2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 2:114–115

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 2:114 in the Quran reader

اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے کہ جس نے اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام لینے کی ممانعت کردی او ان کی ویرانی میں کوشش کرتا ہے (تو جن لوگون کے ظلم وشرارت کا یہ حال) ان کو زیبا نہیں کہ وہ مسجدوں میں آویں (بجز اس حالت کے) ڈرتے سہمے ہوئے ہوں ، ایسے لوگوں کے لئے دنیا میں (بھی) رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بھی بڑا (بھاری) عذاب ہے

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:115 in the Quran reader

اور مشرق ہو یا مغرب سب اللہ ہی کے لئے ہے پس (اس کی یاد میں) تم جدھر منہ کرو ادھر ہی وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے ، بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے

ہجرت کے بعد 6 ھ میں آنحضرت ﷺ نے ایک جماعت کے ساتھ ذیقعدہ میں عمرہ کے قصد سے مکہ کا ارادہ کیا اور مشرکین مکہ نے آپ کو مکہ کے اندر نہ جانے دیا بلکہ راستہ میں ایک مقام جس کا نام حدیبیہ ہے وہاں روک دیا ۔ جس کا قصہ سورة انا فتحنا میں آوے گا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ عنہماکا قول ہے کہ اسی قصہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مسجد الحرام میں ذکر الہی سے حج والوں یا عمرہ والوں کو روکنا بھی مسجدوں کو اجاڑنا ہے ۔ کیونکہ مسجدوں کی آبادی بھی ذکر الہی سے ہے ۔ جو مسجدوں میں نماز پڑھنے اور ذکر الہی سے روکتے ہٰں وہ گویا مسجدوں کے اجاڑنے کے درپنے ہیں ۔ مشرکین مکہ سے رسول کریم ﷺ اور ان کے ساتھ والوں کو عمرہ سے روکا ہے ۔ قریب ہی وہ وقت آتا ہے کہ مشرک لوگ مسجد الحرام میں ڈرتے ہوئے گھسا کریں گے ، اللہ کا وعدہ سچا ہے ، اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ تھوڑے دنوں کے بعد مکہ فتح ہوگیا ۔ اس آیت میں مسلمانوں کو یہ بشارت تھی جس کا ظہور فتح مکہ کے وقت ہوا ۔ دنیا کی ذلت تو فتح مکہ کے وقت ان مشرکوں نے دیکھ لی کہ جن بتوں کو یہ لوگ خدا کا شریک گنتے تھے وہ توڑے جاکر مسلمانوں کے کے پیروں میں روندے گئے۔ عقبیٰ کا عذاب جو ہوگا وہ بھی قیامت کے دن آنکھوں کے سامنے آجاوے گا ۔
Ayahs 2:116–117

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 2:116 in the Quran reader

اور (رعیسائی) کہتے ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے (حالانکہ) وہ (اس سے) پاک ہے، بلکہ اسی کا ہے جو کچھ آسمان و زمین میں ہے ، سب اسی کے فرمانبردار ہیں

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 2:117 in the Quran reader

پیدا کرنے والا ہے آسمانون اور زمین کا اور جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو بس اسی کی نسبت فرمادیتا ہے کہ ہوجا پس وہ فوراً ہوجاتا ہے

شان نزول : یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا اور مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان سب کو جھٹلایا ۔ صحیح بخاری وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان نے مجھ کو جھٹلایا او مجھ کو گالیاں دیں ۔ جھٹلایا تو یوں کہ میں اپنے کلام میں اس کو ایک دفعہ مار کر پھر جلانے کی خبر دیتا ہوں اور وہ اس بات کو جھٹلاتا ہے ۔ او گالیاں یہ دیں کہ وہ مجھ کو صاحب اولاد قرار دیتا ہے ۔ پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بڑا برد بار ہے لوگ اس کے بیٹا بیٹی ٹھہرا تے ہیں مگر وہ ان کو رزق اور تندرستی دیتا ہے ۔
Ayah 2:118

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 2:118 in the Quran reader

اور (مشرکین عرب) جو (احکام الہی کچھ بھی) نہیں جانتے کہتے ہیں کہ خدا (خود) ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا یا ہمیں کوئی نشانی ملے ۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان ہی جیسی باتیں وہ بھی کہا کرتے تھے ۔ ان (سب) کے دل (کچھ) ایک ہی طرح کے ہیں جو لوگ یقین (کرنے کی صلاحیت) رکھتے ہیں ان کو تو ہم (اپنی نشانیاں صاف طور پر دکھا چکے

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ مشرکین مکہ جن کو حشر کا اقرار اور امید نہیں ہے یہ کہتے ہیں کہ اے محمد ﷺ تمہاری نبوت کی تصدیق کوئی فرشتہ یا خود خدا ہمارے پاس آکر کیوں نہیں کرتا۔ مشرکین عرب اور اہل کتاب ان سب کو بہکانے والا ابلیس ہے ، اس لئے یہ سب ایک سی باتیں کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں نشانیاں تو کافی بیان کردی ہیں ۔ مثلاً قرآن کے کتاب الہی ہونے کی یہ نشانی ان سب کے لئے کیا کم ہے کہ جس اللہ کے رسول پر یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل ہوتا ہے ، اس کے رسول برحق ہونے میں کوئی صاحب عقل شک وشبہ نہیں کرسکتا ۔
Ayah 2:119

