2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 2:75–77

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:75 in the Quran reader

تو اے مسلمانو ! کیا تم امید رکھتے ہو کہ یہود تمہارا یقین لائیں گے اور بیشک ان میں سے ایک گروہ وہ تھا جو اللہ کلام سنتے تھے پھر سمجھنے کے بعد اس کو دانستہ بدل ڈالتے تھے

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:76 in the Quran reader

اور جب مسلمانوں سے ملتے تو کہتے کہ ہم ایمان لائے اور جب آپس میں اکیلے ہوتے تو کہتے :” جو کچھ تمہیں خدا نے (توریت کا) علم دیا ہے وہ مسلمانوں پر کیوں ظاہر کئے دیتے ہو کہ تم سے مناظرہ کریں اس دلیل سے تمہارے پروردگار کے پاس “ کیا تم اتنی عقل نہیں رکھتے

اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 2:77 in the Quran reader

کیا یہ (یہودی) نہیں جانتے کہ بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں

شان نزول : اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہود کی سخت دلی کا ذکر فرمایا تھا کہ مدینے کے اطراف میں جو یہود رہتے ہیں ان کے بڑوں سے یہ بات چلی آتی ہے کہ جوں جوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں یہ لوگ دیکھتے ہیں ان کے دل اور سخت ہوتے جاتے ہیں ۔ اب مدینہ کے اطراف کے یہود لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اکثر ملتے جلتے رہتے تھے جس سے صحابہ کرام کو یہ توقع ہوتی تھی کہ راہ راست پر آکر یہ لوگ شرع محمدی ﷺ کے تابع ہوجاویں گے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں سے یہ توقع بالکل بےسود ہے ۔ انہوں نے تو شریعت موسوی کا بھی یہ کھو جڑا کھویا ہے (حشر کیا) کہ توریت کی اکثر آیتیں بدل کر حرام کو حلا ل اور حلال کو حرام ٹھہرارکھا ہے ۔
Ayahs 2:78–79

وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 2:78 in the Quran reader

اور بعضے ان میں سے ان پڑھ ہیں جو کتاب ( یعنی توریت) کو نہیں جانتے مگر ہو صرف (اپنے مطلب کی) باطل آرزوؤں کے جانتے ہیں وہ نرے گمان میں ہیں

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 2:79 in the Quran reader

پس افسوس ہے ان لوگوں پر جو اپنے ہاتھوں سے تو کتاب لکھیں ، پھر (لوگوں سے) یہ کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے تاکہ اس کی عوض میں کچھ دام (یعنی دنیاوی فائدہ) حاصل کریں ، پس افسوس ہے ان کے لئے ان کے اپنے ہاتھوں کے لکھے سے اور (پھر) افسوس ہے ان پر کہ وہ ایسی کمائی کرتے ہیں

ان آیتوں میں یہود کے ان پڑھ علماء کا حال ہے۔ علماء اپنی طرف سے اپنے ہاتھوں سے کچھ جھوٹ، مصنوعی باتیں جعلسازی سے کتاب الہیٰ میں لکھ کر اللہ کا حکم بتاتے ہیں اور جاہل لوگوں کو بہکا کر اس ذریعہ سے کچھ کما کھاتے۔ لیکن ان کا یہ جھوٹ اور یہ لقمہ حرام ایک دن ان کو خرابی میں ڈالے گا ۔
Ayah 2:80

وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:80 in the Quran reader

اور کہا ( یہودیوں نے) کہ دوزخ کی آگ ہم کو نہیں چھوئے گی مگر گنتی کے چند روز (اے محبوب ﷺ ان لوگوں سے) فرماؤ :” کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لے لیا ہے پھر تو اللہ ہر گز خلاف نہیں کرے گا اپنے عہد کے ، یا خدا پر وہ بات کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں “

شان نزول : علماء یہود میں دو باتیں زیادہ مشہور تھیں 1۔ ایک تو یہ کہ دنیا کی عمر سات ہزاربرس کی ہے اگر ہم کو عذاب ہوا تو فی ہزار ایک دن کا عذاب ہوگا 2۔ دوسری بات یہ کہ اگر سات دن سے زیادہ ہوا تو چالیس دن سے زیادہ کسی طرح نہ ہوگا ۔ کیونکہ ہمارے بڑوں نے اسی مدت میں بچھڑے کی بوجا کی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا :” تم ان یہود کے جھوٹے علماء سے دریافت کرو ، ان کے پاس ان جھوٹی باتوں کی کیا سند ہے ۔ اللہ کے دین میں ایسی جھوٹی باتیں بنانے کا وبال ایک دن ان پر آنے والا ہے “۔
Ayahs 2:81–82

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:81 in the Quran reader

ہاں جس کسی نے برا کام کیا اور اس کو اس کے گناہوں نے (ہر طرف سے) گھیر لیا پس وہ ہی لوگ دوزخ کے رہنے والے ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:82 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے ایسے ہی لوگ بہشت کے رہنے والے ہیں وہ ہمیشہ ہمشہ اس میں رہیں گے

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا : ان آیتوں میں گناہ کے معنی :” شرک “ کے لئے ہیں ۔ جو شخص یہود کی طرح شرک وگناہوں میں رہ کر بغیر توبہ کے مر جاوے گا وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اور جو مومن گناہ گار بغیر توبہ کے مر جاوے گا وہ آخیر کو جنت میں جاوے گا ۔ ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہے گا ۔
Ayah 2:83

