6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 6:80–81

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور ان کی قوم ان سے جھگڑنے لگی (ابراہیم) نے کہا :'' کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو بیشک خدا مجھے ہدایت کرچکا ہے اور میں ان سے نہیں ڈرتا ہوں جن کو تم خدا کا شریک بناتے ہو ہاں جو میرا ہی پروردگار کوئی بات چاہے اور احاطہ کیا ہے میرے پروردگار نے سب چیزوں پر اپنے علم سے تو کیا تم نصیحت نہیں مانتے ہو

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

اور میں تمہارے شریکوں سے کیونکر ڈروں اور تم خود نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھرایا کہ جس کے لئے پر اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری پھر دونوں فریق میں سے کون زیادہ مستحق ہے امن کا (بتلاؤ) اگر تم جانتے ہو ''

جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر اور اپنی قوم کے روبرو ستارہ پرست اور بت پرستی کی مذمت کی تو ان لوگوں کو یہ بات بری لگی تو ان لوگوں نے اس بات پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جھگڑنا شروع کیا۔ کیونکہ ان ستارہ پرست بت پرستوں کا یہ اعتقاد ہے کہ جس طرح انسان میں جسم اور روح دو چیزیں ہیں، اسی طرح ستاروں اور چاند سورج میں بھی دو چیزیں ہیں۔ تمام دنیا کا انتظام انہی کی تدبیر سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق چلتا ہے لیکن ہماری رسائی ان تک نہیں ہے۔ اس وجہ سے ان ستاروں کی مورتیں بنا کر ان سے مدد لیتے ہیں، اور ان کی پوجا کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کا یہ جواب دیا کہ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے غیب سے مجھ کو جن باتوں کی ہدایت کی ہے ان کو چھوڑ دینے میں تم لوگ مجھ سے جھگڑتے اور اپنے بتوں سے مجھ کو ڈراتے ہو، تو میں تمہارے بتوں سے ذرا بھی نہیں ڈرتا۔ کیونکہ مجھے خوب معلوم ہے کہ جب تک میرا اللہ مجھ کو کوئی نقصان پہنچانا نہ چاہے اس وقت تک تمہارے بت میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اگر تم لوگ ذرا دھیان کرو تو تمہاری سمجھ میں بات خود آسکتی ہے کہ جس اللہ نے اپنے علم اور ارادہ کے موافق یہ سارا جہان پیدا پیدا کیا اس کا علم کیسا وسیع ہے۔
Ayahs 6:82–83

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

(خدائے تعالیٰ نے فرمایا) وہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ نہیں ملایا انہیں لوگوں کے واسطے امن ہے اور یہی لوگ راہ پانے والے ہیں

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

اور یہ ہے ہماری دلیل جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں دی تھی ہم جس کو چاہتے ہیں بلند کرتے ہیں بیشک تمہارا پروردگار مظبوط تدبیر والا ہے

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص سوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرے کو معبود جاننے کی حالت میں بغیر توبہ کے مرگیا وہ ہمیشہ کے لئے دوزخی ہے، اور جو شخص اس حال میں کہ اس کے اعمال میں شرک نہیں ہے، اگر ایسا شخص شرک کے سوا اور گناہوں کی سزا بھگتنے کے لئے دوزخ میں گیا بھی تو آخر کو ایسا شخص جنت میں جاوے گا۔ ظلم کے معنی '' شرک '' کے ہیں۔ مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ علم و عقل کی فضیلت کے ساتھ جسیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے درجے بلند کئے کہ انہوں نے نمرود جیسے بادشاہ اور اپنے باپ اور قوم سب کو قائل کیا۔ اسی طرح اے رسول اللہ کے ! اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور اپنے علم سے جس کا چاہے مرتبہ بڑھادے۔ اس کی حکمت اور علم کے آگے کسی کی کوئی تدبیر نہیں چل سکتی۔ اس میں آنحضرت ﷺ کو گویا یہ تسلی فرمائی گئی ہے کہ اگرچہ اہل مکہ مکرمہ اسلام کے کمزور کرنے کی تدبیریں کر رہے ہیں، لیکن اللہ کی حکمت اور اس کے علم کے آگے ان کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوگی۔ آخر کار ہوگا وہی جو اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے علم کے موافق ہونے والا ہے۔ اللہ سچا ہے، اللہ کا کلام سچا ہے۔ بدر کی لڑائی سے لے کر فتح مکہ تک اللہ تعالیٰ کو اپنی حکمت اور اپنے علم کے موافق جو کچھ منظور تھا وہ سب ہوگیا۔
Ayahs 6:84–89

