2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 2:1

الٓمّٓۚ Open ayah 2:1 in the Quran reader

: الف الام میم4

4 الم یہ حروف پڑھنے میں پوری پوری آواز کے ساتھ ادا کیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ اردو رسم الخط میں ظاہر بھی کردیا گیا ہے۔ اور یہ حروف مقطعات کہلاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ صحابی اور بعض تابعین کا قول ہے کہ الم مخفف اور قائمقام ہے پورے فقرہ انا اللہ اعلم کا (ابن جریر) زجاج لغوی نے یہی قول اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ حروف مقطعات میں سے ہر حرف کسی متعین معنی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ” عربی شاعری “ سے اس کی مثالیں پیش کی ہیں (قرطبی) بعض نے کہا ہے کہ یہ سورت کا نام ہے۔ اکثر متکلمین اور خلیل نحوی اور سیبویہ نحوی اسی طرف گئے ہیں۔ انھا اسماء السور وھو قول اکثر المتکلمین واختیار الخلیل وسیبویہ (کبیر) بعض کا قول ہے کہ یہ قرآن ہی کا ایک نام ہے۔ اور قول بھی نقل ہوئے ہیں۔ بعض صوفیہ نے انہیں عارفانہ اشارات ومرموزات قرار دیا ہے، اور ان سے طرح طرح کے نکتے اور لطیفے پیدا کیے ہیں۔ ایک قول یہ بھی نقل ہوا ہے کہ خطبات عرب کے دستور کے مطابق یہ حروف محض افتتاح کلام کے لیے لائے گئے ہیں۔ اور یہ بات اس لیے دل کو زیادہ لگتی ہے کہ عرب اگر اس طرز خطاب وخطابت سے آشنا ومانوس نہ ہوتے تو اس پرت اعتراض ضرور ہی کرتے۔ اعتراض کے لیے تو مخالفین بہانے ہی ڈھونڈتے رہتے تھے۔ لیکن اس قسم کا کوئی بھی اعتراض اہل زبان سے منقول نہیں۔ لیکن مشاہیر صحابہ وتابعین میں سے اکثر کا اور جمہور مفسرین کا مسلک یہ ہے کہ یہ حروف ان مشابہتات قرآنی میں سے ہیں جن کا علم کسی مصلحت سے عام بندوں کو نہیں دیا گیا ہے۔ ان ھذا علم مستور وسر محجوب استأثر اللہ تعالیٰ وتبارک بہ (کبیر) حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور شعبی، سفیان ثوری، ربیع بن خیثم وابو حاتم وغیرہ سب کا یہی مذہب ہے (قرطبی وابن کثیر) یہ اعتراض کہ قرآن کے مخاطب جب ہم ہیں تو ان حروف کو بھی ہمارے لیے قابل فہم ہونا لازمی ہے، کچھ زیادہ باوقعت وباوزن نہیں۔ قرآن مجید کے اندر اور جتنے مضامین ومطالب ہیں، کیا وہ سب ہر کس وناکس کی سمجھ میں آگئے ہیں ؟ یا کائنات خارجی میں جو کچھ موجود ہے، کیا ان موجودات میں سے سب کا مصرف بڑے بڑے فاضلوں اور ماہروں کی بھی سمجھ میں آگیا ہے ؟
Ayah 2:2

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 2:2 in the Quran reader

یہ کتاب5 (کہ) کوئی شبہ اس میں نہیں6 ہدایت ہے ( اللہ سے) ڈر رکھنے والوں کے لئے7

5 الکتب۔ محض زبانی یادداشتوں یاروایتوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ باضابطہ ومستند نوشتہ۔ ایک صحیفہ مکتوب۔ قرآن مجید اپناپہلا تعارف اسی حیثیت سے کراتا ہے کہ وہ ضبط تحریر میں آیا ہوا۔ ایک کتابی شکل میں مرتب، صحیفہ آسمانی ہے۔ وہ دوسرے مذہبوں کی کتب الہامی کی طرح نہیں کہ صاحب مذہب کے دماغ میں ان کے صرف معانی ومطالب ہوں، اور کوئی راوی ان سے کوئی ٹکڑا نقل کرے اور کوئی کچھ اور۔ یہاں تک کہ صدیوں بعد جب نوبت جمع و کتابت کی آئے تو صحت لفظی اور استناد حرفی تو خیر بہت دور کی چیز ہے نفس مفہوم ومعنی تک مسخ ہو کر رہے۔ اور نام تو ایک کتاب کا ہو۔ لیکن اس کی ترتیب و تالیف میں خدا معلوم کتنے انسانی دماغ اور کتنے بشری قلم شریک ہوجائیں ! دلائل و شواہد کو چھوڑئیے، محض دعوی کی حد تک بھی تو اس باب میں قرآن کی حریف ومقابل دنیا کی کوئی بھی الہامی کتاب نہیں۔ توریت، انجیل، وید، کسی کا بھی یہ دعوی نہیں کہ وہ لفظ بہ لفظ، حرف بہ حرف نازل شدہ کتاب ہے۔ اور نہ ان کے پیرو انہیں اس حیثیت سے پیش ہی کررہے ہیں۔ یہ دعوی تنزیل لفظی کا تو صرف قرآن مجید ہی کا ہے۔ آج دنیا میں، اس کا غذ اور قلم کے دور میں ” کتابیں “ (بہ صیغہ جمع وعموم) جتنی بھی چاہیں تیار کر ڈالی جائیں الکتب (بہ صیغہ واحد وبہ تخصیص الف ولام) یہ ” کتاب واحد کا مصداق صرف قرآن ہی نکلے گا۔ زمخشری معتزلی کا مرتبہ اللہ بلند کرے، کیا خوب بات کہہ گیا ہے :۔ معناہ ان ذلک الکتب ھو الکتب الکامل کان ماعداہ من الکتب فی مقابلتہ ناقص (کشاف) مطلب یہ ہے کہ کتاب تو بس یہی ایک کتاب کامل ہے۔ اور اس کے سامنے کتابیں جتنی بھی لائی جائیں گی سب ناقص ہی ہوں گی۔ زمخشری (رح) 27 رجب 467 ھ تا 9 ذی الحجہ 5 18 ھ ( مارچ 1075 ء تا 14 جون 1 144 ء) بہرحال مومن تھے، اور آج سے آٹھ، ساڑھے آٹھ سو سال قبل کے مومن۔ وہ اگر یہ کہہ گئے تھے تو انہیں کہنا ہی چاہیے تھا۔ یہ دیکھئے کہ قرآن کا منکر اور مادیت وعقلیت کا پرستار، وہ بھی اس بیسویں صدی کا کیا کہہ رہا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹا نیکا طبع یازدہم کی شہادت ہے کہ قرآن the most widely read book in the world وہ کتاب ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جاتی ہے “ (جلد 15 صفحہ 895) اور پر نسٹن یونیورسٹی (امریکہ) کے پروفیسر ہیٹی (Hitti) کا بیان ہے کہ قرآن ” گو دور آخر کی کتابوں میں سب سے کم سن ہے لیکن دنیا میں جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی یہی ہے “۔ (تاریخ اہل عرب، صفحہ 126 مطبوعہ 1937 ء) ذلک۔ اسم اشارہ ہے۔ اور اشارۂ بعید کا ترجمہ اردو میں ” وہ “ سے کیا جاتا ہے۔ لیکن بعد ہمیشہ بعد مکان یا بعد زمان ہی نہیں ہوتا۔ بعد منزلت وعلوئے مرتبت بھی بعد ہی کی قسمیں ہیں۔ اور ھذا کے مقابلہ میں ذلک اسی بلندی منزلت کے اظہار کے لیے آتا ہے۔ یقال بازاء ھذا فی المستبعد بالشخص اوبالمنزلۃ ذلک وذاک (راغب) انما قال ذلک لبعد منزلۃ فی الشرف والتعظیم (تاج) اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں بھی اشارۂ بعید ” آں “ بارہا اظہار تکریم وعلوئے منزلت کے موقع پر آتا ہے۔ آنحضرت، آنمحترم، آنجناب، آنعزیز وغیرہ۔ صحابی ابن عباس ؓ اور تابعین کی ایک جماعت کثیر مجاہد، عکرمہ، سعید، ابن جبیر، سدی، مقاتل، زید بن اسلم رحمۃ اللہ علیہم وغیرہ سے ذلک، ھذا کے معنی میں مروی ہوا ہے، (ابن کثیر) لیکن خود ذلک اور ھذا دونوں اسموں کے درمیان تبادلہ محاورۂ عرب میں بالکل جائز ہے۔ یستعملون کلامنھما مکان الاخر وھذا معروف فی کلامھم (ابن کثیر) اشارہ کا مشار الیہ اس کے معا بعد کا اسم یعنی الکتب ہے۔ گویا فقرہ کا صحیح اردو ترجمہ یہ ہوا۔ ” یہ مکرم ومعظم کتاب “۔ 6 (کہ یہ کتاب الہی ہے۔ اس کا مضمون برحق اور اس کا ہر لفظ صدق ہے) اے لا شک فیہ انہ من عنداللہ وانہ الحق والصدق (معالم) یہ معنی تابعین کو، صحابہ ؓ اجمعین کو، سب کو مسلم ہیں اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ قال ابن ابی حاتم لا اعلم فی ھذا خلافا (ابن کثیر) اس حقیقت کو ایک اور پہلو سے دیکھئے۔ قرآن بجائے خود ایک عالم ہے۔ اس عالم قدس کے اندر گزر نہ کسی شک وتردد کا ہے نہ خلجان و اضطراب کا۔ یہاں تو جو کچھ ہے تسکین و اطمینان ہے، علم وایقان ہے، یکسوئی واذعان ہے۔ ہر دعوی مدلل ہے، اور ہر حقیقت ثابت شدہ۔ اب اگر کسی بدنصیب کو اس کے خلاف نظر آتا ہے تو گناہ چشمہ آفتاب کا نہیں، قصور شپرہ چشمی کا ہے۔ اسی لیے ارشاد یہ نہیں ہوا کہ اس کے باب میں کسی کو شک وترود لاحق ہوگا ہی نہیں، بلکہ ارشاد صرف یہ ہوا ہے کہ خود یہ کتاب، اس کے مضامین شک وشبہ سے بالاتر ہیں۔ مانفی ان احدا لا یرتاب فیہ وانما المنفی کونہ متعلقا للریب ومظنۃ لہ (کشاف) المراد انہ بلغ فی الوضو حالی حیث لا ینبغی لمرتاب ان یرتاب فیہ (کبیر) لاریب فیہ۔ مقصود چونکہ نفی ریب کی تاکید ہے۔ اس لیے ترکیب کلام بجائے لافیہ ریب کے لاریب فیہ رکھی گئی کہ اس میں زور اس سے زیادہ ہے (کبیر) 7 ھدی۔ قرآن مجید کے مطالعہ کے وقت اس کا یہ اپنا بتایا ہوا وصف اول ہی سے خوب ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ وہ کوئی تاریخ کا دفتر نہیں کہ اس میں سنہ وارترتیب کے ساتھ پچھلے زمانہ کے واقعات درج ہوں۔ کوئی سائنس کی کتاب نہیں کہ علوم طبیعی وریاضی کے مسائل کا حل اس کے اوراق میں ڈھونڈھا جائے، کوئی فلسفہ کا مقالہ نہیں کہ اس کے پڑھنے والے اشراقیوں اور مشائیوں، یونانیوں اور ہندیوں کے ظنون اور نظریات میں الجھے رہیں۔ افسانہ ومحاضرات کی کتاب نہیں کہ پڑھنے والے اسے تفریح اور دل بہلانے کے لیے پڑھیں۔ اس کی اصلی اور بنیادی حیثیت صرف یہ ہے کہ وہ ہدایت نامہ ہے، دستور حیات ہے، مکمل ومفصل نقشہ زندگی ہے۔ للمتقین۔ یہ قید لگا کر صاف بتادیا کہ اس قانون عام وہدایت تام سے فائدہ اٹھانے والے صرف وہ لوگ ہوں گے جن کے اندر خوف خدا موجود ہو۔ کتاب ہدایت نازل تو ساری دنیا کے لیے ہوئی ہے۔ خطاب سارے عالم سے کررہی ہے۔ لیکن عملا اس سے نفع صرف وہی لوگ حاصل کریں گے جن کے اندر حق کی طلب اور تلاش ہے، اور جن کا ضمیر زندہ ہے۔ آفتاب اپنی جگہ عالمتاب سہی، لیکن جن کی بصارت ہی ضائع ہوچکی۔ ان کے لیے تیز سے تیز شعاع بےکار ہے۔ زمین اگر مردہ ہے تو اس کے حق میں بڑی سے بڑی بارش بےاثر ہے۔ غذا بہتر سے بہتر بھی ہیضہ کے مریض کے لیے لاحاصل بلکہ مضر ہے۔ قرآن مجید سے استفادہ کے لیے اولین شرط دل کے اندر کا تقوی ہے۔ ھوفی نفسہ ھدی ولکن لا ینالہ الاالابرار (ابن کثیر) ۔
Ayah 2:3

