5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمظہر القرآن

Ayah 5:41

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے رسول ﷺ ! تمہیں غمگین نہ کریں وہ جو کفر پر دوڑتے ہیں وہ جو اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور ان کے دل ایمان نہیں لائے، اور کچھ یہودی خوب سننے والے ہیں جھوٹی باتوں کے (اور) سننے والے ہیں دوسری قوم کے واسطے کہ ابھی تمہارے پاس نہیں آئے ہیں ( توریت کے) کلمات کو بدل دیتے ہیں بعد اس کے کہ وہ اپنی جگہ میں صحیح ہوتے ہیں اور (لوگوں سے) یہ کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہ قبول کیا ہوا حکم دیا جائے تو قبول کرو اور اگر یہ تم کو نہ دیا جائے تو بچو اور جسے اللہ گمراہ کرتا ہے پس اس کے واسطے خدا سے کچھ (ہدایت) ہر گز نہ کرسکے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ خدا نے جن کے دلوں کو پاک کرنا نہیں چاہا ان کے واسطے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے واسطے آخرت میں بڑا عذاب ہے

ان آیتوں میں دنیا کے چوروں کا ذکر فرمایا ۔ چوروں کے ذکر کے بعد دین کے چوروں کا ذکر فرمایا۔ ان چوروں میں ایک گروہ تو منافقوں کا تھا جو ظاہر میں مسلمان تھے اور ان کے دل میں منافقت کا طور تھا۔ دوسرا گروہ یہود کا تھا کہ انہوں کے توریت کے بہت سے احکام اپنی طرف سے بنائے تھے اور اصل احکام ایسے چھپائے تھے جیسے چور چوری کی چیز چھپاتا ہے۔ اپنے بنائے ہوئے احکام کو رواج دینے کے لئے یہود کے علماء یہ بھی شرارت کیا کرتے تھے کہ اپنے جاہل لوگوں کے بعضے مقدمات آنحضرت ﷺ کے پاس فیصلہ کو بھیج دیا کرتے تھے، اور ان کو ہدایت کردیا کرتے تھے کہ توریت کے موافق فیصلہ کریں تو مان لینا ورنہ ہرگز نہیں۔ یہود اور منافقوں میں دوستی تھی اس لئے منافق جاسوسی کے لئے مسلمانوں کی مجلس میں آکر بیٹھا کرتے تھے۔ اور یہ بھی خبر لیا کرتے تھے کہ حضور ﷺ نے ان مقدمات میں کیا فیصلہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں منافقوں اور یہود دونوں کے فریب سے اپنے رسول کو آگاہ کردیا کہ منافق لوگ تو یہ فریب کی باتیں اس لئے کرتے ہیں کہ ان کا ایمان فقط زبانی ہے، اور ان کے دل میں طرح طرح کے فریب بھرے ہوئے ہیں۔ آخر کو فرمایا کہ اگر یہ لوگ اپنی عادتوں سے باز نہ آئے تو دنیا میں ان کی طرح طرح کی ذلت ہوگی اور عقبیٰ میں ان کو سخت عذاب بھگتنا پڑے گا۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے۔
Ayahs 5:42–44

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

(اے محبوب ﷺ) یہ لوگ جھوٹی باتیں سننے والے ہیں اور بڑے حرام کے کھانے والے ہیں (یعنی رشوت) پس اگر یہ تمہارے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کرو یا ان سے منہ پھیر لو اور اگر تم ان سے منہ پھیر لوگے تو یہ تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچاسکیں گے، اور اگر فیصلہ کرو تو چاہئے کہ ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرو، بیشک خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور یہ لوگ کس طرح تم سے فیصلہ چاہیں گے حالانکہ توریت ان کے پاس ہے کہ اس میں خدا کا حکم موجود ہے پھر (یہ توریت اور اس کا حکم رکھنے کے) بعد اسی سے منہ پھیرتے ہیں، اور وہ لوگ ایمان والے نہیں

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

بیشک ہم نے توریت نازل کی اس میں ہدایت اور روشنی ہے، اسی کے مطابق یہود کو حکم کرتے تھے جو خدا کے فرمانبردار پیغمبر تھے اور حکم کرتے تھے خدا پرست لوگ اور یہودیوں کے عالم کیونکہ وہ محافظ ٹھرائے گئے تھے خدا کی کتاب کے اور اس (کے احکام و ہدایت) پر گواہ تھے، پس (کہا ہم نے تم (ان لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی قیمت نہ لے اور جو کوئی خدا کی نازل کی ہوئی کتاب کے موافق حکم نہ کرے تو وہی لوگ کافر ہیں