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ Open ayah 2:119 in the Quran reader

بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری اور ڈر سنانے والا اور تم سے دوزخیوں کی کچھ باز پرس نہیں ہو گی

شان نزول : آنحضرت ﷺ کو اس بات کا رنج ہوتا تھا کہ باوجود کامل فہمائش اور کافی دلیلوں کے اہل عرب اور اہل کتاب میں سے بہکے ہوئے لوگ راہ راست پر کیوں نہیں آتے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا یہ رنج رفع کرنے کو یہ آیت نازل فرمائی کہ راہ راست پر لانا خدا کا کام ہے۔ تمہارا کام صرف اتنا ہے کہ راہ راست والوں کو نجات اخروی کی خوشخبری اور گمراہوں کو خرابی عقبیٰ کی آیتیں سناتے رہو۔ اس کے بعد علم الہی میں جن لوگون کا راہ راست پر نہ آنا اور ان سے دوزخ بھرا جانا قرار پا چکا ہے وہ تو آخر ہو کر رہے گا۔
Ayahs 2:120–123

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ Open ayah 2:120 in the Quran reader

اور (اے محبوب ﷺ) تم سے ہر گز خوش نہ ہوں گے یہود اور نہ نصاریٰ تاوقتیکہ تم ان کے دین کی پیروی نہ کرو ، (اے محبوب ﷺ) تم ان لوگوں سے فرماؤ کہ اللہ کی ہدایت وہی (اصلی) ہدایت ہے اور اے مخاطب ! اگر پیروی کی تو نے ان لوگوں کی باطل آرزوؤں کی باوجود یہ کہ تیرے پاس علم (یعنی قرآن) آچکا ہے ، تجھے اللہ کے عذاب سے نہ کوئی بچانے والا ہوگا اور نہ کوئی مدد گار

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

اور ( اہل کتاب میں) جن لوگوں کو ہم نے کتاب (یعنی توریت) دی ہے وہ اس کو پڑھتے رہتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے ، وہ یقین بھی رکھتے ہیں خدا کی ہدایت پر اور جو اس کے منکر ہوتے ہیں پس وہی لوگ ٹوٹے میں ہیں

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:122 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل ! میری وہ نعمتیں یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی ہیں اور یہ کہ میں نے تم کو اس زمانہ کے سب لوگوں پر بزگی دی

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:123 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو کہ کوئی شخص کسی شخص کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ اس (کی طرف) سے کوئی معاوضہ قبول کیا جاوے گا اور نہ کوئی شفارش نفع دے گی اور نہ ان کی مدد کی جاوے گی

مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ اسکی آیتوں میں کچھ ردوبدل نہیں کرتے بلکہ اس کے احکام کے پورے پابند ہیں ۔ پھر فرمایا جو لوگ اس ڈھنگ پر نہیں وہ ٹوٹے نقصان وخسارہ میں ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ چند روز دنیا کے لئے انہوں نے اپنی عقبیٰ برباد کی اس سے بڑھ کر اور کیا ٹوٹا (نقصان) ہوگا
Ayah 2:124

وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:124 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جس وقت کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے پروردگار نے کئی باتوں میں آزمایا ، پس (ابراہیم (علیہ السلام) نے) انکو پورا کردیا تو (خدا نے رضا مند ہو کر) فرمایا کہ میں تم لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں عرض کی :” اور میری اولاد سے “ فرمایا :” جو ظلم کی راہ اختیار کریں تو ان کا میرے عہد میں کوئی حصہ نہیں “

شان نزول : مشرکین مکہ ، اہل کتاب سب کا سلسلہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملتا ہے اس لئے انہیں سب مانتے تھے لیکن ان کے طریقہ پر کوئی نہ تھا ۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسحاق واسمٰعیل (علیہ السلام) نے اپنے دونوں بیٹوں کے حق میں نبوت کی دعا کی تھی وہ قبول ہوئی ۔ ایک مدت تک اولاد اسحاق میں اس دعا کے اثر سے نبوت رہی ، اب بنی اسماعیل میں آئی۔ یہ کیا بےانسافی نہ ہوتی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کی اولاد ہمیشہ کے لئے اس دعائے ابراہیمی کا اثر باقی رہے اور ایک محروم رہے ۔ مشرکین مکہ تو یہ دعوٰ ی تاھ کہ ہم اولاد ابراہیم ہونے کے علاوہ اس گھر کے خدمت گار ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تو پہلے ہی اپنے گھر کو شرک کی نجاست سے پاک وصاف رکھنے کا عہد ابراہیم واسمٰعیل (علیہ السلام) سے لیا تھا ، ا او اس خاندان نے شرک کی نجاست پھیلا رکھی تھی ۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے نمرود کے بتوں کو توڑا اور اپنے آپ کو اس پر آگ میں ڈالے جانے کا مستحق ٹھہرایا ۔ پھر تم کو اولاد ابراہیم ہونے کا فخر ہے ۔ وہ بتوں کے دشمن ، تم بتوں کے غلام خانہ زاد ہو ۔ (کس قدر واضح فرق ہے ! )
Ayahs 2:125–129

وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 2:125 in the Quran reader

اور جب ہم نے (مکہ کے) اس گھر کو (یعنی خانہ کعبہ کو) لوگوں کا مجع (یعنی گرد آوری کا مرکز) اور امن و حرمت کا مقام ٹھہرادیا اور (لوگوں کو حکم دیا کہ) ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ (ہمیشہ کے لئے) نماز پڑھنے کی جگہ بناؤ اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم اور اسماعیل کو کہ میرا گھرخوب صاف ستھرا رکھو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:126 in the Quran reader

اور جبکہ دعا مانگی ابراہیم (علیہ السلام) نے کہ اے میرے پروردگار ! اس مقام کو امن وامان کا (ایک آباد) شہر بنا دے اور یہاں کے رہنے والوں کو طرح طرح کے پھلوں سے روزی دیجیو جو ان میں سے اللہ اور آخرت کے دن پر (یعن قیامت پر) ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :”(تمہاری دعا قبول ہوئی) اور جو کافر ہوا تھوڑا فائدہ اسے بھی دوں گا پھر (آخر کار) اس کو عذاب دوزخ کی طرف مجبور کروں گا اور وہ بہت بری جگہ ہے “

وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ١ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 2:127 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جس وقت ابراہیم اور (ان کے ساتھ) اسماعیل (دونوں) خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (اور دعا مانگتے جاتے تھے کہ) اے ہمارے پروردگار ! ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما، بیشک تو ہی ہے (دعا کا) سننے والا جاننے والا

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:128 in the Quran reader

اے پروردگار ہمارے ! ہم کو اپنا (بندہ) فرمابردار بنا اور ہماری نسل میں ایک گروہ (پیدا کر) جو تیرا حکم بردار ہو اور ہمیں ہماری عبادتوں کا طریقہ بتلا دے ، اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرما ۔ بیشک تو ہی معاف کرنے والا مہربان ہے

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 2:129 in the Quran reader

اے پروردگار ! ہمارے اور ان (مکے والوں) میں ان ہی میں سے ایک پیغمبر بھیج کہ ان کو تیری آیتیں پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب (یعنی قرآن) اور (پختہ) علم سکھائے اور ان کو پاک کرے (یعنی نفوس کی اصلاح کرے) بیشک تو ہی قوت والا جاننے والا ہے

شان نزول : حضرت عمر ؓ نے مقام ابراہیم کو مصلیٰ ٹھہرانے کا ذکر آنحضرت ﷺ سے کیا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، مقام ابراہیم اس پتھر کا نام ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی ہے ۔ آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کے عہد میں یہ پتھر کعبہ کی ایک دیوار میں لگا ہوا تھا ۔ حضرت عمر ؓ نے اس کو نکال کر اس جگہ رکھ دیا جہاں اب موجود ہے ۔ حض کے وقت طواف سے فارغ ہونے کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو نفل پڑھنا سنت ہے۔ مکہ اللہ کا گھر ہے اور مدینہ اللہ کے رسول کا گھر ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اسے روایت ہے کہ اس آیت میں اللہ کے گھر کو پاک رکھنے سے مراد یہ کہ شرک کی باتوں اور بت پرستی وغیرہ سے اس کو پاک رکھا جائے ۔ اگرچہ بنائے کعبہ کے وقت سے ہی مکہ میں شرک نہ پھیلنے کا اہتمام تھا ۔ مگر اغوائے شیطانی سے وہاں بت پرستی پھیل گئی اور اس شرک کے دفع کرنے کے ارادے سے اللہ نے نبی آخر الزماں کو پیدا کیا ہے اور خواہ نرمی سے یا سختی سے ، اللہ کا یہ ارادہ وقت مقررہ پر ضرور پورا ہوگیا ۔ دعائے ابراہیمی کے اثر سے مکہ جس طرح پہلے تھا وہی پھر قائم ہوگیا ۔ اللہ سچا ہے۔ آخر مکہ کیا کل جزیرہ عرب سے بت پرستی ایسی گئی جس کے آنے کا خوف قیامت تک جاتا رہا، صحیحین وغیرہ میں روایتیں ہیں کہ یاجوج ماجوج کے نکلنے کے بعد جب حج عمرہ موقوف ہوجائے گا تو ایک سوکھی سوکھی پنڈلیوں والا حبشی اس کو ڈھا دے گا۔ قسطلانی میں ہے کہ کعبہ دس دفعہ بنایا گیا ہے : (1) پہلی دفعہ فرشتوں نے ۔ (2) پھر حضرت آدم (علیہ السلام) نے ۔ (3) پھر حضرت شیث (علیہ السلام) نے ، (4) پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ، (5) پھر قوم عمالقہ نے (6) پھر قوم جرہم کے ایک شخص نے جس کا نام حارث بن مضاض تھا۔ (7) پھر قصی نے جو پانچویں پیڑی (پشت) میں آنحضرت ﷺ کا دادا تھا ۔ (8) پھر قریش نے ۔ (9) پھر ابن زبیر نے ۔ (10) پھر ابن حضاج نے ، یہی عمارت آخر تک رہے گی ۔
Ayahs 2:130–132

وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 2:130 in the Quran reader

اور کون ہے جو ابراہیم کے دین سے منہ پھیرے سوائے اس کے کہ جس نے اپنے آپ کو نادانی وجہالت کے حوالے کردیا ہے ، اور بیشک ہم نے اس کا دنیا میں انتخاب کرلیا اور بیشک آخرت میں وہ ہمارے خاص نیکوں میں سے ہے

اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:131 in the Quran reader

جب کہ اس سے فرمایا اس کے پروردگار نے کہ (ہماری ہی) فرمابرداری کر (تو) عرض کیا کہ میں سارے جہان کے پروردگار کا یعنی تیرا ہی فرمابردار ہیں

وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ Open ayah 2:132 in the Quran reader

اور اسی دین کی وصیت ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے اپنے بیٹوں کو کی کہ اے میرے بیٹو ! بیشک خدا نے تمہارے لئے اس دین (اسلام) کو پسند فرمایا ہے پس تم نہ مرنا مگر مسلمان ہو

بخشش اعمال سے ہے نہ کہ نسب سے شان نزول : شرک میں مبتلا ہو کر جو لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پیروکار بتاتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ یہ لوگ ملت ابراہیمی پر تو کسی طرح نہیں ہو سکتے بلکہ یہ لوگ تو ملت ابراہیمی کے مخالف اور اس سے پھرے ہوئے ہیں ، تو یہ ان کی کم عقلی اور بیوقوفی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین و دنیا میں عالی مرتبہ ہونے کا، اور انہوں نے اپنی اولاد کو توحید پر مرتے دم تک قائم رہنے کی جو وصیت کی تھی اس کا ذکر فرمایا ۔ تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہوجاوے کہ یہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فرمابرداری اور وصیت کے مخالف ہیں ۔
Ayahs 2:133–134

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

کیا تم (اے بنی اسرائیل ! ) اس وقت موجود تھے جس وقت یعقوب کے سرہانے موت آکھڑی ہوئی تھی جب کہ اس نے فرمایا اپنے بیٹوں سے کہ میرے (مرنے کے) بعد کس کی عبادت کرو گے انہوں نے جواب دیا کہ ہم عبادت کریں گے اس خدائے واحد کی جس کی تو نے عبادت کی اور تیرے باپوں ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق نے کی ہے ، اور ہم تو اسی کے حکموں کے فرمانبردار ہیں

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

(اے یہود ! ) یہ ایک امت تھی جو (اپنے وقتوں میں) ہو کر گزری ، اس کے لئے وہ تاھ جو اس نے اپنے عمل سے کمایا ، تمہارے لئے وہ ہوگا جو تم اپنے عمل سے کماؤ گے ، اور ان کے کاموں کی تم سے پوچھ نہ ہو گی

اوپر کی آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وصیت کا ذکر تھا ، اور اس آیت میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے آخری وقت پر اپنی اولاد سے توحید پر رہنے کا اقرار جو بطور وصیت کے لیا تھا ۔ اور اس اقرار میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چچا حضرت اسماعیل کے اسی توحید پر قائم رہنے کا ذکر ہے ۔ جس سے اولاد یعقوب اور اولاد اسماعیل دونوں کو قائل کرنا مقصود ہے ، یہ دونوں اپنے بڑوں کے طریقہ پر نہیں ہیں ۔ قیامت کے دن بڑوں کے نیک عمل ان کے کام نہیں آویں گے ۔ ہر ایک کو اپنے اپنی عمل کا جدا جدا جواب دینا ہوگا ۔ چناچہ حضرت معاذ بن جبل ؓ سے ترمذی وغیرہ میں معتبر سند سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ چار باتوں کی جواب دہی کے لئے ہر شخص کو قیامت کے دن خدائے تعالیٰ کے روبرو ضرور کھڑا رہنا پڑے گا ۔ (1) ایک تو یہ کہ نیک عمل دنیا میں کیا کئے۔ (2) دوسرے یہ کہ عمر کن کن کاموں میں صرف کی۔ (3) تیسرے جوانی میں کیا کیا ۔ (4) چوتھے روپیہ پیسہ کس کس طریقہ سے کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا ۔
Ayahs 2:135–136

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

اور کتابی (اہل کتاب) مسلمانوں سے کہتے ہیں :” یہودی یا نصرانی ہوجاؤ راہ پاؤ گے “ تم ان لوگوں سے فرماؤ :”(نہیں) بلکہ ہم تو ابراہیم کے دین کی پیروی کرتے ہیں جو ایک (خدا) کا ہو رہا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا “

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:136 in the Quran reader

(مسلمانو ! تم ان سے یہ) کہ دو کہ ہم تو خدا پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور ان تمام تعلیموں پر ایمان لائے ہیں جو ابراہیم کو اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر اتارا گیا اور جو کچھ موسٰی اور عیسیٰ کو دیا گیا ، اور (صرف اتنا ہی نہیں بلکہ) ان تمام تعلیموں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو اور تمام پیغمبروں کو ان کے پروردگار سے ملی ہیں، ہم ان میں سے کسی میں بھی فرق نہیں کرتے اور ہم (ایک خدا) کے فرمانبردار ہیں

شان نزول : یہود اپنے دین کو راہ راست بتلا کر آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ہمارے دین کو اختیار کرلو، اگر دنیا میں نجات کا طریقہ ہے تو یہی ہے ۔ اسی طرح نصاریٰ بھی کہتے تھے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ان کو جواب دیا جائے کہ ہم تو ملت ابراہیمی کے پیرو ہیں جس میں کسی طرح شرک کا لگاؤ نہیں ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بت پرستی سے بیزار ہو کر اپنے وطن کو ، باپ کو ، قوم کو سب کچھ چھوڑا ۔
Ayah 2:137

