6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 6:40–49

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

(اے محبوب ﷺ ان لوگوں سے) فرماؤ :'' کیا تم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ اگر خدا کا عذاب تم پر آجائے یا تم پر قیامت ہی آپہنچے تو کیا اس وقت بھی اللہ کے سوا کسی اور کو پکاروگے اگر تم سچے ہو (تو بتاؤ)

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

بلکہ خاص اسی کو پکاروگے۔ پس دفع کرتا ہے جس پر اسے پکارتے ہو اگر وہ چاہے اور جن کو تم شریک کرتے تھے ان کو بھول جاؤگے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور (اے محبوب ﷺ) بیشک ہم نے تم سے پہلی امتوں کی طرف (اپنے) رسول بھیجے تو ہم نے ان کو تنگی اور مرض میں مبتلا کیا تاکہ وہ کسی طرح گڑگڑائیں

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

کیوں نہیں گڑگڑائے اس وقت کہ ان کے پاس ہمارا عذاب آیا لیکن ان کے دل تو سخت ہوگئے تھے اور شیطان نے ان کی نگاہ میں زینت دی تھی جو کچھ وہ کام کرتے تھے

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پس وہ اس کو بھول گئے جو کچھ ان کو نصیحت دی گئی تھی ہم نے ان پر سب چیز کے دروازے کھول دئے یہاں تک کہ جب وہ خوش ہوگئے اس چیز سے جو ان کو دی گئی تھی تو ہم نے ان کو اچانک پکڑلیا پھتو وہ ناامید ہوگئے

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

پس اس ظالم گروہ کی جڑ کاٹی گئی اور سب خوبیاں (صرف) اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہان کا پروردگار ہے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

تم فرماؤ :'' بھلا بتاو کہ اگر اللہ تمہاری سنوائی اور بینائی لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر کردے تو اللہ کے سوا کون خدا ہے جو تمہیں یہ نعمتیں لادے '' دیکھو ہن کیونکر طرح طرح سے آیتیں بیان کرتے ہیں پھر وہ منہ پھیرے رہتے ہیں

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

تم فرماو کہ یہ بتاو اگر تم پر اللہ کا عذاب اچانک آوے یا ظاہر تو ظالموں کے گروہ کے سوا کون ہلاک ہوگا

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈر سنانے کو پس جو کوئی ایمان لائے اور نیک کام کرے تو نہ ان کو کچھ خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں ان کو پہنچے گا عذاب بسبب ان کے فاسق ہونے کے

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی کی اوپری مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لاشریک نے ت لوگوں کان سننے کے لئے، آنکھیں دیکھنے، دل بری بھلی بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں، اگر وہ وحدہ لاشریک تم لوگوں کو اندھا کردے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنادے، تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کردیں، باوجود اس پوری فہمائش کے جو تم حق سے پھرجاتے ہو تو یہ تمہارا ایک قابل سزا جرم ہے، جو وقت مقررہ آنے پر رات کو غفلت کی حالت میں یا دن کو کھلم کھلا اس جرم کی سزا میں اگر تم پو عذاب الہی آگیا تو اس وقت تمہارا بچنا مشکل ہے۔ رہی یہ بات کہ ایسا بڑا شق القمر کا معجزہ دیکھنے اور اس کو جادو بتانے کے بعد تم ہر گھڑی اپنی خواہش کے موافق اللہ کے رسول سے معجزے جو چاہتے ہو، تو اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو اس لئے نہیں بھیجا کہ وہ ہر گھڑی منکو شریعت لوگوں کو طرح طرح کے معجزے دکھاویں۔ اور وہ منکر شریعت لوگ ان معجزوں کو جادو بتلادیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسول تو اس لئے آئے ہیں کہ وہ فرمانبردار لوگوں کو عقبیٰ کی بہبودی کی خوشخبری سنادیویں اور نافرمان لوگوں کو عقبیٰ کے عذاب سے ڈرادیویں۔ اب جو کوئی اللہ کے رسول کی نصیحت کو مان کر راہ راست پر آجاوے گا اس کو عقبیٰ کے عذاب سے بےخوف رہنا چاہئے۔ نافرمان کو عقبیٰ (آخرت) میں سخت عذاب ہوگا۔
Ayahs 6:50–51

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

(اے محبوب ﷺ تم ان لوگوں سے) فرمادو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہوں کہ میں آپ غیب جان لیتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو اسی کا تابع ہوں جو میری طرف وحی آتی ہے تم فرماؤ :'' کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوسکتا ہے پھر تم کیوں غور نہیں کرتے ''