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں اسحٰق اور یعقوب عطاکئے، ان سب کو ہم نے راہ دکھائی اور ان سے پہلے ہم نے نوح کو راہ دکھائی اور اس کی میں سے داود اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو، اور اسی طرح ہم نیکی کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو بھی ہدایت کی یہ سب ہمارے قرب کے لائق ہیں

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور ہدایت کی ہم نے اسمعیل کو اور الیسع کو اور یونس کو اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور ہدایت کی ہم نے بعضوں کو ان کے باپ دادا میں اور ان کی اولاد میں۔ اور ان کے بھائیوں میں سے اور پم نے ان کو چن لیا اور سیدھا رستہ دکھایا

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ اللہ کی ہدایت ہے کہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کے ساتھ رہنمائی کرتا ہے اور اگر وہ شرک کرت تو ضرور اکارت (ضائع) ہوجاتے ان میں سے جو کچھ انہوں نے عمل کئے تھے

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

یہ ہیں وہ لوگ کہ جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطاکی پھر اگر یہ لوگ اس سے منکر ہوں تو ہم نے ان پر (یقین لانے کے لئے) ایسے لوگ مقرر کردئے ہیں جو اس کے ہرگز منکر نہ ہوں گے

نبیوں کی فضیلت کا ذکر یہاں اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیاء کا ذکر فرمایا۔ اس ذکر میں نہ ترتیب زمانہ کے اعتبار سے ہے نہ فضیلت کے۔ لیکن عجیب شان سے ذکر فرمائے گئے ہیں وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی ہر ایک جماعت کو ایک خاص طرح کی کرامت و فضیلت کے ساتھ ممتاز فرمایا ہے۔ یعنی ہم نے ابراہیم، اسحق، یعقوب، داود، سلیمان، ایوب موسیٰ اور ہارون علیہم الصلوۃ والسلام کو مراتب عطا کئے اور سب کو ہدایے کی اور نوح کو بھی ہم نے ہدایت کی۔ نیکوں کو اسی طرح ہدایت کرتے ہیں اور ہم نے زکریا اور یحیٰ اور عیسیٰ اور الیاس علیہم لصلوۃ ولسلام کو ہدایت کی۔ یہ سب کے سب نیک بخت اور صالح تھے اور ہم نے ہدایت کی اسماعیل اور یسع یعنی خضر، یونس، لوط علیہم الصلوۃ والسلام کو اور ہر ایک کو ہم نے جہاں پر فضیلت دی۔ پھر فرمایا کہ توحید کے سبب نہ صرف ان کو بلکہ ان کے بزرگوں اور بھائیوں اور اولاد در اولاد کو بزرگی دی اور راہ راست کی ہدایت کی۔ ان کا عقبیٰ میں بھی مرتبہ بلند ہے اور دنیا میں بھی ان کی عزت و توقیر کی جاتی ہے، اور ان کے طریق پر لوگ چلتے ہیں۔ اگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو نبوت کے لئے پسند کرکے ان کو نبی بنایا، لیکن شرک ایسی بری چیز ہے کہ بالفرض اگر یہ لوگ بھی شرک کرتے تو ان کی نیکیاں اکارت ہوجاتیں۔ پھر فرمایا کہ جن لوگوں کا ذکر حضرت نوح علیہ السلا سے لے کر آخر تک ہوا یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے شریعت اور نبوت عطاکی ہے، جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے۔ یہ جو فرمایا کہ اگر یہ مکہ والے قرآن کو نہ مانیں گے تو اللہ تعالیٰ قرآن کے ماننے والے اور لوگ کھڑے کردے گا۔ تو وہ لوگ انصار تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کی عین مخالفت کے وقت اسلام کی امداد کے لئے کھڑا کردیا اور مکہ مکرمہ فتح ہوگیا اور تمام مکہ والے اسلام کے تابع ہوگئے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کل نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں جن میں سے تین سو تیرہ رسول ہیں۔ قرآن شریف میں پچیس نبیوں کا ذکر آیا ہے اٹھارہ کا ان آیتوں میں ہے، باقی سات کا ذکر اور آیتوں میں ہے جن کے نام یہ ہیں : حضرت آدم، ادریس، شعیب، صالح، ہود، ذوالکفل، محمد رسول اللہ علیہم الصلوۃ والسلام۔ ان نبیوں کے نبی ہونے کا یقین شریعت میں تفصیلی طو رپر ہے، باقی کا بغیر نام کے مبہم طور پر ذکر ہے۔
Ayah 6:90

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

یہ وہ جماعت ہے کہ جن کو اللہ نے ہدایت دی پس انہیں کی راہ کی تم بھی پیروی کرو (اے محبوب) تم فرماؤ کہ میں تم سے اس (تبلیغ قرآن) پر کچھ معاوضہ نہیں چاہتا یہ (قرآن) تو محض تمام جہان کے لئے ایک نصیحت ہے

