی کو کسی خطا پر ایک طمانچہ مارا۔ اس عورت کا باپ اس عورت کو لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس فریاد کو آیا آپ نے قصاص کا حکم دیا۔ یہ دونوں راستہ میں تھے جو یہ آیت نازل ہوئی ۔ اس وقت حضور نے قصاص کا حکم موقوف رکھا، حاصل یہ کہ عورت پر مرد کا بڑ احق ہے ۔ ترمذی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر روئے زمین پر کسی آدمی کے سجدہ کرنے کا حکم ہوتا تو میں عورت کو خاوند کے سجدہ کا حکم دیتا ۔ حضور نے فرمایا کہ جو عورت نما پڑھے اور روزہ رھے اور بدکاری سے بچے اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے وہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں جاسکتی ہے۔ مرد عورتوں کے حاکم ہیں عورتیں اپنے شوہروں کے پیٹھ پیچھے شوہر کی عزت و حرمت اور اس کے مال کی حفاظت کرنے والیاں ہیں ۔ اللہ نیک عورتوں کو شوہر کی عزت اور اس کے مال کی حفاظت کی توفیق دیتا ہے ۔ جو عورتیں اپنے شوہر کی فرمانبردار نہ ہوں، ایسی عورتوں کو پہلے سمجھاؤ اور پھر بات چیت کرنی چھوڑ دو ۔ پھر مجبوری سے آخری درجہ ماننے کی اجازت ہے لیکن وہ مار ایسی ہو جس سے زخم نہ پڑجائے اور منہ پر نہ مارنا چاہئے ۔ عورت کی عادت میں ایک کجی ہے جو کوئی اس کجی کو بداشت کرے گا تو وہ عورت کے ساتھ زندگی بسر کرسکتا ہے۔ حدیث میں یہ بھی ہے کہ میاں بیوی پر یہ بھی حق ہے کہ بیوی کسی ایسے شخص کو گھر مین نہ آنے دیوے، جس کے آنے کا اس کا میاں روادار نہ ہو ۔ بیوی کا میاں پر یہ حق ہے کہ اپنے مقدور کے موافق اس کو روٹی کپڑا اچھی طرح سے دیوے۔ آخر کو یہ فرمایا کہ اللہ سب سے بالا اور بڑا ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر حاکم کیا ہے، لیکن اللہ سب کا حاکم اور مالک ہے ۔ کوئی مرد عورت پر بےجازیادتی کرے گا تو اس کو قیامت کے دن اللہ کے روبرو اس کی جواب دہی کرنی پڑے گی۔
Ayah 4:35

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا Open ayah 4:35 in the Quran reader

اور اگر تم کو جھگڑے کا خوف ہو میاں اور بیوی میں مقرر کرو ایک پنچ میان کے کنبہ والوں کی طرف سے اور ایک پنچ بیوی کے کنبہ والوں کی طف سے، اگر یہ دونوں پنچ صلح کرانا چاہیں گے تو البتہ خدا میاں بیوی میں موافقت کردے گا، بیشک خدا جاننے والاخبردار ہے

اللہ تعالیٰ عزوجل کو میاں بیوی کا ملاپ پسند ہے اور طلاق ناپسند ہے پنچوں (پنچایت کا سربراہ) کی توجہ ملاپ کی طرف زیادہ دی ہے۔
Ayah 4:36

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ Open ayah 4:36 in the Quran reader

اور اللہ کی عبادت کرو اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور قرابتداروں کے ساتھ اور یتیموں کے ساتھ اور غریبوں کے ساتھ اور پاس کے ہمسائے کے ساتھ اور دور کے ہمسائے کے ساتھ اور ہم مجلس کے ساتھ اور مسافر کے ساتھ اور اپنے باندی غلام کے ساتھ ، بیشک خدا دوست نہیں رکھتا اس شخص کو جو تکبر کرنے والا شیخی کرنے والا ہے