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

اور ڈراؤ اس قرآن سے (یعنی نصیحت کرو) ان لوگوں کو جنہیں خوف ہو کہ اپنے پروردگار کی طرف یوں اٹھائے کہ اللہ کے سوا نہ ان کا کوئی حمایتی ہو نہ سفارش کرنے والا شاید کہ وہ پرہیزگاری کریں

مشرکوں کی فضول باتوں کا ذکر اور ان کا جواب ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ کفار کا طریقہ یہ تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے طرح طرح کے سوال کیا کرتے تھے۔ کبھی کہتے تھے کہ آپ رسول ہیں تو ہم لوگوں کو ایسا مالدار بنادیجئے کہ پھر ہم کو کسی چیز کی کمی نہ رہے۔ کبھی یہ کہتے کہ ہمیں معاملات دنیا کی سب نفع نقصان کی باتیں اس طرح بتا دیجئے کہ جس سے ہم آئندہ نفع کے حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کا انتظام کرلیں۔ کبھی طعن کے طور پر یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو عام آدمیوں کی طرح کھانا کیوں کھاتے ہیں اور نکاح بھی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی ایسی باتوں پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ اے محبوب ! ﷺ تم ان سے کہ دو کہ میرا دعویٰ یہ تو نہیں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، جو تم مجھ سے مال و دولت کا سوال کرتے ہو اور میں اس کی طرف التفات نہ کروں تو تم رسالت سے منکر ہوجاؤ۔ نہ میرا دعویٰ ذاتی غیب دانی کا ہے کہ اگر میں تمہیں گزشتہ یا آئندہ کی خبریں نہ بتاؤں تو تم میری نبوت کے ماننے میں عذر کرو۔ نہ میں نے تم سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں انسان نہیں تاکہ میرے کھانا کھانے اور نکاح کرنے کا تمہارا اعتراض مجھ پر قائم ہوسکے۔ بات فقط اتنی ہے کہ تم لوگ دین کی باتوں سے ناواقف اور بالکل اندھے ہو کیونکہ اللہ کی مرضی کے کاموں کو کرنے اور اس کی مرضی کے مخالف کاموں سے بچنے کو دین کہتے ہیں۔ اس لئے تمہارا یہ اندھاپن رفع کرنے کے لئے جو دین کے احکام آسمانی وحی کے ذریعہ سے میرے اوپر نازل ہوتے ہیں میں خود بھی ان کی پیروی کرتا ہوں اور تم لوگوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں۔ جو کوئی نصیحت پر عمل کرے گا اس کی عقبیٰ درست ہوجاوے گی اور جو کوئی وہ اپنے اندھے پن کے سبب ضرور دوزخ کے گڑھے میں گرے گا۔ آگے فرمایا کہ جن لوگوں کو ایک دن اللہ کے روبرو کھڑے ہونے کا خوف ہے، اے رسول اللہ کے ! تم ان لوگوں کو قرآن شریف کی آیتوں کے موافق نصیحت کرتے رہو تاکہ وہ اس دن کے عذاب الہی سے ڈر کر نیک کاموں کے کرنے اور برے کاموں سے بچنے کی کوشش کرتے رہیں۔ جس سے اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہوجائے، کیونکہ وہ دن ایسا ہے کہ بدون رضامندی اللہ تعالیٰ کے اس دن خلاف مرضی الہی نہ کوئی کسی کا حمایتی بن سکتا ہے نہ سفارشی۔ آنحضرت ﷺ نے قرآن شریف کی نصیحت کی مثال مینہ (بارش) کے اور امت کے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی فرمائی ہے۔ قرآن شریف کی نصیحت تو سب کو یکساں کی جاتی ہے لیکن اس کا اثر اچھے برے کے سبب یکساں نہیں ہوتا ہے۔
Ayahs 6:52–54

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور اپنے (پاس سے) ان لوگوں کو دور نہ کرو جو اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں صبح اور شام اسی کی رضامندی چاہتے ہیں، تم ان پر ان کے حساب سے کچھ (یعنی ان کے اعمال کی جواب دہی تمہارے ذمہ نہیں ہے) اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں (یعنی سب کا حساب اللہ پر ہے) پس انہیں اگر تم دور کرو تو یہ کام انصاف سے بعید ہے

