2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمظہر القرآن

Ayah 2:234

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:234 in the Quran reader

اور تم میں سے جو لوگ مر جاتے ہیں اور بیبیاں چھوڑ جاتے ہیں وہ عورتیں (نکاح وغیرہ سے) اپنے آپ کو چار ماہ اور دس دن روکے رکھیں، پھر جب اپنی میعاد (عدت) ختم کرلیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اس کام میں کہ جو عورتیں اپنی ذات کے لئے کچھ کاروائی (نکاح کی) کریں شرع کے موافق، اور خدا اس کام سے کہ جو کچھ کر رہے ہو خبر رکھتا ہے

مسائل القرآن : نکاح طلاق اور دودھ پلانے کے بعد پھر شوہر کی وفات اور اس کی عدت کا ذکر ہے کہ جس عورت کا شوہر مر جاوے اس کی عدت چار مہینے دس دن کی ہے۔ صحیحین وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ کسی ایمان دار عورت و جائز نہیں ہے کہ سوائے شوہر کے کسی رشتہ دار کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔ ہاں شوہر کی وفات پر عورت کو چار مہینے دس رات کا سوگ کرنا چاہیے۔ سوگ یہ ہے کہ عدت کے دنون میں عورت اچھے کپڑے اور زیور نہ پہنے اور خوشبو کی چیز کا استعمال نہ کرے، غرضیکہ سب بناؤ سنگار چھوڑ دے۔ حاملہ عورت کی عدت بچہ کا پیدا ہوجانا ہے۔ عدت کے بعد بناؤ سنگار کرے یا دوسرا نکاح کرے تو اس کی اجازت اللہ کی طرف سے اس آیت میں ہے۔
Ayah 2:235

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:235 in the Quran reader

اور تم پر کوئی گناہ نہیں اس بات میں جو ان عورتوں کو پیغام (نکاح) دینے کے بارے میں کوئی بات اشارۃً کہو (درمیان عدت کے) یا اپنے دلوں میں (ارادہ نکاح کو) پوشیدہ رکھو، اللہ جانتا ہے کہ تم کو ان عورتوں سے نکاح کا خیال پیدا ہوگا (سو مضائقہ کی بات نہیں) لیکن ان سے (نکاح کا) وعدہ تو چپکے سے بھی نہ کرنا، ہاں جائز طور پر بات کہہ گزرو (یعنی اشارے سے تو کچھ حرج کی بات نہیں) اور ارادہ نہ کرو عقد نکاح ( پکی بات چیت کرنے) کا جب تک میعاد مقررہ (یعنی عدت) اختتام کو نہ پہنچے، اور جان لو کہ بیشک اللہ جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، پس ڈرو اس سے اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا برد بار ہے

عدت کے اندر نکاح جائز نہیں مسائل القرآن : جب تک عورت سوائے طلاق رجعی کے اور کسی طرح کی طلاق یا خاوند کی وفات کی عدت میں ہو تو جائز نہیں ہے کہ کوئی شخص اس مدت کے اندر خفیہ طور پر اس عورت سے نکاح کرے، یا صاف لفظوں میں نکاح کا پیغام دیوے۔ ہاں اشارہ کنایہ کے طور پر اگر کچھ کہہ دے تو مضائقہ نہیں ہے۔ مثلاً یوں کہ دے کہ کوئی نیک عورت مل جائے تو میرا بھی ارادہ نکاح کرنے کا ہے۔ ہاں مطلقہ رجیعہ کی عدت میں یہ اشارہ کنایہ کی بات بھی غیر مرد کو جائز نہیں ہے۔ اگر عدت کے اندر کسی نے نکاح کرلیا تو دونوں میں تفریق کرا دی جاوے۔
Ayahs 2:236–237

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:236 in the Quran reader

تم پر کچھ (مہر کا) مواخذہ نہیں اگر تم عورت کو طلاق دو جب تک تم نے ان کو ہاتھ نہ لگایا ہو یا کوئی مہر مقرر نہ کرلیا ہو اور ان کو کچھ خرچ دو (یعنی ایسی طلاق والیوں کو) لازم ہے کہ اپنی حیثیت کے مطابق دے اور تنگ دست پر اپنی حالت کے مطابق حسب دستور خوشی سے خرچ دینا واجب کیا گیا ہے نیکی والوں پر

وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:237 in the Quran reader

اور اگر تم نے عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے ان کو طلاق دیدی ہے اور ان کے واسطے کچھ مہر بھی مقرر کرچکے تھے جو جتنا مہر تم نے مقرر کیا تھا اس کا نصف واجب ہے مگر یہ کہ وہ عورتیں معاف کردیں یا وہ شخص کہ جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، وہ (اپنا حق) چھوڑ دے (یعنی پورا مہر دینے پر راضی ہو) اور اے مردو ! تمہارا دینا پرہیز گاری سے نزدیک تر ہے اور آپس میں ایک دوسرے پر احسان کو بھلا نہ دو ، بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے

مسائل القرآن : نکاح ہو کر مباشرت کی نوبت نہ آوے اور طلاق دیدی جاوے تو بموجب اس آیت کے یہ طلاق جائز ہے۔ اور اس طلاق کی صورت میں نکاح کے وقت مہر نہ قرار پایا ہو تو اپنے مقدور کے موافق کچھ دے کر عورت کو خوش کردینا چاہئے، جو بہر حال کپڑوں کے ایک جوڑے سے کم نہ ہو۔ اور اگر مہر قرار پایا ہو تو نصف مہر دینا چاہئے یہ اور بات ہے کہ عورت اپنا حق چھوڑ دیوے یا مرد حسن سلوک کے طور پر پورا مہر دے دیوے۔ صحیح قول آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ الذی بیدہ عقدۃ النکاح سے مراد شوہر ہے کہ وہی مختار نکاح کے قائم رکھنے اور نہ رکھنے کا ہے۔ یہی قول بہت سے صحابہ کرام اور تابعین کا ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب بھی یہی ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ الذی بیدہ عقدۃ النکاح سے مراد عورت کا متولی ہے۔ یہاں تک حکم نکاح و طلاق کے تمام ہوگئے۔
Ayah 2:238

حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ Open ayah 2:238 in the Quran reader

محافظت کرو تم سب نمازوں کی اور درمیانی نماز (یعنی نماز عصر) کی۔ اور خدا کے حضور میں ادب سے کھڑے ہوا کرو