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 2:83 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو کہ) جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ تم کسی کی عبادت نہ کرنا سوائے خدا کے اور اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں سے اور لوگوں سے اچھی طرح نرمی کے ساتھ بات کرنا اور نماز قائم رکھنا اور زکوٰۃ دینا ۔ پس تم میں سے تھوڑے آدمیوں کے سوا باقی (عہد سے) پھرگئے اور تم منہ موڑنے والے ہو

توحید اور حقوق والدین مسائل القرآن : توحید کا مسئلہ یہ ہے کہ اللہ کو وحدہ لا شریک جاننا اور اس کی عبادت میں کسی لو شریک نہ کرنا ۔ یہ حکم اللہ تعالیٰ نے ہر ایک رسول کی امت کو دیا ہے ۔ صحیحین میں حضرت معاذؓ سے روایت ہے کہ اللہ کا حق اس کے بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں ، اور اللہ تعالیٰ کے اس حق کے ادا ہونے کے بعد بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن اپنے ایسے بندوں کو دوزخ کے عذاب سے بچا وے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور ماں باپ کے سبب سے ہر ایک انسان پرورش پاتا ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے ساتھ ماں باپ کے حق کا ذکر کیا ہے ۔ مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جس شخص نے اپنے ماں باپ کو یا فقط باپ کو ان کے بڑھاپے کی حالت میں زندہ پایا ، اور پھر بھی ان کی خدمت کے اجر میں اس شخص نے جنت حاصل نہ کہ تو ایسا شخص بڑا بد نصیب ہے “۔ لوگوں سے نیک بات کہنے میں وعظ ونصیحت بھی داخل ہے جو ایمان کی نشانی ہے۔ مسئلہ : اگر ماں باپ اپنی خدمت کے لئے نوافل چھوڑنے کا حکم دیں تو چھوڑدے ان کی خدمت نفل سے مقدم ہے ۔ مسئلہ : واجبات ماں باپ کے حکم سے ترک نہیں کئے جاسکتے ۔ ماں باپ کے ساتھ احسان کے طریقے جو احادیث سے ثابت ہیں ، یہ ہیں کہ تہہ دل سے ان کے ساتھ محبت رکھے ، رفتار گفتار میں ، نشست وبرخاست میں ادب لازم جانے ۔ ان کی شان میں تعظیم کے لفظ کہے ، ان کو راضی کرنے کی کوششیں کرتا رہے، اپنے نفیس مال کو ان سے نہ بچائے ، ان کے مرنے کے بعد ان کی وصیتیں جاری رکھے ، ان کے لئے صدقات ، تلاوت قرآن سے ایصال ثواب کرتا رہے ، اللہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت کی دعا کرتا رہے ، ہفتہ وار ان کی قبر کی زیارت کرتا رہے ۔ (تفسیر عزیزی)
Ayahs 2:84–85

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 2:84 in the Quran reader

اور ( وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں خونریزی نہ کرنا اور نہ اپنی بستیوں سے اپنی قوم کو جلا وطن کرنا پھر تم نے اس کا اقرار کرلیا تھا اور تم گواہ ہو

ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:85 in the Quran reader

پھر تم ہی وہ گروہ ہو جو اپنی قوم کو قتل کرتے ہو اور اپنی قوم میں سے ایک گروہ کو ان کے وطن سے باہر نکالتے ہو ان پر مدد یتے ہو (ان کے مخالف کو) گناہ اور زیادتی میں ، اور اگر وہی لوگ قیدی ہو کر تمہارے پاس آتے ہیں تو تم چھڑائی (جرمانہ) دے کر ان کو چھڑالیتے ہو حالانکہ (شریعت کی رو سے) تم پر حرام ہے ان کا نکالناتو کیا تم کتاب (الہی کے بعض حکم کو مانتے، پس جو لوگ تم میں ایسا کریں ان کی سزا کیا ہے سوائے اس کے کہ دنیا کی زندگی میں ذلت اور دن قیامت کے بڑے سخت عذاب کی طرف پھیرے جائیں گے اور جو کچھ ت لوگ کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے

شان نزول : توریت میں بنی اسرائیل سے عہد لیا گیا تھا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کریں ، وطن سے نہ نکالیں اور جو بنی اسرائیل کسی کی قید میں ہو تو اس کو مال دے کر چھڑالیں ۔ اس عہد پر انہوں نے اقرار بھی کیا، اپنے نفس پر شاہد بھی ہوئے لیکن قائم نہ رہے اور اس سے پھرگئے ۔ صورت واقعہ یہ ہے کہ نواح مدینہ میں یہود کے تین قبیلے بنی قینقاع اور بنی نضیر اور بنی قریظہ رہتے تھے ۔ بنی قینقاع اور بنی نظیر کی عرب کے خزرج قبیلہ سے دوستی تھی ، اور بنی قریظہ کی اوس قبیلہ سے ۔ جب دونوں قبیلے آپس میں لڑتے تو یہود بھی اپنے اپنے دوست قبیلے کے ساتھ ہو کر لڑتے اور ایک طرف کے یہود یوں کے ہاتھ سے دوسری طرف کے یہودی مارے جاتے ، اور اگر ایک طرف کے یہودی دوسری طرف گرفتار ہوجاتے تو توریت کے حکم کے موافق چھڑاوائی (جرمانہ) کی رقم دے کر اپنے قیدیوں کو ضرور یہودی چھڑالیتے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہود کو قائل کیا کہ توریت میں جس طرح ایک یہودی کا دوسرے یہودی قیدی کو چھڑائی دے کر چھڑانے کا حکم ہے ۔ اسی طرح یہودیوں کی آپس کی لڑائی ، آپس کی جلاوطنی حرام ہے ۔ پھر فرمایا کہ توریت کی بعض آیتوں پر اپنی مرضی کے موافق عمل کرنا اور بعض آیتوں پر یمل نہ کرنا یہ کون سی دینداری ہے ۔ پھر فرمایا : ” جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے غافل نہیں ہے بلکہ دنیا کی رسوائی اور عقبیٰ کا عذاب تمہاری سزا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قرار پاچکی ہے “۔
Ayah 2:86

