Ayah 2:1الۗمّۗ۔ قرآن مجید کی بعض سورتوں کی ابتداء میں جو حروف مقطعات ( جستہ جستہ) آتے ہیں ان کی تحقیق میں علماء مفسرین کی مختلف آراء اور متعدد اقوال ہیں۔ بعضے کہتے ہیں ان سورتوں کے نام ہیں جن کی ابتداء میں یہ واقع ہوئے ہیں اور بعض کہتے ہیں ان سے ایک کلام کے منقطع ہونے اور دوسرے کلام کے شروع ہونے پر مزید تنبیہ مقصود ہوا کرتی ہے۔ (یعنی حروف مقطعہ سے واضع کی اصلی غرض یہ ہے کہ وہ ایک کلام کے انقطاع اور دوسرے کلام کے از سر نو شروع ہونے پر دلالت کریں) کچھ لوگوں کا بیان ہے کہ حروف مقطعہ سے ان کلمات کی طرف اشارہ ہے جن کے شروع میں یہ حروف واقع ہیں جیسا کہ عرب کے ایک نامور اور مشہور شاعر کا قول ہے فَقُلْتُ لَھَا قِفِیْ فَقَالَتْ لِیْ قَافْ یعنی وقفت) ۔
ابن جریر اور ابن ابی حاتم ابو العالیہ سے روایت کرتے ہیں کہ ا آآ میں الف سے آلاء اللہ لام سے لطف خدا اور میم سے اس کا ملک بےزوال (بادشاہی) مراد ہے۔ عبد بن حمید اور ابن جریر اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم ابو العالیہ سے یہ بھی نقل کرتے ہیں کہ ا آرَّ اور حٰٓمٓ اور نٓ کا مجموعہ الرحمن ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ا آآ کے معنی ہیں اَنَا اللّٰہُ اَعْلَمُ (یعنی انا کا الف اللہ کالام اور اعلم کی میم ہے) علامہ بغوی نے بروایت سعید بن جبیر حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ آآمآ کے معنی ہیں اَنَا اللّٰہُ اَعْلَمُ وَ اَفْضَلُ ( یعنی میں خدا ہوں سب چیزوں سے واقف اور ہر بات میں بہتر فیصلہ دینے والا) اسی طرح ا ل ر کے معنی ہیں انا اللہ اَرٰی (یعنی میں خدا ہوں ہر چیز کو دیکھتا ہوں) اور الآآ سے انا اللہ اَعْلمُ وَاَ رٰی مراد ہے ( یعنی میں خدا ہوں جانتا ہوں اور دیکھتا ہوں) بعض علماء کا خیال ہے کہ حروف مقطعہ سے قوموں کی زندگی کی مدتیں اور اس امت کے بڑے انقلابات مراد ہیں بحساب (1)[ اہل فارس نے کسی کے سنہ ولادت و وفات یا کسی بادشاہ کی تاج پوشی یا کسی غیر معمولی واقعہ کی مدت وقوع یاد رکھنے کے لیے حروف ابجد کا عددی حساب مقرر کر رکھا تھا۔ عدد ابجد کا واضع عرب نہیں۔ نہ عرب میں اس کا استعمال کبھی ہوا۔ اس لیے اس حساب کا ملحق بالعربیۃ یامعرب بھی نہیں قرار دیا جاسکتا لیکن یہودی علماء حساب ابجد سے واقف تھے اس لیے حساب لگا کر انہوں نے سوال کیا تھا۔] ابجد چناچہ امام بخاری نے اپنی تاریخ میں اور ابن جریر نے بسند ضعیف بیان کیا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ یہودی آئے اور آپ نے ان کے روبرو سورة بقرہ پڑھی تو انہوں نے حساب لگا کر اور جی ہی جی میں کچھ شمار کرکے کہا کہ ہم ایسے دین میں کیونکر داخل ہوسکتے ہیں جس کے رواج کی مدت زیادہ سے زیادہ اکہتر برس ہیں کیونکہ ا آآ کے کل اعداد بحساب ابجد اکہتر (71) ہوتے ہیں نبی کریم ﷺ نے سنا تو مسکرا کر خاموش ہوگئے اس پر یہودیوں نے حضور ﷺ کی طرف متوجہ ہو کر کہا کیا اس کے علاوہ کچھ اور بھی آپ ﷺ پر نازل ہوا ہے ؟ فرمایا : ہاں الآآ اور الآ اور ا آآرٰ یہ سن کر یہود بولے کہ ابو القاسم ! تم نے ہم کو اشتباہ میں ڈال دیا ( کیونکہ الآآ کے عدد 161 اور الر کے عدد 231 اور المر کے عدد 271 ہیں) اب ہم حیران اور سخت حیران ہیں کہ کس کو لیں اور کس کو چھوڑیں۔
میں کہتا ہوں کہ یہ تمام اقوال جو حروف مقطعات کی تحقیق میں بعض مفسرین نے نقل کئے ہیں ( اور جن کا میں نے قدرے بسط کے ساتھ ذکر کیا ہے) سب کے سب علماء محققین کے نزدیک مردود اور نامقبول ہیں قول اوّل اس لیے غلط ہے کہ حروف مقطعات کو سورتوں کے نام تسلیم کرلینے کی تقدیر پر لازم آتا ہے کہ ایک ہی واضع کی طرف سے اعلام میں اشتراک واقع ہو اور یہ ( نہ صرف بلغاء کے نزدیک ناپسند اور مکروہ ہے بلکہ) مقصود بالعلمیۃ کے صریح منافی ہے۔ علاوہ بریں ایک چیز کا تین یا تین سے زیادہ کلمات سے مرکب کرکے نام رکھنے کو اہل دانش کا ذوق سلیم انکار کرتا ہے اور نیز بعض سورتوں کا ان ناموں کے ساتھ موسوم ہونا اور بعض کا نہ ہونا یہ بھی شان متکلم سے بعید ہے۔ دوسرا قول اس لیے غلط ہے کہ حروف مقطعات نہ صرف وضعاً بلکہ عرفًا بھی اس لیے مقرر نہیں کئے گئے ہیں کہ ان سے ایک کلام کے منقطع ہونے اور دوسرے کلام کے ازسر نو شروع ہونے پر مزید تنبیہ مقصود ہو وجہ یہ کہ اگر ایسا ہوتا تو ہر سورت کی ابتداء میں حروف مقطعات کا ہونا ضرور اور لازمی تھا۔ تیسرے قول کی غلطی کی یہ وجہ ہے کہ حروف مقطعات سے کلمہ کے بعض حرف پر اقتصار کرنے کی طرف اشارہ ہونا یہ کلام عرب میں غیر مستعمل ہے اور اس پر شعر سے سند لانا محض شاذ اور نامقبول ہے۔ علاوہ ازیں شعر میں کلمہ قفی اس بات پر قرینہ صریح ہے کہ شاعر کی مخاطبہ کا قول قاف وَ قفْتُ سے ماخوذ ہے بخلاف حروف مقطعات کے کہ وہاں اس قسم کا کوئی قرینہ پایا نہیں جاتا۔ مثلاً الٓم میں کوئی قرینہ اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ الف کلمہ آلاء اللہ سے اور لام لطف اللہ سے اور میم ملک اللہ سے ماخوذ ہے (اور جب یہ ہے تو الف سے خداوندی نعمتیں اور لام سے اس کا لطف اور میم سے ملک بےزوال مراد لینا کسی طرح صحیح نہیں ہوسکتا) اب رہی یہ بات کہ بعض صحابیوں اور تابعیوں سے جو اس قسم کے آثار و اقوال منقول ہیں ان کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ وہ اقوال مصروف عن الظاہر ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ ہوگا تو ان کے اقوال میں تعارض ماننا پڑے گا ( اور قطع نظر اس کے ترجیح بلا مرجح لازم آئے گا جو شیوۂ متکلم اور شان فصیح کے سراسر خلاف ہے) کیونکہ جب چند کلمے کئی حرفوں کو شامل ہوں تو ان میں سے صرف ایک کلمہ کے ساتھ حرف کی تخصیص اور دیگر حرفوں سے اعراض کرنا بھی ترجیح بلا مرجح ہے۔ رہا جناب نبی کریم ﷺ کا فہم یہودی پر مسکرانا تو ظاہر یہ ہے کہ آپ کا یہ تبسم (تبسم رضا نہ تھا بلکہ) اس کی جہل و نادانی اور کم فہمی پر تعجب اور تعجب کے ساتھ تبسم تھا اور بعض مفسروں نے جو یہ کہا ہے کہ حروف مقطعہ قسمیہ حروف ہیں یعنی یہ حروف چونکہ خاص قسم کی شرافت و بزرگی رکھتے ہیں کیونکہ یہ مادہ اسماء الٰہی اور اصول لغات ہیں اس لیے خدا نے ان کی قسم کھائی ہے تو یہ تاویل چند ایسی چیزوں کی محتاج ہے جن پر اب تک کوئی یقینی دلیل اور قطعی برہان قائم نہیں کی گئی ( الغرض علماء محققین نے مفسروں کی ان توجیہات کی جو حروف مقطعات کے بارے میں یہاں مذکور ہوئیں بوجوہ بالا تردید کی ہے اور کسی توجیہ کو قابل تسلیم نہیں بتایا ہے یہی وجہ ہے کہ قاضی بیضاوی نے جو مفسرین کے طبقہ میں بڑی پائگاہ رکھتے ہیں) ان تمام توجیہات سے پہلو بچا کر ایک عجیب ( اور نہایت معرکہ آراء) توجیح اختیار کی ہے (چنانچہ فرماتے ہیں کہ) چونکہ حروف تہجی عنصر کلام اور مادۂ لغات ہیں اور کلام ان ہی سے ترکیب پاتا ہے اس لیے ان میں سے بعض حروف کے ساتھ قرآن مجید کی سورتوں کی ابتداء کی گئی ہے اس سے ان لوگوں کو تنبیہ کرنی مقصود ہے جو قرآن مجید کے منزل من اللہ ہونے کا انکار کرتے اور اسے غیر خدا کا کلام بتاتے تھے کہ جو کلام تمہیں پڑھ کر سنایا جاتا ہے ان ہی حرفوں سے مرکب ہے جن سے تم اپنے کلام کو ترکیب دیتے ہو پھر اگر یہ خدا کا کلام نہیں ہے تو اس جیسے کلام بنا لا نے سے تم کیوں عاجز ہوتے ہو۔ اور نیز حروف تہجی اس لیے بھی سورتوں کی ابتداء میں لائے گئے ہیں کہ سب سے پیشتر جو سامعین کے کانوں میں پہنچے وہ اعجاز کی ایک نوع مستقل ہو کیونکہ (حرفوں کے نام بغیر لکھنے پڑھنے کی مشق کے پہچاننے نہ صرف دشوار بلکہ ناممکن ہیں اور جب یہ ہے تو) امی محض کا اسماء حروف کو ذکر کرنا صریح معجزہ ہے ( علاوہ ازیں) ان حرفوں کے لانے میں ان نکات و دقائق کی رعایت کی گئی ہے جن سے بڑے سے بڑا ادیب جو فن ادب میں فائق و مشہور ہو محض عاجز و قاصر رہتا ہے اور ماہر عربیت ان کی نگہداشت نہیں کرسکتا۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ قرآن مجید کی انتیس سورتوں میں ( جو گنتی کے لحاظ سے حروف تہجی کے برابر ہیں) چودہ حروف لائے گئے ہیں ( جو حروف تہجی سے نصف ہیں) اور ایسے انداز سے لائے گئے ہیں کہ حروف کی تمام قسموں یعنی مہموسہ ‘ مجہورہ شدیدہ اور رخوہ وغیرہ سب کو احاطہ کئے ہوئے ہیں کیونکہ ہر قسم کے نصف نصف حروف ان میں موجود ہیں جیسا کہ اس کی تفصیل سابق میں گزر چکی ہے۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ قرآن مجید کی سورتوں کی ابتداء میں وہی چودہ حروف لائے گئے ہیں جن سے اکثر اوقات کلام مرکب ہوا کرتا ہے ان کے علاوہ باقی چودہ حروف جو مقطعات کی فہرست سے خارج ہیں وہ ترکیب کلام کا کام نہیں دیتے۔ گویا ا آآ اور ا ل ر وغیرہ کے معنی یہ ہیں کہ یہ قرآن جس کے مقابلہ کی دعوت دی جارہی ہے ان ہی حروف کی جنس سے مرکب ہے جن سے تمہارے کلام ترکیب پاتے ہیں (تو اگر یہ کلام خدا نہیں بلکہ کلام بشر ہے) تو تم اے منکرین قرآن اس جیسا کلام بنا لانے سے کیوں عاجز ہوتے ہو۔
قرآنی مقطعات میں میرے نزدیک ( قطعی فیصلہ اور) حق بات یہ ہے کہ وہ قرآن مجید کے متشابہات اور ان مخفی رموز و اسرار میں سے ہیں جو صرف حق تعالیٰ اور اس کے نبی کریم ﷺ کے مابین دائر ہیں 1 اور جنہیں عام لوگ سمجھنے کی لیاقت نہیں رکھتے بلکہ خود خدا کو منظور نہیں کہ عام لوگ ان سے مطلع ہوں۔ خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کریم ﷺ کو اور آپ کے کامل پیرو وں اور معتقدوں میں سے جسے چاہا اس کو سمجھا دیا۔ امام بغوی کہتے ہیں جناب صدیق اکبر ؓ نے فرمایا کہ ہر کتاب میں ایک مخفی بھید اور پوشیدہ راز ہوا کرتا ہے۔ قرآن مجید میں خدا کا بھید اوائل سور یعنی حروف مقطعات ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ ہر کتاب کا ایک انتخاب اور خلاصہ ہوا کرتا ہے قرآن مجید کا خلاصہ حروف تہجی ہیں۔ اس روایت کو امام ثعلبی نے حضرت صدیق اکبر اور حضرت علی وغیرہ ؓ سے روایت کیا ہے اور سمرقندی نے حضرت فاروق اعظم اور حضرت عثمان بن عفان اور حضرت ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے۔ قرطبی نے سفیان ثوری سے اور ربیع بن خثعم اور ابوبکر بن الانباری اور ابن ابی حاتم اور محدثین کی ایک کثیر جماعت نے (مختلف رواۃ سے) نقل کیا ہے۔
حضرت سجاوندی کا قول ہے کہ حروف مقطعات کے بارے میں صدر اوّل کے تمام لوگوں کے متفقہ الفاظ یہ ہیں : اِنَّھا سِرٌّ بَیْنَ اللّٰہِ وَبَیْنَ نَبِیِّہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔ 3 اور کبھی ایسے دو شخصوں کے درمیان جو باہم ایک دوسرے کے راز دار اور مزاج شناس ہوتے ہیں وہ راز کی باتیں اور معمے جاری ہوتے ہیں جو ان کے باہمی اسرار کی طرف مشیر ہوتے ہیں اور یہ جو کہا گیا ہے کہ ” مقطعات اور متشابہات کا علم صرف خدا ہی کے ساتھ مخصوص ہے نہ تو جناب نبی کریم ﷺ ہی ان پر مطلع ہوئے اور نہ آپ کے اتباع اور پیروؤں ہی میں سے کوئی شخص مطلع ہوا۔ “ نہایت بعید اور دور از قیاس ہے کیونکہ اس سے لازم آتا ہے کہ قرآن کریم معلوم المعنی نہ ہو نیز متکلم کی جانب سے جب خطاب ہوتا ہے تو اس سے سامع کی تفہیم مقصود ہوا کرتی ہے تو اگر حروف مقطعات سے سننے والوں کو کوئی فائدہ مترتب نہ ہوگا اور شارع کو ان سے کسی طرح کی تفہیم و افہام مد نظر نہ ہوگی تو حروف مقطعات سے لوگوں کو خطاب کرنا گویا مہمل اور بےمعنی کلمات سے خطاب کرنا ہوگا یا ہندی شخص سے عربی زبان میں کلام کرنا اور اس صورت میں قرآن مجید بتمامہ بیان و ہدایت نہ رہے گا اور نیز خدا کا اپنے اس قول : ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ میں معاذ اللہ وعدہ خلاف ہونا لازم آئے گا کیونکہ یہ آیت بطریق اقتضا صاف اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن مجید متشابہ ہو یا محکم۔ اس کا بیان و تفسیر نبی ﷺ کے لیے خدا کی طرف سے واجب و ضروری ہے۔
خلاصہ یہ کہ حروف مقطعات اور متشابہات کا علم جناب نبی کریم ﷺ کو ضرور تھا اور نہ صرف نبی ﷺ کو بلکہ آپ کے اتباع کا ملین کو بھی تھا۔ چناچہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ میں راسخین فی العلم میں سے ہوں اور جو لوگ متشابہات اور مقطعات کی تفسیر کے عالم ہیں ان میں سے ایک میں بھی ہوں۔ یہی قول ( بہ تبدیل الفاظ) حضرت مجاہد کا بھی ہے اس امت مرحومہ میں سے کہ جس کا حال معلوم نہیں کہ اس کا اوّل بہتر ہے یا اخیر اور شاید اس کا اخیر کثرت کے اعتبار سے بڑا عریض اور بڑا عمیق ہے اور نہایت اچھا ہے۔ مجدد الف ثانی نے جو اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر قرآنی مقطعات اور اس کے اسرار کی تاویل ظاہر کی ہے لیکن ان کا بیان و تفسیر عام لوگوں کے لیے ناممکن ہے تو اس سے بھی حروف مقطعات کا اسرار الٰہی میں سے ایک سر ہونا اور ان کے علم کے ساتھ صرف خدا ہی کا مخصوص ہونا باطل اور غلط ٹھہرتا ہے۔ واللہ اعلم۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حرف مقطعات اسمائے الٰہی ہیں جیسا کہ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن مردویہ نے کتاب الاسماء والصفات میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اور اس کی سند کو صحیح بتایا ہے۔ ابن ماجہ کی ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اپنی دعاء میں فرمایا کرتے تھے یا آھٰیٰعٓصٓ اغْفِرْلِیْ ۔ ربیع بن انس کہتے ہیں کٓھٰیٰعٓصٓ کے یہ معنی ہیں کہ وہ جس کو چاہے پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دیتا 1 ۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ حروف مقطعات قرآن کے نام ہیں جیسا کہ عبدالرزاق نے قتادہ سے روایت کیا ہے قتادہ کے قول کی وجہ یہ ہے کہ حروف مقطعات سے قرآن اور کتاب ہونے کی خبر دی گئی ہے۔ (1) [ جب کتاب اور قرآن کو حروف مقطعات کی خبر قرار دیا گیا اور خبر و مبتدا میں اتحاد وجود ضروری ہے تو عمولم ہوا کہ حروف مقطعات قرآن کے اسماء ہیں، کیونکہ اسم و مسمی متحد بالذات ہوتے ہیں ]