وقت پر نماز کی تاکید کا ذکر نمازوں کے بروقت ادا ہونے کی تاکین میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نامزل فرمائی ہے۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ نماز کا وقت پر پڑھنا سب عملوں سے بہتر ہے۔ اس حدیث کا یہ ٹکڑا آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر ہے۔ بیچ والی نماز میں اگرچہ پہلے صحابہ کا اختلاف تھا کہ وہ کون سی نماز ہے مگر خندق کی لڑائی میں جب آپ کی عصر کی نماز فوت ہوگئی، اور آپ نے اس صراحت کے ساتھ کافروں کو بد دعا دی کہ خدا ان کے گھروں اور قبروں میں انگارے بھرے کہ انہوں نے ہماری بیچ کی نماز کھوا دی جس سے مراد عصر نے نماز ہے کہ دن اور رات کے بیچ میں ہے۔ اس کی تاکید زیادہ آئی ہے کیونکہ اس وقت دنیا کا مشغلہ زیادہ ہوتا ہے۔ وقوموا للہ قٰنتین کا اسباب نزول : پہلے نماز میں لوگ باتیں کیا کرتے تھے، اس کے موقوف کرنے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی کہ کھڑے رہو ادب سے یعنی نماز میں ایسی حرکت نہ کرو جس سے معلوم ہوجائے کہ نماز نہیں پڑھتے، ایسی باتوں سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
Ayahs 2:239–242

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:239 in the Quran reader

پھر اگر تم کو (دشمن وغیرہ سے) خوف ہو تو کھڑے کھڑے نماز ادا کرلو یا سواری پر ( جیسے بن پڑے) ، پھر جب اطمینان سے ہو تو اللہ کو یاد کرو جیسا کہ اس نے تم کو سکھایا جو نہ تم جانتے تھے۔

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:240 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں مر جاتے ہیں اور بیبیوں کو چھوڑ جاتے ہیں، وہ وصیت کر جایا کریں اپنی ان بیبیوں کے واسطے ایک سال تک نان نفقہ دینے کی اس طور پر کہ وہ گھر سے نکالی نہ جاویں، پس اگر وہ خود باہر نکل جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے جو کچھ انہوں نے اپنے حق میں مناسب طور پر کیا (یعنی نکاح بطور شرع) اور خدا زبردست حکمت والا ہے

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:241 in the Quran reader

اور طلاق والیوں کے لئے یہی مناسب طور پر نان نفقہ ہے یہ واجب ہے ان پر جو پرہیزگاری کرتے ہیں

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 2:242 in the Quran reader

اسی طرح بیان کرتا ہے خدا تمہارے واسطے (اپنے) احکام اس لئے کہ تم سمجھو

فائدہ : اوپر کی آیت میں محافظت نماز کا ذکر جو آیا اس سے یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ دشمن کے خوف اور مقابلہ کے وقت بھی شاید یہی محافظت اوقات اور ارکان کی نماز میں قائم رہے گی۔ اس خیال کے رفع کرنے لے لئے آخر آیت میں یہ صلوٰۃ الخوف کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ یعن لڑائی اور دشمن سے خوف کا وقت ہو تو لاچاری کو سواری پر اور پیادہ کی بھی اشارہ سے نماز درست ہے گو قبلہ کی طربھی منہ نہ ہو۔
Ayahs 2:243–244

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ) کیا تم نے ان لوگوں کو نہ دیکھا تھا کہ جو اپنے گھروں سے نکل گئے موت سے ڈر کر اور وہ ہزاروں تھے، پس اللہ نے ان کو حکم دیا :” مر جاؤ “ (وہ مر گئے) پھر خدا نے ان کو زندہ کردیا۔ بیشک اللہ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔ مگر اکثر لو گ ناشکرے ہیں

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

اور (مسلمانو ! ) خدا کی راہ میں (کافروں سے) لڑو اور جانو کہ خدا سننے والا جاننے والا ہے

شان نزول : جہاد کے حکم نازل ہونے کے بعد جان کے خوف سے کچھ لوگ جہاد میں جانے سے پہلو تہی کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر جہاد کی تاکید فرمائی اور اس تاکید سے پہلے ایک قصہ کو بیان فرمایا، جس کا حاصلیہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک بستی کے آٹھ ہزار کے قریب آدمی وبا سے ڈر کر دوسری بستی میں بھاگ گئے تھے۔ وہاں اللہ کے حکم سے ایک دم سب مر گئے، اور پھر ایک نبی کی دعا سے اللہ نے ان کو زندہ کیا۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ موت جب آنے والی ہوتی ہے تو ہر حال میں آتی ہے۔ جہاد کی پہلو تہی اس کو روک نہیں سکتی اس لئے اس وقت موت سے ڈرنا اور جہاد سے پہلو تہی کرنا بےفائدہ ہے۔
Ayah 2:245

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader

کون شخص ہے کہ وہ خدا کو قرض حسن دیوے تاکہ پھر اس کو خدا دوگنا کر کے بہت بڑھا کر دیوے (یعنی وہ مال راہ حق میں خرچ کرے) اور ( تنگدستی کا خوف جس کی وجہ سے تمہارا ہاتھ رک جاتا ہے تو) تنگی اور کشائش دونوں ہی اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور اسی کے حضور میں تم سب کو لوٹ کر جانا ہے

قرض دینے کی فضیلت حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب سورة بقرہ کی وہ آیت اتری جس میں اللہ تعالیٰ نے خیرات کے ایک دانے کی سات بالیں اور ہر بالی میں سو دانہ کی پیدائش کی مثال بیان فرمائی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ یا اللہ میری امت کے اجر وثواب کی تعداد میں کچھ اور زیادتی فرما اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جہاد میں صرف کرنے کے لئے جو کوئی اللہ کو قرض دیوے گا اللہ تعالیٰ اس کے ک اجر میں بیشمار افزائش کرے گا۔ قرض حسنہ اسے کہتے ہیں جو قرض دے کر تقاضا نہ کرے اور اپنا احسان نہ رکھے، نہ بدلہ چاہے اور اسے حقیر نہ خیال کرے۔ اللہ کو قرض دینے سے مراد ہے کہ جہاد میں خرچ کرنا یا محتاجوں کو دینا۔
Ayah 2:246

