6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمظہر القرآن

Ayah 6:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

سب تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرا اور اجالا پیدا کیا، پھر بھی کافر لوگ (دوسروں کو) اپنے پروردگار کے برابر ٹھراتے ہیں

توحید کا ذکر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ کل سورة ایک ہی شب میں بمقام مکہ مکرمہ نازل ہوئی اور اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے آئے جس سے آسمانوں کے کنارے بھر گئے۔ اس آیت میں بندوں کو حمد کی تعلیم فرمائی گئی۔ اور پیدائش آسمان و زمین کا ذکر اس لئے ہے کہ آسمان کی گدش سے رات کا اندھیرا، دن کا اجالا پیدا ہوتا ہے۔ جس سے انسام کی راحت، صحت طرح طرح کے کاروبار سب کچھ قائم ہیں۔ اہل مکہ نے شرک و جہالت کا اندھیرا بھی پھیلا رکھا تھا۔ اس کفر و شرک و کو مٹانے کے لئے نور ایمان پیدا کیا۔ جس کی قسمت میں ہے وہ اس کفروشرک کے اندھیرے سے نکل کر ایمان کی روشنی پاسکتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ جب سارا کارخانہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم و عبادت میں ہو وہ دوسروں کو شریک کرتے ہیں یہ ان لوگوں کی بڑی نادانی ہے۔
Ayahs 6:2–3

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

اللہ وہ ہے کہ جس نے تم کو پیدا کیا مٹی سے پھر موت کا وقت مقرر کیا اور اس کے نزدیک ایک مدت معین ہے پھر تم لوگ شک کرتے ہو

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور وہی اللہ ہے آسمانوں میں اور زمین میں تمہاری چھپی اور کھلی باتیں جانتا ہے اور اس کو بھی جانتا ہے جو عمل کرتے ہو

شان نزول : آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو ایک مٹھی خاک سے جو تمام زمین سے لی گئی ہے بنایا ہے، اسی واسطے ان کی نسل میں طرح طرح کے رنگ اور مزاج کے لوگ ہیں۔ کافر اور دہریئے لوگ مرنے کے بعد پھر پیدا ہونے کی خبر قرآن شریف میں سن کر بڑے تعجب سے کہتے تھے کہ ہڈیوں کی متی ہوجانے کے بعد پھر دوبارہ پیدائش کیونکر ہوگی۔ ان کے قائل کرنے کو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کو جتلادیا کہ آخر وہ ہڈیاں گل سڑکر ایسی مٹی تو ہوں گی، جس طرح کہ مٹی آگے تھی۔ جس مٹی سے ایک پتلا ایسا بنایا گیا جس میں کروڑہا پتلوں کے بن جانے کی صلاحیت رکھ دی گئی، جس صلاحیت کے اثر سے آج تک اس پتلے کی نسل چلی آتی ہے جس کے سبب سے دادا سے لے کر پوتا پڑپوتا سب پیدا ہوجاتے ہیں، اور ہر پوتے کو دیکھو کہ وہ دادا بن جاتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جو کچھ ہوچکا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے، پس اس کے بعد دوبارہ جو کچھ ہونا ہے وہ تو نہایت سہل ہے۔ اگے فرمایا کہ دنیا کے ختم ہوجانے اور قیامت کے آنے کا وقت سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کو معلوم نہیں۔ ہاں ہر ایک شخص کی اجل کا وقت ملک الموت کو بتلادیا جاتا ہے۔ عقلمند وہی شخص ہے جو قیامت کے دن کے فیصلہ اخیر کے لئے کچھ اچھی روداد جمع کرلیوے۔
Ayahs 6:4–6

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور کافروں کے پاس کوئی بھی نشانی ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے نہیں آتی مگر وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

پس بیشک انہوں نے حق کو جھٹلایا جبکہ ان کے پاس آیا سو جلد ہی ان کو مل جاوے گی خبر اس چیز (یعنی عذاب) کی کہ جس کے ساتھ یہ لوف ہنسی کیا کرتے تھے