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

اور ہم نے ایک کو دوسرے سے اس طرح آزمایا ہے کہ مالدار کافر مسلمانوں کو دیکھ کر کہیں :'' کیا یہ ہی جماعت ہے کہ احسان کیا ہے اللہ نے جن پر ہم سے '' (خدا تعالیٰ نے فرمایا): کیا اللہ حوب نہیں جانتا شکر کرنے والوں کو ''

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

اور جب تمہارے پاس وہ لوگ آویں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے فرماؤ :'' تم پر سلام ہے تمہارے پروردگار نے اپنے ذمہ مہربانی فرمانا لازم کرلی ہے کہ جو کوئی تم میں سے براکام نادانی سے کربیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور سنور جائے تو بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

شان نزول : کفار کی ایک جماعت آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئی تو انہوں نے دیکھا کہ حضور ﷺ کے گرد غریب صحابہ کرام کی ایک جماعت حاضر ہے، جو ادنیٰ درجہ کے لباس پہنے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ ہمیں ان لوگوں کے پاس بیٹھتے شرم آتی ہے اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آویں اور آپ کی خدمت میں حاضر رہیں حضور ﷺ نے اس کو منظور نہ فرمایا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حاصل معنی یہ ہے کہ وہ ضعیف فقراء جن کا اوپر ذکر ہوا آپ کے دربار میں قرب پانے کے مستحق ہیں، انہیں دور نہ کرنا ہی بجا ہے۔ آگے فرمایا اے رسول اللہ کے ! ﷺ ان تنگدست ایمانداروں کے دل چھوٹے چھوٹے ہیں، ان کی تنگدستی کے سبب سے لوگ ان کی قدرومنزلت بہت کم کرتے ہیں، تم ان کا دل بڑھانے کے لئے ان کو السلام علیکم کی ابتدا کیا کرو اور ان سے کہ دو کہ تم کو یہاں کیا تکلیف ہے۔ اس لئے عقبیٰ میں ایسے لوگوں پر اللہ کی رحمت اور مہربانی ضرور ہوگی۔ دنیا میں ایسے لوگوں سے اگر کوئی گناہ ہوجاوے تو آئندہ توبہ کرنے اور نیک کاموں میں مصروف ہوجانے سے اللہ تعالیٰ ان کا گناہ معاف فرمادے گا۔
Ayahs 6:55–58

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور ہم اسی طرح تفصیل سے آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ مجرموں کی راہ ظاہر ہوجاوے

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

تم فرماؤ :'' مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کو تم پوجتے ہو سوائے خدا کے '' تم فرماؤ :'' میں تمہاری باطل آرزوؤں پر نہیں چلتا یوں ہو تو میں بہک جاؤں اور راہ پر نہ رہوں

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

تم فرماؤ :'' بیشک میں تو اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں، اور تم اسے جھٹلاتے ہو میرے پاس وہ چیز نہیں ہے کہ جس کی تم جلدی مچا رہے ہو '' حکم کسی کا نہیں مگر اللہ ہی کا ہے وہ حق بیان فرماتا ہے اور سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

تم فرمادو :'' اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کی تم جلدی کر رہے ہو تو مجھ میں اور تم میں کام ختم ہوچکا ہوتا ''، اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو

علم غیب کا ذکر شان نزول : ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف کی آیتوں میں ہر طرح کا مطلب کھول کر سمجھادیا جاتا ہے تاکہ تاکہ اس پر بھی ہٹ دھرمی سے جو کوئی قرآن شریف کی آیتوں کو جھٹلاوے تو معلوم ہوجاوے کہ علم ازلی کے موافق وہ مجرموں کا راستہ چلا، جس سے اس نے اپنی عاقبت برباد کی۔ مشرک لوگ آنحضرت ﷺ سے یہ فرمائش کیا کرتے تھے کہ ایک سال تم ہمارے بتوں کو پوجو اور ایک سال ہم اللہ کی عبادت کریں اس پر گویا آپس کی صلح ٹہرجاوے۔ اسی کو ان آیتوں میں فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان لوگوں سے کہ دو کہ تم لوگوں نے ملت ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی کو رواج دے دیا ہے۔ میں اصل ملت ابراہیمی پر ہوں اس لئے مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بت پرست کی مناہی ہے۔ کیونکہ اگر میں ایسا کروں گا تو تمہاری طرح بہک جاؤں گا۔ میرے پاس قرآن مجید میں اس بات کی شہادت موجود ہے، تم لوگ بےسند ملت ابراہیمی بگاڑ چکے، اب قرآن کی آیتوں کو بھی جھٹلاتے ہو، اور پھر تم کو عذاب الہی سے ڈرایا جاتا ہے تو ڈھیٹ بن کر اس عذاب کی جلدی کرتے ہو وہ عذاب میرے اختیار میں نہیں ہے وہ اللہ کے اختیار میں ہے، جو خود فیصلہ کردے گا کیونکہ اس کو سب حال معلوم ہے۔ اللہ سچا ہے، اللہ کا کلام سچا ہے، جو کوئی شرک کی حالت میں بغیر توبہ کے مرگیا اس کی نجات کی کوئی صورت نہیں۔
Ayah 6:59

