2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 2:194–195

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

(ان مہینوں کا تمہارا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ) ماہ حرام کے بدلے ماہ حرام ہے اور ادب کے بدلے ادب ہے۔ پس جو کوئی تم پر زیاتی کرے تم بھی اس پر زیادتی کرو اتنی ہی جتنی اس نے کی تم پر اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ خدا پرہیز گاروں کا ساتھی ہے

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اور خرچ کرو خدا کی راہ میں اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیک کام کرو بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے

حج کے احکام شان نزول : اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی اور مسلمانوں کو جتلا دیا کہ اللہ کے عدل اور انصاف میں حرمتوں کا بدلہ ہے۔ جب صلح حدیبیہ کے وقت اسی ذیقعدہ حرمت والے مہینے میں ان مشرکوں نے اس مہینے کی حرمت اور حرم کی حد کی حرمت کو قائم نہ رکھا تو اگر لڑائی کا موقع پیش آجائے تو کچھ خدشہ کی بات نہیں ہے۔ اللہ کی طرف سے بدلے کے طور پر تم کو اجازت ہے مگر اتنا کرنا کہ جس قدر کسی کی طرف سے زیادتی ہو۔ بدلہ اتنا ہی لینا حد سے بڑھ کر زیادتی نہ کرنا۔ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔
Ayah 2:196

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 2:196 in the Quran reader

اور اللہ کے لئے حج اور عمرہ (کی نیت کرلی ہو تو اس) کو پورا کرو، پس اگر تم روکے جاؤ (راستہ میں) تو جو کچھ قربانی میسر آئے بھیجو اور اس وقت تک سر کے بال نہ منڈواؤ جب تک کہ قربانی نہ پہنچ جائے اپنے ٹھکانے پر، پھر جو تم میں سے کوئی بیمار ہوجائے یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہو (اور وہ سر کو منڈادیوے) تو اس کا بدلہ دے روزے یا خیرات یا قربانی پھر جب تم امن کی حالت میں ہوجاؤ تو جو کوئی فائدہ اٹھائے عمرہ سے حج کے ساتھ تو اس پر لازم ہے جو کچھ کہ قربانی اس کو میسر آوے کرے۔ پھر جسے مقدور نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات (روزے) اس وقت جب اپنے گھر پلٹ کر ٓآئے۔ یہ دس دن پورے ہوئے یہ حکم اس کے لئے ہے کہ جس کے اہل و عیال مسجد حرام (مکہ) کے رہنے والے نہ ہوں، اور خدا سے ڈرو اور جان لو کہ بیشک اللہ سخت عذاب والا ہے

شان نزول : اس آیت سے حج کا ذکر شروع ہوا۔ حج اسلام کا بڑا رکن ہے۔ اس آیت میں یہ تاکید ہے کہ حج اور عمرہ کو پورے ارکان کے ساتھ ادا کیا جائے۔ وہ ارکان یہ ہیں : احرام باندھے۔ پھر عرفہ کے دن عرفات میں حاضر ہو، پھر وہاں سے چلے تو رات کو رہے مشعر الحرام میں۔ پھر عید کی صبح منیٰ میں پہنچ کر کنکر پھینکے اور حجامت کرا کر احرام اتارے، پھر مکہ میں جاکر طواف کعبہ کرے پھر صفا اور مروہ کے بیچ دوڑے، پھر منیٰ میں آئے تین دن رہے۔ ہر روز کنکر پھینکے پھر مکہ میں جاکر طواف رخصت کرے اور چلا جاوے۔ اور عمرہ کا طریقہ یہ ہے کہ احرام باندھے جن دنوں چاہے اور طواف کعبہ کرے اور صفا ومروہ کے بیچ دوڑے، پھر حجامت کرا کر احرام اتارے۔ جمہور مفسرین کا یہ قول ہے کہ ہجرت کے چھٹے سال حج فرض ہوا ہے اور اسی سال آپ زیارت مکہ کے ارادہ سے مدینہ سے سفر کر کے حدیبیہ تک تشریف لے گئے۔ وہاں مشرکین مکہ نے آپ کو روکا اور صلح حدیبیہ ہوئی تو یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی اور تین سبب فرمائے : (1) ایک یہ کہ احرام کر کے جو شخص روکا گیا مرض سے یا دشمن سے تو کسی کے ہاتھ قربانی بھیج دیوے۔ جب مکہ میں قربانی ذبح ہو تب یہ احرام سے نکلے، پہلے حجامت نہ کرے۔ (2) اگر عاجز ہو کر احرام میں حجامت کرے تو اس کا بدلہ ہے قربانی پہنچانی یا تین روزے، یا شھ محتاجوں کا کھانا۔ (3) تیسرا یہ کہ حج اور عمرہ جدا جدا نہ کرے ایک ہی سفر میں دونوں کو ادا کرے تو قربانی ضروری ہے۔ پھر قربانی کی طاقت نہ ہو تو دس روزے ہیں : تین حج کے دنوں میں اور سات بعد میں، اور مقدور کے موافق قربانی کرے۔ اعلیٰ درجہ قربانی کا اونٹ ہے، اوسط درجہ گائے، اور ادنیٰ درجہ بکری۔ قربانی کرنے والنے کو جو مقدور ہو وہی کرے۔
Ayah 2:197

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 2:197 in the Quran reader

حج کے چند مہینے ہیں جو سب کو معلوم ہیں پس جس نے لازم کرلیا اپنے پر ان مہینوں میں حج (یعنی احرام باندھ لیا) تو عورتوں سے ہم صحبت ہونا جائز نہیں ہے اور نہ کوئی گناہ اور نہ آپس میں جگھڑا حج کے وقت تک ہو، اور تم جو بھلائی کرتے ہو اللہ اسے جانتا ہے، اور (حج کے جانے سے پہلے) توشہ اپنے ساتھ لو کہ سب سے بہتر توشہ پرہیز گاری ہے اور مجھ سے ڈرو اے عقل والو !