میں (صاحب تفسیر) کہتا ہوں کہا گر قرآنی مقطعات کی بابت اس بات کو تسلیم کرلیا جائے کہ وہ اسماء الٰہی ہیں تو ساتھ ہی یہ بھی قطعاً ماننا پڑے گا کہ وہ خدا کی بعض صفات پر دلالت کرتے ہیں جیسے کہ اور اسماء صفات دلالت کرتے ہیں علی ہذا القیاس جب وہ قرآن کے نام مان لیے جائیں گے تو بعض صفات قرآنی پر ضرور دلالت کریں گے جیسا کہ لفظ قرآن اور فرقان ‘ نور اور حیات ‘ روح اور ذکر اور کتاب وغیرہ قرآنی صفات میں سے ایک نہ ایک صفت پر ضرور دلالت کرتے ہیں مگر مقطعات کی دلالت دونوں تقدیر پر اس طرح کی نہیں ہے جسے عام لوگ سمجھ سکتے ہوں بلکہ فہم مخاطب کے ساتھ مختص ہے یا جسے اللہ تعالیٰ سمجھانا چاہے اور اس بات کا حکم لگا دینا کہ وہ اسماء الٰہی ہیں اسی وقت متصور ہوسکتا ہے جبکہ اس کے معنی بھی سمجھے جاتے ہوں تو یہ دونوں قول بر تقدیر صحت اسی قول کی طرف راجع ہونگے جس کی ہم سابق میں تحقیق کر آئے ہیں کہ حروف مقطعات خدا اور اس کے نبی کریم ﷺ کے درمیان اسرار ہیں جنہیں نبی ﷺ کے سوا دوسرا سمجھ نہیں سکتا۔ ہاں اگر خدا چاہے تو آپ کے اتباع کاملین بھی سمجھ سکتے ہیں ( اس قول کی بناء پر جس طرح حروف مقطعات کی حقیقت فہم عوام سے خارج ہے۔ ) اسی طرح قرآنی متشابہات کی حقیقت بھی انہیں دریافت نہیں ہوسکتی مثلاً آیت : یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ ۔ الرَّحْمٰنُ عَلَی العَرْشِ اسْتَویٰ اور ھَل یَنْظُرُوْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیَھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَام وغیرہ اس قسم کی آیتیں ہیں جن کو ان کے ظاہری معنی پر حمل کرنا جیسا کہ کج فہم فرقہ مجسمہ نے کیا ہے مشکل اور محال ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک آیت صفات الٰہی میں سے ایک ایسی صفت خاص پر دلالت کرتی ہے جس کے سمجھنے کی عام لوگ قابلیت نہیں رکھتے البتہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے اتباع میں سے بعض کاملین حضرات اس کی حقیقت اور تہہ کو پہنچ گئے ہیں۔
اس اجمال کی تفصیل اور ابہام کی توضیح یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات لامتناہی اور غیر محدود ہیں جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے۔ قُلْ لَّوْکَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا الِّکَلِمَاتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمَاتُ رَبِّی ( یعنی اے پیغمبر ان لوگوں سے کہو کہ اگر میرے پروردگار کی باتوں کے لکھنے کے لیے سمندر کا پانی سیاہی کی جگہ ہو تو قبل اس کے میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہوجائے گا) اور فرمایا : وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ یَمُدُّہٗ مِنْ بَعْدِہ ٖ سَبْعَۃُ اَبْحرٍ مَّا نَفِدَتْ کَلِمَات اللّٰہ (یعنی زمین میں جتنے درخت ہیں اگر ان سب کے قلم ہوں اور سمندر کی سیاہی اور وہ بھی اس طرح پر کہ اس کے ہوچکے پیچھے ویسے ہی سات سمندر اور اس کی مدد کریں غرض ان تمام قلموں اور ساری روشنائیوں سے خدا کی باتیں لکھی جائیں تو بھی خدا کی باتیں تمام نہ ہوں) ۔
اور اس میں کچھ شبہ نہیں کہ جو الفاظ معانی کے مقابلہ میں موضوع ہوئے ہیں وہ متناہی اور محدود ہیں۔ ادھر عقول انسانیہ خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کی کنہ اور حقیقت دریافت کرنے سے محض قاصر و عاجز ہیں ہاں معیت ذاتیہ یا صفات غیر متکیفہ میں سے ایک نوع کے ساتھ اس کا دریافت کرنا ممکن اور متصور ہوسکتا ہے اور یہ بات فہم عوام اور نہ صرف فہم عوام بلکہ فہم خواص سے بھی بہت دور ہے کیونکہ خواص لوگ باوجود حصول ادراک کے اس حقیقت کا ادراک مرتبہ ذات میں نہیں کرسکتے جیسا کہ رئیس الصدیقین کا قول ہے۔ شعر العِجْزُ عَنْ دَرْکِ الْاَدْرَاک ادراک 228 والبحث عَنْ سِرِّ الذَّاتِ اِشْرَاک ( یعنی ادراک کے پالینے سے عاجز ہونا بھی ایک قسم کا ادراک ہے اور ذات خداوندی کے سر کی تلاش و جستجو میں مستغرق رہنا شرک) مگر چونکہ بعض صفات باری تعالیٰ کو صفات ممکنات کے ساتھ غایات یا بعض طرح کی مشاکلات میں شرکت ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان صفات کو ایسے اسماء کے ساتھ تعبیر کیا ہے جو ان صفات پر دلالت کرتے ہیں جو مخلوقات میں بھی پائی جاتی ہیں مثلاً حیات اور علم اور سمع اور بصر اور ارادہ اور رحمت اور قہریا اس قسم کی اور صفات باری جب بیان کی جاتی ہیں تو آدمی بجائے خود گمان کرلیتا ہے کہ میں سب صفات الٰہیہ کو سمجھ گیا اور ان کی حقیقت مجھے معلوم ہوگئی۔ حالانکہ واقع میں بجز بعض وجوہ صفات کے اور کچھ خاک نہیں سمجھتا وجہ یہ کہ بعض دوسری صفات جو ممکنات کی صفات سے شرکت نہیں رکھتیں وہ اس طریقہ کے ساتھ تعبیر ہی نہیں کی جاتیں تو ان میں سے بعضی تو ایسی ہیں جن کا علم صرف خدا ہی کو ہوتا ہے اور بعضی صفات وہ بھی ہوتی ہیں جن کا علم و فہم اپنی مخلوقات میں سے خواص اور (اخص الخواص) کو عنایت فرما دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ دعا میں فرمایا کرتے تھے۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْءَلُکَ بِکُلِّ اِسْمٍ ھُوَ لَکَ سَمَّیْتَ بِہٖ نَفْسَکَ اَوْ اَنْزَلْتَہٗ فِیْ کِتُابِکَ اَوْ عَلَّمْتَہٗ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ اَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِہٖ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ ( یعنی بار خدایا میں تیرے ہر اس نام کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں جو تیرے لیے مخصوص ہے اور جو تو نے اپنے لیے مقرر کر رکھا ہے یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو بتادیا ہے یا غیب کے پردہ میں اپنے پاس رکھ کر کسی کو اس کی اطلاع تک نہیں دی ہے) اس حدیث کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور حاکم نے مستدرک میں اور امام احمد اور ابو یعلی نے حضرت ابن مسعود ؓ کی ایک بڑی طویل حدیث میں روایت کیا ہے جس کا شروع ان لفظوں سے ہے لمن اصابہ الھم۔ اسی طرح طبرانی نے حدیث ابی موسیٰ میں روایت کیا ہے الغرض ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان اسماء میں سے جو عام لوگوں سے مخفی ہیں اور جن کے مقابلہ میں ان کی زبان و لغت میں الفاظ وضع نہیں کئے گئے ہیں بعض اسماء اپنے نبی کو اور ان کے علاوہ ان لوگوں کو بھی تعلیم والہام کردیئے ہوں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی پیروی میں انتہا سے زیادہ سرگرمی دکھائی اور نہ صرف تعلیم والہام پر بس کی ہو بلکہ ان میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا بدیہی اور یقینی علم پیدا کردیا ہو جو (خود بخود) ان حرفوں سے مستفاد ہوتا ہو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو تمام چیزوں کے نام تعلیم کردیئے اور ان میں ایک بدیہی علم پیدا کردیا بغیر اس کے کہ انہیں پہلے سے اس کا بات کا علم ہو کہ یہ لفظ اس معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو تسلسل لازم آتا اور ممکن ہے کہ یہ اسماء اور اسماء کے ساتھ صفات جناب نبی عربی ﷺ پر ان حروف تہجی یعنی حروف مقطعات کی تلاوت کے وقت جلوہ گر ہوگئے ہوں۔ میرے شیخ و استاد قدسنا اللہ بسرہ نے فرمایا ہے کہ اور کیا ہی خوب فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص سارے قرآن کو من اولہ الی آخرہ نظرکشف سے دیکھے گا تو اس پر یہ بات بخوبی ظاہر ہوجائے گی کیونکہ قرآن مجید گویا برکاتِ الٰہیہ کا ایک نہایت عمیق اور گہرا دریا ہے اور اس عمیق اور طویل و عریض دریا میں حروف مقطعات ایسے ظاہر ہوتے ہیں جیسے بحر ذخار میں ابلتے ہوئے چشمے اور جوش مارتے ہوئے فوارے جن سے ایک بڑا دریا نکل کر بہتا ہے اس مکاشفہ کے لحاظ سے اگر قرآن مقطعات اسماء قرآنی قرار دیئے جائیں تو چنداں بعید نہیں گویا سارا قرآن اس اجمال کی تفصیل ہے جو حروف مقطعات میں موجود ہے۔ واللہ اعلم۔