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، انہیں وہی جانتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہے اور جو کچھ تری (یعنی دریا) میں ہے، اور جو پتا گرتا ہے وہ اسے جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کی تاریکیوں میں اور کوئی تر اور کوئی خشک چیز نہیں ہے مگر ایک روشن کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں لکھی ہے

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ گیب کی کنجیوں سے مراد یہ پانچ چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو معلوم ہیں : (1) اول قیامت کا وقت کہ کب آئے گی۔ (2) دوسرے مینہ کا حال کہ کب برسے گا۔ (3) تیسرے حاملہ عورت کے پیٹ میں کیا ہے لڑکا یا لڑکی۔ (4) چوتھے یہ کہ کل کیا ہوگا۔ (5) پانچویں یہ کہ کون شخص کس سر زمین پر مرے گا۔ شارحین کتاب حدیث اور مفسرین نے لکھا ہے کہ علم غیب کی باتیں اللہ تعالیٰ انبیاء کو بذریعہ وحی کے اور اولیاء کو بذریعہ الہام یا خواب کے ظاہر فرمادیتا ہے۔ چناچہ انبیاء نے عذاب قبر اور عذاب حشر کا احوال دوزخ جنت کا حال جو علم غیب میں سے ہے صراحت سے بیان کیا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کی گھر کی رکھی ہوئی چیزیں بغیر دیکھے اور لوگوں کا کھایا پیا بتلا دیا کرتے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایک قیدی کا رہا ہو جانا اور دوسرے کا سولی پر چڑھایا جانا بتلادیا تھا۔ بعض اولیاء بھی بعض آئندہ کی باتوں کو کرامت کے طور پر بیان کردیتے ہیں۔ فرق اسی قدر ہے کہ نبی کو جو غیب کا حال معلوم ہوتا ہے وہ وحی سے معلوم ہوتا ہے جو یقینی علم ہے۔ اور اولیاء کو جو کچھ غیب کا حال معلوم ہوتا ہے وہ الہام یا خواب کے ذریعہ سے معلوم ہوتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کا ذکر اور دنیا کے ذرے ذرے کا حال لوح محفوظ میں ہونے کا ذکر فرما کر یہ آیت اس تنبیہ کے لئے نازل فرمائی کہ وہ غیب داں بھی ہے، اور اس کے دفتر میں ذرہ ذرہ کا حساب بھی ہے کہ ایک دن اس حساب کی جانچ ہونے والی ہے۔ ہر شخص کو چاہئے کہ جو کچھ دنیا میں کرے ذرا حساب کا انجام یاد رکھ کر کرے۔
Ayahs 6:60–64

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہی ہے جو تمہاری روح قبض کرتا ہے رات میں (یعنی سلادیتا ہے) اور جانتا ہے جو کچھ دن میں تم کماؤ پھر تم کو جگا اٹھاتا ہے تاکہ ٹھرائی ہوئی میعاد پوری ہو، پھر اسی کی طرف تم کو پھرنا ہے پھر وہ بتلادے گا تم کو کہ جو کچھ تم عمل کرتے تھے

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور وہ تم پر فرشتے نگہبان بھیجا کرتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو اس کی روح قبض کرتے ہیں۔ ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اور وہ کوتاہی نہیں کرتے

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر سب اللہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں جو ان کا مالک حقیقی ہے خبردار ہو اسی کا حکم ہے اور وہ بہپت جلد حساب لینے والا ہے

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

(اے محبوب ﷺ ان لوگوں سے) فرماؤ :'' وہ کون ہے جو تمہیں جنگل اور دریا کی اندھیریوں سے بچاتا ہے جس کو تم پکارتے ہو گڑگڑا کر اور (دل ہی دل میں) پوشیدہ عاجزی سے کہ اگر وہ ہمیں اس سے بچاوے تو ہم ضرور احسان مانیں گے ''