حج کے ارکان و احکام جس طرح نماز اور روزہ کا وقت مقرر ہے اسی طرح حج کے مہینے بھی مقرر ہیں۔ حج کے مہینے شروع شوال سے ذولحجہ کی دسویں کی صبح صادق تک ہیں۔ یہاں تک کہ مقام عرفات میں داخل ہونے سے پہلے اگر کسی شخص کو صبح صادق ہوجائے گی تو اس کا اس سال کا حج فوت ہوجاوے گا۔ احرام حج کے مہینوں ہی میں ہونا چاہیئے۔ احرام باندھنے کے بعد مباشرت اور خلاف شریعت باتوں اسے بموجب حکم آیت کے جو شخص بچے گا اسی کا حج مقبول ہونے کا ذکر حدیث شریف میں آیا ہے۔ کچھ لوگ بغیر خرچ کے حج کو چلے جاتے تھے اور پھر لوگوں سے سوال کر کے ان کو تنگ کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ آئندہ ایسا کرنے سے پرہیز کرو، اور اللہ سے ڈرو اسی کو عقلمندی کہتے ہیں۔ اور احرام یہ ہے کہ حج یا عمرہ کے شروع کرنے کی نیت کرے اور زبان سے لبیک کہے۔ احرام کے بعد مباشرت، سر کا ڈھانکنا، خوشبو کا ملنا، ناخن کتروانا، شکار کیھلنا، آپس کا لڑائی جھگڑا، بال منڈانا یا کتروانا۔ مرد کو سلا ہوا کپڑا پہننا یہ سب باتیں منع ہیں۔
Ayahs 2:198–202

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 2:198 in the Quran reader

تم پر گناہ نہیں کہ (ایام حج میں) اپنے پروردگار کا فضل (یعنی روزی) تلاش کرو۔ پھر جب تم عرفات سے پلٹو تو اللہ کا ذکر کرو مشعر الحرام (یعنی مزدلفہ) کے پاس اور یاد کرو خدا کو شکر سے کہ اس نے تم کو (اپنے محبوب ﷺ کے ذریعہ سے) ہدایت فرمائی اور بیشک اس سے پہلے تم گمراہوں میں سے تھے

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:199 in the Quran reader

پھر ( یہ بات بھی ضروری ہے کہ) (اے قریشو ! ) تم بھی لوٹ کر آؤ جہاں سے اور لوگ لوٹ کر آیا کرتے ہیں اور خدا سے بخشش مانگو، بیشک خدا بخشنے والا مہر بان ہے

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ Open ayah 2:200 in the Quran reader

پھر جب اپنے حج کے تمام کام پورے کر چکو تو اللہ کا ذکر کرو (منٰی میں) جسیے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ خدا کی یاد میں مشغول ہوجاؤ۔ پس بعضے آدمی یوں کہتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے ! ہم کو تو دنیا میں دے اور ان کے لئے آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہے

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 2:201 in the Quran reader

اور بعضے آدمی یوں کہتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے ! ہم کو دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی نعمت عطا کر اور ہم کو عذاب دوز خ سے محفوظ رکھ

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 2:202 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں ( جن کا دونوں جہاں میں) حصہ ہے بدولت ان کے عمل کے اور اللہ تعالیٰ جلد حساب کرنے والا ہے

شان نزول : اوپر کی آیت سے معلوم ہوا کہ تجارت کا پیشہ جائز ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ احرام سے پہلے اور احرام کے بعد کسی حال میں لوگوں کو تجارت یا اجرت سے منع نہیں کرتے تھے۔ حج میں عرفات جانا ضروری ہے یہ اس لئے فرمایا کہ باقی ارکان حج اور عمرہ میں مشترک ہیں، صرف یہ ایک رکن خاص الخاص حج میں ہی ہے عمرہ میں نہیں ہے۔ جبکہ فوت ہوجاوے گا تو خواہ مخواہ رہ جائے گا۔ اسلام سے پہلے حج سے فارغ ہونے کے بعد اپنے باپ دادا کی مدح میں قصائد پڑھا کرتے تھے۔ اسلام میں اللہ تعالیٰ کو اس طریقہ کا بدلنا منظور نظر ہوا۔ اس لئے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ حج سے فارغ ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاوے اور اللہ سے ایسی دعا مانگنی چاہیے جس میں دین ودنیا کی بھلائی ہو۔
Ayah 2:203

وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 2:203 in the Quran reader

اور (حج کے) گنتی کے دنوں میں (یعنی ایام منیٰ میں) خدا کی یاد میں مشغول رہو پھر جو کوئی واپسی میں جلدی کرے دو ہی دن میں (یعنی منٰی سے روانہ ہوجائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو کوئی تاخیر کرے تو اس پر (بھی) کوئی گناہ نہیں (یہ رعایت) خاص ان کے لئے (ہے) جو پرہیز گاری کریں اور خدا سے ڈرتے رہو اور جانو کہ قیامت کے دن تم (سب کو) اسی کی طرف اٹھنا ہے۔

عید الاضحیٰ کے روزے اور تکبیرات شان نزول : صحیح مسلم ومسند امام احمد وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے (ایک یوم عید الفطر اور) ایک یوم عید الاضحیٰ کا، تین یوم اس کے بعد کے روزہ رکھنے سے منع فرما کر یہ فرمایا ہے کہ یہ دن کھانے پینے اور اللہ کو یاد کرنے کے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ سال میں پانچ دن روزہ رکھنا حرام ہے جیسا کہ ذکر ہوا۔ (متفق علیہ حدیث بخاری ومسلم) موسم حج میں لوگ حشر کی طرح جمع ہوتے ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے حشر کے دن کے جمع ہونے کو یاد دلا یا اور ان دنوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے سے مراد وہ تکبیرات ہیں جو ان دنوں میں فرض نماز کے بعد کہی جاتی ہیں اور وہ تکبیرات بھی ہیں جو حاجی لوگ شیطانوں کو کنکریاں مار نے کے وقت ان دنوں میں کہتے ہیں۔ اسلام سے پہلے بعضے لوگ تو مقام منیٰ سے گیارہویں ذوالحج کو چلے آتے تھے اور بعض بارہویں کو اور جلدی کرنے والے دیر کرنے والوں پر اعتراض کرتے تھے۔ اور اس پر اللہ تعالیٰ نے رفع حرج کے لئے دونوں حالتوں کو جائز فرمادیا۔
Ayahs 2:204–210

