4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 4:41–42

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ Open ayah 4:41 in the Quran reader

پس کیا حال ہوگا اس وقت کہ جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہی دینے والا لاویں گے اور اے محبوب تم کو ان سب لوگوں پر گواہ بنا کر لاویں گے

یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ١ؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:42 in the Quran reader

اس دن آرزو کریں گے وہ لوگ کہ کافر ہوئے اور رسول کی نافرمانی کی ، کاش انہیں (مٹی میں دباکر) زمین برابر کردی جائے، اور کوئی بات خدا سے نہ چھپاسکیں گے

حساب کے وقت حضرت نوح سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک کے منکر لوگوں سے اللہ تعالیٰ پوچھا گا کہ باوجود انببیاء (علیہم السلام) کی ہدایتوں کے تم لوگ منکر کیوں رہے، یہ لوگ انبیاء کی ہدایت کا انکار کرکے صاف مکر جاویں کے، اس پر سب انبیاء کہیں گے کہ ھضرت محمد آخرالزماں نبی ﷺ ہیں، ان کی شریعت مین ہر زمانہ کے نبی کی ہدایت کرنے کی تصدیق موجود ہے، پھر آنحضرت ﷺ اور آپ کی امت کے لوگ حاضر کئے جاویں گے وہ گواہی دیں گے ۔ اس پر نادم ہوکر یہ منکر گوگ جانوروں کی خاک ہوتا ہوا دیکھ کر اپنے خاک ہونے کی آرزو کریں گے ۔ اس گواہی کے بعد آنحضرت ﷺ اپنی امت کی نیکیوں کی گواہی قیامت تک کی ادا فرماویں گے ۔ اسی واسطے امت کے اعمال آپ کے روبرو پیش ہوتے رہتے ہیں ، تاکہ گواہی کے لئے آپ کو امت کے اعمال کی اطلاع رہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ کے روز تم لوگ درود زیادہ پڑھا کرو اس دن تمہارے دورد روبرو پیش ہوتے ہیں ۔
Ayah 4:43

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:43 in the Quran reader

اے مومنو ! نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ (یعنی نماز نہ پڑھو) یہاں تک کہ تم سمجھنے لگوجو کچھ زبان سے کہتے ہو اور نماز کے قریب نہ جاؤ ناپاکی کی حالت میں جب تک کہ غسل نہ کرلو مگر مسافرت میں اور اگر ہو تم بیمار یا سفر میں یا تم سے کوئی جائے ضرر سے ہوکر آوے یا عورتوں سے صحبت کی ہو پھر تم کو پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کرو بیشک خدا معاف کرنے والا بخشنے والا ہے

شراب کے حرام ہونے کا حکم ان آیتوں میں نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا گیا تو مسلمانوں نے نماز کے اوقات میں شراب ترک کردی لیکن اس کے بعد شراب بالکل حرام کردی گئی۔ ناپاکی کی حالت میں مسجد سے گزرنے کا بڑاگردد ہوتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ناپاک آدمی کو مسجد سے گزرجانے کی اجازت فرمائی ۔ ناپاک آدمی کے حکم میں حیض ونفاس والی عورت بھی ہے ۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ ناپاک آدمی کو مسجد میں ٹھہرنا جائز نہیں ہے اسی طرح قرات قرآن اور طواف بھی منع ہے ۔ تیمم کا طریقہ شان نزول : ایک سفر میں حضرت عائشہ ؓ آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھیں، حضرت عائشہ رضی للہ عنہا کے گلے کا ہار گر پڑا ۔ اس کے ڈھونڈنے میں صبح تک قافلہ روانہ نہ ہوسکا ، یہاں تک کہ صبح کی نماز صبح کی نماز کا وقت آگیا ۔ اس جنگل میں سب قافلہ کے وضو کے لئے پانی نہ تھا ، اس سبب سے لوگ بہت گھبرائے ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے تیمم کا حکم کا نازل فرمایا ۔ اس حکم کی خوشی میں پھر سب نے مل کر حضرت عائشہ ؓ کو بہت دعائی دیں ۔ تیمم کی یہ حدیں ہیں ، پہلے تیمم کرنے والا دل سے پاکی حاصل کرنے کی نیت کرے ، پھر بسم اللہ کہ کر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اندر کی طرف سے پاک مٹی پر ہاتھ مار کر آگے کو کھینچے اور انگلیوں کو کشادہ رکھے اور دونوں ہاتھوں کو جھاڑے ، پھر اول مرتبہ چہرہ کا مسح کرے اور دوسری مرتبہ ضرب مار کر دونوں ہاتھوں کا مسح کرے کہنیوں تک ، یہ دو ضربیں ہیں۔
Ayahs 4:44–46