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ Open ayah 2:3 in the Quran reader

جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں8 ۔ اور نماز کی پابندی کرتے ہیں9 ۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں10 ۔

8 (رسول ﷺ کی تعلیمات و تصریحات کے مطابق نہ کہ اپنے ظن وتخمین، وہم و گمان سے) یؤمنون۔ ایمانیات کے دائرہ کے اندر کی جتنی چیزیں بھی ہیں سب کو تصریحات نبوی کے مطابق وماتحت ہونا ضروری ہے۔ کسی اور راہ سے آیا ہو اعلم اس دائرہ میں نامقبول ہے۔ ایمان کی کیفیت نفسی شک، ریب ترددوتذبذب کی بالکل ضد ہے۔ ایمان سے اس کے برعکس دماغ کو سکون، دل کو اطمینان، روح کو تسلی نصیب ہوتی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں آج تک کسی صاحب ایمان کو خود کشی کرتے نہیں پایا گیا۔ ایمان کے بغیر دل میں بےکلی اور بےچینی ہی رہا کرتی ہے۔ لیکن ایمان والے کو سخت سے سخت مصیبت کے وقت بھی ڈھارس بندھی رہتی ہے کہ وہ بڑا سہارا اور مضبوط آسرارکھتا ہے۔ بالغیب یعنی ایمان ایسے عالم پر رکھتے ہیں جو محسوسات اور معقولات سے ماوراء ہے۔ اور جس کی بابت خبریں صرف نبی کے ذریعہ سے معلوم ہوسکتی ہیں۔ غیب لغت میں شہود کی ضد ہے۔ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو نظر سے نظر سے چھپی ہوئی ہو یا مشاہدہ تجربہ سے باہر ہو۔ الغیب کل ما غحاب عنک (لسان) استعمل فی کل غائب عن الحاسۃ (راغب) یہ لغوی تشریح تھی۔ آیت میں الغیب سے مراد ائمہ تفسیر نے وہ عالم لیا ہے، جو حواس وعقل سے ماوراء ہے، اور جس کی بابت جو کچھ بھی علم ہوتا ہے وہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے توسط سے، مثلا احوال حشرونشر، حورو ملائک، جنت و دوزخ وغیرھا۔ اور یہ تفسیر خود جماعت صحابہ ؓ سے مروی ہے۔ اما الغیب فما غاب عن العباد من امر الجنۃ وامر النار ما ذکر اللہ تعالیٰ وتبارک فی القرآن (ابن جریر۔ عن ابن مسعود ون اس من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وھو قول جمھور المفسرین ان الغیب ھو الذی یکون غائبا عن الحاسۃ (کبیر) غیب کی تفسیر منقول اسی قدر ہے۔ لیکن اسے ذرا سی وسعت دینے سے اس کے اندر پیمبر کے سارے علوم داخل ہوجاتے ہیں۔ اور پیمبر جن جن امور سے وحی جلی یا وحی خفی کی روشنی میں لوگوں کو روکتا ہے، ان کی باریک باریک برائیوں کا امت کے نقطہ نظر سے داخل غیب ہونا صاف معلوم ہوجاتا ہے وحی الہی کی خوردبین سود، شراب، زناوغیرہ کی خرابیوں اور مفسدوں کی جس طرح اپنی گرفت میں لے آتی ہے، وہ انسان کے لیے غیب ہی کا حکم رکھتی ہے۔ لیکن جب غیب کی حقیقت یہ معلوم ہوگئی کہ وہ شہود یا علم کے مقابلہ کی چیز ہے تو ظاہر ہے کہ جس طرح ہر شخص کا علم ومشاہدہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اسی نسبت سے ہر ایک کا غیب بھی دوسرے سے جدا گانہ ہوتا ہے۔ طبیب کے لیے مرض ومریض سے متعلق بہت سے امور شہود میں ہوتے ہیں جو دوسروں کے لیے غیب کے حکم میں داخل ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر فن کا ماہر ایسی چیزیں جانتا ہے جو عامی کے لیے غیب یا خفا میں ہوتی ہیں۔ گویا جس شخص کا دائرہ علم جس قدر وسیع ہوگا، اسی نسبت سے اس کا دائرہ غیب چھوٹا ہوگا۔ یہاں تک کہ حق تعالیٰ پر چونکہ ہر چیز روشن وعیاں ہے، اس لیے کوئی شے اس کے لیے غیب میں داخل ہی نہیں۔ اور اس لیے اسے لیے اسے جب عالم الغیب کہا جاتا ہے تو اس کے معنی صرف یہ ہوتے ہیں کہ وہ ان چیزوں کو بھی جانتا ہے، جو سب بندوں کے لیے غیب میں ہوتی ہیں۔ ” غیب “ کی اضافت یہاں صرف بندوں کی جانب ہوتی ہے، ورنہ حق تعالیٰ کے لیے تو جس طرح دور ونزدیک، آسان و دشوار، بڑا اور چھوٹا سب یکساں ہیں، اور ان کے باہمی فرق بےمعنی ہیں، اسی طرح غیب وشہود بھی بالکل ایک ہیں، ویقال للشئی غیب و غائب باعتبارہ بالناس لا باللہ تعالیٰ فانہ لا یغیب عنہ شیء (راغب) یہیں سے یہ بھی ظاہر ہے کہ پیمبر چونکہ تمام دوسرے انسانوں سے دانا ترو عالم ترہوتے ہیں اور ان کا دائرہ ادراک ومعرفت ساری دوسری مخلوق سے وسیع تر ہوتا ہے اس لیے قدرۃ انہیں بیشمار ایسی مخفیات کا علم ہوتا ہے جو غیر انبیاء کے لیے تمام تر مجہول ہوتی ہیں لیکن اس ساری وسعت کے باوجود کہیں نہ کہیں کسی منزل پر پہنچ کر ان کے علم کی بھی انتہا ہوجاتی ہے۔ اور دائرہ غیب ان کا بھی شروع ہوجاتا ہے۔ غیب پر ایمان لانا تو آیت میں متقین کی سب سے پہلی علامت بیان کیا گیا ہے۔ اب اگر خدانخواستہ کسی کا غیب ہے ہی نہیں، تو وہ ایمان کس چیز پر لائے گا ؟ ا نبی اء کرام تو متقی ہی نہیں، متقیوں کے سردار و پیشوا ہوتے ہیں۔ ان کا ایمان بھی اگر مغیبات ومخفیات پر نہ ہوگا تو اور کس کا ہوگا ؟ ہاں البتہ ان کا غیب، انہیں کے ظرف و مرتبہ و بساط کے موافق ہوتا ہے۔ ہمہ شماکا سا غیب ان کا نہیں۔ دین کا مغز کہیے یا ایمان کی روح یہی عالم غیب کا عقیدہ ہے۔ یعنی یہ اعتقاد کہ اس عالم مادی سے ماوراء اس کائنات حسی سے اوپر، کچھ اور، ایک عالم ہے ضرور۔ اور جو اس عالم کے وجود کا قائل نہیں وہ سرے سے مذہب ہی کا قائل نہیں۔ اور سب سے بڑا غیب تو خود وجود باری ہے سب سے بڑھ کر روشن وعیاں، مگر سب سے زیادہ مخفی ونہاں۔ بڑے سے بڑے عالم وعارف کے لیے بھی اس کے مرتبہ علم ومعرفت کے بعد پھر غیب کے حدود شروع ہوتے ہیں۔ 9 (وقت کے، خشوع کے، تعدیل ارکان کے، غرض جملہ لوازم باطنی و شرائط ظاہری کے ساتھ) صلوۃ کے لفظی معنی دعا کے ہیں۔ اصطلاح شریعت میں ایک مخصوص ہیئت کی معروف عبادت کا نام ہے۔ اور یہ نام بھی اسی سے پڑا کہ دعا ہی اس عبادت کا جزواعظم ہے۔ الصلوۃ التیھی العبادۃ المخصوصۃ اصلھا الدعاء (راغب) محققین نے کہا ہے کہ نماز تو یکسر دعا ہے۔ دعازبان سے بھی، اعضائے ظاہری سے بھی۔ یعنی دعاء قولی، دعاء قلبی، دعاء فعلی کا مجموعہ۔ اقامت صلوۃ اور محض ادائے صلوۃ میں فرق ہے۔ اقامت صلوۃ کی تعبیریں مداومت سے، تعدیل ارکان سے، اور مختلف طریقوں سے کی گئی ہیں (ابن جریر۔ کبیر وغیرہ) سب سے زیادہ جامع تشریع یقیمون الصلوۃ کی صاحب جلالین نے اپنے دو مختصر لفظوں میں کردی اے یاتون بھا بحقوقھا۔ ان دیکھے خدا کے آگے جھکنے، سرعبودیت خم کرنے، اس سے گہرا ربط وتعلق پیدا کرنے، اور خود افراد امت میں باہم نظم پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔ اور بدنی عبادتوں میں یہی فریضہ سب سے اعلی اور ایمان، توحید کا سب سے بڑا عملی مظہر ہے۔ فرد کے لیے اسلامی نماز باجماعت کے جو اخلاقی، طبعی، مادی فائدے ہیں، نیز ملت کے لیے جو معاشری اجتماعی مصلحتیں ہیں ان کی جھلک کہیں دور سے دیکھکر، یہود، مسیحی اور منکرین تک اس کے دلدادہ ہوگئے ہیں۔ اور ان کے اہل علم اپنی تحریروں میں بار بار اس داد ومدح کے لہجہ میں کرچکے ہیں، ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ متقین کی پہلی علامت یہ ارشاد ہوئی ہے کہ وہ عقیدۂ غیب کے قائل ہیں۔ دوسری علامت یہ بیان ہورہی ہے کہ عملی زندگی میں وہ نماز کے پابند ہیں۔ 10 (مناسب وضروری موقعوں پر، جائز اور مفید کاموں میں) رزق کا لفظ کلام عرب میں بڑے وسیع معنی رکھتا ہے۔ اس کے اندر ہر قسم کی نعمتیں آجاتی ہیں، خواہ ظاہری ومادی ہوں، مثلا مال وصحت، اولاد۔ یا معنوی وروحانی ہوں۔ مثلاعلم و حکمت، جاتی ہیں، خواہ ظاہری ومادی ہوں، مثلا مال وصحت، اولاد، یا معنوی وروحانی ہوں، مثلاعلم و حکمت، جاتی ہیں، خواہ ظاہری ومادی ہوں، مثلا مال وصحت، اولاد۔ یا معنوی وروحانی ہوں۔ مثلاعلم و حکمت، فہم سلیم وغیرہ۔ یقال للعطاء الجاری تارۃ دنیویا کان ام اخرویا وللنصیب تارۃ (راغب) الرزق فی کلام العرب ھو الحظ (کبیر) اسم لکل ماینتفع بہ (معالم) رزقنہم میں ہر رزق کو اپنی جانب منسوب کرکے بتا دیا کہ جو نعمت، جتنی اور جس قسم کی بھی انسان کو ملتی ہے، سب اللہ ہی کے فیض وعطا کا ثمرہ ہوتی ہے۔ انسان کی اپنی کوئی چیز بھی نہیں ہوتی۔ ینفقون۔ متقین کی تیسری صفت یہ ارشاد ہوئی کہ اللہ کے ہاں سے انہیں جو بھی ظاہری ومعنوی نعمتیں عطاہوئی ہیں، انہیں وہ اللہ ہی کے دین پر، حق کی راہ میں صرف کرتے ہیں۔ اللہ کی مخالفت، عدوان وعصیان میں صرف نہیں کرتے۔ مرشد تھانوی مدظلہ نے فرمایا کہ اس عموم میں یہ بھی داخل ہے کہ ہم نے انہیں جو انوار معرفت عطا کیے ہیں ان کا وہ طالبین پر افاضہ کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 2:4

