5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمظہر القرآن

Ayah 5:81

وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:81 in the Quran reader

اور اگر وہ ایمان لاتے اللہ پر اور اس نبی پر اور اس پر جو ان کی طرف اترا تو کبھی مشرکوں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں اکثر فاسق ہیں

جس طرح مشرک لوگوں کا کا دارومدار فقط دنیا کی زندگی پر ہے۔ عقبیٰ کے یہ لوگ بالکل منکر ہیں اسی طرح یہود ہیں کہ انبیا کے قتل اور علاوہ اس کے بڑے بڑے گناہوں کے کرنے سے مشرکوں کی طرح یہ بھی سخت دل ہوکر عقبیٰ کو بالکل بھول گئے ہیں اور فقط دنیا کی زیست پر ہی ان کا دارومدار ہے۔ اسلا میں اس عادت کے لوگوں کی بڑی مذمت آئی ہے۔
Ayah 5:82

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 5:82 in the Quran reader

البتہ تم پاؤگے مسلمانوں کا سب سے بڑھ کر دشمن یہودیوں کو اور مشرکوں کو اور البتہ تم پاؤگے مسلمانوں کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو جو کہتے ہیں :'' ہم نصاریٰ ہیں '' یہ اس لئے کہ بعض ان میں عالم اور درویش ہیں اور یہ سبب ہے کہ وہ غرور نہیں کرتے ہیں

ہجرت حبشہ شان نزول : اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مدینہ منورہ کی ہجرت سے پہ ؛ ے عورتوں بچوں کے علاوہ اسی آدمی کے قریب حبشہ کو ہجرت کر گئے تھے، اور قریش نے نجاشی بادشاہ حبشہ سے ان لوگوں کے مکہ معظمہ واپس کردینے کی خواہش حبشہ جاکر کی تھی، اور نجاشی نے ان لوگوں کا اصل حال دریافت کرنے کی غرض سے ان لوگوں کو اپنے روبرو بلایا تھا اور آنحضرت ﷺ کے ذکر کے ذیل میں نجاشی نے حضرت جعفر ؓ سے کہا تھا کہ تمہارے نبی پر جو کلام اترتا ہے اس میں سے کچھ مجھ کو سناؤ تو حضرت جعفر ؓ نے سورة مریم پڑھی تھی جس کو سن کر نجاشی اور پادری لوگ روئے تھے۔ اس پر یہ آیتیں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائیں۔ اگرچہ یہ آیتیں نصاریٰ کے ایک خاص گروہ کی شان میں نازل ہوئی ہیں لیکن ان آیتوں کے لفظ عام ہیں، اس لئے اب بھی نصاریٰ میں جو لوگ اس خاص گروہ کی عادت کے ہیں وہ ان آیتوں کے حکم میں داخل ہیں۔
Ayahs 5:83–86

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:83 in the Quran reader

اور جب سنتے ہیں وہ جو کچھ نازل ہوا ہے رسول (ﷺ) کی طرف (یعنی قرآن) تو تم ان کی آنکھوں سے دیکھو کہ آنسو جاری ہیں اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ہے (قرآن کو سن کر) کہتے ہیں :'' اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لائے تو ہم کو حق کے گواہوں میں لکھ لے ''

وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 5:84 in the Quran reader

اور (وہ کہتے ہیں) '' ہمیں کیا ہوا ہے کہ ہم ایمان نہ لائیں اللہ پر اور اس ھق پر جو کہ ہمارے پاس آیا اور ہم کو اس بات کی طمع ہے کہ ہمارا پروردگار ہم کو اچھے لوگوں کے ساتھ بہشت میں داخل کرے ''

فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:85 in the Quran reader

پس اللہ نے ان کے اس کہنے کے بدلے ان کو (بہشت کے) ایسے باغ عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، یہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بدل ہے نیکی کرنے والوں کا

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 5:86 in the Quran reader

اور وہ جن لوگوں نے کفر کیا اور جھٹلائیں ہماری آیتیں وہ لوگ دوزخ والے ہیں

نجاشی بادشاہ : یہ ان کی رقت قلب کا بیان ہے کہ جو دل میں اثر کرنے والے قرآن شریف کے مضامین سن کر روپڑتے ہیں۔ چناچہ جب نجاشی بادشاہ کی درخواست پر حضرت جعفر ؓ نے اس کے دربار میں سورة مریم کی آیات پڑھ کر سنائیں تو نجاشی بادشاہ اور اس کے درباری جن میں اس کی قوم کے علماء بھی موجود تھے۔ سب زاروقطار رونے لگے۔ اسی طرھ نجاشی کی قوم کے ستر آدمی جو آنحضرت ﷺ کی حدمت میں حاضر ہوئے تھے، حضور سے سورة یا سین سن کر بہت روئے اور کہا کہ آنحضرت صلی اللہ عالیہ وسلم کے نبی اور برحق ہونے کی شہادت ہم نے دی، اور آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہوئے جو روز قیامت میں تمام امتوں کے گواہ ہوں گے۔ جب یہ لوگ مشرف باسلام ہوکر واپس ہوئے تو یہود نے انہیں ملامت کی، اس کے جواب میں انہوں نے کہا :'' جب حق واضح ہو تو ہم کیوں نہ ایمان لاتے اللہ تعالیٰ ہم کو نیکوں میں داخل کرے گا ''۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا کہ ان لوگوں کی اس نیکی کا اور ان کی طرح جو کوئی نیکی کرے، اس سب کا انجام یہ ہے کہ ایسے لوگ دنیا سے اٹھ جانے کے بعد ہمیشہ جنت میں راحت و آرام کے ساتھ رہیں گے اور جو اس صداقت سے بےبہرہ ہیں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ دوزخ کی آگ کی تیزی دنیا کی آگ کی تیزی سے انہتر حصہ زیادہ ہے۔
Ayahs 5:87–88

