6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 6:118–121

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

پس (اے مسلمانو ! ) اگر تم خدا کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو جس (جانور) پر (ذبح کرتے وقت) اللہ کا نام لیا گیا ہو اس میں سے (شوق سے) کھاؤ

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور جس ذبیحہ پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، تمہیں کیا ہوگیا کہ اس میں سے نہ کھاؤ حالانکہ جو چیز تم پر حرام ہے (اسے) صاف صاف تم سے بیان کردیا گیا مگر جب تم کو اس کی طرف ناچارگی ہوجائے (تودرست ہے) اور بیشک بہت سے بےعلم لوگ اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں، بیشک حد سے بڑھنے والوں کو تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

اور (اے لوگو ! ) تم چھپے اور کھلے سب گناہ چھوڑ دو بیشک جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ اپنے برے اعمال کا بدلہ جلد پالیں گے

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور (اے مومنو ! ) جس (جانور) پر (بوقت ذبح) اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس میں سے نہ کھاؤ اور بیشک اس کا کھانا گناہ ہے، اور بیشک شیاطین تو اپنے دوستوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتے ہیں تاکہ تم سے جھگڑیں، اور اگر تم ان کا کہا مانو (حرام کو حلال جانو) تو بیشک تم مشرک

شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ قریش نے اعتراض کیا کہ اپناذبح کیا ہوا جانور کھانا اور خدا کا مرا ہوا جانور نہ کھانا یہ کون سا دین ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ قریش کا جواب جو ان آیتوں میں ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ذبح شدہ جانور پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے اس واسطے وہ پاک اور حلال ہے۔ بتوں کے نام پر جو جانور ذبح کیا جاوے یا جو جانور اپنی موت سے مرجاوے بہ سبب اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا نام اس پر نہیں لیا گیا وہ حرام اور نجس ہے۔ مفصل تفصیل حلال و حرام کی سورة مائدہ میں معلوم ہوچکی ہے، تو پھر ہر ایماندار آدمی کو چاہیے کہ اس کی پابندی کرے اور مردار کھانے والے لوگ جو حد شرع کے خود بھی پابند نہیں ہیں اور دوسروں کو بھی بہکانا چاہتے ہیں ان کی پیروی سے بچے کیونکہ ایسے لوگوں کا حال اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ وقت مقررہ پر علم الٰہی کے موافق وہ لوگ اپنے اعمال کی سزا بھگتیں گے۔ پھر فرمایا حرام و حلال جانوروں پر ان لوگوں کا حد سے بڑھ جانا منحصر نہیں ہے بلکہ سوائے شرک کے چھپ کر بدکاری کرنے کو یہ لوگ گناہ نہیں سمجھتے، اس لئے ہو ایماندار شخص پرہیز کرے تاکہ قیامت کے دن ان کی طرح سزا نہ پاوے۔ اگر مشرکوں کے بہکاوے میں آکر مردار کا گوشت حلال کے طور پر کھاوے گا تو مشرکوں کا ساتھی ہوگا۔
Ayah 6:122

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

کیا جو شخص کہ (پہلے کفر کے سبب سے) مردہ تھا، پھر ہم نے اس کو (اسلام کی نعمت دے کر) زندہ کیا۔ اور اس کو (قرآن کی) روشنی دی جس کے ذریعہ سے وہ لوگوں میں (راہ ہدایت پر) چلتا ہے وہ اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جس کا حال یہ ہو کہ (کفر کے) اندھیروں میں (ہر طرف سے گھرا ہوا ہے) ان سے نکل نہ سکتا ہو، اسی طرح کافروں کی نظر میں (ناپاک) اعمال آراستہ کردیئے گئے ہیں (انہیں وہی اچھے معلوم ہوتے ہیں)

مومن اور کافر کی پہچان : اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مردہ سے کافر اور زندہ سے مومن مراد ہے، کیونکہ کافر کی مثال ایسے شخص کی دی ہے کہ مردہ ہونے کے سبب سے نہ اس کی آنکھیں ہیں نہ اس کے پاس روشنی ہے۔ دنیا میں وہ سمجھتا ہے کہ اچھے کام کررہا ہوں لیکن آخرت کا اس کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
Ayahs 6:123–124

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور ہم نے اسی طرح ہر بستی میں وہاں کے رئیسوں ہی کو فرائم کا مرتکب بنایا تاکہ مکر کریں اس (بستی) میں اور حقیقت میں وہ مکر نہیں کرتے مگر اپنی جانوں پر اور (اس حال کو) نہیں سمجھتے

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے کوئی نشانی آتی ہے کہتے ہیں کہ ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ ہم کو بھی ویسی ہی چیز نہ ملے جیسی کہ اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے، البتہ عنقریب گنہگاروں کو خدا کے ہاں ذلت پہنچے گی اور عذاب شدید بدلہ ان کی مکاری کا

شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ ابوجہل نے مکہ مکرمہ کے ناکوں اور راستوں پر کئی آدمی اس غرض سے بٹھارکھے تھے کہ وہ مکہ کے لوگوں سے اور موسم حج میں جو باہر کے لوگ مکہ میں آتے تھے ان سے آنحضرت ﷺ کی مذمت کریں۔ اور ایک روز حضرت سے آکر بڑی بحث کی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر دو مطلب بیان فرمائے۔ ایک تو آحضرت ﷺ کی تسلی اور تدکین فرمائی کہ ہر نبی کے ساتھ ہر بستی میں بھی اسی طرح شریر لوگ ہم نے پیدا کئے ہیں تاکہ ان کی شرارت پر کمزوری کے زمانہ تک نبی وقت کو صبر کرنے سے اجر ملے، اور شریر و سرکش لوگ غارت ہوجاویں اور ان کا غارت ہونا اور لوگوں کو باعث عبرت ہو اور لوگ دین الٰہی کی طرف رجوع ہوں۔ دوسرے آنحضرت ﷺ سے جو بحث کی تھی اس کا جواب یہ ہے کہ جو شخص اللہ کی پیغبری ادا کرنے کے لائق ہے وہ اللہ کو خوب معلوم ہے۔
Ayah 6:125

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

پس جس کو اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے کھول دیتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لئے اور جس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے تو اس کا سینہ خوب تنگ کردیتا ہے گویا کسی کی زبردستی سے آسمان پر چڑھ رہا ہے اللہ یونہی ناپاکی (یعنی عذاب) ڈالتا ہے ان لوگوں پر کہ جو ایمان نہیں لاتے ہیں

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو ایمان کی توفیق دیتا ہے اس کے دل میں روشنی پیدا کردیتا ہے، اور جس کو علم و توحید اور ایمان کی گنجائش نہ تو اس کی ایسی حالت ہوتی ہے کہ جب اس کو ایمان کی دعوت دی جاتی اور اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے وہ اس پر نہایت شاق اور بہت دشوار معلوم ہوتا ہے۔
Ayahs 6:126–127

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

اور یہ دین اسلام تمہارے پروردگار کی سیدھی راہ ہے بیشک ہم نے تفصیل کے ساتھ آیتیں بیان کردیں ہیں ان لوگوں کے واسطے کہ نصیحت قبول کرتے ہیں

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

ان کے لئے ہے اللہ کے پاس سلامتی کا گھر (یعنی بہشت) اور وہی ان کا کارساز ہے یہ ان کے ان عملوں کے سبب جو وہ کیا کرتے تھے

مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! قرآن میں جو احکام دین اسلام کے تم پر نازل کئے ہیں یہ وہ دین ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا مندی کا سیدھا رستہ ٹھہرایا ہے۔ اور اس میں سب باتوں کی تفصیل ہے جو اس پر عمل کریں گے تو اللہ تعالیٰ جنت عطا کرنے کا کفیل اور ضامن ہے۔
Ayahs 6:128–129

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور جس دن کہ وہ ان سب کو جمع کرے گا (اور فرمائے گا) کہ اے جماعت جنات ! تم نے بہت سے آدمی (اپنے وسوسہ اندازیوں سے) گھیرلئے اور انسانوں میں سے جو لوگ ان کے دوست ہیں وہ کہیں گے اے پروردگار ہمارے ! ہم میں ایک نے دوسرے سے (گمراہی کے کاموں میں) فائدہ اٹھایا اور بالآخر ہم اپنی اس مقررہ میعاد پر پہنچے جو تو نے ہمارے لئے ٹھہرادی تھی (اب فیصلہ تیرے ہاتھ ہے) خدا فرمائے گا آگ تمہارا ٹھکانا ہے اسی میں ہمیشہ رہو گے مگر جسے خدا چاہے (اے محبوب ! ) بیشک تمہارا پروردگار حکمت والا علم والا ہے

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلط کرتے ہیں ان کی اس کمائی کی وجہ سے جو وہ کرتے ہیں

اس کا مطلب یہ ہے کہ بہکانے والے شیاطین اور بہکنے والے بنی آدم کا جس طرح عام گروہ اوپر کی آیت کے موافق جہنمی قرار پاوے گا، اسی طرح اس عام گروہ میں سے خاص خاص ٹکڑیاں اس آیت کے موافق چھانٹ کر جہنم مین ڈالی جائیں گی مثلا بت پرستوں کی ایک ٹکڑی، تو سورج پرستوں کی دوسری ٹکڑی (جماعت)
Ayah 6:130

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے جنوں اور انسانوں کے گروہ ! کیا نہیں آئے تھے تمہارے پاس تم میں سے رسول جو تم پر میری آیتیں پڑھتے اور اس دن سے جو تمہیں پیش آیا ہے ڈراتے وہ عرض کریں گے :” ہم نے اپنے اوپر اقرار کرلیا “ اور انہیں دنیا کی (چند روزہ) زندگی نے فریب دیا اور خود اپنی جانوں پر گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے۔