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 2:4 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اس پر جو آپ پر اتارا گیا ہے1 1 ۔ اور (اس پر) جو آپ سے قبل اتارا گیا ہے12 ۔ اور آخرت پر بھی (وہ) پورا یقین رکھتے ہیں13 ۔

1 1 (اے ہمارے رسول) یعنی ان متقین کا چوتھا وصف یہ ہے کہ وہ ایمان رکھتے ہیں رسول کے لائے ہوئے ہر پیغام پر، خواہ قرآن ہو یا اس کے علاوہ۔ آیت کی عبارت سے یہ مسئلہ صاف ہوجاتا ہے کہ تین چیزیں الگ الگ ہیں۔ ( 1) ایک کلام کا نازل کرنے والا۔ یعنی اللہ تعالیٰ ۔ (2) دوسرے وہ شخص جس پر کلام نازل ہوا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا رسول برحق۔ (3) تیسرے، خود کلام۔ بروز تمثل، حلول اور وحدت والوجود (اپنے عوامی مفہوم میں) ان سب مشرکانہ ونیم مشرکانہ عقائد کی جڑ اس آیت سے کٹ جاتی ہے۔ نہ کلام متمثل ہوا ہے، اور نہ رسول (نعوذ باللہ) اللہ کے اوتار، انسانی قالب میں خدا ہیں۔ بلکہ ایک مستقل انسانی شخصیت رکھتے ہیں۔ 12 (دوسرے پیغمبروں پر خواہ وہ کسی ملک، کسی قوم، کسی زمانہ کے ہوں) قرآن مجید نے اس امر کو صاف کردیا ہے کہ سلسلہ ارشاد وہدایت کوئی نوپیدا چیز نہیں بلکہ اس وقت سے قائم ہے جب سے انسان دنیا میں آئے۔ سلسلہ وحی کی عمر اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ انسانیت کی۔ اور مومن کے لیے تصدیق صرف ختم المرسلین کی کافی نہیں، بلکہ سارے انبیاء ورسل کی کرنا ضروری ہے، خواہ وہ درجہ اجمال ہی میں ہو۔ انہیں متقین کا یہ پانچواں وصف ارشاد ہوا، کہ وہ بخلاف یہود ونصاری کے دوسرے انبیاء کی تعلیمات پر بھی اعتقاد رکھتے ہیں۔ مرشد تھانوی مدظلہ نے فرمایا کہ طالب کو اعتقاد تو تمم شیوخ اہل حق کے ایسا ہی رکھنا چاہیے جیسا اپنے شیخ کے ساتھ۔ لیکن اتباع صرف اپنے شیخ کا کرنا چاہیے۔ جیسا بعینہ یہی حکم انبیاء (علیہ السلام) کے باب میں ہے۔ 13 یہ چھٹا اور آخری وصف ان متقین اہل ضمیر کا بیان ہوا، جو قرآن سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ الاخرۃ سے مراد ہے دارالآخرت یا عالم آخرت۔ یعنی وہ عالم جو موجودہ سلسلہ زندگی کے بعد شروع ہوگا۔ اسے آخرۃ کہا ہی اسی لحاظ سے جاتا ہے کہ وہ اس ناسوتی زندگی کے خاتمہ کے بعد پیش آئے گا۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر کہیں دارالآخرہ سے آیا ہے اور کہیں صرف آخرۃ سے۔ ویعتبر بالدار الاخرۃ عن النشأۃ الثانیۃ وربما ترک ذکر الدار (راغب) انما وصفت بذلک لمصیرھا اخرۃ لاولی کانت قلبھا (ابن جریر) جزاوسزا کے لیے ایک مستقل آئندہ عالم پر یقین رکھنا دین صحیح کے لوازم میں سے ہے۔ یہیں سے تردید ہوگئی ان باطل مذہبوں کی جو کہنے کو تو مذہب ہیں، لیکن یا تو سرے سے جزاء اعمال ہی کے قائل نہیں، یا قائل تو ہیں لیکن اس جزا کا محل ومکان اسی عالم ناسوت کو سمجھتے ہیں۔ خواہ ایک ہی قالب میں یا کئی کئی قالبوں میں۔ بعض جدید اہل باطل نے الاخرۃ کا ترجمہ کیا ہے ” زمانہ آخر کی وجہ “۔ تاکہ اس سے ان کی خود ساختہ نبوت کا اجرا قرآن سے ثابت ہو۔ لیکن یہ نہ ترجمہ ہے نہ تفسیر۔ یہ صرف تمسخر وتلعب ہے، قرآن مجید اور لغت عربی دونوں کے ساتھ۔ یوقنون۔ ایقان یا یقین کے معنی یہ نہیں کہ محض عقل کسی عقیدہ کو استدلال مان لے۔ یا منطق بادل ناخواستہ سکوت پر مجبور ہوجائے۔ یا دماغ اس کے مان لینے کا محض سرسری، رسمی طور پر لفظی اقرار کرلے۔ جیسا کہ اکثر فلسفیانہ نظریوں کے ساتھ معاملہ رہتا ہے۔ بلکہ یقین یہ ہے کہ اس مسئلہ پر دل وجان سے اعتقاد جم جائے، اور عقل، جذبات، ارادہ سب پر وہی چھا جائے، یقین کی راہ شک، گمان، خیال سب سے الگ ہے۔ الیقین ازاحۃ الشک (تاج) الیقین من صفۃ العلم فوق المعرفۃ والدرایۃ واخواتھا (راغب) الایقان اتقان العلم بانتفاء الشک والشبھۃ عنہ (کشاف) الیقین العلم دون الشک (قرطبی) وبالاخرۃ ھم یوقنون۔ یقین کا مرتبہ یوں بھی محض علم سے قوی تر تھا، پھر فقرہ کی ترکیب یعنی فعل یوقنون کے تأخر اور بالاخرۃ کے تقدم اور ھم کے اضافہ نے قوت کئی درجہ اور بڑھا دی مطلب یہ ہوا کہ مومنین متقین کے نزدیک آخرت اس درجہ اہم ہے کہ گویا وہ بس اسی پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی عقیدہ ان کی زندگی میں رچا بسا رہتا ہے۔
Ayah 2:5