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 5:87 in the Quran reader

اے مومنو ! حرام نہ ٹھراؤ پاکیزہ چیزیں کہ جو تمہارے لئے حلال کردی ہیں اللہ نے اور حد سے نہ بڑھو، بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے

وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 5:88 in the Quran reader

اور خدا نے تم کو جو حلال ستھری روزی دی ہے اس کو کھاؤ اور ڈرو خدا سے جس پر تم ایمان لائے ہو

حلال چیزوں کو حرام ٹھرانے کی مناہی (ممانعت) کا ذکر اس آیت کا شان نزول جو بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ کہ بعضے صحابہ کرام نے اچھی چیز کا کھانا، اچھے کپڑے کا پہننا، مباشرت کرنا سب ترک کردیا تھا۔ ایک صحابی نے گوشت کھانے کی قسم کھائی تھی۔ غرض ایسے چند قصے جمع ہوجانے سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مسلمانوں کو ہدایت کی کہ اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو غصہ میں آکر یا غیر کا حق تلف کرکے اپنے اوپر حرام نہیں کرنا چاہئے۔ ہاں کسی چیز کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھ کر سہولت عبادت یا کسی اور غرض سے چند روز کوئی چیز چھڑ دی جائے تو اور بات ہے۔ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شرع میں جو حلال و حرام ٹھرادی ہے ہر ایماندار کو اس حد کی پابندی ضروری ہے۔ جس سے معلوم ہو کہ اپنے طو رپر شرعی حلال کو حرام یا حرام کو حلال ٹھرانا شیطانی بہکاوے کے اثر سے ہوتا ہے اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔
Ayah 5:89

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ١ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ١ؕ وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:89 in the Quran reader

اللہ تم کو تمہاری لغو اور بےمعنی قسموں پر نہیں پکڑتا ہے لیکن مواخذہ کرتا ہے ان قسموں پر جنہیں تم نے مضبوط کیا (اور کوئی قسم توڑنی پڑے) تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے درمیانی درجہ کا کھانا جیسا کہ تم اپنے بیوی بچوں کو کھلایا کرتے ہو یا (کھانے کی جگہ) ان کو کپڑا پہنادینا ہے، یا آزاد کرنا ہے ایک غلام کا پس ان میں جس کو میسر نہ ہو تو تین دن کے روزے رکھے (پے درپے) تمہاری قسموں کا یہ کفارہ ہے جب تم ( سمجھ بوجھ کر) قسم کھا بیٹھو، اور چاہئے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو (قسم کھاکر توڑنی نہ پڑے) اللہ اس طرح اپنی آیتیں تم پر واضح کردیتا ہے تاکہ تم شکر گزار ہو

جھوٹی قسم کے کفارہ کا ذکر شان نزول : یہ ہے کہ صحابہ کرام نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضور ہم لوگوں سے حلال چیزوں سے باز رہنے کی جو قسم کھائی تھی، اس قسم کا اب کیا حکم ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ یہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ تکیہ کلام کے طور پر واللہ، باللہ یا ایسے اور الفاظ آدمی کے منہ سے نکل جاتے ہیں، یا ایک بات کو کوئی سچ گمان کرکے اس پر قسم کھا بیٹھے اور حقیقت میں وہ بات اس طرح سے نہ ہو یہ صورتیں قسم میں داخل نہیں۔ نہ ان کا کچھ کفارہ ہے۔ انہی صورتوں کو لغو کہتے ہیں۔ کفارہ کے قابل وہی قسم ہے جو دلی ارادہ سے ہو۔ اس دلی ارادہ کی قسم پر قائم نہ رہنے کی حالت میں اس کے کفارہ کی بھی چار صورتیں ہیں۔ جن کا ذکر اس آیت میں ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا کپڑا پہنانا یا ایک بردہ آزاد کرنا۔ اگر ان تینوں میں سے کسی بات کا بھی مقدور نہ ہو تو تین روزے برابر رکھے جاویں۔ آگے فرمایا کہ بلاضرورت قسم کھانے میں جلدی نہ کی جاوے۔
Ayahs 5:90–92

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:90 in the Quran reader

اے مسلمانو ! شراب اور جوا اور باطل معبودوں کے نشانات (یعنی بت) اور فال کے تیر (یعنی پانسے) یہ سب ہی گندے شیطانی کام ہیں پس ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ Open ayah 5:91 in the Quran reader

شیطان یہی چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان ڈالے عداوت اور رنجش اور جوئے کے سبب سے اور تمہیں باز رکھے اللہ کی یاد سے اور نماز سے پس کیا اب بھی تم باز آئے

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 5:92 in the Quran reader

اور فرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبرداری کرو رسول ﷺ کی اور ڈرتے رہو پھر اگر تم پھر جاؤ تو جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صرف واضح طور پر حکم پہنچادینا ہے