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠ Open ayah 2:86 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلہ میں خریدی ہے پس نہ تو (قیامت کے دن) ہلکا ہی کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ انکی مدد کی جائے گی

اس آیت میں یہود اپنے اعمال کے سبب جس ٹوٹے میں پڑگئے اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ ان لوگوں نے اپنی عاقبت ہاتھ سے دے کر دنیا حاصل کی جو چند روزہ ہے ۔ صحیحین میں حضرت نعمان بن بشر ؓ سے روایت ہے کہ سب دوزخیوں سے کم عذاب جس شخص پر ہوگا اس جو آگ جو تیاں پہنائی جاویں گی۔ جس سے اس کا بھجا کھول جاوے گا ۔ پھر جن لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کو سخت عذاب ہوگا اور ان کے عذاب میں کبھی کچھ تخفیف نہ ہوگی ان کا کیا حال ہوگا ۔ خدا اپنے عذاب سے محفوظ رکھے ۔ (آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ)
Ayah 2:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ Open ayah 2:87 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے موسیٰ کو کتاب (توریت) عطا کی اور اس کے بعد پے درپے رسول بھیجے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ کو ہم نے روشن نشانیاں عطا فرمائیں اور روح القدس (یعنی جبرئیل) سے اس کو قوت دی ۔ پس جب کبھی تمہارے پاس کوئی رسول تمہاری خواہشوں کے خلاف کوئی حکم لے کر آیا تو تم نے سر کشی کی ، پس (ان انبیاء میں) ایک گروہ کو تم نے جھٹلایا اور ایک گروہ کو تم شہید کرتے ہو

حضرت موسیٰ (علیہما السلام) کے مابین ایک ہزار نو سو پچیس (1925) برس کے زمانہ میں کتاب تو وہی توریت ہی رہی مگر حضرت زکریا ، یونس ، یحییٰ ، داؤد، سلیمان اور دیگر انبیاء (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ نے توریت کے دیگر احکام قائم رکھنے کے لئے متواتر بھیجے ۔ ان انبیاء نے جب کبھی بنی اسرائیل کو توریت کے احکام کی پابندی پر زیادہ مجبور کیا تو انہوں نے ان کے ساتھ بد سلوکی کر کے بعضوں کو ان میں سے شہید کردیا ۔
Ayah 2:88

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:88 in the Quran reader

اور (یہودی) کہتے ہیں : ” ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہیں “ بلکہ ان کے کفر کے سبب سے خدا نے ان پر لعنت کی ہے تو ان میں سے تھوڑے ایمان لاتے ہیں

شان نزول : ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد ﷺ تم اپنے دین پر رہو ہم اپنے دین پر کیونکہ غیر دین کی بات نہ ہمارا دل سمجھ سکتا ہے اور نہ کان سن سکتے ہیں ، نہ ہم میں اور غیر دین میں جو پردہ حائل ہے وہ اٹھ سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کے قول کا یہ جواب دیا کہ : یہ لوگ عقبیٰ کے منکر ہیں اس سبب سے ایسی باتیں کرتے ہیں تو ان پر خدا کی لعنت اور پھٹکار ہے ۔
Ayah 2:89

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:89 in the Quran reader

اور جب کہ ان کے پا س اللہ کی طرف سے وہ کتاب (قرآن) آئی جو ان کے پاس والی کتاب (توریت) کی تصدیق کرنے والی ہے ۔ اور اس سے پہلے وہ (اسی نبی کے وسیلہ سے) کافروں پر فتح یابی چاہا کرتے تھے پس جس وقت ان کے پاس (رسول) آیا جس کو وہ جانتے تھے اس سے منکر ہوگئے پس منکروں پر خدا کی لعنت ہے