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:5 in the Quran reader

: یہی لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں14 ۔ اور یہی (پورے) بامراد ہیں15 ۔

4 1 سورة فاتحہ میں دعا بندوں کی زبان سے طلب ہدایت کی تھی، اھدنا الصراط المستقیم دعا معا قبول ہوئی کتاب ہدایت نازل ہوگئی۔ ھدی للمتقین، اب ارشاد ہوا کہ فلاں فلاں علامتیں جن میں موجود ہوں، وہی ہدایت یاب لوگ ہیں (آیت) ” اولئک علی ھدی من ربھم “۔ (آیت) ” اولئک۔ ان ہدایت یاب لوگوں کے خصوصیات ذیل قرآن مجید ہی سے معلوم چکے ہیں۔ ( 1) ان کا ضمیر زندہ ہوتا ہے۔ ان کے دلوں میں خوف خدا کی جگہ ہوتی ہے۔ (آیت) ” المتقین “ (2) ان کا اعتقاد اس مادی دنیا سے پرے ایک عالم غیب پر ہوتا ہے (آیت) ” یؤمنون بالغیب “ (3) ان کے تعلق مع اللہ کا عملا اظہاریوں ہوتا ہے کہ یہ نماز پڑھتے رہتے ہیں، اور نماز کا حق ادا کرتے رہتے ہیں (آیت) ” یقیمون الصلوۃ “ (4) اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو یہ اللہ کی مخلوق پر صرف کرتے رہتے ہیں (آیت) ” مما رزقنھم ینفقون “ (5) یہ رسول اللہ ﷺ کے رسول برحق اور بہترین معلم وہادی ہونے اور قرآن کے کلام الہی ہونے کا یقین رکھتے ہیں۔ (آیت) ” یؤمنون بما انزل الیک “ (6) پورے سلسلہ وحی ونظام نبوت کی تصدیق کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” وما انزل من قبلک “ (7) ان کا کامل اعتقاد یوم آخرت یا روز جزا پر رہتا ہے۔ (آیت) ” وبالاخرۃ ھم یوقنون “۔ 15 (دنیا اور آخرت دونوں میں) دنیا کی فلاح تو یہ کہ انہیں راہ ہدایت نصیب ہوگئی، اور انفرادی واجتماعی، شخصی وقومی ہر حیثیت سے جامع ترین وبہترین دستور حیات منازل زندگی کے طے کرنے کا ہاتھ آگیا۔ اور آخرت کی فلاح یہ کہ وہاں پورا پورا صلہ مل کر رہے گا۔ اے الذین ادرکوا ووجدوا ما طلبوا ونجوا من شرما منہ ھربوا (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ فلاح عربی میں بڑے ہی وسیع معنی میں آتا ہے۔ دنیا وآخرت کی ساری خوبیوں کا جامع ہے۔ اس لیے (آیت) المفلحون “ کا پورا ترجمہ ” کامیاب “ ” بامراد “ وغیرہ کسی اردو لفظ سے ہونا دشوار ہی ہے۔ امام لغت زبیدی کا قول ہے کہ ائمہ لسان کا اس پر اتفاق ہے کہ کلام عرب میں جامعیت خیر کے لیے فلاح سے بڑھ کر کوئی لفظ موجود نہیں۔ لیس فی کلام العرب کلہ اجمع من لفظۃ الفلاح لخیری الدنیا والاخرۃ کما قال ائمۃ اللسان (تاج) (آیت) ” اولئک ھم المفلحون “ کی ترکیب نے معنی میں حصر وتاکید پیدا کردی۔ اور ھم بطور کلمہ فصل کے تاکید نسبت و تخصیص کے لیے ہے۔ وھم فصل یفصل الخبر عن الصفۃ ویؤکد النسبۃ ویفید اختصاص المسند بالمسندالیہ (بیضاوی) وادخال ھو فی مثل ھذا الترکیب احسن لانہ محل تاکید ورفع توھم (بحر) مفسر تھانوی مدظلہ نے یہ بات خوب لکھی ہے کہ حصر کا تعلق فلاح کا مل سے ہے نہ کہ فلاح مطلق سے، اور (آیت) ” المفلحون “ سے مراد الکاملون فی الفلاح ہے۔ اور معتزلہ وخوراج جنہوں نے آیت سے یہ نکالنا چاہا ہے کہ کبائر کا مرتکب فلاح مطلق یعنی نجات سے محروم رہے گا، انہوں نے فلاح مطلق (نجات کاملہ) کے اور مطلق فلاح کے درمیان خلط کردیا ہے۔ المرادبہ الفلاح الکامل المستفاد من الاطلاق فالحصر للفلاح المطلق لا مطلق الفلاح (تھانوی) ۔
Ayah 2:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:6 in the Quran reader

ترجمہ بیشک جو لوگ کفر (اختیار) کئے ہوئے ہیں16 ۔ ان کے حق میں یکساں ہے، خواہ آپ انہیں ڈرائیں، یا آپ انہیں نہ ڈرائیں17 ۔ وہ ایمان نہ لائیں گے18 ۔

16 (اور قیام دلائل کے باوجود اس پر اڑے ہوئے ہیں) اے اثبتوا علی الکفر (ابن عباس ؓ ایسے لوگ ظاہر ہے کہ علم الہی میں کفر ہی پر مرنے والے ہیں۔ جو لوگ دلائل حق میں غور نہیں کرتے اور باطل پر جمے رہتے ہیں، ان کی استعداد قبول حق کے باب میں روز بروز کمزور ہوتی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ بالکل مردہ ہوجاتی ہے۔ آیت میں خصوصی اشارہ یہود مدینہ کی جانب ہے۔ ان کا کفر کفر جحود کی قسم کا تھا۔ یعنی یہ نبی ﷺ آخرالزمان کی بابت پیشگوئیوں اور ان کی علامتوں سے اچھی طرح واقف تھے۔ اور پھر دانستہ اغماض واخفا کرتے رہتے تھے کہ اپنی دینی ریاست اور دنیوی سیادت میں فرق نہ پڑنے پائے۔ واما معنی الکفر فانہ الجحود ذلک ان الاحبار من یھود المدینۃ جحدوا نبوۃ محمد ﷺ و ستروہ عن الناس وکتموا امرہ (ابن جریر) ۔ 17 (لیکن آپ کی دعوت وتبلیغ برابر جاری رہے۔ آپ کا اجر اس سے ثابت ہوتا رہے گا) آج معمولی مبلغ بھی اپنی دھن کے پکے ہوتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ تو دنیا کے لیے ” مبلغ اعظم “ تھے۔ دین الہی کی اشاعت کے لیے آپ ﷺ کی تڑپ کا کیا کہنا۔ آپ ﷺ کو حرص اگر تھی تو اسی کی کہ کافر سب کے سب دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں۔ یہاں یہ حقیقت آپ کو بتلائی گئی ہے کہ آپ کچھ کر ڈالیے ان کے حق میں سب یکساں ہے۔ یہ بدبخت اپنی صلاحیت حق شناسی کو ضائع کرچکے ہیں۔ لیکن آپ کا اجر تبلیغ بہرحال ثابت ہے۔ فلا تذھب نفسک علیھم حسرت فمن استجاب لک فلہ الحظ الاوفر ومن تولی فلا تحزن علیہم (ابن کثیر) ظاہر ہے کہ یہ صرف ایک خبر ہے جو خبیر مطلق اپنے بندہ کو دے رہا ہے۔ ایک اطلاع ہے جو علیم کل اپنے رسول کو پہنچا رہا ہے۔ مرضی الہی سے اسے شائبہ تعلق بھی نہیں۔ ” علم “ و ” مرضی “ کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ عوام کے ذہن ان دو بالکل مختلف قانونوں کے درمیان خلط مبحث کرکے اپنے کو عجیب الجھنوں میں ڈال لیتے ہیں۔ طبیب حاذق اپنے علم کی رو سے مدتوں پیشتر خبر دے دیتا ہے کہ فلاں بد پرہیز، خود رائے مریض اچھا نہ ہوگا۔ کیا اس پیش گوئی اس اخبار غیب میں اس شفیق طبیب کی خواہش ومرضی کو بھی کچھ دخل ہوتا ہے ؟ بقول مفسر تھانوی مدظلہ اس کافر کا ناقابل ایمان ہونا اللہ کے اس خبر دینے کی وجہ سے نہیں ہوا، بلکہ خود اللہ تعالیٰ کا یہ خبر دینا اس کافر کے ناقابل ایمان ہونے کی وجہ سے واقع ہوا ہے۔ اور ناقابل ایمان ہونے کی صفت خود اس کی شرارت وعناد ومخالفت حق کے سبب سے پیدا ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص میں اس کی پیدائش کے ساتھ استعداد قبول حق کی رکھی ہے، جیسا کہ حدیث میں آگیا ہے۔ مگر یہ شخص خود اپنی ہوائے نفسانی اور خود غرضی کی وجہ سے حق کی مخالفت کرتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک روز وہ استعداد فنا ہوجاتی ہے۔ 18 (اس لیے کہ وہ ایمان لانے کا قصد ہی نہیں کرتے، اور نہ خلوئے ذہن کے ساتھ تعلیمات اسلامی پر غور کرتے ہیں) اے لایریدون ان یؤمنوا (ابن عباس ؓ اس سے پہلے فقرہ کی مزید تاکید اور توثیق ہوگئی۔ اور اہل عناد کے حق میں ان کی بےالتفاتی اور عدم احساس کی بنا پر اندار اور عدم اندار کا یکسان ہونا اور روشن ہوگیا۔ اکثر ائمہ تفسیر نے آیت کی ترکیب نحوی یوں ہی سمجھی ہے اور (آیت) ” لایؤمنون “ کو جملہ مؤکدہ ومفسرہ فقرۂ ماقبل کا سمجھا ہے۔ جملۃ مؤکدۃ للتی فبلھا (ابن کثیر) جملۃ مفسرۃ لاجمال ما قبلھا اوحال مؤکدۃ (بیضاوی) لیکن ایک دوسری ترکیب بھی انہیں بزرگوں سے یہ منقول ہے، کہ (آیت) ” لا یؤمنون “ خبر ہے (آیت) ” ان الذین کفروا “ کی اور پورا فقرہ (آیت) ” سوآء علیہمء انذرتھم ام لم تنذرھم “ درمیان میں بطور جملہ معترضہ کے آگیا ہے۔ خبر لان والجملۃ قبلھا الاعتراض (کشاف) خبران والجملۃ قبلھا الاعتراض (بیضاوی) خبر لان والجملۃ قبلھا الا عتراض (مدارک) ویحتمل ان یکون لا یؤمنون خبرا (ابن کثیر) اصل مقصود دونوں ترکیبوں کی صورت میں ایک ہی رہتا ہے۔
Ayah 2:7