شراب اور جوئے وغیرہ کی مناہی (ممانعت) کا حکم حضرت عبداللہ بن عباد ؓ کی روایت ہے کہ شراب کے نشہ میں بعضے صحابہ کرام کی آپس میں تکرار ہو کر مارپیٹ کی نوبت آجاتی، جس کے سبب سے ان لوگوں کے آپس کے سلوک میں روز بروز خلل پڑجاتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں شراب کی چار حالتیں ہیں جو اسلام میں رہی ہیں جن کا ذکر گزر چکا ہے۔ شراب پی کر آدمی کے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں رہتے۔ ہر ایک سے لڑنے جھگڑنے لگتا ہے۔ جوا اس سبب سے باعث عداوت ہے کہ جو شخص میں اپنا مال ہارتا ہے وہ بھی بدحواس ہو کر ہر ایک سے لڑنے لگتا ہے۔ شراب میں ایک یہ بھی خرابی ہے کہ اس کا نشہ آدمی کو ذکر الہی سے روک دیتا ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ شیاطین شراب کے نشہ اور جوئے کی دھن میں لوگوں کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈال دیتے ہیں کہ لوگوں کو ان برے کاموں کی برائی نہیں سوجھتی۔ اسی واسطے ان کاموں سے باز رہنے کی ہدایت فرما کر ہر ایماندار کی عقبی کی بہبودی کو اس ہدایت کے موافق عمل کرنے پر منحصر رکھا ہے، اور اس کو اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری ٹھرایا ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ کے رسول کا کام یہی ہے کہ وہ تم لوگوں کو اللہ کا حکم پہنچادیں۔ اب جو کوئی اس کو نہ مانے گا وہ عقبی میں اس نافرمانی کا خمیاہ بھگتے گا۔ مسئلہ : شراب پینا اور بیچنا دونوں حرام ہیں۔ (حدیث شریف میں شراب سے متعلق (10) آدمیوں پر لعنت کی گئی ہے)
Ayah 5:93

لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 5:93 in the Quran reader

ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک کام کیے اس چیز میں کوئی گناہ نہیں ہے جو کچھ (حرمت کے حکم سے پہلے) کھاپی چکے ہیں جب کہ وہ (آئندہ کیلئے) پرہیزگاری کریں اور ایمان لائیں اور اچھے کام کریں پھر پرہیزگاری کریں اور ایمان لائیں پھر پرہیزگاری کریں اور نیک رہیں، اور اللہ نیک لوگوں کو دوست رکھتا ہے

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ چند صحابہ احد کی لڑائی میں شہید ہوچکے تھے، جو شراب پیا کرتے تھے، اس لئے شراب کے حرام ہوجانے کے وقت صحابہ کرام کو ان شہیدوں کے حال پر بڑا افسوس ہوا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اس وقت جتنے کاموں کا اللہ تعالیٰ کا حکم تھا جب انہوں نے وہ کام کئے تو جس چیز کے حرام ہونے وقت وہ موجود ہی نہیں تو اس چیز کے حرام ہونے کے پہلے استعمال سے ان پر کچھ گناہ نہیں۔
Ayahs 5:94–95

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِ١ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:94 in the Quran reader

اے مسلمانو ! بیشک تم کو آزمائے گا تمہارا پروردگار ایسے بعض شکار سے جس تک تمہارے ہاتھ اور نیزے پہنچیں تاکہ اللہ پہچان کرے ایسے شخص کو کہ بن دیکھے اس سے ڈرتا ہے پھر اس کے بعد جو کوئی حد سے بڑھے اس کے لئے دردناک عذاب ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 5:95 in the Quran reader

اے مسلمانو ! شکار نہ مارو جب تم احرام میں ہو، اور جو کوئی تم میں سے قصدا مار ڈالے پس اس کا بدلہ یہ ہے کہ ویسا ہی جانور مویشی میں سے (بدلے میں) دے جس کو تم میں سے دو معتبر آدمی اس کا فیصلہ کریں، اس چار پائے کی قربانی ہو کعبہ کو پہنچتی یا اس کا کفارہ چند مسکینوں کو (اس کی قیمت کے لحاظ سے) کھانا دینا ہے، یا مسکینوں کی گنتی کے برابر روزے رکھے، تاکہ اپنے عمل کی سزا چکھے، اللہ نے معاف کیا جو کچھ ہوگزرا اور جو کوئی دوسری بار کرے بدلہ لیوے گا اس سے خدا اور اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا

احرام کی حالت میں شکار کرنے کا ذکر جس کا حاصل یہ ہے کہ اس عمرہ کے سفر میں خلاف عادت امتحان کے طور پر ان صاحب احرام صحابہ کرام کو بہت سے جنگلی جانور نظر آئے تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان جانوروں کے نظر آنے کے وقت آنکھوں سے بن دیکھے عذاب الہی سے ڈر کر کون شکار کے مناہی (ممانعت) کے حکم کی پابندی کرتا ہے اور کون نہیں کرتا ہے۔ '' کچھ ایک شکار '' اس کا مطلب یہ ہے کہ فقط جنگلی جانوروں کا شکار دریائی جانوروں کا سا نہیں۔ چھوٹے جانور جو ہاتھ سے پکڑے جاسکتے ہیں۔ اس لئے نیزے کے ساتھ ہاتھ کا بھی ذکر فرمایا۔ اگرچہ احرام کی حالت میں ہر ایک طرح کے ہتھیار سے شکار منع ہے، لیکن عرب کے لوگ نیزے سے اکثر شکار کھیلا کرتے تھے، اسی واسطے خاص طور پر نیزے کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے علم اور جانچ سے کوئی چیز کسی وقت باہر نہیں ہے۔ آگے فرمایا کہ اس شکار کی ممانعت کے بعد جو کوئی اس کی پابندی نہیں کرے گا عقبیٰ میں اسے سخت عذاب بھگتنا پڑے گا۔ اول تو احرام کی حالت میں شکار کی مناہی (ممانعت) ہے، اور اگر کوئی شکار کھیل بیٹھے تو اس کی سزا یہ ہے کہ جس قسم کے جنگلی جانوروں کا شکار کیا ہے اسی قسم کے شہری چوپایوں میں سے ایک جانور خرید کر حرم میں اس کی قربانی کرے مثلا ہر ن کا شکار کیا تو بکری ہے۔ شکاری کو اختیار ہے کہ خواہ ان داموں میں جس قدر محتاج پیٹ بھر کر کھانا کھاسکتے ہیں ان کو کھانا کھلادیوے، یا ہر مسکین کے کھانے کے معاوضہ میں ایک روزہ قرار دے کر مسکینوں کی تعداد کے موافق روزے رکھے، اگر یہ بات ممکن نہ ہو تو پھر قیمت کے اندازے سے کام لیا جاوے گا۔ اس میں سلف کا کچھ اختلاف ہے اس کی تفصیل بڑی کتابوں میں ہے۔ آگے فرمایا کہ احرام کی حالت میں شکار کھیلنے والے کی یہ سزا اس لئے قرار دی گئی ہے کہ وہ اپنے کے گئے کا خمیازہ بھگت لے۔ اس حکم سے پہلے جو کچھ ہوچکا وہ اللہ کے نزدیک قابل معافی ہے۔ لیکن مناہی (ممانعت) کے بعد ایسا کرے گا، اور دنیوی سزا کا اس پر کچھ اثر نہ ہوگا اور ڈھیٹ بن کر دنیوی سزا کے بعد بھی ایسا کرے گا اور کرکے توبہ نہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ بدلہ لینے میں ایسا زبردست ہے کہ اس کے بدلہ لینے کو کوئی روک نہیں سکتا۔
Ayahs 5:96–99

اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِ١ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 5:96 in the Quran reader

حلال کی گیا ہے تمہارے واسطے دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے اور مسافروں ج کے فائدہ کے لئے، اور تم پر خشکی کا شکار حرام ہے جب تک تم احرام باندھے ہوئے ہو اور ڈرو اس خدا سے کہ اس کی طرف اٹھائے جاؤگے

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 5:97 in the Quran reader

اللہ نے ادب والے گھر کعبہ کو لوگوں کے لئے ہیام کا باعث کیا اور حرمت والا مہینہ اور حرم کی قربانی اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں (علامت کے لئے پٹے ڈال دیتے ہیں ان سب کو تمہارے مصالح کے قیام کا سبب بنایا) یہ اس لئے کہ تم یقین کرو کہ بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کے اندر کی سب چیزوں کا حال جانتا ہے اور یہ کہ بیشک خدا کو سب چیز کا علم ہے

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ Open ayah 5:98 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:99 in the Quran reader

پیغمبر کے ذمے اس کے سوا کچھ نہیں کہ پیغام پہنچادینا اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو

ان آیتوں میں فرمایا کہ دریائی جانوروں کا شکار حالت احرام میں بھی جائز ہے۔ دریا کے لفظ کے معنوں میں یہاں ندیاں، نالے، تالاب سب میں داخل ہیں، ان سب جگہ کا شکار جائز ہے دریائی جانور وہ ہیں جو دریاؤں میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں ہر قسم کے لوگ جمع ہوتے ہیں اور نفع پاتے ہیں یہاں حرم واحرام کی حرمت کا لحاظ رکھو۔ پھر فرمایا ظاہر پوشیدہ نیک بد لوگوں کے سب عمل اللہ تعالیٰ کو معلوم ہیں، اور نیک بد کی سزا کا حال اللہ کے رسول ﷺ نے لوگوں کو اچھی طرح سمجھادیا ہے۔ اب ہر ایماندار شخص کو یہ خوب سمجھ لینا چاہئے کہ نافرمانی کے جرم میں جس کسی کی پکڑ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی بہت سخت ہے اور جس کسی پر فرمانبرداری کے سبب سے اس کی رحمت ہوگئی تو اس کی رحمت بھی بڑی وسیع ہے۔
Ayah 5:100

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 5:100 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ تم ان لوگوں سے) کہ دو کہ پاک اور ناپاک برابر نہیں ہوسکتا اور اگرچہ تجھ کو ناپاک کی کثرت تعجب میں ڈالتی ہو پس خدا سے ڈرو اے عقلمندو، شاید کہ تم کامیاب ہوجاؤ

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ناجائز طریقہ سے کمائے ہوئے مال میں جو شخص کچھ صدقہ و خیرات کرے گا وہ صدقہ بارگاہ الہی میں بالکل نامقبول ہے۔ آگے فرمایا کہ ہر ایماندار کو ناجائز کمائی سے بچنا اور خدا سے ڈرنا چاہئے کہ ایماندار شخص کی نجات کی صورت یہی ہے۔
Ayahs 5:101–102

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 5:101 in the Quran reader

اے مسلمانو ! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں، اور اگر ان کو اس وقت پوچھوگے کہ قرآن اتارا جارہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی، سوالات گزشتہ اللہ معاف کرچکا ہے، اور اللہ بخشنے والا تحمل والا ہے

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ Open ayah 5:102 in the Quran reader

تم سے پہلے ایک گروہ (یعنی بنی اسرائیل) نے ایسے ہی سوالات کیے تھے پھر ان سے منکر ہوگئے

