2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمظہر القرآن

Ayah 2:154

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کو نہ کہو کہ :” وہ مردہ ہیں “ بلکہ وہ زندہ ہیں اور لیکن (ان کی زندگی کی حقیقت) تم نہیں سمھجتے

شہداء کرام کا ذکر شان نزول : یہ آیت شہداء کے حق میں نازل ہوئی۔ لوگ شہداء کے حق میں کہتے تھے کہ فلاں کا انتقال ہوگیا وہ دنیوی آسائش سے محروم ہوگیا ۔ ان کے حق میں یہ آیت نازہوئی کہ موت کے بعد بھی اللہ شہداء کو حیات عطا فرماتا ہے ، ان کی ارواح پر رزق پیش کئے جاتے ہیں ، انہیں راحتیں دی جاتی ہیں ، ان کے عمل جاری رہتے ہیں ، اجروثواب بڑھتا رہتا ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں جنت کی سیر کرتی اور وہاں کے میوے اور نعمتیں کھاتی ہیں ۔ مسئلہ : اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندوں کو قبر میں جنتی نعمتیں ملتی ہیں۔ شہید وہ مسلمان مکلف طاہر ہے جو تیز ہتھیار سے ظلماً مارا گیا ہو ، اس کے قتل سے مال بھی واجب نہ ہوا ہو ، معرکہ جنگ میں مردہ پایا گیا ہو اور اس نے کچھ آسائش نہ پائی، اس پر یہ احکام ہیں کہ نہ اس کو غسل دیا جائے نہ کفن ۔ انہی کپڑوں ہی میں رکھا جائے ۔ آخرت میں شہید کا بڑا مرتبہ ہے ۔ بعض شہداء یہ ہیں (1) جیسے ڈوب کر یا (2) جل کر یا (3) دیوار کے نیچے دب کر مرنے والا (4) طالب علم، (5) سفر حج ، (راہ خدا میں مرنے والا (6) اور نفاس میں مرنے والی عورت اور (7) پیٹ کے مرض اور (8) طاعون اور (9) ذات الجنب اور (10) سل دق اور (11) جمعہ کے روز مرنے والے ۔ ان کو غسل دینا ، کفن دینا واجب ہے لیکن آخرت میں ان کے لئے شہادت کا بڑا درجہ ہے ۔
Ayahs 2:155–157

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

بیشک ہم تم کو ضرور آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے ، اور (اے محبوب ! ﷺ) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

کہ جب ان پر کوئی مصیبت آپڑے تو کہیں : ” بیشک ہم اللہ ہی کے ہیں (جس حال میں چاہے رکھے) اور ہم کو اس ہی کے پاس جانا ہے “

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں کہ جن پر درودویں اور رحمت ہے ان کے پروردگار کی طرف سے، اور یہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں

مصیبت کے وقت صبر کا اجر اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ جو شخص مصیبت کے وقت صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق اس کو پورا اجر دے گا ۔ لیکن ہر نیکی کا اجر دس درجہ سے لے کر سات سو تک ہے مگر صبر جیسی مشکل چیز ہے اسی طرح اس کا ثواب بھی اندازہ سے باہر ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے بسند معتبر روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعضے بندوں کو عقبیٰ میں بڑا درجہ دینا چاہتا ہے لیکن ان کے اعمال اس درجہ کے قابل نہیں ہوتے ، اس لئے ان کو بعض مصیبتوں سے آزماتا ہے۔ اور جب وہ صابر رہتے ہیں تو ان کو صبر کے اجر میں اللہ تعالیٰ عقبیٰ میں بڑے درجہ کے قابل کردیتا ہے ۔ اسی طرح صبر کرنے سے گناہ بھی معاف ہوجاتے ہیں ۔ اس لئے مسلمان آدمی کو مصیبت سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ ایسے وقت پر صبر اور نماز سے مدد لینی چاہیے۔ مال کے نقصان کے معنی : ” تجارت میں گھاٹا آجاوے، یا چوری ہوجائے ، جان کا نقصاب ، رشتہ داروں یا دوستوں کا مرجانا “ ، خوف سے مراد ” دشمنوں کا خوف ہے “۔ بھوک سے مراد :” محتاجی وقحط، میوہ کا نقصان باغ پیٹروں میں پھل کا نہ آنا یا کم آنا، یا اولاد کی موت کیونکہ اولاد کو بھی پھل کہتے ہیں۔ ترمذی وغیرہ میں ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب کسی مسلمان شخص کی اولاد کا انتقال ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرماتا ہے کہ جس وقت تو نے مریے بندے کے پھل کو اس سے چھین لیا تو اس وقت میرے بندے نے کیا کہا فرشتہ جواب دیتا ہے کہ یا اللہ ! اس وقت تیرے بندے نے اناللہ، پڑھی اور تیری تعریف کی ، نہ کچھ بےصبری کی ، نہ کوئی ناجائز کلمہ منہ سے نکالا۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اچھا ایسے بندے کے لئے جنت میں ایک گھر تیار کرو اور اس کا نام (بیت الحمد) اللہ کی تعریف کا گھر رکھو “۔
Ayahs 2:158–161