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 2:7 in the Quran reader

مہر لگا دی ہے اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کی شنوائی پر19 ۔ اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے20 ۔ اور ان کے لئے بڑا (ہی) عذاب ہے21 ۔

19 قلب۔ دل سے مراد سینہ کے اندر کا وہ مضغہ گوشت نہیں جو طبعی اصطلاح میں دل کہلاتا ہے۔ بلکہ وہ دل مراد ہے جو محاورۂ زبان میں احساس، عقل، ارادہ سب کا مرکز ہے۔ انسانی بول چال میں دل اسی کو کہا جاتا ہے اور افعال ارادی کا صدور اسی سے ہوتا ہے۔ توریت، انجیل اور دوسرے صحیفے سب میں یہی محاورہ استعمال کیا گیا ہے۔ (آیت) ” ختم اللہ “۔ اللہ کی طرف سے مہر لگ جانے کا یہ فعل بندہ کے کفر اختیاری کے بعد ہوتا ہے نہ کہ اس کے قبل۔ اس کا نتیجہ ہوتا ہے نہ کہ اس کا سبب۔ فطرت سلیم ہر انسان کو عطا ہوئی ہے، اور اس میں دلائل حق پر غوروفکر کی استعداد بھی شامل ہے۔ لیکن انسان جب اپنے ارادہ وعقل کا غلط استعمال کرنے لگتا ہے، اور آسمانی ہدایتوں اور خداوندی نشانیوں سے مسلسل منہ موڑے ہوئے قانون شیطانی پر چلنے کی ٹھان لیتا ہے تو سلسلہ غضبی کے تحت میں آجاتا ہے۔ انبیاء (علیہ السلام) کے سلسلہ رحمت سے خارج ہوجاتا ہے۔ اور نصرت الہی اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ اب ہر روشنی اسے تاریک اور ہر تاریکی اسے روشن نظر آنے لگتی ہے۔ اس نے اپنے لیے جو کچھ اختیار کیا، وہی اللہ تعالیٰ اسے بحیثیت علت العلل ومسبب الاسباب اپنے قانون تکوینی (نہ کہ قانون رضا) کے ماتحت دینے لگتا ہے۔ اور یہی معنی ہیں انسان کے عقل و حواس پر مہرلگ جانے کے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ یہ مہر خداوندی کوئی مادی چیز نہیں۔ 20 (چنانچہ کھلے ہوئے دلائل حق اور روشن آیات الہی بھی انہیں نظر نہیں آتے) یہ سب ثمرہ ہے ان کافروں کے ارادی اعراض عن الحق اور دانستہ کج روی کا۔ حق تعالیٰ کی جانب ان افعال کی انتساب جو کچھ ہے وہ محض تکوینی حیثیت سے ہے، یعنی بطور علت العلل ومسبب الاسباب کے۔ ارادۂ حق جس طرح بندہ کے زہر کھا لینے پر موت کا ثمرہ طبعی مرتب کردیتا ہے، اسی طرح بندہ کی ارادی کج روی پر موت روحانی کا ثمرہ بھی مرتب کردیتا ہے۔ مرضی حق کا تعلق نہ اول الذکر سے ہے نہ آخر الذکر سے ! اس طرز بیان کی، اور فہم، سماعت و بصارت کی قوتوں سے سزا کے طور پر محرومی کی مثالیں قدیم صحیفوں میں بھی کثرت سے ملتی ہیں :۔ ” خدا نے تم کو وہ دل جو سمجھے اور وہ آنکھیں جو دیکھیں اور وہ آنکھیں جو دیکھیں اور وہ کان جو سنیں آج تک نہیں دیئے “ (استثناء 29:4) ” تم سنا کرو پر سمجھو نہیں۔ تم دیکھا کرو پر پوچھو نہیں، تو ان لوگوں کے دلوں کو چربادے اور ان کے کانوں کو بھاری کر “ (اسعیاہ 6:9249 10) ” وہ نہیں جانتے اور نہیں سمجھتے کہ آنکھیں لیپی گئیں سو وہ دیکھتے نہیں اور ان کے دل بھی سو وہ سمجھتے نہیں “ (اسعیاہ 24: 18) ” تمہاری آنکھیں جو کہ بنی ہیں موندی ہیں اور تمہاری سروں پر جو کہ غیب میں ہیں حجاب ڈالا ہے “ (اسعیاہ 29: 10) ” میں نے انہیں ان کے دلوں کی سرکشی کے بس میں چھوڑ دیا “ (زبور 1: 1 1249 12) انجیل میں اس قسم کی مثالوں کے لیے ملاحظہ ہو رومیون 1 1:72498 اور 2 تھسلنیکیوں 2: 1 1 ۔ 21 (آخرت میں) اسلام مسلسل حیات کا قائل ہے۔ یہ ناسوتی، مادی زندگی صرف ایک حصہ ہے کل زندگی کا۔ باقی اس کا پورا ظہور وبروز حیات اخروی ہی میں ہوگا۔ اخروی زندگی لازمی تتمہ ونتیجہ ہے اس دنیوی زندگی کا۔ اور یہاں کی مسلسل قانون شکنی ونافرمانی وہاں عذاب الیم کی شکل میں ظاہر ہوگی۔ گویا جو تخم آج ڈالے گئے ہیں، کل وہی تناور درختوں کی صورت میں نمودار ہوں گے۔ عذاب کے شدید وعظیم ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں۔ اور قرآن مجید میں اسے مختلف پیرایوں میں سمجھایا اور بتایا گیا ہے۔ پھر بھی اس کی تفصیلی کیفیت اور نوعیت ادراک بشری سے بالاتر اور مافوق ہے۔ اور بعض نے (آیت) ” کے کلمہ نکرہ ہونے سے بھی یہی استنباط کیا ہے کہ وہ کسی خاص وغیرمتعارف ہی نوعیت کا ہوگا۔ من الالام العظام نوع عظیم لا یعلم کنھہ الا اللہ (مدارک۔ بیضاوی) والتنکیرفیہ للنوعیۃ اے لھم فی الاخرۃ نوع من العذاب غیرمتعارف فی عذاب الدنیا (روح)
Ayah 2:8

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ Open ayah 2:8 in the Quran reader

اور کچھ لوگ ایسے (بھی) ہیں جو کہتے ہیں22 ۔ کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ اور روز آخرت پر حالانکہ وہ (بالکل ہی) ایمان والے نہیں23