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 4:44 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا کہ جن کو ملا ہے ایک حصہ کتاب مول لیتے ہیں گمراہی کو اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ سے بہک جاؤ

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا Open ayah 4:45 in the Quran reader

اور خدا جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو، اور خدا کافی ہے حمایت کے لئے اور خدا کافی ہے مدد دینے والا

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

ایک گروہ ہے یہود میں سے تبدیل کرتے ہیں کلموں کو ان کی جگہ سے ، اور کہتے ہیں سنا ہم نے اور نہ مانا ہم نے اور سنئے آپ سنائے نہ جائیں اور راعنا کہتے ہیں اپنی زطان کو پھر کر اور دین میں طعنہ مارتے ہیں ، اور اگر وہ کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے مانا اور حضور ہماری بات سنیں اور حضور ہم پر نظر فرماویں تو ان کے لئے بھلائی اور بہت درست ہوتا لیکن اللہ نے ان پر ان کے کفر کی وجہ سے لعنت کردی ہے پس ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑے

توریت سے انہوں نے صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو پہچانا اور آنحضرت ﷺ کا جو بیان تھا اس حصہ سے وہ محروم رہے اور آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے ۔ شان نزول : یہ آیت رفاعہ بن زید اور مالک بن وخشم یہودیوں کے حق میں نازل ہوئی ۔ یہ دونوں جب رسول اللہ ﷺ سے بات کرتے تو زبان ٹیڑھی کرکے بولتے ۔ اس قسم کی شرارتیں کرتے تھے۔ اے مسلمانو ! اس نے تمہیں بھی ان کی عداوت سے خبردار کردیا تو چاہیے کہ ان سے بچے رہو ۔ جس کا کارساز اللہ ہو اسے کیا اندیشہ ہے۔ اللہ کی لعنت اور پھٹکار کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں پر اللہ کی رحمت نہ ہوگی ۔ اگرچہ یہ قصہ یہود کا ہے لیکن اس امت میں بھی اب وہ حالت یعنی گناہوں کی کثرت اور علماء کی چشم پوشی کی پیش آوے گی تو اس طرح کے کسی عذاب کے آنے کا خوف ہے ۔ حضور ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا : اے لوگو ! نیک باتوں کی تاکید اور بری باتوں کی ممانعت انجان لوگوں کو کرتے رہو ورنہ جب یہ بات تم میں نہ رہے گی تو کوئی نہ کوئی عذاب آوے گا ۔
Ayah 4:47

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! ایمان لاؤ اس پر جو نازل کیا ہے ہم نے تصدیق کرنے والا اس چیز کا جو تمہارے پاس ہے اس دن سے پہلے کہ ہم بہت سے چہرے بگاڑ دیں پس پھیریں ہم ان کو ان کی پیٹھوں کی طرف یا لعنت کریں ہم ان کو جیسا کہ لعنت کی ہم نے ہفتہ والوں پر اور خدا کا حکم ہوکر رہتا ہے

یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ان لوگوں کو توریت کی ہدایت کے موافق قرآن اور نب آخر الزمان (ﷺ) پر ایمان لانا ہے تو یہ لوگ جلدی کریں ، ورنہ پچھلے لوگوں کی طرح ملعون ٹھہرا کر ان کی شکلیں بدل دی جاویں گی۔ اس کا حکم ایسا زبردست ہے کہ ایک کن کے کہنے سے سب کچھ ہوگیا ۔
Ayah 4:48

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

بیشک خدا اس کو نہیں بخشتا ہے کہ اس کا شریک مقرر کیا جاوے اور سوائے اس کے بخشتا ہے جس کو چاہے ، اور جو کوئی خدا کا شریک مقرر کرے بیشک اس نے بڑے گناہ کا طوفان باندھا

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جو کفر پر مرے اس کی بخشش نہیں اس کے لئے ہمیشگی کا عذاب ہے، اور جس نے کفر نہ کیا ہو خواہ کتنا ہی گنہگار ہو اور بےتبہ بھی مرجائے تو اس کے لئے مغفرت اللہ کے اختیار میں ہے ۔ چاہے معاف فرمادے یا اس کے گناہوں پر عذاب کرے پھر اپنی رحمت سے جنت میں داخ فرمائے ۔
Ayah 4:49

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کی طرف دیکھا جو خود اپنی ستھرائی بیان کرتے ہیں بلکہ اللہ جسے چاہے پاکیزہ کرے اور نہ ظلم کئے جائیں گے مقدار ایک تاگے کے

یہ آیت یہودو نصاریٰ کے حق میں نازل ہوئی جو اپنے آپ کو اللہ کا پیارا بتاتے تھے اور کہتے تھے کہ یہود اور نصاریٰ کے سوا کوئی جنت میں نہیں داخل ہوگا۔ اس آیت میں بتادیا گیا ہے کہ انسان کا دینداری اور صلاح وتقویٰ اور قرب کا مدعی ہونا اپنے منہ سے اپنی تعریف کرنا کام نہیں آتا۔
Ayahs 4:50–52

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

دیکھو (اے محبوب ! ﷺ) کیونکر خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں اور یہ صریح گناہ کافی ہے

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا Open ayah 4:51 in the Quran reader

کیا نہ دیکھا تم نے ان لوگوں کی طرف جن کو ایک حصہ کتاب کا دیا گیا وہ مانتے ہیں بت اور شیطان کو ، اور کہتے ہیں مشرکوں کے حقوق میں کہ وہ مسلمانوں سے زیادہ راہ پانے والے ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:52 in the Quran reader

یہ لوگ اس گروہ سے ہیں کہ ان پر خدا نے لعنت کی ہے ، اور جس پر خدا لعنت کرے تو ہرگز کوئی اس کا مددگار نہ پاوے گا۔

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی بےایمانی کے دیکھنے کے قابل ہے کہ دنیا کی ایک غرض کے سبب سے انہوں نے اہل کتاب ہوکر شرک کو توحید سے اور مشرکوں کو موحدوں سے سے اچھا بتلایا ۔ ایسے بےایمانوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جس پر اللہ کی پھٹکار ہو اس طکو دنیا اور آخرت میں اللہ کے عذاب سے کوئی بچا نہیں سکتا۔
Ayahs 4:53–55

اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ Open ayah 4:53 in the Quran reader

کیا ان کا سلطنت میں کچھ حصہ ہے (اگر ایسا ہو) تو یہ لوگوں کو ایک تل بھر نہ دیں

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا Open ayah 4:54 in the Quran reader

کیا حسد کرتے ہیں لوگوں پر (کافر) جع کچھ دیا ہے ان کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ، بیشک دی ہے ہم نے اولاد ابراہیم کع کتاب اور دانائی اور دی ہم نے ان کو سلطنت بڑی

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا Open ayah 4:55 in the Quran reader