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ Open ayah 2:204 in the Quran reader

اور بعض آدمی وہ ہے کہ جس کی باتیں تم کو (اس) دنیا کی زندگی میں بھلی معلوم ہوتی ہیں اور وہ خدا کو گواہ ٹھہراتا ہے اپنے دل کی بات پر، حالانکہ وہ (تمہاری مخالفت میں) سب سے جھگڑالو ہے

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ Open ayah 2:205 in the Quran reader

اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں کوشش کرتا پھرتا ہے کہ اس میں فساد پھیلائے اور جانوروں کو ہلاک کرے اور اللہ کو فساد پسند نہیں آتا

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 2:206 in the Quran reader

اور جب اس سے کہا جاوے کہ خدا سے ڈرو تو تکبر اس کو گناہ پر ابھارے۔ پس اس کے لئے دوزخ کی سز ا کافی ہے، اور بیشک وہ بری جگہ ہے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 2:207 in the Quran reader

اور لوگوں میں سے کچھ (نیک بندے) ایسے بھی ہیں جو خدا کی رضا جوئی کے لئے اپنی جان (تک بھی) دے دیتے ہیں اور اللہ ایسے بندوں پر مہربان ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:208 in the Quran reader

اے مسلمانو ! (دائرہ) اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور (فاسد خیالات میں پڑ کر) شیطان کے قدم بقدم نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:209 in the Quran reader

پھر اگر تم اس کے بعد بھی ڈگمگا جاؤ باوجود یہ کہ ہدایت کی روشن دلیلیں تمہارے سامنے آچکی ہیں تو جان لو کہ اللہ زبردست اور حکمت والا ہے

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 2:210 in the Quran reader

کا ہے کے انتظار میں ہیں مگر یہی کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب چھائے ہوئے بادلوں میں آئے اور فرشتے اتریں اور جو کچھ ہونا ہے ہوچکے (یعنی قیامت آجائے اور سب کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں

شان نزول : بعضے مفسرین نے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص اخنس بن شریک منافق کی شان میں یہ آیت اتری ہے، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ کے پاس آتا تھا تو اسلام کی تائید میں بڑی میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور جب آپ کے پاس سے جاتا تھا تو اسلام کی بد خواہی کی باتیں کرتا تھا اور طرح طرح کے جھگڑے اور فساد کھڑے کرتا تھا اور بعضوں نے کہا ہے کہ واقعہ رجیع کی خبر جب مدینہ میں پہنچی تو بعضے منافقوں نے ظاہر میں تو مسلمانوں کی ہمدردی کے کلمات ان شہداء کی شان میں منہ سے نکالے لیکن باطن میں ان شہداء اور مسلمانوں کی ہجو اور مذمت مقصود تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کی مذمت میں شہدائے رجیع کی مدح میں یہ آیات نازل فرمائی کہ مسلمانوں کو منافقوں کی عادتوں سے پرہیز کرنے اور شہدائے رجیع کی سی ہمت اختیار کرنے کی ہدایت ہے۔ پوری تفصیل بخاری شریف میں ہے۔
Ayah 2:211

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 2:211 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ) بنی اسرائیل سے دریافت کرو کہ ہم نے ان کو کس قدر نشانیاں دیں کھلی کھلی اور جو شخص اللہ کی طرف سے آئی ہوئی نعمت (یعنی کتاب آسمانی) کو بدل ڈالے تو بیشک اللہ سخت عذاب والا ہے

یہود کی بےدینی شان نزول : اوپر یہ تو گزر چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیدائش اور نبوت سے پہلے یہود اچھی طرح آپ کے اوصاف سے واقف تھے، اور لڑائیوں میں آپ کے وسیلہ سے فتح کی دعا مانگا کرتے تھے۔ اب جب آپ کے تشریف لانے کے بعد وہ آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی ﷺ کو مخاطب ٹھہرا کر یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ آپ قائل کرنے کے طور پر ان سے ذرا پوچھیئے تو سہی کہ سلف سے لے کر اللہ تعالیٰ نے ان کو کیا کچھ اپنی قدرت کی نشانیاں دکھلائیں جن میں کی ہر ایک نشانی خود ایک نعمت ہے یا کسی بڑی نعمت کا سبب ہے۔ مثلاً من سلویٰ کا آسمان سے اترنا نشان قدرت الہٰی بھی ہے، اور خود نعمت بھی ہے، اور ہلاکت فرعون ایسی نشانی ہے جو ان کو نعمت اور بادشاہت ملنے کا سبب ہے، اور ان نعمتوں کا پوچھنا ان سے اس غرض سے ہے کہ ان پچھلی نعمتوں کے یاد کرنے سے ان کو یہ بھی یاد آجاوے کہ نبی آخر الزماں ﷺ کا پیدا ہونا بھی ایک ایسی بڑی نعمت ہے جس کی پہلے سے ان کو خود آرزو تھی، اور اس نعمت کے وسیلہ سے اپنے دشمنوں پر فتح کی دعائیں مانگتے تھے۔ اگر اس یاد دہی کا بھی ان پر کچھ اثر نہ ہوا اور اللہ کی اس نعمت کی قدر نہ کریں گے تو یہ یاد رکھیں کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔
Ayahs 2:212–214