22 (فحض زبان سے، شرکت قلب کے بغیر) من۔ واحد تثنیہ، جمع تینوں موقعوں پر یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ حالت افراد میں لحاظ اس کی لفظی حیثیت کا کیا جاتا ہے، اور جمع میں نظر اس کے معنی ومفہوم پر رکھی جاتی ہے۔ اب تک قرآن مجید نے ذکر وقسم کے انسانوں کا کیا ہے۔ ایک مومن، فرمانبردار، قانون الہی کے مطیع۔ دوسرے کافر، نافرمان، قانون الہی کے منکر وباغی۔ اب ذکر ایک تیسری صنف کا شروع ہورہا ہے۔ ہوتے یہ بھی کافر ومنکر ہی ہیں، لیکن اپنے کفر و انکار پر پردہ مکروفریب کا ڈالے رکھتے ہیں۔ یعنی زبان پر دعوی اسلام رکھتے ہیں لیکن دل میں کفر خالص۔ زبان سے اقرار ایسا کہ جس میں قلب کی تصدیق کسی درجہ میں بھی شامل نہیں، ان ننگ انسانیت انسانوں کو شریعت کی اصطلاح میں منافق کہتے ہیں، نفاق کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اعلان، و اظہار بھلائی کا کرتا پھرے، اور شرکو اندر ہی اندر چھپائے رکھے۔ النفاق ھو اظھار الخیر و اسرار الشر (ابن کثیر) پھر نفاق کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک نفاق حقیقی یا اعتقادی۔ جس میں ایمان سرے سے ہوتا ہی نہیں۔ اور اس کی سزا ابدی خلود جہنم ہے۔ دوسرا نفاق عملی یا مجازی۔ اس میں ایمان کا استحضار نہیں رہتا، اور انسان گناہ پر بےدریغ جری ہوجاتا ہے۔ ھو انواع اعتقادی وھو الذی یخلد صاحبہ فی النار وعملی ھو من اکبر الذنوب (ابن کثیر) سورة بقر مدنی ہے۔ اور مدینہ میں منافقین کثرت سے تھے۔ اسلام سے عداوت میں اور رسول اسلام سے عناد میں، یہ لوگ کھلے ہوئے کافروں سے کچھ کم نہ تھے۔ شاید کچھ بڑھے ہی ہوئے ہوں، نفاق یعنی جھوٹا اظہار اسلام مکہ میں نہ تھا۔ بلکہ مکہ میں تو اس کے برعکس صورت حال یہ تھی کہ لوگ مومن ہو کر بھی اپنے ایمان کو چھپائے رکھتے، اور بظاہر کافروں ہی میں شامل رہتے۔ نفاق کی بنیاد مدنیہ میں پڑی، وہ بھی غزوۂ بدر کے بعد، جب اسلام کو روز بروز دنیوی عظمت و شوکت حاصل ہونی شروع ہوگئی، اس وقت بعض لوگوں نے اپنے کو محض تقیہ شائبہ، ایمان وصداقت مومن ومسلم کہنا شروع کردیا۔ اس پارٹی کا سرغنہ یا سرخیل بنوخزرج کا سردار عبداللہ بن ابی سلول تھا۔ اس کا اثرواقتدار حریف قبیلہ بنواوس پر بھی تھا۔ یہ اپنے وقت کا کامیاب ترین لیڈر تھا۔ یہاں تک کہ ساری آبادی اس کی سرداری پر متفق ہوچکی تھی۔ اور قریب تھا کہ اس کی بادشاہی کا اعلان ہوجائے، کہ یک بیک اسلام کے قدم مدینہ میں جم گئے۔ اس نے اپنی دکان اجڑتے دیکھی تو اپنے پیرو وں کے کان میں یہ افسوس پھونک دیا کہ زبان سے کلمہ اسلام کا پڑھتے جاؤ لیکن دل میں اپنے ہی عقائد پر جمے رہو۔ اوس خزرج کے علاوہ یہود کی بھی ایک غدار وضمیر فروش جماعت نے خوشی سے اس تحریک پر لبیک کہا۔ البتہ مکہ کا کوئی مہاجر اس میں شریک نہیں ہوا۔ ابن کثیر نے تفصیل سے لکھا ہے اور یہاں بھی زیادہ تر اس کی تلخیص ہے۔ 23 یعنی ان کے دل میں ایمان کا گزر ذرہ برابر بھی نہیں، ایمان انہیں چھو بھی نہیں گیا۔ یقولون ذلک قولا لیس وراء ہ شیء اخر (ابن کثیر) انہم لیسوا من الایمان فی شیء (بیضاوی) (آیت) ” ب مومنین۔ حرف باء تاکید کے لیے ہے۔ اکدالنفی بالبآء (بیضاوی) ظاہر سیاق کا تقاضا تھا کہ فعل ماقبل (آیت) ’ ’ قالوا امنا “ کی تردید وتغلیط میں (آیت) ” ماامنوا “ یا اسی قسم کا کوئی اور فعل ماضی میں لایا جاتا۔ لیکن یہاں تاکید اور زور کے لیے بجائے فعل کے اسم فاعل لایا گیا، کہ ان لوگوں سے نفی ایمان کی، ماضی، حال، مستقل ہر زمانہ سے متعلق نکل آئے۔ وفیہ من التوکید والمبالغۃ مالیس فی غیرہ (کشاف) تاکیدا او مبالغۃ فی التکذیب لان اخراج ذواتھم من عداد المومنین ابلغ من نفی الایمان عنہم فی ماضی الزمان (بیضاوی) کان ذلک مبالغۃ فی تکذیبھم (کبیر)
Ayah 2:9

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ Open ayah 2:9 in the Quran reader

دھوکا دینا چاہتے ہیں اللہ کو اور ایمان والوں کو24 ۔ حالانکہ (فی الواقع) دھوکا کسی کو بھی نہیں دیتے بجز اپنی ذات کے25 ۔ اور اس کا بھی احساس نہیں رکھتے26 ۔

24 یعنی محض مسلمانوں سے نفع حاصل کرنے کے لیے ان کی گرفت سے اپنے کو بچانے کے لیے اپنے تئیں مسلمان کہہ رہے ہیں۔ اور جرم کفر پر اضافہ جرم خدع کا کررہے ہیں۔ (آیت) ” یخدعون “ باب مفاعلہ سے ہے اور اس کا خاصہ طرفین سے مشارکت ہے، لیکن یہاں (آیت) ” یخدعون “ کے معنی میں ہے۔ اور باب مفاعلہ محض زور اور تاکید کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔ المفاعلۃ لا فادۃ المبالغۃ فی الکیفیۃ (ابو سعود) اخرج فی زنۃ فاعلت للمبالغۃ (بیضاوی) (آیت) ” یخدعون اللہ۔ حق کی مخالفت اور تکذیب کرتے کرتے جسارت اتنی بڑھ گئی تھی کہ اپنے خیال وپندار میں خدا کو بھی دھوکا دے چلے تھے۔ اجترء وا علی اللہ حتی ظنوا انہم یخدعون اللہ (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اللہ کو دھوکہ دے رہے ہیں اپنے خیال کے مطابق۔ معناہ یخادعون اللہ فی زعمھم (مدارک) اسی مفہوم کے پیش نظر ترجمہ کیا گیا ہے کہ ” اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں “ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اس دھوکا دینے کی کوشش کو قرآن مجید نے عین اللہ تعالیٰ کو دھوکا دینے سے تعبیر کیا ہو۔ اس کی اور بھی نظیریں قرآن مجید میں ملتی ہیں۔ ذکر نفسہ وارادبہ رسولہ علی عادتہ فی تفخیم امرہ (کبیر) اے رسول اللہ (مدارک) مرشد تھانوی مدظلہ نے فرمایا کہ اہل اللہ کے ساتھ کوئی معاملہ کرنا مثلا عداوت یا فریب کا ایسا ہی ہے جیسے حق تعالیٰ کے ساتھ کرنا۔ 25 یعنی ان کے اس نفاق سے نقصان کسی اور کا نہیں خود انہیں کا ہوتا ہے اور ہوگا۔ آخرت میں عذاب اور دنیا میں رسوائی، فضیحت اور منافقت کی پردہ دری۔ ضررھا یلحقھم ومکرھا یحیق بھم (کشاف) یفتضحون فی الدنیا ویستوجبون العقاب فی العقبی (معالم) 26 (کہ اس منافقت کا وبال خود انہیں پر ہو کر رہے گا) لا یعلمون ان وبال خدا عھم یعود علیھم (معالم) (آیت) ” یشعرون۔ بجائے (آیت) ” یعلمون “ کے یہاں (آیت) ” یشعرون وارد ہوا ہے۔ شعور عربی میں علم حسی کو کہتے ہیں۔ اور اسی کا نام اردو میں احساس ہے۔ اور مشاعر انسان کے آلات حواس کو کہتے ہیں۔ المشاعر الحواس (راغب) الشعور علم الشیء علم حسن من الشعار ومشاعر الانسان حواسہ (کشاف) اس لفظ کے لانے میں نکتہ بلاغت یہ ہے کہ منافقوں کو اس مکرو فریب سے جو نقصان پہنچ رہا ہے اور پہنچے گا وہ بالکل ماذی ہونے کی طرح صاف اور صریح ہے۔ لیکن یہ احمق فرط غفلت سے اس کا بھی احساس نہیں رکھتے۔ والمعنی ان لحوق ضرر ذلک بھم کالمحسوس وھم لنمادی غفلتھم کالذی لا حس لہ (کشاف) اے لا تدرکونہ بالحواس (راغب)
Ayah 2:10

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 2:10 in the Quran reader

ان کے دلوں میں بیماری ہے27 ۔ سو اللہ نے بڑھا دی ان کی بیماری28 ۔ اور ان کے لیے عذاب درد ناک (ہونا) ہے۔ : اس لئے کہ وہ جھوٹ کہتے تھے29

