5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمظہر القرآن

Ayah 5:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 5:1 in the Quran reader

اے مومنو ! اپنے عہد پورے کرو ( یعنی وہ عہد جو خدا سے باندھے ہیں ان کے التزام اور احکام میں) تمہارے لئے ہوئے چار پائے چرنے والے (یعنی مویشی) مگر وہ جو آگے تم پر بیان کریں گے لیکن نہ حلال سمجھو شکار کو اس حالت میں کہ تم احرام میں ہو بیشک خدا حکم کرتا ہے جو چاہتا ہے

حلال اور حرام جانوروں کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اس میں حلال و حرام چیزوں کے جو احکام عہد کے طور پر قرآن شریف میں ہیں انہی احکام کو عقود کی تفسیر قرار دیا گیا ہے ۔ آگے اللہ تعالیٰ نے حلال اور حرام کا ذکر فرمایا ہے جس کے معنی چوپائے مویشی کے ہیں مثلا اونٹ، گائے ، بکری، بھیڑ اور جنگلی شکار رکے کھانے کے قابل جانور جیسے نیل گائے، ہر ن یہ سب داخل ہیں ۔ انعام کے لفظ میں چوپائے درندے داخل نہیں، وہ حرام ہیں ۔ آگے کا مطلب یہ ہے کہ حاجیوں کو احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار حرام ہے ۔ ہاں دریائی جانوروں کا شکار حالت احرام میں روا ہے ۔ اب آگے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور ارادہ ازلی کے موافق جن جانوروں کے حلال و حرام ہونے کا حکم فرمایا اس مصلحت کو وہی خوب جانتا ہے ۔
Ayah 5:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا١ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا١ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا١ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 5:2 in the Quran reader

اے مسلمانو ! بےحرمتی نہ کرو خدا کی نشانیوں کی اور نہ ادب والے مہینے کی اور نہ حرم کو بھیجی ہوئی قربانی کی اور نہ جانوروں کی کہ جن کی گردنوں میں (بطور علامت کے) پٹے ڈال دیتے ہیں اور نہ بیت الحرام کے قصد کرنے والوں کی کہ اپنے پروردگار سے فضل اور خوشنودی چاہتے ہیں، اور جب تم احرام سے نکلو تو شکار کرسکتے ہو اور تم کو دشمنی کسی گروہ کی کہ انہوں نے تم کو مسجد حرام سے روکا تھا زیادتی کرنے پر نہ ابھارے ، اور ایک دوسرے کی مدد کرو بھلائی اور پرہیزگاری پر اور ایک دوسرے کی مدد نہ کرو بھلائی اور ظلم پر اور ڈرو اللہ سے ، بیشک خدا کا عذاب سخت ہے

شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص شریح بن ہند مدینہ میں آکر مسلمان ہوگیا تھا، اور اپنے وطن میں جاکر مرتد ہوگیا اور اس قصہ کے ایک سال کے بعد اس نے حج کا قصد کیا ۔ صحابہ کرام نے آنحضرت ﷺ ی سے درخواست کی کہ اگر آپ اجازت دیں تو شریح بن ہند کے ساتھ جو نیاز کعبہ کے جانور اور تجارت کا مال ہے اس کو ہم لوٹ لیں ۔ آپ نے فرمایا : '' یہ کیونکر ہوسکتا ہے وہ تو نیاز کے جانور لے کر حج کے ارادہ سے جارہا ہے ، '' اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ احرام باندھنا ، قربانی کے جانوروں کا ساتھ لینا ، احرام کے مہینوں میں حج کے ارادہ سے سفر کرنا، پہچان کے لئے قربانی کے جانوروں کے گلے میں پٹہ ڈال دینا یہ سب باتیں حج کے ارادہ میں اللہ کی تعظیم کی نشانیاں ہیں ۔ احرام کے مہینے شروع شوال سے لے کر ذوالحجہ کی دسویں تک ہیں ۔ اس تعظیم کے مہینے میں لوٹ مار کرنا اور اللہ کی تعظیم کی نشانیون کی توہین کرنا مسلمانوں کو جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ حاجی لوگ اگرچہ حج کے سفر میں تجارت کا مال بھی ساتھ رکھیں لیکن اصل قصد ان کا حج سے اللہ کی رضامندی حاصل کرنے کا ہوتا ہے۔ حالت احرام میں خوش کی کے جانوروں کا شکار جو منع تھا اب آگے فرمایا کہ احرام کے کھل جانے کے بعد وہ ممانعت باقی نہیں رہتی۔ شان نزول : اس کا یہ ہے کہ قصہ حدیبیہ کے بعد کچھ مشرکین مدینہ کی راہ سے عمرہ کی نیت سے مکہ جاتے تھے ۔ صحابہ کرام نے اجازت چاہی کہ جس طرح انہوں نے حدیبیہ کے قصہ کے وقت مکہ میں جانے اور عمرہ کرنے سے روکا تھا ہم بھی ان کو روکیں ، اس پر یہ آیت نازل فرمائی ۔ حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ صلح حدیبیہ کے بعد ان لوگوں سے دشمنی کا بدلہ لینا صلح کی شرط کے خلاف ہے ۔ ایسی ناجائز باتیں مسلمانوں کو نہیں چاہئیں بلکہ آپس میں اتفاق چاہئے اور خدا کا خوف دل میں رہے کیونکہ خدا کا عذاب بڑا سخت ہے ۔
Ayah 5:3

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:3 in the Quran reader

تم پر حرام کیا گیا مردار (جانور) اور خون اور گوشت سور کا اور وہ جس کے ذبح کے وقت اللہ کے سوا غیر کا نام پکارا گیا اور جو گلاگھونٹنے سے مر جائے اور جو بغیر دھار کی چیز سے مارا گیا ہو اور جو اونچی جگہ سے گرکر مرجائے اور جس کو کسی جانور نے سینگ مارا اور جس کو کسی درندہ نے پھاڑا ہو مگر جنہیں (مرنے سے پہلے) تم حلال کرلو تو وہ حرام نہیں ، اور حرام ہے وہ جانور جو بتون کے تھانوں پر ذبح کیا جائے اور حرام کیا گیا جو (بطور جوئے کے) قسمت آزمائی کے لئے تیروں کی فال سے باہم تقسیم کیا یہ سب گناہ ہے ۔ آج کے دن ناامید ہوگئے کافر لوگ تمہارے دین سے ( یعنی تمہارے دین پر غالب آنے سے) پس ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو آج کے دن میں سے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے دین اسلام پس جو کوئی بھوک کی شدت سے لاچار ہو اور وہ گناہ کی طرف مائل نہ ہو ( مجبوراجان بچانے کے لئے قدر ضرورت کھالے) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