ڑ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بت پرست، سورج پرست، جن وانس کے قائل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ کیا اللہ کے رسولوں کی معرفت تمہیں اللہ کا وہ کلام نہیں پہنچا جس میں قیامت اور نافرمان لوگوں کے عذاب میں پکڑے جانے کا ذکر تھا۔ اس پر یہ اقرار کریں گے کہ اللہ کے رسولوں کی معرفت بلاشک کلام پہنچا لیکن دنیا کے مال ومتاع نے ہم کو ایسا مغرور کردی کہ ہم نے رسولوں کی نصیحت کو نہیں مانا بلکہ ہم ان کی نصیحت کو جھٹلاتے رہے۔
Ayahs 6:131–134

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

یہ پیغبروں کا بھیجنا تو اس لئے ہے کہ تمہارا پروردگار بستیوں کو ظلم سے تباہ نہیں کرتا ایسی حالت میں کہ وہاں کے رہنے والے (احکام الٰہی سے) بیخبر ہوں

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کے (لحاظ سے) مرتبے ہیں اور تمہارا پروردگار بیخبر نہیں ہے چیز سے کہ جو وہ عمل لاتے ہیں

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار غنی ہے رحمت والا (اے لوگو) اگر وہ چاہے تم کو دور کرے اور جانشین کرے تمہارے بعد جس کو چاہے، جیسا کہ تم کو اور (لوگوں) کی اولاد سے پیدا کیا

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

البتہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے بیشک وہ آنے والا ہے اور تم ہرگز عاجز کرنے والے نہیں

مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ یہ آسمانی کتابیں اور رسول اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سے اس لئے بھیجے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ناانصافی کے طور پر کسی بستی کے لوگوں کو غفلت اور بیخبر ی کی حالت میں غارت کرنا منظور نہیں۔ سب کو اللہ کے رسولوں کی معرفت اللہ کا کلام پہنچایا گیا اور پوری نصیحت کی اور پوری مہلت دی مگر وہ باز نہ آئے۔ جس سے دنیا مین طرح طرح کے عذاب سے ہلاک ہوگئے۔ عقبیٰ میں جدا سزا پائیں گے۔ کیونکہ ہر ایک کے عملوں کے موافق جزا وسزا کے درجے ٹھہرا رکھے ہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو اب تک پچھلی قوموں کی طرح ان کو ہلاک کرکے دوسری کسی فرمانبردار قوم کو ان کی جگہ پیدا کردیتا۔ جس طرح پچھلی قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کو پیدا کیا تھا۔ یہ خوب سمجھ لیں کہ مہلت قیامت کو ٹال نہیں سکتی، اس سے بچنے کے لئے کچھ سامان نہ کریں گے تو اس عذاب سے بھاگنے کے لئے جگہ بھی ان کو کہیں نہ ملے گی ۔
Ayah 6:135

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

(اے محبوب ! ) تم فرماؤ : ” اے میری قوم ! تم اپنی جگہ پر کام کئے جاؤ میں بھی اپنا کام کرتا ہوں پھر عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ کس کے لئے آخرت کا گھر اچھا ہے، بیشک ظالم کامیاب نہیں ہوتے “

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ ان سب باتوں کا حال سننے کے بعد بھی تم لوگ اپنی سرکشی سے بعض نہیں آتے تو اچھا تم اپنی حالت پر رہو میں اپنی حالت میں رہتا ہوں۔ چند دنوں میں انجام ہر ایک کا تم کو معلوم ہوجاوے گا مگر اتنی جات یاد رکھو کہ تم جو دوسروں کو اللہ کا شریک کرتے ہو یہ بڑے ظلم اور ناانصافی کی بات ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنی بردباری سے چھوڑ رکھا ہے۔ اس کو غنیمت جانو ورنہ آخر ایسے ناانصافوں کا کبھی کچھ بھلا نہ ہوگا اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے۔ جس کا بدر کی لڑائی میں نتیجہ نکل آیا کہ مارے گئے۔ زمانہ جاہلیت میں مشرکین کا طریقہ تھا کہ وہ اپنے کھیتوں اور درختوں کے پھلوں اور چوپایوں اور تمام مالوں میں سے ایک حصہ اللہ کا، ایک بتوں کا مقرر کرتے تھے۔ اللہ کا حصہ تو مہمانوں اور مسکینوں پر صرف کرتے تھے اور بتوں والا حصہ خاص ان پر اور ان کے خادموں پر صرف کرتے تھے اور جو حصہ اللہ کے لیئے مقرر کرتے اگر اس میں سے کچھ بتوں والے حصہ میں مل جاتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر بتوں والے حصہ میں سے کچھ ملتا تو اس کو نکال کر پھر بتوں ہی کے حصہ میں شامل کردتے۔ اس آیت میں ان کی جہالت اور بدعقلی کا ذکر فرما کر ان پر تنبیہ کی کہ یہ لوگ انتہا درجے کے جہل میں گرفتار ہیں۔
Ayahs 6:136–137

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور اللہ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے انہوں نے اس میں اک حصہ خدا کے لئے ٹھہرایا اور اپنے خیال کے موافق (کچھ حصہ کو) کہتے ہیں کہ یہ حصہ خدا کا ہے اور یہ ہمارے شریکوں کا ہے۔ پس جو ان کے شریکوں کا ہے وہ تو خدا کو نہیں پہنچتا اور جو اللہ کا ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اسی طرح بہت سے مشرکین کی نظر میں بھلا کر دکھایا ہے ان کے شریکوں نے ان کی اولاد کا قتل کرنا تاکہ انہیں ہلاک کردیں اور ان کا دین ان پر مشتبہ کردیں اور اللہ چاہتا تو ایسا نہ کرتے تم ان کو اور ان کے ڈھکوسلوں کو (انہی کے حال پر) چھوڑ دو

