4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 4:155–159

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

پس (ہم نے ان پر لعنت کی) ان کے عہد کے توڑنے کے سبب سے اور اس سبب سے کہ وہ آیات الٰہی کے منکر ہوئے اور نبیوں کے ناحق شہید کرنے کے سبب اور ان کے اس کہنے کے سبب سے کہ ہمارے ہمارے دلوں پر غلاف ہیں (غلاف نہیں) بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے پس ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑے

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

اور ان کے کفر کے سبب سے اور مریم پر بڑا بہتان بولنے کے سبب سے

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ Open ayah 4:157 in the Quran reader

اور ان کے اس کہنے کے سبب سے کہ تحقیق ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو شہید کر ڈالا حالانکہ نہ اس کو انہوں نے قتل کیا اور نہ اس کو سولی پر چڑھایا بلکہ ان کے لئے ان کی شبیہ کا ایک بنادیا گیا ، اور وہ جو عیسیٰ کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں ضرور اس کی طرف سے شبہ میں ہیں ان کو اس کی کچھ خبر نہیں لیکن صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں ، اور یقینا انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:158 in the Quran reader

بلکہ اس کو اٹھالیا ہے خدا نے اپنی طرف اور خدا غالب مضبوط تدبیر والا ہے

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور کوئی اہل کتاب سے ایسا نہیں جو عیسیٰ پر ایمان نہ لاوے عیسیٰ کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن عیسیٰ ان پر گواہ ہوگا

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جو انہیں حکم دیا گیا ہے وہ کریں اور جس کی ممانعت کی گئی ہے اس سے باز رہیں ۔ پھر ان لوگوں کے اس عہد پر قائم نہ رہنے سے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طرح طرح کے معجزات دیکھ کر ان کو بھلادینے اور بلاوجہ انبیاء کو قتل کرنے سے اور اس بات کے کہنے سے کہ ہمارے دل پر غلاف ہیں کسی کی نصیحت ہمارے دل پر اثر نہیں کرتی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان ملعونوں کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے ، اس لئے جس طرح مقفل اور مہر لگے ہوئے مکان کے اندر کوئی چیز نہیں جاسکتی ۔ ان کے دل میں بھی کسی نصیحت کا اثر نہیں سماسکتا اوپر ہی رہتا ہے کیونکہ کثرت گناہ سے ان کے دلوں پر زنگ چھا گیا ہے ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ گناہوں کی کثرت سے آدمی کے دل کا زنگ یہاں تک بڑھ جاتا ہے یہاں تک بڑھ جاتا ہے کہ تمام دل کو غلاف کی طرح ڈھانک لیتا ہے اور حق بات سننے کی گنجائش نہیں رہتی ۔ چناچہ انہوں نے حضرت مریم سلام اللہ علیہا جیسی پاک دامن بی بی پر بدکاری کا الزام لگایا ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل نہیں کرسکے بلکہ ایک شخص انہیں میں کا تھا ، جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سی شباہت ڈال دی گئی تھی ، اس کو انہوں نے قتل کیا ، اور اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو زندہ آسمان پر اٹھالیا ۔ لیکن ان کی جرات یہ ہے کہ آج تک یہ لوگ اللہ کے رسول کے قتل کے مدعی ہیں ۔ حالانکہ قیامت کے قریب وہ پھر زمین پر آئیں گے ۔
Ayahs 4:160–162

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

پس یہودیوں کے ظلم کے سبب سے ہم نے وہ بعض ستھری چیزیں جو ان کو حلال تھیں ان پر حرام کردیں اس لئے کہ وہ روکتے تھے بہت لوگوں کو خدا کی راہ سے

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور ان کے سود لینے کے سبب حالانکہ وہ اس سے منع کئ گئے تھے اور لوگوں کا مال ناحق کھانے کے سبب اور ان میں سے جو کافر ہوئے ہم نے ان کے لئے درد دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