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 2:212 in the Quran reader

دنیا کی (چند روزہ) زندگانی کافروں کی نگاہ میں زینت کی گئی ہے اور وہ مسلمانوں کی (موجودہ بےسروسمانی دیکھ کر) ہنسی اڑا تے ہیں، اور جو لوگ متقی ہیں قیامت کے دن وہی ان منکروں کے مقابلہ میں بلند مرتبہ ہوں گے، اور اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب روزی دیتا ہے

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:213 in the Quran reader

(شروع میں سب) لوگ ایک ہی دین پر تھے (پھر جب آپس میں اختلاف ہوا تو) اللہ نے انبیاء کو بھیجا (جو ایمان والوں کو) خوشخبری دیتے اور (کافروں کو عذاب الہٰی سے) ڈراتے، اور ان کے ساتھ سچی کتابیں بھیجیں تاکہ وہ آسمانی کتاب سے (شرعی) فیصلہ کرے درمیان لوگوں کے اس میں کہ جس میں انہوں نے اختلاف کیا ہے، اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی بعد اس کے کہ ان کے پاس کھلے کھلے احکام آچکے آپس کے حسد سے (ان میں اختلاف کرنے لگے تو (آخر کار) اللہ نے اپنے حکم سے مومنوں کو وہ حق بات دکھادی جس میں انہوں نے اختلاف کر رکھا تھا ، اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ Open ayah 2:214 in the Quran reader

(اے لوگو ! ) کیا تم نے گمان کیا ہے کہ (یوں ہی) جنت مین چلے جاؤ گے، حالانکہ ابھی تو تمہاری ویسی حالت نہیں پہنچی کہ جو تم سے پہلوں کی تھی، ان پر سختی اور مصیبت پہنچی اور ہلا ہلا ڈالے گئے (یعنی زلزلہ میں) یہاں تک کہ اٹھا رسول اور اس کے ساتھ ایمان والے کہ خدا کی مدد کب آئے گی آگاہ ہو کہ بیشک اللہ کی مدد قریب ہے

شان نزول : حضرت بلال اور حضرت عمار بن یاسر اور اسی طرح کے غریب صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کفار ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ یہی کنگال لوگ محمد ﷺ کے ساتھی ہیں جن کے بھروسہ پر وہ بڑے بڑے شہر فتح کرنے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور کافروں کو تنبیہ فرمادی کہ تمہارا سارا دارومدار دنیا کی چند روزہ خوشحالی پر ہے اور آخرت کے تم منکر ہو، لیکن یہ اللہ کی مصلحت ہے وہ جسے چاہتا ہے دنیا کی چند روزہ خوشحالی دے دیتا ہے۔ جن کو چاہتا ہے دنیا میں تو اس کو تنگ حال رکھتا ہے مگر عقبیٰ میں ان کو عالی درجے ملتے ہیں۔
Ayah 2:215

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 2:215 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ) تم سے پوچھتے ہیں کہ کس طرح اپنا مال (خدا کی راہ میں) خرچ کریں ؟ تو (ان کو) سمجھا دو کہ جو مال نیکی میں خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لئے ہے، اور جو کچھ بھلائی کرو بیشک اللہ اسے جانتا ہے

حکم جہاد اور مصارف مال شان نزول : بعضے صحابہ کرام نے آنحضرت ﷺ سے نفل صدقہ کے خرچ کا اور موقع دریافت کیا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ تھوڑا یا بہت جو کچھ خدا کے لئے خرچ کرو وہ والدین اور اقارب اور یتیم اور محتاج اور مسافر کے لئے ہو۔ یہ نفلی صدقہ کا حکم اور اس کے خرچ کا محل موقع بیان ہوا ہے جو زکوٰۃ سے بلکل جدا ہے۔ خرچ کے محل وموقع میں سے ایک موقع جہاد کا بھی ہے اس لئے کہ جہاد میں ہتھیار سواری وغیرہ ضروریات کے لئے خرچ درکار ہوتا ہے اسی لئے اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کا بھی ذکر فرمادیا۔ مسئلہ : جہاد فرض ہے جب اس کی شرائط پائی جائیں، اگر کافر مسلمانوں کے ملک پر چڑھائی کریں تو جہاد فرض عین ہوتا ہے ورنہ فرض کفایہ۔
Ayah 2:216

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:216 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) تم پر جہاد کرنا فرض کیا گیا اور وہ تم کو ناگوار ہے، اور شائد تم کو کوئی بات ناپسند ہو وے اور وہ (ہی) تمہارے حق میں بہتر ہو، اور شاید کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے، اور وہ (ہی تمہارے حق میں بری ہو، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

شان نزول : جہاد کے حکم کی تعمیل میں جان کے جانے کے خوف کو، زخمی ہوجانے کے اندیشہ کو، گھر اور اہل و عیال کے چھوٹنے کی تکلیف کو خیال کر کے لوگ جہاد کے حکم کی تعمیل سے گھبرا تے تھے۔ ایسے لوگوں کی ہمت بڑھانے کو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ تم لوگوں کو علم نہیں ہے اس لئے دنیا کی اکثر چیزوں کی ظاہری حالت دیکھ کر تم ان کو اچھا نہیں جانتے اللہ کے علم میں ان کا انجام اچھا ہوتا ہے۔ پس تم کو لازم ہے کہ حکم الہٰی کی اطاعت کرو اور اسی کو بہتر چاہے وہ تمہارے نفس پر گراں ہو۔
Ayahs 2:217–218

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:217 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ) مسلمان تم سے پوچھتے ہیں ماہ حرام (یعنی ادب والے مہینے) میں لڑنے کا حکم، تم ان کو سمجھا دو کہ ماہ حرام میں لڑنا بڑا گناہ ہے۔ اور اللہ کی راہ روکنا اور اس پر ایمان نہ لانا اور مسجد حرام سے روکنا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکال دینا تو اللہ کے نزدیک، اس سے بھی بڑ ا گناہ ہے، اور فتنہ اٹھانا قتل سے بھی بڑھ کر ہے، اور یہ (کفار) ہمیشہ تم (مسلمانوں) سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں پھیر دیں تمہارے دین سے ( اسلام سے) اگر قابو پاویں، اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جاوے پھر کافر ہی ہونے کی حالت میں مر جائے تو ایسے لوگوں کے (نیک) اعمال دنیا وآخرت میں سب غارت (برباد) ہوگئے، اور وہ دوزخ والے ہیں، انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:218 in the Quran reader