یہود لوگ اللہ تعالیٰ سے نبی آخرالزمان ﷺ کے وسیلہ سے دعا کرتے تھے رسول اللہ ﷺ کے اوصاف توریت میں دیکھ کر یہود لوگ اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجات کے لئے حضور ﷺ کے وسیلہ سے دعا کرتے اور کامیاب ہوتے تھے اور اس طرح دعا کیا کرتے تھے : اللھٰم افتح علینا وانصرنا بالبنی الامی، ” یا رب ہمیں نبی امی ﷺ کے وسیلہ سے فتح ونصرت عطافرما “۔ اور جن مشرکوں سے ان کی مخالفت تھی ان سے کہتے تھے کہ بہت جلد نبی آخر الزماں کا زمانہ آنے والا ہے اس وقت ہم اس نبی ﷺ کے ساتھ ہو کر تم سے دل کھول کر لڑیں گے اور تم کو خوب قتل کریں گے ۔ لیکن جب آنحضرت ﷺ پیدا ہوئے تو فقط اس حسد سے کہ یہ نبی ﷺ ہم میں (بنی اسرائیل میں) کیوں نہیں پیدا ہوئے ، آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص جان بوجھ کر حق بات کا منکر ہوا اس پر خدا کی لعنت اور پھٹکار ہے ۔ ابن ماجہ وغیرہ میں چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے روایتیں ہیں کہ جو شخص دین کی کوئی بات جان بوجھ کر چھپا دے گا تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جاوے گی ۔
Ayah 2:90

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 2:90 in the Quran reader

بہت ہی بری چیز ہے جس کے بدلے ان لوگوں نے اپنی جانوں کو خریدا ہے کہ منکر ہوگئے اس چیز (یعنی قرآن اور نبی ﷺ) سے جو خدا نے اتارا اس حسد سے کہ اللہ اپنے فضل سے اپنے جس بندے پر چاہے وحی اتارے ، پس غضب درغضب میں آگئے اور کافروں کے واسطے ذلت کا عذاب ہے

یہ بات علم الہی میں قرار پاچکی ہے کہ قیامت کے دن ہر صاحب نخوت آدمی کو اس طرح کا عذاب ہوگا جس میں اس کی ذلت ہو ۔
Ayahs 2:91–92

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:91 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ خدا نے اتارا ہے اس پر ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں : ” ہم تو اس پر ایمان لاتے ہیں جو کہ ہم پر اترا ہے “ (یعنی توریت) اور وہ لوگ اس کے سوا سب کے منکر ہیں حالانکہ وہ (قرآن) حق ہے تصدیق کرتا ہے اس کتاب کی جو ان کے پاس ہے ، (اے محبوب ﷺ ان سے یہ تو) پوچھو کہ تم کس لئے خدا کے نبیوں کو اگلے زمانہ میں شہید کرتے آئے ہو اگر تم کو اپنی کتاب پر ایمان تھا

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:92 in the Quran reader

اور البتہ تمہارے پاس موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر آیا پھر تم نے اس کے بعد (جبکہ موسٰی توریت لینے طور گئے تھے بچھڑے کو معبود بنا لیا ، اور تم ظالم تھے

شان نزول : اس آیت میں یہود نے یہ دعوٰی کیا تھا کہ ہمارا ایمان مضبوط ہے ، غیر دین کے انکار پر ہم مجبور ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلایا کہ جس کا ایمان توراۃ پر مضبوط تھا اس نے انبیاء کو کیوں شہید کیا، اور بچھڑے کی پوجا کیوں کی ۔ جس وقت پہاڑ سر پر لا کر تورات کے موافق عمل کرنے کا عہد لیا گیا تھا اس وقت تمہارے بڑوں نے چپکے سے وعصینا کہا تھا پھر تمہارا ایمان توراۃ پر کیونکر مضبوط ہو سکتا ہے۔ ترمذی وابن ماجہ میں جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :” ہدایت کے بعد گمراہ وہی قوم ہوتی ہے جو دین میں زبردستی کے جھگڑوں میں پڑجاوے “۔ امت محمدیہ کے علماء کو اس طرح کے جھگڑوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔
Ayahs 2:93–96

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:93 in the Quran reader

اور ( وہ وقت یاد کرو) جب کہ ہم نے تم سے عہد لیا اور ہم نے (کوہ) طور کو تمہارے سروں پر بلند کیا (اور حکم دیا کہ یہ کتاب توریت) جب کہ ہم نے تم کو دی ہے اس کو مضبوط پکڑ لو اور (جو کچھ اس میں لکھا ہے اس کو) سنو (عمل کرو) انہوں نے کہا :” ہم نے سنا تو یہی اور (لیکن ہم اس کو مانتے نہیں “ اور ان کے کفر کی وجہ سے بچھڑے کا ادب ان کے دلوں میں سما گیا تھا۔ تم (ان لوگوں سے) فرماؤ :” بری چیز ہے جو کچھ تمہارا ایمان تم کو حکم کرتا ہے اگر تم ایمان والے ہو “

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:94 in the Quran reader

تم فرماؤ : (بقول تمارے) اگر آخرت کا گھر خدا کے نزدیک تمہارے ہی لئے خالص ہے اوروں کے لئے نہیں تو بھلا موت کی آرزو تو کرو اگر تم (اس دعوے میں) سچے ہو

وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:95 in the Quran reader

اور وہ ہر گز کبھی اس کی آرزو نہ کریں گے ان بد اعمالیوں کے سبب سے جو پہلے ان کے ہاتھ کرچکے ہیں اور اللہ ان ظالموں (کے حال) کو خوب جاننے والا ہے

وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:96 in the Quran reader

اور ابتہ تم ضرور ان کو (دنیوی) زندگانی پر سب سے زیادہ حریص پاؤ گے ، اور ان سے بھی زیادہ حریص جو مشرک ہیں ان میں سے ہر ایک تمنا رکھتا ہے کہ کاش ! ہزار برس کی عمر ہو ، اور وہ بچ نہیں سکتا اس عذاب سے (اگرچہ) اتنی ہی عمر بھی دی جاوے اور خدا دیکھ رلا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں

شان نزول : یہود کا دعوٰ ی تھا کہ ہم اللہ کے پیارے ہیں اور جنت خاص ہمارے لئے ہے اور کوئی ملت و مذہب اس کا مستحق نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں اس دعویٰ کو اس طرح باطل کیا کہ اے محبوب ﷺ ان سے کہ دو کہ اگر تم کو اس بات کا یقین ہے کہ دار آخرت خالص ہمارا حصہ ہے تو تم کو لازم ہے کہ موت کی آرزو کرو ۔ اگر تم نے موت کی آرزو نہ کی تو یہ تمارے جھوٹ کی دلیل ہوگی ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر وہ موت کی تمنا کرتے تو سب ہلاک ہوجاتے ، اور روئے زمین پر کوئی یہودی باقی نہ رہتا ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ یہ لوگ پکے دنیا دار ہیں ۔ ان کے سب دعوے جھوٹے ہیں اور اپنے عملوں کے نتیجوں کو جان چکے ہیں ، اس لئے وہ ہر گز آرزو نہ کریں گے ۔ رسول اللہ ﷺ بار بار فرماتے تھے : ” سچے مومن شہادت کے ایسے مشتاق ہوتے ہیں کہ دنیا ومافیھا کو اس کے آگے کچھ نہیں سمجھتے “۔ چناچہ جنگ احد میں ایک صحابی نے جب آنحضرت ﷺ سے درجات آخرت سنے تو ازحد مشتاق ہو کر اپنے توشہ کو ڈال دیا اور دشمن کے مقابلہ میں چلے اور کہا کہ اب جنت میں چل کر دکھا ویں گے ۔ خدا تعالیٰ نے حجاب آسمانی اٹھا کر ان کو جنت کا مشاہدہ کرادیا وہ اس شوق میں شہید ہوگئے ۔ اور اسی طرح خدا کے مشتاق ہیشہ یہی آرزو کرتے ہیں ، انہی کو خد انے زندہ فرمایا ہے ۔ اسی لئے صحابہ وتابیعن رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ہر شخص شہادت کا سخت آرزو مند تھا ۔ واقعی شہادت ہے مطلوب ومقصود مومن۔ مشرکین دنیا کی طمع کاری پر خوش ہیں اس لئے عمر طویل کی آرزو کرتے ہیں کہ ہزار برس کی عمر ہو ۔ بالفرض اگر ہزار برس کی عمر ہوئی بھی تو کیا ؟ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی ۔ جو کچھ ان کو بھگتنا ہے بھگت کر رہیں گے ۔ الغرض ایک نہ ایک دن مرنا ہے یہ لوگ عذاب عقبی ٰ کے جو کام کر رہے ہیں اللہ کو سب معلوم ہیں ۔
Ayahs 2:97–98

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:97 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ ان لوگوں سے) کہو کہ جو شخص جبرئیل (فرشتے) کا دشمن ہے (تو وہ خدا کا دشمن ہے) اس لئے کہ اس نے تو قرآن کو تمہارے دل پر خدا کے حکم سے اتارا ہے جو تصدیق کرتا ہے اپنی سے پہلی کتابوں کی اور ہدایت اور خوشخبری سناتا ہے مسلمانوں کو

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:98 in the Quran reader

(اور) جو کوئی خدا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور جبرئیل او میکائیل کا دشمن ہے تو بیشک اللہ کافروں کا دشمن ہے

جبکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر توریت کے چند احکام کے منسوخ ہونے کی وحی حضرت جبرئیل (علیہ السلام) لائے اور ہر وقت مدد کے طور پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ رہنے لگے ۔ اس وقت سے یہود لوگ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو اپنا دشمن جانتے تھے ۔ آنحضرت ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو یہود نے چند باتیں دریافت کیں ، ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ پر کون سافرشتہ وحی لاتا ہے ۔ حضور نے جواب دیا کہ جس طرح اور انبیاء کرام پر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) وحی لاتے رہے مجھ پر بھی وہی لاتے ہیں ، اس پر یہود نے کہا کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ہم لوگ پہلے سے دشمن جانتے ہیں اس لئے اسلام قبول نہیں کرسکتے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جبرئیل کا وحی لانا اللہ کے حکم سے ہے ۔ جو کوئی اللہ کے فرشتوں اور رسول کا دشمن ہوگا اللہ اس کا دشمن ہے ۔
Ayahs 2:99–101

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 2:99 in the Quran reader

اور (اے محبوب ! ﷺ) بیشک ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں اتاری ہیں اور ان سے انکار نہیں کرسکتا مگر (وہی جو) فاسق لوگ (ہیں)

اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:100 in the Quran reader

اور کیا یہ نہیں کہ جب کبھی ان لوگوں نے عہد باندھا تو انہی میں سے ایک گروہ نے اس کو پھنک دیا بلکہ بہت سے لوگ ان میں سے اس کا یقین ہی نہیں رکھت

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘ Open ayah 2:101 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس خدا کی طرف سے ایک رسول آیا ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا جو ان کے پاس ہے تو (ان) اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب (توریت) کو (جس میں ان رسول کریم کے اوصاف تھے ایسا) اپنی پیٹھ پیچھے پھینکا کہ گویا اسے جانتے ہی نہیں