یہود کا دھوکا اور قصاص کا حکم اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پہلے اہل کتاب جب آنحضرت ﷺ کے پاس کوئی جھگڑا فیصلہ کرنے کو لاتے تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا تھا کہ خواہ آپ فیصلہ کریں یا پہلو تہی کر جاویں لیکن اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوگئی۔ شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ یہود کے چند علماء نے ایک روز آنحضرت ﷺ سے یہ فریب کیا کہ ہماری قوم کے لوگوں سے مخالفت ہوگئی ہے، ہم چند مقدمے آپ کے پاس لے آویں گے اور چونکہ ہم لوگ عالم ہیں، اس لئے ہمارا اسلام دیکھ کر عام لوگ بھی مسلمان ہوجاویں گے اور باطن میں ان کے جی میں یہ فریب تھا کہ اگر آپ دھوکا کھاکر خلاف حکم الہی فیصلہ کردیں تو آپ نبوت میں طرح طرح شبہ ڈالیں مگر آپ نے اس طرح کے فیصلہ سے انکار کیا۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور زیادہ ہوشیار کرنے کو یہ آیت نازل فرمائی کہ اے رسول ﷺ اللہ کے ! اگر آپ ان کے مقدمات کا انصاف سے فیصلہ کریں تو اللہ تعالیٰ اہل انصاف کو پسند کرتا ہے۔ لیکن اگر ان لوگوں کو انصاف منظور ہوتا تو یہ لوگ توریت کے ان اصلی احکام سے نہ پھرتے، جن پر تمام انبیاء بنی اسرائیل کا عمل تھا۔ اب حال کے یہود کو ان کے بڑوں کا حال یاد دلا کر فرمایا کہ تم لوگوں کو اب رشوت لینے کے لالچ سے احکام توریت بدلنے میں، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے ورنہ تمہارا شمار احکام الہی کے منکروں میں قرار پاوے گا۔ مسئلہ : اگر کوئی جان بوجھ کر کسی آیت قرآنی کا منکر ہوگا تو وہ اس حکم میں داخل ہوگا۔ یہاں کفر کے معنی گناہ کے نہیں ہیں۔ صحیح بخاری کی حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث میں شوہروں کی ناشکر گزاری سے عورتوں کو کافر فرمایا ہے۔
Ayah 5:45

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

اور ہم نے توریت میں یہ حکم ان پر نازل کیا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت ہے، اور زخموں کے بدلے ویسے ہی زخم کا بدلہ ہے پھر جو کوئی بدلہ لینا معاف کردے تو یہ معافی اس کے لئے (گناہوں کا) کفارہ ہے، اور جو کوئی حکم نہ کرے اللہ کے اتارنے پر تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے کسی کو ناحق قتل کیا تو اس کی جان مقتول کے بدلے میں لی جاوے گی۔ خواہ وہ مقتول مرد ہو یا عورت۔ آزاد ہو یا غلام۔ حضرت ابن عباس ؓ اسے روایت ہے کہ مرد کو عورت کے بدلے قتل نہ کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جو قاتل اپنے جرم سے نادم ہوکر وبال معصیت سے بچنے کے لئے بخوشی اپنے اوپر حکم شرعی جاری کرائے، تو قصاص اس کے جرم کا کفارہ ہوجائے گا، اور آخرت میں اس پر عذاب نہ ہوگا۔ بعض مفسرین نے اس کے یہ معنی بیان کئے کہ جو صاحب حق قصاص کو معاف کردے تو یہ معانی اس کے لئے کفارہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ظلم و زیادتی کی معافی پر اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے کو بڑا درجہ دے گا۔
Ayahs 5:46–47

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

اور ہم نے ان نبیوں کے پیچھے ان ہی کے نقش قدم پر مریم کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا تصدیق کرنے والا توریت کی اس سے پہلے موجود تھی اور ہم نے اس کو دی انجیل کہ اس میں ہدایت اور روشنی ہے، اور تصدیق کرتی ہے توریت کی کہ اس سے پہلے تھی اور ہدایت اور نصیحت تھی پرہیز گاروں کے واسطے

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور انجیل والوں کو چاہئے کہ جو کچھ خدا نے اس میں اتارا ہے اس کے مطابق حکم کریں اور جو کوئی نہ حکم کرے مطابق اس کے جو خدا نے اتارا ہے پس وہ لوگ فاسق ہیں

انجیل اور قرآن شریف کے نازل ہونے کا ذکر مطلب یہ کہ ان آیتوں میں فرمایا کہ ان انبیاء بنی اسرائیل کے قدم بہ قدم سب انبیاء بنی اسرائیل تھے، اور آخر پر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو توریت کے احکام کی تصدیق و نگہبانی کے لئے بھیجا، اور علاوہ توریت کے ان پر انجیل بھی نازل فرمائی جس میں ہر طرح کی ہدایت تھی۔ اور گناہوں کی کثرت سے بنی اسرائیل کے دل پر ایک طرح کی سیاہی جو آگئی تھی۔ اس سیاہی کے اندھیرے کو دور کرنے کے لئے انجیل گویا ایک روشن مشعل تھی اور توریت کے سچے احکام کی تصدیق اور طرح طرح کی نصیحت بھی اس میں موجود تھی۔ آخر میں فرمایا کہ نصاریٰ کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے انجیل میں جو باتیں اتاری ہیں وہ اس کے پابند ہوں۔ ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کے نافرمان کہلاویں گے۔ اصل انجیل بدلنے پر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا کہ نصاریٰ کو انجیل پر عمل کرنا چاہئے۔ توریت میں تین نبیوں کا ذکر یوں ہے کہ پہلے نبی حضرت موسیٰ اور دوسرے نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تیسرے نبی آخر الزماں محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جس بنی کے آنے کی خوشخبری دی ہے وہ حضور ﷺ ہی کی ذات اقدس ہے۔
Ayahs 5:48–49

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

اور (اے محبوب ﷺ) ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری ان کتابوں کی تصدیق کرنے والی جو پہلے سے موجود ہیں اور ان پر نگہبان، پس چاہئے کہ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب کے مطابق ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو اور (اے سننے والے) اپنے پاس آیا ہوا حق چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا، ہم نے تم سب کے لئے ایک ایک شریعت اور راستہ رکھا، اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت کردیتا لیکن وہ تمہاری آزمائش کرنا چاہتا ہے اس چیز میں جو تم کو دی ہے پس بھلائیوں کی طرف سبقت چاہو، تم سب کو اللہ ہی کی طرف جانا ہے پس وہ تم کو بتادے گا جس میں کہ تم اختلاف کرتے تھے