گیارہ چیزوں کے حرام ہونے کا ذکر کیا گیا ہے (1) مردار۔ (2) بہنے والا خون جو بعد ذبح کے رگوں میں سے نکلتا ہے ۔ (3) سور کا گوشت اور اس کے تمام اجزاء یعنی بال تک (4) وہ جانور جس کے ذبح کے وقت غیر خدا کا نام لیا گیا ہو ۔ جیسا کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے ۔ مگر وہ جانور جن سے اولیاء کی ارواح کو ثواب پہنچانا منظور ہو ان کو غیر وقت ذبح میں اولیاء کے ناموں کے ساتھ نامزد کیا جائے مگر ذبح ان کا فقط اللہ کے نام پر ہو ۔ اس وقت کسی دوسرے کا نام نہ لیا جاوے وہ حلال ہے ۔ (5) گلا گھونٹ کر مارا ہواجانور (6) وہ جانور جو لاٹھی پتھر ڈھیلے یاگولی وچھرے یعنی بغیر دھار دار چیز سے مارا گیا ہو ۔ (7) جو گرکر مراہو ۔ (8) وہ جانور جسے دوسرے جانور نے سینگ مارا ہو اور وہ اس صدمہ سے مر گیا ہو ۔ (9) وہ جسے کسی درندے نے تھوڑاسا کھایا ہو اور اس صدمہ سے مرگیا ہو ۔ لیکن یہ جانور مرنہ گیا ہو اور بعد ایسے واقعات کے زندہ بچ رہے پھر اس کو ذبح کرلیا تو وہ حلال ہے ۔ (10) وہ جو کسی تھان پر عبادۃ ذبح کیا گیا ہو جیسا کہ اہل جاہلیت نے کعبہ شریف کے گرد تین سو ساٹھ بت رکھے تھے، جن کی وہ عبادت کرتے تھے اور ان کے لئے ذبح کرتے تھے ۔ (11) حصہ اور حکم معلوم کرنے لئے پانسا ڈالنا، ان سب کی ممانعت فرمائی ہے ۔ حجۃ الوداع میں جب یہ آیت نازل ہوئی تو کوئی مشرک مسلمانوں کے ساتھ حج میں شریک نہ ہوسکا۔ دین اسلام کا مکمل ہونا شان نزول : بعضے یہودی لوگوں نے حضرت عمر ؓ سے کہا کہ قرآن شریف میں ایک ایت ایسی اتری ہے کہ اگر وہ آیت ہم لوگوں پر اترتی تو ہم اس کے اترنے کے دن کو عید ٹھراتے ۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا مجھ کو معلوم ہے کہاں اور کس دن یہ آیت اتری ہے ۔ خدا کا شکر ہے کہ اس دن دو عیدیں جمع تھیں ۔ کیونکہ حجۃ الوداع کے عرصہ اور جمعہ کے دن یہ آیت اتری ہے ، جس روز یہ آیت اتری اس روز حضرت عمر ؓ بہت روئے ۔ حضور نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ آج تک اس دن بدن دین کے بڑھنے کی توقع تھی ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ آج دین کا مرتبہ کمال کو پہنچ گیا اور ہر کمال کو زوال کا خوف ہے، اس لئے میں روتا ہوں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا :'' سچ ہے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک انہی آخری شریعت محمدی ﷺ کی تکمیل قرآن شریف کے نزول کے ختم پر مکمل ہوگئی اور قیامت تک یہی دین قائم رہے گا ، اللہ تعالیٰ کو یہی دین اسلام پسند ہے ۔ '' آگے فرمایا '' جن چیزوں کے حرام ہونے کا ذکر اوپر گزرا وہ چیزیں ایسے شخص کے لئے حلال ہیں جو تین دن ک فاقہ سے ہو اور شرط یہ کہ حلال چیزیں میسر نہ آسکتی ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ایسے مجبور کو معاف فرمائے گا۔ ''
Ayah 5:4

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١٘ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 5:4 in the Quran reader

(اے محبوب ﷺ ) تم سے سوال کرتے ہیں کہ ان کے لئے کون کون سی چیزیں حلال کی گئی ہیں تم فرماؤ کہ حلال کی گئیں تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں اور جو شکاری جانور تم نے سدھائے انہیں شکار پر دوڑاتے ہو جو علم تم کو خدا نے دیا اس میں سے انہیں سکھاتے ہو ، تو کھاؤ اس میں سے جو شکار پکڑلیں اور تمہارے لئے رہنے دیں (خود اس میں سے نہ کھائیں) مگر (شکاری جانو چھوڑتے ہوئے) خدا کا نام لے لو اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک خدا جلد حساب کرنے والا ہے

شکاری جانوروں کا ذکر شان نزول : یہ آیت عدی بن حاتم اور زید بن مہلہل کے حق میں نازل ہوئی جن کا نام حضور ﷺ نے زید الخیر رکھا تھا ۔ ان دونوں صاحبوں نے عرض کیا :'' رسول اللہ ! ہم لوگ کتے اور باز کے ذریعے شکار کرتے ہیں تو کیا ہمارے لئے حلال ہے ۔ '' اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے باز یا کتے وغیرہ کو شکار کی غرض سے پالا ہے ، اور وہ سدھایا ہوا ہے، تو جائز ہے ۔ کوئی شکاری جانور شکار پر چھوڑا تو اس کا شکار چند شرطوں سے حلال ہے ۔ (1) شکاری جانور مسلمان کا ہو اور سکھایا ہوا ہو (2) اس نے شکار کو زخم لگاکر مارا ہو (3) شکاری جانور بسم اللہ اللہ اکبر کہ کر چھوڑا ہو (4) اگر شکاری کے پاس شکار زندہ پہنچا تو اس کو بسم اللہ ، اللہ اکبر کہ کر ذبح کردے ۔ ان شرطوں پر حلال ہے ورنہ حرام اور تیر کے شکار کا بھی یہی حکم ہے ۔ اگر بسم اللہ، اللہ اکبر کہ کر تیر مارا اور اس سے شکار مجروح ہوکر مرگیا تو حلال ہے اگر نہ مرا تو دوبارہ بسم اللہ اللہ اکبر کہ کر ذبح کرے ۔ ایسا نہ کیا تو حرام ہے ۔
Ayah 5:5