اس آیت کا مطلب یہ ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بہ نسبت اور انبیاء کے قرآن ایک ایسا بڑا معجزہ دیا گیا ہے، جس کے سبب سے قیامت کے دن میری امت کی تعداد اور انبیاء کی امتوں سے زیادہ ہوگی، قرآن کی نصیحت کے مفید ہونے اور قیامت تک اس نصیحت کے اثر کے باقہ رہنے کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔
Ayahs 6:91–92

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور یہود نے اللہ کی قدر نہ جانی جیسی چاہئے تھی اور جب کہ انہوں نے یوں کہ دیا کہ اللہ نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اتارا فرماؤ :'' وہ کتاب کس نے اتاری جس کو موسیٰ لائے تھے لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت، جسے تم نے علیحدہ علیحدہ اوراق (پر نقل) کر رکھا ہے، ان (کچھ حصے) کو تو ظاہر کرتے ہو اور بہت سا پوشیدہ رکھتے ہو اور تم کو (قرآن کے ذریعہ سے) وہ باتیں تعلیم کی گئیں کہ جن کو تم نہ جانتے تھے نہ تمہارے باپ دادا '' تم فرمادو :'' اللہ ہی نے نازل کیا ہے '' پھر انہیں ان کی بیہودگی میں کھیلتے چھوڑ دو

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

اور یہ (قرآن) ایسی بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے کتابوں کی اور تاکہ تم اہل مکہ کو اور سارے جہان کو جو مکہ کے گرداگرد ہیں ڈر سنا دو اعتقاد رکھتے ہیں آخرت پر وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں

توحید و نبوت کا ذکر اور انسان کا انجام شان نزول : یہ آیت یود اور مشرکین مکہ کے حق میں اتری ہے، کیونکہ وہ کسی بشر کی نبوت کے اور کسی بشر پر کلام الہی کے اترنے کے قائل نہیں تھے اور کہتے تھے کہ اللہ کو نبی بھیجنا ہوتا تو آسمان سے کوئی فرشتہ آکر ہم کو اللہ کے احکام پہنچاتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس میں دونوں فرقوں کو قائل کیا گیا ہے۔ مشرکین مکہ کو یوں قائل کیا کہ جن یہود کے بھروسہ پر تمہارا انکار نبوت کے قبول کرنے میں بڑھا ہے وہ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبی کہتے ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بشر تھے پھر تم کیسے کہتے ہو کہ کوئی بشر نبی نہیں ہوسکتا۔ اور مالک بن سیف یہودی نے باوجود یہودی ہونے کے غصہ میں سب انبیاء کانکار کردیا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے اس کا قائل کرنا تو ایک ظاہر بات ہے، وہ بڑے ناشکر ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی کچھ قدر نہ کی۔ پھر فرمایا کہ ان یہودیوں نے کتاب آسمانی ایک یہ بھی ناقدری کی کہ اصل پوری کتاب کو چھپاکر الگ ورقوں پر توریت کو جابجا نقل کرلیا ہے اور ان ورقوں میں جب چاہتے ہیں اپنی مرضی کے موافق تغیر و تبدل کرلیتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ قرآن میں بعض وہ باتیں ان کو بتلائی گئی ہیں کہ اب تک اہل کتاب مشرکین اور ان کے بڑوں کو معلوم نہ تھیں۔ مگر قرآن کو کتاب آسمانی نہ ماننے کے سبب سے یہ لوگ ان باتوں کے جاننے سے محروم و ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل فرمائی، اسی طرح اے نبی آخر الزماں ﷺ ! تم پر اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل فرمایا ہے۔ جس سے قیامت تک لوگ نفع اٹھائیں گے۔
Ayah 6:93

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 6:93 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے کہ جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا کہا کہ میری طرف وحی آتی ہے حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہیں ہوئی اور جو یہ کہے کہ جیسا کلام اللہ نے اتارا ہے اس طرح کا میں بھی لاتا ہوں اور اگر تم اس وقت دیکھو جب کہ یہ ظالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوں اور فرشتے ان کی طرف اپنے ہاتھ بڑھاکر کہ رہے ہوں کہ اپنی جانوں کو نکالو آج تم کو ذلت کا عذاب دیاجائے گا بسبب اس کے کہ تم لگاتے تھے اللہ پر جھوٹ اور بسبب اس کے کہ تم اللہ تعالیٰ کی آیات سے تکبر کرتے تھے