پھر اس میں سے کچھ لوگ تو ایمان لائے اس کتاب پر اور ان میں سے کسی نے اس سے منہ پھیرا اور کافی ہے دوزخ جلتی آگ

ان آیتوں میں یہ فرمایا کہ یہود کی یہ دشمنی اس سبب سے ہے کہ نبی آخرالزماں (ﷺ) بنی اسماعیل میں سے کیوں ہوئے اولاد اسحٰق میں سے کیوں نہ ہوئے ۔ حالانکہ بنی اسماعیل اور بنی اسحاق دونوں کا سلسلہ ابراہیم (علیہ السلام) سے ملتا ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے اسحاق کی اولاد میں ایک مدت دراز تک نبوت، بادشاہت سب کچھ رہا ، اب حضر ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے اسماعیل علیہ اسلام کی اولاد میں ایک نبی آخرالزماں کے پیدا ہونے سے بنی آخرالزماں کے ساتھ ان لوگوں کی اس قدر دشمنی فقط ان لوگوں کی بخیلی کے سبب سے ہے ۔ کیونکہ ان کی بخیلی کی عادت یہاں تک بڑھی ہوئی ہے کہ ان کے قبضہ میں ایک سلطنت بھی ہو تو یہ لوگ اس میں سے ایک تل کے برابر چیز کسی کو نہ دیویں ۔ آنحضرت ﷺ کی تسکین کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ بھی فرمایا کہ ان لوگوں کی مخالفت اللہ کے نبی کے ساتھ کچھ نئی نہیں ہے، بلکہ نبی آخرالزمان (ﷺ) کے بنی اسماعیل میں پیدا ہونے کا تو ایک حیلہ ہے۔ یہ لوگ ایسوں کی اولاد ہیں جنہوں نے خود اپنے گھرانے کے بنیوں کے ساتھ بڑی مخالفتیں کر کے بعضے نبیوں کو شہید کرڈالا ۔ آخر کو فرمایا : یہ لوگ ہوں یا ان کے بڑے ایسے لوگوں کو جہنم کی دہکتی آگ کی سزا کافی ہے۔
Ayah 4:56

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:56 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کہ منکر ہوئے ہماری آیتوں سے عنقیرب ہم ان کو داخل کریں گے آگ میں جس وقت کہ ان کی کھالیں پک جاویں گی اس کے بدلے میں ہم اور دوسری کھالیں پیدا کریں گے ان کے سوا تاکہ وہ عذاب کا مزا چکھیں ، بیشک خدا غالب مضبوط کام والا ہے

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑی سی دیر میں دوزخیوں کی کھالین کئیی دفعہ بدلی جاویں گی ، یہ ان لوگوں کا حال ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے منکر ہونے کے سبب سے ت ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں ۔ جو لوگ دوزخ سے نکل کر جنت میں داخل ہونے والے ہیں ان کی کھال نہیں بدلی جاوے گی بلکہ وہ ایک دفعہ کے جلنے مین فردر کوئلے ہوجائیں گے ۔ پھر ان کوئلوں کو نہر حیات میں غوطہ دیا جائے گا جس سے وہ زندہ ہوجائیں گے اور پھر ان کو جنت میں جانے کا حکم دیا جائے گا ۔
Ayahs 4:57–58

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا Open ayah 4:57 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ ایمان لائے اور کام کئے اچھے جلد داخل کریں گے ہم ان کو باغوں مین کہ چلتی ہیں نیچے سے ان کے نہریں ہمیشہ ان میں رہیں گے ان کے واسطے اس جگہ پاک عورتیں ہوں گی اور ہم ان کو عمدہ سایہ میں داخل کریں گے (یعنی براحت تمام)

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 4:58 in the Quran reader

بیشک خد افرماتا ہے تم کو کہ تم امانتوں کو امانت والوں کے پاس پہنچادو اور فرماتا ہے کہ جب لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو، تحقیق خدا تم کو بہت ہی اچھی نصیحت کرتا ہے۔ بیشک خدا سنتا ہے دیکھتا ہے

