4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 4:79–82

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

(اے سننے والے) جو کچھ تجھ کو بھلائی پہنچتی ہے تو وہ خدا کی طرف سے ہے، اور جو کچھ برائی پہنچتی ہے وہ تیرے ہی نفس کی طرف سے ہے اور (اے محبوب ! ﷺ) ہم نے تمہیں سب لوگوں کے واسطے رسول بھیجا، اور خدا گواہ کافی ہے

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

تو جس نے فرمانبرداری کی رسول کی بیشک اس نے فرمانبرداری کی اللہ کی اور جس نے منہ پھیرا تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

اور کہتے ہیں : ہمارا کام اطاعت کرنا ہے پس جب تمہارے پس سے باہر جاتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ جو کچھ تم سے کہہ گیا تھا اس کے برخلاف رات کے وقت منصوبے گانٹھتا ہے، اور خدا لکھتا ہے (یعنی اعمالنامہ میں) جو کچھ رات میں مشورے کرتے ہیں، پس (اے محبوب ! ﷺ) تم ان سے چشم پوشی کرو اور بھروسہ کرو خدا پر اور اللہ کافی ہے کام بنانے والا

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

تو کیا قرآن میں غور نہیں کرتے ہیں اور اگر وہ (قرآن) غیر خدا کے پاس سے ہوتا، البتہ اس میں بہت اختلاف پاتے

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب یہ نبی اللہ کے رسول ہیں اور لوگوں کو جو حکم کرتے ہیں وہ اللہ کے فرمانے کے موافق کرتے ہیں، اپنی طرف سے کوئی بات نہی کہتے تو ان کی فرمانبرداری عین اللہ کی فرمانبرداری ہے۔ اس کے بعد اپنی رسول ﷺ کو ارشاد ہوتا ہے کہ جو کوئی اس میں کوتاہی کرے تو ہم ایسے لوگوں کے نگہبان ہیں ۔ پھر منافقوں کی مذمت فرمائی کہ ایسے لوگ تمہارے سامنے فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہیں تاکہ ان کی جان ومال کو کوئی صدمہ نہ پہنچے، اور اپنے گھروں میں جاکر برخلاف مشورہ کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے کرتوت اللہ کے دفتر میں لکھے جاتے ہیں۔ آپ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے وقت مقررہ پر اللہ تعالیٰ ان سے خودبگھت لے گا۔
Ayahs 4:83–87

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس کوئی خبر اطمینان کی آوے یا خوف کی تو اس کو مشہور کرتے ہیں، اور اگر اس کو رسول (ﷺ) کی طرف رجوع لاتے اور ان کی طرف جو ان میں صاحبان حکومت ہیں اہل اسلام سے البتہ معلوم کرتے اس خبر کی حقیقت پھر سمجھ لیتے، ان سے جو لوگ تحقیق کرتے ہیں ان میں سے اور اگر نہ ہوتا فضل خدا کا تم پر اور رحمت اس کی البتہ پیروی کرتے تم شیطان کی مگر تھوڑے

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ) پس خدا کی راہ میں جہاد کرہ، تم تکلیف نہ دئیے جاؤ گے مگر تمہاری جان کی اور رغبت دو مسلمانوں کی، قریب ہے کہ اللہ موقوف کرے لڑائی کافروں کی، اور اللہ لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے اور سخت سزا دینے والا ہے

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو کوئی سفارش کرے اچھی بات میں تو اس کو اس میں سے حصہ ملتا ہے، اور جو کوئی کرے بری بات میں سفارش تو اس کے لئے اس میں سے حصہ (یعنی عذاب) اور خدا سب چیز پر قوت رکھنے والا ہے

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب تمہاری سلام سے تعظیم کی جائے پس تعظیم کرو اس سے بہتر لفظ سے یا اسی لفظ کا جواب دو ، بیشک خدا ہر چیز پر حساب لینے والا ہے

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

اللہ ہے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں، مگر وہ تم کو ضرور جمع کرے گا قیامت کے دن کہ جس میں کوئی شبہ نہیں، اور کون سچ بولنے والا زیادہ ہے خدا سے بات میں