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 5:5 in the Quran reader

آج کے دن تمہارے واسطے پاکیزہ چیزیں حلال ہوئیں اور کھانا (یعنی ذبیحہ) اہل کتاب کا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے ، اور تمہارے لئے پارسا عورتیں مسلمانوں میں سے اور ان لوگوں کی پارسا عورتین جنہیں تم سے سے پہلے کتاب دی گئی حلال ہیں ، جب تم ان کے مہر ان کو دو ارادہ قید (نکاح) میں لانا ہو یہ بات نہ ہو کہ نفس پرستی کے لئے بدکاری کی جائے اور نہ بنانے کو خفیہ آشنا، اور جو کوئی مسلمان کافر ہوا تو تو اس کے عمل اکارت ہوئے اور وہ آخرت میں ٹوٹاپانے والوں میں سے ہے

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب اور مسلم کا ذبیحہ حلال ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت یا بچہ ۔ اب آگے فرمایا کہ عورتوں سے بدکاری کا یا در پردہ آشنائی کا کھلم کھلا چند روزہ تعلق نہ رکھاجاوے ، بلکہ نکاح شرعی کے بعد ہمیشہ ان کو اپنے پاس رکھاجاوے ورنہ تمام عمل اکارت (ضائع) ہوجاتے ہیں ۔
Ayah 5:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:6 in the Quran reader

اے مسلمانو ! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو چاہئے کہ اپنا منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھولیا کرو اور اپنے سر کا مسح کرلو اور اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھولو ۔ اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو غسل کرلو اور اگر ہو تم بیمار (اور پانی مضر ہو) یا سفر میں ہو (اور پانی ملتانہ ہو) ۔ یا تم میں سے سے کوئی جائے ضرور (قضائے حاجت) سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے صحبت کی ہو اور ان صورتوں میں پانی میسر نہ آئے تو اس حالت میں چاہئے کہ پاک مٹی سے تیمم کرو تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرو، خدا نہیں چاہتا ہے کہ تم پر کسی طرح مشقت اور تنگی ڈالے لیکن یہ چاہتا ہے کہ تم کو خوب پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت پوری کردے تاکہ تم شکر گزار ہوجاؤ

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ نماز کے ذکر کے ساتھ وضو غسل اور تیمم کے حکم کی تفصیل فرمائی ۔ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہونے کا ارادہ جب کوئی مسلمان کرے اور وہ بےوضو ہو اس پر وضو فرض ہے، اور باوضو ہوکر پھر دوسرا وضو کرے تو مستحب ہے ۔ فرائض وضو کے یہ چار ہیں : (1) اول منہ دھونا (2) دوم دونوں ہاتھوکو کہنیوں سمیت دھونا (3) تیسرے چوتھائے سر کا مسح کرنا۔ (4) چوتھے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھونا یہ چار فرض ہیں ۔ پھر طہارت کے لفظ سے ستھرائی مراد ہے یعنی غسل جس کی دس سنتیں ہیں : (1) اول نیت) (2) دوم دونوں ہاتھوں کو پہنچوں تک دھونا (3) تیسرے بسم اللہ پڑھنا (4) چوتھے غسل سے پہلے اپنی شرمگاہ دھونا خواہ نجاست ہو یا نہ ہو (5) پانچویں وضو کرنا (6) چھٹے تین بار سر اور تمام بدن پر پانی ڈالنا (7) ساتویں قبلہ کی طرف منہ نہ کرنا جبکہ ننگا ہو (8) آٹھویں تمام بدن پر پانی ملنا تاکہ سارے بدن پر اچھی طرح پہنچ جائے (9) نویں ایسی جگہ نہانا جہاں کوئی نہ دیکھے (10) دسویں پانی میں کمی اور زیادتی نہ کرنا ۔ شرائط غسل یہ ہیں (1) سوتے میں مباشرت کا خواب دیکھنے کے بعد منی کا کچھ اثر کپڑے پر پایا جاوے تو غسل فرض ہے ، ورنہ فقط خواب و خیال کا کچھ اعتبار نہیں ۔ (2) شہوت کے ساتھ منی کا نکلنا شرط ہے چھونے سے ہو یا دیکھنے سے ۔ ہاتھ کے عمل سے مرد سے نکلے یا عورت سے ، غسل واجب ہے اور بوجھ سے اور کودنے سے یا بیماری سے بغیر شہوت کے نکلے تو غسل واجب نہیں ۔ (3) حیض ونفاس سے بھی غسل واجب ہے ۔ آگے تیمم کا ذکر فرمایا جس کی تفصیل سورة النساء میں گزر چکی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری آسانی کے لئے بجائے غسل اور وضو کے تیمم کا حکم نازل فرمایا تاکہ تم ہر حال میں پاک و صاف رہ کر اللہ تعالیٰ کی اس آسانی کی نعمت کے شکریہ میں اس کی عبادت سے غافل نہ رہو ۔
Ayahs 5:7–10

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 5:7 in the Quran reader

اور یاد کرو اپنے پر خدا کی نعمت اور وہ عہد جو اس نے تم سے لیا اس وقت کہ تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور ہم نے اسے قبول کیا اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

اے مسلمانو ! اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ انصاف سے شہادت دیتے ہوئے اور نہ ابھاردے ت کو دشمنی کسی قوم کی اس پر کہ ( اس کے ساتھ) انصاف نہ کرو (ہر حال میں) انصاف کیا کرو کہ یہی بات پرہیز گاری کے زیادہ قریب ہے ، اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے لئے بخشش ہے اور بہت بڑا اج رہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