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ Open ayah 2:137 in the Quran reader

پس اگر یہ (اہل کتاب) بھی ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے تو بس وہ راہ پاگئے اور اگر وہ پھرگئے تو (سمجھو کہ) پس وہ (تمہاری) مخالفت میں ہیں ، تو (اے محبوب ! ﷺ) عنقریب اللہ کفایت کرے گا تم ان کو ان کی مخالفتوں سے اور وہی سننے والا جاننے والا ہے

شہادت کے وقت حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ کا خون جس آیت پر گرا تھا : اوپر ملت ابراہیمی کا ذکر فرما کر اس آیت میں مسلمانوں کو یہ فہمائش ہے کہ اگر تمہاری طرح اہل کتا بھی راہ راست پر آکر سب کتب آسمانی اور انبیاء پر ایمان لاویں اور ملت ابراہیمی کے پورے پابند ہوجاویں تو جان لینا کہ انہوں نے ہدایت الٰہی کا راستہ پالیا اور اگر ایسا نہ ہو تو ان کی ہٹ دھرمی ہے ۔ اور اس ہٹ دھرمی کے سبب سے وہ تم سے مخالفت کریں تو کچھ خوف نہ کرو ، تمہاری مدد کے لئے اللہ کافی ہے ۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ ان اہل کتاب میں سے کچھ تو قتل کئے گئے اور کچھ جلاوطن ہوئے اور بعضوں کو جزیہ دینا پڑا ۔ نافع کہتے ہیں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ شہادت کے وقت حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ کا خون اسی آیت ” فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم “ پر گرا تھا ۔
Ayah 2:138

صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ Open ayah 2:138 in the Quran reader

(مسلمانو ! ان لوگوں سے کہو کہ) ہم تو اللہ کے رنگ میں رنگے گئے اور اللہ کے رنگ سے اور کس کا رنگ بہتر ہے ، اور ہم تو اسی کی عبادت کرتے ہیں

حضرت عبدا اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رنگ سے مراد اس آیت میں اللہ کا دین ہے ، اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ نصاریٰ نے اگرچہ یہ طریقہ نکالا ہے کہ وہ جس کو عیسائی کرتے ہیں تو زرد رنگ میں اس کو نہلاتے ہیں ، لیکن اے مسلمانو ! تم کو اللہ کی توحید کا رنگ ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہیے کہ یہ اللہ کا رنگ ہے ، اور اللہ سے بہتر کسی کا رنگ نہیں ہے ۔ اور اہل کتاب سے کہہ دو کہ ہم تو ملت ابراہیمی کے موافق خاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ۔ اس لیے ہم کو اسی کا رنگ کافی ہے ۔
Ayahs 2:139–141

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ Open ayah 2:139 in the Quran reader

(اے محبوب ﷺ) تم فرماؤ :” کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو اور وہی پروردگار ہمارا (بھی) اور تمہارا (بھی) وہی اور ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے اور ہم خالص اسی کو ماننے والے ہیں “

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

بلکہ تم تو یوں کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹے (یہ لوگ بھی) یہودی یا نصرانی تھے ، (اے محبوب ! ﷺ) تم ان سے کہو :” کیا مت زیادہ جاننے والے ہو یا اللہ ہے اور اس سے بڑھ کر ظالم کو ن ہوگا کہ جو چھپاوے اس گواہی کو جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس (آئی ہوئی) موجود ہے ، اور جو کچھ تم کر رہے ہو خدا اس سے بیخبر نہیں ہے

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:141 in the Quran reader

یہ ایک امت جو گزر گئی ، ان کے لئے وہ ہے جو عمل کرگئے اور تمہارے لئے وہ ہوگا جو تم اپنے عمل سے کماؤ گے اور ان کے اعمال سے کچھ پوچھ نہیں ہوگی “

شان نزول : اہل کتاب کی اس بات کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی جو انہوں نے کہی تھی کہ ہم سب ایک خدا کے بندے اور فرمانبردار ہیں پھر تم جو اپنے آپ کو صاحب ہدایت اور اوروں کو گمراہ سمجھتے ہو اس کی دلیل تمہارے پاس کیا ہے ۔ رہی ہماری دلیل وہ خود تمہاری کتابیں ہیں ۔ جن میں یہ موجود ہے کہ نبی آخر الزماں کے پیدا ہونے اور نبی ہوجانے کے بعد اور کوئی دین قائم نہیں رہ سکتا ۔ اگرچہ تم نے اپنی کتابوں کی وہ آیتیں بدل ڈالی ہیں لیکن تمہارے علماء میں سے حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ وغیرہ جو اسلام لے آئے ہیں وہ تم کو ہر وقت قائل کرتے ہیں۔ اس پر بھی تم کو کچھ حجت ہے تو ہمارا کیا ہمارے آگے آوے گا اور تمہارا کیا تمہارے آگے۔ مگر اتنی بات ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی خالص عبادت کرتے ہیں اور تم شرک کرتے ہو ۔ اور تم یہ جو کہتے ہو کہ ابراہیم ، اسماعیل ، اسحٰق ویعقوب (علیہ السلام) ہمارے دین پر تھے ، یہ بلکل خدا تعالیٰ کے نزدیک غلط ہے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی صحیح مسلم کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی جو کوئی نبی آخر الزماں پر ایمان نہ لاوے گا اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ سوائے پیروی شریعت محمدی کے اور کچھ چارہ نہیں ہے ۔
Ayah 2:142