زندہ لڑکیوں کے گاڑنے کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قیس بن عاصم تمیمی صحابی ؓ کے اسلام لانے سے پہلے ان کے دشمن نے ان پر حملہ کیا اور ان کی بیٹی کو چھین کرلے گیا۔ اس دن سے انہوں نے قسم کھالی کہ آئندہ جو لڑکی ان کے گھر میں پیدا ہوگی وہ اس کو زندہ گاڑ دیا کریں گے۔ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے رسم عرب میں نکالی، پھر رفتہ رفتہ اکثر عرب میں پھیل گئی۔ یہ رسم ایک نادانی کی بات تھی اس لئے مذمت کے طور پر اس کا ذکر اس آیت میں فرمایا : اذ الشمس کورت میں آوے گا کہ قیامت کے دن اس جرم کی سزادی جاوے گی۔ جس طرح شیاطین نے ان لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈال دیا ہے کہ اگر یہ لوگ اپنے مال میں بتوں کا حصہ ٹھہراویں گے تو بت اللہ سے سفارش کریں گے۔ اسی طرح یہ بھی وسوسہ ڈال دیا ہے کہ لڑکیوں کے زندہ چھوڑدینے میں طرح طرح کی ذلت کا اندیشہ ہے۔ یہ کام شیاطین نے اس واسطے کیا کہ لوگ ملت ابراہیمی سے بہک کر اس گناہ کی سزا دوزخ میں بھگتیں جس سے شیطانی جماعت بڑھ جاوے۔ پھر فرمایا اگر اللہ چاہے تو یہ لوگ ایسے کام چھوڑ دیں۔ لیکن دنیا کو اللہ تعالیٰ نے نیک وبد کے امتحان کے لئے پیدا کیا ہے، اس لئے کسی برے کام سے مجبور ہوکر کے کسی کو باز رکھنا انتظام الٰہی کے خلاف ہے۔ اس لئے اے رسول اللہ کے ! ﷺ ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاوے۔ آگے مطلب یہ ہے کہ لوگ ان نافرمانی کی باتوں کو ملت ابراہیمی کے مسئلے اور اللہ تعالیٰ کا حکم بتاتے تھے۔ حضور نے فرمایا کہ تم پر جیتی لڑکیوں کے گاڑ دینے کا جرم ہے۔
Ayahs 6:138–139

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور (کہ کافر) اپنے خیال کے موافق (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ مویشی اور کھیتی منع ہے اسے وہی کھائے جس کو ہم چاہیں اور کچھ مویشی ایسے ہیں کہ جن پر چڑھنا لادنا حرام کررکھا ہے اور ایسے بھی میشی ہیں کہ (ذبح کرتے ہوئے) ان پر خدا کا نام نہیں لیتے یہ سب انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے البتہ وہ ان کو عنقریب ان کے جھوٹ کی سزا دے گا

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور کافر بولے جو (بچہ) ان مویشیوں کے پیٹ میں ہے وہ مخصوص ہے ہمارے مردوں کے لئے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے اور اگر مرا ہوا نکلے تو پھر وہ اس میں سب شریک ہیں، البتہ اللہ ان کو سزا دے گا ان کی باتوں کی، بیشک وہ مضبوط تدبیر والا جاننے والا ہے

مشرکین کچھ جانوروں کو اور کچھ کھیتی کے حصہ کو بتوں کے نام ٹھہرا کر عورتوں پر اس کو حرام کردیتے تھے کہ فقط بتوں کے پجاری اور مرد کام میں لاویں۔ اسی طرح بتوں کے نام کے جانور آزاد کردیتے تھے اور سواری تک نہیں لیتے تھے، کہ حرام ہے۔ ان سب باتوں کو دین ابراہیمی مشہور کرتے تھے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ ان لوگون کا یہ جھوٹ ہے کہ یہ باتیں دین ابراہیمی کے موافق ہیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ان کے اس جھوٹ کی سزا دیوے گا۔ بحیرہ اور سائبہ وہ جانور جو کان چیر کر بتوں کے نام پر آزاد کردیئے جاتے ہیں۔ ان میں سے اگر کسی کے جیتا بچہ پیدا ہو تو وہ عورتوں پر حرام ٹھہرا رکھا تھا اور مردہ بچہ ان جانوروں کے ہو تو اس کو عورت مرد دونوں کھاتے تھے، اور کہتے تھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ اس لئے اس نادانی کے ذکر کے بعد فرمایا کہ یہ بات ان کی جھوٹ ہے، اس جھوٹ کی سزا ان کو قیامت کے دن کی جاوے گی۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور اپنے علم کے موافق بعضے چیزوں کے حلال اور بعضے کے حرام ہونے کا حکم دیا ہے جس کا ذکر اوپر گزرا ہے۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم میں دخل دیا ہے جس کی سزا آخرت کو یہ بھگت لیویں گے۔
Ayah 6:140