اور البتہ جو لوگ ایمان لائے اور ہو جنہوں نے راہ خدا میں ترک وطن کیا (یعنی ہجرت کی) اور اللہ کی راہ میں لڑے (جہاد کیا) وہ لوگ رحمت الہٰی کے امیدوار ہیں اور اللہ بخشنے والا مہر بان ہے

شان نزول : آنحضرت ﷺ نے اپنی ایک جماعت مشرکین کے مقابلہ کو بھیجی۔ انہوں نے مشرکین کو مارا اور مال لوٹ کر لائے۔ مسلمان تو سمجھتے تھے کہو وہ تو اخیر دن جمادی الثانی کا ہے جبکہ وہ رجب کا غرہ (پہلا دن) تھا جو کہ اشہر حرام میں داخل ہے۔ مشرکین نے اس پر غل مچایا کہ محمد ﷺ نے حرمت والے مہینہ میں لڑائی اور لوٹ مار جائز کرلی اور مسلمانوں کو بھی خدشہ پیدا ہوا کہ خدا کے نزدیک اس لڑائی کا کچھ اجر ملے گا یا نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور بتایا کہ ان کا یہ عمل جہاد مقبول ہے اور اس پر انہیں امیدوار رحمت الہی رہنا چاہیے اور یہ امید قطعاً ہوگی۔ (خازن)
Ayahs 2:219–220

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ لوگ) تم سے شراب اور جوئے کے باتے میں دریافت کرتے ہیں (تو ان لوگوں سے) کہ دو ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کو دنیا میں کچھ نفع بھی ہے اور ان کے نفع سے ان دونوں کا گناہ (اور نقصان) بڑھ کر ہے اور تم سے دریافت کرتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کیا خرچ کریں، تو (ان کو) سمجھا دو کہ جتنا (تمہاری حاجت سے) زائد ہو اسی طرح اللہ (اپنے) احکام تم لوگوں سے بیان کرتا ہے تاکہ تم دنیا اور آخرت کے کام سوچ سمجھ کر کیا کرو

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

اور (اے محبوب ! ﷺ لوگ) تم سے یتیموں کا حکم پوچھتے ہیں تو تم (ان کو) سمجھا دو کہ (جس میں) ان (یتیموں) کی بہتری ہو ( وہی) بہتر ہے، اور اگر اپنا (اور) ان کا خرچ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے بگاڑ نے والے کو اور سنوارنے والے سے، اور اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے

شراب اور جوئے کی ممانعت شان نزول : اس آیت میں تین سوال ہیں جو لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان تینوں سوالوں کا جواب ایک ہی جگہ نازل فرمایا ہے۔ (1) پہلا سوال شراب کے متعلق تھا۔ اس آیت سے پہلے شراب حلال تھی۔ جنگ احد میں چند صحابہ ایسے شہید ہوئے جو شراب کے نشہ میں مخمور تھے جس کا ذکر سورة مائدہ میں آوے گا۔ (2) دوسرے بعض صحاباہ نے نشہ کی حالت میں قرآن شریف نماز میں غلط پڑھ دیا جس پر سورة نساء کی آیت نازل ہوئی۔ (3) تیسرے شراب کی حالت میں لوگوں میں اکثر جھگڑا فساد رہتا تھا جس پر سورة مائدہ میں شراب اور جوئے کی حرمت میں آیت نازل فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو چیزیں نشہ والی ہیں وہ سب حرام ہیں۔ حضرت علی مرتضیٰ ؓ نے فرمایا : ” کہ اگر شراب کا ایک قطرہ کنوئیں میں گر جائے پھر اس جگہ منارہ بنایا جائے تو میں اس پر اذان نہ کہوں “۔ سبحان اللہ ! گناہ سے کس قدر نفرت ہے۔ دوسرے جو شرط بدی (لگائی) جاوے جس میں ہار جیت ہو (یعنی جوا) وہ محض حرام ہے اس میں سوائے نقصان کے فائدہ نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ لوگوں نے دریافت کیا تھا کہ نفلی صدقہ میں کس قدر مال خرچ کیا جاسکتا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ جواب نازل فرمایا کہ اپنی ذات اور اہل و عیال کے خرچ سے جو بچے اس کو آدمی نفلی صدقہ میں خرچ کرسکتا ہے تیسرا سوال یہ کہ یتیم کے مال کی نسبت یہ سخت حکم اترا تھا کہ جو یتیموں کا مال زبردستی اور بےجا طور پر کھا جاتے ہیں، وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھرتے ہیں۔ تو اب کیا حکم ہے ؟ اس کا جواب دیا کہ جو ان کے حق میں بہتر ہو اس پر عمل کرو۔ اللہ تعالیٰ نیت اور ارادے سے باخبر ہے ہر ایک کو اس کی نیت کے مطابق صلہ ملے گا۔
Ayah 2:221

وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:221 in the Quran reader

اور (اے مسلمانو ! ) نکاح نہ کرو شرک کرنے والی عورتوں سے جب تک وہ ایمان نہ لاویں، اور بیشک مسلمان لونڈی بہتر ہے مشرکہ سے اگرچہ وہ تم کو کیسی ہی بھلی (کیوں نہ) لگے اور مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں ( مسلمان عورتیں) ان کے نکاح میں نہ دو ، اور بیشک مسلمان غلام بہتر ہے مشرک سے اگرچہ وہ تمہیں کیسا ہی بھلا (کیوں نہ) لگے۔ وہ لوگ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اپنے حکم سے اور اپنی آیتیں بیان کرتا ہے لوگوں کے لئے تاکہ وہ نصیحت مانیں