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

کیا تم نے نہ دیکھا بنی اسرائیل کے اس گروہ کو کہ جو موسیٰ کے بعد ہوا تھا (سمویل (علیہ السلام) کی امت) جب کہ انہوں نے اپنے نبی سے کہا :” ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کر دیجئے تاکہ ہم خدا کی راہ میں لڑیں “ نبی نے فرمایا : ” شاید تمہارے انداز ایسے ہیں کہ تم پر جہاد فرض ہو تو پھر تم نہ لڑو “ وہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے واسطے ایسا کون سا سبب ہوگا کہ ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں حالانکہ ہم اپنے وطن سے اور بال بچوں سے نکالے گئے ہیں تو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو سوائے چند آدمیون کے سب پھرگئے، اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو

طالوت اور جالوت کا بیان بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک مدت تک بنی اسرائیل کا کام بنا رہا، پھر جب ان کی نیت بری ہوگئی تو ان پر غنیم (ظالم) مسلط ہوا۔ جالوت کافر بادشاہ نے ان کے اطراف کے شہر چھین لئے اور لوٹا اور قیدی پکڑ لے گیا۔ وہاں سے بھاگ کے لوگ شہر بیت المقدس میں جمع ہوئے۔ حضرت شمویل (علیہ السلام) پیغمبر سے چاہا کہ کوئی بادشاہ بااقبال مقرر کردو کہ بغیر سردار کے ہم لڑ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ان میں بادشا بھی قائم ہوا اور اس بادشاہ کے ساتھ ان کو دشمن سے لڑنے کا حکم بھی ہوا تو ایک نہر کے پانی پینے کی آزمائش میں ہزار ہا آدمیوں نے ان میں سے بد عہدی کی، فقط تین سو تیرہ آدمی اپنے عہد پر قائم رہے باقی سب نے بد عہدی کی۔ پھر اللہ تعالیٰ کو ایسے گناہ گاروں کا حال خوب معلوم ہے ایک دن یہ اپنے کئے کی سزا پاویں گے۔
Ayah 2:247

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور ان سے ان کے بنی نے فرمایا :” بیشک اللہ نے (تمہاری درخواست مطابق) تمہارے واسطے مقرر کیا ہے طالوت کو بادشاہ “ (اس پر) انہوں نے کہا کہ اسے ہم پر بادشاہی کیونکر ہو سکتی ہے اور ہم اس سے زیادہ سلطنت کے مستحق ہیں اور اس کو تو مال (دولت کے اعتبار) سے بھی وسعت نہیں دی گئی (نبی نے فرمایا :” بیشک اللہ نے اس کو تم پر چن لیا ہے اور اس کو فراخی علم میں اور جسم میں (کشادگی) زیادہ دی اور اللہ دیتا ہے اپنا ملک جس کو چاہتا ہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے

طالوت کی قوم میں پہلے سلطنت نہ تھی اور کچھ مال دار بھی نہ تھے۔ اس لئے جب حضرت شمویل (علیہ السلام) نے بادشاہی کے لئے طالوت کا نام لیا تو بنی اسرائیل نے اس پر اعتراض کیا اور اپنے خاندان کے لوگوں کو مستحق بتلایا اور کہا کہ طالوت بن یا مین کے خاندان میں سے تھا جو سب سے گھٹیا خاندان کہلاتا تھا۔ حضرت شمویل (علیہ السلام) نے جواب دیا ” کہ بادشاہی کے لئے طالوت کا انتخاب میں نے اپنی طرف سے نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ انتخاب ہوا ہے “ کہ جو قد وقامت کا ایک پیمانہ اپنے نبی کو بتلایا تھا وہ طالوت کے قد کے برابر نکلا۔ آخر کو اللہ کے نبی نے قطع حجت کے لئے یہ بھی فرما دیا کہ سب اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ جس کو چاہے دیوے اس میں بحث کی گنجائش نہیں ہے۔
Ayah 2:248

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا کہ اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ (مقدس) صندوق (واپس) آجاوے (جو تم کھو چکے ہو اور دشمنوں کے ہاتھ پڑچکا ہے) کہ صندوق میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے لئے (فتح و کامرانی کی) تسکین ہے اور جو کچھ بھیجی ہوئی چیزیں (تبرکات) ہیں جن کو آل موسیٰ اور آل ہارون چھوڑ گئے ہیں جو (حکمت الہٰی سے) فرشتے اسے ٹھا لائیں گے۔ بیشک اس میں تمہارے واسطے پوری نشانی ہے اگر تم یقین رکھتے ہو

حضرت داؤد (علیہ السلام) اور جالوت کا واقعہ بنی اسرائیل میں ایک صندوق مورثی چلا آتا تھا جس میں حضرت موسیٰ وہارون (علیہما السلام) کے وقت کی چیزیں تبرکاً تھیں، لڑائی کے وقت اس صندوق کو سب لشکر کے آگے رکھتے اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے فتح دیتا تھا اس واسطے اس صندوق کا نام ” تابوت سکینہ “ رکھا گیا تھا۔ بنی اسرائیل کے اعمال کی شامت سے تابوت سکینہ ان کے قبضہ سے نکل کر دشمن کے قبضہ میں چلا گیا تھا۔ حضرت شمویل (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو یہ جو سمجھایا تھا کہ طالوت کی بادشاہت خدا کی طرف سے ہے اس کی علامت انہوں نے یہ بتلائی کہ :” تابوت سکینہ “ بغیر لڑائی کے خود بخود طالوت کے پاس آجاوے گا۔ اگر تم اللہ پر پورا ایمان رکھتے ہو، تو تابوت کے آجانے کے بعد تم کو پورا یقین ہوجاوے گا کہ طالوت کی بادشاہت خدا کی طرف سے ہے۔ ” تابوت سکینہ “ کے طالوت کے پاس آجانے کا قصہ جو مفسرین نے لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قوم عمالقہ کی جس بستی میں ” تابوت سکینہ “ رکھا ہوا تھا اس بستی میں سخت وبا پھیل گئی بستی کے لوگ گھبرا گئے۔ اس بستی میں ایک لڑکی قید تھی۔ اس نے کہا کہ جب تک یہ صندوق اس بستی میں رہے گا وہ باہر ہر گز نہ جائے گی ان لوگوں نے ایک گاڑی میں صندوق لاد کر اس گاڑی کو بستی سے باہر کردیا۔ اللہ کے حکم سے فرشتوں نے اس گاڑی کو ہانک کر طالوت کے گھر کے سامنے لا کر کھڑا کردیا۔
Ayah 2:249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