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

بیشک تباہ ہوئے وہ لوگ کہ جنہوں نے اپنی اولاد کو بیوقوفی میں آکر جہالت سے قتل کرڈالا اور اللہ کی دی ہوئی روزی کو حرام ٹھہرایا اللہ پر جھوٹ باندھنے کو، بیشک وہ لوگ گمراہ ہوئے اور ہدایت پانے والے نہ ہوئے

اس آیت میں مشرکوں کی اوپر کی آیتوں کا نتیجہ بیان فرمایا ہے کہ جنہوں نے اپنی لڑکیوں کو مارا اور اپنے مال کو بتوں کے نام کا ٹھہرا کر اس مال کو حرام قرار دیا تھا، وہ دین ودنیا کے ٹوٹے (نقصان) میں پر گئے۔ کیونکہ لڑکیوں کے مار ڈالنے میں دنیا کا یہ ٹوٹا ہوا کہ ان کی اولاد میں کمی ہوگئی اور دین کا ٹوٹا یہ ہے کہ آخرت میں عذاب ہوگا۔ اسی طرح بتوں کے نام جو مال ٹھہرا کر حرام کیا اس میں دنیا کا ٹوٹا تو یہ ہے کہ اپنی گرہ کا مال کھویا اور دین کا ٹوٹا یہ ہے کہ اس کا وبال قیامت کے دن ان کو بھگتنا پڑے گا۔ جو شخص قرآن شریف کی نصیحت کا پابند ہوگا وہ کبھی خراب نہ ہوگا۔
Ayah 6:141

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے جس نے پیدا کئے کچھ باغ چھتری دار (جیسے اگور کی بیلیں) اور کچھ بغیر چھتری کے (جیسے عام درخت) اور کھجور کے درخت اور کھیتیاں جس میں مختلف کھانے کی چیزیں ہیں، اور زیتون اور انار بھی کسی بات میں ملتے ہیں اور کسی میں الگ کھاؤ، اس کے پھل جب اس مین پھل لگ جائیں اور چاہئے کہ جس دن کاٹو اس کا حق دے دیا کرو (یعنی زکٰوۃ) اور بیجا نہ خرچ کرو۔ بیشک خدا نہیں پسند کرتا بیجا خرچ کرنے والوں کو

کھیتی اور پھلوں پر زکٰوۃ اور حرام و حلال کا ذکر مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ جتلایا کہ کھیتی کی پیداوار، پھل دار اور درختوں کے پھل اور انگور کی بیلیں جو چھتریوں پر چڑھائی جاتی ہیں اور آم، انگور، انار یہ صورت اور مزہ دونوں میں ملتے جلتے ہیں اور بعضوں کی صورت ملتی جلتی ہے لیکن مزہ الگ ہوتا ہے اور بعضوں کی صورت اور مزہ دونوں الگ الگ ہوتے ہیں، یہ سب اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں۔ پھر یہ لوگ شیطان کا حصہ ٹھہراتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنی بردباری سے ان چیزوں کے پیدا کرنے کو بدستور جاری رکھتا ہے۔ جب کھیتی کاٹی جاوے یا پھل توڑے جاویں تو اس کی زکٰوۃ یعنی عشر اس وقت واجب ہوتی ہے۔ لکڑی، بانس، گھاس کے سوا زمین کی پیدا وار میں اگر یہ پیداوار بارش سے ہو تو اس میں عشر یعنی دسواں حصہ واجب ہوتا ہے اور اگر رہٹ وغیرہ سے ہو تو نصف عشر۔ اگر کل مال خرچ کرڈالا اور اپنے عیال کی کچھ نہ دیا اور خود فقیر بن بیٹھا تو یہ خرچ بےجا ہے، اور اگر صدقہ دینے ہی سے ہاتھ روک لیا تو یہ بھی بےجا ہے اور داخل اسراف ہے۔
Ayah 6:142

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور پیدا کئے کچھ چارپایوں میں سے بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین پر لٹائے جاتے ہیں، واسطے ذبح کے، سو اس میں سے کھاؤ کہ خدا نے تم کو روزی دی ہے اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو، وہ بیشک تمہارا ظاہر دشمن ہے

مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن فائدوں کے لئے جانوروں کو پیدا کیا ہے ان مشرکوں نے ان فائدوں کو چھوڑ کر بعضے جانوروں کی سواری کو اور بعضوں کے گوشت کو اپنی طرف سے جو حرام ٹھہرایا ہے یہ شیطانی بہکاوا ہے جس سے ہر ایک کو بچنا چاہیے۔ کیونکہ شیطان ہر آدمی کا کھلا کھلا اور بڑا دشمن ہے اور دشمن کے فریب سے بچنا ہر عقلمند کا کام ہے۔
Ayahs 6:143–144