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ تمہارے کعبہ کی طرف نماز پڑھنے سے) عنقریب کہیں گے بیوقوف لوگ کہ کس چیز نے مسلمانوں کو (کعبہ کی طرف) پھیر دیا ان کے اس قبلہ سے کہ جس پر وہ (پہلے رخ کر کے نماز پڑھتے چلے آتے) تھے (یعنی بیت المقدس کی طرٖف) اے محبوب ! ﷺ) تم کہہ دو کہ مشرق ومغرب (سب) اللہ ہی کا ہے ۔ جس کو چاہتا ہے (دین کا) سیدھا راستہ دکھاتا ہے

تبدیلی قبلہ کا حکم شان نزول : آنحضرت ﷺ نے ہجرت کے بعد تقریباً سوا سال تک بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی ، بعد اس کے عصر کی نماز آپ پڑھ رہے تھے کہ کعبہ کی طرف پھرجانے کا حکم نازل ہوا ، آپ فوراً اسی طرف پھرگئے ۔ صحیح بخاری میں براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے سوا برس تک اللہ تعالیٰ کے حکم سے بیت المقدس کو قبلہ ٹھہرا کر نماز پڑھی لیکن آپ کو اس بات کی بڑی خوشی تھی کہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم جلدی سے ہوجاوے ۔ کیونکہ آپ ملت ابراہیمی پر تھے ، اس لئے اس ملت کے قبلہ کی آپ کو آرزو تھی ۔ اور اس سوا سال میں دس مہینے کے قریب مدینہ منورہ کے قیام کے ہیں ، باقی مکہ کے ، کیونکہ قریش کے طرح طرح کے جھگڑوں کے سبب سے آپ کے قیام مکہ ہی کے زمانہ میں آپ کو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم ہوگیا تھا ۔ اب حکم تبدیل قبلہ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ تبدیلی قبلہ کے بعد مخالف لوگ طرح طرح کی باتیں بنائیں گے لیکن ان کی باتوں کا کچھ خیال نہ کرنا چاہیے۔ مشرق مغرب سب جہتیں اللہ ہی کی ہیں جس امت کا جدھر ہو چاہے قبلہ ٹھہرا سکتا ہے ۔ مسند امام احمد ، بخاری ، ترمذی وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ سوا آنحضرت ﷺ کے اور نبیوں کی امتیں اپنے نبیوں کو قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے روبرو جھٹلا دیں گی ، اور یہ کہیں گی کہ ہم کو کسی نبی نے خدا کا حکم نہیں پہنچایا ، ورنہ ہم ضرور اس کے موافق چلتے ۔ انبیاء کہیں گے کہ یا اللہ ہم نے ان کو تیرا حکم پہنچادیا لیکن انہوں نے اس کو نہ مانا۔ خد تعالیٰ عالم الغیب ہے ۔ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کی ابتداء سے قیامت تک جو کچھ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے علم ازلی کے موافق ہونے والا تھا اس کو دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے سزا وجزا کا مدار ہر چیز کے دنیوی ظہور پر رکھا ہے ، اپنے علم غیب پر نہیں رکھا ۔
Ayah 2:143

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اور (اے مسلمانو ! جسیے ہم نے تم کو اب ٹھیک قبلہ بتا دیا ہے) اسی طرح ہم نے تم کو (سب امتوں میں) افضل بنا دیا ہے تاکہ لوگوں پر تم گوہ ہو جاؤ اور یہ رسول تمہارے گواہ بنے ، اور (اے محبوب ! ﷺ) ہم نے اسی غرض سے اس قبلہ کو مقرر نہیں کیا جس پر تم (پہلے) تھے (یعنی بیت المقدس) کہ جب قبلہ بدلا جائے تو ہم کو معلوم ہوجائے کہ کون رسول (ﷺ) پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھرجاتا ہے ، اور بیشک یہ بات (بہت) دشوار تھی مگر ان لوگوں پر کہ جن کو خدا نے ہدایت کی (ان پر کچھ دشوار نہیں) اور اللہ کی شان نہیں کہ تمہارا ایمان ضائع کرے ، بیشک اللہ لوگوں کے ساتھ سفقت کرنے والا مہربان ہے

شان نزول : بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کے زمانہ میں جن صحابہ نے وفات پائی ان کے رشتپ دارواں نے تحویل قبلہ کے بعد ان کی نمازوں کا حکم دریافت کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اطمینان دلایا گیا کہ ان کی نمازیں ضائع نہیں ہوئیں ان پر ثقب ملے گا ۔
Ayah 2:144