27 (کفر کی اور نفاق کی اور شک کی، جو انہوں نے اپنے ہاتھوں پیدا کر رکھی ہے) شک ونفاق و خلاف وظلمۃ (ابن عباس ؓ دوسرا پہلوان کم اعتقادوں کے مرض کا یہ تھا کہ جوں جوں مسلمانوں کو ترقیاں اور کامیابیاں حاصل ہوتی جاتی تھیں، ان کے رشک وحسد میں بھی ترقی ہوتی جاتی تھی، چناچہ ہمارے ائمہ تفسیر کی نظر سے یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں ہونے پایا ہے والمعنی ان المنافقین مرضت قلوبھم لھا۔ اواثبات امرالنبی ﷺ واستعلاء شانہ یوما فیوما (کبیر) والمرادبہ ھنا ما فی قلوبھم۔۔ من الغل والحسد والبغضاء لان صدورھم کانت تقلی رسول اللہ ﷺ وال مومنین (کشاف) مرض لغوی اعتبار سے نام ہے انسان کے حالت طبعی سے خروج کا۔ المرض الخروج عن الاعتدال الخاص بالانسان (راغب) رذائل نفسانی پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور مجازا نفاق وکفر کو بھی مرض سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ وہ انسان کے لیے ادراک فضائل اور تحصیل حیات اخروی کی راہ میں حائل ہوجاتے ہیں (راغب) مرشد تھانوی مدضلہ نے فرمایا کہ امراض قلب کا معاصی کے معنی میں اثبات خود قرآن مجید سے ہوگیا۔ 28 (رسول، اسلام اور جماعت مومنین کو مزید ترقیاں اور فتح مندیاں دے دے کر۔ یا اپنے کلام کے مسلسل نزول سے) منافقوں کے دل کے روگ کو ترقی دو طریقوں سے ہوتی رہی۔ یا تو یوں کہ جوں جوں اسلام کو مزید غلبہ واقتدار حاصل ہوتا گیا، ان لوگوں کے دل کی کڑھن اور جلن بڑھتی گئی۔ اور یا یوں کہ کلام الہی کی ہر ہر آیت کے نزول کے ساتھ ان کے غیظ وبغض میں اور اضافہ ہوتا گیا۔ اہل تفسیر نے یہ دونوں پہلو اختیار کیے ہیں۔ کلما زاد رسولہ نصرۃ وتبسطا فی البلاد ونقصا من اطراف الارض ازدادوا حسدا وغلا وبعضا (کشاف) کلما انزل علی رسولہ الوحی کفروا بہ فازدادوا کفرا الی کفرھم (کشاف) (آیت) ” فزادھم “ میں حرفبہت اہم ہے یہ گویا اس کا اعلان ہے کہ آگے جس فعل کا ذکر آرہا ہے، وہ محض بطور ثمرہ یا نتیجہ کے پیدا ہوا ہے۔ والفاء للدلالۃ علی ترتب مضمونھا علیہ (ابوسعود) حق تعالیٰ کی جانب اس قسم کے افعال کا انتساب صرف مجازی حیثیت رکھتا ہے۔ یعنی یہ نہیں کہ اللہ نے خواہ مخواہ ان سے یہ افعال کرا چھوڑے۔ اس نے تو صرف وہ حالات واسباب پیدا کردیئے، جن سے ان بدنصیبوں نے اپنے مرض کے بڑھانے کا کام لیا، ورنہ اگر وہ اپنی عقل و ارادہ کا صحیح استعمال کرتے، تو انہیں اسباب و حالات سے ہدایت بھی پاسکتے تھے، وکان اسناد الزیادۃ الی اللہ تعالیٰ من حیث انہ مسبب من فعلہ (بیضاوی) یہ سزا بھی جو کچھ ملی ٹھیک جرم کے مناسب حال ہی ملی۔ وھو الجزاء من جنس العمل (ابن کثیر) اس قسم کے افعال کا حق تعالیٰ کی جانب انتساب، قدیم صحیفوں کا بھی ایک محاورۂ عام ہے۔ ” اسرائیل نے مجھے نہ چاہا تب میں نے انہیں ان کے دلوں کی سرکشی کے بس میں چھوڑ دیا “۔ (زبور 8: 10249 1 1) ” بس خدا نے منہ موڑ کر انہیں چھوڑ دیا کہ آسمانی فوج کو پوجیں “ (اعمال 7:42) ” خدا نے ان کے دلوں کی خواہشوں کے مطابق انہیں ناپاکی میں چھوڑ دیا کہ ان کے بدن آپس میں بےحرمت کیے جائیں “ (رومیون 1:24) 29 ۔ یعنی اپنے مومن ہونے کا جھوٹا دعوی کرتے تھے۔ یہ عذاب الیم جس کا یہاں ذکر ہے منافقون پر مطلق کفر پر نہیں، بلکہ ان کی منافقت پر یا جھوٹے دعوی ایمان پر ہوگا (آیت) ” عذاب الیم “ کافروں کے لیے جس عذاب کی خبر اوپر دی جاچکی ہے (آیت 7 میں) اس کی صفت (آیت) ” عظیم “ آئی ہے، اور یہاں منافقوں کے لیے جس عذاب کی وعید ہے، وہ (آیت) ” الیم “ ہوگا اور (آیت) ” الیم “ کے معنی ہیں مؤلم یعنی دکھ پہنچانے والا۔ گویا تکلیف واذیت کا پہلو اس میں زیادہ نمایاں ہوگا۔ وصف بہ العذاب للمبالغۃ (بیضاوی) خوب سمجھ لیا جائے کہ جو منافق تھے، وہ کافر تو تھے ہی، لیکن کافر کے علاوہ بھی کچھ اور تھے، یعنی خادع وکاذب۔ تو (آیت) ” عذاب عظیم کے مستحق تو وہ اپنے کفر کی بنا پر ہو ہی چکے، یہ منافقت کا (آیت) ” عذاب الیم اس پر مستزاد۔ گویا منافقوں پر دونوں عذابوں کا مجموعہ ہوگا۔ قد حصل للمنافقین مجموع العذابین فصار المنافقون اشد عذابا من غیرھم من الکفار (بحر) بما میں ب سببیہ ہے اور مامصدری۔ الباء للسببیۃ وما مصدریۃ (ابوسعود) منافقوں اور ریاکاروں سے انجیل کا طرز خطاب حسب ذیل ہے :۔ ” تم پر افسوس ہے کہ تم سفیدی پھری قبروں کی مانند ہو، جو اوپر سے تو خوبصورت دکھائی دیتی ہیں مگر اندر مردوں کی ہڈیوں اور ہر طرح کی نجاست سے بھری ہوئی ہیں “۔ (متی۔ 43: 37) اور شیوخ و اکابر یہود کے الفاظ ان کی جیوش انسائیکلوپیڈیا میں یوں منقول ہیں :۔” جو اولیاء کی صحبت میں منافقت کے ساتھ رہتے ہیں، خدا انہیں غارت کرکے رہے۔ جو کوئی منافقت برتے خدا کرے چیل کوے اس کی آنکھیں نکال کر رہیں “۔ (جلد 6 صفحہ 5 14) اور انہیں کے تالمود میں ہے : ” جو کوئی منافقت برتتا ہے وہ غضب (خداوندی) دنیا پر لاتا ہے۔ اس کی جگہ جہنم ہے “ (ایوری مینس تالمود صفحہ 107)
Ayah 2:11

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ Open ayah 2:11 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین پر فساد مت پھیلاؤ30 تو کہتے ہیں کہ ارے ! ہم تو اصلاح کررہے ہیں31

30 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ قانون شریعت کے علاوہ کسی دین جاہلی پر قائم رہنا، اس کے طور طریقوں کی اشاعت کرنا فسادفی الارض کے مرادف ہے۔ امن عالم ونظام اقوام قائم جئب ہی رہ سکتا ہے جب عملدرآمد قانون شریعت پر رہے۔ اس راہ سے انحراف، بلکہ سرموتجاوز کرنا بھی دنیا کو بدنظمی، ابتری، کشت وخون اور ہر قسم کی طبقاتی جنگ وکشمکش کو دعوت دنیا ہے۔ چناچہ دنیا عملا اس کا تجربہ بارہا کرچکی ہے، اور اس وقت بھی رہی ہے۔ اسلام کے اس پہلو پر کہ وہ نظام عالم کا بہترین ضامن ہے، اللہ مراتب میں اضافہ کرے، ہمارے زمانہ میں اقبال نے شاعرانہ زبان میں خوب ہی لکھ دیا ہے۔ (آیت) ” واذا قیل لھم “ اس قول کا قائل کون تھا ؟ بعض نے اس کا قائل رسول اللہ ﷺ کو قرار دیا ہے اور بعض نے عام مومنین کو، اور کسی نے اللہ تعالیٰ کو بھی۔ الفاظ میں گنجائش ان سب کی ہے۔ وکل ذلک محتمل (کبیر) 31 ۔ (اور الٹا ہم ہی پر ہی الزام فساد وتخریب کا لگ رہا ہے ! ) جواب بعینہ وہ ہے جو آج بھی خدا معلوم امت کے اندر کے کتنے منافقوں کی زبان پر ہے۔ دین میں رخنے قدم قدم پر ڈالتے جاتے ہیں۔ اور زبان پر دعوے وہی تجدد کے، تجدید کے، اصلاح کے تعمیر کے ہیں، (آیت) ” نحن مصلحون “ کے معروف معنی تو یہی ہیں کہ یہ لوگ زبانی دعوی اپنے دین حق پر قائم ہونے کا رکھتے تھے۔ قالوا انما نحن علی الھدی مصلحون (ابن جریر۔ عن مجاہد) دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ہم تم لوگوں کے درمیان صلح کرانے والے ہیں۔ محمدی اور غیر محمدی کے درمیان جو کشمکش ہے، اس کے مٹانے والے ہیں۔ قالوا انما نرید الا صلاح بین الفریقین من ال مومنین واھل الکتب (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ انما کلمہ حصر ہے۔ اردو میں زور کا یہ مفہوم لفظ ” ارے “ سے ادا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
Ayah 2:12

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:12 in the Quran reader

سن رکھو حقیقۃ یہی لوگ فسادی ہیں اور یہ اس کا بھی احساس نہیں رکھتے32

32 ۔ (کہ فساد تو تمام تر انہی کی ذات سے پھیل رہا ہے) کیا ٹھکانا ہے ان کی غباوت کا، مسخ شدہ ذہنیت کا ! سیاہ کو سفید کہہ رہے ہیں، تاریکی کا نام کا فور رکھ رہے ہیں، اور احساس اپنے اس جہل کا بھی نہیں رکھتے ! الا کلمہ تنبیہ ہے، عربی میں ” خبردار ہوجاؤ “ ” آگاہ رہو “ کے معنی میں۔ لفظ ” اجی “ میں اگر متانت کی کمی نہ ہوتی تو اردو میں اس مفہوم کے لیے یہی بہترین لفظ ہوتا۔
Ayah 2:13

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:13 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لے آؤ جیسا کہ لوگ ایمان لائے ہیں33 تو کہتے ہیں34 کہ کہا ہم (ایسا) ایمان لے آئیں جیسا کہ بیوقوف ایمان لائے ہیں ؟35 سن رکھو کہ بیوقوف تو خود یہی لوگ ہیں اور اس کبھی علم نہیں رکھتے36 ۔

33 ۔ (اسلام اور رسول اللہ ﷺ پر صدق واخلاص کے ساتھ) دعوی ایمان کا تو اب بھی ان لوگوں کو تھا۔ سمجھانے والوں کا مطلب یہ تھا کہ ایمان دل سے لاؤ۔ دیانت اور راستی کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کو تسلیم کرو۔ اے ایمانا مقرونا بالاخلاص بعیدا عن النفاق (کبیر) اخلصوا فی ایمانکم (خازن) (آیت) ” الناس “ ناس، ال کے داخلہ کے بعد معرفہ ہوگیا۔ اب مراد ساری نوع انسان نہ رہی، بلکہ وہ متعین ومخصوص افراد رہ گئے جو مخاطبین کے لیے معلوم ومعروف تھے۔ روایتوں میں عبداللہ بن سلام وغیرہ حق شناس یہود کے نام آئے ہیں۔ ، جنہوں نے اسلام کی صداقت کو قبول کرلیا تھا۔ ھم بعض الناس لاجمیعھم (ابن جریر) کما صدق المھاجرون والمحققون من اھل یثرب (قرطبی) ھم ناس معھودون کعبداللہ بن سلام واشیاعہ (کشاف) یہ بھی جائز ہے کہ (آیت) ” الناس “ کو انسان کامل کے معنی میں لیا جائے۔ اور اس صورت میں مراد ہوگی کہ ایمان ان کی طرح لاؤ جو صفت انسانیت میں کامل ہیں۔ اور واقعی انسان کہلانے کے مستحق ہیں۔ الکاملون فی الانسانیۃ (کشاف) واللام فی الناس للجنس والمرادبہ الکاملون فی الانسانیۃ (بیضاوی) اس سے اشارہ یہ نکلا کہ جو منکرین ہیں وہ صورۃ انسان ہیں لیکن حقیقۃ اپنی نافہمی کے لحاظ سے چوپائے ہیں۔ ومن عداھم کالبھائم فی فقد التمییزبین الحق والباطل (کشاف) 34 (اس کے جواب میں اور اپنی صفائی میں) 35 ۔ یہ طنز ہے اس وقت کے پکے اور سچے مسلمانوں پر، رسول اللہ ﷺ کے صحابیوں پر۔ یعنون اصحاب النبی ﷺ (ابن جریر، عن ابن عباس وابن مسعود ؓ یہی سنت آج تک چلی آرہی ہے ” ترقی پسندوں “ ” روشن خیالوں “ اور ” اہل تجدد “ کے دربار سے آج بھی جمود پسند، رجعت پسند، تاریک خیال وغیرہ کیسے کیسے خطابات خالص ومخلص اہل ایمان کو عطا ہوتے رہتے ہیں ! 36 ۔ کیا ٹھکانا ہے ان کے حمق اور نافہمی کا ؟ پہلے افساد کو اصلاح کہہ رہے تھے۔ اب حمق بالائے حمق یہ ہے کہ عقل، دور اندیشی، حکمت کو بےعقلی ٹھہرا رہے ہیں ! سفیہ کہتے ہیں اس کم عقل کو جسے اپنے نفع ونقصان کی پوری تمیز نہ ہو۔ السفیہ الجاہل ضعیف الرأی القلیل المعرفۃ بمواضع المنافع والمضار (ابن جریر) ۔
Ayah 2:14