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

اور (فرمایا) یہ کہ حکم کرو درمیان ان کے مطابق اس کے جو خدا نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشوں پر نہ چل اور ان سے بچتا رہ اس لئے کہ وہ تجھ کو کہیں لغزش نہ دے دیں بعض اس چیز سے کہ جو خدا نے تیری طرف بھیجی ہے، پھر اگر وہ نہ مونے تو جان لو کہ خدا ان کے بعض گناہوں کی سزا ان کو پہنچایا چاہتا ہے، اور بیشک لوگوں میں سے بہت سے بدکار ہیں

ان آیتوں میں قرآن شریف کا ذکر ہے کہ بغیر کسی شک و شبہ کے یہ اللہ کا کلام ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں کی، توریت اور انجیل سب پچھلی کتابوں کی صداقت، اس قرآن میں موجود ہے۔ جس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جس طرح پچھلے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے وہ کتابیں نازل فرمائی تھیں۔ اسی طرح اب یہ قرآن نازل فرمایا اور یہ بھی ہر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ قرآن کو جھٹلانا عین ان کتابوں کو جھٹلانا ہے۔ جن کتابوں کو یہ لوگ اللہ کا کلام اور آسمانی کتابیں جانتے ہیں۔ قرآن میں پچھلے سب انبیاء اور ان کی کتابوں کی صداقت موجود ہے۔ اسی طرح ان کی کتابوں میں قرآن مجید کا ذکر موجود ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ایک ہی شریعت قرار دیتا تو پھر باہم کوئی اختلاف نہ رہتا لیکن ہر زمانہ کی ضرورت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے مختلف شریعتیں ٹھرائی ہیں۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں کے دل میں نافرمانی بسی ہوئی ہے جس کے سبب سے مدینہ طیبہ کے گردونواح میں ان پر کوئی آفت آجائے گی۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ مدینہ طیبہ کے گردونواح میں بنی قنیقاع اور بنی نضیر پر تو جلا وطنی کی آفت آئی او بنی قریظہ پر قتل کی آفت نازل ہوئی۔
Ayah 5:50

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

تو کیا وہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور کون ہے خدا سے بہتر باعتبار حکم کے واسطے اس قوم کے کہ یقین رکھتے ہیں

اسلام سے پھرجانے والوں کا ذکر شان نزول : بنی نضیر اور بنو قریظہ یہود کے دو قبیلے تھے۔ ان میں باہم ایک دوسرے کا قتل ہوتا رہتا تھا۔ جب آنحضرت ﷺ مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے تو یہ لوگ اپنا مقدمہ حضور کی خدمت میں لائے۔ بنی قریظہ نے کہا کہ ہم دونوں بھائی ہیں، ایک مذہب رکھتے ہیں۔ لیکن بنی نضیر ہم میں سے کسی کو قتل کریں تو اس کے خون بہا میں ہمیں ستر وسق کھجوریں دیتے ہیں اور اگر ہم میں سے کوئی ان کے کسی آدمی کو قتل کرے تو اس کے خون بہا میں ایک سو چالیس وسق لیتے ہیں۔ آپ اس کا فیصلہ فرمادیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا :'' میں حکم دیتا ہوں خون بہا برابر ہے کسی کو کسی پر فضیلت نہیں ''۔ اسپر بنو نضیر بہت برہم ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کے فیصلہ سے راضی نہیں آپ ہمارے دشمن ہیں۔ ہمیں ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ کیا جاہلیت کی گمراہی اور ظلم کا حکم چاہتے ہیں۔
Ayahs 5:51–53

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:51 in the Quran reader

اے مومنو ! یہود اور نصاری کو دوست نہ بناؤ کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو کوئی تم میں سے ان کو دوست رکھے گا بیشک وہ انہی میں سے ہوگا، بیشک اللہ یہ نہیں راہ دکھاتا ہے بےانصاف لوگوں کو

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ Open ayah 5:52 in the Quran reader

پس تم ان لوگوں کو دیکھوگے کہ جن کے دلوں میں بیماری (یعنی نفاق) کا روگ ہے وہ دوڑے جارہے ہیں یہود ونصاریٰ کی دوستی میں وہ کہتے ہیں :'' ہم ڈرتے ہیں کہ کسی مصیبت کے پھیر میں نہ آجائیں '' تو (یقین کرو) وہ وقت نزدیک ہے کہ خدا تم کو فتح دے دے گا یا اس کی طرف سے (کامیابی کی) کوئی اور بات ظاہر ہوجائے گی پھر اس وقت یہ لوگ اس بات پر پشیمان ہوں گے جو انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھی تھی

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:53 in the Quran reader

اس وقت ایمان والے کہیں گے (یعنی قیامت میں): '' کیا یہ وہی لوگ ہیں کہ جو اللہ کی سخت سے سخت قسم کھاکر کہتے تھے کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں '' (حالانکہ وہ دشمنوں کے ساتھ تھے) تو (دیکھو) ان کے تمام اعمال (اس نفاق کی وجہ سے) اکارت گئے، پس نقصان میں ہوگئے