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کس قدر امتوں کو ہلاک کر ڈالا ہے، ان کو ہم نے زمین میں وہ جماؤ دیا تھا جو تم کو نہیں دیا اور ہم نے بھیجا آسمان سے ان پر موسلا دھار مینہ اور ان کے نیچے نہریں جاری کیں تو انہیں ہم نے ہلاک کیا ان کے گناہوں کے سبب سے اور ان کے بعد ہم نے دوسری امت کو پیدا کی

ان آیتوں میں اہل مکہ مکرمہ کی اس نادانی اور کم عقلی کا ذکر ہے جس پر وہ لوگ اڑے ہوئے تھے۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ قیامت کے دن فیصلہ اخیر کے لئے اچھی روداد جمع کرنا تو درکنار اپنی ازلی کم بختی کے سبب سے یہ لوگ تو اس پر اڑے ہوئے ہیں کہ اس فیصلہ اخیر کی یاد دہانی کے باب میں جو آیات قرآنی نازل ہوئی ہیں، ان کوہ لوگ جھٹلاکر ہنسی ٹھٹھے میں اڑاتے ہیں لیکن اس میں کسی کا کچھ نہیں بگڑتا وقت مقررہ پر یہی لوگ اپنے کئے کا برا نتیجہ دیکھ لیویں گے۔ شام، یمن کے سفر میں جس طرح پچھلی قوموں کی اجڑی ہوئی بستیاں اب کو نظر آتی ہیں وہی حال ان کا ہوگا۔ بدر کی لڑائی میں آنحضرت ﷺ نے قریش کے ان سرکش لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہوکر فرمایا کہ اے لوگو ! تم نے اللہ کا وعدہ سچا پایا۔
Ayahs 6:7–11

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

(اے محبوب ﷺ) اگر ہم تم پر اتارتے (قرآن آسمان سے) لکھا ہوا کاغذوں میں، پس یہ لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھوتے تب بھی کافر لوگ یہی کہتے کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر جادو کھلا ہوا

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

اور کافروں نے کہا '' کیوں پیغمبر پر کوئی فرشتہ نہیں اتارا گیا ''؟ اور اگر ہم فرشتہ اتارتے تو کام تمام ہوگیا ہوتا پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

اور اگر ہم نبی کو فرشتہ کرتے جب بھی اسے مرد ہی بناتے (یعنی مرد ہی کی شکل) اور ان پر وہی شبہ رکھتے جیسا ک وہ اب شبہ میں پڑے ہیں

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور ضرور (اے محبوب ﷺ) تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ہنسی کی گئی، پس ان میں سے ہنسی کرنے والوں پر وہ بات الٹ پڑی کہ جس سے وہ ہنسی کرتے تھے

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

تم (ان لوگوں سے) فرمادو :'' زمین میں سیر کرو پھر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ''

مشرکین مکہ کی اللہ تعالیٰ سے گستاخی شان نزول : مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے ایک روز کہا کہ ہم اس صورت میں ایمان لاسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے لکھا ہوا ایک کاغذ ایک مضمون کا ہمارے پاس آوے کہ بلاشک آپ رسول برحق ہیں اور چار فرشتے اس کاغذ کے ساتھ آکر اس کاغذ کی تصدیق کریں کہ یہ اللہ کی طرف سے نوشتہ ہے، اور اس کا مضمون برحق ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جسم نوری ہونے کے سبب سے اصل فرشتوں کو تو کوئی انسان نہیں دیکھ سکتا۔ حضرت داود اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جو فرشتے آئے آخر وہ انسان کی صورت میں آئے۔ اس لئے اگر ان کے کہنے کے موافق ان کی آنکھوں کے سامنے کوئی فرشتہ بھی بھیجا جاوے تو ہو ضرور بصورت بشر ہوگا۔ پھر جس طرح اب نبی برحق کی نبوت پر انسان ہونے کے سبب سے یہ لوگ طرح طرح کے اعتراض اور مسخرہ پن کرتے ہیں، وہی حال باقی رہے گا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پھر یہ لوگ ہلاک ہوجاویں گے۔ اب آخر میں حضور ﷺ کی تسکین فرمائی کہ اگر یہ لوگ ایمان نہ لاویں گے اور ایسی باتیں کریں گے تو ان کا وہی حشر ہوگا جو پہلے نافرمانوں کا ہوا ہے۔
Ayahs 6:12–18