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

بیشک ہم دیکھ رہے ہیں (اے محبوب ! ﷺ حکم کے انتظار میں) بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ضرور ہم تمہیں اسی قبلہ کی طرف پھرجانے کا حکم دیں گے جس میں تمہاری خوشی ہے پس ابھی اپنا منہ پھیر لو مسجد الحرام (یعنی کعبہ) کی طرف اور (اے مسلمانو ! تم بھی) جہاں کہیں ہو اسی کی منہ کرلو ، اور (اے محبوب ! ﷺ) بیشک وہ لوگ جو اہل کتاب ہیں ضرور جانتے ہیں کہ یہ (تحویل قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے ، اور وہ جو تدبیریں کر رہے ہیں خدا اس سے بیخبر نہیں ہے

تبدیلی قبلہ کا ذکر شان نزول : سید عالم ﷺ کو کعبہ کا قبلہ بنایا جانا پسند خاطر تھا ، اور آنحضرت ﷺ اس امید میں آسمان کی طرف نظر فرماتے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ آپ نماز ہی میں کعبہ کی طرف پھرگئے ۔ مسلمانوں نے بھی آپ کے ساتھ اسی طرف رخ کیا ۔ توریت میں آنحضرت ﷺ کے اوصاف کے سلسلہ میں یہ بھی مذکور تھا کہ آپ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف پھریں گے اور ان کے انبیاء نے بشارتوں کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا یہ نشان بتایا تھا کہ آپ بیت المقدس وکعبہ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھیں گے۔ مسائل القرآن : صحیح بخاری ، صحیح مسلم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حالت سفر میں نفل نماز سواری پر جدھر سواری کا منہ ہو ادھر ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح فرض نماز حالت خوف میں اور حالت سفر میں قبلہ کے مشتبہ ہوجانے کی صورت میں بغیر جہت کعبہ کے ہوجاتی ہے۔
Ayah 2:145

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اور (اے محبوب ! ﷺ) اگر تم اہل کتاب کے پاس ہر دلیل لے کر آؤتو بھی وہ تمہارے قبلہ کو ہر گز نہ مانیں گے ، اور نہ تم ہی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے ہو اور ان میں کا کوئی (فریق) بھی دوسرے (فریق) کے قبلے کی پیروی کرنے والا نہیں اور ( اے مخاطب ! ) اگر تو اس کے بعد جو تجھے پہنچا ہے ان کی نفسانی خواہشوں کی پیروی کرے گا تو ضرور اس وقت تو ظالموں میں سے ہو گا

شان نزول : وہ باوجود نبی کے معجزات کے دیکھنے کے راہ راست پر نہیں آتے تھے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی تسکین کے لئے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ان لوگوں کا کفر عنادی ہے ، ان کو سینکڑوں معجزے بھی دکھائے جاویں تو کچھ فائدہ نہیں ۔ یہ ممکن نہیں کہ وہ حق بات کو سمجھیں اور راہ راست پر آجائیں اور کعبہ کو تسلیم کریں ۔ پھر فرمایا کہ تمہارا قبلہ خدا کی طرف ٹھہر چکا ہے اس واسطے تم بھی مثل سابق کے اب بیت المقدس کو قبلہ نہیں بنا سکتے۔ پھر آنحضرت ﷺ کو مخاطب ٹھہرا کر امت کے لوگوں کو تنبیہ کے یہ سنایا کہ اللہ کی طرف سے ایک حکم آجانے کے بعد اب اگر کوئی مسلمان شخص اہل کتاب کے بہکاوے میں آجائے گا تو وہ بڑا ناانصاف ہے۔
Ayahs 2:146–147

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب (توریت) دی ہے (ان کے علماء) انہیں (یعنی رسول ﷺ کو) اس طرح پینچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہنچانتے ہیں، اور بیشک ان میں سے ہر ایک گروہ ایسا بھی ہے جو حق (بات) کو چھپاتا ہے جان بوجھ کر

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

(اے سننے والے یہ تحویل قبلہ) بر حق (اور) تیرے پروردگار (کے حکم) سے ہے ، پر تو کہیں شک کرنے والوں میں سے نہ ہو جائے

شان نزول : اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر فرمایا کہ اگرچہ اصل کتابیں تو ان لوگوں نے بدل ڈالی ہیں مگر جب اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بتلا دیا ہے تو کسی مسلمان کو اس میں شک وشبہ نہیں کرنا چاہیے کہ نبی آخرالزماں کی پوی علامتیں اہل کتاب کی کتابوں میں موجود ہیں ۔ یہود میں سے عبداللہ بن سلام ؓ مشرف بااسلام ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے ان سے دریافت کیا کہ آیۃ یعرفُون میں جو معرفت بیان کی گئے ہے اس کی کیا شان ہے ؟ ۔ انہوں نے فرمایا : ” اے ابن عمر ! ؓ میں نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا تو بےاشتباہ پہچان لیا اور میرا آنحضرت ﷺ کو پینچاننا اپنے بیٹوں کو پہنچاننے سے بدرجہا زیادہ بہتر ہے “۔
Ayahs 2:148–149

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

اور ہر ایک (فریق) کے لئے ایک سمت (مقرر) ہے کہ وہ ادھر ہی (عبادت میں) منہ کرتا ہے ۔ پس تم اے مسلمانو ! نیکیوں میں سبقت لے جاؤجہاں کہیں تم ہو ، اللہ تم سب کو اکھٹا کر کے (اپنے پاس لے آئے گا ، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