آنحضرت ﷺ سے فضول سوال کرنے کی ممانعت شان نزول : بعض آنحضرت ﷺ سے بےفائدہ سوال کیا کرتے تھے یہ حضور کو گراں گزرتا تھا۔ ایک روز فرمایا کہ :'' جو جو دریافت کرنا ہو دریافت کرو میں ہر بات کو جواب دوں گا ''۔ ایک شخص نے دریافت کیا :'' میرا انجام کیا ہے '' فرمایا :'' جہنم '' دوسرے نے دریافت کیا کہ : میرا باپ کون ہے، آپ نے اس کے اصلی باپ کا نام بتادیا جس کے نطفہ سے وہ تھا کہ صداقہ ہے، باوجودیکہ اس کی ماں کا شوہر اور تھا جس کا یہ بیٹا کہلاتا تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اسی باتیں نہ پوچھو کہ جو ظاہر کی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں۔ (تفسیر احمدی) اور خود آنحضرت ﷺ نے آئندہ اس طرح کے فضول سوالوں سے لوگوں کو پہلی امت کی ہلاکت کا حال جتلاکر روک دیا جیسا کہ پہلی امتیں اپنے انبیاء سے فضول سوال کرنے کے سبب غارت ہوگئیں۔ مثلا یہود نے کھلم کھلا اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا اور بجلی گرکر ہلاک ہوگئے، اس لئے تم پوچھا گچھی چھوڑدو اور جس کام کو میں کرنے کہوں وہ تا مقدور کرلیا کرو اور جس جے منع کروں اس سے باز رہو۔ جس طرح بلا پوچھ گچھ منع ہے اسی طرح ضرورت کے وقت خاموشی بھی منع ہے۔
Ayahs 5:103–104

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئِبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:103 in the Quran reader

اللہ نے مقرر نہیں کیا بحیرہ (یعنی کان چرا ہوا) کو اور نہ سائبہ (یعنی بجار) کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حامی کو لیکن کافر لوگ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان میں سے اکثر (نرے) بےعقل ہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 5:104 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس کی طرف جو خدا نے نازل فرمایا ہے اور رسول کی طرف تو کہتے ہیں کہ ہم کو تو وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے کیا اگرچہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہیں جانتے ہوں اور نہ راہ پر ہوں

زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھ کہ جو اونٹنی پانچ مرتبہ بچے جنتی اور آخر مرتبہ اس کے نر پیدا ہوتا تو اس کا کان چیر دیتے۔ پھر نہ اس پر سواری کرتے نہ اس کو ذبح کرتے نہ پانی اور چارے پر سے ہنکاتے اس کو بحیرہ کہتے۔ اور سفر پیش ہوتا یا کوئی بیمار ہوتا تو یہ نذر کرتے کہ اگر میں سفر سے بخیریت واپس آؤں تو تندرست ہوجاؤں گا میری اونٹنی سائبہ یعنی سانڈ ہے اور اس سے بھی نفع اٹھانا بحیرہ یعنی سانڈ کی طرح حرام جانتے اور اس کو آزاد چھوڑ دیتے۔ اور بکری جب سات مرتبہ بچے جن چکتی تو اگر ساتواں بچہ نر ہوتا تو اس کو مرد کھاتے، اور اگر مادہ ہوتا تو اس کو بکریوں میں چھوڑ دیتے اور ایسا ہی اگر نر مادہ دونوں ہوتے اور کہتے کہ اپنے بھائی سے مل گئی، اس کو وصیلہ کہتے اور جب نر اونٹ سے دس دس بچے حاصل ہوجاتے تو اس کو چھوڑ دیتے۔ نہ اس پر سواری کرتے نہ اس سے کام لیتے نہ اس کو چارہ پانی پر سے روکتے اس کو حامی کہتے۔ یہ رسمیں زمانہ جاہلیت سے ابتدائے اسلام تک چلی آرہی تھیں اس آیت سے ان کو با طل کیا گیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو حرام نہیں کیا اس کی طرف اس کی نسبت غلط ہے۔ جو اپنے بڑوں کے کہنے سے ان چیزوں کے حرام سمجھتے ہیں اتنا شعور نہیں رکھتے، جو چیز اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے حرام نہیں کی اس کو کوئی حرام نہیں کرسکتا۔ یعنی حکم خدا اور رسول ﷺ کی اتباع کرو اور سمجھ لو یہ چیزیں حرام نہیں، بڑوں کی اتباع جب درست ہوتی کہ وہ علم رکھتے اور سیدھی راہ پر ہوتے۔
Ayah 5:105

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:105 in the Quran reader

اے مسلمانو ! تم اپنی محافظت کرو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا وہ شخص جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تمہیں بتادے گا تم جو کچھ عمل کرتے تھے

نصیحت اور بروقت موت وصیت پر شہادت کا ذکر اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ جو لوگ اپنی ذات سے حلال و حرام کے پابند ہیں اور اپنے بس کے موافق دوسروں کو نصیحت بھی کرتے رہتے ہیں تو ایسے لوگوں کو بد لوگوں کی بدی سے کچھ ضرر نہیں پہنچ سکتا۔ ہاں جو علماء اور نیک لوگ بدکاروں سے میل جول پیداکرکے وعظ و نصیحت بالکل چھوڑدیں گے ان سے اس بات کی پرسش ہوگی کہ انہوں نے بےپروائی کیوں کی
Ayahs 5:106–108

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ Open ayah 5:106 in the Quran reader