اس آیت میں ان کا ذکر ہے جو بغیر معجزہ اور بغیر شہادت کلام الہی کے اپنے آپ کو نبی مشہور کرتے تھے، جیسے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی جو دونوں وحشی اور فیروز کے ہاتھ ماے گئے، ان دونوں کے قریب قریب عبد اللہ بن سرح کا قصہ ہے۔ اس قسم کے وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں۔ اس طرح کے سب لوگوں کی شان میں یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا :'' جو شخص میرے ذمہ کوئی جھوٹی بات لگادے تو اس کا ٹھکانا دوزخ ہے ''۔ ان آیتوں میں موت کے وقت کی شدت اور سختی کا ذکر ہے۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ علم الہی میں جو لوگ لائق عذاب کے ہیں، ان کی قبض روح کے وقت بڑے ہیبت ناک صورت فرشتے آتے ہیں، اور اس لائق عذاب شخص کی روح کو خبر سناتے ہیں کہ جسم سے الگ ہوتے ہی عذاب قبراس پر ہونے والا ہے۔ اس عذاب کے کوسے روح جسم میں جگہ جگہ چھپتی ہے اور فرشتے بڑی سختی سے اس روح کو نکالتے وقت یہ کہتے ہیں کہ اے ناپاک روح ! اللہ کے عذاب میں پھنسنے کے لئے جلدی نکل اور طرح طرح کی مار مارتے ہیں تو روح نکلتی ہے تو ایک طرح کی بدبو روئے زمین پر پھیل جاتی ہے۔ جس سے ان فرشتوں کو جو روئے زمین پر ہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ کوئی ناپاک روح جدا ہوئی ہے۔ اب آگے فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! اب تو یہ لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں، کوئی غیروں کو اللہ کا شریک ٹھراتا ہے، کوئی اپنے آپ کو نبی بتلاتا ہے لیکن عذاب قبر اور عذاب قیامت کے علاوہ ان لوگوں کی جان کنی کا وقت بھی دیکھنے کے قابل ہے۔
Ayahs 6:94–97

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

اور (ہم ان سے کہیں گے) '' بیشک تم ہمارے پاس اکیلے آئے جیسا کہ ہم نے تم کو اول مرتبہ پیدا کیا تھا اور جو کچھ (سازوسامان) ہم نے تم کو (دنیا میں) عطا کیا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے ہی چھوڑ آئے، اور (آج) تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم گمان کرتے تھے کہ تمہارے معاملہ میں وہ خدا کا شریک ہیں، بیشک (اب) تمہارے درمیان میں قطع تعلق ہوگیا اور جو کچھ تم دعویٰ کرتے تھے وہ تم (لوگوں کے دماغ) سے جاتے رہے ''

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی دانے اور گٹھلی کو چیر کر (سبزہ اور درخت نکالنے) والا ہے اور زندہ کو مردہ سے نکالنے والا ہے (یعنی نطفہ سے آدمی) اور نکالنے والا ہے مردے کو زندہ سے (یعنی بدن سے نطفہ) یہی تمہارا خدا ہے۔ پس تم کہاں بہکے جاتے ہو

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

وہ تاریکی چاک کرکے صبح نکالنے والا ہے اور اس نے رات کو (تمہارے لئے) آرام گاہ بنایا اور سورج اور چاند کو (تمہارے) حساب (کا معیار مقرر کیا ہے) ، یہ اس کا ٹھرایا ہوا اندازہ ہے جو سب پر غالب اور علم رکھنے والا ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ ان سے خشکی اور دریا کی اندھیریوں میں رستہ پاؤ، بیشک ہم نے (اپنی قدرت کی) مفصل نشانیاں بیان کردیں اس گروہ کے لئے جو اہل علم ہیں

شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ نضر بن حارث ایک شخص مشک نے ایک روز کہا کہ مجھ کو کیا پرواہ ہے، لات و منات خدا کے روبرو میری سفارش کو کافی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ بت پرستوں کے بت جن کو وہ اپنے حمایتی خیال کرتے ہیں، اور مالداروں کا مال اور اولادوالوں کی اولاد جس کے پیچھے لوگ اپنی عمر صرف کرتے ہیں، یہ سب یہیں دنیا میں چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں۔ اللہ کے پاس ہر انسان ویسا ہی اکیلا جانے والا ہے جس طرح اکیلا دنیا میں آیا تھا۔ حاصل یہ ہے کہ دنیا سے کچھ ساتھ لے جانے کی چیز ہے تو وہ نیک عمل ہے۔ انسان کی پیدائش اور عجائبات قدرت ان آیتوں میں ان عجائبات، موجودات دنیا کا ذکر فرمایا ہے جن کے پیدا کرنے میں وہ وحدہ لاشریک منفرد ہے۔ مقصد ان موجودات کے ذکر فرمانے سے یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں دو سخت عیب جو تھے اس کی اصلاح ہوجائے۔ بڑا عیب تو بت پرستی کا تھا اس کی اصلاح موجودات پر غور کرنے سے یوں ہوسکتی ہے کہ زمین پانی پر پھیلائی گئی ہے کیونکہ جہاں زمین کو کھودا جاتا ہے وہاں پانی نکلتا ہے۔ کیا کسی میں یہ طاقت ہے کہ سمندر زمین پر بچھادے یا انار کی یا آم کی کچھ گٹھلیاں پرانی سوکھی ہوئی لے کر دنیا بھر کے حکیموں سے پوچھا جائے کہ ان سب کا ایک سا سوکھی لکڑی کا مزہ ہے۔ پھر ذرا عقل تو لڑاؤ کہ ایک گٹھلی سے انار اور آم اور دوسری سے کھٹا کیونکر پیدا ہوتا ہے۔ ان دونوں سوالوں کے جواب میں دونوں فریق سوا حیران رہنے کے کچھ جواب نہ دیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام مخلوقات میں سے کوئی فرد بشر اس وحدہ لاشریک کی قدرت کا شریک نہیں، پھر معبود بننے کا کوئی کس استحقاق اور برتے پر شریک ہوسکتا ہے۔ دوسرا عیب یہ تھا کہ وہ مر کر پھر جینے کے حکم کو جب سنتے تھے حیران ہوتے تھے۔ اس عیب کی اصلاح یوں ہوسکتی ہے کہ جب منی جیسی رقیق چیز سے ایسی سخت ہڈیاں بنیں اور باوجود سرد تر مزاج منی کے اس طرح مختلف مزاج کے پتلے اور جسم رحم جیسی تنگ جائے میں اس منی سے بن چکے ہیں، اور اندھیرے میں گھبرانے والی شے روح کا تعلق اس جسم کے ساتھ پیٹ کے اندر اندھیرے میں ہوچکا ہے، تو زمین کی مٹی سے جس میں مردوں کی مٹی مل چکی ہے جس کو گرم سرد اور تر و خشک کا خمیر کہنا چاہئے۔ دوبارہ جسموں کا بن جانا اور کھلے روشن میدان میں روح کا تعلق ان جسموں سے ہوجانا کیا ایسا مشکل ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ سوکھا دانا اور خشک گٹھلی سے سبز پیڑ نکلتا ہے، اور اس میں ایک دانے سے بہت سے دانے اور بہت سی گٹھلی اور میوے پھل پیدا ہوتے ہیں، بےجان انڈے سے جاندار مرغی کے پیٹ میں سے بےجان انڈا نکلتا ہے۔ اللہ کی یہ قدرت دیکھ کر پھر دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ ان کو فرمایا کہ وہ سیدھے راستے سے پھرے ہوئے ہیں۔ یہ قدرت کا نمونہ ہے کہ وہ رات کے اندھیرے کو پھاڑ کر صبح کے اجالے کو نکالتا ہے جس سے تمام کام چلتے ہیں، پھر انسان کام دھندے سے تھک جاتا ہے، آرام کے لئے رات پیدا کردیتا ہے۔ سورج اور چاند کی منزلیں اور چال اس حساب سے رکھی ہیں جس سے مہینہ اور سال کا حساب معلوم ہوجاتا ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوۃ اور دنیا کے بےگنتی معاملات کا حساب اس پر منحصر ہے۔ آسمان پر تارے اس کی قدرت کی ایک بڑی نشانی ہیں جن سے جنگل اور دریا کے مسافر کو اندھیری راتوں میں سیدھا راستہ معلوم ہوجاتا ہے۔ آخر کو فرمایا یہ سب نشانیاں ان لوگوں کے لئے ہیں جن میں کچھ ہوشیاری اور سمجھ ہے۔
Ayahs 6:98–99

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر کہیں تمہیں ٹھرنا ہے (یعنی رحم میں یا زمین پر) اور کہیں امانت رہنا (یعنی باہ کی پشت میں یا قبر کے اندر) بیشک ہم نے مفصل آیتیں بیان کردیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھتے ہیں

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے نکالیں اس پانی سے ہر قسم کی اگنے والی چیزیں، پس ہم نے اس پانی سے سبزہ نکالا جس میں سے دانے نکالتے ہیں ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے اور کھجور کے درختوں یعنی اس کی شاخاں میں سے گچھے زمین کی طرف جھکے پڑتے ہیں اور انگور اور زیتوں۔ اور انار کے باغات بہیترے (بکثرت) نکالے جو ظاہر میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور (مزے میں) ملتے جلتے نہیں، ان کے پھلوں کو دیکھو جب درختوں میں پھل لگتا ہے اور پھر ان کے پکنے کو دیکھو، بیشک جو ایماندار ہیں ان کے لئے ان میں بڑی نشانیں ہیں