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

تم (ان لوگوں سے) فرماؤ '' کس کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے '' تم فرماؤ '' اللہ کا ہے اس نے اپنے ذمہ لازم کرلیا ہے کہ رحمت فرمائے، بیشک وہ ضرور تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا اس میں کطھ شک نہیں ہے، وہ جنہوں نے اپنی جان نقصان میں ڈالی پس وہ لوگ ایمان نہیں لاتے ہیں

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور اسی کا ہے جو کچھ رات اور دم میں بستا ہے اور وہی سننے وال جاننے والا ہے

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

تم (ان لوگوں سے) فرماؤ :'' کیا اللہ کے سوا کسی اور کو دوست بناؤں کہ وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، اور وہ سب کو کھلاا ہے اور کھانے سے پاک ہے (یعنی خلق سب اس کی محتاج ہے اور وہ سب سے بےنیاز ہے) '' تم فرماؤ :'' نجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے مسلمان ہوں (یعنی اس امت سے) '' اور فرمایا گیا کہ ہرگز تم شرک والوں میں سے نہ ہونا

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

تم فرماؤ :'' اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے ''

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

اس دن جس کے سر سے عذاب ٹل گیا تو بیشک اللہ نے اس پر رحم کیا اور بڑی سے بڑی کامیابی یہی ہے

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اور (اے انسان) اگر پہنچائے خدا تجھ کو کوئی سختی تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر تجھے بھلائی پہنچائے پس وہ سب چیز پر قدرت رکھنے والا ہے

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

اور وہی اپنے بندوں پر گا لب ہے اور وہی حکمت والا خبردار ہے

ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان لوگوں سے ذرا دریافت کرو کہ آخر ان کے نزدیک آسمان و زمین میں کس کی بادشاہت ہے۔ مکہ کے قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو اچھی طرح تجربہ ہوچکا ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے آسمان و زمین میں کسی ار کی بادشاہت نہیں ہے ؟ اے رسول اللہ کے ! ﷺ ان لوگوں کے قائل کرنے کے طور پر ہی ان سے کہ دو کہ آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ تعالیٰ کی ہے جس میں تم لوگوں کے بتوں کی کچھ شرکت نہیں۔ وہ بت ضرورت کے وقت تمہارے کام نہیں آتے تو پھر اللہ کی بادشاہت میں اوروں کو کیوں شریک کرتے ہو، اور رہی بات کہ ان لوگوں پر ناگہانی آفت جلدی سے کیوں نہیں آتی تو اس کا سبب یہی ہے کہ اللہ کی رحمت اس کے غصہ پر غالب ہے۔ اس واسطے وہ فورا کسی کو نہیں پکڑتا لیکن جس طرح اس کی شان رحمت کی ہے اسی طرح اس کی میں انصاف بھی ہے۔ جس کے سبب سے اس نے یہ انتظام فرمادیا ہے کہ قیامت تک سب جاندار بےجان ہوکر زمین کے اوپر سے زمین کے اندر جمع ہوجائیں گے اور پھر وقت مقررہ پر ان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور نیک و بد کی جزا و سزا ہوگی۔
Ayahs 6:19–21

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

(اے محبوب ﷺ تم ان سے) فرماؤ :'' کس چیز کی سب سے بڑی گواہی ہے ''؟ تم فرماؤ :'' (اللہ کی گواہی ہے) اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے، اور میری طرف اس قرآن کی وحی ہوئی تاکہ میں تم کو اس سے ڈراؤں اور ڈراؤں ان کو بھی جن جن کو یہ قرآن پہنچے، کیا تم اس بات کی گواہی دے سکتے ہو ؟ کہ اللہ کے ساتھ اور معبود ہیں ''۔ تم فرماؤ کہ میں یہ گواہی نہیں دیتا تم فرماؤ کہ وہ تو بس ایک ہی معبود ہے اور البتہ میں بیزار ہوں اس چیز سے جس کو تم شریک مقرر کرتے ہو