شان نزول : فتح مکہ کے وقت آنحضرت ﷺ نے عثمان بن طلحہ خادم کعبہ سے کعبہ معظمہ کی کنجی لے لی، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے وہ کنجی انہیں واپس دے دی اور فرمایا کہ اب یہ کنجی ہمیشہ تمہاری نسل میں رہے گی ۔ اس پر عثمان بن طلحہ اسلام لائے ۔ مطلب یہ ہے کہ اصحاب کو امانتیں دیانتداری کے ساتھ حا کو ادا کرنے اور فیصلوں میں انصاف کرنے کا حکم دیا اور فرائض نب، اللہ تعالیٰ کی امانتیں ہیں ان کی ادائیگی بھی اس حکم میں داخل ہے۔
Ayah 4:59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

اے مومنو ! فرمانبرداری کرو خدا کی اور فرمانبرداری کرورسول کی اور صاحبان حکومت کی اپنوں میں سے، پس اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے رجوع کرو اللہ اور رسول کی طرف اگر ایمان رکھتے ہو خدا پر اور قیامت کے دن پر، یہ بہتر بات ہے اور اس کا انجام اچھا ہے (باعتبار عاقبت کے)

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ رسول (ﷺ) کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ۔ اور یہ بھی فرمایا کہ جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ مسلم امراء و حکام کی اطاعت واجب ہے جب تک وہ حق کے موافق رہیں ۔ اگر حق کے خلاف حکم کرین تو ان کی اطاعت نہیں ۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ احکام تین قسم کے ہیں : (1) ایک وہ جو ظاہر کتاب یعنی قرآن سے ثابت ہوں ، (2) دوسرے حدیث سے ظاہر ہوں ۔ (3) تیسرے قرآن وحدیث سے بطریق قیاس رجوع کرنے سے ۔
Ayahs 4:60–62

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:60 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہ دیکھا کہ جن کا دعوٰی ہے کہ وہ ایمان لائے اس پر کہ جو نازل کیا گیا ہے تمہاری طرف اور جو نازل کیا گیا ہے تم سے پہلے ، پھر چاہتے ہیں کہ شیطان کو اپنا پنچ بنائیں ۔ حالانکہ یہ حکم دیا گیا ہے ان کو معتقد نہ ہوں اس کے ۔ اور شیطان یہ چاہتا ہے کہ ان کو گمراہ کرکے بہت دور ڈال دے

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ Open ayah 4:61 in the Quran reader

اور جب ان کو کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب اور رسول کی طرف تو تم دیکھتے ہو کہ منافق تم سے منہ موڑ کر پھرجاتے ہیں

فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا Open ayah 4:62 in the Quran reader

پس کیا حال ہوگا اس وقت کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے بدلہ اس کا جو ان کو ہاتھوں نے آگے بھیجا پھر تمہارے پاس آتے ہیں قسمیں کھاتے ہوئے بخدا ہم نے تو فقط بھلائی اور موافقت ہی چاہی تھی

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ منافق لوگ ایمان کا دعوٰی کرتے ہیں لیکن ان کا ایمان پورا نہیں ہے ، کیونکہ اس سے پہلے اللہ نے انہیں رسول وقت کے حکم کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی بات ماننے سے منع کیا ہے۔
Ayah 4:63

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا Open ayah 4:63 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ جانتا ہے خدا جو کچھ ان کے دلوں میں ہے ، پس تم ان سے چشم پوشی کرو اور ان کو نصیحت کرو اور ان سے کہو بات اثر کرنے والی ان کے دلوں میں