ان آیتوں میں یہود ونصاریٰ کے ساتھ موالات یعنی ان کی مدد کرنا اور ان سے مدد چاہنا ان کے ساتھ محبت کے روابط کو ممنوع فرمایا گیا ہے۔ یہ حکم عام ہے۔
Ayah 5:54

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 5:54 in the Quran reader

اے مومنو ! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جاوے گا تو بہت جلد اللہ ایسا گروہ لائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کاپیارا، مومنوں پر نرم اور کافروں پر نہایت سخت، جہاد کریں گے اللہ کی راہ میں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہیں کریں گے یہ خدا کا فضل ہے جس کو چاہے اسکو دے اور اللہ بڑی وسعت والا جاننے والا ہے

حضرت حسن بصری ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے علم میں لوگوں کے مرتد ہوجانے سے پہلے یہ بات تھی کہ آنحضرت ﷺ اور خلفاء کے زمانہ میں کچھ لوگ اسلام لاکر اسلام سے پھر جاویں گے۔ اس لئے اللہ نے اپنے علم غیب کے طور پر اس آیت میں ان لوگوں کی خبر پہلے سے دی اور بعد میں اس کا ظہور ہوا۔ یعنی گیارہ فرقے عرب کے مرتد ہوئے۔ تین فرقے خود آنحضرت ﷺ کے اخیر زمانہ میں اس طرح مرتد ہوئے کہ اسود عنسی کے ساتھ بنی مدلج فرقہ مرتدہوا اور یمن کے تمام شہروں پر اسود عنسی کا تسلط ہوگیا اور آنحضرت ﷺ کے عاملوں کو اس نے یمن کے شہروں سے اٹھادیا۔ آخر آنحضرت ﷺ نے حضرت معاذبن جبل ؓ کو اس کی سرکوبی کے لئے مقرر کیا اور یمن کے مسلمانوں نے حضرت معاذ ؓ کی مدد کی۔ آخر کار فیروز دیلمی کے ہاتھ سے اسود عنسی مارا گیا۔ ان فرقوں کے علاوہ اور سات فرقے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے عہد میں زکوٰۃ کے منکر اور مرتد ہوئے، اور فرقہ عنان حضرت عمر ؓ کے عہد میں مرتد ہوا۔ اس پر آشوب زمانہ میں اہل یمن اور جن لوگوں نے دین کی حمایت کی ہے۔ انہی لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنا پیارا فرمایا ہے۔
Ayahs 5:55–56

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ Open ayah 5:55 in the Quran reader

(اے مسلمانو ! ) تمہارے دوست نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے کہ نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور وہ (ہر حال) میں اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں

وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ Open ayah 5:56 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ اور اسکے رسول کو اور مومنوں کو اپنا رفیق بنائے تو ( وہ اللہ کے گروہ میں سے ہے اور) تحقیق اللہ ہی کا گروہ غالب ہے

مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت ؓ کی طرح جو شخص مخالف اسلام لوگوں کی دوستی سے بیزار ہے، اللہ اور اللہ کے رسول اور نماز اور زکوٰۃ پر قائم رہنے والے پکے مسلمان، سب ایسے شخص کے دوست اور رفیق ہیں اور ایسے لوگ اللہ کا گروہ کہلاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے گروہ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ یہ گروہ مخالفوں پر غالب رہے گا۔ اللہ سچا ہے، اللہ کا وعدہ سچا ہے۔
Ayah 5:57

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:57 in the Quran reader

اے مسلمانو ! جن لوگوں مے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے ان لوگوں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے (یعنی یہود ونصاریٰ ) اور کافر (یعنی بت پرست) ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ، اور اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو

شان نزول : بعضے یہود ظاہر میں تو مسلمان ہوگئے تھے مگر باطن میں اسلام کو اچھا نہیں جانتے تھے اور بعضے مسلمان ان کو سچا مسلمان سمجھتے تھے ان سے کمال دوستی رکھتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جتلادیا کہ یہ لوگ دین اسلام کو ٹھٹھا ٹھرانے والے ہیں ان سے دوستی اچھی نہیں۔
Ayah 5:58

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

اور جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو یہ اسے ہنسی اور کھیل ٹھراتے ہیں یہ اس لئے کہ یہ ایک ایسا گروہ ہے جو بےعقل ہے

ایک نصرانی کا بےادبی پر انجام اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب اذان مدینہ طیبہ میں ہوتی تھی تو ایک نصرانی جو مدینہ میں رہتا تھا اشھد ان محمد رسول اللہ سن کر یہ کہا کرتا تھا : ” خدا اس جھوٹے مؤذن کو چولہے میں ڈالے “۔ ایک دن اس نصرانی کے گھر میں آگ لگی اور وہ اور اس کے بال بچے اور سارا گھر جل کر راکھ ہوگیا، کیونکہ اس نے جان بوجھ کر اللہ کے رسول کی شان میں بےادبی کے لفظ منہ سے نکالے تو اس پر اللہ تعالیٰ کو خفگی ہوئی۔ توریت اور انجیل کی صداقت کی بنا پر نبی آخر الزماں ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ اہل کتاب میں سے جو میرا حال سن کر میری نبوت کو نہ مانے گا تو اس کی نجات مشکل ہے۔ اسی واسطے آخر کو فرمایا کہ جو کوئی ایسی ظاہر باتوں کو نہیں مانتا اس کی عقل ٹھیک نہیں ہے۔
Ayah 5:59