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بیشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی (ٹھہرائی ہوئی) نشانیاں یعنی (ادب گاہوں میں سے ہیں ، پس جو کوئی کعبہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں کے درمیان طواف کرے اور جو کوئی اپنی خوشی سے نیکی کرے تو خدا نیکی کا صلہ دینے والاخبر دار ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں ان کھلے کھلے احکام کو اور ہدایت کو کہ جس کو ہم نے نازل کیا بعد اس کے کہ لوگوں کے لئے ہم اس کتاب میں بھی واضح فرماچکے، تو ان پر اللہ کی لعنت ہے اور لعنت کرتے ہیں ان پر لعنت کرنے والے

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

مگر وہ جنہوں نے توبہ کی اور نیکی اختیار کی اور (جو کچھ کتاب میں تھا) صاف صاف بیان کردیا تو میں ان کی توبہ قبول فرماؤں گا ، اور میں بڑامعاف کرنے والا مہربان ہوں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور وہ کافر ہی مرے ان لوگوں پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی

شان نزول : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عبادات کو حج جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکھائے گئے ہیں ، صفامروہ کا دوڑنا بھی انہی میں سے ہے ۔ کیونکہ حضرت ہاجرہ ؓ پانی کی تلاش میں ان پہاڑوں کے مابین زمزم کا چشمہ نکلنے سے پہلے دوڑی تھیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس فعل کو حج کی عبادات میں داخل کردیا ہے اور یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 2:162–163

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

ہمیشہ اس لعنت میں رہیں گے اور نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ مہلت دی جائے گی

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

اور تمہارا خدا (تو وہی) ایک خدا ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان ہے

شان نزول : مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی صفت پوچھی تھی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ اور حدیث میں آیا ہے کہ اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے : الھکم الہ واحد لا الہ الاھو الرحمٰن الرحیم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔ یہ حدیث ابوداؤد ترمذی ومسندامام ابن ماجہ میں ہے ۔
Ayah 2:164

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے آنے جانے میں اور جہازوں میں جو لوگوں کے فائدے کی چیزیں (یعنی مال تجارت) سمندر میں لے کرچلتے ہیں اور اس پانی میں کہ برسایا اللہ نے آسمان سے ، پھر اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کے مرنے (یعنی خشک ہونے) کے بعد پھر زندہ (یعنی شاداب) کیا اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کے بدلنے میں جو ( خدا کے حکم کے) آسمان زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں ۔ بیشک ان سب چیزوں میں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں نشانیاں (موجود) ہیں

اللہ تعالیٰ کی وحدانیت دلیل شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ عنہمانے روایت لکھی ہے ۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے ایک دفعہ آنحضرت صلی علیہ وسلم سے کہا کہ آپ کی دعا سے اگر یہ مکہ کا صفا پہاڑ سونے کا ہوجاوے تو ہم لوگ آپ پر ایمان لے آویں گے، اور اس سونے سے ہتھیار اور گھوڑے خرید کر کے آپ کے ساتھ ہو کر جہاد کریں گے ۔ اس پر آپ نے قریش سے مضبوط وعدہ ایمان کا لیا اور اللہ تعالیٰ سے صفا کا پہاڑ کے سونے کے ہوجانے کی دعا کی ۔ حضرت جبرائیل آنحضرت کے پاس آئے اور اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچایا کہ صفا پہاڑ کے سونے کے ہوجانے کے بعد اگر یہ لوگ ایمان نہ لاویں گے تو ان پر بہت سخت عذاب نازل کیا جاوے گا ۔ اگر یہ ان کو منظور ہے تو صفا پہاڑ بھی سونے کا کردیا جاوے گا ۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے دعا کی : یا اللہ ! ” ان لوگوں کو اور مجھ کو اسی حال پر چھوڑ دیا جائے “۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ صفا پہاڑ کا دور از عقل خیال کرکے ان لوگوں نے اپنے ایمان لانے کو منحصر رکھا ہے ، عقلمند کے لئے اس سے بڑھ کر دور از عقل نشانیاں اللہ کی قدرت کی دنیا موجود ہیں۔ مثلاً (1) آسمان کا بلا ستون کے قائم رہنا ۔ (2) اور تاروں کا معلق ہونا۔ (3) اس خوبی کے ساتھ ہوا کا بادلوں کو اکٹھا کرنا۔ (4) موسم پر ہر سال ضرورت کے موافق مینہ برسنا اور (5) اس سے طرح طرح کی پیداوار کا زمین سے حاصل ہونا اور (6) پتھر کا سونا ہونا جو جگہ جگہ زمین میں سونے کی کان نکلتی ہے۔ جو سونا دینا بھر میں برتا جاتا ہے۔ اگر صفا پہاڑسونے کا ہوجائے تو کیا تعجب کی بات ہے، اور اس پر ایمان کا لانا کیا منحصر ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اسے بھی سونے کی ایک کان ہی سمجھا جائے گا ۔ اگر یہ لوگ اللہ کی قدرت کے نمونے دیکھ کر اس کو پہچاننا اور اس پر ایمان لانا چاہتے ہیں تو ہزاروں لاکھوں کروڑوں نمونے اللہ کی قدرت کے عقلمند کے لئے دنیا میں موجود ہیں۔
Ayahs 2:165–167

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے سوا اوروں کو معبود ٹھہراتے ہیں اور انہیں اللہ کی طرف محبوب رکھتے ہیں ، اور جو ایمان والے ہیں ان کو تو سب سے بڑھ کر خدا سے محبت ہوتی ہے (اور افسوس کریں) اگر ظالم وہ وقت دیکھیں جبکہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آئے گا اس لئے کہ ہر طرح کی قوت اللہ ہی کو ہے ، اور اس لئے کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