اور جو لوگ کہ کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو وہ لوگ رہنے والے ہیں دوزخ کے

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ معاہدہ کی تاکید میں فرمایا کہ شریعت میں اللہ اور اللہ کی مخلوق کے جو حقوق ٹھر چکے انصاف سے ادا کرنے میں ہر ایماندار کو ثابت قدم اور وقت پر تیار اور کھڑا ہونا چاہئے کہ یہی معاہدہ کے پورا کرنے کی باتیں ہیں ۔ یہ بھی فرمایا کہ فتح مکہ سے پہلے کچھ لوگ ایسے بھی تھے کہ وہ تمام ایمانداروں کے دشمن تھے لیکن فتح مکہ کے بعد جب وہ بھی اسلام میں داخل ہوگئے تو اب اس پہلی دشمنی کا کچھ خیال دل میں نہ رکھنا چاہئے کیونکہ یہی انصاف کا طریقہ، متقی بننے کا ایک بہتر راستہ ہے ۔ اسکے خلاف چلنے پر خدا کا خوف کرنا چاہئے کہ وہ ہر شخص کے نیک و بد سب کاموں سے واقف ہے ۔
Ayah 5:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

اے مسلمانو ! اپنے اوپر خدا کا احسان یاد کرو جب کہ ایک قوم نے قصد کیا کہ تم پر دست درازی کریں تو خدا نے (پنے فضل و کرم سے) ان کے ہاتھ تمہارے خلاف بڑھنے سے روک دیے اور اللہ سے ڈرو ، اور مسلمانوں کو خدا ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے

داللہ پر بھروسہ کرنے سے بھلائی شان نزول : ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے ایک منزل میں قیام فرمایا ۔ اصحاب جدا جدا درختوں کے سایہ میں آرام کرنے لگے ۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی تلوار ایک درخت میں لٹکادی ایک اعرابی موقع پاکر آیا اور چھپ کر اس نے تلوار کی اور کھینچ کر کہنے لگا اے محمد ! اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ۔ حضوع نے فرمایا :'' اللہ !'' یہ فرمانا تھا کہ فورا حضرت جبریل (علیہ السلام) نے اس کے ہاتھ سے تلوار گرادی اور نبی کریم ﷺ نے تلوار اٹھا کر فرمایا کہ اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا ۔ کہنے لگا : '' کوئی نہیں '' پھر کہا : '' میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں '' پھر کہا '' میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے رسول ہیں '' ۔ اس قصہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر یہ احسان فرمایا کہ ان کو ایک مخالف شخص کے حملہ سے بچایا ، پہر دوسرا احسان یہ ہے کہ اس آیت میں تنبیہ فرمائی کہ امت کی ہدایت کے لئے رسول (ﷺ) کا آنا اللہ کا بڑا احسان ہے ۔ جس نے اللہ کا بھروسہ کیا اس کا انجام اچھا ہوگا ۔
Ayahs 5:12–14

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اور بیچک اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ہم نے ان میں بارہ سردار مقرر کئے اور اللہ نے فرمایا کہ بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں یہ کہ اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے اور میرے تمام پیغمبروں پر ایمان لائے اور انکی مدد کی اور قرض حسن دیا خدا کو ( یعنی نیکی کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے رہے) تو بیشک میں تمہارے گناہ تم سے دور کردوں گا اور ضرور تم کو باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں چلتی ہوں گی، پھر جس کسی نے تم میں سے اس کے بعد کفر کیا پس وہ ضرور بہکا سیدھے رستے سے

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

پس ان کے اپنے عہد کو توڑنے کے سبب سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ہم نے ان کے دل سخت کردئیے ، اللہ کے کلام کو ان کی اصل جگہ سے بدل ڈالتے ہیں اور بھلا بیٹھے بڑا حصہ ان نصیحتوں کا جو انہیں دی گئیں ، اور ہمیشہ ان کی کسی نہ کسی خیانت پر مطلع ہوتے رہوگے سوا تھوڑوں کے (جو ایمان لائے) پس (اے محبوب ﷺ تم انہیں معاف کرو اور ان سے درگزر کرو ، بیشک خدا دوست رکھتا ہے احسان کرنیوالوں کو

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور وہ جنہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے بھی (ایمان و عمل کا) عہد لیا پس وہ بھول گئے بڑاحصہ ان نصیحتوں کا جو انہیں دی گئیں ، پھر تو ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک عداوت ، اور بغض ڈال دیا اور عنقریب اللہ انہیں بتاوے گا جو کچھ وہ کرتے تھے

یہد کی بد عہدی کا نتیجہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا کہ انہیں اور ان کی قوم کو ارض مقدسہ کا وارث بنائے گا ۔ جس میں کنعانی جبار رہتے تھے، تو فرعون کی ہلاکت کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم الہی ہوا کہ :'' بنی اسرائیل کو ارض مقدسہ کی طرف لے جائیں ۔ میں نے اس کو تمہارے لئے دارالقرآن بنایا ہے وہاں جاؤ اور جو دشمن وہاں ہیں ان پر جہاد کرو میں تمہاری مدد کروں گا، اور اے موسیٰ تم اپنی قوم کے ہر ہر سبط (گروہ) میں سے ایک ایک سردار بناؤ ، اس طرح بارہ سردار مقرر کرو ان میں سے ہر ایک اپنی قوم کے حکم ماننے اور عہد وفا کرنے کا ذمہ دار ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سردار منتخب کرکے بنی اسرائیل کو لے کر روانہ ہوئے ۔ جو اریحاء کے قریب پہنچے تو ان نقیبوں کو تجسس احوال کے لئے بھیجا ، وہاں انہوں نے دیکھا کہ لوگ بہت عظیم الجثہ نہایت قوی و توانا صاحب ہیبت و شوکت ہیں ۔ یہ ان سے ہیبت زدہ ہوکر واپس ہوئے اور آکر انہوں نے اپنی قوم سے آکر سب حال بیان کیا باوجودیکہ ان کو اس سے منع کیا گیا تھا۔ لیکن سب نے عہد شکنی کی سوائے کالب بن یوحنا اور یوشع بن نون کے ، یہ عہد پر قائم رہے ۔ یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلا کا ساتھ دینے سے انکار کیا جس کا ذکر آگے آتا ہے ۔ انہیں بارہ نقیبوں یعنی سرداروں کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان کی بدعہدی کے سبب سے بنی اسرائیل نے اپنے نبی موسیٰ (علیہ السلام) سے ہر حال میں ساتھ دینے کا عہد جو ٹھرا رکھا تھا وہ انہوں نے توڑڈالا ۔ دوسرا عہد توراۃ کے احکام کی پابندی کا تھا جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے ۔ اسی عہد کا تذکرہ فرمایا گیا ہے کہ اس عہد کے موافق یہود عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخر الزماں ﷺ کی فرمانبرداری اور پیروی کے پابند کیے گئے تھے ۔ یہود نے اس پابندی کو چھوڑدیا جس سے وہ توراۃ کے بھی پابند نہ رہے ۔ کیونکہ توراۃ کی جن آیتوں میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخر الزماں ﷺ کے اوصاف تھے ان میں کی کچھ آیتوں کے لفظ تو انہوں نے بدل ڈالے اور کچھ لفظوں کے معنی اپنی طرف سے گھڑ لئے ۔ چونکہ مدینے کے گردونواح میں جو یہود رہتے تھے ان سے صلح کا عہد تھا اس لئے ان کی دغابازیوں پر درگزر کا حکم فرمایا اور ان کے درمیان عداوت ڈال دی یعنی روز قیامت تک وہ اپنے کرتوت کا بدلہ پائیں گے ۔
Ayahs 5:15–16