البتہ اہل کتاب سے جو لوگ علم میں ثابت قدم ہیں اور ایمان والے ہیں وہ اس پر ایمان لاتے ہیں جو (اے محبوب ﷺ ! ) تمہاری طرف اتارا گیا ہے اور اس پر جو کچھ تم سے پہلے اتارا گیا ہے ، اور تعریف کرتا ہوں میں نماز قائم کرنے والوں کی اور زکوٰۃ دینے والوں کی اور خدا پر ایمان لانے والوں کی اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کی ، یہ لوگ ہیں کہ ہم ان پر عنقریب بڑاثواب دیں گے

یہود کی سرکشی کا انجام ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ یہود کی طرح طرح کی سرکشی کے سبب سے حلال چیزیں ان پر حرام کردی گئیں (جن کی تفصیل سورة انعام میں آوے گی) اس کے علاوہ انہوں نے بہیتروں کو راہ حق سے روکا کہ توریت کے احکام اور جناب پیغمبر آخر الزماں ﷺ کے اوصاف پلٹ دئے ، اور وہ سود لینے لگے حالانکہ اس سے روک دی گئے تھے ۔ اور لوگوں کا مال ناحق کھانے لگے ، اور بنی اسرائیل میں جو بدنصیب منکر ہیں وہ حق بات پر غور نہیں کرتے ، ہاں ان میں جو ذی علم اور بالیاقت (اہلیت والے) لوگ ہیں وہ حق بات کو سن سمجھ کر تسلیم کرتے ہیں ۔ اسی طرح اہل ایمان یعنی مہاجرین اور انصار جو کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب یعنی قرآن شریف کے ہر حکم کو مانتے ہیں اور پچھلی تمام کتابوں اور انبیاء سابقین کو بھی مانتے ہیں ، اور نماز اچھی طرح پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ دینے والے ہیں اور شریعت کی وہ پیروی کرتے ہیں جو خدا کو اکیلا معبود جانتے اور قیامت کے آنے کا یقین رکھتے ہیں ۔ ایسے لوگون کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ان کو بہت بڑا ثواب عطافرماویں گے ۔
Ayahs 4:163–164

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

بیشک (اے محبوب ﷺ ! ) ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد کے پیغمبروں کو بھیجی ، اور ہم نے وحی بھیجی ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف ، اور ہم نے داود کو زبور دی

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور بھیجے ہم نے کتنے رسول جن کا ذکر ہم تم سے آگے (قرآن میں) بیان کرچکے ہیں اور ( بھیجے ہم نے کتنے) رسول کہ جن کا ذکر ( اب تک) ہم نے تم سے نہیں کیا ، اور خدا نے موسیٰ سے حقیقتا کلام کیا

شان نزول : یہود و نصاری نے آنحضرت ﷺ سے جو یہ سوال کیا تھا کہ ان کے لئے آسمان سے پوری کتاب نازل کی جائے تو وہ آپ کی نبوت پر ایمان لائیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد کے انبیاء جن کی نبوت کو یہ لوگ مانتے ہیں ، ان سب پر ہم نے اپنا کلام اسی طرح نازل فرمایا جس طرح قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہورہا ہے ۔ پھر ان انبیاء کرام کی نبوت کو تسلیم کرنا اور نبی آخر الزماں کی نبوت اور قرآن کے کلام الہی ہونے میں ایسے شبہات کا کرنا بڑی ھٹ دھرمی ہے ۔ اب آگے رسول کی خدمت کا ذکر فرمایا کہ اللہ اور اللہ کے رسول کے فرمانبرداروں کو عقبیٰ کے اجر کی خوشخبری کا سنانا اور نافرمان لوگوں کو عقبیٰ کے عذاب سے ڈرانا یہ اللہ کے رسولوں کی خدمت ہے ۔ پھر فرمایا یہ رسولوں کا بھیجنا کتابوں کا نازل فرمانا اس لئے ہے کہ قیامت کے دن کسی کو عذر کی جگہ نہ رہے کہ اللہ کی مرضی اور ناراضی کی باتیں ہم کو معلوم نہ تھیں ۔ آخر کو فرمایا کہ نافرمان لوگوں سے بدلہ لینے میں وہ زبردست ہے ۔ اس کے عذاب کو اس کی بلامرضی کوئی نہیں ٹال سکتا ۔ ہر وقت کی مصلحت کے موافق شریعت کے احکام نازل فرمانے میں وہ ایسا صاحب حکمت ہے جس کی حکمت کے بھید اسی کو معلوم ہیں ۔
Ayahs 4:165–170