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

چاربایوں میں (جن کا گوشت کھایا جاتا ہے) آٹھ قسمیں پیدا کیں ایک جوڑ بھیڑ کا اور ایک جوڑ بکری کا (یعنی نر و مادہ) ، (اے محبوب ! ﷺ) ان لوگوں سے پوچھو کیا ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے خدا نے یا (ان) دونوں ماہ کو یا ان دونوں ماداؤں کے پیٹ کے بچہ کو بتاؤ، تو مجھے کسی علم سے اگر تم سچے ہو

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور (اسی طرح) اونٹ میں سے دو قسمیں ہیں اور گائے میں سے دو قسمیں (یعنی نر و مادہ) ، تم ان سے پوچھو کیا خدا نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا (ان) دونوں مادہ کو یا اس کو جسے لئے ہوئے ہیں پیٹ میں دونوں مادہ، کیا تم اس وقت موجود تھے جب خدا نے تمہیں اس بارہ میں حکم دیا تھا پس اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے جہالت سے اللہ پر جھوٹ باندھے، بیشک اللہ ان لوگوں کو (سعادت و فلاح کی) راہ نہیں دکھاتا جو ظلم کرنے والے ہیں

مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ بھیڑ بکری کے نر حرام کئے اور نہ ان کی مادئیں حرام کیں، نہ ان کی اولاد ان میں سے۔ تمہارا یہ جعل کہ کبھی نر حرام ٹھہراؤ کبھی مادہ کبھی ان کے بچے یہ سب تمہارا بنایا ہوا ہے جو کسی کے حرام کرنے سے حرام نہیں ہوتے۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں ایسے ظالم اور جھوٹھے لوگوں کو مجبور کر کے اللہ تعالیٰ راہ راست پر لانا نہیں چاہتا۔ اس لئے یہ لوگ جس حالت پر ہیں اسی حالت پر مریں گے اور عقبیٰ میں ان اعمال کی سخت سزا پاویں گے۔
Ayah 6:145

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

اے محبوب ! ﷺ) تم فرماؤ :” جو وحی میری طرف بھیجی گئی ہے میں اس میں حرام نہیں پاتا کہ کسی کھانے والے پر اس کا کھانا حرام ہو مگر یہ کہ مردار ہو یا رگوں کا بہتا ہوا خون یا سور کا گوشت پس یہ چیزیں بلاشبہ نجاست سے ہیں یا (وہ) جانور جس کے ذبح کرتے ہوئے غیر خدا کا نام پکارا گیا لیکن جو کوئی کہ ناچار ہی ہوجائے اور بشرطیکہ نہ طالب لذت ہو اور نہ حد سے گزرنے والا ہو (تو جان بچانے کے لئے ان حرام چیزوں میں سے قدرے کھالے) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے “

اس آیت میں مشرکین کو تنبیہ فرمائی کہ اے محبوب ﷺ ! تم ان سے کہہ دو کہ جن جانوروں کو تم نے اپنی طرف سے حلال یا حرام ٹھہرا رکھا ہے ان کا ذکر اللہ کا حکم قرآن کے ذریعہ جو آیا ہے وہ خلاف حکم ہے۔ مثلا مردہ جانور جو بتوں کے نام پر ذبح کرتے ہو اور جو ذبح کرتے وقت خون بہتا ہے یہ سب حرام ہیں۔ اسی طرح وہ سانڈ جو بتوں کے نام پر چھوڑ دیا کرتے ہو، وہ اونٹ جس کے دل جھول بچوں کے پیدا ہوئے ہوں اور حرام نہیں۔ اور سور حرام ہے اور سور کا جسم ناپاک ہے۔ مردار میں سے دو مردار مچھلی اور ٹڈی او خون میں سے دو خون کلیجی اور تلی حلال ہیں۔ مسئلہ : ہے کہ جو شخص بھوک کے سبب سے ایسا عاجز اور بےبس ہوجائے کہ اس کو اپنی جان کے تلف ہوجانے کا خوف ہو تو وہ بقدر اپنی جان بچانے کے ان حرام چیزوں کو کھاسکتا ہے اللہ معاف کرنے والا ہے اور مہربان وہ ایسا ہے کہ اس نے ضرورت کے وقت حرام چیز کو جائز فرمایا۔
Ayah 6:146

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن والا جانور حرام کردیا اور گائے اور بدری کی چربی بھی ان پر حرام کردی مگر وہ چربی جو ان کی پیٹھ میں لگی ہو یا انتریوں میں یا جو ہڈی سے ملی ہو ہم نے یہ ان کی سرکشی کی سزا دی اور بیشک ہم ضرور سچے ہیں

کافروں کے عذر کا جواب مطلب یہ ہے کہ یہود نے جب کوئی گناہ کیا تو وقتا فوقتا اس گناہ کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے نبی کی معرفت یہ چیزیں یہود پر حرام کی ہیں۔ چرندوں میں اونٹ اور پرندوں میں بطخ اور اسی طرح کے سب چرند وپرند یہود پر حرام تھے، اور گائے بکری کی انتڑیوں اور گردوں پر کی چربی بھی حرام تھی اور ہماری شریعت میں حلالا ہیں۔ پھر فرمایا اللہ سچا ہے اور اللہ کا کلام سچا ہے۔
Ayah 6:147