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ تو اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، جن لوگوں نے (اپنے ہاتھوں) اپنے کو تباہ کرلیا ہے وہ کبھی ایمان نہیں لانے والے

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے کہ جس نے باندھا اللہ پر جھوٹ یا اس کی ایتوں کو جھٹلایا البتہ جو لوگ ظالم ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پائیں گے

مشرکین کا اعتراض نبوت پر : شان نزول : حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ چند مشرکین جمع ہوکر آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور کہہنے لگے کہ کون سے گواہی پر ہم آپ کو اللہ کا رسول جانیں، ہم نے یہود اور نصاریٰ سے پوچھا تو وہ کہتے کہ ان کی کتابوں میں بھی آپ کی نبوت کی کوئی تصدیق نہیں ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ان منکرین نبوت سے پوچھا جاوے کہ کون سے گواہی تم کو تصدیق نبوت کی درکار ہے ۔ اگر وہ کچھ جواب دیویں تو خیر ورنہ اللہ سے بڑھ کر کوئی گواہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی نبوت کا گواہ ہے اور اللہ کی گواہی کی نشانی یہ ہے کہ اس نے اپنے نبی پر اپنا کلام اتارا ہے اور اس بات کا ثبوت کہ یہ کلام اللہ کا ہے۔ یہ ہے کہ باوجود دعوے فصاحت و بلاغت کے تم لوگوں سے ایسا کلام ہرگز نہیں ن سکتا۔ اور یہ کلام اللہ نے اپنے نبی پر اس واسطے اتارا ہے کہ اس زمانہ کے حاضرین ار قیامت تک جو لوگ پیدا ہوں یہ کلام ان کو پہنچ جاوے اور وہ اس سے نصیحت پکڑیں۔ آگے فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان مشرکوں سے پوچھو کہ تم لوگ اللہ کے رسول ﷺ کی نبوت پر تو اللہ کی گواہی چاہتے ہو لیکن تم نے جو بتوں کو اللہ کا شریک ٹھرا رکھا ہے تمہارے پاس اس کی کیا گواہی ہے وہ پیش کرو اس پر یہ لوگ گواہی پیش کرنے سے عاجز ہوجاویں گے۔ تو تم ان لوگوں سے کہ دو کہ میں تمہاری ان شرک کی باتوں کے غلط ہونے کی گواہی دیتا ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ ملت ابراہیمی کے موافق اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور تم لوگ ملت ابراہیمی کے برخلاف ان شرک کی باتوں پر اڑے ہوئے ہو تو میں تمہاری ان شرک کی باتوں سے بیزار ہوں۔ آدمی کو گواہی میں بھل چوک ممکن ہے اللہ تعالیٰ کی گواہی میں ان باتوں میں سے کسی بات کا شبہ نہیں ہوسکتا ہے۔ اس لئے اللہ کی گواہی بڑی گواہی ہے۔ پھر فرمایا اہل کتاب کی کتابوں میں تو نبی آخر الزماں ﷺ کی ایسی نشانیاں ہیں جن کے سبب سے وہ لوگ نبی آخر الزماں ﷺ ایسا پہچانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو۔ لیکن علم الہی کے مطابق ان لوگوں کی قسمت میں عقبی کاٹوٹا (خسارہ) لکھا ہوا ہے اس واسطے ان لوگوں نے اپنی کتابوں کو بدل ڈالا اور خود بھی نبی آخر الزماں ﷺ کے منکر اور انجان لوگوں کو بھی دھوکا دیا۔ آخر کو فرمایا مشرکوں کا یہ شرک اور اہل کتاب کا یہ نبی کا انکار اللہ پر ایک جھوٹ باندھنا ہے۔ جو لوگ یہ کام کررہے ہیں وہ اپنی جان پر ظلم کررہے ہیں جس کے سبب سے وہ دین و دنیا میں کبھی فلاح کو نہ پہنچیں گے۔
Ayahs 6:22–24