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

(بھیجے) رسول بشارت دینے والے ڈرسنانے والے تاکہ رسولوں کو بھیجنے کے بعد لوگوں کو اللہ کے سامنے کوئی عذر نہ رہے ، اور خدا غالب مظبوط تدبیر والا ہے

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

لیکن (اے محبوب ﷺ خدا گواہی دیتا ہے اس چیز کے حق میں جو تمہاری طرف اتاری ہے کہ وہ اپنے علم سے بھیجی ہے اور فرشتے بھی تمہارے حق میں گواہی دیتے ہیں اور اللہ کی گواہی کافی ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

وہ جنہوں نے (آنحضرت ﷺ کی نبوت کا انکار کرکے) کفر کیا اور لوگوں کو روکا خدا کی راہ سے بیشک وہ دور کی گمراہی میں پڑے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

بیشک جنہوں نے (اللہ کے ساتھ) کفر کیا اور ( کتاب الہی میں حضور ﷺ کے اوصاف بدل کر اور آپ کی نبوت کا نکار کرکے) ظلم کیا ہرگز خدا ان کو نہ بخشے گا اور نہ ان کو کوئی راستہ دکھاوے گا

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

مگر رستہ جہنم کا کہ اس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہاکریں گے اور یہ بات خدا پر بہت آسان ہے

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

اے لوگو ! تمہارے پاس رب کی طرف سے یہ رسول حق کے ساتھ آئے ہیں پس تم ایمان لاؤ (ایمان لانا) بہتر ہوگا تمہارے واسطے اور اگر تم کفر کرو (تو کیا پرواہ ہے) پس تحقیق اللہ ہی کے واسطے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ، اور خدا جاننے والا مظبوط تدبیر والا ہے

رسول کے منکروں کا ذکر شان نزول : ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ کچھ یہود لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تھے ۔ ان سے آپ نے فرمایا کہ یہ تو تمہارا دل جانتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور قرآن شریف کلام الہی ہے ، پھر تم اس کی تصدیق عام لوگوں کے روبرو کیوں نہیں کرتے ۔ یہ سن کر یہود نے آپ کے رسول ہونے اور قرآن کے کلام الہی ہونے کی گواہی دینے سے انکار کردیا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " اے للہ کے رسول ! اگرچہ ان لوگوں نے تمہارے خلاف گواہی دے کر عام لوگوں کو بہکایا ہے ، لیکن اللہ اس بات کا گواہ ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو اور قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص علم اتارا ہے ، جس کے سبب فرشتے گواہی دیں گے اور جو لوگ منکر ہیں ان کی بڑی گمراہی ہے ، ایسے لوگ جہنمی ہیں ۔ پھر اس کے بعد اہل مکہ ، اہل کتاب سب کو فرمایا کہ '' اے لوگو ! یہ اللہ کے رسول اللہ کا سچا کلام لے کر تمہارے پاس آئے ہیں ، اگر تم اس کو مان لوگے تو تمہارا ہی بھلا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے ایمان اور تمہاری عبادت کی کچھ پرواہ نہیں ۔ سب جگہ اللہ کی حکومت ہے ۔
Ayah 4:171

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ Open ayah 4:171 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! اپنے دین میں حد سے نہ گزو اور نہ اللہ کی شان میں کوئی بات کہو بجز سچ بات کے ، مسیح عیسیٰ بیٹا مریم کا خدا کا رسول ہی ہے ، اور اس کا ایک کلمہ کہ مریم کی طرف بھیجا اور خدا کی طرف سے روح ، پس تم خدا اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور نہ کہو : '' خدا تین ہیں '' ایسی گفتگو سے باز رہو ، یہ باز رہنا تمہارے لئے بہتر ہے کہ معبود صرف ایک اللہ ہے ، پاکی ہے خدا کے لئے اس بات سے کہ ہو وے اس کے کوئی بچہ اسی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے ، اور اللہ کافی ہے کارساز