پھر جب طالوت فوجوں سمیت اپنے وطن سے جدا ہوا تو (اس نے اپنے ہمراہیوں سے) کہا کہ (راستے میں ایک نہر پڑے گی) اللہ (اس) نہر سے تمہاری ( یعنی تمہارے صبر کی) جانچ کرنے والا ہے پھر جس نے اس نہر کا پانی پی لیا تو وہ میرا نہیں، اور جو کوئی اس کو نہ پئے تو وہ میرا ہے لیکن جو شخص اپنے ہاتھ سے ایک چلو پانی بھی لے (تو کچھ مضائقہ نہیں) پس ان میں سوائے چند لوگوں کے سب نے (پانی) پی لیا۔ پھر جب نہر سے گزر گئے طالوت اور جو ایمان دار لوت ان کے ساتھ تھے، تو (جن لوگوں نے طالوت کی نافرمانی کی تھی) کہنے لگے :” ہم میں تو جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی آج طاقت نہیں ہے لیکن جن کو یقین تھا کہ ضرور ہم کو اللہ سے ملنا ہے “ انہوں نے کہا :” بہت دفعہ ایسا ہوا ہے کہ تھوڑے سے لوگ بڑی جماعت پر غالب آگئے ہیں خدا کے حکم سے “ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

” تابوت سکینہ “ طالوت کے پاس آگیا تو بنی اسرائیل کو طالوت کی بادشاہت کا پورا یقین ہوگیا اور سب نے اس کی اطاعت اور فرمانبرداری قبول کرلی، اور سب کو یقین ہوگیا کہ اب اس تابوت کی برکت سے ضرور ہم کو دشمن پر فتح ہوگی۔ اس واسطے طالوت نے لڑائی پر جانے کا قصد کیا تو ستر ہزار آدمی کے قریب کا لشکر اس کے ہمراہ ہوا۔ ایک منزل میں پانی نہیں ملا۔ گرمی کا موسم تھا پریشانی پھیل گئی۔ دوسری منزل میں ایک نہر ملی اور نہر کے اس پر دشمن کی فوج مقابلہ کو تیار تھی۔ طالوت نے سمجھ کر کہ ایک دن کی پیاس کے بعد پیٹ بھر پانی پی جاویں گے تو بالکل کاہل ہوجاویں گے، لشکر میں حکم دے دیا کہ جو شخص پیٹ بھر کر پانی پئے وہ میرے ساتھ نہ چلے کیونکہ وہ لڑنے کے کام کا نہیں ہے۔ ہاں جو شخص چلو بھر پانی سے اپنی پیاس بھجا لیوے وہ میرے کام کا ہے۔ اتنے بڑے لشکر میں سے صرف تین سو تیرہ آدمیوں نے حکم کی تعمیل کی جہنوں کے ایک چلو سے زیادہ پانی نہ پیا۔ ان کی پیاس بھجی اور جنہوں نے زیادہ پیا ان کو پیاس زیادہ لگی اور نہ چل سکے۔
Ayah 2:250

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب جالوت اور اس کے لشکر کے لئے وہ لوگ مقابلہ کے میدان میں آئے۔ تو دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم پر صبر عطا کر اور (معرکہ جنگ میں) ہمارے پاؤں جمائے رکھ کافروں کی جماعت پر ہم کو غلبہ دے

طالوت کی جالوت سے جنگ اور طالوت کی فتح جب جالوت نے بنی اسرائیل سے مقابل طلب کیا وہ اس کی قوت جسامت دیکھ کر گھبرائے کیونکہ وہ بڑا جابر، قوی، شہ زور اور قد آور تھا۔ طالوت نے اپنے لشکر میں اعلان کیا کہ جو شخص جالوت کو قتل کرے گا میں اسے اپنی بیٹی نکاح میں دوں گا اور نصف ملک اس کو دوں گا مگر کسی نے اس کا جواب نہ دیا تو طالوت نے اپنے نبی حضرت شمویل (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ بار گاہ الہٰی میں دعا کریں۔ آپ نے دعا کی تو بتایا گیا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) جالوت کو قتل کریں گے۔ طالوت نے آپ سے عرض کیا کہ اگر آپ جالوت کو قتل کریں تو میں اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دوں اور نصف ملک پیش کروں۔ آپ نے قبول فرمایا اور جالوت کی طرف روانہ ہوگئے صف قتال قائم ہوئی اور حضرت داؤد (علیہ السلام) دست مبارک میں فلاخن لے کر مقابل ہوئے۔ جالوت کے دل میں آپ کو دیکھ کر دہشت پیدا ہوئی مگر اس نے باتیں بہت متکبرانہ کیں اور آپ کو اپنی قوت سے مرعوب کرنا چاہا۔ آپ نے فلاخن میں پتھر رکھ کر مارا وہ اس کی پیشانی کو توڑ کر پیچھے سے نکل گیا اور جالوت مر کر گر گیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اس کو لا کر طالوت کے سامنے ڈال دیا۔ تمام بنی اسرائیل خوش ہوئے اور طالوت نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو حسب وعدہ نصف ملک دیا اور اپنی لڑکی کا آپ کے ساتھ نکاح کردیا۔ ایک مدت بعد طالوت نے وفات پائی، تمام ملک پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کی سلطنت ہوئی۔ (جمل وغیرہ)
Ayah 2:251

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

پھر ان لوگوں نے (دشمنوں کو) بھگا دیا اللہ کے حکم سے، اور جالوت کو داؤد نے قتل کیا اور ان کو خدا نے سلطنت اور حکمت (یعنی نبوت) عطا فرمائی اور جو (علم وہنر) اس کی مرضی میں آیا ان کو سکھا دیا، اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بعضے آدمیوں کو بعضوں کے ذریعہ سے دفع نہ کرے تو ضرور زمین تباہ ہوجاتی لیکن اللہ سارے جہاں پر فضل کرنے والا ہے

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اگر ہم بعض آدمیوں کو بعض کے اوپر مسلط نہ کرتے تو البتہ زمین خراب ہوجاتی یعنی کفر کی سیاہی پھیل جاتی اور زمین کی منفعتیں زائل ہوجاتیں، اور بہت لوگ ایمان کی نعمت سے محروم رہ جاتے۔ لیکن اللہ تو اپنے بندوں پر مہر بان ہے۔
Ayah 2:252

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم (اے محبوب ! ﷺ) تم پر ٹھیک ٹھیک پڑھتے ہیں اور بیشک تم رسولوں میں سے ہو