سب سے بڑا حق انسان پر اللہ تعالیٰ کا ہے جس نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورتوں کی چیزوں کو پیدا کیا ، تو انسان کا خالق و رازق وحدہ لاشریک ہے ۔ آنھضرت ﷺ نے فرمایا : اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ ان کو جنت میں داخل کرے گا ۔ ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا یہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے ان کی خدمت کرے کوئی بات ان کی شان کے برخلاف نہ کرے ۔ قرآن شریف کی اکثر آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد مان باپ کے احسان کا ذکر فرمایا ہے جس سے ہر کوئی مان باپ کے درجہ کو سمجھ سکتا ہے ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنے ماں باپ دونوں کو یا ان میں سے ایک کو ضعیفی میں پایا اور ان کی خدمت کرکے اپنے آپ کو جنت کا مستحق نہ ٹھہرایا تو ایسا شخص بڑا بد نصیب ہے ۔ جس شخص کو یہ منظور ہو کہ اس کی عمر بڑھے اور رزق میں کشائش ہو تو وہ اپنے رشتہ داروں سے سلوک کیا کرے ۔ یتیم کے ساتھ شفقت سے پیش آنے والا شخص جنت میں ایسے قریب ہوں گے جس طرح دو انگلیاں ملی ہوئی ہوتی ہیں ۔ حاجت مند کی حاجت رفع کرنے والے کو قیامت کے دن مجاہدین کا سا اجر ہے ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) مجھے ہمیشہ ہمسایوں کے ساتھ احسان کرنے کی تاکید کرتے رہے۔
Ayahs 4:37–39

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ Open ayah 4:37 in the Quran reader

اور دوست نہیں رکھتا ہے ان کو کہ خود بخل کریں ۔ اور لوگوں سے بخل کے واسطے کہیں اور چھپائیں وہ چیز کہ خدا نے ان کو اپنے فضل سے دی ہے اور تیار کررکھا ہے ہم نے کافروں کے واسطے عذاب رسوا کرنے والا

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا Open ayah 4:38 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو لوگوں کے دکانے کے واسطے اور خدا پر ایمان رکھنے والے نہی ہیں اور روز قیامت پر اور جس کا ساتھی شیطان ہے پس وہ ایک برا ساتھی ہے

وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا Open ayah 4:39 in the Quran reader

اور کیا نقصان تھا ان کا اگر ایمان لاتے خدا پر اور قیامت کے دن پر اور راہ خدا مین خرچ کرتے اس میں سے جو کچھ ان کو خدا نے دیا ہے، اور خدا ان کو خوب جاننے والا ہے

یہود لوگ جو آنحضرت ﷺ کی صفت بیان کرنے میں بخل کرتے اور چھپاتے تھے ا، صدقہ اور خیرات میں خود بھی بخیلی کرتے تھے ۔ اس پر یہ آیتین نازل فرمائین کہ جس نیک عمل میں دکھاوے کی شرکت ہے وہ عمل ہرگز قبول نہیں ۔ بخل اور بدچزاجی یہ دو خصلتیں کسی مسلمان میں نہین ہونی چاہئیں ۔ ہر آدمی کے ساتھ ایک شیطان اور ایک فرشتہ رہا ہے ۔ شیطان ہمیشہ برے کاموں کی رغبت دلاتا ہے اور فرشتہ اچھے کاموں کی ۔
Ayah 4:40

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:40 in the Quran reader

تحقیق خدا ظلم نہین کرتا ہے ایک ذرہ بھر اور اگر نیکی ایک ذرہ بھر ہو تو اس کو دوگنا کرتا ہے اور دیوے اپنے پاس سے بڑا اجر

جب ذرہ ذرہ بھر کا قیامت مین اللہ تعالیٰ ان کو اجر دوگنا چوگنا دینے کا وعدہ فرمتا ہے تو پھر کیوں لوگ نیک کاموں سے رک کر اپنے اتنے بڑے اجر کو ضائع کرتے ہیں ، اور دکھاوے کے عمل کیوں کرتے ہیں ۔