(یہ ایسا ٹیڑھا وقت ہوگا) جبکہ کافروں کے سردار اپنی پیروی کرنے والوں سے بیزار ہوں گے اور (عذاب) آنکھوں سے دیکھ لیں گے ، اور ان کے (آپس کے) تعلقات (سب) ٹوٹ جائیں گے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

اور پیروی کرنے والے کہیں گے کہ اے کاش ! (ایک دفعہ دنیا میں) پھر ہم کو لوٹادیا جائے تو ہم بھی ان سرداروں سے اسی طرح بیزار ہوجاویں جسیا کہ یہ ہم سے (اس وقت) بیزار ہوگئے ، اسی طرح اللہ انہیں دکھائے گا ان کی (بد) اعمالیوں کو (خالی) ارمان کرکے اور (اس پر بھی) ان کو دوزخ سے نکلنا (نصیب) نہ ہوگا

بت پرستوں کا انجام شان نزول : اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو اپنی قدرت اور وحدانیت کی نشانیاں بتلائیں ۔ ان نشانیوں کو دیکھ کر قریش ایمان نہ لائے اور اپنی شرک پر اڑے رہے ، تو ان کے شرک کا دنیا اور آخرت میں جو انجام ہے اس کی حالت ظاہر فرمانے کی غرض سے یہ آیت نازل فرمائی ۔ دنیا میں ان کے شرک کے سبب سے بدر کی لڑائی میں وہ رسوائی ان کی ہوئی جس کی تفصیل جنگ بدر کے قصہ میں آوے گی۔
Ayahs 2:168–171

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:168 in the Quran reader

اے لوگو ! کھاؤتم جو کچھ زمین میں چیزیں حلال پاکیزہ ہیں ، اور قدم بقدم شیطان کے نہ چلو بیشک ہو تمہارا کھلا دشمن ہے

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:169 in the Quran reader

وہ تو تمہیں بدی اور بےحیائی ہی (کے کام کرنے) کو کہے گا اور یہ (چاہے گا) کہ تم پر اپنی طرف سے بےسمجھے خدا پر بہتان باندھو

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا ہے ان (لوگوں) سے کہ تم اس کی پیروی کرو جو خدا کی طرف سے اترا ہے ، تو کہتے ہیں : بلکہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا “ (کیا تقلید کرتے ہیں) اگرچہ ان کے باپ دادا (دین کی) کچھ سمجھ نہیں رکھتے تھے اور نہ رستہ پاتے تھے

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

اور کافروں کو سمجھانے کی مثال ایسی ہے کہ جیسا کہ کوئی شخص ان (جانوروں) کو آواز دیوے کہ جو بجز پکار اور آواز کے کچھ نہیں سنتے ۔ وہ کافر بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے اس لئے کچھ نہیں سمھجتے

حلال و حرام کا ذکر شان نزول : یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے جانوروں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیا تھا مثلاً وہ جانور جن کو وہ سانڈ کے طور پر یا اس کے کان چیر کر چھوڑ دیتے تھے وغیرہ وغیرہ ۔ فرمایا کہ توحید وقرآن پر ایمان لاؤ، اور پاک چیزوں کو حلال جانو جنہیں اللہ نے حلال کیا اور جب باپ دادا ہی دین کے امور نہ سمجھتے ہوں اور راہ راست پر نہ ہوں تو ان کی پیروی کرنا حماقت وگمراہی ہے۔ اور جس طرح چوپائے ، چرانے والے کی صرف آواز ہی سنتے ہیں، کلام کے معنی نہیں سمجھتے، یہی حال ان کفار کا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی صدائے مبارک کو سنتے ہیں لیکن اس کے معنی ذہن نشین کرکے ارشاد فیض بیناد سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔
Ayah 2:172

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 2:172 in the Quran reader

اے ایمان والو ! کھاؤان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو روزی دی ہے اور اللہ کا شکر کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔

مسلم اور ترمذی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے۔ بدون پاک چیز کے اور کوئی چیز اللہ کی بار گاہ میں قبول نہیں ہوتی۔ بعضے لوگ رات دن طرح طرح کی دعائیں اللہ کی جناب میں کرتے ہیں ، اور حاجتوں کا روا ہونا اس کی بارگاہ سے چاہتے ہیں اور جب دعا قبول نہیں ہوتی تو مایوس ہوجاتے ہیں ۔ جن تک اکل حلال روزی نہ ہو دعا میں کہاں تاثیر ہوگی۔ اس آیت میں حلال روزی کی تاکید آئی ہے۔
Ayah 2:173

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

خدا نے تم پر صرف مردار کو اور خون کو اور سور کا گوشت اور جس (جانور) پر (ذبح کرتے وقت) خدا کے نام کے سوا کسی اور کا نام پکارا جاوے حرام کئے ہیں (لیکن جو شخص بھوک سے بہت ہی بےتاب ہوجائے بشرطیکہ خواہش سے نہ کھائے اور ضرورت سے آگے نہ بڑھے (جان بچانے کے لئے) اس پر (ان چیزوں کے کھانے میں) گناہ نہیں۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہر بان ہے

اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ فرمایا تھا کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے وہ کھاؤ اور شکر کرو۔ اس آیت میں اس دی ہوئی چیز میں سے جو کچھ دنیا میں امتحان کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حرام کیا ہے اس کا ذکر فرمایا ۔ اس آیت میں فقط مردار کا لفظ فرمایا ہے اور سورة مائدہ میں مردار کی تفصیل فرمائی ہے ۔ جو حلال جانور بغیر ذبح کئے مر جائے، یا اس کو طریق شرعی کے خلاف مارا گیا ہو مثلاً گلا گھونٹ کر یا لاٹھی پتھر ، ڈھیلے غلے ، گولی سے مار کر ہلاک کیا گیا ہو ، یا وہ گر کر مر گیا ہو ، یا کسی جانور نے سینگ سے مارا ہو ، یا کسی درندے نے ہلاک کیا ہو اس کو مردار کہتے ہیں۔ مسئلہ : مردار جانور کا کھانا حرام ہے مگر اس کا پکا ہوا چمڑا کام میں لانا اور اس کے بال ، سینگ ، ہڈی وغیرہ سے فائدہ اٹھاناجائز ہے۔ (تفسیر احمدی) مسئلہ : خون ہر جانور کا حرام ہے اگر بہنے والا ہو ، مسئلہ : جس جانور پر وقت ذبح غیر خدا کا نام لیا جائے ، خواہ تنہاہو یا خدا کے ساتھ عطف ملا کر ، وہ حرام ہے۔ وقت ذبح سوائے خدا کے کسی غیر کا نام لینے سے حرام ہے۔ مسئلہ : اگر ذبح فقط اللہ کے نام پر کیا اور اس سے قبل یا بعد غیرکا نام لیا گیا مثلاً یہ کہا کہ عقیقہ کا بکرا ، ولیمہ کا دنبہ یا جس کی طرف سے وہ ذبیحہ ہے اسی کا نام لیا ، یا جن اولیاء کے لئے ایصال ثواب مطلوب ہے ان کا نام لیا تو یہ جائز ہے ، اس میں کچھ حرج نہیں (تفسر احمدی) مضطر وہ ہے جو حرام چیز کے کھانے پر مجبور ہو اور اس کو نہ کھانے سے خوف جان ہو خواہ شدت کی بھوک ہو یا ناداری کی وجہ سے جان پر بن جائے اور کوئی حلال چیز ہاتھ نہ آئے یا کوئی شخص حرام کے کھانے پر جبر کرتا ہو اور اس سے جان کا اندیشہ ہو۔ ایسی حالت میں جان بچانے کے لئے حرام چیز کا بقدر ضرورت یعنی اتنا کھا لینا جائز ہے کہ خوف ہلاکت نہ رہے۔
Ayahs 2:174–176

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:174 in the Quran reader

بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں ان احکام کو جو خدا نے (اپنی) کتاب (تورات) میں نازل کئے اور اس کے بدلے تھوڑا سا (دنیاوی) معاوضہ حاصل کرتے ہیں، یہ لوگ کچھ نہیں کھاتے مگر اپنے پیٹوں میں آگ (بھرتے ہیں) اور قیامت کے دن خدا ان سے بات کرے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ Open ayah 2:175 in the Quran reader

یہ وہی لوگ ہیں کہ جنہوں نے مول لیا ہے ہدایت کے بدلے گمراہی کو اور (آخرت کی) بخشش کے بدلے عذاب کو، پس کیا بڑی برداشت ہے انہیں دوزخ کی آگ کی۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 2:176 in the Quran reader

یہ اس لئے ہے کہ اللہ نے کتاب حق کے ساتھ اتاری اور بیشک جنہوں نے اختلاف کیا اس کتاب میں البتہ وہ پرلے درجے کی مخالفت میں ہیں۔

حق چھپانے کی مذمت شان نزول : یہود لوگ آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے پہلے بڑے عالم وقت کہلاتے تھے، ان کی قوم کے جاہلہ لوگوں نے ان کے وظیفے مقرر کر رکھے تھے۔ آنحضرت ﷺ کے نبی ہونے کے بعد یہود نے آپ کے اصلی اوصاف کو جو توریت میں مذکور تھے اس خوف سے چھپا ڈالا کہ آپ کے اصلی اوصاف لوگوں پر کھل جائیں گے ، تو لوگ آپ کو بنی برحق جان کر آپ کی طرف رجوع کریں گے اور ہم کو پھر کوئی نہیں پوچھے گا ، اور ہماری آمدنی بالکل بند ہوجاوے گی ۔ یہود کی اس مذمت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ تھوڑے لالچ کے مقابلے میں انہوں نے حق بات کو چھپا کر اپنے پیٹ میں آگ بھری ہے اور اللہ ان سے ایسا ناخوش ہے کہ قیامت کے دن ان سے بات نہ کرے گا۔
Ayahs 2:177–179

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 2:177 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) نیکی یہی نہیں کہ تم (نماز میں) اپنا منہ مشرق ومغرب کی طرف کرلو بلکہ (اصل) نیکی تو ان کی ہے جو یقین رکھے خدا پر اور روز قیامت پر اور فرشتوں پر اور (آسمانی) کتابوں پر اور پیغمبروں پر اور اپنا عزیزمال اللہ کی محبت میں دیوے رشتہ داروں کو اور یتیموں اور فقیروں کو اور مسافروں کو اور مانگنے والوں کو اور غلاموں کے آزاد کرانے میں ، اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دیوے اور اپنا قول پورا کرنے والے کہ جب (کسی بات کا) اقرار کریں ، اور صبر کرنے والے تنگدستی میں اور جنگ (یعنی جہاد) کے وقت ، یہی لوگ ہیں جو سچ بولنے والے ہیں اور یہی پرہیز گار ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

اے مسلمانو ! لازم کیا گیا تم پر قصاص لینا جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو، آزاد کے بدلے آزاد ہے غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت، تو جس قاتل کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی تو اس پر لازم ہے پیروی کرنی حکم شرع کے موافق اور قاتل کو دینا چاہیے خون بہا وارث مقتول کو عمدگی سے، یہ آسانی ہے تمہارے پروردگار کی طرف سے اور رحمت، پس جو کوئی اس کے بعد بھی زیادتی کرے تو اس کے لئے عذاب دررد دینے والا ہے۔

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

اور قصاص (یعنی خون کا بدلہ لینے) میں تمہاری زندگی ہے۔ اے عقلمندو ! تاکہ تم (خون ریزی سے) باز رہو۔

شان نزول : جب قبلہ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف بدلا تو کچھ مسلمان آپس میں قبلہ کی بابت چرچے کرتے تھے اور یہود ونصاریٰ بھی اپنے قبلہ کے اچھے ہونے کی بحث کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ قبلہ تو سجدہ کرنے کا ایک واسطہ ہے، اسی واسطے پر بھلائی منحصر ہے۔ اصل بھلائی کی باتیں یہ ہیں کہ اللہ پر اور پیغمبروں پر اور اللہ کے فرشتوں پر اور کتابوں پر پورا ایمان ہو، نہ یہ کہ جیسے یہود ونصاریٰ ہیں کہ ایک توریت کو نہیں مانتے اور دوسرے انجیل کو اور قرآن اور نبی آخر الزماں ﷺ کے دونوں منکر ہیں، اور ملائکہ پر ایمان کا یہ حال ہے کہ یہود لوگ جبریل کو اپنا دشمن بتاتے ہیں اور مسلمانوں کو عہد کا ذکر فرما کر یہ ہدایت کی کہ تم اللہ پر ایمان لا کر اس کے حکم کی اطاعت کرنے جب عہد کرچکے تو جس قبلہ کی طرف منہ کرنے کا اس کا حکم ہوا اس کی بلا تردداطاعت کرو۔ پھر تکمیل ایمان کی اور باتوں کی ہدایت فرمائی، جیسے نماز، زکوٰۃ، نفلی صدقہ، ایفائے عہد، اللہ کی راہ میں اچھی سے اچھی چیز کو آدمی عزیز نہ جانے، یہاں تک کہ جان کو بھی اللہ کی راہ میں فدا کرنے سے دریغ نہ کرے، مال تو کیا چیز ہے۔ خلوص قلب کا درجہ آدمی کو پورا ایمان حاصل ہونے کے بعد عطا ہوتا ہے۔ چناچہ حضرت ابو ذر ؓ نے ایک روز آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ایمان کیا چیز ہے ؟ آپ نے اوپر کی آیت پڑھ دی اور پھر ایک روز انہوں نے آنحضرت ﷺ سے یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ ایمان یہ چیز ہے کہ جب آدمی ایماندرا کوئی نیک کام کرے تو اس نیک کام کے ادا ہوجانے پر اندر سے اس کا دل شاد ہوجاوے اور برے کام پر دل اندر سے ناراض ہو وے۔
Ayahs 2:180–182

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

مسلمانو تم پر لازم کیا گیا کہ جب تم میں سے کسی کو موت آئے اگر کچھ مال چھوڑا ہے تو وصیت کر جائے اپنے ماں باپ اور قرابت کے رشتہ داروں کے لئے عمدہ طور پر، یہ واجب ہے پرہیز گاروں پر۔

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

پھر جس شخص نے سن لینے کے بعد وصیت کو بدل دیا تو اس کا گناہ انہیں وصیت کے بدل دینے والوں پر ہے۔ بیشک اللہ سنتا ہے اور جانتا ہے۔

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

پھر جسے اندیشہ ہوا کہ وصیت کرنے والے نے کچھ ناانصافی کی یا گناہ کیا تو اس نے ان میں صلح کرا دی تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے، بیشک اللہ بخشنے وال مہر بان ہے۔

وارثت اور وصیت اسلام سے پہلے دستور تھا کہ اہل قرابت کو چھوڑ کر مرتے وقت وصیت کر جاتے تھے کہ ان کا مال غیروں کو ملے۔ اللہ تعالیٰ نے اس طریقہ کو روکنے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی جس سے ماں باپ اور قرابت داروں کے لئے وصیت فرض ہوئی، پھر سورة نساء میراث کا حکم نازل ہوا۔ پس وصیت کے فرض ہونے کا حکم اب منسوخ ہے۔ مستحب کے طور پر جو شخص چاہے اپنے مال کے تیسرے حصہ تک وصیت کرسکتا ہے، اور جو کوئی قابض مال یا کوئی گواہ باوجود واقفیت کے اس کو بدل دے گا تو یہ گناہ اس کی گردن پر آئے گا۔ خدا سے کوئی بات مخفی نہیں کیونکہ اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ اور جس کو یہ معلوم ہو کہ موصی انصاف کے طور پر وصیت نہ کرے گا، یا وصیت میں بےانصافی کر کے مر گیا اور جھگڑا پیدا ہوگیا پھر وصیت میں کمی زیادتی کر کے باہم صلح کرا دی تو اس تبد یلی میں اور اس اصلاح میں جو کچھ خلاف وصیت یا کوئی بات دروغ مصلحت آمیز اس سے سر زد ہوگئی ہے تو خدا اس کو معاف کر دے گا، وہ غفور اور رحیم ہے۔
Ayahs 2:183–185