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

(اے محبوب) تم فرمادو کہ اللہ ہی تم کو نجات دیتا ہے اس دکھ سے اور ہر بےچینی سے پھر بھی تم اس کا شریک ٹھراتے ہو

مرنے کے بعد زندہ ہونے کا ذکر اس آیت میں مر کر جینے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ روز کے سونے اور جاگنے سے ہر عقلمند آدمی مرنے اور مر کر جینے کو قیاس کرلے، کیونکہ غور کیا جاوے تو روز کا سونا چھوٹی موت اور سو کر پھر جاگنا روز کا ایک چھوٹا حشر ہے۔ کس لئے کہ جس طرح موت کے بعد آدمی کے مثلا کان، آنکھیں بیکار ہوجاتی ہیں وہی حال آدمی کا سونے میں ہوجاتا ہے۔ پھر جس طرح جاگنے کے بعد آدمی کے حواس قائم ہوجاتے ہیں وہی حالت اس کی حشر میں ہوگی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :'' ہر سوتے آدمی پر اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ مقرر کیا جاتا ہے جو سانس کی آمد و رفت کی خبر رکھتا ہے اور اگر اسی نیند کی حالت میں قبض روح کا حکم اللہ تعالیٰ کا ہوجاتا ہے تو وہ فرشتہ باہر کا آیا ہو سانس پھر اندر نہیں جانے دیتا جس سے روح قبض ہوجاتی ہے۔ مسلمان کی روح کے لئے رحمت کے فرشتے آتے ہیں، اور مرنے والے شخص کو یہیں دنیا میں آثار رحمت الہی معلوم ہونے لگتے ہیں۔ اور ملک الموت اور ان کے ساتھ کے فرشتے اس روح کو خوشخبری دیتے ہیں اور کافرو منافق کی روح کا معاملہ اس کے برعکس ہے ''۔ پھر فرمایا کہ جس طرح جنگل اور دریا کے سفر کی مصیبت کے وقت بت ان کی کچھ مدد نہیں کرتے، اسی طرح عقبیٰ کی مصیبتوں کے وقت خالص اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے اور راحت کے وقت ان بتوں کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھرانے کا شیوہ جو ان لوگوں نے اختیار کیا ہے، ان کا یہ شیوہ عقبیٰ کی مصیبتوں کے وقت کچھ کام نہ آوے گا۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہاں مشرک کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔
Ayah 6:65

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

تم فرماؤ :'' وہ اس بات پر قادر ہے کہ بھیجے تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے، یا تمہیں بھڑوادے مختلف گروہ کرکے اور ایک دوسرے کی سختی چکھادے ''، دیکھو ہم کیونکر اس طرح سے آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ کہیں سمجھیں

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اوپر کے عذاب سے مراد آسمان سے مراد پتھر برسنا ہے، اور نیچے سے مراد زمین کا دھنسنا ہے۔ کئی فرقے سے مراد آپس کی پھوٹ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری امت سے یہ تینوں قسم کے عذاب جن کا ذکر اس آیت میں ہے اٹھ جاویں، تو اللہ تعالیٰ نے پتھروں کے برسنے کا عذاب اور زمین کے دھنسنے کا عذاب عام طور سے اٹھا لیا مگر آپس کی پھوٹ اور خانہ جنگی یہ عذاب باقی رہا۔ آگے فرمایا کہ قرآن شریف کی آیتوں میں طرح طرح کی تنبیہ ہیر پھیر کے اس لئے ان لوگوں کو کی جاتی ہے کہ یہ لوگ شرک سے باز آویں اور پنے بھلے برے کو سمجھیں۔
Ayahs 6:66–67

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور اسے تمہاری قوم نے جھٹلایا حالانکہ یہی حق ہے، تم فرماؤ کہ میں تم پر نگہبان نہیں ہوں

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر چیز کے واسطے وقت مقرر ہے اور عنقریب تم جان لوگے