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ کسی خبر کو بغیر سوچے سمجھے اور سمجھ داروں سے صلاح لئے (مشورہ کیے بغیر) شائع نہ کرنا چاہیے ان آیتوں میں فرمایا کہ اے نبی اللہ کے ! آپ مسلانوں کو دین کی لڑائی کی ترغیب دلایا کیجئے، باقی رہی فتح وشکست وہ لشکر کی مدد پر منحصر نہیں ہے بلکہ فتح وشکست اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔ آپ بذات خود اللہ کی راہ میں لڑئیے اللہ آپ کی مدد کرے گا۔ یہ جو فرمایا قریب ہے کہ اللہ بند کرے لڑائی۔ یہ ایک غیب کی خبر تھی چناچہ اسی کے موافق ظہور ہوا اور یہ جو ہے کہ اللہ کی لڑائی اور عذاب سخت ہے۔ اس سے ہر ایک کو ڈرنا چاہئے۔ ان آیتوں میں مکہ کے اہل شرک سے دین کی لڑائی کا حکم تھا اور ان اہل شرک میں اکثر لوگ ایسے تھے جو مسلمانوں کے قرابت دار بھی تے، اور ان کو مسلمانوں کی لڑائی سے کچھ واسطہ بھی نہ تھا۔ اس واسطے لڑائی کی آیتوں میں باہمی سفارش اور سلام ودعا کا ذکر فرمایا۔ فقط السلام علیک سے دس نیکیوں کا ثواب ہوتا ہے اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ سے بیس کا اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سے تیس نیکیوں کا۔ اور جو شخص السلام علیکم میں کوتاہی کرتا ہے وہ بڑا بخیل ہے۔ اور حضرت محمد ﷺ یہ بھی فرمایا کہ جب ایک مسلمان دوسرے مسمان سے مل کر السلام علیک کہتا اور مصافحہ کرتا ہے تو دونوں کے گناہ ایسے جھڑجاتے ہیں جیسے خزاں کے موسم میں کسی پیڑ کے پتے۔ جو آدمی السلام علیک کی ابتدا کرے وہ اللہ کے نزدیک بہتر ہے۔
Ayahs 4:88–91

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

پس تم کو کیا ہوا (اے مسلانو) کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہوگئے اور خدا نے ان کو اوندھا کردیا ان کے برے اعمال کی وجہ سے کیا یہ چاہتے ہو کہ اسے راہ دکھاؤ جسے خدا نے گمراہ کیا۔ اور جسے خدا گمراہ کرتا ہے تو ہرگز اس کے لئے کوئی راستہ نہ پائے گا

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

ان منافقوں نے آرزو کی ہے کہ تم کافر ہوجاؤ جیسا کہ وہ کافر ہوئے تاکہ تم سب برابر ہوجاؤ پس ان میں سے کسی کو بھی اپنا دوست نہ بناؤ جب تک کہ خدا کی راہ میں ہجرت نہ کریں، پس اگر وہ پھرجائیں (یعنی اسلام اور ہجرت سے) تو ان کو پکڑو اور ان کو جہاں پاؤ قتل کرو اور نہ ان میں سے کسی کو دوست بناؤ اور نہ مددگار

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

مگر وہ جو ایسی قوم سے ملاپ رکھتے ہیں کہ تمہارے درمیان اور ان کے درمیان عہد ہے، یا تمہارے پاس اس حال میں آویں کہ ان کے دلوں میں سکت نہ رہی کہ تم سے لڑیں یا لڑیں اپنی قوم سے، اگر خدا چاہتا تو البتہ ان کو تم پر زور آور کرتا تو بیشک وہ تم سے لڑتے پس اگر یہ گروہ کنارہ کریں تمہاری طرف سے پس لڑائی نہ کریں تم سے اور صلح کا پیغام تمہاری طرف ڈالیں تو خدا نے تم کو ان پر کوئی راہ نہیں رکھی ہے

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

البتہ تم عنقریب ایسی قوم کو بھی پاؤ گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امان میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امان میں رہیں، جب کبھی ان کی قوم انہیں فساد کی طرف پھیرے تو اس پر اوندھے گرتے ہیں، پھر اگر وہ تم سے کنارہ نہ کریں تمہاری لڑائی سے اور نہ ڈالیں تمہاری طرف صلح کا پیغام اور اپنے ہاتھوں کو نہ روکیں پس انہیں پکڑو اور ان کو قتل کرو جہاں کہیں پاؤ، اور یہی گروہ ہے کہ جن پر ہم نے تم کو صریح اختیار دیا