یہ قصے جو سراسر معجزات ہیں صحیح طور اے محبوب ﷺ ! ہم تمہارے سامنے بیان کرتے ہیں اور کیوں نہ بیان کریں کہ تم ہمارے رسول ﷺ ہو۔
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ پیغمبر ہیں کہ فوقیت بخشی ہم نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر، ان میں سے بعض وہ ہیں کہ اللہ نے ان سے کلام کیا اور بعض کو ان میں درجوں میں بلند کیا، اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو کھلی نشانیاں دیں اور مدد دی ہم نے اس کو روح القدس سے، اور اگر خدا چاہتا تو ایک دوسرے سے نہ لڑتے وہ لوگ کہ بعد پیغمبروں کے تھے پیچھے اس کے کہ ان کے پاس دلیلیں آچکیں لیکن اختلاف کیا انہوں نے پس ان میں سے بعض وہ شخص ہے کہ ایمان لایا اور بعض ان میں وہ شخص کہ کافر ہوا، اور اگر خدا چاہتا تو ایک دوسرے سے نہیں لڑتے و لیکن خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

انبیاء کی فضیلت کا اور تقدیر کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت کے موافق گروہ انبیاء میں کسی کو کسی طرح کی فضیلت دی ہے اور کسی کو کسی طرح کی۔ جن انبیاء کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہم کلامی کی فضیلت دی ہے وہ حضرت آدم علیہ السلام، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ خاتم الانبیاء یہ تین نبی ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کے وہ کمالات جن میں آپ تمام انبیاء پر افضل ہیں جن کا کوئی شریک نہیں بیشمار ہیں۔ مختصر بیان یہ ہے کہ آپ کی رسالت عامہ ہے تمام کائنات آپ کی امت ہے۔ آپ پر نبوت ختم کی گئی اور باتوں میں بعضے نبیوں کا درجہ کچھ اور بعضے کچھ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ آخر پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انبیاء اور ان کے معجزات اور آسمانی کتابوں کے آنے کے بعد اللہ چاہتا تو امتوں کا آپس میں اختلاف اٹھ جاتا اور سب راہ راست پر آجاتے۔ لیکن دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی سے یہ جان لیا ہے کہ بعضے لوگ باوجود انبیاء اور آسمانی کتابوں کے آنے اور معجزات کے دیکھنے کے راہ راست پر نہیں آویں گے۔ اور اسی اپنے علم کے نتیجہ کو اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے جس کا نام تقدیر ہے۔ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس کے علم کے ک موافق ہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث مشہور ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک انسان کی طبیعت میں دین حق کے قبول کرنے کی صلاحیت رکھ کر انسان کو پیدا کیا ہے۔ مراد بینات سے وہ قطعی دلیلیں ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھیں۔ مثلاً مردوں کو زندہ کرنا اور بیماروں کو تندرست کرنا وغیرہ۔ مراد روح القدس سے جبرائیل (علیہ السلام) ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہر وقت رہتے تھے۔
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے مسلمانو ! اللہ کی راہ میں خرچ کرو اس چیز سے کہ جو ہم نے تم کو دی وہ دن آنے سے پہلے جس میں نہ کوئی خرید وفروخت ہے اور نہ دوستی (کافروں کے لئے) اور نہ شفاعت ، اور کافر خود ہی ظالم ہیں

فوائدالقرآن : یعنی جو نیک عمل کرنا ہے دنیا میں کرلو۔ کیونکہ عمل کی جگہ یہی ہے، آخرت میں نہ کوئی سفارش کام آوے گی اور نہ کسی کی دوستی۔ صرف اپنے اعمال کام آویں گے آخرت دار الجزاء کا مقام ہے۔ خواص آیۃ الکرسی نسائی و طبرانی وغیرہ میں معتبر سند سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے گا۔ (1) اس کے جنت کے جانے میں اتنی ہی دیر ہے کہ اس کی آنکھ بند ہو اور وہ دنیا سے اٹھے۔ (2) اور اس کی برکت سے انشاء اللہ تعالیٰ اس کے پاس شیطان نہ آوے گا، اور اس کے مکر و فریب سے محفوظ رہے گا۔ (3) اور اس کے پڑھنے سے فقیر سے غنی ہوجائے گا۔ (4) اور رات کو سوتے وقت ایک بار پڑھ کر سینہ پر دم کرے گا تو رات بھر شیطان اور جملہ آفات سے محفوظ رہے گا۔ (5) اور صحت نصیب ہوگی۔ (6) گھر میں برکت ہوگی (7) اور اس کی برکت سے تمام رات فرشتے نگہبان رہتے ہیں۔ (8) اور جو کوئی اس کو لکھ کر اپنی دکان یا مکان میں اونچی جگہ لگاوے۔ خدا چاہے وہ جگہ چوری سے محفوظ رہے گی اور برکت ہوگی۔ (9) اگر کہیں خوف کی جگہ ہو تو اس کو پڑھ کر اپنے گرد ایک دائرہ کھنچے تو خدا چاہے ہر بلا سے محفوظ رہے گا کوئی زہریلا جانور اس کے پاس نہ آئے گا۔ (10) اللہ کے ناموں میں یاحی یاقیوم اسم اعظم ہیں ان ناموں کو پڑھ کر جو کوئی جائز دعا مانگے گا ضرور قبول ہوگی۔
Ayahs 2:255–257

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

خدا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا ، نہ اس کو اونگھ آئے اور نہ نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ کون ہے، جو اس کے یہاں سفارش کرے بغیر اس کے حکم کے، جانتا ہے جو کچھ ان کے آ گے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے، اور نہیں گھیر سکتے لوگ خدا کی معلومات میں سے کسی چیز کو مگر جتنا اس نے چاہا ہے، اس کی کرسی میں آسمان اور زمین سمائے ہوئے ہیں، اور ان کی حفاظت اس پر بھاری نہیں، اور وہ بڑا عالی شان عظمت والا ہے

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

نہیں زبردستی کرتا واسطے دین کے، تحقیق خوب جدا ہوگئی نیک راہ گمراہی سے، پس جو کوئی شیطان کا انکار کرے اور خدا پر ایمان لاوے بیشک اس نے تھامی ایک رسی بڑی مظبوط جو ٹوٹنے والی نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

خدا کار ساز ہے مومنوں کا باہر لاتا ہے ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف، اور جو لوگ کہ کافر ہیں ان کے دوست شیاطین ہیں باہر لاتے ہیں ان کو روشنی سے اندھیروں کی طرف، یہ لوگ رہنے والے ہیں دوزخ کے، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے

تفسیرالقرآن : اللہ لآ الہ الا ھو کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں۔ لہ ما فی السمٰوٰت وما فی الارض کا مطلب یہ ہے کہ ستارہ پرستوں کے ستارے اور بت پرستوں کے بت اور سوا اللہ کے جس کی پر ستش کی جاوے۔ یہ سب اللہ کی مخلوق ہیں، ان میں خالق بننے کی صلاحیت ہر گز نہیں ہے۔ لاتا خذہ سنۃ ولا نوم کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے بادشاہوں کے دربار کی طرح اس کی بارگاہ میں کسی غفلت اور بیخبر ی نہیں ہے۔ من ذالذی یشفع عندہٓ الا باذنہ کا مطلب یہ ہے کہ شفاعت کے لئے اللہ تعالیٰ کی اجازت درکار ہے۔ یعلم ما بین ایدھم وما خلفھم کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق کا حال اور آئندہ کا ذرا ذرا سب حال معلوم ہے۔ ولا یحیطون بشئیء من علمہ الا بما شآء کا مبطلب یہ ہے کہ تمہارا علم بالکل ناقص ہے جس سے تم اپنے نیک وبد کو ہر گز نہیں جان سکتے۔ وسع کر سیہ السمٰوٰت والارض ولا یؤدہ حفظھماوھو العلی العظیم کرسی اللہ تعالیٰ کے پاؤں رکھنے کی جگہ کا نام ہے۔ بعض روایتوں میں ہے کہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمین کا عرض وطول کرسی کے مقابلہ میں ایسا ہے جس طرح ایک بڑے جنگل میں ایک چھلا ڈال دیا جاوے اور عرش کی لمبائی اور چوڑائی سوائے اللہ کے اور کسی کو معلوم نہیں ہے۔
Ayah 2:258

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ) کیا تم نے نہ دیکھا اس شخص کو جس نے ابراہیم سے جھگڑا کیا اس کے رب کے بارے میں اس واسطے کہ دی خدا نے اس کو بادشاہی، جبکہ ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے کہ جلاتا ہے اور مارتا ہے، بولا وہ کافر :” میں جلاتا ہوں اور مارتا ہیں “ کہا ابرہیم نے :” بیشک لاتا ہے خدا آفتاب کو مشرق سے پس تو اس کو مغرب کی طرف سے لے آ “ پس مغلوب ہوا وہ کافر اور خدا راہ نہیں دکھاتا ہے گروہ ظالموں کو

حضرت ابراہیم ونمرود کا قصہ اور مچھروں کا عذاب نمرود بن کنعان ایک بادشاہ تھا جو خدائی کا دعویٰ کرتا تھا۔ چار بادشاہ روئے زمین پر بہت بڑے ہوئے ہیں : دو مسلمان حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور ذوالقرنین اور دو کافر نمرود اور بخت نصر ۔ یہ مباحثہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نمرود کا اس وقت ہوا ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے نجات دی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی صفت مردوں کا جلانا اور زندوں کو مارنا بیان کی تو اس کم بخت نے دو قیدی بلائے ایک کو جو واجب القتل تھا چھوڑ دیا، اور دوسرے قیدی کو جو بےگناہ تھا مار ڈالا۔ تب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آفتاب کی دلیل سے اسے لاجواب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” ظالم لوگ اللہ کے حکم سے غالب ہونے کا راستہ نہیں پاسکتے “۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے یہ التجا کی کہ ” یا اللہ تو مجھ کو کوئی مردہ جلا کر دکھادے “ چناچہ اس کا قصہ آگے آتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بہت دفعہ اسے اسلام کی دعوت دی مگر نمرود راہ راست پر نہ آیا تو مچھروں کا عذاب بھیج کر اللہ تعالیٰ نے تمام لشکر کو غارت کردیا اور لوگ تو مچھروں کے ناک میں گھس جانے اور دماغ میں کاٹنے سے فوراً مر گئے۔ لیکن نمرود ملعون کو اس ذلت سے مدت تک زندہ رکھ کر آخر کار مچھروں ہی کی تکلیف سے مارا۔
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا نہ دیکھا تم نے اس شخص کو کہ گزرا ایک بستی پر اور وہ ڈھئی ہوئی تھی اپنی چھتوں پر کہا :” کیونکر زندہ کرے گا اس کو خدا اس کے مرنے کے بعد “ پس مردہ کیا خدا تعالیٰ نے اس کو سو برس تک، پھر زندہ کر اٹھایا فرمایا :” تو دیکھ (یہاں) کتنا ٹھہرا “ بولا کہ دیر کی میں نے ایک روز یا کچھ کم فرمایا :”(نہیں) بلکہ تجھے گزر گئے سو برس پس دیکھ اپنے کھانے کی طرف اور پانی کی طرف کہ سڑا نہیں “ اور دیکھ اپنے گدھے کی طرف (کہ بلکل گل گیا) اور تاکہ ہم تجھ کو لوگون کے لئے قدرت کا نمونہ بنادیں اور دیکھ طرف ہڈیوں کے کیونکر اٹھان دیتے ہیں ہم ان کو بعد اس کے پہناتے ہیں اس پر گوشت پس جب ظاہر ہوا اس کو یہ حال کہا :” میں خوب جانتا ہوں تحقیق خدا ہر چیز پر قادر ہے “۔