اس آیت میں اس زمانہ کے عام منافقوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی کہ کچھ اس زمانہ پر منحصر نہیں ہے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) پہلے صاحب شریعت رسول سے لے کر آخرالرسول حضرت محمد ﷺ تک اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول ہیں ان سب کے حق میں اللہ کا یہی حکم تھا کہ ہر وقت کی امت پر اللہ کے رسول کی فرمانبرداری فرض ہے ۔
Ayah 4:64

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:64 in the Quran reader

اور ہم نے ہر ایک رسول کو خاص اسی لئے بھیجا کہ فرمانبرداری کی جائے خدا کے حکم کی ، اور اگر یہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو (اے محبوب ! ﷺ) تمہارے پاس آویں پھر خدا سے معافی چاہیں۔ اور بخشش مانگیں ان کے لئے رسول ، تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم کھا کر فرمایا کہ رسول وقت کے فیصلے اور حکم پر جو کوئی دل سے پابندی اختیار نہ کرے گا وہ ہرگز مسلمان نہیں ہے۔ جو لوگ قول رسول کے مقابلہ میں صریح قول رسول کو چھوڑ کر ادھر ادھر کے قولوں کو مانتے ہیں ۔ ان کی نسبت پورا خوف ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنی قسم پوری کرے اور ان لوگوں کو پورے مسلمان کے زمرے میں شمار نہ فرماوے ۔
Ayahs 4:65–68

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 4:65 in the Quran reader

پس قسم ہے تمہارے پروردگار کی یہ لوگ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے چھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر ان کے دل میں تمہارے فیصلہ سے کچھ نارضگی بھی پیدا نہ ہو اور اس کو بخوشی قبول بھی کرلیں

وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ Open ayah 4:66 in the Quran reader

اور اگر ہم یہ بات ان پر فرض کردیتے کہ تم اپنی جان آپ ہلاد کرو یا نکل جاؤ اپنے گھروں سے تو اس کو ان میں سے بہت ہی کم لوگ کرتے اور اگر یہ لوگ کرتے جس بات کی ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو اس میں البتہ ان کے واسطے بہتر ہوتا اور پختگی ہوتی دین کی مضبوطی میں

وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:67 in the Quran reader

اور اس وقت ہم البتہ دیتے ان کو اپنے پاس سے بڑا اجر

وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا Open ayah 4:68 in the Quran reader

اور ہم ان کو ضرور سیدھی راہ کی ہدایت کرتے

ان آیتوں میں یہ فرمایا کہ حال کی شریعت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی فرمانبردری لازم کردی ہے ، وہ بھی ایسے مسلمانوں سے پوری نہیں ہوسکتی جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گزرا ۔ ایسی حالت میں قتل نفس یا جلا وطنی کا کوئی حکم حال کی شریعت میں نازل ہوتا تو بہت تھوڑے لوگ اس پر عمل کرتے ۔ پھر فرمایا حال کی شریعت میں جن باتوں کے کرنے اور نہ کرنے کا حکم ہے ۔ اگر حال کے مسلمان نیک نیتی سے اسی کی پوری پابندی کریں گے تو ان کی بہتری اور ان کی فرمانبرداری کی مضبوطی کی نشانی ہے ، اور جب یہ لوگ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ اپنی توفیق سے ان کو ہمیشہ راہ راست پر قائم رکھے گا ، اور ان کے تھوڑے سے عملوں کا بہت سا ثواب اپنے پاس سے عطا فرما کر ان کی نجات فرمائے گا ۔
Ayah 4:69

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًاؕ Open ayah 4:69 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے پس یہ جماعت ان کے ساتھ ہے کہ جن پر خدا نے فضل کیا ہے یعنی انبیاء اور صدیقیقن اور شہدا اور نیک لوگ ، اور کیا ہی اچھے ساتھی یہ لوگ ہیں