میں (صاحب تفسیر) کہتا ہوں یہ توجیہ اس قول کے ہرگز مخالف و منافی نہیں ہے جسے بیضاوی نے اختیار کیا ہے کیونکہ قرآن کی ہر آیت کیلئے ایک ظاہر ہے اور ایک باطن اور ہر حد علم کے واسطے ایک مطلع ہے اور یہ بھی مروی ہے کہ ہر حرف کے لیے حد ہے اور ہر حد کے لیے مطلع ہے۔ اس کو بغوی نے حضرت ابن مسعود سے روایت کیا۔ پس جس طرح حروف تہجی ظاہر میں عنصر قرآن اور بسائط قرآن ہیں اور اکثر کلام ان ہی سے ترکیب پاتا ہے نیز قرآن میں طرح طرح کے لطائف اور قسم قسم کے اعجاز کی رعایت رکھی گئی ہے اسی طرح یہی حروف اجمال قرآن اور برکاتِ الٰہیہ کے بحر ذخار کے جوش زن چشمے اور خدا و ررسول ﷺ کے درمیان وہ اسرار ہیں جن پر خدا کے سوا اور کوئی مطلع نہیں ہوسکتا ہاں وہ شخص اطلاع پاسکتا ہے جسے خدا تعالیٰ خطاب کا اعزاز بخشے یا کسی اور طرح سے اپنے اسرار خاص پر واقف کرنا چاہے۔ واللہ اعلم بمرادہ۔
Ayah 2:2ذٰلِکَ الْکِتٰبُ یعنی وہ کتاب ہے جسے محمد ﷺ پڑھتے اور مشرکین اس کی تکذیب کے درپے ہوتے ہیں۔ ذٰلک سے قرآن مجید کے اس حصہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو سورة بقر سے پیشتر نازل ہوچکا ہے اور ممکن ہے کہ سارے قرآن مجید کی طرف اشارہ ہو جس کا کچھ حصہ اس سے پہلے نازل ہوچکا تھا بہر صورت ذٰلک مبتدا ہے اور الکتٰب خبر یعنی یہ وہ کتاب ہے جس کا وعدہ پیغمبر صاحب کو دیا گیا۔ یا یوں کہو کہ یہی وہ کامل مکمل کتاب ہے جو کتاب کے ساتھ نامزد ہونے کے قابل ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الکتاب صفت ہو اور ما بعد خبر بعضے مفسروں کا بیان ہے کہ یہاں ھذا کا لفظ مضمر ہے اور تقدیر عبارت یوں ہے کہ اے محمد ! یہ جو کچھ تم پر وحی کیا جاتا ہے اور یہ وہ کتاب ہے جس کے اتارنے کا وعدہ ہم نے توریت اور انجیل میں کیا ہے۔ یا یہ وہ کتاب ہے جس کا ہم نے اس سے پیشتر اپنے قول اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا میں تم سے وعدہ کیا تھا اس صورت میں لفظ ذٰلک مبتدا محذوف کی خبر ہوگا اور الکتٰباس کی صفت کتاب ہے تو مصدر لیکن معنی میں ہے مکتوب 2 کے اور اس کے اصلی معنی ملانے اور جمع کرنے کے ہیں۔ لشکر کو اسی واسطے کنیبہ کہا جاتا ہے کہ اس میں آدمی جمع ہوتے ہیں۔ کتاب کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ اس میں ایک حرف دوسرے حرف سے ملتا اور جمع ہوتا ہے ‘ یا اس لیے کہ وہ لکھی جاتی ہے۔ پھر ذٰلک کا لفظ جو بعید مشار الیہ کے لیے مستمل ہوتا ہے یہاں اس سے کتاب کی تعظیم شان کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔
لَا رَیْبَ فِیْہِ یعنی اس کتاب کے دلائل ایسے واضح اور براہین اس درجہ روشن ہیں کہ نظر صحیح کے بعد منصف آدمی اس کے وحی اور من جانب اللہ ہونے میں ذرا شک نہیں کرسکتا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں خبر انشاء کے معنی میں ہے یعنی لوگو ! اس کتاب کے منزل من اللہ ہونے میں شک و شبہ نہ کرو۔ لا ریب میں لا نفی جنس کے لیے ہے ریب اسم ہے اور فیہ خبر یا یوں کہو کہ فیہ صفت اور للمتقین خبر اور ھدی بہ لحاظ حال منصوب یا لا کی خبر تو محذوف مانو جیسے لا ضیر میں اور فیہ کو ھدی کی خبر کہہ دو جو ھدی کے نکرہ ہونے کی وجہ سے اس پر مقدم ہوگئی ہے۔ تقدیر عبارت یوں سمجھو لا رَیْبَ فِیْہ فیہ ھدی (یہ سب توجیہیں گو بجائے خود درست اور بجا ہیں) لیکن بہتر اور سب سے بہتر توجیہ یہ ہے کہ یہ سب مسلسل مگر علیحدہ علیحدہ جملے قرار دیئے جائیں اور ہر جملہ لاحقہ کو سابقہ کی تاکید مانا جائے یہی وجہ ہے کہ دو جملوں کے بیچ میں حرف عطف نہیں لا یا گیا پس ذٰلک الکتٰب ایک ایسا جملہ ہے جو اس بات کا فائدہ دیتا ہے کہ یہ کتاب ایسے اعلیٰ درجہ کی کتاب ہے جو غایت کمال کے ساتھ موصوف ہے اور اس حیثیت سے اس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہوسکتا اسی پر قیاس کرلو ھدی للمتقین کو ابن کثیر نے فیہ کی ہ کو حالت وصل کی حالت میں اشباع سے پڑھا ہے اور نہ صرف فیہ کی ہ کو بلکہ جس خمیری غائب کا پہلا حرف ساکن ہو اسے وصل کی حالت میں اشباع سے یعنی کسرہ کو ی کی آواز میں پڑھا ہے بشرطیکہ حرف ساکن ی ہو ورنہ و کی آواز میں جیسے منہ اسی طرح تمام قراء ہرہ کو اشباع سے پڑھتے ہیں اگر اس سے پہلے کا حرف متحرک ہو۔ پھر اگر وہ متحرک حرف مکسور ہے تو اشباع ی کے ساتھ ہوتا ہے ورنہ و سے جیسے یضربہ اور لہ میں لیکن شرط یہ ہے کہ آخر میں حرف ساکن لاحق نہ ہو کیونکر آخر میں ساکن لاحق ہوگا تو اجتماع ساکنین کی وجہ سے باتفاق تمام قراء اشباع ساقط ہوجائے گا۔ جیسے علیہ الکتب اور لہ الحکم۔ مگر جب کلمہ ناقص ہو یعنی جزم کی وجہ سے آخر کا اصلی حرف حذف ہوگیا ہو مثلاً یُؤدِّہٖ ۔ نُوَلِّہٖ ۔ نُصْلِہٖ فَاَلْقِہٖ ۔ یَتَّقِہٖ ۔ یَاتِہٖ ۔ یَرْضَہٗ اور جب ہ کا پہلا حرف متحرک بھی ہو تو اس میں قراء کا اختلاف ہے جس کی تفصیلی بحث تو ہم آگے چل کر انشاء اللہ اس کے موقع پر کریں گے مگر مجمل یہ ہے کہ بعض قاری ماقبل کے حرف کے تحرک پر نظر کرکے اشباع سے پڑھتے ہیں اور بعض قاری بایں خیال سکون سے پڑھتے ہیں کہ ما قبل کے حرف کی حرکت محذوف حرف کے قائم مقام ہے اور بعض اس لحاظ سے کہ ہ کے پہلے حرف کی حرکت عارضی ہے اور محذوف حرف پر تنبیہ کر رہی ہے اختلاس سے پڑھتے ہیں۔
ھُدً ی لِّلْمُتَّقِیْنَ ( یہ کتاب پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے) یہ تیسرا جملہ ہے جو کتاب یعنی قرآن کے برحق ہونے اور اس میں کسی طرح کے شک و شبہ کو دخل نہ پانے کی تاکید کر رہا ہے یا ان میں کا ہر ایک جملہ یعنی سابق کے پیچھے لاحق اس طرح لگا چلا آتا ہے جس طرح دلیل کے پیچھے مدلل یا علت کے پیچھے معلول ہوا کرتا ہے گویا مطلب یہ ہے کہ چونکہ یہ کتاب حد کمال کو پہنچ گئی ہے لہٰذا اس کے من جانب اللہ ہونے میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا ( اور جب یہ ہے) تو ( پرہیزگاروں کے لیے سر تا پا) ہدایت ہے۔ ہدایت کا استعمال دو معنی میں ہوا کرتا ہے ایک صرف مقصد کا رستہ بتادینے میں دوسرے نہ صرف رستہ بتادینے میں بلکہ مقصد تک پہنچا دینے میں۔ ھُدٰی ہے تو مصدر لیکن معنی میں ہے ہادی کے یا مصدر کا ذکر مبالغۃً ہوا ہے جیسے زیدٌ عدلٌ میں پھر ہدایت کی تخصیص پرہیزگاروں کے ساتھ بہ لحاظ معنی اوّل تو اس لیے ہے کہ قرآنی ہدایت سے خاص کر یہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں یعنی ہرچند کہ قرآنی ہدایت عام طور پر ہر مسلمان اور کافر کو شامل ہے جیسا کہ قرآن کے دوسرے موقع پر ارشاد ہوا ہے۔ ھُدًی للنَّاس لیکن اس سے متمتع ہونا اور فائدہ حاصل کرنا صرف پرہیزگاروں کا حصہ ہے اور معنی ثانی کے اعتبار سے تخصیص کی وجہ ظاہر ہے کیونکہ مقصود کی طرف رہنمائی ان ہی لوگوں کو مفید پڑتی ہے جن کی عقل کا آئینہ صاف اور کدورت زنگ سے مجلّٰی اور روشنی ہوتا ہے اس کی مثال بعینہٖ ایسی ہے جیسے غذائے صالح کہ بدن صحیح کو مفید پڑتی ہے نہ مریض و فاسد کو اس لیے خدا تعالیٰ نے قرآن کے ایک موقع پر یوں ارشاد فرمایا ہے : وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ھُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمنِیْنَ وَ لَا یَزِیْدُ الظَّالِمِیْنَ اِلًّا خَسَارًا ط متقی اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے تئیں ایسی چیز سے محفوظ رکھے جو اسے آخرت میں ضرر رساں اور تکلیف دہ ثابت ہو پھر اگر وہ ( مضرت وہ چیز) شرک ہے اور اس سے آدمی بچتا ہے تو یہ تقویٰ کا ادنیٰ مرتبہ ہے گناہ اور معصیت سے بچنا تقویٰ کا وسطی مرتبہ ہے مگر اعلیٰ درجہ کا متقی وہ ہے جو لایعنی چیزوں سے منہ موڑ کر ذکر الٰہی میں مستغرق ہو اسی تقویٰ کی طرف اشارہ ہے اس آیت میں : یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہٖ وَ لَا تُمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُسْلِمُوَْنَ ۔ حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں اصل میں تقویٰ اس کا نام ہے کہ تو اپنے نفس کو کسی سے بہتر و برتر نہ دیکھے شہر بن حوشب کہتے ہیں متقی وہ ہے جو حرام اور ناجائز باتوں میں پڑجانے کے خوف سے ان چیزوں کو ترک کر بیٹھے جن میں کوئی شرعی خطرہ نہ ہو صحیحین میں بروایت ابن عدی بحوالہ حضرت نعمان بن بشیر آیا ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ نے فرمایا حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی اور ان دونوں کے درمیان میں بہت سے مشتبہ امور ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جان سکتے تو جو شخص مشتبہ امور سے بچ گیا اس نے اپنی آبرو اور دین کو بےلوث اور پاک کرلیا اور جو مشتبہ امور میں پڑگیا وہ حرام میں جا پڑا مثلاً اگر کوئی چرواہا کسی محفوظ ممنوع چراگاہ کے گردا گرد جانور چرارہا ہو تو قریب ہے کہ وہ چراگاہ میں جا پڑے سنو ! اور غور سے سنو کہ ہر بادشاہ کا ایک ممنوع باڑہ ہوتا ہے اور زمین پر خدا کا ممنوعہ علاقہ اس کے محارم ہیں سنو ! جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جب وہ درست اور اصلاح یافتہ ہوتا ہے تو سارا بدن درست اور صحیح رہتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے سنو ! وہ گوشت کا لوتھڑا دل ہے۔
طبرانی صغیر میں روایت کرتے ہیں کہ حلال و حرام دونوں ظاہر ہیں تو جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے ترک کر کے غیر مشکوک کی طرف رخ کر۔
میں (مفسر ‘ 12) کہتا ہوں حدیث میں جو دل کی صلاحیت اور درستی کا ذکر ہوا ہے اس سے اصلاح صوفیہ (رح) کے مطابق فنائے قلب مراد ہے یعنی دل کی صلاحیت یہی ہے کہ اسے فنا فی اللہ کردیا جائے اور یہ مراتب ولایت میں سے پہلا مرتبہ اور درستی جسم کو مستلزم ہے نیز ارتکاب محرمات کے خوف کے سبب مشتبہ امور سے تحفظ اسی کی بدولت حاصل ہوتا ہے الغرض تقویٰ ولایت کو لازم ہے (اور ہر متقی بشرطیکہ وہ کامل اور پورامتقی ہو ولایت کے ممتاز مرتبہ تک پہنچتا اور ضرور پہنچتا ہے) ان ہی متقیوں کی بابت خدا نے فرمایا ہے : اِنْ اَوْلِیَآؤُہٗ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ یعنی خدا کے ولی تو صرف پرہیزگار لوگ ہیں لیکن اس آیت میں مجازاً اس شخص کو متقی کہا گیا ہے جو تقویٰ کے دروازے کو کھٹ کھٹا رہا ہے ( اور گو ابھی تقویٰ کے لباس سے آراستہ نہیں ہوا مگر آخر کار اس کے درجے تک ضرور پہنچ جانے والا ہے) اس صورت میں ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ کے بالکل ویسے ہی معنی ہونگے جو من قتل قتیلاً فلہ سلببہ کے ہیں (یعنی جس طرح اس حدیث میں اس شخص کو مقتول کہا گیا ہے جو بالفعل نہیں مگر آئندہ مقتول ہوگا اسی طرح آیت میں اس شخص کو متقی کہا گیا ہے جو آئندہ تقویٰ کے مرتبہ کو پہنچے گا) ۔
Ayah 2:3اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بالْغَیْبِ یہ المتقین کی صفت ہے پھر اگر تقویٰ کی تفسیر شرک سے بچنے کے ساتھ کی جائے گی تو صفت احترازیہ ہوگی ورنہ کاشفہ یعنی تمام اصول اعمال کو جو ایمان اور نماز اور زکوٰۃ میں شامل ہوگی ان چیزوں کو اصول اعمال کہنے کی یہ وجہ ہے کہ ایمان ہر عمل کا سر ہے اور نماز دین کا ستون اور زکوٰۃ اسلام کا پل اور ممکن ہے کہ صفت مادحہ ہو پھر اس صورت میں الَّذِیْنَ ۔۔ مبتدا ہوگا اور اُوْلٰءِکَ عَلَی ھُدًی خبر۔ ابو جعفر 3 اور ابو عمر و 4 اور ورش 5 نے یُؤْمِنُوْنَ کو واؤ سے پڑھا ہے جو ہمزہ سے بدلا ہوا ہے اسی طرح ابو جعفر ہر ساکن ہمزہ کو حذف کرتے اور ضمہ کے بعد واقعہ ہو تو واؤ سے اور کسرہ کے بعد واقع ہو تو یا سے بدلتے ہیں مگر انبءھم اور نبءھم اور نبئنا کو اس قاعدہ سے مستثنیٰ کرتے ہیں۔ ابو عمرو بغیر استثناء سب جگہ ساکن ہمزہ کو حذف کرتے ہیں مگر جہاں کہیں حالت جزم میں ہمزہ ساکن ہو یا وہ کلمہ ایک لغت سے نکل کر دوسرے لغت میں منتقل ہوگیا ہو تو حذف نہیں کرتے جیسے یھیئ اور مؤصَدَۃٌ اور رئیا وغیرہ۔ ورش اس ساکن ہمزہ کو حذف کرتے ہیں جو فعل میں فا کلمہ کی جگہ واقعہ ہو لیکن نودی اور نؤتِہٖ کو مستثنیٰ بتاتے ہیں فعل میں عین کلمہ کی جگہ ہمزہ واقعہ ہو تو بخر باب رؤیا اور مکسور العین فعل کے کہیں حذف نہیں کرتے۔ ایمان کے لغوی معنی تصدیق کے ہیں جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَا اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا ( یہاں مؤمن بمعنی مصدق ہے) اور یہ تصدیق دل اور زبان دونوں سے تعلق رکھتی ہے لیکن شرعی ایمان یہ ہے کہ دل اور زبان دونوں سے اس چیز کی تصدیق کی جائے جس کو جناب نبی عربی ﷺ خدا کے ہاں سے لائے اور جس کا علم یقینی ہو یہی وجہ ہے کہ دلی تصدیق بغیر لسانی تصدیق کے معتبر نہیں البتہ حالت اکراہ اور اجبار میں معتبر ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے : وَ جَحَدُوا بِھَا وَاسْتَیْقَنَتَھَا اَنْفُسُھُمْ (یعنی باوجودیکہ فرعونیوں کے دل موسوی معجزوں کا یقین کرچکے تھے مگر انہوں نے ہیکڑی اور شیخی کے مارے ان کو نہ مانا) دیکھئے یہاں چونکہ دلی تصدیق کے ساتھ زبانی تصدیق نہ تھی اس لیے دلی تصدیق کا اعتبار نہیں کیا گیا اور فرمایا : یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَاءَھُمْ (یعنی یہودی جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اسی طرح ( ہمارے) ان (پیغمبر محمد ﷺ کو بھی پہنچانتے ہیں) یہاں بھی یہودیوں کی دلی تصدیق کا اعتبار نہیں کیا گیا ہاں حالت اکراہ میں صرف تصدیق قلبی معتبر ہوسکتی ہے جیسا کہ قرآن کے ایک موقع پر ارشاد ہوا ہے : اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبہٗ مُطْمَءِنٌّ بالْاِیْمَانِ (یعنی جو شخص کفر پر مجبور کیا جائے مگر اس کا دل ایمان کی طرف سے مطمئن ہو تو اس سے کچھ مواخذہ نہیں)