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

پھر اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو تم فرماؤ کہ تمہارا پروردگار وسیع رحمت والا ہے اور عذاب مجرموں سے نہیں ٹالا جاتا

مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ان لوگوں کے دل جانتے ہیں کہ جو بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے وہی سچی ہے۔ اس پر ضد سے یہ لوگ تم کو جھٹلاویں تو ان سے کہہ دیا جاوے کہ یہ اللہ کی مہربانی کی سمائی کا سبب ہے جو تم لوگ باوجود سرکشی اور طرح طرح کے گناہوں کے اب تک عذاب الٰہی سے بچے ہوئے ہو۔ لیکن یہ عادت الٰہی ہے کہ کثرت گناہوں کی سبب سے جب کسی گنہگار قوم پر عذاب آجاتا ہے تو پھر وہ نہیں ٹلتا۔
Ayahs 6:148–149

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

اب کہیں گے مشرک لوگ : ” اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے نہ ہمارے باپ دادا نہ ہم کچھ حرام ٹھہراتے کسی چیز کو “ اسی طرح جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ ہمارا عذاب چکھا (اے محبوب ! ﷺ) تم فرماؤ : ” کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے تو اسے ہمارے روبرو لاؤ، اصل یہ ہے کہ تم تو محض خیال کی پیروی کرتے ہو اور تم یونہی اٹکلیں لگاتے ہو “

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

(اے محبوب) تم فرماؤ : ” اللہ ہی کی مضبوط دلیل ہے پس اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت فرماتا “

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ شرکوں کو اس میں تنبیہ ہے کہ وہ کہتے تھے : ” ہم پڑے بوڑھوں کے ڈھنگ پر چلتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہوتا تو ان کو اس ڈھنگ پر قائم نہ رکھتا “۔ پھر مشرکین کی اس بات کا یہ جواب فرمایا کہ ان لوگوں کی یہ حجت کچھ نئی نہیں ہے ان کے بڑے بھی اسی طرح حجتیں کرتے تھے۔ آخر کو طرح طرح کے عذابوں میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوگئے۔ پھر فرمایا : ” اے رسول اللہ کے ! اب تم ان لوگوں سے کہو کہ ان کے ڈھنگوں کے اچھے اور اللہ کی مرضی کے موافق ہونے کی کوئی سند ان کے پاس ہو تو ان کو نکال کر پیش کریں لیکن اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ کوئی سند پیش نہیں کرسکیں گے کیونکہ یہ لوگ اٹکل سے چلتے ہیں۔ ان پر آسمانی کتاب اور رسول بھیج کر اللہ تعالیٰ نے جو ان کی اٹکل کے غلط ہونا کا الزام قائم کیا ہے، اس الزام سے یہ لوگ بچ نہیں سکتے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں کو مر کر پھر جینے اور اللہ کے روبرو کھڑے ہونے اور شرک کی جوابدہی کرنے کا پورا یقین ہے اس واسطے یہ اپنے شرک پر اڑے ہوئے ہیں۔ اور بتون کو اللہ کے برابر گنتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے کا پورا یقین ہے وہ ایسی شرک کی باتوں سے گھبراتے ہیں۔
Ayahs 6:150–152

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

تم فرماؤ : ” اپنے عالموں کو لے آؤ وہ جو اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام کردیا ہے پھر اگر بالفرض وہ جھوٹی گواہی بھی دے دیں تو (اے سننے والے ! ) ان کے ساتھ گواہی نہ دینا “۔ اور ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر اعتقاد نہیں رکھتے ہیں اور وہ اپنے پروردگار کے برابر والا ٹھہراتے ہیں (معبود باطل کو)

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:151 in the Quran reader

تم فرماؤ :” آؤ میں تمہیں (کلام الٰہی میں) پڑھ کر سناؤں جو کچھ تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کردیا ہے کہ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو مفلسی کے ڈر سے، ہم تمہیں اور انہیں سب کو رزق دیتے ہیں، اور بےحیائیوں کے پاس نہ جاؤ جو ان میں علانیہ ہیں اور پوشیدہ ہیں اور کسی جان کو قتل نہ کرو کہ خدا نے اس کا قتل کرنا حرام کردیا ہے مگر حق پر (جیسے قصاص میں ہے) ، یہ ہے جس کا تم کو حکم فرمایا ہے تاکہ تم سمجھو

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

اور تم یتیموں کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر اس طریقے سے کہ وہ بہت بہتر ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جاویں اور انصاف کے ساتھ ناپ اور تول پورا کیا کرو، ہم کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر اس کے مقدور بھر اور جب کوئی بات کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ معاملہ تمہارے قرابت دار ہی کا ہو، اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو، یہ تاکید تم کو فرمائی تاکہ نصیحت کے قبول کرنے والے ہوجاؤ