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے اہل کتاب بیشک تمہارے پاس ہمارے یہ رسول آئے کہ تم پر ظاہر کرتے ہیں بیت سی وہ چیزیں جو تم نے چھپاڈالی تھیں کتاب میں (یعنی توریت و انجیل میں) اور بہت سی باتیں معاف فرماتے ہیں ، بیشک اللہ کی طرف سے تمہارے پاس ایک نور آیا ( یعنی سید عالم ﷺ) اور روشن کتاب (یعنی قرآن)

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

خدا اس کے ذریعے رہنمائی کرتا ہے اس شخص کی جو خدا کی رضامندی پر چلا سلامتی کے راستے اور ان کو لاتا ہے اندھیریوں سے روشنی کی طرف اپنے حکم سے ( کامیابی وسعادت کی) سیدھی راہ ان کو دکھاتا ہے

یہود کی شرارت کا ذکر شان نزول : آنحضرت ﷺ نے رجم کی یہ آیت توریت میں میں سے جب یہود کو بتلائی جس کو وہ چھپاتے تھے تو اس پر یہ آیت نازل فرمائی ۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ یہود بیا ہے ہوئے ایک عورت اور مرد کو آنحضرت ﷺ کے پاس لائے جنہوں نے بدکاری کی تھی ۔ آپ نے ان یہودیوں سے پوچھا کہ توریت میں ایسے مردو عورت کے لئے کیا حکم ہے انہوں نے جواب دیا کہ توریت کے حکم کے موافق ہم ایسے مردو عورت کا کالا منہ کرکے بستی میں پھراتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : '' یہ سزا توریت کے حکم کے موافق نہیں ہے تم جھوٹے ہو ۔ لاؤ توریت اس میں تو ایسے لوگوں کو سنگسار کرنے کا حکم ہے ''۔ آخر تورریت لائی گئی اور ایک شخص ابن صوریا توریت پڑھنے آیا۔ ابن صوریا نے پہلے تو رجم کی آیت کو اپنے ہاتھ سے ڈھانک لیا، پھر جب اس کا ہاتھ ٹھایا گیا تو وہ رجم کی آیت نکلی اور اس مردو عورت کو سنگسار کیا گیا ۔ رجم کے معنی :'' سنگسار کرنے '' کے ہیں ۔ اس قصہ میں آنحضرت ﷺ کا یہ علم غیب ہے کہ آپ نے توریت کے بغیر پڑھے توریت کا وہ صحیح مسئلہ بتادیا جس کو یہود نے بدل ڈالا تھا ۔ اب آگے فرمایا کہ اسلام کی روشنی دے کر اور قرآن کو راہبر ٹھرا کر نبی آخر الزماں ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :'' میں لوگوں کو دوزخ کی آگ سے بچانے کی کوشش کرتا ہوں لیکن لوگ اس میں گرنے کی ایسی کوشش کرتے ہیں جس طرح کیڑے پتنگے روشنی پر گرتے ہیں۔ ''
Ayah 5:17

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ کافر ہوئے جنہوں نے یہ کہا : '' خدا تو مریم کا بیٹا مسیح ہی ہے '' تو (اے محبوب ﷺ ! ) تم ان لوگوں سے فرماؤ :'' کوئی خدا کا کیا کرسکتا ہے (یعنی انتقام سے) اگر خدا چاہے ہلاک کردے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو اور اس کی ماں کو اور ان کو جو روئے زمین پر بستے ہیں ، اور خدا ہی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ درمیان ان دونوں کے ہے، جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا سب چیز پر قادر ہے ''

اوپرگزر چکا ہے کہ نصاری کے چند فرقے ہیں ان میں سے فرقہ یعقوبیہ وغیرہ کا یہ اعتقاد ہے کہ گیہوں کے کھانے سے حضرت آدم نے جو اللہ کی نافرمانی کی اس کے اثر سے اولاد آدم میں بھی نافرمانی اور گنہگاری کی جرات پیدا ہوگئی ۔ جس سے اولاد آدم ہیمشہ کے لئے دوزخ میں رہنے کی سزاوار ہوگئی۔ اس لئے عیسیٰ (علیہ السلام) کی شباہت میں اللہ تعالیٰ زمین پر آیا اور یہود کے ہاتھوں کے ہاتھوں سولی پر چڑھا تاکہ بنی آدم کے گناہوں کا کفارہ اس قتل کی سزا سے ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان لوگوں کے اس اعتقاد کو یوں غلط ٹہرایا کہ یہود کی کیا حقیقت ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ ایسی گستاخی کرسکیں، وہ تو صاحب قدرت ہے کہ یہود اور تمام دنیا بھر کی مخلوقات کو دم بھر میں چاہے تو ہلاک کردیوے، اور کسی کو اتنی تاب نہ ہو کہ اس کے ارادہ کو رود سکے۔ اللہ کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayah 5:18