یہ آیت نصاری کے حق میں نازل ہوئی جس کے کئی فرقے بن گئے تھے ۔ ہر ایک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بسبت جداگانہ، کفارانہ عقیدہ رکھتا تھا۔ غرضیکہ عیسائی مذہب میں جس طرح یہ خرابیاں پھیلی ہیں اس کا پورہ قصہ سورة توبہ میں آئے گا ۔ لیکن اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اکیاسی برس کے قریب تک تو عیسائی مذہب اچھی طرح چلا، پھر ایک یہودی شخص جس کا نام بوہس تھا فریب سے نصرانی ہوگیا اور اس نے عیسائی مذہب میں خرابیاں ڈال دیں ۔ یہود اور نصاری کی زیادتیاں روکنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ دین میں حد سے بڑھنا اللہ کی مرضی کے خلاف ہے ۔ کیونکہ دین اللہ کا ہے اس نے دین کی جو حد ٹھرادی ہے اس سے بڑھنے کا کسی کو اختیار نہیں ہے ۔ پھر فرمایا کہ اللہ کی شان میں اپنی طرف سے گھڑ کر کوئی بات نہ کہنی چاہیے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تو فقط اللہ کے رسول ہیں اللہ کے کلمہ، کن کے فرمانے سے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبریل (علیہ السلام) نے جو روح جو روح حضرت مریم سلام اللہ علیہا میں پھونک دی تھی ، ان دونوں سببوں سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ہوئی ، پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول کی بات مانو ، شریعت کی حد میں رہنا تمہارے لئے اچھا ہے ۔ اللہ وحدہ لاشریک ہے آسمان و زمین میں اسی کی بادشاہت ہے ۔
Ayahs 4:172–173

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا Open ayah 4:172 in the Quran reader

ہر گز عار نہیں عیسیٰ کو اس بات سے کہ خدا کا بندہ ہو اور نہ مقرب فرشتے (عار رکھیں) اور جو کوئی اللہ کی بندگی سے عار کرے اور تکبر کرے تو کوئی دم جاتا ہے کہ وہ ان سب کو اپنی طرف ہانکے گا (یعنی آخرت میں سزادے گا)

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:173 in the Quran reader

پس جو لوگ کہ ایمان لائے اور اچھے کام کئے پس ان کو بدلہ پورا پورا دے گا اور زیادہ بھی دے گا ان کو اپنے فضل سے ، اور جن لوگوں نے عار کی اور تکبر کیا تھا پس ان کو دردناک سزا دے گا ۔ اور اللہ کے سوا نہ اپنا کوئی دوست اور نہ مددگار پاویں گے

عسائیوں کی گمراہی کا انجام اور کلالہ کا ذکر شان نزول : نجران کے نصاری کا ایک وفد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے حضور ﷺ سے کہا کہ آپ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو عیب لگاتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لئے یہ عار کی بات نہیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) جن کو ، یہ لوگ خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں یا فرشتے جن کو اہل مکہ خدا کی بیٹیاں جانتے ہیں ، ان میں سے کسی کو بھی اللہ کا بندہ ہونے سے کچھ ننگ و عار نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ سب جانتے ہیں کہ جو کوئی اللہ کی عبادت سے انکار کرے گا ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو سخت سزا دیوے گا ۔ اور یہ بھی ان سب کو معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ کی فرمانبرداری اور عقبیٰ کے اجر کی نیت سے کام کرے گا ، قیامت کے دن اللہ اپنے فضل سے بڑاثواب دیے گا ۔ جس کی مقدار نامہ اعمال والے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں ۔
Ayahs 4:174–175