شان نزول : آنحضرت ﷺ سے آپ کے غلام ثوبان اور چند صحابہ کرام نے ایک روز عرض کیا کہ دنیا میں تو جب ہمارا دل آپ کے دیکھنے کا مشتاق ہوتا ہے تو ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ کو دیکھ لیتے ہیں مگر جنت میں تو آپ عالی مقام میں تشریف رکھتے ہوں گے اور ہم لوگ اپنے اپنے درجہ پر دہوں گے، وہاں ہم لوگ آپ کو کیونکر دیکھ سکیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ معنی آیت کے یہ ہیں کہ جنت مین اوپر کے درجہ کے لوگ نیچے کے درجہ والوں سے اور نیچے کے درجے والے اوپر کے درجہ والوں سے ملتے رہیں گے نبی وہ جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آوے۔ صدیق وہ جن میں وحی کی صداقت کا مداہ زیادہ ہو جیسے حضرت ابوبکر صدیق ؓ شہید وہ جو اللہ کے حکم پر اپنی جان دینے کو تیار ہوں نیک وہ جن کی طبیعت میں ظاہر و باطن کی نیکی ہو۔
Ayahs 4:70–74

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠ Open ayah 4:70 in the Quran reader

یہ فضل خدا کی طرف سے ہے اور خدا کافی ہے جاننے والا

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا Open ayah 4:71 in the Quran reader

اے مسلمانو ! اپنے ہتھیار لو پھر (دشمن کی طرف) نکلو گروہ گروہ ہوکر یا نکلو اکٹھے ہوکر

وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا Open ayah 4:72 in the Quran reader

اور البتہ بعض تم میں سے وہ ہیں کہ جو نکنے میں دیر کرتے ہیں، پس پہنچے تم کو کوئی مصیبت تو کہے : بیشک کیا خدا نے مجھ پر کہ میں ان کے ساتھ نہ ہوا

وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 4:73 in the Quran reader

اور اگر تم کو کوئی نعمت خدا کی طرف سے ملے تو کہے گیا ہرگز نہ تھی درمیان میں تمہارے اور درمیان اس کے دوستی : اے کاش ! میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو میں بڑی مراد پاتا

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:74 in the Quran reader

پس چاہئے کہ لڑائی کریں خدا کی راہ میں مومن کہ جو دنیا کی زندگی کو آخرت سے بیچتے ہیں اور جو کوئی لڑائی کرے خدا کی راہ میں پس مارا جاوے یا غالب آوے تو اس کو ہم اجر عظیم دیں گے

ان آیتوں میں جہاد کا ذکر فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے قتل کا سا حکم تو اس شریعت میں نہیں ہے لیکن اس شریعت میں دین کی ترقی کے لئے دین کے مخالفوں سے لڑنے کا حکم ہے۔ جس کو اجر کمانا ہو وہ اس حکم کی تعمیل میں کوشش اور جرات کرے۔ لغت میں جہاد کے معنی مشقت کے ہیں اور شرع میں جہاد اس لڑائی کو کہتے ہیں جو خاص دین کی ترقی کے لئے لڑی جاوے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : نیک نیتی سے دین کی لڑائی لڑنے والوں کو ہر طرح فائدہ ہے۔ خدا کی راہ میں جان دی تو جنت کمائی اور زندہ بچ کر آئے تو عقبیٰ کا اجر پایا اور لوٹ کا مال جدا ہاتھ آیا۔
Ayah 4:75

وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:75 in the Quran reader

اور کیا ہوا تم کو کہ نہیں لڑتے ہو خدا کی راہ میں اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے لئے جو یہ دعا کررہے ہیں : اے پروردگار ہمارے ! نکال ہم کو اس بستی سے کہ یہ ظالم ہیں اس بستی کے رہنے والے، اور ہمارے واسطے اپنے پاس سے کوئی حمایتی مقرر کردے اور ہمارے واسطے اپنے پاس سے مقرر کر مددگار