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

(اے محبوب ﷺ یہودیوں سے) فرماؤ :” اے اہل کتاب کیا تم ہمیں اسی بات ہر عیب لگاتے ہو کہ خدا پر ایمان لائے اور اس پر ایمان لائے جو ہماری طرف اترا ہے اور اس پر جو اس سے پہلے اترا ہے، مگر یہ کہ اکثر لوگ تم میں سے بےحکم ہیں “

شان نزول : حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز چند یہود نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ آپ کون کون سے نبی کو برحق جانتے ہیں۔ آپ نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور سب انبیاء کا نام لیا۔ یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نام سن کو بہت چڑے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا :” اے رسول اللہ کے ! آپ ان یہودیوں سے کہیے کہ تم میں اکثر لوگ گناہوں کی سرکشی میں حد سے بڑھے ہوئے ہیں، جس کے سبب سے تم لوگ حضرت عیسیٰ کو نبی قرار دینے سے ہمارے دشمن بن گئے، ورنہ جس تورات کو تم مانتے ہو اس میں حضرت عسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی پوری شہادت تھی جس کو تم نے بدل ڈالا ہے اور ایک سچی بات پر الٹا ہم سے جھگڑتے اور ہمارے دین کو عیب لگاتے ہو۔ تم لوگوں میں ذرا بھی راستی اور انصاف ہو تو تم اقرار کرسکتے ہو “۔
Ayahs 5:60–62

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

(اے محبوب ﷺ) تم فرماؤ کیا میں تم کو بتادوں کہ جو خدا کے نزدیک باعتبار جزا کے کون زیادہ بد تر درجہ ہیں وہ جس پر لعنت کی خدا نے اور اس پر اپنا غضب اتارا اور ان میں سے کتنوں ہی کو بندر اور سور کردیا جس نے کہ شیطان کو پوجا، ایسے لوگوں کا ٹھکانا زیادہ برا ہے اور سیدھے رستے سے بہت بہکے ہوئے ہیں

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں :” کہ ہم ایمان لائے “ حالانکہ وہ کفر کے ساتھ آئے اور کفر کے ساتھ واپس گئے اور وہ جو کچھ (اپنے دلوں میں) چھپائے ہوئے ہیں خدا اسے خوب جاننے والا ہے

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

اور تم ان میں سے بہتوں کو دیکھوگے کہ گناہ اور زیادتی اور مال حرام کھانے ہر دوڑتے ہیں، بیشک بہت ہی برے کام کرتے ہیں

یہود نے نبی آخر الزماں ﷺ سے یہ جو کہا تھا کہ اگر حضرت عسیٰ (علیہ السلام) کو بھی نبی مانتے ہیں تو آپ کے دین سے بڑھ کر اور کوئی برا دین دنیا میں نہیں۔ ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! آپ ان لوگوں سے کہ دیجئے کہ اللہ کے حکم سے میں تم لوگوں کو جتلائے دیتا ہوں کہ سزا کے لحاظ سے اللی کے نزدیک بگڑا ہوا اور برا دین وہی ہے جس کی سزا میں تم لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور تم اس کے غصہ اور خفگی میں ایسے گرفتار ہو کہ کچھ لوگ تم میں کے آدمی سے بندر اور سور ہوگئے اور کچھ اہل کتاب ہوکر بت پرست کہلائے۔ آگے فرمایا کہ دنیا میں ایسے لوگ راہ راست سے دور پڑے ہیں، اس لئے عقبیٰ میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔
Ayah 5:63

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

ان کو کیوں نہیں منع کرتے ان کے پادری اور ان کے درویش گناہ کی بات کہنے سے اور مال حرام کھانے سے۔ بیشک بہت ہی برے کام وہ کررہے ہیں

علماء کو وعظ و نصیحت کی ترغیب اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان پر تنبیہ فرمائی اور اس آیت کا حکم ہر امت پر ہے، اسی واسطے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور اکثر سلف فرمایا کرتے تھے کہ قرآن شریف میں اس آیت سے بڑھ کر کوئی آیت عالموں اور صلحاء کے لئے نہیں ہے۔ کیونکہ سواذاتی عمل کے ان سے یہ بھی پرسش ہوگی کہ انہوں نے باوجود قدرت کے بروں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کیوں نہیں کی۔
Ayahs 5:64–66

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

اور یہودیوں نے کہا کہ خدا کا ہاتھ (عطاوبخشش سے) بند ہوگیا ہے (حقیقت میں) انہی کے ہاتھ باندھے جائیں اور ان پر اس کہنے سے لعنت ہے، اور خدا کے تو دونوں ہاتھ (بخشش و کرم میں) کشادہ ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے ۔ اور (اے محبوب ! ﷺ) جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے نازل ہوا۔ (بجائے ہدایت و نصیحت کے) اس سے ان میں بہتوں کو شرارت اور کفر میں ترقی ہوگئی، اور (اسی سرکشی اور کفر کا نتیجہ ہے کہ) ہم نے ان کے درمیان قیامت تک عداوت اور بیر ڈال دیا، جس وقت لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھادیتا ہے، اور یہ لوگ زمین میں فساد پھیلانے کے لئے دوڑتے پھرتے ہیں اور الل فساد پھیلانے والوں کو دوست نہیں رکھتا

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ضرور ان کے گناہ دور کردیتے اور بیشک ہم ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر وہ لوگ (پورا حکم) قائم رکھتے توریت اور انجیل کا اور جو کچھ ان کی طرف ان کے پروردگار کی طرف سے اترا، بیشک انہیں رزق ملتا اوہر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے (یعنی رزق کی کثرت ہوتی) ، ان میں سے ایک گروہ درمیانی رستہ پر ہے اور ان میں سے اکثر بہت ہی برے کام کرتے ہیں