اس آیت میں ارشاد ہے کہ مشرک لوگوں کے سر تو وہ ازلی کم بختی سوار ہے کہ جن آیتوں میں ان کے خلاف مرضی کوئی مضمون ہوتا ہے تو یہ لوگ فورا ان آیتوں کے جھٹلانے پر مستعد ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ قرآن شریف میں وہ سیدے اور سچے مضمون ہیں کہ کوئی صاحب عقل ان کو جھٹلا نہیں سکتا ہے، اور جب یہ مشرک لوگ کلام الہی کو جھٹلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر یہ قرآن اللہ کا کلام ہے تو اس کے جھٹلانے کی سزا میں ہم پر کوئی عذاب کیوں نہیں آتا۔ ان کی اس بات کے جواب میں اے رسول اللہ کے ! تم ان لوگوں سے کہ دو کہ میں اللہ کی طرف سے تمہاری سزا کے لئے داروغہ مقرر ہوکر نہیں آیا بلکہ وقت مقررہ کی سزا سے تمہیں ڈرانے آیا ہوں اگر اس ڈر کو تم لوگ نہ مانوگے تو بہت جلد وقت مقررہ آنے پر خود تمہیں اس سزا کا حال معلوم ہوجائے گا، اور یہ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہر کام کا وقت مقرر ہے، وقت مقررہ آنے پر پھر اس کے حکم کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ اللہ سچا، اللہ کلام سچا ہے۔
Ayahs 6:68–69

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور جب (اے سننے والے ! ) تو ان لوگوں کو دیکھے کہ جو ہماری آیتوں میں بحث کرتے ہیں پس تو ان سے کنارہ کر اس وقت تک کہ بحث شروع کریں کسی اور بات میں سوائے اس کے اور اگر کہیں شیطان تجھے (یہ بات) بھلادے تو چاہئے کہ یاد آجانے کے بعد ایسے گروہ میں نہ بیٹھ جو ظلم کرنے والا ہے

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور پرہیزگاروں پر ان ظالموں کا حساب کچھ نہیں ہے ہاں ان پر لازم ہے نصیحت کرنا تاکہ وہ پرہیزگاری کریں

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ آج کل بعضے لوگ جو آیت قرآنی و احادیث نبوی کو پر وہ کی نظر سے نہیں دیکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں یا تو متقی شخص نہ بیٹھے یا بیٹھے تو ان لوگوں کو نصیحت کرتا رہے۔ اگر بیٹھے گا اور نصیحت نہ کرے گا تو ایسا شخص گنہگار ہوگا۔ بعضے مسلمانوں نے آنحضرت ﷺ سے شکایت کی تھی کہ مشرک لوگ بھی موجود ہوں اور ہم ان کے منہ سے قرآن کی مذمت کی کوئی بات سن لیویں تو اس گناہ سے ہم کیونکر بچ سکتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایسے مسلمانوں کو جتلادیا کہ جب میل جول کے طور پر تم ان لوگوں میں نہیں بیٹھتے تو اس طرح کی اتفاقی ملاقات میں ان کی بد اعمالی کا محاسبہ تم لوگوں سے نہ ہوگا۔ لیکن ایسی ملاقاتوں کے وقت ان کو کچھ مناسب نصیحت کردی جائے تاکہ ہر وقت کی نصیحت سے شاید وہ لوگ بھی راہ راست پر آجاویں۔
Ayah 6:70

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور چھوڑدو ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنایا ہے اور انہیں دنیا کی زندگی نے فریب دیا ہے اور انکو اس قرآن سے نصیحت دو تاکہ کوئی شخص اپنے کئے پر پکڑا نہ جائے، (اس وقت) اس وقت اللہ کے سوا نہ اس کا کوئی حمایتی ہو نہ سفارشی اور اگر دنیا بھر کا معاوضہ بھی دے ڈالے تو اس سے قبول نہ کیا جاوے، یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے اعمال میں گرفتار کیے گئے ان کو کھولتا پانی پینے کو ملے گا اور ان کے لئے ہے عذاب درد دینے والا بسبب اس کے کہ کافر تھے

ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ان منکر قیامت لوگوں کو چند روز ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے، مگر اتنی بات ان کو سمجھا دی جائے کہ جس طرح کے مسخرے پن اور کھیل تماشا کو انہوں نے اپنا دین ٹھرا رکھا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے کھیل تماشے کے طور پر دنیا کو نہیں پیدا کیا، بلکہ دنیا کے پیدا کرنے کا نتیجہ وہی ہے جو گھڑی گھڑی ان لوگوں کو جتلادیا جاتا ہے، کہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد دنیا کے نیک و بد کی جزا وسزا کے لئے دوسرا جہان ضرور قائم ہوگا تاکہ دنیا کا پیدا کرنا ٹھکانے سے لگے۔ وہ دوسرا جہان ایسا ہوگا کہ جہاں ہر شخص اپنے عمل کے نتیجہ کا پابند کرایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھرانے والوں کا وہاں کوئی حامی و مددگار نہیں ہے۔ تمام دنیا کا مال ومتاع یہ لوگ سزا کے معاوضہ میں دینا چاہیں گے تو یہ معاوضہ ہرگز قبول نہ ہوگا۔ کھولتا ہوا پانی پینا سینڈ کھانا ہے۔ ہمیشہ آگ میں جلنا یہی ایسے لوگوں کی سزا ہے۔
Ayahs 6:71–73