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

اور جس دن ہم ان سب کو ایک جگہ جمع کریں گے پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے : '' (بتلاؤ) تمہارے (ٹھرائے ہوئے) شریک کہاں ہیں جن کا تم دعویٰ کرتے تھے ''

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

پھر ان کا کچھ عذر باقی نہ رہے گا مگر یہ کہیں گے :'' ہمیں اپنے پروردگار اللہ کی قسم ہم مشرک نہ تھے ''

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

دیکھو انہوں نے اپنے اوپر خود کیسا جھوٹ باندھا اور ان کی سب باتیں جو بنایا کرتے تھے کھوئی گئیں خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں اور یہ لوگ اپنی ہی جانوں کو ہلاک کرتے ہیں اور ان کو کچھ خبر نہیں

مشرکین کو دوبارہ دنیا میں آنے کی آرزو حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ سن خلائق کو اپنے سامنے سوال و جواب اور حساب و کتاب کے لئے کھڑا کرے گا تو مشرکوں سے پوچھے گا کہ وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کو تم نے اپنے گمان میں معبود ٹھرا رکھا تھا ان کو بلاؤ تاکہ جس طرح موحدوں کی توحید اور نماز روزہ نے ان کو چھٹکارا کرایا ہے تمہارے معبود بھی تمہارے چھٹکارا کی کوئی صورت نکالیں۔ اس سوال کے وقت جب مشرکین دیکھیں گے کہ اہل توحید کا چھٹکارا معمولی حساب و کتاب کے بعد جھٹ پٹ ہوتا چلا جاتا ہے تو یہ لوگ جھوٹ بولیں گے کہ ہم بھی دنیا میں ان اہل توحید میں سے تھے، جن کا چھٹکارا ہورہا ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر مہر لگادے گا اور ان کے ہاتھ پیروں کو بولنے کا حکم دے گا ان کے ہاتھ پیر سارا اصلی حال ظاہر کردیں گے۔
Ayah 6:25

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور ان میں سے ایسے بھی ہیں کہ جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں تاکہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی (یعنی ڈاٹ) ہے، اور اگر ساری نشانیاں بھی دیکھیں تو ان پر ایمان نہ لاویں گے یہ ان تکہ جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو تم سے جھگڑتے ہیں، یہ کافر کہتے ہیں :'' یہ تو نہیں مگر اگلوں کے قصے ہیں ''

حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اپنے علم ازلی کے موافق اللہ تعالیٰ کو جس کی ہدایت منظور ہوتی ہے وہ خود اس کا دل حق بات کے ماننے کی طرف مائل کردیتا ہے اور علم ازلی الہی میں جو شخص گمراہ ٹھر چکا اس کے دل پر حق بات کی طرف سے پردہ پڑجاتا ہے۔ چناچہ ان لوگوں میں سے ابوجہل تھا جس کے دل پر پردہ پڑجانے کے سبب سے اس کے منہ سے یہ بات نکلی تھی کہ '' ایسی حق باتوں سے موت بہتر ہے '' اور وہ حالت کفر میں بدر کی لڑائی میں مارا گیا۔
Ayah 6:26

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

ر وہ اس سے منع کرتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں اور یہ لوگ اپنی ہی جانوں کو ہلاک کرتے ہیں اور ان کو کچھ خبر نہیں