یہود کا اللہ پر اعتراض شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہود بہت خوشحال اور نہایت دولت مند تھے۔ جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کی شان میں بےادبی اور مخالفت کی تو ان کی روزی کم ہوگئی۔ اس وقت نباش بن قیس یہودی نے کہا کہ اللہ کا ہاتھ بند ہے۔ یعنی معاذاللہ ! وہ رزق دینے اور خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے۔ اس کے قول پر اسے کسی یہودی نے منع نہ کیا بلکہ راضی رہے، اسی لئے یہ سب کا مقولہ قرار دیا گیا اور یہ آیت ان کے حق میں نازل ہوئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی کریمی کی صفت ہمیشہ یکساں ہے۔ لیکن جب کسی یہود نے سرکشی کی ہے اسی وقت ان کی سرکوبی کرائی گئی ہے۔ جس کے سبب سے ان کی بادشاہت اجڑ کر ذلت اور تنگدستی ان کے سر پر ان ہی کے ہاتھوں سے سوار ہے۔ اگرچہ قرآن شریف میں جوں جوں ان کے برے کاموں کی مذمت میں روزانہ آیتیں بڑھتی جاتی ہیں اسی قدر ان کی شرارت بڑھتی جاتی ہے اور ان کی یہ شرارتیں کچھ نئی نہیں ہیں۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ یہود دنیا میں سب سے زیادہ بخیل ہوگئے۔ یا یہ معنی ہیں کہ ان کے ہاتھ جہنم میں باندھے جائیں اور ان کو آتش دوزخ میں ڈالا جائے۔ ان کی اس بیہودہ گوئی اور گستاخی کی سزا میں وہ کریم ہے اس کی حکمت میں کسی کو مجال اعتراض کرنے کا نہیں ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ پر ایمان لاتے اور آپ کا اتباع کرتے کہ توریت و انجیل میں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی تماما کیتابیں جو اللہ نے اہنے رسولوں پر نازل فرمائیں سب میں آنحضرت ﷺ کی اتباع اور آہ ہر ایمان لانے کا حکم ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین کی پابندی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری سے رزق میں وسعت ہوتی ہے۔ یہودیوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لاتے لیکن کفر پر جمے ہوئے رہتے ہوئے رہتے ہیں۔
Ayah 5:67

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے رسول پہنچادو جو کچھ اترا تمہیں تمہارے پروردگار کی طرف سے، اور اگر ایسا نہ کیا تو تم نے خدا کا کوئی پیغام نہ پہنچایا، اور خدا تمہاری نگہبانی کرے گا لوگوں سے، بیشک خدا کافروں کے گروہ کو راہ نہیں دیتا

تبلیغ کا حکم اس آیت کا مطلب یہ ہے آیت نازل ہوئی تو آپ نے اللہ کا پیغام پہنچانا شروع کردیا جس میں اکثر باتیں اہل کتاب و منافقین اور کفار کی مرضی کے مخالف بلکہ ان کی مذمت کی ہوتی تھیں۔ تو اس خوف سے کہ موقع پاکر یہ مخالف لوگ آپ پر حملہ نہ کربیٹھیں کچھ صحابہ کرام کو آپ اپنی حفاظت کے لئے رات کو تعینات فرمایا کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کا یہ ٹکڑا نازل فرمایا۔ اس آیت کے آتے ہی آپ نے ان صحابہ کرام کو فرمادیا کہ تم اپنے اپنے گھر طلے جاؤ اب حفاظت کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت خود اپنے ذمہ لے لی ہے۔ آخر کو فرمایا کہ اے رسول اللہ (ﷺ ! ) تمہارے قرآنی احکام پہنچادینے کے بعدجو لوگ ان احکام کو دل سے نہ سنیں، اور راہ راست پر نہ آویں تو اس کا کچھ ملال نہ کریں کیونکہ دنیا پیدا ہونے سے پہلے جو لوگ بد قرار پاچکے ہیں اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ کسی طرح راہ راست پر ایمان لانے والے نہیں۔
Ayahs 5:68–69

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

تم فرماؤ :'' اے اہل کتاب ! تم کسی راہ پر بھی نہیں جب تک توریت اور انجیل کی پوری پابندی نہ کروا اور جو کچھ بھیجا گیا ہے تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری طرف، اور البتہ ان میں سے بہتوں کو اس کلام سے کہ جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے تمہارے پروردگار کی طرف سے (یعنی قرآن) اور بھی سرکشی اور کفر بڑھ جاوے گا، پس تم کافروں کی قوم پر کچھ غم نہ کھاؤ

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

بیشک وہ جو اپنے آپ کر مسلمان کہتے ہیں اور سی طرح یہودی اور ستارہ پرست اور نصرانی اور ان میں جو کوئی سچے دل سے اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان لائے اور اچھے عمل کرے تو ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ وہ کچھ غمگین ہوں گے