ایک پیغمبر کا وفات سے سو برس بعد دوبارہ زندہ ہونا جب بخت نصر بابل ، بیت المقدس شہر کو ویران اور ہزارہا آدمیوں کو قید کرکے بابل گیا تو حضرت عزیر (علیہ السلام) نبی تھے۔ پھر جب نمرود کی طرح بخت نصر کی ناک میں بھی گھس گیا جس سے وہ ہلاک ہوگیا، تو حضرت عزیر (علیہ السلام) اس ویرانی کے وقت بیت المقدس پر سے ہو کر گزرے تو ان کو ناامیدی ہوئی کہ ایسے ویران اجڑے ہوئے کو کیونکر آباد کرے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا یہ نمونہ دکھایا کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) سو برس تک مردہ حالت میں پڑے رہے، پھر انہیں زندہ کیا اتنے عرصہ میں بیت المقدس پھر آباد ہوگیا تھا اور اسی گھدے کو اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھون کے سامنے زندہ کیا، اور ان کے کھانے کی حفاظت کی کہ وہ سڑا تک نہیں۔ اور جب حضرت عزیر فوت ہوئے تھے اس وقت کچھ دن چڑھا تھا اور جب زندہ ہوئے تو ابھی شام بھی نہ ہوئی تھی۔ اس لئے انہوں نے یہ خیال کیا کہ اگر میں یہاں کل آیا تھا تو ایک دن ہوا، اور آج ہی آیا تھا تو دن سے بھی کم رہا، مگر جب وہ اس متبرک شہر میں داخل ہوئے تو لوگوں نے ان کو نہیں پہچانا۔ بہت پتہ دیا اور جب انہوں نے توریت حفظ سنائی تب لوگوں کو یقین آیا۔
Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور جب کہا ابراہیم نے :” اے رب میرے ! دکھادے مجھ کو کیونکر جلاتا ہے تو مردوں کو “ کہا :” خدا نے کیا یقین نہیں رکھتا ہے “ تو کہا :” ہاں یقین رکھتا ہوں و لیکن چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار آجاوے “ کہا خدا نے پس پکڑ چار پرندے پھر ان کو اپنے ساتھ بلا لے پھر ہر ایک پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دے پھر آواز دے ان کو بیشک آویں گے تیرے پاس دوڑتے ہوئے، اور جان لے اللہ غالب مضبوط حکمت والا ہے

نمونہ حشر اور قدرت کا کرشمہ جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے نمرود سے اللہ تعالیٰ کی صفت، زندوں کا مارنا اور مردوں کا زندہ کرنا بیان کیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بارگاہ ایزدی میں یہ التجا فقط اس لئے کی تھی کہ مرنے کے بعد متفرق اجزا مردہ کیونکر جمع ہوتے ہیں، اور پیشان اجزاء کے جمع ہوجانے اور ان سے جسم کے تیار ہوجانے کے بعد اس جسم سے کیونکر روح کا تعلق ہوتا ہے۔ اس سب کیفیت کو آنکھوں سے دیکھ کر حشر سے پہلے اس کیفیت پر اطمینان حاصل کرلیویں، اور حشر پر ایمان لانا تو سب انبیاء کا ایک اجماعی مسئلہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو التجا کی تھی وہ علم الیقین سے عین الیقین کے درجہ تک ترقی کرنے کے لئے تھی کسی شک کے لئے نہیں کی۔ کیونکہ انبیاء کی شان شک سے بری ہے۔ مجاہد اور عکرمہ کے قول کے موافق وہ چار جانور یہ تھے :۔ ایک مور۔ دوسرا مرغ۔ تیسرا کو ا۔ چوتھا کبوتر۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو ذبح کر کے ان کے پروں اور اعضاء کو ملا دیا اور چار پہاڑوں پر ایک ایک ڈھیری رکھ دی پھر ان کے سر ہاتھ میں لے کر ایک ایک کو پکارا۔ جس کو پکارا ایک ڈھیری میں سے اس کے پر اور اعضاء خود بخود چھٹے اور ان چھٹے ہوئے پروں اور اعضاء سے اس جانور کا دھڑ تیار ہوا اور فوراً حضرت ابراہیم کے پاس دوڑ کر آگیا تو انہوں نے امتحاناً ایک جانور کا سر دوسرے جانور کے دھڑ پر لگانے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو وہ دھڑ پیچھے ہٹ گیا، اور اصلی دھڑ پر وہ سر لگانا چاہا تو آگے آگیا۔ غرض اصلی دھڑوں پر وہ سر آکر آخر کو لگ گئے اور بحکم خدا ان میں جان پڑگئی اور وہ جیسے تھے ویسے ہوگئے۔ جن کو دیکھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے اس قول کی پوری تصدیق ہوگئی کہ اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔
Ayahs 2:261–264

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

مثال ان لوگوں کی کہ خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو خدا کی راہ میں مانند مثال ایک دانہ کی ہے کہ اگاتا ہے سات بالیں (خوشے) ہر بال میں سو دانے او خدا جس کے لئے چاہے اس سے بھی زیادہ (ثواب) بڑھائے اور خدا بڑی وسعت والا جاننے والا ہے

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

وہ لوگ کہ خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو خدا کی راہ میں، پھر دیئے پیچھے (لینے کے بعد) نہ احسان رکھیں اور نہ ایذا پہنچائیں ان کے واسطے ہے اجر ان کا اور ان کے پروردگار کے یہاں، اور نہیں ہے خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

اچھی بات کہنی اور درگزر کرنا بہتر ہے اس خیرات سے کہ پیچھے اس کے آزردہ کرنا ہوا اور خدا بےنیاز ہے بردبار !

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

اے مومنو ! تباہ نہ کرو تم اپنی خیرات کو احسان رکھنے سے اور آزردہ کرنے سے، اس کی طرح جو خرچ کرتا ہے مال اپنا لوگوں کے دکھاوے کو اور ایمان نہیں رکھتا ہے خدا اور روز قیامت پر، پس مثال اس کی مانند مثال صاف پتھر کے ہے کہ اس پر کچھ مٹی پڑی ہو پس اوس پر مینہ زور کا برسا پس جس نے اسے نرا پتھر کر چھوڑا، قوت نہیں رکھتے ہیں ریاکار کسی چیز پر جو کچھ عمل کیا ہے، اور خدا کافروں کو راہ نہیں دکھاتا ہے

آداب صدقہ شان نزول : اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب اور اس خرچ کے اجر کے بڑھنے کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ہیں کہ جس مال میں سے اللہ کے نام پر کچھ خیرات کی جائے وہ مال نیک کمائی کا ہو وے۔ خیرات کر کے کسی پر احسان نہ جتائے۔
Ayahs 2:265–266

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

اور مثال ان لوگوں کی کہ خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو خدا کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے اور اپنے دل جمانے کو مانند مثال (ایسے) باغ کی ہے جو بلندی پر ہو برسا اس پر زور کا مینہ پس دوگنے میوے لایا پس اگر نہیں پہنچا اس پر زور کا مینہ تو شبنم ہی کافی ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا دیکھنے والا ہے

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader

کیا تم میں سے کوئی چاہتا ہے کہ ہو وے اس کے واسطے ایک باغ کھجور اور انگور کے درختوں کا، چلتی ہوں نیچے اس کے نہریں، اس شخص کے واسطے اس باغ میں ہر قسم کے میوے ہوں، اور اس پر بڑھاپا آگیا ہو اور اس کے بال بچے ننھے ننھے ہوں، پس اس حالت میں پہنچا اس کو بگولا کہ اس میں آگ (بھری) ہے تو جل کر رہ گیا، اسی طرح واضح کرتا ہے خدا تمہارے واسطے آیتیں تاکہ تم غور کرو