اے مسلمانو ! (قاعدہ) گواہی کا ہے جب تم میں کسی کی موت قریب آوے تو وصیت کے وقت تم میں سے دو معتبر شخص کی گواہی تمہارے درمیان ہے یا تمہارے سوا دوسرے غیر دو آدمیوں کی (شہادت) ہو اور اگر تم زمین میں سفر کو جاؤ پھر تمہیں موت کا حادثہ پہنچے، اگر تم کو کچھ شبہ ہو تو ان دونوں (گواہوں) کو روک لو بعد نماز کے (یعنی بعد نماز عصر کے) پس وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم اس (گواہی) کے عوض میں کچھ دام نہیں لیں گے اگرچہ وہ شخص (جس کے نفع کے واسطے ہم گواہی دیتے ہیں) قرابت دار ہی ہو اور نہ ہم اللہ کی گواہی کو چھپاویں گے ایسا کریں تو ہم ضرور گنہگاروں میں ہیں

فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:107 in the Quran reader

پھر اگر پتہ چلے کہ وہ دونوں گواہ گناہ کے مستحق ہوگئے (یعنی گواہی میں کمی بیشی کی ہے) تو ان کی جگہ دو اور کھڑے ہوں ان میں سے کہ اس گناہ یعنی جھوٹی گواہی نے ان کا حق لے کر ان کو نقصان پہنچایا جو میت کے زیادہ قرابت دار ہوں، تو (دونوں) اللہ کی قسم کھائیں (اور کہیں) کہ '' بیشک ہماری گواہی زیادہ ٹھیک ہے ان دونوں کی گواہی سے اور ہم نے کچھ تجاوز نہیں کیا ورنہ ہم اس حالت میں سخت ظالموں میں ہوں گے

ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:108 in the Quran reader

یہ (طریقہ) قرہب زیادہ ہے اس سے کہ گواہی کو اس کی (اصلی) حالت پر ادا کریں ( یعنی ایسی حالت پر جیسی گواہی دینی چاہئے) یا ڈریں اس سبب سے کہ کچھ قسمیں رد کردی جائیں بعد ان کی قسموں کے اور اللہ سے ڈرو اور حکم سنو، اور اللہ بےحکموں کو راہ نہیں دیتا

شان نزول : حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ دو شخص نصرانی اور ایک مسلمان ملک شام کی طرف تجارت کی غرض سے سفر کو گئے اور وہ مسلمان جب بیمار ہوکر قریب المرگ ہوگیا تو اس نے اپنے مال کی ایک فہرست لکھ کر مال کی گٹھڑی میں رکھ دی۔ اور وہ گٹھڑی ان دونوں نصرانیوں کو دے کو وصیت کی کہ تم یہ گٹھڑی میرے وارثوں کو دے دینا۔ اس مال میں ایک چاندی کا کٹورا سونے کے ملمع کا بھی تھا۔ وہ کٹورا ان نصرانیوں نے اس مال سے نکال کر باقی کا مال اس مسلمان کے وارثوں کو دے دیا۔ اس کٹورا کے نکالتے وقت ان نصرانیوں کی نظر اس فہرست پر نہیں پڑی۔ اس مسلمان کے وارثوں نے جب مال کی گٹھڑی اچھی طرح کھولی تو اس فہرست پر ان کی نظر پڑی مگر فہرست کے موافق وہ کٹورا نہیں تھا۔ انہوں نے کٹورے کا دعویٰ آنحضرت ﷺ کے روبرو پیش کیا حضور نے ان نصرانیوں کو قسم دی، انہوں نے قسم کھائی کہ جو مال اس مسلمان نے مرتے وقت ہم کو دیا تھا ہم نے وہ سب مال اس کے وارثوں کے حوالے کردیا۔ پھر وہ کٹورا ایک سنار کے پاس سے نکلا اور اس مسلمان کے وارثوں بےقسم کھائی کہ وہ کٹورا ان کے مورث کا تھا۔ چناچہ اس کٹورا کی قیمت ان نصرانیوں سے مسلمان کے وارثوں کو دلائی گئی۔ اس قصہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مسلمان قریب المرگ حالت سفر میں جب اپنے وارثوں سے دور ہو اور اس کے پاس کچھ مال بھی ہو تو اس کو چاہئے کہ مال کو وارثوں تک پہنچانے کے لئے دو مسلمانوں کو وصی اور وصیت کا گواہ کردیوے۔ اس کے بعد وصی لوگوں کے بیان پر وارثوں کو کچھ اعتراض نہ ہوگا، اور اگر گواہوں کے حق میں کچھ بد ظنی ہوجاوے تو حلف دیا جائے گا۔ پھر بھی اگر وہ اپنی حق تلفی بیان کریں گے تو ان وارثوں سے گواہان وصیت کی خلاف بیانی کے ثبوت میں کچھ شہادت ہوگی تو وہ لی جاوے گی۔ آنحضرت ﷺ نے عصر کے بعد جھوٹی قسم کو خوفناک اور اور اللہ تعالیٰ کی نظر رحمت سے دور ہوجانے کا سبب فرمایا ہے۔ آگے فرمایا یہ وارثوں کی قسم کا حکم اس لئے ہے کہ وصیت کے گواہوں کو یہ خوف رہے کہ وارثوں کی قسم کے آگے ان کی قسم جھوٹی ٹھراکر ان کی رسوائی نہ ہو۔ اور یہ بھی فرمایا کہ عام مسلمانوں کو جھوٹی قسم سے اور شریعت میں جو مناہی (ممانعت) کی باتیں ہیں ان سے بچنا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنا احکام الہی کو فرمانبرداری ک نیت سے سننا چاہئے۔ اس نصیحت کے بعد بھی جو کوئی نافرمانی کرے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے نافرمان لوگوں کو زبردستی راہ راست پر نہیں لانا چاہتا۔
Ayah 5:109