شان نزول : چند یہود ایک روز آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تو کہنے لگے کہ آپ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر بتاتے ہیں اور ہماری کتاب کو حق نہیں جانتے آپ نے فرمایا :'' یہ سچ ہے کہ تمہاری کتاب برحق ہے لیکن تم نے بہت سے احکام الہی کو بدل ڈالا ہے ''۔ انہوں نے جواب دیا کہ جس طریقہ پر ہم ہیں وہ برحق ہے ہم اس کے سوا ہوگز کوئی اور طریقہ اختیار نہ کریں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہود و نصاریٰ اور دہریہ لوگ جب تک مناسب وقت شریعت کو نہ مانیں گے تو ان کا ایمان لاشئ محض ہے۔ اب آگے فرمایا :'' اے رسول اللہ (ﷺ) کے ! ایسے لوگوں کی حالت پر آپ کو کچھ افسوس نہ کرنا چاہئے ''۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ اہل کتاب اپنی کتابوں کے پورے پابند ہوکر اگر شریعت وقتیہ کو مانیں گے اور شریعت وقتیہ کے موافق نیک کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو عقبیٰ کی سب سختیوں سے بےخوف وخطر کردے گا۔
Ayahs 5:70–71

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کی طرف ہم نے بھیجے پغمبر جس وقت ان کے پاس کوئی رسول ایسا حکم لے کر آیا جس کو ان کا جی نہیں چاہتا تھا تو (رسولوں کے) ایک گروہ کو جھٹلادیا اور ایک گروہ کو قتل کرتے ہیں

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور اس گمان میں ہیں کہ کوئی سزانہ ہوگی پس اندھے اور بہرے ہوگئے پھر خدا نے ان کی توبہ قبول کی، پھر ان میں سے بہت سے بہرے اور اندھے ہوگئے، اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں

ان آیتوں میں ان کے توریت پر قائم رہنے کی تفصیل فرمائی۔ جس عہد کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ وہی عہد ہے جس کا ذکر سورة ببقرہ میں ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بہت سے نبی اللہ تعالیٰ نے توریت کے اس عہد کے قائم رکھنے کے لئے بھیجے، لیکن یہود نے توریت کے اکثر احکام بدل دئے تھے، اور جس نبی نے ان کو ان باتوں سے روکا اس سے مخالفت پیداکرکے بعضے نبیوں کو تو شہید کرڈالا اور بعضوں کو جھٹلایا۔ آخر کو فرمایا کہ ان کے یہ سب گناہ کی باتیں اللہ جانتا ہے وقت مقررہ پر ان کو معلوم ہوجائے گا۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے۔
Ayahs 5:72–75

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ وہی عیسیٰ مسیح مریم کا بیٹا ہے اور مسیح نے تو یہ کہا تھا :'' اے بنی اسرائیل ! اللہ کی عبادت کرو جو میر پروردگار اور تمہارا پروردگار ہے '' بیشک جو کوئی خدا کا شریک ٹھرائے تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی، اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور نہیں ظالموں کا کوئی مددگار

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

بیشک کافر ہوگئے جنہوں نے یہ کہا کہ خدا تین خداؤں میں کا تیسرا ہے حالانکہ بجز ایک معبود کے اور کوئی معبود نہیں اور اگر وہ اپنی بات سے باز نہ آویں گے تو بیشک پہنچے گا ان میں سے کافروں کو درد دینے ولا عذاب

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

پھر وہ کس لئے اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتے اور اس سے بخشش نہیں مانگتے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

عیسیٰ بیٹا مریم کا اور کچھ نہیں مگر ایک رسول ہے اس سے پہلئ بھی بہت سے رسول ہوگزرے ہیں اور اس کی ماں صدیقہ ہے یہ دونوں (تمام انسانوں کی طرح) کھانا کھاتے تھے دیکھو تو کیونکر ہم ان لوگوں کے لئے نشانیاں بیان کرتے ہیں پھر بھی دیکھو وہ کیسے اوندھے جاتے ہیں

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بابت نصاریٰ کی غلط فہمی ان آیتوں میں انجیل کے احکام کی پابندی میں جو خرابیاں ڈال دی تھیں ان کا ذکر ہے۔ یعنی وہ تین خدا مانتے ہیں : ایک تو اللہ دوسرے مریم، تیسرے حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ ی تینوں ملاکر روح القدس نعوذ باللہ من ذالک، اللہ ہیں اور یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہما السلام) کی تصویریں اپنے عبادت خانوں میں رکھتے اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے نام کی ایک نماز بھی ٹھرا رکھی ہے جس کو یہ لوگ پڑھا کرتے ہیں۔ آخر کے دونوں فرقے تثلیثی فرقے کہلاتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تین خدا کے ماننے والے یہ فرقے ہیں۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر ان تینوں فرقوں کا ذکر فرماکران کو کئی طرح قائل کیا ہے : (1) اول یہ لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پابند بتلاتے ہیں تو پھر حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو اللہ ٹھراکر وہ ابراہیمی توحید ان لوگوں میں کیونکر باقی رہ سکتی ہے۔ اللہ وحدہ لاشریک وبے نیاز ہے۔ (2) دوسرے جب اللہ کے رسول عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے اللہ کے وحدہ لاشریک ہونے اور اپنے رسول ہونے کی ان لوگوں کو صاف ہدایت کی، تو پھر ان لوگوں نے اپنے رسول کی ہدایت کے برخلاف یہ شرک کی باتیں کہاں سے نکالی ہیں، ان کو حضرت عیسیٰ بن مریم کی یہ نصیحر یاد نہیں کہ '' مشرک کا ٹھکانا دوزخ ہے اور جنت اس پر حرام ہے۔ اللہ کے سوا کسی کی عبادت کرنا جائز نہیں ''۔ (3) تی سے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) اور ان کی ماں کھانا کھایا کرتے تھے۔ جس کی زندگی کا مدار کھانا کھانے پر پو، جس کی ذات میں یہ تغیر ہو کہ ہر روز کی غذا کے سبب سے اس کا خون گوشت اب کچھ بڑھتا رہے، تو یہ سب نشانیاں مخلوقات کی شان کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب باتوں سے پاک ہے۔ پھر ایسی موٹی باتوں کو بھول کر کس عقل سے یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی ماں کو اللہ کا شریک ٹھراتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے واسطے جنت حرام ہے، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جب تک وہ توبہ و استغفار نہ کریں گے تو قیامت کے دن وہ سخت عذاب میں پکڑے جاویں گے، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے چھڑانے میں ان کا کوئی حامی، مددگار نہ ہوگا اور ان لوگوں کا یہ خیال کہ حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) مثلا مردہ کو زندہ کرتے تھے اس واسطے خدا تھے، بالکل یہ غلط خیال ہے، ان کی مانند اور رسول بھی صاحب معجزہ ہوئے ہیں جن کو یہ لوگ خدا نہیں کہتے۔
Ayahs 5:76–77