پیدائش کا سلسلہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوا ہے۔ حضرت حوا حضرت آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا ہوئیں، ان سے تمام نسل قائم ہوئی جس سے ساری زمین بھر گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے پتلے کی مٹی تمام روئے زمین کی مٹی کو ملا کرلی ہے، اس واسطے ان کی اولاد کے رنگ اور مزاج مختلف ہیں۔ ماں کے رحم مین بچہ کا پتلا چار مہینے میں بن کر تیار ہوجاتا ہے تو روح پھونک دی جاتی ہے، وقت مقررہ پر بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اب آخر آیت میں فرمایا کہ یہ اللہ کی قدرت کی نشانیاں ان لوگوں کو مفید ہیں جو ان قدرت کی نشانیوں سے صاحب قدرت کے پہچاننے میں سمجھ دوڑاتے ہیں۔ مینہ برسنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہوا آسمان پر کے دریاؤں سے پانی اٹھاتی ہے، اسی پانی سے مینہ برستا ہے اور مینہ سے طرح طرح کے اناج، میوہ سب کچھ پیدا ہوتا ہے۔ گیہوں اور جو کی بالیں مکئی اور جوار کے بھٹے اسی طرح کھجور کے گچھے اور انگور کے خوشے سب قدرت کے نمونے ہیں۔ کہ لکری سے یہ پھل کیونکر پیدا ہوتے ہیں اور پکتے ہیں، لیکن یہ نشانیاں انہیں لوگوں کے لئے ہیں جن کو اللہ کی قدرت کے کارخانوں کا یقین ہے۔
Ayah 6:100

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور کافروں نے قوم جنات کو اللہ کا شریک مقرر کیا حالانکہ ان کو خدا ہی نے پیدا کیا ہے اور ان لوگوں نے جہالت سے اللہ بیٹے اور بیٹیاں گھڑلیں، وہ پاک ہے اور وہ بہت دور ہے ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں

مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے بت پرستی کا شرک جن یعنی شیطان کو اللہ کی عبادت میں شریک کیا، پھر اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتلاتے۔ اور اہل کتاب کا یہ شرک ہے کہ یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو اور نصاریٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو الل کا بیٹا قرار دیا جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں وہ ناسمجھی سے کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی شان ایسی باتوں پاک ار بالاتر ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنی برد باری سے اس گستاخی کی سزا میں جلدی نہیں فرمائی۔
Ayahs 6:101–102

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا اس کے فرزند کیسے ہو حالانکہ اس کی کوئی بیوی نہیں ہے اور اسی نے ہر چیز پیدا کیا ور وہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

یہی خدا تمہارا پروردگار ہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا پس اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز کا کارساز ہے

توحید و مشرکین کے بتوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے ایک اور نمونہ کا ذکر فرمایا کہ جس طرح دنیا میں لوگ کسی چیز کا نمونہ دیکھ کر اس کے موافق کوئی چیز بنا لیا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو اس طرح پیدا نہیں کیا بلکہ بغیر کسی نمونہ اور مثال کے اپنی قدرت سے آسمان و زمین کو نیست سے ہست کیا، اور پانی، عرش، لوح محفوظ، قلم ان چیزوں کی پیدائش سے پہلے ہے۔ اس سلسلہ سے پہلے سوائے اس کی ذات کے اور کچھ نہ تھا، پھر ان نیست سے ہست ہونے والی چیزوں کو نہ اس کی ذات کے ساتھ کچھ مناسبت ہے نہ اس نامناسبتی کے سبب سے کسی کو اس کی بی بی یا اولاد کہا جاسکتا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ جس نے سب کچھ پیدا کیا عبادت کے قاب وہی ایک معبود ہے۔ جس کو ہر ایک کی فرمانبرداری اور نافرمانی کا ذرا ذرا سا حال معلوم ہے اور تمام عالم کی نگہبانی اس کے ہاتھ میں ہے۔
Ayah 6:103

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

آنکھیں اسے احاطہ نہیں کرتیں اور سب آنکھیں اس کے احاطے میں ہیں اور وہی ہے باطن پورا خبردار

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آخرت میں نیک لوگ اللہ تعالیٰ کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح اب دنیا میں سورج اور چاند کو دیکھتے ہیں۔ ہاں دنیا کی آنکھوں سے کوئی خدا کو نہیں دیکھ سکتا۔ آخرت کی بینائی آخرت کی قوت سب دنیا سے نرالی ہے سوائے آنحضرت ﷺ کے کہ انہوں نے دنیا کی آنکھوں سے دیکھا، جس کی تفصیل سورة نجم میں آوے گی۔
Ayahs 6:104–110