ماں باپ پر احسان کرنا کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر شرک حرام کیا، اس لئے تم لوگوں کو چاہیے کہ شرک سے باز آؤ۔ اگرچہ ماں باپ کے ساتھ برائی سے پیش آنا حرام ہے لیکن ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجاوے کہ ماں باپ کے ساتھ فقط برائی سے پیش نہ آنا کافی نہیں ہے بلکہ برائی سے بچ کر ان کے ساتھ ہر ایک طرح کا احسان بھی ضروری ہے۔ آگے فرمایا کہ بتون کو شریک ٹھہرانا، تنگی معاش سے لڑکیوں کو مار ڈالنا، ظاہر کے زنا کو عیب نہ شمار کرنا۔ مخفی طور پر کوئی زنا کرے تو اس کو عیب نہ لگانا۔ آپس میں خوں ریزی اور خانہ جنگی کرنا، یتیموں کا مال کھانا، جھوٹ بولنا، کم تولنا، وعدہ خلافی کرنا یہ سب چھورنے کے لائق باتیں ہیں، جو نہ چھوڑے گا وہ دوزخی ہے۔ ان گناہوں میں شرک تو ایسا بڑا گناہ ہے کہ بغیر توبہ کے مرجائے گا تو اس کی بخشش نہ ہوگی۔ اور سوا شرک کے اور گناہوں کا گنہگار شخص اگر بغیر توبہ کے مرجائے گا تو ایسے کی مغفرت اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ بغیر عذاب دیئے جنت میں داخل کرے یا عذاب دے کر جنت میں داخل کرے۔
Ayah 6:153

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

اور یہ کہ یہی راہ میری (ٹھہرائی ہوئی) سیدھی راہ ہے پس اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ خدا کی راہ سے بھٹکا کر تمہیں جدا جدا کردیں گے، یہ تم کو حکم فرمایا ہے تاکہ تم پرہیز گار ہوجاؤ

مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ نجات کا راستہ فقط ایک ہی ہے۔ جس راستہ پر خود آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام بھی نجات کے خواستگار۔ ہر مسلمان کو لازم ہے کہ وہ ادھر ادھر نہ بھٹکے اور نجات کے راستہ کو مضبوط پکڑے، اور خوب یقین کرلے کہ مخبر صادق صاحب وحی ﷺ نے جس نجات کے راستہ کا پتہ بتلایا ہے وہ یہی ہے کہ ہر عقیدے اور ہر عمل میں آدمی آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کے قدم بقدم جاوے اور خدائے تعالیٰ ہر مسلمان کے دل میں اس نصیحت الٰہیہ کا اثر پیدا کرے۔
Ayahs 6:154–155

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب (یعنی توریت) عطا فرمائی پورا احسان کرنے کو اس پر جو نیکو کار ہے اور ہر چیز کی تفصیل۔ اور ہدایت اور رحمت تاکہ وہ اپنے پروردگار کے ملنے پر ایمان لاویں

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور (اب) ہم نے یہ مبارک کتاب (یعنی قرآن مجید) نازل فرمائی ہے پس تم اس کی پیروی کرو اور پرہیزگاری کرو تاکہ تم پر مہربانی کی جاوے

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تفصیلی احکام شرعی اور پورے پچھلے لوگوں کی ہلاکت کے قصے ملا کر توریت ایسی حسن ترتیب سے نازل کیا گیا ہے جس کی ہدایت کا اثر بنی اسرائیل کے دلوں پر پورا پڑے گا اور توریت کے نازل ہونے پر عام عذاب کی نوبت نہ آئے گی۔ اسی واسطے فرمایا کہ تورات کا نازل ہونا بنی اسرائیل کے حق میں ایک رحمت الٰہی ہے۔ آخر کو یہ جو فرمایا کہ شاید اس قدر رحمت کے بد یہود کے دلوں میں ایک دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے کا یقین پیدا ہو، جس کے سبب سے وہ اصلی توراۃ کے احکام کی پوری پابندی کر کے اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کے وقت پوری سرخروئی حاصل کریں۔ اب آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) پر تو ارت نازل فرمائی، اسی طرح نبی آخر الزماں محمد رسول اللہ ﷺ پر یہ بابرکت کتاب نازل فرمائی جس کا نام قرآن شریف ہے۔ اہل مکہ اس کی مخالفت کو چھوڑ کر اس کے احکام کی پوری پابندی کریں گے تو شاید ان کو اللہ تعالیٰ کے رحم کی امید کا موقع ملے گا۔
Ayahs 6:156–157

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

(یہ کتاب ہم نے اس لئے نازل فرمائی کہ تم) یہ کہو کہ کتاب (الٰہی) تو صرف ہم سے پہلے دو گروہ (یعنی یہودو نصاریٰ ) پر اتری تھی اور ہمیں ان کے پڑھنے پڑھانے کی کچھ خبر نہ تھی

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

یا تو یوں کہو : اگر ہم پر کتاب نازل ہوتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت پانے والے ہوتے پس تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت آچکی،

گنہگاروں کی توبہ کا وقت اور توحید کا ذکر ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو صاحب عذر کے عذر کا سننا بہت پسند ہے۔ اس لئے اس نے عربی میں قرآن شریف نازل فرما کر اہل عرب کی انجانیت کا عذر رفع کردیا۔ اب جو کوئی قرآن کی نصیحت خود نہ مانے گا اور لوگوں کو بھی نیک راہ سے روکے گا تو اس پر قیامت کے دن دوہرا عذاب ہوگا۔