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ) تم فرماؤ :'' کیا تم اللہ کو چھوڑکر ایسے کی عبادت کرتے ہو جو تمہارا مالک نہیں تمہارے نقصان کا اور نہ نفع کا، اور خدا ہی سننے والا جاننے والا ہے ''

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

تم فرماؤ اے اہل کتاب ! اپنے دین میں ناحق زیادتی نہ کرو اور ایسی قوم کی خواہشوں پر نہ چلو جو اس سے پہلے گمراہ ہوچکے اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا اور سیدھے رستہ سے بہک گئے

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ) کو مخاطب ٹھراکر فرماتا ہے کہ اے رسول اللہ کے ! آپ ان لوگوں سے کہ سیجئے کہ سوا اللہ تعالیٰ کے جن کو تم اپنا معبود ٹھراتے ہو، نہ ان کو تمہارے برے بھلے کا کچھ اختیار ہے اور نہ تمہاری التجا سن لینے کی قدرت ہے۔ نہ دل کا حال ان کو کچھ معلوم ہوسکتا ہے۔ یہ اللہ ہی کی ذات ہے کہ وہ ہر ایک کی التجا سنتا ہے۔ ہر ایک کے دلی مقصد کو خوب جانتا ہے۔ پھر فرمایا کہ مبالغہ کی سب باتیں ان کے بڑوں کی تراشی ہوئی ہیں جو خود بھی بےراہ ہوئے، اور لوگوں کو بھی بےراہ کیا۔ حال کے لوگ بھی اگر ان بےراہ بڑوں کی پیروی میں عمر بھر لگے رہیں گے اور عقبیٰ میں اپنی بہبودی کی توقع اللہ تعالیٰ سے رکھیں گے تو یہ بڑی نادانی کی بات ہے۔
Ayahs 5:78–80

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

لعنت کے گئے وہ جنہوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں داود اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان پر یہ اس لئے ہوا کہ یہ ان کی نافرمانی کرتے تھے اور حد سے گزر جاتے تھے

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے اس برے کام سے جو وہ کرتے تھے بیشک وہ بہت ہی برے کام کرتے تھے

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

ان میں تم بہتوں کو دیکھوگے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں (یعنی مشرکوں سے) تحقیق بری چیز ہے جو ان کے نفسوں نے ان کے لئے آگے بھیجی کہ ان پر خدا کا غضب ہوا اور وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے

حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ یہود حد سے بڑھ کر طرح طرح کے گناہ کرتے تھے اور ان گناہوں پر آپس میں ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے بلکہ سب ایک دل ہوگئے تھے۔ یہ اعمال تو ان کے برے تھے علاوہ اس کے یہ بھی تھا کہ اہل کتاب ہوکر اسلام کی مخالفت میں مکہ کے مشرکوں سے انہوں نے دوستی پیدا کی تھی۔ جس کے سبب سے اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ کے غصہ اور عذاب کے یہ لوگ مستحق ٹھر گئے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کرکے نالائق پھٹکار قراردیا۔ یہ معنی اللہ تعالیٰ کی لعنت کے ہیں۔ پھر یہ فرمایا کہ اگر ان لوگوں کے دل میں بھی کتاب آسمانی کا ایسا ہی یقین ہوتا جس طرح سے یہ لوگ کتاب آسمانی کی پابندی ظاہر کرتے ہیں، تو یہ بت پرستوں سے دوستی پیدا کرکے بت پرستی کی تعریف نہ کرتے۔ حی بن اشرف اور کعب بن اشرف یہودیوں کے سردار کا مکہ جاکر بت پرستوں سے میل جول پیدا کرنا، اور ان کی بت پرستی کے طریقہ کو مسلمانوں سے اچھا بتانا جس کا قصہ سورة النساء میں گزر چکا ہے۔ آخر کو فرمایا کہ ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہوگئے ہیں اس لئے ان کو ایسی باتوں کی پرواہ نہیں رہی، اور ان کے دل پر ایک زنگ آگیا ہے جس کے سبب سے کوئی نیک بات ان کے دل میں اثر نہیں کرتی۔ اس امت میں بھی اگر کسی شخص میں یہ عادت پیدا ہوجائے تو اس کو چاہئے کہ خالص دل سے توبہ و استغفار کرکے اپنے دل کو اس زنگ سے پاک وصاف کرے۔