نکاح کا ذکر مسائل القرآن : اس آیت میں نکاح کا ذکر ہے کہ پہلے مسلمان مرد اور مشرک عورت کے نکاح کی اجازت تھی، اس آیت میں اس کو منسوخ کردیا گیا، اور فرما دیا کہ مسلمان مرد اس وقت تک نکاح نہیں کرسکتا جب تک وہ عورت مسلمان نہ ہوجائے۔ ایسا ہی مسلمان عورت کا مشرک مرد سے نکاح جائز نہیں ہے۔
Ayah 2:222

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ Open ayah 2:222 in the Quran reader

اور (اے محبوب ! ﷺ لوگ) تم سے پوچھتے ہیں ” حیض کا حکم “ تم (ان کو) سمجھا دو کہ وہ نجاست ہے تم حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو اور ان سے قربت نہ کرو جب تک کہ وہ پاک نہ ہوجاویں پھر جب ہو اچھی طرح پاک ہوجاویں تو ان سے قربت کرو جس جگہ سے تمہیں اللہ نے حکم دیا ہے (یعنی آگے کی جانب سے) بیشک اللہ دوست رکھتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور دوست رکھتا ہے ( پاکی اور) ستھرائی والوں کو

حیض کا ذکر مسائل القرآن : مسلم شریف میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ یہود میں دستور تھا کہ جب عورت حیض کی حالت میں ہوتی تو اس کے ساتھ کھانا پینا، ایک گھر میں رہنا سب چھوڑ دیتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ سوائے صحبت کے اور سب طرح کا ختلاط جائز ہے۔ حیض کی حالت میں مجامعت کرنا، نماز، روزہ سب حرام ہے اور خلاف عادت جو خون آوے وہ بیماری ہے، اس میں سب درست ہے، حیض کی مدت دس یوم کی ہے، اور اگر عورت کی عادت چھ یوم کی ہے تو بعد غسل کے یا نماز کا وقت ختم ہوجانے پر مجامعت درست ہوگی، اور اگر سات یا آٹھ یوم کی ہے تو ان دنوں کے پورے کرنے کے بعد مجامعت درست ہوگی۔
Ayahs 2:223–224

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:223 in the Quran reader

تمہاری بیویاں (گویا) تمہاری کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ اور اپنے لئے آئندہ (یعنی عاقبت) کا بھی بندوبست رکھو (یعنی اعمال صالحہ کا) اور اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ تم کو اس کے حضور میں حاضر ہونا ہے اور (اے محبوب ! ﷺ) مسلمانوں کو خوشخبری سنادو

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:224 in the Quran reader

اور اللہ کے نام کو اپنی قسموں کے (حیلے) سے نشانہ نہ بناؤ کہ خد کی قسم ! جو میں (کسی کے ساتھ) احسان کروں یا پرہیزگاری کروں یا لوگوں میں ملاپ کراؤں، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

اغلام کی سخت ممانعت شان نزول : صحیحین میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ یہود کا عقیدہ تھا کہ پیٹھ پیچھے سے جو کوئی اپنی عورت سے صحبت کرے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے۔ سوائے کروٹ کے بل اور کسی طرح مباشرت جائز نہیں قرار دیتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ عورت کی مثال بمزلہ زمین کے ہے اور نطفہ کی مثال بیج کے اور اولاد کی مثال پیداوار کے۔ جس طرح کاشتکار کو اپنی زمین میں ہر طرح بیج ڈالنے کا اختیار ہے اسی طرح تم کو بھی ہر طرح ہر پہلو سے اپنی عورت سے مباشرت جائز ہے۔ ترمذی اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی عورت سے اغلام کرے گا، اس کی طرف رحمت سے اللہ تعالیٰ نظر نہ فرماوے گا۔ مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت خزیمہ بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اغلام کی سخت ممانعت کی ہے اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس وقت کوئی شخص اپنی بی بی سے مباشرت کا قصد کرے تو بسم اللہ کر کے یہ دعا پڑھے جس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ ! ہم کو شیطان سے بچا اور کوئی اولاد ہمارے نصیب میں تو نے لکھی ہے اس سے شیطان کو دور رکھ۔ آپ نے فرمایا کہ اس دعا کی برکت سے اس اولاد سے کبھی اس کو ضرر نہ پہنچے گا۔
Ayah 2:225

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 2:225 in the Quran reader

اللہ تم کو نہیں پکڑتا ہے ان قسموں میں جو ( بےہودہ و) بےارادہ زبان سے نکل جائے لیکن تم سے مواخذہ کرتا ہے ان پر کہ جو تمہارے دلوں سے سرزد ہوئی ہوئی ہیں (پورا نہ کرنے کی صورت میں) ، اور اللہ بخشنے والا بردبار ہے

قسم اور اس کی اقسام قسم کی دو حالتیں ہیں ایک تو وہ جو دل سے جان بوجھ کر اصلی حالت کو چھپا کر قسم کھائی جاوے تو یہ کبیرہ گناہ ہے جس کا کفارہ دینا لازم ہے۔ دوسرے تکیہ کلام کے طور پر زبان سے نکل جاوے اس پر کچھ مواخذہ نہیں۔ جس کو یمین لغو کہتے ہیں۔ قسم صرف اللہ کے نام کی ہوتی ہے اور ایسی قسم کہ فلاں کے سر کی قسم یا فلاں کی جان کی قسم یہ بلکل منع ہے۔ قسم کے کفارہ کا ذکر آگے سورة مائدہ میں آوے گا کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا کپڑ ا بنادینا یا ایک بردہ (غلام) آزاد کرنا یا تین روزے رکھنا۔
Ayahs 2:226–227

لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:226 in the Quran reader

جو لوگ اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں ان کو چار مہینے کی مہلت ہے پس اگر انہوں نے (اس مدت میں) پھر ملاپ کرلیا تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے

وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:227 in the Quran reader

اور اگر پکا ارادہ کرلیا چھوڑ دینے کا تو بیشک اللہ خوب جانتا ہے

اسباب نزول : اسلام سے پہلے عرب میں یہ دستور تھا کہ جو شخص اپنی بی بی سے خفا ہوجاتا تھا تو اس کو تنگ کرنے کے کی غرض سے قسم کھالیا کرتا تھا کہ میں اتنے عرصہ تک بات چیت نہ کروں گا۔ اس پر یہ آیت نازل فرمائی۔ اس چار مہینہ کی مدت سے بڑھ کر یہ قسم جس کو ایلاء کہتے ہیں، جائز ہیں۔
Ayah 2:228

وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:228 in the Quran reader

اور جن عورتوں کو طلاق دیدی گئی ہو تو وہ اپنے آپ کو روکے رکھیں تین حیض یا تین طہر تک، اور ان عورتوں کو یہ بات حلال نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے رحم میں پیدا کیا ہے (خواہ حمل یا حیض) اس کو چھپائیں اگر وہ عورتیں اللہ پر اور روز قیامت پر یقین رکھتی ہیں، اور ان کے شوہروں کو ان کے پھیر لینے کا زیادہ حق پہنچتا ہے اس مدت کے اندر اگر صلح کرنا چاہیں اور ان عورتوں کا بھی ایسا ہی حق مردوں پر ہے جیسا کہ مردوں کا عورتوں پر ہے قاعدہ (شرعی) کے موافق اور مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔

اس آیت میں فقط ان عورتوں کی عدت کا ذکر ہے جن سے نکاح کے بعد مباشرت ہوئی ہو کہ مرد نے عورت کو طلاق دی تو ابھی اس عورت کو کسی دوسرے سے نکاح جائز نہیں جب تک تین حیض پورے نہ ہوجائیں۔ تاکہ حمل ہو تو معلوم ہوجاوے اور کسی کی اولاد کسی کو نہ مل جاوے۔ اس لئے عورت پر فرض ہے کہ حمل ظاہر کر دے اور بلا مباشرت یعنی صغر سن ہے یا بہت بوڑھی ہوگئی۔ ان دونوں صورتوں میں عدت تین مہینے ہیں اور حاملہ کی عدت وضع حمل ہے اور موت کی عدت چار ماہ دس رات ہے۔
Ayah 2:229

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:229 in the Quran reader

یہ طلاق (رجعی) جس کے بعد رجوع بھی ہو سکتا ہے دو بار تک ہے پھر ( دو طلاقوں کے بعد یا تو) بھلائی کے ساتھ (زوجیت میں) رکھنا ہے یا حسن سلوک کے ساتھ رخصت کردینا اور تم کو یہ جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم نے عورتوں کو دیا تھا اس میں سے کچھ واپس لو مگر یہ کہ جب میاں بی بی کو (اس بات کا) خوف ہو کہ خدا کی حدوں پر قائم نہ رہ سکیں گے تو اس صورت میں ( اے مسلمانو ! ) تم کو اس بات کا خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدوں پر قائم نہ رہ سکیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے، یہ اللہ کی حدیں مقرر کی ہوئی ہیں ان سے آ گے نہ بڑھو اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے آ گے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں

بیان نکاح و طلاق شان نزول : اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے طلاق کی کوئی حد اور گنتی نہیں تھی جس قدر طلاقیں مرد اپنی عورت کو دے دیتا عدت کی مدت کے اندر پھر رجوع کرسکتا تھا۔ اس طریقہ کے بند کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ جس سے اب یہ حک شرعی ٹھہر گیا کہ تین طلاق کے بعد کوئی حق رجوع کرنے کا مرد کو باقی نہیں۔ ولا یحل لکم ان تاخذوا الخ اس آیت میں دو حکم ہیں۔ شروع آیت میں ہے کہ بغیر مرضی عورت کے مرد کے لئے اس مال کو جو مہر کے طور پر یا عطیہ کے طور پر ایک دفعہ دے چکا ہے، اپنے تصرف میں لانے کی ممانعت ہے۔ کیونکہ وہ اس مال کی مالک بن چکی ہے اور آخر آیت میں عورت کے خلع کا حکم ہے یعنی جب میاں بی بی میں ناموافقت ہو اور کچھ مال عورت خاوند کو دے کر مفارقت کرلے تو اس کو خلع کہتے ہیں۔
Ayah 2:230

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 2:230 in the Quran reader

پھر اگر تیسری طلاق عورت کو دے دی تو اب وہ عورت اس مرد کو حلال نہ ہوگی بعد اس کے کہ جب تک عورت دوسرے شوہر سے (عدت کے بعد) نکاح نہ کرلے (یعنی وہ دخول کرلے) پھر اگر وہ دوسرا خاوند اس کو طلاق دے دے تو ان دونوں میں کچھ گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں (یعنی نکاح کرلیں) اگر یہ سمھجتے ہوں کہ اللہ کی حدیں قائم رکھیں گے، اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو بیان فرماتا ہے دانشمندوں کے لئے

مسائل القرآن : حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ تین طلاق کے بعد اگر وہ عورت دوسرا نکاح کرلے اور اس دوسرے خاوند کی نیت محض حلالہ کی نہ ہو اور فقط خلوت نہیں بلکہ مباشرت بھی یہ دوسرا خاوند کرچکے، اور اتفاق سے یہ دوسرا خاوند بھی طلاق دیوے تو اس حالت میں پہلا خاوند اگر اپنی گزر اوقات حسن اسلوبی سے خیال کرے تو اس عورت سے پھر نکاح کرسکتا ہے۔
Ayahs 2:231–232