میلاد النبی ﷺ پر خوشی کا پھل - عذاب میں کمی یہ آیت ابو لہب کے حق میں نازل ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عباس ؓ نے ابولہب کو خواب میں دیکھا کہ بری حالت میں ہے۔ جب حضرت عباس ؓ نے ابولہب سے حال پوچھا تو اس نے کہا کہ جب سے مرا ہوں ہمیشہ بری حالت میں رہتا ہوں لیکن پیر کے دن محمد ﷺ کے پیدا ہونے کی خبر سن کو میں نے اس خوشی میں اپنی لونڈی ثوبیہ کو آزاد کردیا تھا اس لئے اس روز مجھ کو ذرا اس تکلیف سے راحت ہوجاتی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عقلمند وہ شخص ہے جو موت سے پہلے عقبیٰ کا کچھ سامان کرلیوے۔
Ayahs 6:27–30

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

اور ( تعجب کروگے) اگر تم (ان لوگوں کو) اس وقت دیکھو جب یہ آگ پر کھڑے کئے جائیں گے تو کہیں گے کاش ! کسی طرح ہم واپس بھیجے جائیں اور نہ جھٹلائیں ہم آیتیں اپنے پروردگار کی اور ہم مسلمانوں میں سے ہوجائیں (یہ نہ ہوگا)

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

بلکہ ان پر ظاہر ہوگیا جس کو وہ پہلے چھپاتے تھے (یعنی ان کا کفر) اور اگر یہ واپس بھیجے جاویں تو پھر یہی کریں جس سے منع کئے گئے تھے اور بیشک یہ لوگ جھوٹے ہیں

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا کہ ہماری تو صرف یہی زندگانی ہے اور ہم مرنے کے بعد اٹھائے نہ جائیں گے

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور اگر تم (ان لوگوں کو) اس وقت دیکھو جب اپنے پروردگا کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے اللہ تعالیٰ فرمائے گا :'' کیا یہ درست نہیں ہے ''؟ کہیں گے :'' ہاں درست ہے ہمیں اپنے پروردگار کی قسم !'' خدا فرماوے گا پس اب عذاب چکھو بسبب اس کے جو تم (دنیا میں) کفر کرتے تھے

ان آیتوں میں بھی انہیں لوگوں کا قیامت کے دن کا ایک حال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جتلایا ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ اب تو دنیا میں یہ لوگ سرکشی سے جنت دوزخ اور عقبیٰ کی باتوں کو جھٹلا رہے ہیں، لیکن دوزخ کے کنارے پہنچ کر حکم ہوگا کہ ٹھرو یہ ٹھرنے کا حکم سن کر کافروں کو توقع ہوگی کہ شاید ان کو دنیا میں پھر بھیجا جاوے۔ اور اگر اب کے ہمیں دنیا میں پھر بھیجا گیا تو ہم اس مرتبہ یقینا کفر نہ کریں گے بلکہ ایمان لاویں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس واسطے ان کو نہ ٹھرایا بلکہ اس تدبیر سے ان کے من سے اقرار کرا لیا کہ بیشک ہم نے کفر کیا تھا۔ حالانکہ پہلے منکر ہوئے تھے اور بول اٹھے تھے کہ ہم تو شرک نہیں کرتے تھے اور ان کو دنیا میں پھر بھیجنا تو محض فضول اور عبث ہے۔ کیونکہ جب پہلی زندگی میں اپنی ہٹ دھرمی کے باعث پیغمبروں کے معجزے دیکھ دیکھ کر صاف جھٹلاتے رہے اور اپنے روز ازل کے قول قرار کا بھی مطلق پاس نہ کیا تو دوسری مرتبہ ایسے ہٹ دھرم سرکش ملعنوں سے ایمان لانے کی کیا امید ہوسکتی ہے۔ اب یہی سزا ہے کہ جاؤ اسی عذاب کا مزہ چکھو۔
Ayahs 6:31–32

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

بیشک ہار میں رہے وہ جنہوں نے اللہ سے ملنا جھوٹ جانا، یہاں تک کہ جب ان پر قیامت اچانک آئے گی تو اس وقت کہیں گے :'' ہائے افسوس ہمارا اس پر کہ ہم نے قیامت کے ماننے میں تقصیر کی '' اور وہ لوگ اپنے گناہوں کا بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوں گے، سو دیکھو کیا ہی بری چیز ہے جو کچھ اٹھاتے ہیں