اور جس جگہ سے آؤ تو (نماز میں) اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف کرو ، اور بیشک یہی (نیا قبلہ) برحق ہے تمہارے پروردگار کے حکم سے اور اللہ تمہارے عملوں سے غافل نہیں

شان نزول : قبلہ کی تبدیلی کے بعد اہل کتاب اور اہل مکہ طرح طرح کی باتیں بناتے تھے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ناز فرمائی اور فرمایا کہ ہر امت کا ایک قبلہ ہے جس کی طرف وہ لوگ منہ کرتے ہیں۔ یہود کا قبلہ مثلاً بیت المقدس ہے۔ نصاریٰ کا مشرق اور مسلمانوں کا قبلہ جب تک حکم تھا بیت المقدس رہا ، اب ان کا قبلہ کعبہ قرار پایا ہے۔
Ayah 2:150

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور (اے محبوب ! ﷺ) جہاں سے آؤتو اپنا منہ (نماز میں) مسجد حرام کی طرف کرو ، اور (اے مسلمانو ! ) تم بھی جہاں کہیں ہو اپنے منہ کو (نماز میں) اسی کی طرف کرو (بار بار حکم دینے سے غرض یہ ہے) کہ لوگوں کو تم پر (کسی قسم کی) حجت (باقی) نہ رہے ، مگر جن لوگوں نے ظلم کیا ہے اس جماعت سے تم ان سے نہ ڈرو ، اور یہ اس لئے کہ میں اپنی نعمتیں تم کو بھر پور دوں اور کسی طرح تم ہدایت پاؤ

توریت میں جہاں نبی آخر الزماں کی اور علامتوں اور نشانیوں کا ذکر تھا وہیں ایک علامت تبدیل قبلہ کی بھی تھی اس واسطے فرمایا کہ تبدیل قبلہ کے بعد ناانصافی سے اہل کتاب کو باتیں بنانے کے سوا توریت کے حوالہ سے کچھ بحث کرنے کا موقع باقی نہیں رہا ۔ پھر فرمایا : ” اگر ان میں سے کوئی شخص کچھ غلط حجت کرے بھی اس کا کچھ خوف نہیں کرنا چاہیے بلکہ خوف تو ہر مسلمان کو اس بات کرنا چاہیے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی مخالفت نہ ہوجاوے کہ اس کا عذاب بھگتنا پڑے گا ، حالانکہ اس کا عذاب انسان کی برداشت سے باہر اور بہت سخت ہے “۔ اس لئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان کو بہ نسبت اور کسی کی مخالفت کے خوف کے، اللہ کے حکم کی مخالفت سے اس عذاب کا بڑا خوف کرنا چاہیے۔ نعمت الٰہیکا مطلب یہ ہے کہ جس طرح تم لوگ ملت ابراہیمی پر تھے جو شرک سے بلکل پاک وصاف ہے ، اسی طرح قبلہ ابراہیمی کا حکم نازل ہوجانے سے وہ نعمت اب پوری ہوگئی ۔
Ayahs 2:151–152

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

(مسلمانو ! یہ احسان بھی اسی قسم کے ہیں) جیسا ہم نے تم میں تمہاری قوم میں کے ایک رسول کو بھیجا جو پڑھ کر سناتا ہے تم کو ہماری آیتیں اور تمہاری اصلاح کرتا ہے اور تم کو کتاب (یعنی قرآن) اور عقل (کی باتیں) سکھاتا ہے ، اور تم کو وہ تعلیم فرماتا ہے جو تم نہیں جانتے

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

پس یاد کرو تم مجھ کو تاکہ یاد کروں میں تم کو اور تم میرا شکریہ ادا کرو اور تم میری ناشکری نہ کرو

جس طرح اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کی نعمت تم کو عطا فرمائی اسی طرح یہ بھی نعمت ہے کہ وہ ملت تمہاری قوم بنی اسماعیل کے نبی کی معرفت تم کو عطا ہوئی تاکہ غیر قوم کی اطاعت کا رکاؤباقی نہ رہے ۔ ابن ماجہ وغیرہ میں معتبر سند آئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھ کو قرآن اور قرآن کے ساتھ ہی اس کے احکام مفصل طور پر بیان کرنے کو کہا گیا ہے ۔ یعنی نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ، ارکان دین کے اکثر مسئلے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر ذکر فرما کر ان کا تفصیلی بیان اپنے محبوب ﷺ کے سپرد کیا ہے کہ ان آیتوں کی تفصیل قول سے ، فعل سے اچھی طرح امت کے لوگوں کو سمجھادو تاکہ وہ لوگ قرآن کی آیتوں کے معنی میں فکر وغور کرسکیں ۔ چناچہ اللہ کے حکم کے موافق آنحضرت ﷺ نے قرآن کا مطلب بخوبی اپنے صحابہ کو اور صحابہ نے تابیعن کو سمجھا دیا جو سلسلہ بہ سلسلہ آج تک چلا آتا ہے اور اسی کو قرآن کی تفسیر کہتے ہیں۔
Ayah 2:153

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

اے مسلمانو ! (تم کو کسی طرح کی مشکل پیش آئے تو اس کے لئے) صبر اور نماز سے مدد لو ، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کو جب کوئی سخت مہم پیش آتی تو نماز میں مشغول ہوجاتے ۔ اور نماز سے مدد چاہنے میں نماز استقساء وصلٰوۃ حاجت داخل ہیں۔