جنگ احد سے واپس جانے والوں کا ذکر شان نزول : جنگ احد میں ہزار آدمیوں میں سے تین سو آدمی جب عبداللہ بن ابی منافق کے ساتھ لشکر اسلام سے جدا ہو کر مدینہ کو چلے آئے تو باقی سات سو آدمی جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہ گئے تھے ان کے دو فرقے ہوگئے تھے۔ ایک فرقہ تو یہ کہتا تھا کہ یہ تین سو آدمی عین وقت پر لشکر اسلام چھوڑ کر ایک منافق کے بہکانے سے گھر جابیٹھے۔ اس واسطے اب وہ لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے۔ اب موقع پڑے تو ان کا قتل کرنا لازم ہے، اور دوسرا فرقہ کہتا تھا کہ نہیں وہ ہمارے بھائی مسلمان ہیں نہ ہم ان سے لڑیں گے نہ قتل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے آپس کے اختلاف رفع ہوجانے کی غرض سے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرمادیا کہ وہ لوگ جب تک تمہارا پورا ساتھ نہ دیں ان کو مسلمان نہ شمار کرنا چاہئے اور ضرور حسب موقع ان کو قتل کرنا چاہئے۔ ان منافقوں میں سے دو طرح کے لوگوں کو مستثنیٰ فرمایا : (1) ایک صلح والوں کے ہم عہد کہ وہ بھی بالواسطہ صلح میں داخل ہیں جس طرح مثلا صلح کے بعد صلح والے قریش اور ان کے ہم عہد بنومدلج (2) دوسرے وہ لوگ جو لڑائی سے عاجز ہوکر اس بات پر قائم ہیں کہ نہ اپنی قوم کی طرف سے مسلمانوں سے لڑیں گے نہ مسلمانوں کی طرف سے کسی سے لڑیں گے۔ جس طرح قبیلہ بنومدلج، کہ نہ مسلمانوں سے لڑتے تھے نہ قریش سے۔ پھر فرمایا جب تک یہ لوگ اس حالت پر قائم رہیں تو یہ اللہ کی ایک مصلحت ہے اس نے ان کو تمہاری لڑائی سے روک رکھا ہے۔ ان کے قریب ایک فرقہ فرمایا کہ جو اپنی جان اور اپنا مال بچانے کے لئے ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں مگر درحقیقت وہ مشرک ہیں اگر وہ صلح پر قائم نہ رہیں تو ان کو قید کرلو اور مارو جہاں پاؤ۔ کیونکہ ان کی حالت اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک سند ٹھہرادی ہے۔ بعض مفسرین نے آیت فان اعتزلو کم کو فاقتلوا المشرکین سے منسوخ کہا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ عہد و صلح پر قائم بھی رہیں تو ان سے لڑنا چاہئے لیکن عہد وصلح والوں کا حکم مستثنیٰ کے طور پر اوپر گزر چکا ہے۔ اس لئے یہ آیت مستثنیٰ کے حکم میں داخل ہے منسوخ نہیں ہے۔
Ayah 4:92

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

اور نہیں ہے لائق مسلمان کو کہ وہ کسی مسلمان کو قتل کرے مگر نادانستہ (یعنی بغیر قصد) اور جو کوئی کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کرڈالے پس لازم ہے اس پر آزاد کرنا غلام مسلمان کا اور مقتول کے وارثوں کے پاس بدلہ خون کا دیا جائے گا مگر یہ کہ وہ خود معاف کردیں، پھر اگر وہ مقتول تمہارے دشمنوں کے گروہ سے ہو اور خود مسلمان ہے، پس لازم ہے آزاد کرنا مسلمان غلام کا اور اگر مقتول اس گروہ سے ہو کہ تمہارے ان کے درمیان عہد ہے پس لازم ہے کہ بدلہ خون کا دیا جائے اس کے آدمیوں کو اور مسلمان غلام آزاد کرنا چاہئے۔ مگر جس کو غلام میسر نہ ہو پس لازم ہے وہ روزے رکھے دو ماہ کے لگاتار، یہ طریقہ مقرر ہے کفارہ میں قبول توبہ کے لئے خدا کی طرف سے اور خدا مظبوط تدبیر کرنے والا ہے