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

اور دنیا کی زندگی نہیں مگر کھیل اور کود البتہ گھر آرت کا بہتر ہے پرہیزگاروں کے واسطے پھر کیا تم نہیں سمجھتے ؟

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے جزا و سزا کے لئے اللہ روبرو کھڑے ہونے کو جھٹلایا جس کے سبب سے عقبیٰ کی بہبودی کے کچھ کام ان سے نہ ہوسکے۔ ایسے لوگ بڑے ٹوٹے (خسارے) میں ہیں، ابھی تو اس ٹوٹے کا حال انہیں نہیں معلوم ہوتا لیکن جب ناگہانی طور پر قیامت کی گھڑی ان لوگوں کے سر پر آن کھڑی ہوگی اور عقبیٰ کے احوال ان کی آنکھوں کے سامنے آجاویں گے کہ اچھے کام کرنے والے لوگ طرح طرح کے عیش و آرام میں ہوں گے، اور برے لوگ طرح طرح کے عذاب میں پھنس جاویں گے۔ اس وقت اپنے قصور پر نادم ہوکر حسرت و افسوس کریں گے لیکن بےوقت کی ندامت ان کے کچھ کام نہ آئے گی۔ جب بد لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو ان کے بد عمل ایک بد صورت آدمی کی شکل بن جاوے گا اور وہ بد شکل آدمی ان لوگوں کی چڈی پر چڑھ کر ان کو میدان محشر تک گھیر کرلے جاوے گا دنیا کی زندگی اور عیش عقبیٰ کی زندگی اور عیش کے آگے بالکل بےحقیقت ہے۔
Ayahs 6:33–34

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

بیشک ہم خوب جانتے ہیں کہ تمہیں رنج ہوتا ہے جو کچھ بات وہ کہتے ہیں تو وہ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور تم سے پہلئ بھی رسول جھٹلائے گئے، پس صبر کیا انہوں نے اپنے جھٹلائے جانے پر اور ایذائیں پانے پر، یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آئی اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور بیشک تمہارے پاس رسولوں کی بعض خبریں آہی چکی ہیں

آنحضرت ﷺ کی امانتداری پر ابو جہل کا یقین شان نزول : ابوجہل نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ معاملات دنیا میں ہم تم کو سچا اور امانتدار جانتے ہیں، لیکن جس کلام کو تم اپنے اوپر خدا کی طرف سے اتنا بتلاتے ہو اس کی تصدیق ہم نہیں کرسکتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور تسکین دی کہ تمہاری ذات خاص سے ان مشرکوں کو کچھ بحث نہیں ہے بلکہ وہ ذات سے تم کو اچھا سمجھتے ہیں۔ وہ تو اس سبب سے تم کو جھٹلاتے ہیں کہ تم ان کو خدا کے احکام سنا کر ان کے قدیم رواج بت پرستی ان سے چھڑانا چاہتے ہو۔ سو یہ جھٹلانا کچھ رنج و غم کھانے کے لائق نہیں ہے۔ پچھلی امتیں بھی اسی طرح رسولوں کو جھٹلاتی اور طرح طرح کی ایذائیں دیتی رہی ہیں، جس پر انہوں نے صبر کیا۔ اور اس صبر کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے موافق اپنے رسولوں کی مدد کی جس سے سرکش قومیں غارت ہوگئیں اور آخر غلبہ اللہ کے رسولوں کو ہی ہوا۔ تم بھی ذرا صبر کرو یہی انجام ہونے والا ہے، اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ہجرت کے بعد وہی ظہور ہوا کہ ان آیتوں کے نازل ہونے کے وقت مکہ کا کیا حال تھا اور کیا ہے۔
Ayahs 6:35–36

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور (اے محبوب ﷺ ! ) اگر تم کو ان (کافروں) کا ایمان سے منہ پھیرنا شاق گزرا ہے تو اگر تم سے ہوسکے تو زمین میں کوئی سرنگ تلاش کرلویا آسمان کے لئے سیڑھی، پس ان کے سامنے کوئی معجزہ لاؤ (تو پھر بھی وہ منکر ہوں گے) اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا پس (سے سننے والے) تو ہرگز نادان نہ بن