خلاصہ یہ کہ تصدیق قلبی بدون تصدیق زبانی کے حالت اکراہ میں معتبر ہے لیکن زبانی تصدیق بغیر دلی تصدیق کے مطلقاً کسی حالت میں معتبر نہیں جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے واللّٰہُ یَشْھَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَکَاذِبُوْنَ ( یعنی اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق بیشک جھوٹے ہیں) رہے اعمال وہ ایمان میں داخل نہیں ہیں اسی وجہ سے یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ کا یُوْمِنُوْنَ پر اور عَمِلُوا الصّٰلِحٰت کا اٰمَنُوْا پر عطف صحیح ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت عمر بن الخطاب سے روایت ہے کہ ہم ایک دن آنحضرت ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ دفعتاً ایک شخص نمودار ہوا جس کے کپڑے نہایت سفید اور بال بہت سیاہ تھے نہ تو اس پر سفر کا کچھ اثر معلوم ہوتا تھا اور نہ ہم میں سے کوئی اسے پہچان ہی سکتا تھا غرض کہ وہ یہاں تک بڑھا چلا آیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس آگیا اور اپنے زانو حضرت ﷺ کے زانو سے ملا کر بیٹھ گیا اور اپنی دونوں ہتھیلیاں حضرت کے زانو پر رکھ دیں اور عرض کیا اے محمد ﷺ ! مجھے اسلام کی حقیقت بتلائیے آپ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ خدا کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں اور محمد رسول خدا ﷺ ہیں اور نماز ٹھیک طور پر پڑھ ‘ زکوٰۃ دے ‘ رمضان کے روزے رکھ ‘ اگر کسی سواری کا مقدور ہو تو خانہ خدا کا حج کر۔ اس شخص نے کہا آپ ﷺ نے بالکل سچ فرمایا۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ یہ شخص خود ہی تو سوال کرتا ہے اور خود ہی تصدیق کرتا ہے پھر اس نے کہا حضرت ! مجھے ایمان کی حقیقت بتلائیے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تو خدا کو اس کے فرشتوں کو اس کی کتابوں کو اس کے پیغمبروں کو روز قیامت کو تقدیر کے برے بھلے کو دل سے مانے۔ اس نے کہا آپ ﷺ نے ٹھیک فرمایا پھر کہا اب احسان کی حقیقت سے اطلاع دیجئے۔ ارشاد ہوا احسان یہ ہے کہ تو خدا کی اس طرح عبادت کرے جیسے کہ اس کو دیکھ رہا ہے اور اگر اس طرح نہ ہو سکے تو ( یہ یقین رکھ کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے پھر اس نے کہا قیامت کے متعلق فرمائیے کہ کب برپا ہوگی ارشاد کیا جواب دینے والا پوچھنے والے سے اس کو کچھ زیادہ نہیں جانتا (یعنی قیامت کی ناواقفی میں میں اور آپ دونوں برابر ہیں) اس نے کہا تو اس کے پتے ہی بتادیجئے فرمایا قیامت کی نشانی یہ ہے کہ لونڈی اپنے مالک اور آقا کو جنے۔ (مطلب یہ کہ قیامت کے قریب لونڈی کے بچوں کی کثرت ہوگی) دوسری نشانی یہ ہے کہ ننگے پاؤں برہنہ بدن محتاج بکریوں کے چروا ہے باہم مقابلہ میں اونچی اونچی عمارتوں پر فخر کرینگے۔
حضرت عمر کہتے ہیں اس کے بعد وہ شخص چلا گیا میں تھوڑی دیر تک حضرت کی خدمت میں بیٹھا رہا۔ حضرت نے مجھ سے فرمایا عمر ! تم جانتے ہو یہ سائل کون تھا میں نے عرض کیا خدا اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں فرمایا جبرئیل تھے اور اس غرض سے آئے تھے کہ تمہیں تمہارے دین کی تعلیم دیں۔ یہی روایت شیخین نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے قدرے لفظی اختلاف کے ساتھ نقل کی ہے چناچہ اس روایت میں بجائے وَ اَنْ تَرَی الْحفَاۃَ الْعُرَاۃَ ۔۔ کے یہ الفاظ آئے ہیں اِذَْا رَأیْتَ الْحُفَاۃَ الْعُرَاۃَ الصُّمَّ الْبُکْمَ مُلُوْکَ الْاَرْض فِی خَمْسٍ لَا یَعْلَمُھُنَّ اِلَّا اللّٰہ ثُمَّ قَرَءَ اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ [ الْایۃَ ] (یعنی جناب نبی کریم ﷺ نے سائل (جبرئیل ( علیہ السلام) سے فرمایا کہ قیامت کے برپا ہونے کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ تو برہنہ جسم برہنہ پا۔ گونگوں بہروں کو زمین کا بادشاہ اور ملک کا حکمران دیکھے گا قیامت منجملہ ان پانچ چیزوں کے ہے جن کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا ازاں بعد حضور نے (سورۂ لقمان کے آخیر کی) یہ آیت پڑھی اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃ [ الایۃ ] ( خدا ہی کو قیامت کے آنے کا علم ہے اور وہی ایک وقت مقرر پر جس کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ مینہ برساتا اور نرو مادہ جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے وہی اس کو جانتا ہے اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ خود کل کیا کرے گا اور کوئی شخص یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بیشک اللہ سب باتوں کا جاننے والا اور باخبر ہے) الغرض حدیث مذکورہ صاف طور پر بتارہی ہے کہ اسلام ظاہری اعمال کا نام ہے اور یہی معنی ہیں آیت قالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَّمْ تُوْمِنُوْا وَ لٰکِنْ قُولُوْا اَسْلَمْنَا کے ( یعنی عرب کے دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اے پیغمبر تم ان سے کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے ہاں یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوگئے) قرآن و حدیث کے اکثر مواقع سے ایمان و اسلام کی باہمی مغائرت اور تضاد کا ثبوت ملتا ہے اور ظاہر ہوتا ہے کہ ایمان اور چیز ہے اور اسلام اور چیز لیکن قرآن و حدیث کے اکثر مواقع پر اسلام کا اطلاق ایمان پر بھی ہوا ہے جس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دونوں میں کچھ تفاوت و فرق نہیں جیسا کہ اس آیت میں : اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗ اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ( یہاں باتفاق علماء امت اسلام سے ایمان مراد ہے) خلاصہ یہ کہ شرعی اصطلاح میں اسلام کا لفظ ظاہری اعمال اور باطنی افعال دونوں معنوں میں مشترک ہے۔ غیب مصدر ہے اور اس کا تعلق یؤمنون کے ساتھ مبالغۃً ہوا ہے جیسے شہادت کے لفظ کا قال اللہ تعالیٰ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ غیب سے مراد وہ چیزیں ہیں جو آدمیوں کی آنکھوں سے اوجھل ہیں۔ مثلاً خدا کی ذات وصفات، فرشتے، آدمیوں کا میرے پیچھے زندہ اٹھ کھڑا ہونا، جنت و دوزخ پل صراط۔ میزان عذاب قبر وغیرہ۔
بِالْغَیْبِ اگرچہ بظاہر ترکیباً جار مجرور واقع ہوا ہے لیکن حقیقت میں یؤمنون کا مفعول بہ ہے اور با زائد ہے یا یوں کہو مصدر فاعل کے معنی میں ہے اور یُوْمِنُوْنَکے فاعل سے حال واقع ہوا ہے۔ تقدیر عبارت یوں ہے یُؤْمِنُوْنَ غَاءِبِیْنَ عَنْکُمْ اس بنا پر جملے کے معنی یہ ہونگے کہ متقی وہ صاف باطن لوگ ہیں جو اے مسلمانو ! تم سے غائب ہونے کی حالت میں بھی ویسے ہی ایمان کا دلی اعتراف کرتے ہیں جیسے منہ در منہ اور سامنے وہ ان بد باطن اور دغا باز منافقوں جیسے نہیں ہیں جو مسلمانوں کے سامنے تو ان کی رضا جوئی کے لیے ایمان کا اقرار کرتے ہیں مگر پیٹھ پیچھے صاف انکار کر جاتے ہیں یا یوں کہئے کہ مؤمن بہ ( یعنی رسول اللہ ﷺ سے غائب ہونے کی حالت مراد ہے۔ اس وقت مفعول بہ سے حال ہوگا عبارت کا مطلب صاف ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ جس شخص نے جناب نبی کریم ﷺ کو آنکھوں سے دیکھا اور آپ کی پاک صحبت میں حاضر ہوا اس پر آپ کی نبوت آفتاب سے زیادہ واضح اور ظاہر تھی اور اس کا حضور پر ایمان لانا آپ کے دعوے کی تصدیق کرنا قابل تعریف نہ تھا ایمان تو اس شخص کا قابل تعریف اور لائق مدح وثنا ہے جو نادیدہ آپ پر ایمان لایا مجھے اس قادر مطلق خدا کی قسم جس کے سوا کوئی پرستش کا استحقاق نہیں رکھتا کوئی متنفس ایمان میں اس سے بہتر و افضل نہیں ہوسکتا جو بن دیکھے حضور ﷺ پر ایمان لاتا اور آپ کے دعویٰ کی تصدیق کرتا ہے پھر انہوں نے استشہادًا یہ آیتیں یعنی ا ل م ر سے اَلْمُفْلِحُوْنَ تک پڑھیں۔
وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ اور نماز پڑھتے ہیں یقیمون کے معنی یحافظون کے ہیں یعنی متقی وہ لوگ ہیں جو نماز کی کماحقہ نگرانی کرتے ہیں اس کی حدود و شرائط بجا لاتے اور ارکان اور صفات ظاہرہ یعنی سنن وآداب اور صفات باطنہ یعنی خشوع و خضوع اور دلی توجہ سے ادا کرتے اور اوقات کی پوری حفاظت کرتے ہیں اس وقت یُقِیْمُوْنَ اَقَامَ الْعُوْدَ کے محاورہ سے ماخوذ ہے جب کوئی لکڑی کو سیدھا اور سڈول کرلیتا ہے تو عرب اَقَامَ الْعُوْد بولا کرتے ہیں یا یُدِیْمُوْنَ اور یُوَاظِبُوْنَ کے معنی میں ہے یعنی وہ نماز پر ہمیشگی کرتے اور پابندی اوقات کے ساتھ ہمیشہ وقت پر ادا کرتے ہیں اس صورت میں یُقِیْمُوْنَ قَامت السوق سے مشتق ہوگا جب بازار پر رونق اور ترقی پر ہوتا ہے تو اہل محاورہ اسے قامت السوق سے تعبیر کیا کرتے ہیں۔ صلوٰۃ کے اصلی معنی ہیں دعاء اور چونکہ نماز میں دعاء بھی شامل ہوتی ہے اس لیے اسے صلوۃ کہتے ہیں۔ ورش نے صلوٰۃ کی لام کو پُر کرکے پڑھا ہے جبکہ وہ صاد یا طاء یا ظاء کے بعد واقع ہو اور نیز فتح کی حرکت رکھتا ہو جیسے الصلوٰۃ مصلّٰے۔ اظلم۔ الطلاق۔ معطل۔ بطل وغیرہ مگر ورش کے سوا باقی قاریوں نے باریک کرکے پڑھا ہے البتہ لفظ اللہ کے لام کو پُر کرکے پڑھنے میں تمام قراء کا اتفاق ہے بشرطیکہ لام کا پہلا حرف مفتوح یا مضموم ہو۔
وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ اور جو کچھ ہم نے ان کو دے رکھا ہے اس میں سے کچھ راہ خدا میں بھی خرچ کرتے ہیں رزق کے لغوی معنی ہیں نصیب اور حصہ جیسا کہ آیۃ وَ تجعَلُوْنَ رزقَکُمْ اَنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَ میں (رزق سے یہی لغوی معنی حصہ ( بہرہ) مراد ہیں مگر عرف میں رزق کہتے ہیں اس چیز کو جس سے جاندار فائدہ اٹھائے۔ رہا انفاق اس کے اصلی معنی کسی چیز کو ہاتھ سے یا ملک سے نکال دینے کے ہیں اور اسی سے نفاق السوق لیا گیا ہے یعنی رائج اور پر رونق بازار اور یہ اس لیے کہ بازار میں مال و اسباب نکالا جاتا اور بیع کے لیے پیش کیا جاتا ہے لیکن اصطلاح میں انفاق کہتے ہیں نیک راہ میں مال صرف کرنے کو۔ یہ جملہ ان مشرکین عرب کے بارے میں نازل ہوا ہے جو جناب نبی عربی ﷺ پر ( بےردو کد) ایمان لائے تھے۔
Ayah 2:4وَالَّذِیْنَ یُوْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ (یعنی قرآن) وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ اور اے پیغمبرمتقی وہ ہیں کہ جو (قرآن) تم پر اترا ہے اس پر اور جو کتابیں یعنی) تورات و انجیل اور وہ تمام صحیفے جو انبیاء (علیہم السلام) پر تم سے پیشتر اترے ہیں سب پر ایمان لاتے ہیں ان سے مومنین اہل کتاب مراد ہیں جیسے کہ ابن جریر نے حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے اس تقدیر پر دونوں آیتیں متقین کی تفصیل واقع ہونگی یا ان سے وہی پہلے لوگ مراد ہیں جیسا کہ شاعر کے اس شعر میں اِلَی الْمَلِکِ الْقَرْمِ وَ ابْنِ الھُمَامِ 228 وَ لَیْثِ الْکَتِیْبَۃِ فِی الْمُزْدَحَمِ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے ایمان کی دونوں شقیں جمع کرلی ہیں ان چیزوں پر بھی ایمان لاتے ہیں جن کو عقل ادراک کرسکتی اور جو ارح محسوس کرسکتے ہیں اور ساتھ ہی شرعی امور بھی بجا لاتے ہیں اور ان باتوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جن کی طرف بجز آلۂ سمع کے اور کسی حس کو راہ نہیں ملتی یا یوں کہو کہ یہ دونوں جملے عطف خاص علی العام کے قبیل سے ہیں جیسے تَنَزَّلُ الْمَلٰءِکَۃُ وَالرُّوْحُ میں والرُّوْحُ کا عطف المَلَاءِکَۃُ پر تعظیم شان کی غرض سے ہوا ہے۔ شیخین نے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت کی ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا : تین شخصوں کے لیے دوہرے اجر ہیں منجملہ ان کے ایک وہ اہل کتاب ہے جو اپنے پیغمبر پر بھی ایمان رکھتا ہے اور محمد ﷺ پر بھی۔ الحدیث
انزال کہتے ہیں کسی چیز کے اوپر سے نیچے کی طرف انتقال کرنے کو اور یہاں کلام الٰہی کا جبرئیل (علیہ السلام) کے توسط سے لوح محفوظ سے زمین پر منتقل ہونا مراد ہے یا بلحاظ رتبہ اور قدرو منزلت کے علو و سفل مقصود ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم سے علم بشر کی طرف نازل کیا گیا۔ جو مد دو کلموں کے بیچ میں واقع ہو اسے ابو جعفر اور ابن کثیر اور یعقوب اور سو سی قصر سے پڑھتے ہیں اور قالون اور دوری قصر اور مد دونوں سے۔ ان کے علاوہ تمام قراء مد سے ہی پڑھتے ہیں اسی لیے اس قسم کے مد کو مدِ جائز اور مد منفصل کہتے ہیں اس کے سوا ایک اور مد ہے جسے مد متصل کہتے ہیں یعنی وہ مد جو کلمہ واحد میں حرف مد کے بعد واقع ہوتا ہے جیسے السَّمَآءُ الْمَآء وغیرہ کلمہ کو کھینچ کر پڑھنے میں کسی کا اختلاف نہیں بلکہ تمام قراء مد سے پڑھنے میں متفق ہیں اور اس مد کا نام مد واجب کہتے ہیں۔ مد متصل اور اسی طرح مد منفصل کی مقدار کشش میں البتہ قراء کا اختلاف ہے۔ ابن کثیر اور ابو عمر و اور قالون مد متصل کو تین حرکتوں کی مقدار کھینچ کر پڑھتے ہیں اور ابن عامر اور کسائی بقدر چار حرکتوں کے عاصم بقدر پانچ حرکتوں کے ورش اور حمزہ بقدر چھ حرکتوں کے مگر یہ اختلاف اس مد میں ہے جہاں حرف مد کے بعد ہمزہ ہو کیونکہ جب مد کے بعد حرف ساکن واقع ہوگا جیسے وَلَا الضَّآلِّیْنَ اور ا ل م ر تو اسے تمام قراء چھ حرکتوں کی مقدار کھینچ کر پڑھتے ہیں اور اس قسم کے مد کو مد لازم کہتے ہیں لیکن جب حرف ساکن کو وقف عارض ہوجائے تو تمام قراء اس بات پر متفق ہیں کہ قاری مختار ہے چاہے تو بقدر دو حرکتوں کے کھینچ کر پڑھے چاہے بقدر چار حرکتوں کے یا چھ حرکتوں کے۔ البتہ جو حرف ساکن اصل میں مضموم ہو جیسے نَسْتَعِیْن اسے بقدر سات حرکتوں کے کھینچ کر پڑھنے میں سب کا اتفاق ہے۔ واللہ اعلم
وَ بالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ ( اور وہ آخرت 1 کے گھر کا بھی یقین رکھتے ہیں) دنیا مشتق ہے دَنُوّ بمعنی قرب سے ( اور چونکہ وہ حال سے قریب اور بہت ہی قریب ہے اس لیے اسے دنیا کہتے ہیں اسی طرح آخرت کو اس کے متاخر اور پیچھے ہونے کی وجہ سے آخرت کہتے ہیں اصل میں دنیا اور آخرت دونوں دو صفتیں تھیں اب ان پر اسمیت غالب آگئی اور استعمال میں دنیا اور آخرت دونوں اسم کہلائے جانے لگے۔ ایقان کہتے ہیں استحکام علم کو یعنی ازروئے نظر اور استدلال کے نفی شک کے بعد جو آدمی کو علم کا ایک مرتبہ اور مضبوط و استوار درجہ حاصل ہوجاتا ہے اسے یقین اور ایقان سے تعبیر کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ خدا موقن کے نام سے نہیں پکارا جاسکتا 2 ۔ امام ورش بالْاٰخِرَۃِ کو نقل حرکت ہمزہ اور پھر حذف ہمزہ دونوں سے پڑھتے ہیں (یعنی اوّل حمزہ کی حرکت لام کو دیتے پھر ہمزہ کو گراد یتے ہیں اور یہ کچھ اسی لفظ کے ساتھ خصوصیت نہیں ہے بلکہ جس کلمہ میں ہمزہ متحرکہ واقع ہو ابتدائے کلمہ میں اور اس سے پہلے کا حرف یعنی دوسرے کلمہ کا اخیر حرف ساکن تو ہو مگر مدولین نہ ہو تو ہمزہ کی حرکت ماقبل کے ساکن حرف کو دے کر اسے حذف کردیتے ہیں عام ہے کہ حرف ساکن نون تنوین یا لام تعریف یا اس کے علاوہ کوئی اور حرف ہو جیسے مِنْ شَیْءٍ اِذ کَانُوْا مُبِیْنٌ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ کُفُوًا اَحَدٌ بالاٰخِرَۃِ ۔ اَلْاَرْضِ الْاَوْلیٰ مگر امام یعقوب کے پیروؤں نے کِتَابِیَہِ اِنِّی ظَنَنْتُکو اس قاعدے سے مستثنیٰ کرلیا ہے اور عادًانِ الْاُوْلٰی اور اَلْاٰن میں قراء کا اختلاف ہے بعض تو یہاں بھی ورش کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں اور بعض اختلاف۔ پھر ورش کبھی تو اس کلمہ کو مد طویل یعنی زیادہ کھینچ کر پڑھتے ہیں کبھی بہت ہی کم ‘ کبھی متوسط اور اسی طرح حرف مدہ ہمزہ کے بعد واقع ہو خواہ وہ ہمزہ لفظوں میں موجود اور ظاہر ہو جیسے اٰمَنَ اور اُوْمِنَ اور اِیْمَانًا میں یا نقل حرکت کے بعد حذف ہوگیا ہو جیسے بالْاٰخِرَۃِ اور قل اوحی مَنْ اٰمَنَ میں یا کسی حرف سے بدل ہوگیا ہو جیسے ھٰؤلآءِ اٰلِھَۃٌ میں کو ورش ھٰؤ لٓاءِ یا الِھَۃٌ یعنی ہمزہ کو یا سے بدل کر مع المد پڑھتے ہیں یا مسہلہ ہو جیسے جاءَ اٰلَ الایَاء اسَراءِیْلَ تو ورش ان سب صورتوں میں ابدال اور مد دونوں سے پڑھتے ہیں مگر بَنِی اِسْرَاءِیْل کے لفظ کو اس قاعدے سے بایں وجہ مستثنیٰ بتاتے ہیں کہ اس میں پے در پے اور متواتر تین مدوں کا ہونا لازم آتا ہے اور یہ نہ صرف زبان پر ثقیل اور گراں ہی گذرتا ہے بلکہ صحیح طور پر ادا کرنا مشکل اور سخت مشکل پڑجاتا ہے) بعض (قراء جو فن قراۃ میں اعلیٰ درجہ کا کمال رکھتے اور مقتدائے فن تسلیم کئے جاتے ہیں) اس قاعدہ میں ورش کی مخالفت کرتے ہیں اور بجز ہمزہ ثابۃ کہ اور کسی موقع پر مد کرنا جائز نہیں بتاتے حمزہ بروایت خلف بالْاٰخِرَۃِ کے لام کو سکتہ سے پڑھتے ہیں اور یہ قاعدہ نہ صرف اسی صورت کے ساتھ مخصوص بتاتے ہیں بلکہ جو ساکن بشرطیکہ وہ مدہ نہ ہو اور اسکے بعد ہمزہ آجائے تو وہ اس پر سکتہ اور ایک نہایت لطیف سکتہ کرتے ہیں ( جس میں سننے والے کو) قطع اور فصل کا احتمال بھی نہیں ہوتا جیسے ھَلْ اَتٰکَ اور عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اور اِبْنَی اٰدَمَ اور خَلَوْا اِلٰی شَیَاطِیْنِھِمْ اور اٰلْاٰخِرَۃِ الْاَرْضِ وغیرہ حمزہ ہی سے یہ بھی روایت نقل کی جاتی ہے کہ وہ لام تعریف اور شیء اور شیئاً کے علاوہ اور کہیں سکتہ کو جائز نہیں بتاتے ضمیر ھُم حصر کے فائدہ کی غرض سے یوقنوُْنَ پر مقدم کی گئی ہے ورنہ شان عبارت کا تقاضا تھا کہ یوں کہا جاتا وَھُمْ بالْاٰخِرَۃِ یُوْقِنُوْن یعنی آخرت کے گھر کا یقین صرف ان ہی پرہیز گاروں کو حاصل ہے جن کی چند صفتیں اوپر مذکور ہو چکیں اور اس طرح کا یقین ان کے علاوہ اور لوگوں کو مثلاً اہل کتاب کو ہر گزمیسر نہیں کیونکہ اعتقاد واقع کے مطابق نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ( کھلم کھلا) کہتے ہیں۔ لَنْ یَّدْخُلُ الْجَنَّۃَاِلَّا مَنْ کَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصَارٰی۔
Ayah 2:5اُوْلٰٓءِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ (یہی لوگ اپنے پروردگار کے سیدھے رستہ پر ہیں) یہ جملہ محل رفع میں ہوگا اگر اَلَّذِیْن یُؤْمِنُوْنَ بالْغَیْبِ اور الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ میں سے ایک موصول کو المتَّقِیْن سے جدا اور منفصل قرار دیا جائے گویا یہ صفات مذکورہ پر مرتب ہونے والا نتیجہ ہوگا کیونکہ اسم اشارہ کا صفات کے بعد ذکر کرنا گویا موصوف کا اس کے صفات سمیت اعادہ کرنا اور مکرر مذکور کرنا ہے۔ (1) [ اولٰءِکَ اسم اشارہ ہے اس سے ان مؤمنوں کی طرف اشارہ ہے جن کی صفات کا ذکر اوپر کردیا گیا ہے گویا اختصار کلام کے پیش نظر موصوف اور صفات کے مجموعہ کو لفظ اولٰءِکَسے تعبیر کیا اور شیخ عبد القادر جرجانی نے صراحت کی ہے جس کو صاحب مطول نے بھی نقل کیا ہے کہ کسی حکم کا کسی وصف پر ترتب ظاہر کرتا ہے کہ وہ وصف حکم کی علت ہے جیسے اَحْسن اِلٰی زَیْدٍ صَدِیْقِکَ اپنے دوست زید کے ساتھ بھلائی کر۔ اس مثال میں زید کا دوست ہونا حسن سلوک کے حکم کی علت ہے۔ پس آیت کا منشا بھی یہی ہے کہ ایمان بالغیب ‘ ایمان بالانبیاء والکتب ‘ ایمان بالآخرۃ ‘ اقامت صلوٰۃ اور اداء زکوٰۃ، ہدایت یافتہ ہونے کے اسباب موجب ہیں۔ ان اوصاف کا تقاضا ہے کہ ان کے دل ہدایت یافتہ ہوں۔] اور اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ صفات مذکورہ اس حکم کی واجب کرنے والی ہے اور کلمہ علیٰ میں اس بات کا پتہ دیا گیا ہے کہ متقی لوگ ہدایت خداوندی پر متمکن اور مستقر ہیں اور لفظ ھدی صرف تعظیم کے ثبوت کے لیے نکرہ کی صورت میں لایا گیا ہے اور چونکہ ہدایت کی توفیق صرف خدا ہی کی طرف سے ہے اس لیے مِنْ رَبِّھِمْ کہہ کر تعظیم کی تاکید کردی گئی۔
وَ اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ( اور یہی لوگ آخرت کے گھر میں من مانی مرادیں پائیں گے) یعنی تمام مقصودوں پر فتحیاب ہونگے اور ہر قسم کی کامیابیاں انہیں حاصل ہوں گی۔ مُفْلِحُوْن فَلَحٌ مصدر سے بنایا گیا ہے اور فَلَحٌ۔ فَلْقٌ۔ فَلْذٌ۔ فَلْیٌ سب مرادف لفظ ہیں اور سب مفہوم شق یعنی جانب اور قطع کے مفہوم پر دلالت کرتے ہیں گویا مُفْلحْ یعنی کامیاب ہونے والا شخص اپنے غیر سے علیحدہ اور یکسو ہوجاتا ہے اور ان دونوں میں فرق بعید اور دور دراز کی مسافت واقع ہوجاتی ہے ( مطلب یہ ہے کہ) پرہیزگاروں کے لیے (جن کا ذکر اوپر ہوا) دنیا و آخرت دونوں میں ہر طرح کی خیر و خوبی اور فلاح و فوز موجود ہے اور وہ قطعی و یقینی طور پر کامیاب ہونے والے ہیں۔ اسم اشارہ مکرر اور دوبارہ اس تنبیہ کے لیے لایا گیا ہے کہ پرہیزگاروں کا صفات مذکورہ کے ساتھ متصف ہونا اس بات کو مقتضی ہے کہ ہدایت اور فلاح دونوں میں سے ہر ایک ان کے لیے ثابت ہے اور چونکہ دونوں جملے یعنی اُوْلٰءِکَ عَلٰی ھُدیً الخ اور اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ بلحاظ مفہوم مختلف تھے اس لیے بیچ میں حرف عطف (یعنی و) لایا گیا بخلاف اُوْلٰٓءِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ اُوْلٰءِٓکَ ھُمُ الْغَافِلُوْنَ کے کہ یہاں دونوں جملوں میں اختلاف نہ تھا اس لیے حرف عطف بیچ میں نہیں لایا گیا۔ و اُوْلٰءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُونَ ) میں ھُم ضمیر فصل ہے یعنی خبر کو صفت سے جدا اور ممتاز کرنے کے لیے لائی گئی ہے۔ اور اس کا فائدہ تاکید نسبت اور اختصاص ہے یا یوں کہئے کہ ( ضمیر ھُم) فصل کے لیے نہیں ہے بلکہ مبتدا واقع ہوئی ہے اور اَلْمُفْلِحُوْنَ اس کی خبر اور دونوں جملہ ہو کر اُوْلٰءِکَ کی خبر ہے۔ فرقہ معتزلہ نے اسے ضمیر حصر قرار دے کر استدلال کیا ہے کہ یہ جملہ مرتکب کبیرہ کے ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہنے پر دلالت کرتا ہے لیکن ( حقیقت میں ان کا یہ تمسک و استدلال نہایت ضعیف و کم زور اور نہ صرف کمزور بلکہ) مردود ہے (اور اس کی وجہ یہ ہے کہ) المفلحونَ سے مراد وہ لوگ ہیں جو فلاح و خیر میں کامل اور مکمل ہیں۔ ہاں اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ جو لوگ ان جیسے نہ ہوں ان کو کمال درجہ کی خیر و فلاح نصیب نہیں ہوسکتی۔ نہ یہ کہ مطلقاً فلاح میسر ہو ہی نہیں سکتی پھر جب خدا تعالیٰ ذکر قرآن کے ضمن میں یا مستقلاً ( اگر موصول یعنی اَلَّذِیْن کو اَلْمُتَّقِیْنَ سے جدا اور منفصل قرار دیا جائے) اپنے بر گزیدہ اور خاص بندوں کا اور دوستوں کا ذکر فرما چکاتو ان کے پیچھے اب ان سرکش اور متمرد لوگوں کا ذکر کرتا ہے جو پہلی قسم کے لوگوں کے بالکل مخالف اور ضد ہیں اور اختلاف سیاق کی وجہ سے کچھ ضرورت نہ تھی کہ حرف عطف لایا جاتا چناچہ ارشاد ہوا۔