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور یہود اور نصاریٰ نے کہا ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں تم فرماؤ :'' پھر تم کو کیوں تمہارے گناہوں کے سبب عذاب کرتا ہے ؟ بلکہ تم آدمی ہو اس کی مخلوقات میں سے '' بھی جس کو چاہے بخشتا ہے اور جس کو چاہے عذاب کرتا ہے، اور اللہ ہی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، اور سب کو اسی اللہ کی طرف واپس جانا ہے

آنحضرت ﷺ کے ساتھ علمائے اہل کتاب کی بحث شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز اہل کتاب کے کچھ علماء آنحضرت ﷺ کے پاس آئے۔ آپ ﷺ نے ان کو طرح طرح کی نصیحت کی اور عذاب آخرت سے ڈرایا، انہوں نے جواب دیا کہ عام لوگوں کی طرح ہم کو عذاب آخرت سے کیا ڈراتے ہو۔ عام لوگوں میں اور ہم میں بڑا فرق ہے۔ ہم عام مخلوقات کی طرح نہیں ہیں بلکہ ہم خدا کے بیٹے اور پیارے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کو یوں جھٹلایا کہ دنیا میں تو تم کو عام مخلوقات کی طرح تمہارے کئے کی سزا مل رہی ہے۔ بہت سے لوگ تم میں سے سور اور بندر ہوگئے۔ تمام قوم کی بادشاہت نیست و نابود ہوگئی۔ دن بدن ذلت و خواری بڑھتی جاتی ہے پھر تم کو آخرت کا حال کیونکر معلوم ہوگیا تمہیں وہاں عام خلائق کی طرح عذاب نہ ہوگا۔ آگے فرمایا کہ قیامت کے دن کی بخشش اور پسش اللہ کی مرضی پر منحصر ہے۔ جسے وہ چاہے بخشے گا اور جس سے مواخذہ منظور ہوگا اس سے کرے گا۔ کسی کا بیٹا، پوتا ہونا اس دن بغیر مرضی اللہ کے کچھ کام نہ آوے گا۔ جو اپنے بڑوں کو خدا کا بیٹا اور شریک ٹھراویں کیونکہ وہ وحدہ لاشریک ہے، شرک سے بیزار ہے، زمین و آسمان کی بادشاہت میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ ایک دن سب کو اس کے روبرو کھڑا ہونا ہے۔
Ayah 5:19

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے اہل کتاب بیشک تمہارے پاس ہمارے یہ رسول (ﷺ) تشریف لائے جو تم پر ہمارے احکام ظاہر فرماتے ہیں بعد اس کے کہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ مدتوں بند رہا تھا ۔ اس لئے تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس نہ کوئی بشارت دینے والا آیا اور نہ کوئی ڈر سنانے والا، تو اب بشارت دینے والا اور ڈر سنانے والا تمہارے پاس تشریف لایا ہے، اور اللہ سب چیز پر قادر ہے۔

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آنحضرت ﷺ کے زمانہ تک قریب چھ سو برس کی مدت نبی سے خالی رہی۔ اس کے بعد حضور کے تشریف لانے کی منت کا ظہار فرمایا جاتا ہے کہ نہایت حاجت کے وقت تم پر اللہ کی عظیم نعمت بھیجی گئی۔ اب تم کو یہ کہنے کا موقع نہ رہا کہ ہمارے پاس تنبیہ کرنے والے تشریف نہ لائے۔
Ayahs 5:20–26

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : '' اے میری قوم ! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو کہ جب تم میں سے پیغمبر کئے اور تم کو بادشاہ کیا اور تمہیں وہ عطا فرمایا جو کسی کو اب تک نہیں دیا گیا سارے جہان میں

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

اے میری قوم ! داخل ہو اس پاک زمین میں جسے خدا نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے اور پیچھے مت پلٹو (مقابلہ کے وقت) کہ نقصان پر پلٹوگے ''

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

لوگوں نے کہا : '' اے موسیٰ ! بیشک اس جگہ زورآور لوگ ہیں، اور ہم اس جگہ ہرگز داخل نہ ہوں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں، پس اگر وہ اس جگہ سے نکل جائیں تو ہم داخل ہوجائیں گے ''

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

اس پر دو مردوں نے (یعنی یوشع اور کالب) کہ جو اللہ سے ڈرنے والوں میں سے تھے خدا نے ان کو (ایمان و یقین کی) نعمت عطا فرمائی تھی کہا کہ ہمت کرکے ان لوگوں پر دروازے کے رستے حملہ کردو اور جب (شہر کے) دروازہ میں داخل ہوگئے تو تم غالب آجاؤگے اور خدا ہی پر بھروسہ کرو اگر تنم ایمان رکھنے والے ہو

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

وہ بولے : '' اے موسیٰ ! ہم ہرگز وہاں داخل نہیں ہوں گے جب تک وہ لوگ وہاں موجود ہیں پس تم خود چلے جاؤ اور تمہارا خدا پس تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں ''

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا ! '' اے پروردگار میرے ! میں اپنی جان کے سوا اور اپنے بھائی (یعنی ہارون) کے سوا اور کسی پر اختیار نہیں رکھتا پس درمیان ہمارے اور درمیان نافرمان لوگوں کے فیصلہ کردے ''

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : '' پس وہ زمین ان پر حرام کردی گئی چالیس سال تک (اور جنگل کی) زمین میں بھٹکتے پھریں گے، پس تم نافرمان لوگوں کی حالت پر غمگین نہ ہو