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

بیشک تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آنکھیں کھولنے والی دلیلیں آئیں تو جس نے دیکھا اپنے نفع کے لئے اور جو اندھا ہوا اپنے نقصان کے لئے اور اے (محبوب ﷺ ! تم کہ دو :” میں تم پر کچھ) نگہبان نہیں ہوں “

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اور ہم اس طرح آیتیں طرح طرح سے بیان کرتے ہیں اور (منکروں پر حجت تمام ہو) اس لئے کہ کافر بول اٹھیں کہ تم تو پڑھے ہوئے ہو اور اس لئے کہ اسے علم والوں پر واضح کردیں

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

اس پر طلو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے دی ہوئی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے منہ پھیر لو

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا تو وہ شرک نہیں کرتے اور ہم نے تمہیں ان ہر نگہبان نہیں کیا اور تم ان پر ذمہ دار نہیں

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور (اے مسلمانو ! ) تم انہیں گالیاں نہ دو جنہیں مشرک پوجتے ہیں سوائے اللہ کے اس لئے کہ وہ اللہ کی شان میں بےادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے، اسی طرح ہم نے ہر گروہ کی نظر میں ان کے عملوں کو زینت دی ہے، پھر ان کو اپنے پروردگار کی طرف پلٹنا ہے پھر وہ ان کو بتا دے گا جو کچھ بھی وہ کیا کرتے تھے

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

اور کافروں نے اللہ کی سخت قسم کھائی اپنے حلف سے کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو ضرور ہی ایمان لاویں گے اس پر (اے محبوب) تم فرما دو کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور (اے مسلمانو ! ) تم کو کیا معلوم کہ جب وہ نشانیاں آویں گی تب بھی یہ ایمان نہ لاویں گے

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

اور ہم بھی پھیر دیں گے ان کے دلوں کو اور ان کی آنکھوں کو جیسا کہ وہ اول بار ایمان نہیں لائے اور ہم ان کو ان کی گمراہی کی حالت میں چھوڑ دیں گے کہ یہ (اس میں) سرگرداں رہیں

مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اب جو کوئی ان آیتوں کو سن کر ان کی نصیحتوں کے موافق عمل کرے گا اس کی عقبیٰ درست ہوجائے گی، اور جو کوئی ان نصیحتوں کے بعد بھی کورا باطن رہے گا اس کا خمیازہ اس کو بھگتنا پڑے گا۔ پھر فرمایا :” اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان لوگوں سے کہ دو کہ میں فقط اللہ کا حکم پہچانے والا ہوں، تمہاری بد اعمالی کی گرفت میرے ہاتھ میں نہیں ہے وہ تو اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ جب چاہے گا تمہاری بد اعمالی کا مواخذہ فرمادے گا۔ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتوں کو جھٹلاتے اور کہتے تھے کہ ” اس کے وبال سے ہم پر کوئی آسمانی عذاب کیوں نہیں آتا “۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت قرآن شریف میں جگہ جگہ جتلادیا ہے کہ عذاب کا بھیجنا اللہ کے اختیار میں۔ آگے فرمایا کہ قرآن کی آیتوں میں ہر طرح کی نصیحت، مشرکین کے ہر ایک اعتراض کا جواب، سچی پیشین گوئی یہ سب کچھ تفصیل سے ہے۔
Ayahs 6:111–113

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ Open ayah 6:111 in the Quran reader

اور (اے محبوب ! ﷺ) اگر (ان کی خواہش کے موافق) ہم ان کی طرف بھیجتے فرشتوں کو اور (قبروں سے) مردے (اٹھ کر) ان سے باتیں کرتے لگتے اور ہم اٹھالاتے ہر چیز (غیبیہ) کو ان کے سامنے تب بھی یہ لوگ ہر گز ایمان نہیں لاتے مگر یہ کہ خدا ہی چاہے (تو اور بات ہے) لیکن ان میں سے بہتیرے جاہل ہیں

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور (اے محبوب) اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن کئے اور آدمیوں اور جنوں میں کے شیطان کہ ان میں ایک دوسرے پر خفیہ بناوٹ کی بات ڈالتا ہے لوگوں کو فریب دینے کے لئے، اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ یہ کام نہ کرتے تو چھوڑ دو ان لوگوں کو ان کی افترا پردازی میں جو یہ کررہے ہیں

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

اور اس لئے کہ اس کی طرف ان کے دل جھکیں جو ایمان نہیں رکھتے آخرت پر اور تاکہ اس کو پسند کریں اور گناہ کمائیں جو انہیں کمانا ہے