قتل خطا کا ذکر اور مسلمان کے قاتل کو ہمیشہ کی دوزخ کی سزا شان نزول : اس کا مطلب یہ ہے کہ ابوجہل کا سوتیلا بھائی عیاش بن ابی ربیعہ ہجرت سے پہلے مسلمان ہوگیا تھا لیکن مشرکین کے خوف سے اپنے اسلام کو ظاہر نہیں کرسکتا تھا۔ جب آپ ﷺ ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ تشریف لے آئے تو عیاش بھی مدینہ میں آکر ایک جگہ اپنے بھائیوں کے ڈر سے چھپ کر رہنے لگا۔ عیاش کی ماں نے عیاش کے غم میں گھر کا رہنا اور کھانا پینا چھوڑ دیا۔ سوتیلی ماں کا یہ حال دیکھ کر حارث بن ہشام، حارث بن زید عامری اور ابوجہل، عیاش کی تلاش میں نکلے اور پتہ لگا کر پھر اس کو مکہ میں لے گئے، اور اس کو بہت مارا اور طرح طرح کی اذیت دی، اور حارث بن یزید نے عیاش کو برا بھلا بھی بہت کچھ کہا۔ اس پر عیاش نے اپنے دل میں ٹھان لی تھی کہ کبھی موقع پاکر حارث بن یزید کو مار ڈالوں گا۔ اب فتح مکہ سے پہلے حارث اگرچہ اسلام لے آیا تھا مگر عیاش کو اس کے اسلام کی خبر نہ تھی اور فتح مکہ پر عیاش نے حارث کو قتل کر ڈالا۔ اور پھر حارث کے اسلام کا حال سن پر آنحضرت ﷺ کے سامنے اس نے اپنی ندامت ظاہر کی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کا قتل کرنا ناحق روا نہیں۔ اور مسلمان کی شان نہیں کہ اس سے کسی مسلمان کا قتل سرزد ہو بجز اس کے کہ جو قتل کسی غلطی کے سبب سے واقع ہوجاوے اس کو قتل خطا کہتے ہیں۔ جس طرح اس قتل میں عیاش کو حارث بن یزید کے اسلام میں غلطی ہوگئی۔ قتل خطا کا خون بہا سو اونٹ ہیں جو اس کے وارثوں کو دیا جاوے، اور وہ میراث کی طرح تقسیم کریں۔ قتل خطا میں خون بہا کے علاوہ ایک بردہ (غلام) کا آزاد کرنا بھی ہے، اگر اتنا مقدور نہ ہو تو سلسلہ وار دو مہینے کے روزے ہیں۔ مقتول شخص کے وارث خون بہا معاف کردیں تو ان کو اختیار ہے۔
Ayah 4:93

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور جو کوئی قتل کردے مسلمان کو جان بوجھ کر تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ پڑا رہے گا اور اس پر غصہ ہوا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کیا

اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کو عمدا قتل کرنا سخت گناہ ہے۔ اس کا شان نزول یہ ہے کہ مقیس نے اپنے بھائی ہشام کو بنی نجار قبیلہ کی سرحد میں مقتول پایا، اور حضرت سے قصہ کا تذکرہ کیا۔ آپ نے بنی نجار سے سو اونٹ اس کے بھائی کے خون بہا کے مقیس کو دلادیئے۔ اس نے یہ اونٹ بھی لئے اور موقع پاکر ایک آدمی نجار کا قتل کرکے مرتد ہوکر مکہ چلا گیا، اور مشرکوں میں جا ملا۔ فتح مکہ پر آنحضرت ﷺ نے عام امن میں سے اس کو واجب القتل قرار دے کر قتل کرایا۔ اسی مقیس کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس صورت میں قاتل کا ہمیشہ دوزخ میں رہنے کا ذکر ہے کو کہ درجہ کفر کا ہے۔
Ayah 4:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

اے مسلمانو ! جب تم سفر کرو خدا کی راہ میں یعنی جہاد کو چلو تو خوب تحقیق کرو اوار جو تمہیں سلام کرے اس شخص سے یہ نہ کہو کہ : تو نہیں ہے مسلمان تم زندگانی دنیا کا اسباب طلب کرتے ہو پس خدا کے پاس غنیمتوں کے مال بہت ہیں۔ اس سے پہلے تم بھی ایسے ہی تھے پس خدا نے تم پر احسان کیا پس تم پر تحقیق کرنا لازم ہے، بیشک خدا تمہارے کاموں سے آگاہ ہے

جہاد کا ذکر شان نزول : ایک شخص مرداس بن نہیک جو پہلے سے درپردہ مسلمان تھا السلام علیک کہہ کر مسلمانوں کی طرف آنے لگا مگر مسلمانوں نے مرداس کے السلام علیک کو خالص نہ خیال کیا۔ بلکہ یہ خیال کیا کہ جان کے خوف سے یہ فریبی (مکروفریب کا) سلام علیک کرتا ہے۔ چناچہ آخر کار حضرت اسامہ بن زید ؓ نے اس کو قتل کرڈالا اور جو کچھ اس کے پاس تھا وہ لے لیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ بلادریافت حال کے فقط خیال پر کسی کو مشرک سمجھ کر قتل کرنا اور اس کا مال ومتاع لے لینا اللہ کی مرضی کے سراسر خلاف ہے۔
Ayahs 4:95–96