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

(حق کو) وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور ان مردوں (یعنی کافروں) کو اللہ (روز قیامت) اٹھائے گا پھر اس کی طرف ہانکے جائیں گے

شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دل میں اس بات کی بڑی آرزو تھی کہ آپ کی ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں تشریف رکھنے کے زمانہ میں ہی سب قریش ایمان لے آویں۔ اس آرزو کے سبب سے جو معجزے قریش چاہتے تھے آپ کا دل چاہتا تھا کہ فورا اس معجزے کا ظہور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوجاوے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ وقت سے پہلے اگر تم سے ہوسکے اور تم ان کے ایمان لانے کے لئے زمین آسمان کو ایک کردو اور زمین کے اندر کی اور آسمان کے اوپر کی سب نشانیاں معجزے کے طور پر لے آؤ تو ہوگا وہی کہ ازل میں جن لوگوں کا حق بات کی طرف کان لگانا اور اسلام لانا ٹھرچکا ہے وہی اسلام لاویں گے، اور جن کا حالت کفر میں مرنا ٹھر چکا وہ اسی حالت میں مر کر قیامت کے وہ اسی حالت میں اللہ کے روبرو آویں گے۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان سب کو بھی ہدایت ہوسکتی ہے مگر قرار دادازلی کے موافق نہ اللہ تعالیٰ چاہے گا نہ ایسا ہوگا۔
Ayahs 6:37–39

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور کافروں نے کہا :'' کیوں نہیں پیغمبر پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی نہیں اتاری گئی '' تم فرمادو :'' بیشک اللہ قادر ہے کہ بھیجے کوئی نشانی '' لیکن ان میں سے بہت سے جانتے ہی نہیں

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور نہیں ہے کوئی زمین میں چلنے والا اور نہ کوئی پرندہ کہ اپنے بازوؤں سے اڑتا ہے مگر وہ تمہاری ہی طرح جماعتیں ہیں ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی پھر وہ سب خدا کی طرف اٹھائے جائیں گے

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ بہرے اور گونگے اندھیریوں میں پڑے ہوئے ہیں اللہ جس کو چاہے گمراہ کرے اور جس کو چاہے سیدھے رستہ پر ڈال دے

آنحضرت ﷺ کے معجزات کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا کہ ان میں کے بعضے جلد باز سرکش لوگ گھڑی گھڑی معجزہ کا تقاضا جو کرتے ہیں ان کو جواب دیا جاوے کہ اللہ کی قدرت سے تو کوئی معجزہ بعید نہیں ہے لیکن عادت الہی یوں جاری ہے کہ کسی قوم کی خواہش کے مطابق اللہ کے رسول سے کوئی معجزہ ظاہر ہو اور وہ قوم راہ راست پر نہ آوے تو قوم ثمود کی طرح وہ قوم غارت ہوجاتی ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ قدرت الہی کا نمونہ دیکھنے کے لئے معجزہ چاہتے ہیں تو آسمان کی مخلوقات تو ان کی نگاہ سے دور ہیں، لیکن زمین پر چلنے پھرنے والی مخلوقات اور ہوا پر اڑنے والے پر دار جانور (پرندے) ان کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کانمونہ ٹھرانے کے لئے کافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کی حالت کو لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے، اس لئے عذاب وثواب کے واسطے دوبارہ زندہ کیا جاوے گا۔ اسی لئے فرمایا کہ ایسے لوگ حق بات سننے سے گویا بہرے اور کلمہ توحید زبان ہر لانے سے گونگے اور کفر کے طرح طرح کے اندھیرے میں نور ایمان سے دور پڑے ہوئے ہیں۔ جس کا سبب یہ ہے کہ علم ازلی کے موافق ہر ایک کا راہ راست پر آنا اور نہ آنا اللہ کے ہاتھ ہے۔