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

اے مومنو ! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے کہ فرض ہوئے تھے ان لوگوں پر (یعنی اہل کتاب پر) جو تم سے پہلے تھے تاکہ تمہیں پرہیز گاری ملے

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

روزے رکھنے کے چند گنتی کے دن ہیں (اس پر بھی) تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو (تو اس کے لئے اجازت ہے) کہ وہ دوسرے دنوں میں (روزہ رکھ کر روزہ کے دنوں کی) گنتی پوری کرے اور جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو (اور نہ آئندہ اس پر طاقت کی امید ہو) تو اس کے لئے روزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دینا ہے۔ پھر جو اپنی طرف سے زیادہ نیکی کرے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے، اور یہ کہ روزہ رکھنا (ہر حال میں) تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

مہینہ رمضان کا وہ ہے کہ جس میں قرآن نازل ہوا ہے وہ انسانوں کے لئے رہنما ہے اور ہدایت کی روشن صداقتیں رکھتا ہے اور حق کو باطل سے الگ کردینے والا ہے، پس جو کوئی تم میں سے یہ مہینہ پائے تو اسے چاہیے کہ ضرور اس کے روزے رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر میں تو اس کے لئے یہ حکم ہے کہ دوسرے دنوں میں چھوٹے ہوئے روزوں کی گنتی پوری کرے۔ اللہ چاہتا ہے تمہارے لئے آسانی اور تم پر دشواری نہیں چاہتا ہے اور (یہ حکم اس لئے ہے) تاکہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ کی بزرگی بیان کرو اس شکریہ میں کہ اللہ نے تم کو راہ دکھائی اور تاکہ اس کی شکر گزاری میں سر گرم رہو

شان نزول : ارکان دین میں روزہ دوسرا رکن ہے۔ دوسرا رکن اس سبب سے اس کو کہتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے اور آپ کو معراج ہوئی تھی جس کا ذکر سورة بنی اسرائیل میں آوے گا، تو نماز اسی رات فرض ہوچکی تھی جس کی تفصیل صحیحین کی حدیث میں ہے کہ پچاس نمازیں فرض ہوئیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صلاح (تجویز) سے آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے تخفیف کی خواہش کی اور آخر کو دن رات میں پانچ وقت کی نماز ہی باقی رہیں۔ اب روزہ اس آیت ہجرت کے دوسرے سال سے فرض ہوا۔ ابتدائے اسلام میں اختیار دیا گیا تھا کہ جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے ہر روزہ کے عوض میں دونوں وقت ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا کرے۔ پھر اس حکم سے کہ پھر جو پاوے تم میں سے یہ مہینہ تو روزے رکھے فدیہ کا حکم منسوخ ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے دوسری دفعہ مریض اور مسافر کا ذکر فرما کر صراحت فرمادی کہ مریض اور مسافر کی قضا کا حکم منسوخ نہیں بلکہ باقی ہے۔ روزہ کی فضیلت میں بہت حدیثیں آئی ہیں صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایتیں ہیں، جن کا حاصل یہ ہے کہ اور نیکیوں کا ثواب دس درجہ سے سات سو تک لکھنے کا فرشتوں کو حکم ہے مگر روزہ کے ثواب کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہ دیا ہے کہ روزہ کا ثواب میں خود اپنی ذات سے قیامت کے دن دوں گا۔ رمضان کی برزگی میں اب بھی بہت حدیثیں وارد ہیں یہاں تک کہ ساری آسمانی کتابیں اللہ تعالیٰ نے بوجہ برزگی اسی مہینہ میں نازل فرمائی ہیں۔
Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور (اے محبوب ! ﷺ) جب تم سے میرے بندے میری نسبت دریافت کریں تو (ان کو سمجھا دو کہ) میں (ان کے) نزدیک ہوں جب کوئی مجھ سے دعا کرے تو میں (ہر ایک) دعا کرنے والے کی دعا سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ پس ان کو چاہیے میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ بھلائی پائیں۔