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

برابر نہیں ہیں وہ مسلمان جو گھر بیٹھے رہیں (جہاد سے) بغیر مرض کے اور وہ جو خدا کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں، خدا نے بزرگی دی ہے ان کو جو جہاد کرتے ہیں اپنے مالوں اور جانوں سے مرتبہ میں گھر بیٹھنے والوں پر، اور خدا نے ہر ایک سے بھلائی کا وعدہ کیا ہے، اور خدا نے مجاہدین کو گھر بیٹھنے والوں پر بڑے ثواب سے فضیلت دی ہے

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

اپنی طرف سے مرتبہ اور بخشش اور مہربانی اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

شان نزول : اس کے پہلے ٹکڑے کا مطلب یہ ہے کہ جہاد کرنے والے اور بیٹھ رہنے والے برابر نہیں ہیں۔ اس پر حضرت ابن ام مکتوم اور ابن جحش نے آکر آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ حضرت ہم لوگ اندھے ہیں ورنہ ضرور آپ کے ساتھ جہاد کو چلتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اندھے، لنگڑے اور بیمار کو جہاد کے حکم سے معاف رہنے کی غرض سے غیر اولی الضرر یہ ٹکڑا نازل فرمایا، حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جو لوگ بلاعذر جہاد سے بیٹھ رہیں گے وہ ثواب سے محروم رکھے جاویں گے۔ ہاں معذور لوگ جن کی نیت جہاد کی ہے لیکن معذوری کے سبب سے وہ مجبور ہیں ایسے لوگ اپنی نیت کا ثواب پاویں گے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ تبوک کی لڑائی سے واپس ہوتے وقت آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عذر کے سبب سے جو لوگ لڑائی میں شریک نہ ہوسکے، جتنے کام لڑائی میں ہم نے کئے ہیں وہ ان سب کاموں میں گھر بیٹھے ثواب میں شریک کئے جاویں گے۔ جہاد والوں کے لئے اللہ نے جنت میں سو درجے رکھے ہیں، ہر ایک درجہ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
Ayahs 4:97–100

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

تحقیق وہ لوگ کہ جن کی فرشتوں نے روح قبض کی اس حال میں کہ وہ اپنی جان پر ظلم کررہے تھے ان سے فرشتوں نے کہا : تم کس حال میں تھے کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور تھے فرشتوں نے کہا : کیا خدا کی زمین کشادہ نہ تھی ؟ کہ تم ہجرت کرکے چلے جاتے اس میں پس ان لوگوں کی جگہ دوزخ ہے، اور وہ بری جگہ ہے پلٹنے کی

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

مگر وہ لوگ کہ حقیقت میں بےبس ہیں مرد اور عورتیں اور بچے جنہیں نہ کوئی تدبیر بن پڑے اور نہ کوئی راہ پاتے ہیں

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

پس ایسے گروہ کے لئے قریب ہے کہ خدا معاف کردے، اور خدا معاف کرنے والا بخشنے والا ہے

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

اور جو کوئی خدا کی راہ میں گھر بار چھوڑ کر نکلے گا۔ اس کو زمین میں بہت جگہ آسائش اور فراخی کی ملے گی، اور جو کوئی اپنے گھر سے نکلا طرف خدا کے اور اس کے رسول کے ہجرت کرتا ہوا اور پھر اس کو موت پالیوے پس تحقیق ثابت ہوگیا اس کا اجر خدا پر، اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

شان نزول : یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے کلمہ اسلام زبان سے ادا کیا مگر جس زمانہ میں ہجرت فرض تھی اس وقت ہجرت نہ کی، اور جب مشرکین جنگ بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے نکلے تو یہ لوگ ان کے ساتھ ہوئے اور کفار کے ساتھ ہی مارے بھی گئے۔ اور ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتلایا گیا کہ کفار کے ساتھ ہونا اور فرض ہجرت ترک کرنا اپنی جان پر ظلم ہے۔
Ayah 4:101

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

اور جب تم زمین میں سفر کرو پس تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ بعض نمازیں قصر سے پڑھو، اگر تم کو اس سے اندیشہ ہو کہ کافر تم کو ایذا دیں گے، بیشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں

تفسیر ابن جریر میں حضرت علی ؓ کی روایت سے شان نزول اس آیت کا بیان کیا گیا ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی نجار قبیلہ کے کچھ لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت ہم لوگ سفر کرتے رہتے ہیں۔ سفر میں ہم نماز کیونکر پڑھا کریں، اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا وہ ٹکڑا نازل فرمایا جس میں نماز کے قصر کرنے کا حکم ہے یعنی چار رکعت والی دو رکعت پڑھے۔ مسئلہ : ہے کہ خوف کفار قصر کے لئے شرط نہیں ہے۔ یعلی بن امیہ نے حضرت عمر ؓ سے کہا کہ ہم تو امن میں ہیں پھر ہم کیوں قصر کرتے ہیں۔ فرمایا : اس کا مجھے بھی تعجب ہوا تھا۔ تو میں نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا حضور نے فرمایا کہ تمہارے لئے یہ اللہ کی طرف سے صدقہ ہے، تم اس صدقہ کو قطول کرو۔ مسئلہ : ہے کہ سفر میں چار رکعت والی نماز کو پوار پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے صدقہ کا رد کرنا لازم آتا ہے لٰہذا قصر ضروری ہے۔ مدت سفر : جس سفر میں قصر کیا جاتا ہے اس کی ادنیٰ مدت تین دن کی مسافت ہے جو اونٹ یا پیدل کی متوسط رفتار سے طے کی جاتی ہو، اور اس کی مقداریں خشکی اور دریا اور پہاڑوں میں مختلف ہوجاتی ہیں۔ تو جو مسافت متوسط رفتار سے چلنے والے تین روز میں طے کرتے ہوں اس کے سفر میں قصر ہوگا۔
Ayah 4:102

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور (محبوب ! ﷺ) جب کہ تم مومنوں کے درمیان ہو پھر تم نے قائم کی نماز ان کے واسطے (یعنی امامت کی) پس چاہئے کہ ان میں سے ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو وے اور وہ اپنے ہتھیار لئے رہیں، پس جب یہ سجدہ کرلیں تو اس گروہ کو چاہئے کہ ہٹ کر پیچھے ہوجائیں، اور اب وہ دوسرا گروہ آوے جو اس وقت تک نماز میں شریک نہ تھا اب وہ تمہارے مقتدی ہوں اور چاہئے کہ اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار لئے رہیں اور تمنا کرتے ہیں کافر لوگ کہ کاش ! تم اپنی ہتھیاروں سے اور اپنے سامان سے غافل ہوجاؤ پس حملہ کریں تم پر یک بارگی اور تم پر کچھ گنا نہیں ہے اگر تم کو بارش سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہوجاؤ۔ کہ اپنے ہتھیار اتار کر رکھ دو اور اپنے بچاؤ کا سامان ساتھ لے لو بیشک خدا نے کافروں کے لئے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

اس میں باجماعت نماز خوف کا بیان ہے شان نزول : جہاد میں جب آنحضرت ﷺ کو مشرکین نے دیکھا کہ آپ نے مع تمام اصحاب کے نماز ظہر باجماعت ادا فرمائی تو انہیں افسوس ہوا کہ انہوں نے اس وقت میں کیوں نہ حملہ کیا، اور آپ میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ کیا ہی اچھا موقع تھا۔ بعضوں نے ان میں سے کہا کہ اس کے بعد ایک اور نماز ہے جو مسلمانوں کو اپنے ماں باپ سے زیادہ پیاری ہے یعنی نماز عصر۔ جب مسلمان اس نماز کے لئے کھڑے ہوں تو پوری قوت سے حملہ کرکے قتل کردو۔ اس وقت حضرت جبریل علیہ اسلام نازل ہوئے اور انہوں نے سید عالم سے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ یہ نماز خوف ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حاضرین کو دو جماعتوں میں تقسیم کردیا جاوے۔ ایک ان میں سے آپ کے ساتھ رہے آپ انہیں نماز پڑھائیں اور ایک جماعت دشمن کے مقابلہ میں قائم رہے یعنی جو لوگ دشمن کے مقابل ہوں۔ شان نزول : ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں جبکہ اللہ تعالیٰ نے نماز کی حالت میں بھی مسلمانوں کو ہتھیار بند ہی رہنے کا حکم فرمایا۔ تو اس حکم کے سبب سے مسلمان حالت مینہ اور حالت بیماری میں ہر وقت ہتھیار بند رہتے تھے۔ چناچہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ ایک لڑائی کے وقت زخمی تھے مگر ہتھیار بندھے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اجازت کہ جرح کے وقت ہتھیار کھول ڈالو تو مضائقہ نہیں مگر ہوشیار رہو تاکہ ہاتھ خالی پاکر مشرکین تم پر حملہ نہ کر بیٹھیں۔
Ayahs 4:103–104

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

پھر جب تم نماز سے فارغ ہوجاؤ تو خدا کو یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے، پس جب تم مطمئن ہوجاؤ تو حسب دستور نماز قائم کرو بیشک نماز مومنوں پر فرض ہے وقت مقرر باندھا ہوا

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

اور ہمت نہ ہارو تلاش میں کافروں کی اگر تم تکلیف پاتے ہو تو وہ بھی تکلیف پاتے ہیں جیسا کہ تم تکلیف پاتے ہو، اور تم امید رکھتے ہو خدا سے اس چیز کی جو ان کو امید نہیں ہے، اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے

اوپر کی آیتوں میں صلٰوۃ الخوف کی اجازت تھی اور اس حالت میں رکوع و سجدہ اطمینان سے نہیں ہوسکتا جس طرح امن کی حالت میں ہوسکتا ہے۔ اس واسطے فرمایا کہ صلٰوۃ الخوف کے بعد اللہ کا ذکر کثرت سے ہر حال میں کیا جاوے تاکہ لڑائی کے خدشہ کے سبب سے اس نماز کے ارکان میں جو کچھ کمی ہوئی ہے وہ آسانی سے پوری ہوجاوے۔ کیونکہ ذکر الٰہی میں نماز کی طرح نہ وقت کی قید ہے نہ وضو کی۔ آنحضرت ﷺ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ پھر فرمایا کہ صلٰوۃ الخوف میں وقت اور تکمیل ارکان کی پوری پابندی نہ ہوسکے تو حرورت شرعی کے سبب سے معاف ہے۔ لیکن امن کی حالت میں اس طرح ادھوری نماز کی عادت نہ ڈالی جائے کہ امن کی حالت میں ادھوری نماز ہرگز قبول نہ ہوگی، بلکہ امن کی حالت میں جس طرح حکم ہے وقت اور ارکان کا پورا خیال رکھا جاوے، اور یہ بھی تنبیہ فرمائی کہ آئندہ دین کے مخالفوں کے تعاقب اور مقابلہ میں پست ہمتی کیوں کرتے ہو۔ اللہ نے علم اور حکمت ازلی کے موافق بڑی بڑی نعمتیں رکھی ہیں۔
Ayahs 4:105–109

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ Open ayah 4:105 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ) بیشک ہم نے نازل کی تمہاری طرف کتاب سچی تاکہ تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو جس طرح تمہیں خدا نے بتایا ہے، اور تم دغا بازوں کی طرف سے نہ جھگڑو

وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 4:106 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو، بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ Open ayah 4:107 in the Quran reader

اور نہ جھگڑو تم ان کی طرف سے جو اپنی جانوں کے ساتھ خیانت کرتے ہیں، بیشک خدا دوست نہیں رکھتا اس کو جو کوئی دغا باز گناہ کرنے والا ہے

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا Open ayah 4:108 in the Quran reader

چھپتے ہیں لوگوں سے اور نہیں چھپتے خدا سے حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کے پاس ہے جب کہ دل میں وہ بات تجویز کرتے ہیں جس کو خدا پسند نہیں کرتا ہے، اور جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں خدا احاطہ کئے ہوئے ہے

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١۫ فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 4:109 in the Quran reader

اے لوگو ! تم آگاہ ہو تم نے خیانت کرنے والوں کی طرف سے دنیا کی زندگانی پر جھگڑا کیا، پس کون جھگڑے گا اللہ سے ان کے بدلے قیامت کے دن یا کون ہے کہ ان کا کارساز ہوگا

شان نزول : آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک انصاری کی زرہ آٹے میں دھری ہوئی تھی جو گم ہوگئی۔ صبح کو تلاش کی تو آٹے کا نشان ایک شخص کے گھر تک تھا جس کا نام طعمہ بن ابیرق تھا، وہاں جھاڑا لیا (تلاشی لی) تو نہ پائی۔ وہ نشان آگے دیکھا تو ایک یہودی کے گھر تک جس کا نام زید تھا پایا گیا۔ وہاں زرہ ملی۔ اس یہودی نے کہا کہ مجھ کو طعمہ نے سپرد کی۔ طعمہ نے کہا میں بری ہوں چور وہی ہے جس کے ہاں برآمد ہوئی۔ طعمہ کی قوم میں رات کو مشورہ ہوا کہ ہم سب مل کر آنحضرت ﷺ کے پاس گواہی دیں گے کہ طعمہ بری ہے اور آنحضرت ﷺ ہماری حمایت کریں گے اور وہ یہودی چور ٹھہرے گا۔ صبح کو سب نے مل کر یہی کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آنحضرت ﷺ کو خبردار کیا کہ فی الحقیقت چور یہی طعمہ تھا۔
Ayahs 4:110–113

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:110 in the Quran reader

اور جو کوئی برے کام کرے یا اپنے نفس پر ظلم کرے پھر خدا سے بخشش طلب کرے تو خدا کو بخشنے والا مہربان پائے گا

وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:111 in the Quran reader

اور جو کوئی کمائے گناہ پس اپنے ہی حق مین کماتا ہے، اور خدا جاننے والا مضبوط تدبیر والا ہے

وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:112 in the Quran reader

اور جو کوئی خطا یا گناہ کمائے پھر اس کی تہمت کسی بےگناہ پر رکھے تو بیشک اس نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَ رَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ١ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا Open ayah 4:113 in the Quran reader

اور (اے محبوب ! ﷺ) اگر خدا کا فضل اور رحمت تم پر نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے ارادہ کیا تھا کہ تم کو دھوکا دیں۔ اور وہ اپنے ہی آپ کو گمراہ کرتے ہیں اور تم کو کچھ نقصان نہیں پہنچائیں گے، اور اللہ نے تم پر نازل کی ہے کتاب اور حکمت اور سکھادیا ہے تم کو جو کچھ تم نہیں جانتے تھے، اور خدا کا فضل ہے تم پر بڑا

شان نزول : یہ آیتیں بھی طعمہ کے قصہ سے متعلق ہیں ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے طعمہ کو چوری کے گناہ سے اور ایک بےگناہ شخص پر جو اس نے چوری کا بہتان لگایا تھا، اس سے اور طعمہ کے قبیلہ کے لوگوں کو جھوٹی گواہی کے گناہ سے، توبہ استغفار کرنے کی رغبت دلائی ہے، اور فرمایا کہ کبیرہ صغیرہ جس طرح کے گناہوں سے جو کوئی توبہ کرے گا اللہ ایسا غفور ورحیم ہے کہ وہ فورا ہر ایک کی خالص نیت کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اور اس توبہ کرنے والے شخص کے سب گناہ معاف کردیتا ہے۔ پھر فرمایا کہ اے رسول اللہ ﷺ یہ اللہ کا تم پر فضل اور اس کی رحمت ہے کہ جہاں ایسا غلطی کا موقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فورا بذریعہ وحی کے اس غلطی کو رفع کرکے معاملہ کی صحیح صورت تم کو بتلادیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے آپ کو معصوم کیا ہے۔
Ayahs 4:114–115

لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:114 in the Quran reader

ان کے اکثر چھپے مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں ہے لیکن بھلائی اس شخص کے مشورے میں ہے کہ حکم کرے واسطے خیرات کے یا اچھ کام کے یا صلح کرائے درمیان لوگوں کے، اور جو کوئی ایسی باتیں کرے حاصل کرنے رضامندی خدا کے لئے پس ہم اس کو عنقریب اجر عظیم دیں گے

وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠ Open ayah 4:115 in the Quran reader

اور جو کوئی مخالفت کرے پیغبر کی بعد اس کے کہ کھل گیا واسطے اس کے امر حق اور مسلمانوں کی راہ چھوڑ کر دوسری راہ چلے۔ ہم اس کو اسی طرف متوجہ کریں گے جدھر وہ متوجہ ہے اور ہم اس کو جہنم میں داخل کریں گے، اور وہ بری جگہ ہے پلٹنے کی

شان نزول : طعمہ کی قوم کے لوگوں نے آپس میں رات کو اس جھوٹی گواہی کا مشورہ کیا جس کا ذکر اوپر گزرا اور صبح کو وہ جھوٹی گواہی آنحضرت ﷺ کے روبرو ادا کی، اور پھر اوپر کی آیتوں کے نازل ہوجانے کے بعد جب طعمہ کی چوری کا حال کھل گیا تو وہ اپنے ہاتھ کاٹے جانے کی سزا سے ڈر کر مدینہ سے مکہ کو بھاگ گیا اور وہاں مرتد ہوکر مرگیا۔ ان ہی باتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ طعمہ کی قوم کی طرح جو کوئی خلاف شریعت باتوں کا مشورہ کرے تو اس طرح کے مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں بکلہ دین کا نقصان ہے۔ ہان دین کے فائدے کے مشورے یہ ہیں کہ کسی کو صدقہ خیرات کا یا شریعت میں اور نیک کام جو ہیں ان کا یا جہاں کسی مسلمانوں میں لڑائی ہو ان میں صلح کرانے کا مشورہ دیا جائے۔ پھر فرمایا جو کوئی نیک کام خالص ثواب کی نیت سے کرے گا تو اس کو عقبیٰ میں بڑا ثواب ملے گا۔ اب آگے فرمایا جو طعمہ کی طرح اسلام لانے کے بعد مرتد ہوجاویں تو ایسے لوگوں کو دنیا میں اللہ ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے کیونکہ مجبور کرکے راہ راست پر لانا انتظام الٰہی کے برخلاف ہے اور عقبیٰ میں ایسے لوگوں کا انجام جہنم ہے۔