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:109 in the Quran reader

(اس دن کو یاد کرو) جس دن اللہ پیغمبروں کو جمع فرمائے گا پھر فرمائے گا کہ تم کو (اپنی امتوں کی طرف سے) کیا جواب ملا، وہ عرض کو یں گے :'' ہمیں کچھ علم نہیں بیشک تو ہی جاننے والا چھپی باتوں کا ''

حضرت عیسیٰ علیہ السلم کا ذکر اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول منافق کی شہادت نہیں اداکریں گے بلکہ اللہ عالم الغیب پر سونپ دیں گے۔
Ayahs 5:110–111

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 5:110 in the Quran reader

جس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ :'' اے عیسیٰ ابن مریم ! یاد کرو میرا احسان اپنے اوپر اور اپنی والدہ پر جب میں نے روح القدس سے تمہاری مدد کی، تم لوگوں سے باتین کرتے تھے گود میں اور بڑی عمر میں، جس وقت کہ میں نے تم کو کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل سکھائی، اور جب تم میرے حکم سے مٹی سے پرندہ جیسی شکل بناتے تھے پھر تم اس کے اندر سے پھونک مار دیتے تھے پس وہ ہوجاتا تھا پرندہ میرے حکم سے اور تم مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے اچھا کردیتے تھے اور جب تم (زندہ) باہر لاکھڑا کرتے تھے میرے حکم سے مردوں کو اور جب کہ میں نے بنی اسرائیل کو تم سے روکا جس وقت تم ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے تو کہا کافروں نے ان میں سے کہ یہ تو کچھ نہیں مگر کھلا جادو

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 5:111 in the Quran reader

اور جب کہ میں نے دل میں ڈالا حواریوں کے کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ انہوں نے کہا :'' کہ ہم ایمان لئے گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں

ان آیتوں میں یہود و نصاریٰ کے قائل کرنے لئے خاص طور پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کا ذکر فرمایا۔ جبکہ بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا حال دیکھ کر لوگوں نے حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو طرح طرح کے الزام دینے شروع کئے تو حضرت مریم سلام اللہ علیہا نے اس الزام کے جواب دینے کا اشارہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف کیا۔ اس پر وہ الزام دینے والے لوگ تعجب سے کہنے لگے کہ گھڑی دو گھڑی پیدا ہوئے بچہ سے ہم کیا بات چیت کریں گے لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے معجزہ کے طور پر فورا ان لوگوں کو سمجھادیا کہ میں اللہ کا بندہ اور اللہ کا رسول ہوں، اور اس کا رسول ہونے کے سبب سے جس طرح اس نے اپنی قدرت کے سبب سے یہ معجزہ دیا ہے کہ خلاف عادت پیدا ہوتے ہی میں تم سے باتیں کررہا ہوں اسی طرح یہ بھی اس کی قدرت کیا ایک نمونہ ہے اور میرے نبی ہونے کا ایک معجزہ ہے کہ اس نے بغیر باپ کے پیدا کردیا۔ اس قصہ کو یاد دلاکر نصاریٰ کو یوں قائل کرنا منظور ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے منہ سے پہلی بات یہ نکلی کہ میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں۔ ان کی امت کا یہ حال ہے کہ کچھ لوگ ان کو اللہ کہتے ہیں، اور کچھ اللہ کا شریک ٹھراتے ہیں۔ روح القدس حضرت جبریل (علیہ السلام) کا نام ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حفاظت اور ہر طرح کی مدد کے لئے ہر وقت ان کے ساتھ رہتے تھے۔ حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے پاس چھوٹی سی عمر میں جنت کے میووں کے آنے کا اور ان کو اس زمانہ کی عورتوں میں افضل ٹھرانے کا ذکر سورة آل عمران میں گزرچکا ہے۔ اس طرح کے اللہ تعالیٰ کے بہت سے احسان حضرت مریم سلام اللہ علیہا پر ہیں، جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے جس سے مقصود یہ ہے کہ اس پاک بی بی پر یہود جو الزام لگاتے ہیں وہ بلکل غلط ہے۔ انجیل کے ذکر اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کے ذکر سے یہودیوں کو قائل کرنا منظور ہے جس طرح توریت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی، اسی طرح انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر امت کی فرمانبرداری اور نافرمان لوگوں کی جانچ جو قیامت کے دن ہوگی اس جانچ میں آنحضرت ﷺ کی امت کے فرمانبردار لوگوں کی تعداد اور امتوں کے فرمانبردار لوگوں سے بڑھی ہوگی۔
Ayahs 5:112–115

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

جب کہ حواریوں نے کہا :'' اے عیسیٰ مریم کے بیٹے ! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب کہ اتارے ہم پر آسمان سے (کھانے کا) بھرا خوان عیسیٰ نے کہا : '' اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

وہ بولے : '' ہم چاہتے ہیں کہ اس خوان میں سے کھاویں اور ہمارے دل آرام پکڑیں اور ہم آنکھوں سے دیکھ لیں کہ تم نے ہم سے سچ بیان کیا اور ہم اس کے اترنے پر گواہ ہوجاویں '' (اپنے بعد والوں کے لئے)