مطلب یہ ہے کہ اگر ان مشرکوں کے روبرو فرشتے اور مرے ہوئے مردے اور جہان بھر کی ہر ایک چیز اللہ کے رسول اور اللہ کے کلام کی گواہی دیوے تو بھی جب تک اللہ نہ چاہے تو اس وقت تک یہ لوگ راہ رست پر نہ آویں گے۔ شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ عداوت دینی کے سبب سے ایسی باتیں کہتے تھے کہ اللہ کی طرف سے ایک نوشتہ خاص ہم لوگوں کے نام اسلام کی تصدیق کا آوے گا تو ہم دین اسلام لادیں گے۔ کبھی قرآن شریف کو پچھلے لوگوں کی کہانیاں بتاتے تھے، کبھی قرآن شریف کے شان نزول اور اللہ تعالیٰ کی شان میں بےادبی کے لفظ سے نکالنے پر مستعد ہوجاتے تھے۔ غرضیکہ بہت سی ایسی باتیں کرتے تھے۔ ان لوگوں کی ایسی باتوں سے گھڑی گھڑی آنحضرت ﷺ کو بڑا رنج ہوا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا رنج دفع کرنے کے لئے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ :” اے رسول اللہ ! ان دشمن لوگوں کی یہ دشمنی کی باتیں تمہارے ساتھ کچھ انوکھی ہیں۔ بلکہ پچھلے انبیاء سے بھی اس وقت کے مخالف لوگ ایسی ہی باتیں کرتے تھے، اور شیاطین کے بہکاوے میں جو لوگ آتے ہیں اور دوسرے آدمیوں کو بھی برے کام کی رغبت دلاتے ہیں، تو ان کو ان کے بداعمال کی سزا کے علاوہ لوگوں کے بہکانے کی سزا بھی ملے گی۔ اگر اللہ چاہے تو ان بناوٹ کی باتوں سے لوگوں کا بہکانا بند ہوجائے۔ پھر فرمایا وحی کے منکر جو کچھ کررہے ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑدیا جاوے، وقت مقررہ پر ان کا کیا ہوا ان کے آگے آجائے گا۔
Ayahs 6:114–115

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ ان لوگوں سے فرماؤ) ” کیا اللہ کے سوا میں کسی اور کا فیصلہ چاہوں اور وہی ہے جس نے تمہاری طرف مفصل کتاب اتاری “ (یعنی قرآن) اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب (یعنی توریت) دی ہے وہ لوگ تو جنتے ہیں کہ یہ قرآن آپ کے پروردگار کی طرف سے بھیجا ہوا ہے ساتھ صداقت کے ۔ پس (اے سننے والے) تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

اور تیرے پروردگار کی بات سچائی اور انصاف میں پوری ہے کوئی بھی اس کی باتوں کا بدلنے والا نہیں اور وہی (ہر ایک کی) سنتا اور جانتا ہے

مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے مشرکین کہا کرتے تھے کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان منصف مقرر کیجئے۔ ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے مابین اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کون اس بات کا منصف قرار پاسکتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا :” جس نے میری پیروی سے انکار کیا اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کیا “۔
Ayahs 6:116–117

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور زمین میں ادثر لوگ ایسے بھی ہیں کہ ان کے کہنے پر اگر تو چلے تو وہ تجھے اللہ کے (بتائے ہوئے) راستہ سے بہکاویں، وہ تو صرف (اپنے ناپاک) خیال کی پیروی کرتے ہیں اور سراسر اٹکلیں دوڑاتے (اندازے لگاتے) ہیں

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

بیشک تیرا پروردگار خوب جانتا ہے اس شخص کو جو اس کی راہ سے بہکائے اور وہ خوب جاننے والا ہے راہ پانے والوں کو

ذبیحہ کی حلت و حرمت کا ذکر مطلب یہ ہے کہ ملت ابراہیمی، شریعت موسوی عیسوی کو بگاڑ کر آج کل اس زمین پر یہی لوگ ہیں جن کی یہ اٹکل ان کا دین اور ایمان ہے، لیکن ان لوگوں کی کوئی بات نہ سنی جاوے۔ کیونکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ دین الٰہی کی باتوں کو یہ لوگ مٹادیں اور اپنی قدیمی رسموں کو قائم رکھیں۔ لیکن یہ ہرگز نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کا خود حامی اور مددگار ہے۔ ان لوگوں کا جو خیال ہے کہ ان کے بڑے بوڑھے جو رسمیں ٹھہراگئے ہیں وہی اصل دین ہے، یہ خیال ان کا بالکل غلط ہے۔ اصل دین سے برگشتہ اور اصل دین کے پابند لوگوں کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے۔