دنیا کے ہر ایک باغ کے دو موسم ہوتے ہیں : ایک پودے لگانے کا موسم، دوسرا پھل آنے پر پھل کھانے کا موسم۔ اسی طرح انسان کے عملوں کے دو زمانے ہیں : ایک دنیا میں نیک عمل کرنے کا زمانہ، دوسرا عقبیٰ میں ان نیک عملوں کا اجر پانے کا۔ جس کو باغ کے پھل کھانے کے موسم کے ساتھ پوری پشابہت ہے۔
Ayahs 2:267–271

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

اے مومنو ! خرچ کرو اپنی پاک کمائی میں سے اور ان چیزوں میں سے بھی کہ جو کچھ باہر لائے ہم تمہارے واسطے زمین سے، اور نہ قصد کرو ناقص چیز کا کہ دو تو اس میں سے تمہیں ملے تو نہ لوگے جب تک چشم پوشی نہ کرو، اور جانو کہ خدا بےنیاز ہے تعریف کیا گیا

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

شیطان اندیشہ دلاتا ہے تم کو تنگدستی کا اور مشورہ دیتا ہے بری بات کا، اور خدا وعدہ کرتا ہے تم سے بخشش کا اپنی طرف سے اور نعمت دینے کا، اور اللہ بڑی وسعت والا جاننے والا ہے۔

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

اللہ حکمت دیتا ہے جس کو چاہے اور جس کو حکمت ملی پس تحقیق اس کو بہت بھلائی دے دی گئی، اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

اور تم جو کچھ خرچ کرو یا منت مانو پس تحقیق خدا جانتا ہے اس کو، اور نہیں ہے ظالموں کو کوئی مدد دینے والا

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر تم علانیہ دو تب بھی اچھی بات ہے اور اگر اس کو پوشیدہ تم فقیروں کو دو تو تمہارے لئے بہت بہتر ہے، اور دور کرے تم سے بعض گناہ تمہارے، اور خدا کو تمہارے کاموں کی خبر ہے

صدقہ کا طریقہ شان نزول : حاکم، ترمذی، ابن ماجہ، ابوداؤد اور نسائی میں معتبر سند سے چند صحابیوں سے روایتیں ہیں۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ لوگ صدقہ دینے میں کچھ تو تنگی کرتے تھے اور بیکار بری چیز صدقہ دیتے تھے، ان پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جتلایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غنی ہے۔ اس کو تمہاری خیرات کی کچھ پروا نہیں ہے۔ صرف تمہارے بھلے کے لئے تم کو خیرات کا حکم دیا ہے تاکہ خالص دل سے تم ایک پیسہ یا ایک پیسہ کی چیز کی خیرات کرو تو جس قدر تمہارا خلوص ہے اس کے موافق ایک کے بدلے دس سے سات سو تک تم کو دنیا میں اور بیشمار عقبیٰ میں اجر عنایت فرماوے۔ اسی طرح دل سے اتری ہوئی ( بےکار) چیزیں اگر کوئی تمہیں دے تو تم خود لینا پسند نہ کرو اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں ہر گز قبول ہونے والی نہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شیطان اپنے شیاطین کو بھیج کر ہر طرح کے لوگوں کو بہکاتا ہے۔ اسی کو اس آیت میں فرمایا کہ صدقہ و خیرات کے وقت شیطان محتاج ہوجانے سے ڈراتا اور طرح طرح کی بری باتیں سکھاتا ہے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ یہ ہے کہ صدقہ و خیرات سبب مغفرت کا ہے۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ تم از خود یا نذر مان کر جو صدقہ و خیرات کرو گے اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے۔ نذر خالص اللہ کے لئے ہوتی ہے مثلاً کسی نے یہ کہا کہ یارب ! میں نے نذر مانی کہ اگر تو میرا فلاں مقصود پورا کردے، یا فلاں بیمار کو تندرست کردے، تو میں مسجد میں تیل ڈالوں یا فلاں ولی کے آستانہ کے فقراء کو کھانا کھلاؤں تو یہ نذر جائز ہے۔ (رد المختار) نیت بخیر ہو تو اعلانیہ اور چھپا کر دونوں طرح صدقہ جائز ہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ نفل کا چھپا کردینا افضل و بہتر ہے۔ اگر نفل صدقہ دینے والا دوسرے لوگوں کو ترغیب دینے کی نیت سے ظاہر کرکے خیرات دے تو بھی افضل و بہتر ہے۔ (مدارک) مسائل القرآن : اس آیت سے معلوم ہوا کہ مال تجارت اور غلہ اور پھلوں میں زکوٰۃ واجب ہے اور ناقص مال کا تصدق کرنا مکروہ ہے، اور بہتر کا مستحب۔
Ayahs 2:272–273

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

انہیں راہ دینا (اے محبوب ! ﷺ) تمہارے ذمہ لازم نہیں و لیکن خدا ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور جو کچھ خرچ کیا تم نے مال سے پس نفع تمہاری ذات کے لئے ہے اور مناسب نہیں ہے کہ تم خرچ کرو مگر خدا کی رضا مندی چاہنے کے واسطے، اور جو کچھ تم نے مال خرچ کیا تمہیں تمام پہنچایا جائے گا (یعنی اس کا ثواب) اور تم نقصان نہ دیئے جاؤ گے

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

خیرات ان فقیروں کے واسطے ہے کہ جو راہ خدا میں روکے گئے نہیں طاقت رکھتے ہیں زمین میں چلنے کی (یعنی دینی کاموں سے فرصت نہیں کہ روزی کمائیں) نادان تو ان کو دولت مند جانتا ہے ان کے طمع نہ کرنے کے سبب سے، تو پہچانتا ہے ان کو قیافہ (چہروں کی طمانیت) سے کہ وہ لوگوں سے سوال نہیں کرتے ہیں لپٹ کر، اور جو کچھ تم خرچ کرو مال سے پس اللہ اس کا جاننے والا ہے

مسیکن کون ؟ شان نزول : صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے جو روایت اس شان نزول کے ہم معنی ہے، اسی کا حاصل یہ ہے کہ مسکین وہ نہین جو گھر گھر مانگتا پھرتا ہے بلکہ اصل مسکین وہ ہے جو اتنا نہیں رکھتا کہ اس کے خرچ کے لئے کافی ہو۔