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:231 in the Quran reader

اور جب تم نے عورتوں کو (رجعی) طلاق (یعنی دوبا) دیدی اور وہ اپنی عدت پوری کرنے کے قریب ہون تو ان کو یا تو دستور کے موافق اچھی طرح سے رکھ لو یا (تیسری طلاق دے کر) ان کو بھلائی سے رخصت کردو، اور تکلیف دینے کے لئے ان کو اپنی (زوجیت میں) نہ روکو کہ (بعد میں ان پر) زیادتی کرو، اور جو ایسا کرے پس بیشک اس نے اپنے اوپر ظلم کیا اور اللہ کی آیتوں کو ہنسی (کھیل) نہ بنا لو اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے اور (اس کا) یہ (احسان بھی یاد کرو) کہ اس نے تم پر کتاب اور عقل کی باتیں اتاریں کہ تم کو اس کے ذریعہ سے نصیحت کرے، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader

اور جب تم عورتوں کو طلاق دو پھر وہ اپنی (عدت کی) مدت پوری کرلیں تو اب ان کو اس بات سے منع نہ کرو کہ وہ اپنے (دوسرے) شوہروں سے نکاح کرلیں جبکہ وہ باہم شرع کے موافق اچھی طرح سے راضی ہوجاویں۔ یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو، یہ تمہارے لئے بڑی پاگیزگی ہے اور بڑی صفائی کی بات ہے اور الل جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ عدت کے ختم ہونے تک خاوند کو اختیار ہے کہ رضامندی کے ساتھ اس کو پھر ملا لیوے یا بلکل چھوڑ دے یا مگر یہ ہر گز جائز نہیں کہ قید میں رکھے۔ فائدہ : پہلی آیت میں یہ بتلا دیا تھا کہ دو طلاق تک مرد کو اختیار تھا کہ عورت کو پھر ملا لیوے، یا بلکل چھوڑ دے۔ اب اس آیت میں یہ فرمایا کہ یہ اختیار صرف عدت تک ہے۔ عدت کے بعد کوئی اختیار حاصل نہ رہے گا۔ ولا تتخذوااٰیٰت اللہ ھزوا الخ کا شان نزول : تفسیر ابن منذر میں عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ لوگ طلاق وعتاق کا پہلے اقرار کر کے پھر کہ دیتے تھے کہ ہم نے تو ہنسی میں کہ دیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ تم پر نعمت ہے کہ رسول ہر وقت تم میں موجود ہیں۔ طرح طرح کے احکام اترتے ہیں۔ اگر تم ان احکام کو جو آیات الہٰی میں ہیں ٹھٹھا ٹھہراؤ گے تو یاد رکھو کہ اللہ کو سب کچھ معلوم ہے، یا تو تمہارے لئے دنیا میں کوئی عتا اب آوے گ اور نہ قیامت میں اس ہنسی کھیل کا مواخذہ ضرور ملے گا۔ مطلب یہ ہے کہ نکاح اور طلاق رجعی سے عدت میں رجوع کرنا ان تین چیزوں میں ہنسی کا کچھ دخل نہیں ہے۔
Ayah 2:233

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader

اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال یہ حکم اس کے لئے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے اور جس کا بچہ ہے (یعنی باپ) اس پر دستور کے مطابق دودھ پلانے والی عورت کا کھانا اور کپڑا دینا واجب ہے (یہ انتظام ہر شخص کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہئے) کسی شخص پر بوجھ نہ رکھا جائے گا مگر اس کے مقدور کے موافق نہ تو ماں کو اس بچہ کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس بچہ کی وجہ سے (یا ماں ضرر نہ دے اپنے بچہ کو اور باپ اپنے بچہ کو) اور جو باپ کا قاتم مقام ہے اس پر بھی اسی طرح ہے۔ پس اگر ماں باپ دودھ چھڑانا چاہیں (یعنی دو سال سے پہلے) آپس کی رضا مندی اور صلاح ومشورہ سے تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہے، اور اگر تم چاہو کہ اپنی اولاد کو ( ماں کی جگہ) کسی انا کا دودھ پلانا تو اس میں بھی کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ (ماؤں کی حق تلفی نہ کرو اور) جو کچھ انہیں دینا (مقرر) کیا تھا بھلائی کے ساتھ ان کے حوالے کر دو ، اور اللہ سے ڈرو اور جان رکھ کہ اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے

طلاق کے بعد بچہ کے دودھ کا حکم اور عدت کا ذکر بعد ذکر نکاں و طلاق کے اللہ تعالیٰ نے بچے کے دودھ پلانے کا ذکر اس لئے فرمایا ہے کہ کسی عورت کی گود میں دودھ پیتا بچہ بھی ہوتا ہے، ایسی حالت میں فرمایا کہ عورت دو برس تک دودھ پلائے، اور بچہ کا باپ موافق اپنی حیثیت اور مقدور (طاقت) کے بچہ کی ماں کو روٹی کپڑا دیوے اور اگر اس مدت میں بچے کے باپ کا انتقال ہوجاوے تو بچے کے وارث دودھ پلانے والی ماں کی روٹی کپڑے کی مدت تک ذمہ دار رہین گے۔ پھر یہ فرمایا کہ آپس کی طلاق کی رنجش کے سبب سے نہ ماں دودوھ کی مدت کے اندر بچہ کو زبردستی باپ پر ڈال کر چلی جاوے، نہ باپ زبردستی دودھ کی مدت کے اندر بچہ کو ماں سے چھین لینے کا قصد کرے۔ ہاں اگر ماں باپ دونوں کے مشورہ سے دو برس کے اندر بچہ کے دودھ چھوڑانے کی صلاح ٹھہر جاوے تو اس صورت میں دودھ چھوٹ جانے کے بعد دو برس کے اندر بھی بچہ ماں سے علیحدہ کیا جاسکتا ہے، اور دونوں کی صلاح سے اگر انا کا دودھ پلایا جاوے تو جائز ہے۔ جتنے دن ماں نے دودھ پلایا ہے اس کا حق پورا اس کو دے دیا جاوے۔ آخر کو فرمایا اللہ سے ڈرو اور اللہ کے حکموں کو پوری تعمیل کرو کیونکہ اللہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے اور ایک دن اس کے موافق جزا وسزا دینے والا ہے۔