مطلب یہ ہے کہ ملک شام کا سفر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی غرض سے کیا تھا کہ قوم عمالقہ کو ملک شام کی بستیوں سے لڑکر نکال دیاجاوے اور بنی اسرائیل کو ان بستیوں میں آباد کردیا جاوے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کے رسول سچے ہیں۔ اس لڑائی کے بعد ملک شام میں بنی اسرائیل کی بادشاہی قائم ہوگی۔ اس کی نظیر کے لئے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بادشاہت اور اس بادشاہت کی یادگار کے لئے بیت المقدس کی عمارت کافی ہے۔ '' دیا تم کو جو نہیں دیا کسی کو جہان میں '' اس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے اللہ کی وہ نعمتیں پائیں جو اس زمانہ میں کسی دوسری قوم کو نصیب نہیں ہوئیں۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی سرکشی دیکھ کر اللہ تعالیٰ سے آخری حکم کے نازل ہونے کی التجا کی۔ آخری حکم یہ ہوا کہ چالیس برس تک بنی اسرائیل اس شام کے جنگل میں قید رہے اور جو ان میں سرکش تھے وہ اسی قید میں مرگئے۔
Ayahs 5:27–30

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

اور (اے محبوب ﷺ) ان لوگوں کو دو آدم کے بیٹوں کی سچی خبر پڑھ کر سنادو کہ جس وقت دونوں نے خدا کی ایک ایک نیاز پیش کی تو ایک کی قبول ہوگئی اور دوسرے کی مقبول نہیں ہوئی، اس پر قابیل نے (حسد سے) ہابیل سے کہا : '' میں یقینا تجھے قتل کردوں گا '' ہابیل نے کہا : '' اللہ متقیوں ہی کی قربانی قبول کرتا ہے ''

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:28 in the Quran reader

اگر مجھ پر میرے قتل کے لئے ہاھ اٹھائے گا تو میں اپنا ہاتھ تجھ پر نہ نہیں اٹھاؤں گا کہ تجھے قتل کروں، بیشک میں خدا سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا پروردگار ہے

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 5:29 in the Quran reader

البتہ میں چاہتا ہوں کہ میرے گناہ اور تیرے گناہ دونوں ہی تیرے پلے پڑیں پس تو دوزخیوں میں شامل ہوجائے اور یہی بدلہ ظالموں کا ہے ''

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 5:30 in the Quran reader

پس اس کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر رغبت دلائی اس نے (ہابیل کو) قتل کردیا، پس وہ نقصان والوں میں سے ہوگیا

دنیا میں سب سے پہلا خون یعنی ہابیل اور قابیل کا قصہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلان کے زمانہ میں بھائی بہن کا نکاح اس ضرورت سے جائز تھا کی اس وقت سوائے بہن کے اور کوئی غیر لڑکی دنیا میں نہیں تھی۔ ایسے نکاح میں اس قدر احتیاط کرنا ضرور تھا کہ ایک حمل کے بھائی بہن کا نکاح نہیں ہوتا تھا۔ قابیل نے اپنے ساتھ کی پیداشدہ بہن سے نکاح کرنا چاہا حضرت آدم (علیہ السلام) نے انکار کیا۔ جب قابیل نے اصرار کیا تو حضرت آدم علیہ اسلام نے فیصلہ کیا کہ قابیل اور ہابیل دونوں بھائی مل کر اللہ کی نیاز کریں، جس کی نیاز قبقل ہوگی اس کا نکاح اس لڑکی سے کردیا جائے گا۔ پہلے زمانہ میں نیاز قبول ہونے کے یہ نشانی تھی کہ آسمان سے ایک سفید آگ آکر نیاز کی چیز کو جلادیا کرتی تھی۔ چناچہ ہابیل کی نیاز قبول ہوئی جس سے قابیل کو رشک و حسد پیدا ہوا اور موقع پاکر اس نے اپنے بھائی قابیل کو مارڈالا۔ یہ پہلا خون تھا جو دنیا میں ہوا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قابیل نے پہلے پہل خون ناحق کا طریقہ نکالا۔ اس لئے دنیا میں جو خون ناحق اب ہوتا ہے تو ایک خون ناحق کا وبال قابیل کے نامہ اعمال میں بھی لکھ دیا جاتا ہے۔ اس وقت تک مردے کے دفن کرنے کا طریقہ دنیا میں جاری نہیں تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کے ذریعہ یہ طریقہ قابیل کو سکھایا تاکہ آئندہ بنی آدم میں یہی طریقہ رواج پکڑجائے۔ قابیل کوے سے یہ طریقہ سیکھ کر اپنی نادانی پر بہت پچھتایا کہ ایک جانور کے برابر بھی تجھ کو عقل نہیں۔ اسی نادانی کے سبب نیں نے اپنے بھائی کو ناحق مارڈالا۔ ہابیل اللہ کے نبی کے حکم پر تھا اس نے اپنے آپ کو متقیوں میں شمار کیا۔
Ayahs 5:31–32

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ٤ۚۛۙ Open ayah 5:31 in the Quran reader

پس خدا نے ایک کوہ بھیجا وہ زمین کریدتا تھا تاکہ اسے دکھادے کہ نعش کیونکر (زمین میں) چھپائے اپنے بھائی کی ( کوے کو زمین کریدتا ہوا دیکھ کر) بولا : '' افسوس میری حالت پر کہ میں اس کوے کی طرح بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی نعش زمین کھود کر) چھپادیتا '' پس پچھتاتا رہ گیا

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ Open ayah 5:32 in the Quran reader

اس قتل کے سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے بغیر ( یعنی خوناحق کیا) تو گویا اس نے تمام انسانوں کا خون کیا، اور بیشک بنی اسرائیل کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لے کر آئے، پھر البتہ اس کے بعد بھی بہت سے لوگ ان میں سے زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں

خون ناحق کا ذکر اس آیت میں گویا ہابیل کے قصہ کا نتیجہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب ایک بھائی نے حسد پر اپنے بھائی کو مارڈالا اور اس کے خون ناحق کا کچھ خیال نہ کیا بلکہ آئندہ خون ناحق کا اوروں کے لئے دنیا میں ایک راستہ کھول دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس گناہ عظیم کے روکنے کا یہ انتظام فرمایا کہ توریت میں بنی اسرائیل کو خون ناحق سے روکنے کے لئے یہ تاکید فرمائی کہ جو شخص ایک خون ناحق کرے گا اس کو خون ناحق کا پھیلانے والا شمار کیا جائے گا، اور جو مظلوموں کی مدد کرے گا خقن ناحق کو روکے گا وہ اس رسم بد کا روکنے والا اور جہان بھر کی زیست و امن کے اجر کا باعث ٹھرے گا۔ آگے فرمایا باوجود اس سخت حکم کے بنی اسرائیل نے عام لوگوں کے خون ناحق کے علاوہ انبیاء کرام کے خون ناحق کی جرات بھی کی، جس کا خمیازہ ایک دن وہ بھگتیں گے۔
Ayahs 5:33–34