شان نزول : بعضے یہود نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا اور ید بیضا کی طرح آپ کو کوئی صریح اور صاف معجزہ نہیں ملا پھر ہم آپ کو کیونکر اللہ کا رسول جان لیں ۔ دوسرے توریت میں ایسا کوئی عہد نہیں ہے جس سے ہم لوگوں پر نبی آخر الزماں کی مدد لازم ہو ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور یہود کی پہلی بات کا جواب یہ دیا کہ ان لوگوں کی وہ باتیں جو سوا ان کے علماء کے دوسرے کسی کو معلوم نہٰں جبکہ نبی آخرالزماں پر قرآن کے ذریعے سے روزانہ نازل ہوتی ہیں ، اور نبی آخر الزماں باوجود امی ہونے کے ان باتوں کی ایسی صحیح اطلاع ان لوگوں کو دیتے ہیں جن کو یہ لوگ اپنی آسمانی کتاب کے مطابق پاتے ہیں ۔ تو پھر نبی آخر الزماں کے نبی اور قرآن کے کتاب آسمانی ہونے کے لئے ان لوگوں کو اور کیا معجزہ درکار ہے ؟ اور دوسری بات کا جواب یہ دیا کہ نبی آخر الزماں کی فرمابرداری اور مدد کے عہد کو یہ لوگ خوب جانتے ہیں ۔ لیکن ان لوگوں کی عادت یہ ہے اپنے عہد پر یہ لو گ قائم نہیں رہتے ۔ یہ اس لئے فرمایا کہ یہ عہد توریت میں موجود ہے ۔
Ayahs 2:102–103

وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ١ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ١ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ١ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ١ؕ۫ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:102 in the Quran reader

اور ان (مشرکانہ) عملوں کی پیروی کی جنہیں شیطان سلیمان کے عہد سلطنت میں پڑھا کرتے تھے ، اور سلیمان نے تو کفر نہ کیا بلکہ شیاطین نے کفر کیا تھا کہ وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے ، اور وہ جادو جو بابل میں دو فرشتوں پر اترا (جن کا نام) ہاروت ماروت (تھا) اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ دیتے تھے کہ ہم تو صرف (ذریعہ) آزمائش ہیں پھر تم کیوں کفر میں مبتلا ہوتے ہو ؟ اس پر بھی ان سے ایسے منتر سیکھتے جن کی وجہ سے میاں بی بی میں جدائی ڈال دیں ، (اور) وہ اس (جادو) سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اللہ کے حکم سے ، اور (یہود ان سے) ایسی باتیں سیکھتے جن سے (خود) ان (ہی) کو نقصان پہنچتا اور ان کو نفع نہ ہوتا ، اور ہو یہ بھی جانتے تھے کہ جو کوئی (اپنا دین بیچ کر) جادو کو مول لیتا ہے اس کے واسطے آخرت میں کچھ حصہ نہیں اور بیشک (بہت ہی) برا معاوضہ ہے ، جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا کاش ان کو علم ہوتا

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:103 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو اس کا ثواب اللہ کے نزدیک بہتر ہوتا ، کاش ان کو علم ہوتا

ہاروت ماروت کا قصہ اور جادو کا حال : جادو کے رواج کو یہ لوگ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرتے ہیں یہ بات بلکل غلط ہے ۔ یہ جادو تو شیاطین اور ہاروت ماروت کے سبب سے پھیلا ہے۔ جس کا قصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ میں سے بڑے عابد دو فرشتے جن کا نام ہاروت ماروت تھا چھانٹے ، اور انسان کی سی سب خواہشیں ان میں پیدا کر کے کوفہ کی سر زمین پر جو ایک جگہ بابل ہے وہاں ان کو بھیجا، اور وہاں ایک عورت زہرہ نامی پارسن کی الفت میں مبتلا ہو کر اس کے کہنے سے شراب پی گئے ۔ شرا کے نشہ میں زناکے علاوہ شرک اور قتل نفس کا گناہ بھی ان سے سرزد ہوا ، اور ان گناہوں کے سزا میں قیامت تک ان پر طرح طرح کا عذاب ہوتا رہے گا ۔ یہی دونوں فرشتے جادو سکھاتے تھے ۔ جادو کا شرعی حکم : امام ابوحنیفہ ومالک واحمد رحمھم اللہ کا یہ مذہب ہے کہ جادو کا سیکھنا کفر اور سیکھنے کے بعد جو شخص جادو کا ایک دفعہ بھی عمل کرے تو اس کی سزا قتل ہے ۔ فضائل القرآن : آیۃ الکرسی ، قل اعوذ برب الفلق، قل اعوذ برب الناس میں رد سحر کا ایک خاص اثر اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے ، اس کو روزانہ پڑھ لیا کریں اور سوتے وقت تو ضرور پڑھیں ۔
Ayahs 2:104–105

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:104 in the Quran reader

اے مومنو ! (جب آنحضرت ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہو تو) راعنا نہ کہو اور انظرنا کہو اور ان کی بات کان لگا کر خوب سنو اور کافروں کے واسطے درد دینے والا عذاب ہے

مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 2:105 in the Quran reader

ذرا بھی پسند نہیں کرتے کافر لوگ (خواہ) ان اہل کتاب میں سے (ہوں) اور (خواہ) مشرکین میں سے اس امرکو کہ تم (مسلمانوں) پر کوئی بھلائی نازل ہو تمہارے پروردگار کی طرف سے ، اور اللہ تو اپنی رحمت سے جسے چاہتا ہے مخصوص کرلیتا ہے ، اور اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے

شان نزول : یہود جب مجلس مقدس حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ میں حاضر ہوتے تو شرارت سے آپ سے راعنا کہتے تھے ۔ جس طرح ہمارے محاورہ میں کہتے ہیں :” ذرا ادھر متوجہ ہوئیے یا ادھر خیال فرمائیے “ اس کلمہ میں اپنے نزدیک وہ یہ مراد رکھتے تھے کہ ہم آنحضرت ﷺ کو (معاذاللہ) احمق اور گستاخ کہ آتے ہیں ۔ حضرت سعد بن معاذؓ یہود کی اصلاح سے واقف تھے ۔ ایک روز یہ کلمہ ان کی زبان سے سن کر فرمایا ” اے دشمنان خدا ! تم پر اللہ کی لعنت اگر میں نے اب کسی کی زبان سے یہ کلمہ سنا تو اس کی گردن مار دوں گا “۔ آپ رنجیدہ ہو کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ہی تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی جس میں راعنا کہنے کی ممانعت فرمائی گئی اور اس معنی کا دوسرا لفظ انظرنا کہنے کا حکم ہوا ۔ مسلمانوں کو منع کردیا کہ تم ان کی تقلید نہ کرو اور خیال کر کے سنا کرو کہ حضور کیا ارشاد فرماتے ہیں ۔ اگر یہود راعنا کہ کر گستاخی کرتے ہیں تو کیا مضائقہ ہے ۔ جاتے کہاں ہیں ایسا درد ناک عذاب چکھیں گے کہ سب کسر نکل جاوے گی ۔ یہود اور مشرکین یہ نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کا بھلا ہو ، ان کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا ۔ خدا کا چاہا ہوتا ہے وہ اپنی رحمت کو جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے اس کا فضل سب سے بڑا ہے ۔
Ayahs 2:106–107

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا١ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:106 in the Quran reader

(اے محبوب ﷺ) ہم جب کوئی آیت منسوخ کردیں یا بھلا دیں تو ہم اس سے بہتر یا سی کی مانند نازل (بھی) کردیتے ہیں ، کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ سب چیز پر قادر ہے

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 2:107 in the Quran reader

کیا تم نہیں جانتے بیشک اللہ ہی کے واسطے آسمان و زمین کی سلطنت ہے ، اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی دوست ہے اور نہ مدد گا ر

شان نزول : خدا تعالیٰ یہود کے شکوک کا جواب دیتا ہے کہ وہ اہل اسلام پر پیش کر کے ان کے دلوں میں وسوسے ڈالتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر تم پر خدا کی طرف سے خبر یعنی وحی او شریعت نازل ہوئی ہے تو شریعت ہمیشہ یکساں رہتی ہے اس میں ایک شوشہ (معمولی بھی) نہٰں بدل سکتا ، پھر اگر یہ قرآن اور شریعت منجانب اللہ ہے تو احکام توریت کو کیوں منسوخ کیا اور پھر خود اس شریعت میں بعض احکام کو ایک وقت قائم رکھ کر منسوخ کردیا ، خدا کو اس سے پیشتر علم نہ تھا ۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ منسوخ بھی اللہ کی طرف سے ہے اور ناسخ بھی دونوں عین حکمت ہیں ۔ اور ناسخ کبھی منسوخ سے زیادہ سہل اور انفع ہوتا ہے ۔ اور اہل کتاب کا اعتراض غلط ہے ۔ انہیں حضرت آدم (علیہ السلام) کی شریعت کے احکام کی منسوخیت تسلیم کرنی پڑے گی کہ شنبہ کے روز دنیوی کام ان سے پہلے حرام نہ تھے ، ان پر حرام ہوئے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے وقت میں بھائی بہن کا نکاح ہوجاتا تھا پھر اس کے بعد منسوخ ہوگیا ۔ اور توریت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی امت کے لئے تمام چوپائے حلا ل ہونا بیان کیا گیا مگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر بہت سے حرام کردیئے گئے ۔ ان امور کے ہوتے ہوئے منسوخ کا انکار کس طرح ممکن ہے ۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ زمین وآسمان کا مالک ہے ۔
Ayah 2:108

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 2:108 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے ویسا سوال کرو جس طرح پہلے (زمانہ میں) موسیٰ سے (بےہودہ درخواستیں اور) سوالات کئے گئے تھے اور جو کوئی ایمان کے بدلے کفر لیوے پس وہ بہک گیا سیدھے راستے سے

شان نزول : یہود کے بہکانے سے بعضے مسلمان آنحضرت ﷺ سے غیر ضروری باتیں پوچھتے تھے ، اس پر آیت نازل ہوئی ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلی امتوں کے لوگ کثرت سوال سے طرح طرح کی ہلاکت میں پڑگئے ۔
Ayahs 2:109–110

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ١ۚ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:109 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) اہل کتاب میں سے ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو چاہتے ہیں کہ بعد تمہارے ایمان لانے کے کفر کی طرف تم کو پھیر دیں اپنے دلی حسد کی وجہ سے بعد اس کے کہ ان پر حق خوب ظاہر ہوچکا ہے ، پس تم معاف کرو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے ۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:110 in the Quran reader

اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور جو کچھ نیکی اپنے لئے (ذخیرہ عاقبت کر کے) پہلے سے بھیج دو گے اس کو اللہ کے ہاں (موجود) پاؤ گے ، بیشک جو کچھ تم کرتے ہو اللہ دیکھ رہا ہے

شان نزول : باوجود امی ہونے کے آنحضرت ﷺ یہود کو ایسی باتوں کی خبر دیتے تھے جو ان کی توریت کے بلکل موافق تھیں ، اور دنیا کے لالچ سے اگرچہ انہوں نے توریت کی ان آیتوں کو بدل ڈالا جس میں نبی آخر الزماں کے اوصاف کا ذکر تھا لیکن اپنے دل میں وہ آنحضرت ﷺ کے نبی آخر الزماں ہونے کے قائل تھے ۔ فقط اس حسد سے کہ نبی آخر الزماں ﷺ ان کی قوم بنی اسرائیل میں کیوں نہیں ہوئے ۔ جہاں تک ان کا بس چلتا تھا مسلمانوں کو ان کے دین سے (گمراہ کرتے) تھے ۔ اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی آیتوں میں فرمایا ہے کہ یہود کی ہر طرح کی عداوت کی باتوں پر اس وقت تک صبر اور درگزر کرو جب تک اللہ کا کوئی حکم نازل ہو ، اور ہر حال میں نماز زکوٰۃ اور اس طرح کے نیک کاموں میں لگے رہو کہ اللہ اپنے بندوں کے عملوں کو دیکھتا ہے ایک دن سب عملوں کی سزا وجزا دیوے گا ۔
Ayahs 2:111–112

وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:111 in the Quran reader

اور یہود کہتے ہیں کہ یہود کے سوا اور نصاریٰ کہتے کہ نصاریٰ کے سوا جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا (اے محبوب ! ﷺ) یہ ان لوگوں کی (جاہلانہ) باطل آرزوئیں ہیں ، تم ان سے فرماؤ :” اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو “

بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ Open ayah 2:112 in the Quran reader

پس جس کسی نے بھی خدا کے آگے سر نیاز جھکا دیا اور وہ نیک کرنے والا بھی ہے تو وہ اپنے پروردگار سے اپنا اجر ضرور پائے گا اور نہیں ہے کھٹکا ان کو کسی طرح اور نہ وہ (کسی طرح) غمگین ہوں گے

شان نزول : باوجود طرح طرح کی نافرمانیوں میں گرفتار ہونے کے اہل کتاب کا یہ دعوٰی تھا کہ ” یہود اپنے آپ کو جنتی اور باقی سب کو دوزخی کہتے تھے “۔ اور یہی دعویٰ نصرانیوں کا اپنی قوم کے حق میں تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے غلط دعوے کو بےسند قرار دے کر فرمایا کہ جنت میں رہنے کے ک قابل وہی شخص ہے جس کا عمل حکم الہی کے موافق ہو ۔ جنت خدا کی ہے کس کی میراث نہیں کہ بغیر مرضی خدا کے زبردستی جنت میں گھس جاوے ۔
Ayah 2:113

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 2:113 in the Quran reader

اور یہودی کہتے ہیں :” نصارٰ ی (کا دین) کچھ نہیں ہے “ اور نصاریٰ کہتے ہیں :” یہودیوں (کا دین) کچھ نہیں ہے “ اور وہ ( دونوں فریق) اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں ، اسی طرح انہی کی سی باتیں وہ (مشرکین) بھی کہا کرتے ہیں جو بےعلم ہیں پس اللہ فیصلہ کرے گا ان کے درمیان قیامت کے دن اس بات میں جس میں ہو اختلاف کرتے ہیں

شان نزول : نجران کے نصاریٰ کا وفد حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں آیا تو علمائے یہودآئے اور دونوں میں مناظرہ شروع ہوا ، آوازیں بلند ہوئیں ، شور مچا ، یہود نے کہا کہ ” نصاریٰ کا دین کچھ نہیں “ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کا انکار کیا۔ اسی طرح نصاریٰ نے یہود سے کہا کہ ” تمہارا دین کچھ نہیں “ اور توریت اور موسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کیا ۔ تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ باوجود علم کے انہوں نے ایسی جاہلانہ گفتگو کی حالانکہ انجیل جس کو نصارٰ ی مانتے ہیں۔ اس میں توریت اور موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی تصدیق ہے ۔ اسی طرح توریت جس کو یہودی مانتے ہیں اس میں عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت اور ان تمام احکام کی تصدیق ہے جو آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئے ۔ علماء اہل کتاب کی طرح ان جاہلوں نے جو نہ علم رکھتے تھے نہ کتاب ، جیسے بت پرست ، آتش پرست وغیرہ ۔ انہوں نے ہر ایک دین والے کی تکذیب شروع کی اور کہا کہ وہ کچھ نہیں ۔ انہیں جاہلوں میں سے مشرکین عرب بھی ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے دین کی شان میں ایسے کلمات کہے۔ پھر فرمایا کہ حق کے فیصلہ کے لئے قیامت کا دن مقرر ہے اس دن ان سب کا فیصلہ ہوجائے گا ۔