ان آیتوں میں مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دی گئی تاکہ وہ ان کمزور مسلمانوں کو کفار کے پنجہ ظلم سے چھڑائیں جنہیں مکہ مکرمہ میں مشرکین نے قید کرلیا تا اور طرح طرح کی ایذائیں دے رہے تھے، اور ان کی عوتوں اور بچوں پر بھی بےرحمانہ مظالم کرتے تھے۔ اور وہ لوگ ان کے ہاتھ میں مجبور تھے اس حالت میں وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی خلاصی اور مددالٰہی کی دعائیں کرتے تھے، یہ دعائیں قبول ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو ان کا ولی اور ناصر کیا اور انہیں مشرکین کے ہاتھوں سے چھڑایا اور مکہ مکرمہ فتح کرکے ان کی زبردست مدد فرمائی۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : جو مسلمان کی کسی طرح کی سختی رفع کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کی سختی رفع فرمائے گا اور دنیا میں بھی ایسے شخص کی ہر طرح مدد کرے گا۔
Ayahs 4:76–78

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ Open ayah 4:76 in the Quran reader

ایمان والے خدا کی راہ میں لڑائی کرتے ہیں، اور کافر لوگ شیطان کی راہ میں لڑائی کرتے ہیں پس شیطان کے دوستوں سے لڑائی کرو، البتہ حیلہ شیطان کا کمزور ہے

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا (ناگہاں) ایک گروہ ان میں سے لوگوں سے ایسا ڈرنے لگا جیسا کہ (کوئی خدا سے) ڈرے، یا اس سے بھی زیادہ اور بولے : اے پروردگار ہمارے ! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کیا، تھوڑی مدت تک ہمیں اور جینے دیا ہوتا تم فرماؤ فائدہ مندی دنیا کی تھوڑی ہے اور آخرت بہتر ہے اس کو جو پرہیزگاری کرتے، اور تم پر تاگے برابر (ذرہ بھر) نہ ظلم کیا جائے گا

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

تم جہاں کہیں ہو موت تم کو پالیوے گی اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں ہو، اور اگر ان کو کوئی سختی پہنچے تو کہیں (اے محبوب ﷺ) یہ تمہارے پاس سے ہے تم فرماؤ یہ سب خدا کی طرف سے ہے پھر اس قوم کو کیا ہوا کہ کوئی بات سمجھتی معلوم ہی نہیں ہوتی

منافقوں کا ذکر شان نزول : ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں جب مسلمان کمزور تھے تو مشرک لوگ مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے۔ ایک روز ایک جماعت صحابہ کرام نے حضور سرور عالم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ہمیں کافروں سے لڑنے کی اجازت دیجئے، انہوں نے ہمیں ستایا ہے اور بہت ایذائیں دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ان کے ساتھ جنگ کرنے سے ہاتھ روکو، نماز اور زکٰوۃ جو تم پر فرض ہے وہ ادا کرتے رہو۔ اس سے ثابت ہوا کہ نماز اور زکٰوۃ جہاد سے پہلے فرض ہوئیں۔ جہاد کا حکم نازل ہونے کے بعد کچے مسلمان دو طرح کی باتیں کرتے تھے : ایک تو لڑائی پر جانے میں موت کے اندیشہ سے یہ کہتے تھے کہ جہاد کا حکم تھوڑی مدت تک ٹل جاتا تو اچھا تھا۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ لڑائی پر جانے سے کچھ وقت مقررہ سے پہلے موت نہیں آتی موت کا تو ایک خاص وقت مقرر ہے جب وقت آوے گا تو لڑائی کے میدان پر کیا موقوف ہے یہ لوگ اگر مضبوط قلعہ میں بھی ہوں تو موت ان کو ہرگز نہ چھوڑے گی۔ پھر جب یہ بات ہے تو دنیا کے عیش و آرام اور چند روزہ زندگی کی خاطر عقبیٰ کا دائمی عیش و آرام، ہمیشہ کی زندگی کے حاصل کرنے کی ہمت نہ باندھنا کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے۔