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 2:14 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لاچکے ہیں37 ۔ تو کہتے ہیں کہ ہم بھی تو ایمان لاچکے ہیں38 ۔ اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوتے ہیں39 تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں40 ۔ ہم تو محض بنا رہے تھے41 ۔

37 ( اور صاحب وجاہت وصاحب اثر بھی ہیں) اے ابابکر و اصحابہ (ابن عباس ؓ ۔ 38 ۔ (اور آپ ہی جیسے مسلمان ہیں) امنا کا یمانکم (معالم) یہ بات یہ لوگ ذی اثر مسلمانوں کی رضا جوئی اور خوشنودی کے لیے کہتے۔ غرورا منہم للمومنین ومصانعۃ وتقیۃ (ابن کثیر) منافقین کی ایک ذہنیت یہ بھی تھی کہ غریب عوام مسلمانوں کے مقابلہ میں تو اکڑتے رہتے۔ لیکن مسلمانوں میں جو صاحب اثر واقتدار ہوتے ان کے آگے خود جھک جاتے اور ان سے بہ تملق پیش آتے۔ 39 ۔ یعنی اپنے شریر رفیقوں یا سرداروں کے پاس۔ (آیت) ” شیطینھم۔ شیطان کا لفظ عربی میں بڑا وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ ہر سرکش اور ہر بھڑکانے والے کو شیطان کہتے ہیں۔ انسان، جنات، حیوانات سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ الشیطان کل عارم متمرد من انس او جن اومن دابۃ (تاج) الشیطان اسم لکل عارم من الجنس والانس والحیوانات (راغب) یہاں شیاطین سے مراد رؤساء یہود ومنافقین لئے گئے ہیں جو اپنی سرکشی و طغیان کے لحاظ سے خود ہی شیطان بنے ہوئے تھے۔ نیز ان کے کاہن جن کے یہ لوگ بہت معتقد تھے۔ کھنتھم و رؤساء ھم (ابن عباس) رؤسھم فی الکفر (ابن جریر، اعن ابن عباس وابن مسعود ؓ (آیت) ” خلوا الی “ خلی کا صلہ جب الی آتا ہے تو معنی ہوتے ہیں تنہا ہونے کے، تنہائی میں ملنے کے۔ ؛ خلاالیہ اجتمع معہ فی خلوۃ (لسان) خلاالیہ اے انتھی الیہ فی خلوۃ (راغب) 40 (اپنے اصلی عقائد وخیالات میں) یعنی ہم مسلمانوں کے ساتھ تو محض ظاہرداری کے طور پر ہیں، اور مصلحۃ اپنا مسلمان ہونا ظاہر کرتے ہیں، ورنہ حقیقۃ تو ہم تمہارے ہی ہم عقیدہ وہم مذہب ہیں۔ انامعکم ما انتم علیہ من التکذیب بمحمد ﷺ (ابن جریر) 41 (ان مسلمانوں کو ان کے پیمبر ﷺ اور ان کے صحابیوں کو) بمحمد و اصحابہ ( ابن عباس ؓ مطلب یہ ہوا کہ عوام منافقین جب تنہائی میں اپنے سرداروں سے ملتے ہیں کہ ہم دل وجان سے تو آپ ہی کے ساتھ ہیں۔ باقی مسلمانوں کے بنانے کے لیے ان کی سی کہہ دیتے ہیں۔ استھزاء کے معنی تمسخر کرنے ہنسی اڑانے بنانے کے ہیں۔
Ayah 2:15

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 2:15 in the Quran reader

انہیں اللہ بنا رہا ہے42 ۔ اور وہ انہیں ڈھیل دے رہا ہے43 (تو) وہ اپنی سرکشی میں سرگردان ہورہے ہیں44

42 ۔ یعنی ان کے تمسخر کو انہیں پر پلٹے دیتا ہے۔ مجازات، سزا، معاوضہ کے موقع پر لغت عرب میں یہ محاورہ وام ہے، کہ جزائے فعل کو اصل فعل ہی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ اے یجازیھم جزاء الھزو (راغب) مثل قول نسو اللہ فنسیھم اے جاز اھم جزاء النسیان (ابن قتیبہ) جزاء الااستھزاء باسمہ کما جزاء السیءۃ سیءۃ (بیضاوی) ہنسی اور تمسخر کا انتساب ذات باری تعالیٰ کی جانب قدیم صحیفوں میں برابر موجود ہے۔ ” تو اے خداوندان پر ہنسے گا۔ تو ساری قوموں کو مسخرہ بنادے گا “۔ (زبور 79:8) ”۔۔۔ میں تمہاری پریشانی پر ہنسوں گا۔ اور جب تم پر دہشت غالب ہوگئی تو میں ٹھٹھے ماروں گا “ (امثال 1: 26) 43 ۔ (اپنے قانون تکوینی کے مطابق) خالق کائنات نے بندوں کو جو آزادی واختیار دے رکھا ہے۔ اس میں وہ خواہ مخواہ دست اندازی کبھی نہیں کرتا۔ سانپ کو کاٹنے کی ، ، زہر کو ہلاک کرنے کی، آگ کو جلانے کی، یہ ساری اجازتیں اور آزادیاں اسی کے قانون تکوینی کے مطابق ہیں۔ 44 ۔ یہ خود ایک تفسیر ہوگئی اللہ کے ” استہزاء “ کی۔ عمہ اس کیفیت کو کہتے ہیں کہ انسان کو راستہ سجھائی نہ دے، اور وہ ادھر ادھر اندھوں کی طرح ٹٹولتا اور ہاتھ پاؤں مارتا پھرے۔ ھو التردد فی الضلال والتحیر فی منازعۃ (تاج) العمی فی العین والعمہ فی القلب (قرطبی) وحی الہی کی روشنی سے محرومی کے بعد انسان کی واقعی یہی حالت ہوجاتی ہے۔ اپنی محدود ناقص ” عقل “ کے سہارے وہ چاروں طرف ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔ طرح طرح کے ” نظریئے “ قائم کرتا ہے۔” اصول “ و ” کلیات “ بناتا ہے۔ ہر طرف ظن وتخمین کے گھوڑے دوڑاتا ہے۔ کھلا ہو اراستہ کوئی نہیں سجھائی دیتا ہے۔ شک، ارتیاب، بےاطمینانی کے دلدل میں اور زیادہ پھنستا جاتا ہے۔
Ayah 2:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى١۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 2:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ انہوں نے گمراہی خرید کرلی ہدایت کے بدلے45 سو نہ ان کی تجارت ہی سود مند ہوئی اور نہ وہ راہ یاب ہوئے46 ۔

45 ۔ ان کی بدبختی کی انتہا ہے کہ انہوں نے ہدایت و ایمان جیسی جنس بےبہا قیمت میں دے کر خریدی بھی تو کیسی نکمی اور بےحقیقت چیز، گمراہی وکفر ! (آیت) ” اشتروا “ اشتروا یا خریداری کے معنی کسی چیز کا معاوضہ میں لینا۔ ایمان کا قبول کرلینا ان منافقین کے بالکل اختیار کے اندر تھا۔ لین اس کے بجائے انہوں نے روش کفر اختیار کرلی۔ اہل عرب ہر استبدال کے موقع پر اشتراء بولتے ہیں۔ اختاروا الکفر علی الایمان (ابن عباس ؓ اے استبدلوا الکفر بالایمان (معالم) والعرب تستعمل ذلک کل من استبدل شیئا بشیء (قرطبی) ویجوز الشراء والاشتراء فی کل ما یحصل بہ شئی (راغب) (آیت) ” بالھدی “ میں ب کے معنی ہیں بعوض۔ اے بدلا منہ (ابوسعود) عرب کے باشندوں کا تجارتی کاروبار خوب پھیلا ہوا تھا، اور تجارت کی اصطلاحیں ان کی زبان وادب کا ایک جزو بن گئی تھیں، جیسا کہ آج کل انگریزوں کا کاروبار خوب پھیلا ہوا ہے۔ اور کاروباری اصطلاحیں انگریزی زبان وادب کا جزو بن چکی ہیں۔ 46 ۔ (اور ہوتے بھی کیسے، جب کہ اپنی قوت ارادہ و فیصلہ سے صحیح کام نہ لے کر خود گمرا ہی خرید رہے تھے) تجارت سے مقصود ہوتا ہے کہ اصل سرمایہ محفوظ رہے اور نفع اس پر بڑھتا رہے۔ یہاں منافق کافروں نے نفع کا کیا ذکر عقل سیلم کے اصل سرمایہ ہی کو الٹا برباد کرڈالا (کبیر) ربح بھی تجارتی اصطلاح ہے، اردو کے لفظ منافع کے معنی ہیں۔