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:174 in the Quran reader

اے لوگو ! بیشک تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل آئی اور ہم نے تمہاری طرف صاف نور (یعنی قرآن) اتارا

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ Open ayah 4:175 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے خدا پر اور اس کو مظبوط پکڑا پس ان کو عنقریب داخل کرے گا اپنی رحمت اور فضل میں ، اور ان کو اپنی طرف سیدھا رستہ دکھاوے گا

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اہل مکہ ، اہل کتاب اور سب لوگوں کو ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! تمہارے پاس یہ اللہ کے رسول اللہ کا کلام لے کر آئے ہیں ، جو ان کی پیروی کرے گا دنیا میں اللہ تعالیٰ اس کو سیدھے رستہ پر قائم کرے گا اور عقبیٰ میں اس کو جنت میں داخل کرے گا ۔ آپ کا معجزہ آپ کی نبوت کی ایک سند ہے ۔ قرآن اللہ کا کلام ہے جس طرح اندھیرے میں روشنی سے آدمی کو راستہ نظر آنے لگتا ہے ۔
Ayah 4:176

یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 4:176 in the Quran reader

(اے محبوب ﷺ) تم سے فتویٰ دریافت کرتے ہیں تم فرماؤ کہ خدا تم کو میراث (کلالہ) کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے کہ اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو والد اور فرزند نہ چھوڑے اور ہو اس کی ایک بہن تو ترکہ میں اس کی بہن کا آدھا حصہ ہے (اگر وہ بہن سگی یا باپ شریک ہو) اور اگر بہن مرجائے تو بھائی اپنی بہن کا وارث ہے اگر اس کی بہن کے کوئی اولاد نہ ہو پھر اگر دو بہنیں ہوں تو ترکہ میں دونوں بہنوں کا دو تہائی اور اگر بھائی بہن کئی ہوں مرد اور عورتیں تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر اللہ تمہارے لئے صاف بیان فرماتا ہے تاکہ کہیں بہک نہ جاؤ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے

شان نزول : حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ میں بیمار تھا تو آنحضرت ﷺ مع حضرت صدیق اکبر ؓ کے عیادت کے لئے تشریف لائے ۔ حضرت جابر ؓ بیہوش تھے ۔ حضرت نے وضو فرما کر آب وضو ان پر ڈالا انہیں افاقہ ہوا ۔ آنکھ کھول کر دیکھا تو حضور ﷺ تشریف فرما ہیں ۔ عرض کیا :” یا رسول اللہ ! میں اپنے مال کا کیا انتظام کروں “ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ (بخاری و مسلم) ابو داود کی روایت میں یہ بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت جابر ؓ سے فرمایا :” اے جابر ! میرے علم میں تمہاری موت اس بیماری سے نہیں ہے “ مسئلہ : بزرگوں کا آب وضو تبرک ہے اور اس کو حصول شفاء کے لئے استعمال کرنا سنت ہے ۔ مریضوں کی عیادت سنت ہے ۔ آنحضرت ﷺ کو علم غیب تھا کیونکہ حضرت جابر ؓ سے فرمایا تھا کہ تمہاری موت اس بیماری سے نہیں ہوگی ۔ کلالہ وہ شخص ہے جس کے وارثوں میں نہ باپ ہو نہ بیٹا ، تو اس کی سگی ماں یا باپ شریک بہن کا نصف حصہ ہے اور ماں کی شریک بہن کا چھٹا حصہ ہے ۔ اسی طرح جب بہن مرے اور وارثوں میں اس کا باپ ہو نہ بیٹا ، تو بھائی سارے ترکے کا وارث ہے ۔ بہن کی اولاد میں لڑکا ہو تو بھائی کو کچھ نہیں ، ہاں لڑکی ہو تو اس لڑکی کے حصہ کے بعد جو کچھ باقی رہے گا وہ بھائی کو ملے گا ۔ پوری میراث کا ذکر بڑی کتابوں میں ہے جو ہر قرابت دار کا حصہ مصلحت کے موافق ٹھرایا ہے اس مصلحت کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ۔