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 5:114 in the Quran reader

عیسیٰ بن مریم نے عرض کی :'' اے پروردگار ہمارے ہم پو آسمان سے (کھانے کا) ایک خوان نازل کر کہ وہ ہمارے لئے عید ہو اور اگلے پچھلوں کے لئے اور تیری طرف سے نشانی اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے ''

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 5:115 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا میں اس کو اتارنے والا ہوں تم ہر پھر اس کے بعد بھی تم میں سے کوئی کفر کرے گا تو بیشک میں اسے وہ عذاب دوں گا کہ سارے جہان میں سے کسی پر نہ کروں گا

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ خواہش کی کہ وہ کھانے سے بھرا ہوا ایک خوان آسمان سے اترنے کی دعا اللہ تعالیٰ سے کریں۔ چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اللہ تعالیٰ اس شرط پر خوان کے اتارنے کا وعدہ فرمایا کہ خوان کے اترنے کے بعد اس دن کو عید منائیں، جس کا مطلب عیدمیلاد سے ہے اور اس کی تعظیم کریں خوشیاں منائیں، عبادت کریں، شکر بجالائیں۔ اگر ایسا نہ کیا تو ان لوگوں پر سخر عذاب آجاوے گا۔ چناچہ آسمان سے خوان نازل ہوا اس کے بعد جنہوں نے ان میں سے کفر کیا ان کی صورتیں مسخ کرکے سور بنا دئے گئے اور تین روز میں سب ہلاک ہوگئے۔
Ayahs 5:116–120

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:116 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو کہ) جب اللہ فرمائے گا :'' اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تم نے کہ دیا تھا لوگوں سے کہ مجھے اور میری ماں کو دو خدا بنالو سوائے خدا کے '' (عیسیٰ ) عرض کریں گے کہ (اے پروردگار ! ) پاکی ہے تجھے، مجھے لائق نہیں ہے کہ میں وہ بات کہوں جو مجھے نہیں پہنچی اور اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو ضرور تجھے معلوم ہوگا تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے، بیشک تو ہی سب غیبوں کا جاننے والا ہے

مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 5:117 in the Quran reader

میں نے تو ان کو نہ کہا مگر وہی جس کا تو نے کجھ کو حکم دیا تھا کہ اللہ کو پوجو جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے اور میں ان پر نگہبان تھا جب تک میں ان میں رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیاتو تو ہی نگاہ رکھتا تھا ان پر اور تو ہر چیز پر نگہبان ہے

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ١ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 5:118 in the Quran reader

اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے، تو بیشک تو ہی زبردست حکمت والا ہے

قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 5:119 in the Quran reader

اللہ فرمادے گا یہ وہ دن ہے کہ نفع دے گی اس میں سچوں کو ان کی سچائی، ان کے لئے ایسے باغ ہیں کہ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔ یہی (ان کی) بڑی کامیابی ہے

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:120 in the Quran reader

اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین میں اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے سب کی بادشاہت اور وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے

قیامت کی عدالت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شہادت یہاں سے آخر تک نصاریٰ کے الزام دینے اور قائل کرنے کو یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ جب تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں رہے نصاری کو توحید سکھاتے رہے اور کگرانی کرتے رہے کہ سوا توحید کے اور کوئی بدعت اور نئی بات ان کی امت میں پیدا نہ ہو۔ ان کے آسمان پر چلے جانے کے بعد شرک وغیرہ کی باتیں جو نصاریٰ نے اپنے دین کے اندر پھیلائیں اور ان باتوں کو اللہ کا حکم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم خیال کرتے ہیں اور باوجود یکہ اللہ نے نبی آخر الزماں ﷺ کو دنیا میں اسی قسم کی خرابیاں رفع کرنے کو بھیجا اور نبی آخر الزماں ﷺ نے نصاریٰ کے علماء اور بڑے بڑے پادریوں سے بحث کرکے ان کو قائل کیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی وصیت بھی تھی کہ نبی آخر الزماں ﷺ کی پوری اطاعت کرنا۔ لیکن نصاریٰ نے ان کفر کی باتوں کو نہ چھوڑا اور نہ نبی آخر الزماں ﷺ کی اطاعت قبول کی۔ اس لئے نصاریٰ کی اس غلطی کو تمام مخلوق پر ظاہر کرنے کی غرض سے ایک بڑے مجمع میں قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھے گا کہ اے عیسیٰ (علیہ السلام) ! کیا تم نے اپنی امت کے لوگوں کو اس تثلیث کی تعلیم دی تھی ؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) صاف جواب دیں گے کہ میں نے تو ان کو توحید کی تعلیم دی تھی اور جب تک میں دنیا میں رہا ان کو توحید ہی کی تاکید کرتا رہا۔ میرے پیچھے انہوں نے یہ تثلیث ایجاد کرلی ہے اور بلا شک ان کا یہ فعل لائق عذاب ہے۔ اب یا اللہ تو مالک ہے کہ ان پر عذاب کرے یا اپنی رحمت سے ان کی مغفرت کردے تو اللہ تعالیٰ ان کے سچے جواب کو پسند فرما کر یہ فرمائے گا کہ آج قیامت کا دن وہ دن ہے کہ دنیا میں جو لوگ احکام الہی کے پابند رہے، ان کی راست بازی کی جزا آج کے روز جنت اور اللہ کی رضامندی ہے۔ جس کے سبب سے وہ لوگ ہمیشہ جنت میں خوشحالی سے رہیں گے۔ پھر فرمایا :'' آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ کی ہے اور کوئی چیز آسمان و زمین میں اس کی قدرت سے باہر نہیں ''۔