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

تم فرماؤ کیا ہم اللہ کے سوا اس کو پوجیں جو ہمارا نہ بھلا کرے اور نہ ہم کو نقصان پہنچائے اور کیا الٹے پاؤں پھر چلیں اس کے بعد کہ اللہ ہم کو ہدایت دے چکا ہے، جیسے کوئی شخص ہو کہ جسے شیطان نے زمین میں راہ بھلادی وہ حیران و پریشان ہے اس کے ساتھی اسے راہ کی طرف بھلا رہے ہیں کہ آہماری طرف تم فرماؤ کہ بیشک ہدیت حقیقی وہی ہے کہ جو اللہ کی ہدایت ہے اور ہم کو یہ حکم ہوا ہے کہ ہم پورے مطیع رہیں پروردگار عالم کے

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

اور فرمایا گیا کہ نماز قائم رکھو اور ڈرو خدا سے اور وہی ہے جس کی طرف تم سب جمع کئے جاؤگے

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے آسمان کو اور زمین کو ٹھیک طور پر بنایا جس روز (فنا ہوئی ہر چیز کو) کہے گا :'' ہوجا '' وہ فورا ہوجائے گی۔ اس کا قول برحق ہے اور اسی کی بادشاہت ہے جس روز صور پھونکا جاوے گا وہ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے اور وہی مظبوط تدبیر والا خبردار ہے

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ بعض مشرکین جدید مسلمانوں سے موقع پاکر فہمائش کے طر پر کہتے تھے کہ تم نے اپنا قدیمی دین کیوں چھوڑ دیا، اب بھی اپنے قدیمی دین پر آجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ باوجود قرآن شریف کی ہدایت کے مشرکوں کے بہکانے سے پچھلے پاؤں راہ اسلام سے ہٹنا ایسا ہے جس طرح کوئی راہ گیر باوجود اس کے ساتھیوں کے راستہ بتانے کے ٹیڑھے راستہ پر چلاجاوے اور منزل مقصود سے بہک جاوے۔ اور بت پرستی اور دین اسلام دونوں کا خلاصہ بھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یوں فرمادیا کہ دین اسلام میں اس خالق اور بادشاہ حقیقی کی اطاعت ہے، جس نے زمین و آسمان پیدا کئے اور دنیا کے عارضی مالکوں کی ہلاکت کے بعد پھر اس کا ملک اسی کے حوالے میں رہے گا۔ اور بت پرستی وہ طریقہ ہے جس میں خدا کی ناخوشنودی سے ضرر یقینی ہے۔ جو پچھلی بہت سی قومیں اللہ تعالیٰ کی ناخوشنودی کے سبب سے طرح طرح کے عذابوں میں گرفتار ہوکر ہلاک ہوگئیں۔ آخر میں فرمایا کہ دنیا میں تو عارضی طور پر لوگ اپنی بادشاہت اور حکومت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں مگر اس دن سوا اللہ تعالیٰ کی ذات کے اور کوئی نہ ہوگا۔
Ayahs 6:74–79

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

اور یاد کرو جب کہ ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ کیا تم (پتھرکے) بتوں کو معبود قرار دیتے ہو بیشک میں دیکھتا ہوں تم کو اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی دکھاتے تھے تاکہ وہ عین الیقین والوں میں ہوجائے

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

ہھر جب کہ اس پر رات کی اندھیری آئی تو ایک ستارہ کو دیکھا کہا :'' یہ میرا پروردگار ہے '' پھر جب وہ چھپ گیا تو کہا :'' مجھے پسند نہیں آتے چھپنے والے ''

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب چاند چمکتا ہوا دیکھا تو کہا :'' یہ ہے میرا پروردگار '' پھر جب وہ چھپ گیا تو کہا :'' اگر میرا پروردگار مجھے ہدایت نہ کرتا تو میں بھی گمراہ لوگوں میں سے ہوتا ''