دعا، روزہ افطاری اور سحری کی شرائط اور فضیلت شان نزول : بعضے لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا تھا کہ : اللہ تعالیٰ پاس ہے یا دور تاکہ اسی طرح دعا مانگیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ہدایت فرمائی کہ جو کوئی اللہ کی اطاعت پوری کرے گا اور اس کے حکم کو مانے گا اللہ اس سے قریب ہے، اس کی ہر خواہش اور دعا کے قبول کرنے کو موجود ہے۔ ربط آیات اوپر سے یہ آیت روزہ کے ذکر میں تھی، ابھی روزہ کا ذکر پورا نہیں ہوا تھا کہ بیچ میں اللہ تعالیٰ نے اس دعا کا ذکر فرمایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دعا کو روزہ کے ساتھ ایک خالص تعلق ہے۔ جس کی وجہ سے روزہ دار کی دعا بہ نسبت بےروزہ دار کے زیادہ قبول ہوتی ہے۔ ترمذی، ابن ماجہ، نسائی اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تین شخص حاکم عادل، روزہ دار اور مظلوم کی دعا رائیگاں نہیں جاتی۔ بلکہ ان کی دعا کے لئے فوراً آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) روزوں کی راتوں میں اپنی بیبیوں کے پاس جانا تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے۔ وہ تمہارے لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو (یعنی وہ تمہارے بغیر نہیں رہ سکتیں تم ان کے بغیر نہیں رہ سکتے) ، اللہ نے دیکھا کہ تم (ان کے پاس جانے سے) اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے تھے تو اس نے تہماری توبہ قبول کی اور تم کو معافی دی۔ پس اب (روزوں کی رات کے وقت) ان سے صحبت کرو اور طلب کرو جو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہے (یعنی اولاد) اور (اسی طرح رات کے وقت) کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے ڈورا سفیدی (یعنی صبح صادق) کا (رات کی) سیاہی کے ڈورے سے۔ صبح کے وقت الگ ہوجائے۔ پھر (صبح صادق سے) رات (شروع ہونے) تک روزہ کو پورا کرو، اور اپنی بیبیوں سے خلوت نہ کرو اس حالت میں کہ جب تم مسجدوں میں اعتکاف میں بیٹھے ہو۔ یہ اللہ کی (باندھی ہوئی) حدیں ہیں پس ان کے پاس نہ جاؤ۔ اللہ اسی طرح اپنے احکام لوگوں کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ پرہیز گاری کریں

شان نزول : جب رمضان شریف کے روزے فرض ہوئے تو ابتدائے سلام میں یہ حکم تھا کہ عشاء کی نماز سے پہلے جس کو کسی کو جو کچھ کھانا پینا ہوتا تھا ہو کھا پی لیتا تھا، اس کے بعد کھانا، پینا، مباشرت سب کچھ حرام ہوجاتا تھا۔ حضرت قیس بن حرمہ ؓ ایک صحابی تھے۔ وہ روزہ کھول کر بغیر کھانا کھائے ایک دفعہ سو گئے، دوسرے دن روزہ پر روزہ رکھنے کے سبب سے دوپہر کے وقت ان کو غش آگیا۔ اس پر آنحضرت ﷺ اور سب صحابہ کرام نے ان کے حال پر بڑا تاسف کیا۔ اور بعضے صحابہ کرام سو جانے کے بعد پھر رات کو اٹھ کر مباشرت کی جرأت کر بیٹھے۔ اس رخنہ کے رفع کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور صبح صادق کے شروع تک یہ چیزیں حلال فرمائیں جس میں سحری کا کھانا داخل ہے۔ سحری کے کھانے والوں کے لئے فرشتے رحمت کی دعا مانگتے ہیں۔ جو کوئی سحری کو کھانا نہ کھائے تو فقط پانی ہی پی لیا کرے تاکہ سحری کی برکت سے محروم نہ رہے۔ افطار میں جلدی کرنا اور سحری میں دیر کرنا یہ بھی سنت ہے اور حالت ناپاکی میں روزہ کی نیت کر کے کوئی شخص روزہ رکھے اور صبح کو نہاوے تو اس کے روزہ میں کوئی فتور (خلل) نہیں پڑتا۔ اعتاف کی حالت میں مباشرت منع ہے اور روزہ شرط ہے۔ اور سنت یہ ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف ہو۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے کسی خاص جگہ میں بیٹھنے کو شرع میں اعتکاف کہتے ہیں۔ جامع مسجد میں اعتکاف اولیٰ ہے۔
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق (طور پر) نہ کھاؤ اور اپنا مال حاکموں کے پاس رشوت میں نہ پہنچاؤ اور اس غرض سے کہ (اس کے ذریعہ سے) لوگوں کا کچھ مال بطریق گناہ (یعنی ظلم) کے کھا جاؤ اور تم کو (اپنے جھوٹ اور ظلم کا) علم (بھی) ہو

ناجائز مال کی تشریح شان نزول : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قید لگادی کہ اسی مال کے کھانے پینے کی اجازت تم کو دی گئی ہے جو حق طور پر ہو جو شریعت نے جائز رکھا ہو اور ہو ہر گز نہ کھایا جائے جو جائز نہیں ہے مثلاً ، (1) کسی کی امانت لے کر مکر جائے یا (2) جوئے میں کسی کا مال جیت لے یا (3) حاکم ہو کر کسی محکوم سے رشوت لے لے یا (4) جھوٹی قسم یا جھوٹی گواہی دے کر یا (5) چرب زبانی سے ناحق بات کو جتلا کر فیصلہ کرایا جائے۔
Ayah 2:189

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

(اے محبوب ﷺ ! ) لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو (تم ان سے) فرماؤ کہ وہ لوگوں کے واسطے وقت کی علامتیں ہیں اور حج کے لئے اور اس میں کوئی فضیلت ہیں کہ گھروں میں (احرام کی حالت میں) ان کی پشت سے آؤ لیکن یہ فضیلت ہے کہ پرہیزگاری (اختیار) کرو، اور گھروں میں (آؤ تو) دروازوں کی طرف سے آؤ، اور خدا (کی نافرمانی) سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ

شان نزول : یہ آیت حضرت معاذ بن جبل اور ثعلبہ بن غنم انصاری ؓ کے جواب میں نازل ہوئی۔ ان دونوں نے دریافت کیا کہ : یا رسول اللہ ! چاند کا کیا حال ہے۔ ابتداء میں بہت باریک نکلتا ہے، پھر روز بررز بڑھتا جاتا ہے۔ پھر گھٹنے لگتا ہے کہ پہلے کی طرح باریک ہوجاتا ہے، ایک حال پر نہیں رہتا۔ اس سوال سے مقصد چاند کے گھٹنے بڑھنے کی حکمتیں دریافت کرنا تھا۔ مفسرین کا خیال ہے کہ سوال کا مقصود چاند کے اختلافات کا سبب دریافت کرنا تھا۔ اس لئے چاند کے گھٹنے او بڑھنے کے فوائد بیان فرمائے کہ وہ وقت کی علامتیں ہیں، اور آدمیوں کے ہزارہا دینی کام دنیوی کام اس سے متعلق ہیں : زراعت، تجارت، لین دین کے معاملات، روزے اور عید کے اوقات، عورتوں کی مدتیں، حیض کے ایام، حمل اور دودھ پلانے اور چھڑانے کے وقت اور حج کے اوقات اس سے معلوم ہوتے ہیں۔ کیونکہ اول میں جب چاند باریک ہوتا ہے تو دیکھنے والا جان لیتا ہے کہ یہ ابتدائی تاریخیں ہیں، اور جب چاند پورا روشن ہوتا ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ مہینے کی درمیانی تاریخ ہے، اور جب چاند چھپ جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ مہینہ ختم ہونے پر ہے۔ اسی طرح مہینوں سے سال کا حساب ہوتا ہے۔ ہر زبان کے لوگ اپنا حساب معلوم کرلیتے ہیں۔ ” لیس البر بان تاتوا البیوت “ الخ کا شان نزول : زمانہ جاہلیت میں لوگوں کی یہ عادت تھی کہ جب ہو حج کر کے احرام باندھتے تو کسی مکان میں اس کے دروازے سے داخل نہ ہوتے بلکہ پیچھے سے نقب لگا کر آتے۔ اور اس کو نیک جانتے۔ اس خیال سے دروازہ سے آنا گویا احرام باندھ کر حج سے ناکام آنا ہے۔ اس لئے خدا نے فرمایا یہ کچھ نیکی نہیں، تم خدا سے ڈرو اور شوق سے گھروں میں دروازہ سے آؤ، پرہیز گاری میں تمہارے لئے فلاح ہے اللہ کے احکام کی پابندی کرو۔
Ayahs 2:190–193

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور (مسلمانو ! ) اللہ کی راہ (یعنی دین کی حمایت) میں ان سے لڑو جو لوگ تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو بیشک اللہ ہر گز دوست نہیں رکھتا ہے حد سے بڑھنے والوں کو

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

اور کافروں کو جہاں پاؤ قتل کرو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکہ سے) تم بھی ان کو (وہاں سے) نکال باہر کرو، ان کا فساد (برپا رہنا) خونریزی سے بھی بڑھ کر ہے، اور ان سے مسجد حرام کے پاس نہ لڑو جب تک وہ خود تم سے وہاں نہ لڑیں، اور اگر وہ لوگ تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو یہی سزا ہے ایسے کافروں کی

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

پھر اگر وہ باز رہیں تو بیشک اللہ بخشنے والا مہر بان ہے

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

اور ان لوگوں سے یہاں تک لڑو کہ جب تک (ملک میں) شرک (یعنی ظلم و فساد) باقی نہ رہے اور دین خالص اللہ ہی کے لئے ہوجائے پھر اگر وہ (کفر سے) باز آجائیں تو (تمہیں بھی ہاتھ روک لینا چاہیے کیونکہ) زیادتی (تو) ظالموں کے سوا کسی پر (جائز ہی) نہیں

شان نزول : ہجرت کے بعد جب آنحضرت ﷺ مدینہ تشریف لائے اور انصار لوگوں کے سبب سے مسلمانوں کی جماعت کو غلبہ ہوگیا تو اس آیت میں جہاد کا حکم اترا اور مکہ میں درگزر کرنے کی جتنی آیتیں اتریں تھیں وہ سب اس حکم سے منسوخ ہوگیئں۔ اس آیت میں جو ارشاد فرمایا کہ جو تم سے لڑیں ان سے لڑو اس کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ عورتیں، بچے بوڑھے، جو تم سے لڑنے کے قابل نہیں ان سے مت لڑو اور ان کو مت مارو۔ دوسرے معنی یہ کہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے سوا جو بھی انمرد تم سے لڑیں اور مقابلہ کریں ان سے لڑو۔ مقابلہ نہ کرنے والوں سے مت لڑو۔ فوائد القرآن : حرم کی حد میں بھی مشرکین سے محض ان کی شرک کی وجہ سے لڑائی جائز ہے۔ خواہ مشرک لوگ مقابلہ کریں یا نہ کریں۔ لیکن صحیحین کی اس حدیث کی بنا پر جس میں آپ نے فرما دیا ہے کہ حرم شریف کی حد کے اندر قیامت تک لڑائی حرام ہے۔ فتح مکہ کے دن فقط اپنے رسول کو اللہ تعالیٰ نے ایک گھڑی بھر کے لئے حرم کی حد میں لڑائی جائز فرمائی تھی۔