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 5:33 in the Quran reader

جو لوگ کہ لڑتے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے اور ملک میں فساد کی نیت سے دوڑتے پھرتے پھرتے ہیں یہی ان کی سزا ہے کہ قتل کردئے جائیں یا سولی دئے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طف کے پاؤں کاٹے جائیں یا وطن سے دور کردئے جائیں یہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بھی انکے واسطے عذاب عظیم ہے

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ١ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 5:34 in the Quran reader

مگر جنہوں نے کہ تمہارے قابو پانے سے پہلے توبہ کرلی تو جان لو کہ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

راہزنی کرنے والا خواہ مرتد ہو یا مسلمان سب کی سزا کے بیان میں یہ آیت اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ جس کا شان نزول یہ ہے کہ 6 ھ میں عرینہ کے چند لوگ مدینہ طیبہ میں آکر اسلام لائے اور بیمار ہوگئے، ان کے رنگ زرد ہوگئے اور پیٹ بڑھ گئے۔ حضور ﷺ نے حکم دیا کہ علاقہ کے اونٹوں کا دودھ اور پیشاب ملاکر پیاکریں۔ ایسا کرنے سے وہ تندرست ہوگئے اور تندرست ہوکر مرتد ہوگئے اور 15، اونٹ لے کر وہ اپنے وطن چلے گئے۔ حضور ﷺ نے اس کے طلب میں یسار ؓ کو بھیجا ان لوگوں نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے اور ایذائیں دیتے دیتے شہید کرڈالا۔ پھر جب یہ لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں گفتار کرکے حاضر کے گئے تو آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروائیں اور ان کو قتل کر وا ڈالا۔ آگے فرمایا کہ راہزنوں کی یہ سزا تو دنیاوہ ہے اگر پکڑے جانے سے پہلے بغیر توبہ کے وہ مرگئے یا پکڑے گئے اور دنیوی سزا کے بعد بھی مرتد رہے تو عقبیٰ میں ان کو سخت سزا بھگتنا پڑے گا۔
Ayahs 5:35–37

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:35 in the Quran reader

اے مسلمانو ! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور جہاد کرو اس کی راہ میں تاکہ تم فلاح پاؤ

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:36 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو کافر ہوئے اگر ان کے ہاتھ میں سب کچھ ہو جو کچھ زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی ہو پھر یہ سب کچھ روز قیامت کے عذاب سے بچنے کے لئے بدلہ میں دے دیں تو ان سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا، اور ان کے واسطے عذاب درد دینے والا ہے

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 5:37 in the Quran reader

وہ (کتنا ہی) چاہیں گے کہ دوزخ کی آگ سے باہر نکل آئیں اور وہ دوزخ سے باہر نکلنے والے نہیں، اور ان کے واسطے ہمیشہ کا عذاب ہے

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فرمایا کہ ہر ایماندار کو اس طرح کی باتوں سے ہمیشہ پرہیز لازم ہے اور یہ بھی لازم ہے کہ ہر ایماندار شخص ہاتھ سے پیر سے، جان سے، مال سے، زبان سے غرض جس طرح ہوسکے خالص راہ خدا کے نیک کاموں میں ل گا رہے۔ تاکہ وہ نیک کام اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے حاصل کرنے کا ذریعہ قرار پاسکیں ۔ پھر فرمایا کہ یہ باتیں جو بتائی گئیں یہ ایسی ہیں جن سے عقبیٰ کی بہتری اور کامیابی کی صورت نکل سکتی ہے ۔ نیک کام خالص راہ خدا کی نیت سے کیا جاوے تو بارگاہ الہی میں قبول ہوتا ہے۔ وہ لوگ بڑے نادان ہیں جو دنیا کے تھوڑے سے مال ومتاع کے لئے ایسے کام کرتے ہیں جس سے وہ عقبیٰ کو ہاتھ سے دے کر وہاں کا ہمیشہ کا عذاب اپنے سر پر لیتے ہیں۔
Ayahs 5:38–40

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 5:38 in the Quran reader

اور جو چور ہوں خواہ مرد ہو یا عورت پس ان کے ہاتھ کاٹ ڈالو جو کچھ انہوں نے کیا ہے یہ اس کی سزا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرت ہے، اور خدا غالب حکمت والا ہے

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:39 in the Quran reader

پھر جس کسی نے اپنے ظلم کے بعد توبہ کرلی اور نیک کام عمل میں لایا تو بیشک خدا اپنی مہربان (محبت) سے اس پر رجوع ہوگا، بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

(اے انسان ! ) کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے، وہ عذاب کرتا ہے جس کو چاہے اور جسے چاہے بخشتا ہے، اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

چور کی سزا کا حکم شان نزول : یہ آیت ورت مخزومیہ کے ہاتھ کاٹنے کے وقت نازل ہوئی۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ معظمہ کے وقت ایک عورت نے چوری کی تھی، قریش کو اس عورت کا ہاتھ کاٹنا شاق تھا۔ اس لئے قریش نے حضرت اسامہ بن زید ؓ سے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں سفارش کرائی۔ آپ کو یہ سفارش سن کر بڑا غصہ آیا اور آپ نے فرمایا :” کیا تعزیرات الہی میں بھی بندوں کا کچھ دخل ہوسکتا ہے۔ بالفرض محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا بھی کچھ چرائے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ “ غرض آپ نے اس عورت کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور جب اس کا ہاتھ کٹ چکا تو اس نے آپ سے پوچھا کہ یا حضرت ﷺ میری توبہ بھی قبول ہوگئی، آپ نے فرمایا :” اب تو ایسی ہوگئی جیسے آج تجھ کو تیری ماں نے جنا ہے “۔ آخر کو فرمایا : ” آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ تعالیٰ کی ہے، اس کے حکم میں کوئی دخل نہیں دے سکتا جس کی توبہ خالص ہو اسے وہ بخش دیوے تو اسے اختیار ہے “۔