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جس وقت آفتاب کو چمکتے دیکھا تو کہا :'' یہ میرا پروردگار ہے یہ تو ان سب سے بڑا ہے '' پھر جب وہ بھی چھپ گیا تو کہا :'' اے قوم ! میں بیزار ہوں ان چیزوں سے کہ جنہیں تم شریک ٹھراتے ہو

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

بیشک میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان و زمین بنائے ایک اسی کا ہوکر اور میں مشرکوں میں نہیں ہوں ''

پیدائش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور چاند سورج کا ذکر مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قصہ ذکر فرما کر ان لوگوں کو یوں قائل کیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو بت پرستی سے جس قدر بیزار تھے اس کا حال ان لوگوں کو اس قسہ سے معلوم ہوگا کہ نمرود ابن کنعان بڑا جابر بادشاہ تھا۔ سب سے پہلئ اسی نے تاج سر پر رکھا، یہ بادشاہ لوگوں سے اپنی پرستش کراتا، اور نجومی کثرت سے اس کے دربار میں حاضر رہتے تھے۔ نمرود نے خواب دیکھا کہ ایک ستارہ طلوع ہوا ہے اس کی روشنی کے سامنے آفتاب و مہتاب بالکل بےنور ہوگئے۔ اس سے وہ بہت خوفزدہ ہوا، نجومیوں سے تعبیر دریافت کی، انہوں نے کہا :'' اس سال تیری سلطنت میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیرے زوال ملک کا باعث ہوگا، اور تیرے دین والے اس کے ہاتھ سے ہلاک ہوں گے ''۔ یہ خبر سن کر وہ نہایت پریشان ہوا اور اس نے حکم دیا کہ جو لڑکا پیدا ہو قتل کر ڈالاجائے اور مرد عورتوں سے علیحدہ رہیں اس کی نگہبانی کے لئے یک محکمہ قائم کیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ کے انتظام کے آگے نمرود کا انتظام کچھ نہ چلا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی والدہ حاملہ ہوئیں اور نجومیوں نے خبر دی کہ وہ لڑکا حمل میں آگیا لیکن حضرت کی والدہ کم عمر تھیں اس لئے ان کا حمل پہچانا نہ گیا۔ جب زمانہ تولید قریب ہوا تو آپ کی والدہ اس تہ خانہ میں چلی گئیں جو آپ کے والد نے شہر سے دور تیار کیا تھا، وہاں آپ کی ولادت ہوئی اور وہیں آپ رہے۔ تہ خانہ کا دروازہ پورا پتھروں سے بند کردیا جاتا تھا روزانہ ان کی والدہ صاحبہ وہاں جاتیں اور دودھ پلا آتی تھیں، اور دیکھتی تھیں کہ آپ اپنا انگوٹھا چوس رہے ہیں اور اس سے دودھ نکلتا ہے۔ آپ بہت جلد بڑھتے تھے۔ جب سات برس کے ہوئے تو آپ نے اپنی والدہ سے دریافت کیا :'' میرا رب یعنی میرا پالنے والا کون ہے ''۔ انہوں نے کہا '' میں ''۔ پھر فرمایا :'' تمہارا رب کون ہے ''۔ انہوں نے کہا :'' تمہاراباپ ''۔ پھر فرمایا :'' ان کا رب کون ہے ''۔ اس وقت والدہ نے کہا :'' خاموش رہو ''۔ اور اپنے شوہر یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد آزر کو یہ قصہ سنایا کہ جس لڑکے کی نسبت یہ مشہور ہے کہ وہ دین بدل دے گا وہ تمہارا فرزند ہی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ابتدا ہی سے توحید کی حمایت کی اور عقائد کفریہ کا سوال شروع کردیا اور جب ایک سوراخ کی راہ سے شب کے وقت آپ نے زہرہ یا مشتری ستارہ کو دیکھا اور پھر چاند اور سورج کو دیکھ کر چاہا کہ میں بھی ایک کو اپنا رب ٹھرا رکھوں مگر وہ غائب ہوگئے۔ جانا کہ ایک حال پر نہیں کوئی اور اس پر حاکم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ سمجھ دی کہ وہ ان چیزوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی قدرت کے یقین میں ترقی حاصل کریں۔ قوم کی ستارہ پرستی اور بت پرستی کے شرک کو چھوڑ کر روحید اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف مائل ہوں، کیونکہ جس نے آسمان و زمین سب کچھ پیدا کیا تعظیم کے قابل وہی ہے۔ اس کی تعظیم میں کسی کو شریک ٹھرانے کا کوئی حق نہیں،