2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 2:1
تفسیر : حروف مقطعات کی بحث : (1) ” الم “ علامہ شعبی (رح) اور ایک جماعت کا قول ہے کہ الم اور بقیہ حروف ھجاء (مقطعات) جو سورتوں کے آغاز میں ہیں ۔ متشابہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ساتھ مخصوص فرما دیا ہے اور یہ حروف قرآن کریم کا (خصوصی) راز ہیں ، ہم ان حروف کے ظاہر پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے اندرونی علم کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں ، ان حروف کے ذکر کرنے کا فائدہ ان پر ایمان لانے کی طلب ہے ۔ حضرت سیدنا ابوبکر الصدیق فرماتے ہیں ہر کتاب میں ایک خاص راز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو راز رکھا ہے وہ سورتوں کے آغاز میں آنے والے حروف ہیں ۔ حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ ہر کتاب کے کچھ منتخبات ہوتے ہیں اور اس کتاب (قرآن کریم) کے منتخبات حروف تہجی ہیں (یعنی حروف مقطعات) حضرت داؤد بن ابی ہند (رح) فرماتے ہیں میں علامہ شعبی (رح) سے سورتوں کے آغاز (یعنی حروف مقطعات) سے متعلق پوچھتا تھا آپس آپ نے فرمایا کہ ہر کتاب کے لیے خاص بھید ہوتا ہے اور قرآن کریم کا بھید یہ سورتوں کے آغاز والے حروف ہیں ، پس ان کو چھوڑ دیجئے (یعنی ان کے بارے میں سوال نہ کیجئے) اور اس کے ماسوی سے متعلق سوال کیجئے ۔ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ ان (حروف تہجی) کا معنی معلوم ہے ، پس کہا گیا ہے ہر وہ حرف جس سے (سورۃ کا) آغاز ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جیسے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ” کھیعص “ کے متعلق فرماتے ہیں ۔ کاف کاف سے ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کافی ہیں ھاء ھاد سے ہے یعنی اللہ تعالیٰ ہدایت دینے والا ہے اور یا حکیم سے ہے کہ اللہ تعالیٰ حکمتوں والا ہے اور عین علیم سے ہے یعنی وہ ذات باری تعالیٰ جاننے والی ہے اور صاد صادق سے ہے کہ رب ذوالجلال کی ذات سچی ہے اور ” المص “ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ (ملخص ہے) ” انا اللہ الملک الصادق “ کہ میں اللہ ، سچا بادشاہ ہوں ، حضرت ربیع بن انس ” الم “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ الف اسم اللہ کا مفتاح ہے یعنی آغاز ہے اور لام نام خداوندی لطیف کا آغاز ہے اور میم نام الہی مجید کی ابتداء ہے ۔ محمد بن کعب ؓ فرماتے ہیں ” الالف الا اللہ “ یعنی الف سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے اور لام سے لطف اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم مراد ہے ” والمیم ملکہ “ (یعنی اللہ تعالیٰ کے ملک و اقتدار کی طرف میم اشارہ کر رہا ہے) حضرت سعید بن جبیر (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” الم “ کا معنی ہے ” انا اللہ اعلم “ کہ میں اللہ ہوں جو جانتا ہوں اور ” المص “ کا معنی ہے ’ انا اللہ اعلم وافصل “ یعنی میں اللہ ہوں جو جانتا ہوں اور خوب کھول کر بیان کرتاہوں اور ” الر “ کا معنی انا اللہ اری میں اللہ ہوں دیکھتا ہوں۔ ” المر “ کا معنی ہے ” انا اللہ اعلم واری “ کہ میں اللہ ہوں جانتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔ حضرت زجاج فرماتے ہیں یہ (توجیہات) خوب ہیں کیونکہ اہل عرب کلمہ کا ایک حرف بول کر کل کلمہ مراد لیا کرتے ہیں ، جیسا کہ ان کا کہنا ہے ” قلت لھا قفی فقالت لی قاف “ یعنی میں نے اس سے کہا ٹھہر جا پس وہ بولی قاف (یہاں قاف سے مراد پورا کلمہ ” قفت “ ہے یعنی جواب میں اس نے کہا میں ٹھہر گئی ۔ حضرت سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں یہ حروف اللہ تعالیٰ کے نام ہیں ، اجزاء شدہ اگر لوگوں کو ان حروف کے حسن ترکیب کا علم ہوجاتا تو اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کو جان لیتے ، (اے مخاطب) کیا تو دیکھتا نہیں کہ تو جب ” الر۔۔۔۔۔ حم ۔۔۔۔ ن “ بولے تو الرحمن بن جائے گا اسی طرح بقیہ حروف مگر یہ کہ ہم سب کو جوڑ نہیں سکتے حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں یہ حروف قرآن پاک کے نام ہیں ۔ حضرت مجاہد (رح) اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں یہ سورتوں کے نام ہیں اس کا بیان یوں کہ کہنے والا جب کہے میں نے ” المص “ پڑھی تو سننے والا خوب جان جاتا ہے کہ اس نے وہ سورة پڑھی جس کا آغاز ” المص “ سے ہو رہا ہے ، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ یہ حروف قسمیں ہیں۔ حضرت اخفش فرماتے ہیں کہ ان حروف کے شرف اور فضیلت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی قسمیں اٹھائیں کیونکہ یہ حروف (آسمانی) نازل ہونے والی کتابوں کے (مبانی) یعنی بنیادی حروف ہیں (جن سے ان کتابوں کا کلام مرکب ہے) اور اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی کے مبادی یعنی ابتدائی حروف ہیں ۔
Ayah 2:2

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 2:2 in the Quran reader

یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلام خدا ہے، خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے

” ذالک الکتاب “ یعنی ھذا الکتاب یہ کتاب ‘ اور وہ قرآن ہے اور کہا گیا ہے کہ یہاں ھذا پوشیدہ ہے یعنی ” ھذا ذالک الکتاب “۔ حضرت فراء فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو وعدہ فرمایا تھا کہ ان کی ذات اقدس پر ایسی کتاب نازل فرمائے گا جسے پانی مٹا نہ سکے گا اور بار بار پڑھنے سے پرانی نہ ہوگی ۔ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نازل فرمایا تو فرمایا ” ھذا ذالک الکتاب “۔ یعنی یہ وہ کتاب ہے جس کا وعدہ میں نے تورات و انجیل میں کیا تھا کہ میں آپ پر نازل کروں گا اور سابقہ نبیوں کی زبانی بھی آپ ﷺ سے وعدہ فرمایا تھا ، ہذا قریب کرنے کے لیے لایا جاتا ہے اور ” ذالک “ دوری بیان کرنے کے لیے لایا جاتا ہے ۔ حضرت کیسان ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ سے پہلے چند سورتیں نازل فرمائیں جن کی مشرکوں نے تکذیب کی ، اس کے بعد سورة بقرہ نازل فرمائی ، پس فرمایا ” ذالک الکتاب “ یعنی جو سورتیں سورة بقرہ سے پہلے آئیں وہ کتاب ہیں جن میں شک نہیں اور الکتاب مصدر ہے وہ بمعنی مکتوب ہے جیسے مخلوق کو کہا جاتا ہے ” ھذا الدرھم ضرب فلان “ یعنی فلاں کا مضروب ہے، فلاں کا مہر زدہ ہے ، کتاب کا اصل معنی ملانا اور جمع کرنا ہے ۔ لشکر کو کتیبہ کہا جاتا ہے اس کے جمع ہونے کے باعث اور کتاب کو کتاب اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ حرف کو حرفوں کے ساتھ جمع کرنا ہوتا ہے۔ (آیت)” لاریب فیہ “ اس میں شک نہیں اس معنی میں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور بیشک وہ حق ہے اور سچ ہے اور کہا گیا ہے وہ خبر بمعنی نہی ہے (مرادی معنی ہوگا) اس میں شک مت کرو جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت)” فلارفث ولا فسوق “ رفث مت کرو (عورتوں کے سامنے بےحیائی کی باتیں کرنے کو رفث کہا گیا ہے) اور فسوق مت کرو یعنی احکام الہی کی خلاف ورزی نہ کرو، ابن کثیر نے فیہ کو اشباع کے ساتھ پڑھا ہے (کسرہ کے ساتھ) وصل کی صورت میں اور اسی طرح ہر وہ ھاء لکھنے کے اعتبار سے جس سے پہلے ساکن ہیں وصل کی حالت میں اشباع کرتے ہیں ، جب تک اس کے قریب ساکن نہ ہو پھر اگر ھاء سے پہلے ساکن یاء ہو تو اسے کسرہ یاء کی صورت میں اشباع کرتے ہیں اور اگر یاء کے بغیر ہو تو واؤ کی صورت میں اشباعی پیش لاتے ہیں ، حفص ادغام کیا جاتا ہے ، یہ ادغام ابو جعفر اور ابن کثیر ، حمزہ اور کسائی نے کیا ہے ، البتہ حمزہ اور کسائی نے اضافہ کیا کہ یاء کے ساتھ بھی غنہ کا ادغام ہوگا اور حمزہ نے واؤ کے ساتھ بھی ادغام کا قول کیا اور باقی حضرات ادغام غنہ نہیں کرتے ۔ البتہ ابو جعفر نون اور تنوین کا خاء اور غین کے قریب اخفا کرتے ہیں ۔ (آیت)” ھدی للمتقین “ یعنی وہ ہدایت ہے یعنی رہنمائی ہے اور بیان ہے اہل تقوی کے لیے ، اور کہا گیا ہے کہ ” ھدی منصوب علی الحال “ ہے یعنی درآنحالیکہ ہدایت دینے والا ہے ، تقدیر عبارت یوں ہوگی اس میں شک نہیں ہے یعنی متقی لوگوں کو ہدایت دینے میں ” ھدی “ وہ چیز جس سے انسان رہنمائی حاصل کرے ” للمتقین “ کا معنی ” للمؤمنین “ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں متقی وہ ہے جو شرک سے بچتا ہے بڑے گناہوں سے اور برائیوں سے بچتا ہے ، یہ لفظ اتقاء سے لیا گیا ہے جس کا اصل معنی ہے دو چیزوں کے درمیان رکاوٹ اسی سے ہے ان کا یہ قول ” اتقی بترسہ “ یعنی ڈھال کو رکاوٹ بنایا اور بچاؤ کیا اپنی ذات اور (دشمن کے) مقصود کے درمیان (جو اس کو قتل کرنا تھا) حدیث میں ہے ” کنا اذا اشتدالباس اتقینا برسول اللہ ﷺ “ جب جنگ زوروں پر ہوتی ہے تو حضور ﷺ کو اپنے اور دشمن کے درمیان حاجز یعنی رکاوٹ وحائل بناتے تھے (یعنی حضور ﷺ کی پناہ میں آجاتے) پس گویا کہ متقی انسان اللہ تعالیٰ کے حکم کی فرمانبرداری اور جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ، اس سے اجتناب کو اپنے اور عذاب کے درمیان حائل و رکاوٹ بناتا ہے ۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے حضرت کعب احبار ؓ سے فرمایا ہمیں تقوی کے بارے میں بیان فرمایئے تو حضرت کعب ؓ نے فرمایا کہ کبھی تو نے خار دار راستہ کو اختیار فرمایا ہے ؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا ہاں تو حضرت کعب ؓ نے پوچھا تو آپ نے اس وقت کیا طریقہ اختیار کیا ؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں نے احتیاط کی اور پنڈلی پر سے کپڑا سمیٹ لیا ، جوابا حضرت کعب ؓ نے فرمایا بس یہی تقوی ہے (یعنی اسی احتیاط کے ساتھ زندگی گزارنے کا نام تقوی ہے) حضرت شہر بن حوشب فرماتے ہیں متقی وہ شخص ہے جو کہ جن چیزوں کے کرنے میں کچھ حرج نہیں ، انہیں محض اس لیے چھوڑ دیتا ہے کہ اس کی وجہ سے بعض وہ چیزیں اختیار کرنی پڑتی ہیں جن میں شرعا حرج ہے قدرے قباحت ہے ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) فرماتے ہیں کہ تقوی اللہ تعالیٰ کی محرمات کو چھوڑ دینے اور فرائض خداوندی کی بجا آوری کا نام ہے اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ جو کچھ (خیروبرکت) عطا فرماتے ہیں پس خیر ہے اور خیر کی طرف (پہنچانے والی) ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضور ﷺ کی اقتداء کا نام تقوی ہے اور حدیث میں ہے کہ تقوی کا خلاصہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے (آیت)” ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “ الآیۃ حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں تقوی یہ ہے کہ تو اپنے آپ کو کسی ایک سے بھی بہتر نہ سمجھے ، متقی لوگوں کی تخصیص انہیں شرف بخشنے کے لیے ہے یا متقی لوگ ہی ہیں ۔ (قرآنی) ہدایت سے نفع اٹھانے والے۔
Ayah 2:3

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ Open ayah 2:3 in the Quran reader

جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے، اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

(آیت)” الذین یؤمنون “ الذین یومنون “ متقین کی صفت ہونے کی وجہ سے حالت جر میں واقع ہے، یؤمنون کا معنی ” یصدقون “ (یعنی تصدیق کرنے والے) ابو عمرو اور ورش ” یؤمنون “ میں ہمزہ کو ترک کرتے ہیں اور باقی اسے ہمزہ دیتے ہیں اسی طرح (مذکوۃ الصدر حضرات) دونوں ہر اس ہمزہ کو ترک فرماتے ہیں جو کہ ساکن ہو اور فعل کی فاء کے مقابلہ میں آیا ہو مگر چند گنے چنے حروف میں (ترک ہمزہ نہیں کرتے) ایمان درحقیقت تصدیق قلب کا نام ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” وما انت بمؤمن لنا “ یعنی تو ہماری تصدیق کرنے والے نہیں ہے ۔ ” الایمان “ ایمان شریعت میں نام ہے ، دل سے اعتقاد رکھنا زبان سے اقرار کرنا اور اعضاء وجوارح سے عمل کرنا، اقرار اور عمل کو ایمان ایک خاص مناسبت سے کہا گیا ہے کیونکہ یہ ایمان کے شرائع کا نام ہے۔ ” الاسلام “ اسلام عاجزی اور فرمانبرداری کا نام ہے ۔ لہذا ہر ایمان اسلام ہے لیکن ہر اسلام ایمان نہیں ہے جبکہ اس کے ساتھ تصدیق نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” قالت الاعراب امنا قل لم تؤمنواولکن قولوا اسلمنا “۔ اور یہ اس لیے کہ آدمی کبھی ظاہر میں تو تسلیم کرنے والا ہوتا ہے مگر باطن میں تصدیق کرنے والا نہیں ہوتا اور کبھی باطن میں تصدیق کرنے والا ہوتا ہے مگر ظاہر میں مطیع اور فرمانبردار نہیں ہوتا ۔ جب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے آپ ﷺ سے اسلام کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے مختلف جوابات دیئے ہیں ، یحیٰ بن یعمر سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ تقدیر کے بارے میں سب سے پہلے جنہوں نے کلام کیا وہ بصرہ میں معبد جہنی تھا ، چناچہ میں اور حمید بن عبدالرحمن (ہم دونوں) مکہ مکرمہ کی طرف جانے کے ارادہ سے نکلے ہماری خواہش تھی کہ کاش ہم کسی صحابی رسول ﷺ سے ملتے تو ہم ان سے ان کے بارے میں (جو تقدیر میں بحث کر رہے ہیں) پوچھتے ۔ چنانچہ ہماری ملاقات حضرت عبداللہ بن عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے ہوگئی میں اور میرے ساتھ والے نے حضرت کو گھیرے میں لے لیا ، ایک ہم میں سے حضرت کے دائیں طرف تھا دوسرا بائیں جانب ، میں نے یہ معلوم کرلیا تھا کہ میرا ساتھی متکلم مجھے بنائے گا ، پس میں نے کہا اے ابو عبدالرحمن ہماری طرف کچھ ایسے لوگ ہیں اس علم (علم تقدیر) کی طرف احتیاج رکھتے ہیں اور اسے طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں تقدیر (تقدیری فیصلے) کچھ نہیں جو کچھ ہوتا ہے محض اتفاق ہے ، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا جب تو ان لوگوں سے ملے تو انہیں یہ خبر دے دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں ۔ مجھے قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، اگر ان میں سے کسی ایک کو جبل احد کے برابر سونا حاصل ہو پھر وہ اس سونے کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر ڈالے ، اس (عظیم) صدقہ کو بھی اللہ تعالیٰ اس سے قبول نہیں فرمائیں گے ، جب تک اس چیز پر ایمان نہ لائے کہ خیر وشر کے فیصلے تقدیر الہی کے مطابق ہوتے ہیں ۔ ہمیں حضرت عمر بن خطاب ؓ نے بیان فرمایا کہ ہم ایک دفعہ حضور اقدس ﷺ کے پاس بیٹھے تھے، اچانک ایک ایسا شخص نمودار ہوا جس کا لباس بہت سفید اور بال بہت سیاہ تھے نہ تو اس پر سفر کے آثار تھے اور نہ ہم میں سے کوئی اس کو پہچانتا تھا ۔ وہ شخص آگے بڑھا اور حضور اقدس ﷺ کے سامنے آکر اس طرح بیٹھ گیا کہ اس کا گٹھنا حضور ﷺ کے گھٹنے کو چھو گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بیشک حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔ اور تو نماز کو قائم کرے زکوۃ ادا کرتا رہے ، رمضان المبارک کے روزے رکھے ، بیت اللہ شریف کا حج کرے ، اگر تجھے وہاں جانے کی طاقت ہو ۔ جوابا اس نے صدقت کہا یعنی آپ نے سچ فرمایا ہمیں اس کے پوچھنے اور پھر جواب کی تصدیق سے متعلق تعجب ہوا ۔ (یعنی اس کے سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس چیز کو نہیں جانتا اور تصدیق کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلے سے یہ سب کچھ جانتا ہے) بعد میں اس نے پوچھا ” فماالایمان “ کہ ایمان کیا چیز ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ تو ” اللہ وحدہ لا شریک لہ “ پر ایمان لائے ، اس کے فرشتوں پر ایمان لائے اس کی کتابوں پر ایمان لائے اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور مرنے کے بعد (دوبارہ جی) اٹھنے پر ایمان لائے ، جنت اور دوزخ پر ایمان لائے اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لائے ، اس پر اس نے کہا صدقت ، آپ نے سچ فرمایا ، اس کے بعد اس نے پوچھا ” فما الاحسان “ کہ احسان کیا چیز ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے پس تو اگر اس کو نہیں دیکھ رہا تو وہ یقینا تجھے دیکھ رہا ہے ، اس پر بھی اس نے کہا صدقت یعنی آپ نے سچ فرمایا ، پھر اس نے کہا مجھے قیامت کے بارے میں خبر دیجئے تو حضور ﷺ نے فرمایا جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے (قیامت کے بارے میں) زیادہ تو نہیں جانتا ، اس نے کہا صدقت آپ نے سچ فرمایا ۔ کہا مجھے قیامت کی نشانیوں کے بارے میں خبر دیجئے تو حضور ﷺ نے فرمایا یہ کہ باندی اپنے سردار کو جہنم دے گی (یعنی بیٹیاں ماں پر سردار بن کر حکم چلائیں گی) ، دوسری نشانی اور یہ کہ تو ننگے پاؤں اور ننگے بدن بکریاں کو چرانے والے (قسم کے) لوگوں کو دیکھے گا کہ وہ بڑی بڑی عمارتیں بنائیں گے ، (یعنی نااہل لوگ مالدار اور دولت مند بن جائیں گے) اس نے کہا صدقت ! پھر وہ چلا گیا ، جب تیسرا دن ہوا تو حضور ﷺ نے مجھے پوچھا عمر جانتے ہو وہ آدی کون تھا ؟ میں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں ، حضور ﷺ نے فرمایا یہ جبرئیل (علیہ السلام) تھے جو اس لیے تمہارے پاس تشریف لائے تھے تاکہ تمہیں امور دین کے بارے میں معلومات دیں ، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) جب بھی جس صورت میں تشریف لائیں میں انہیں پہچان لیتا ہوں مگر اس صورت میں (یعنی اس دفعہ) نہیں پہچان سکا۔ حضرت فراء ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اس حدیث میں اسلام ظاہری اعمال کو قرار دیا ہے اور ایمان باطنی اعتقادات کو فرمان نبوی ﷺ کی یہ تفصیل و تقسیم اس لیے نہیں کہ اعمال ایمان سے نہیں اور تصدیق قلبی اسلام سے نہیں بلکہ حضور ﷺ کا یہ پورا ارشاد ایک مجموعہ کی تفصیل ہے اور یہ ایک شئی ہے جس کے مجموعہ کا نام دین ہے ، اس لیے حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ” ذالک “ جبرئیل یہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) تھے جو تمہیں تمہارے معاملات سکھانے آئے تھے اور اس بات کی دلیل کہ اعمال بھی ایمان سے ہیں وہ ہے جو حضرت ابوہریرہ ؓ روایت بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ایمان ستر (70) سے چند زائد شعبوں کا نام ان میں سے افضل شعبہ (کلمہ) لا الہ الا اللہ “ ہے اور ادنی شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کردینا ہے اور حیاء ایمان کا خاص حصہ ہے ۔ (ایمان) ایمان سے لیا گیا ہے ، لہذا مؤمن کو مؤمن کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے امان دیتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کا نام مؤمن اس لیے ہے کہ وہ بندوں کو عذاب سے امان دیتا ہے ۔ اور غیب مصدر ہے جسے اسم کی جگہ پر رکھا گیا ہے پس غائب کو غیب کہا گیا جیسے عادل کو عدل کہا گیا ، (عدل کرنے والا) اور زائر کو زور (زیارت کرنے والا) غیب وہ ہے جو آنکھوں سے غائب ہو ۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس جگہ غیب سے مراد ہر وہ چیز ہے جس پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تیری نظر سے غائب ہے خواہ وہ فرشتے ہوں ، مرنے کے بعد زندہ ہونا ہو ، جنت ہو ، دوزخ ہو ، آگ ہو (جہنم پر قائم شدہ) پل صراط ہو تو ترازو ہو اور کہا گیا ہے غیب سے اس جگہ مراد اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ہے ، نیز کہا گیا ہے کہ قرآن پاک مراد ہے ، حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں غیب سے مراد یہاں آخرت ہے، حضرت زربن جیش اور ابن جریج (رح) کہتے ہیں کہ وحی مراد ہے اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ قول کہ ” عندہ علم الغیب “ کیا اس کے پاس علم غیب ہے (اور اس سے مراد وحی ہے) اور ابن کیسان کا کہنا ہے غیب سے مراد تقدیر ہے ، عبدالرحمن بن یزید (رح) فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس تھے انہوں نے اصحاب محمد ﷺ کا ذکر کیا اور ان فضائل کا تذکرہ فرمایا جن فضائل میں اصحاب رسول اللہ ﷺ نے سبقت کی ، پھر حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کا معاملہ ہر دیکھنے والے کے لیے بالکل واضح تھا مجھے قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کوئی شخص بھی اس شخص سے افضل ایمان نہیں لایا جو کہ غائبانہ ایمان لایا ، اس کے بعد حضرت عبداللہ ؓ نے ” الم ذالک الکتاب “ سے لے کر ” ھم المفلحون “ تک پڑھا (حضرت عبداللہ ؓ کی کلام کا منشاء یہ ہے کہ کلی طور پر ایمان بالغیب اس شخص کا ہے جس نے حضور ﷺ کی زیارت نہیں کی اور محض غائبانہ ایمان لایا) نوٹ : حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی تائید ایک حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں حضور ﷺ نے ” اجبھم ایمانا “۔ فرما کر ان لوگوں کا ایمان عجب ترین قرار دیا ، جنہوں نے آپ کی زیارت نہیں کی ، بعد میں آئے اور ایمان لائے گویا ایسے لوگوں کا ایمان ہر اعتبار سے غائبانہ ہوا۔ (اضافہ از مترجم) ابوجعفر ، ابو عمرو اور ورش نے ” یؤمنون “ ترک ہمزہ کے ساتھ پڑھا (یعنی بغیر ہمزہ کے پڑھا) اسی طرح ابو جعفر ہر ساکن ہمزہ کو چھوڑ دیتے ہیں ، سوائے ” انبئھم “ اور ینبئم “ اور ” نبئنا “ ابو عمر ہر ہمزہ کو چھوڑ دیتے ہیں مگر یہ کہ وہ جزم کی علامت ہو جیسے ” نبئھم “ اور ” انبئھم “ اور ” تسؤھم “ اور ” ان نشائ “ اور ” ننساھا “ اور اسی کے مثل اور بھی) یا پھر وہ مقام جہاں ترک ہمزہ سے ایک لغت سے دوسری لغت کی طرف نکلنا پڑتا ہو۔ مثلا (مؤصدہ) اور (رئیا) اور ورش ہراس ہمزہ کو چھوڑتے ہیں جو کہ ساکن ہو اور فعل کی فاء سے پہلے ہو مگر (تؤوی) داور تؤویہ) اور فعل کی عین کے مقابل جو ہمزہ آئے اسے ترک نہیں کرتے مگر (الرؤیا) ہیں اور اس کے باب میں الا یہ کہ فعل کے وزن پر ہو۔ (آیت)” ویقیمون الصلوۃ “۔ یعنی اسے ہمیشہ پڑھتے ہیں اس کے اوقات کی بمع اس کے حدود ارکان اور شکل و صورت کی حفاظت کرتے ہیں ۔ یقیمون سے ہی قام بالامر اور واقام الامر اس وقت بولا جاتا ہے جبکہ اس امر کو اس کے تمام حقوق کے ساتھ ادا کیا جائے یا پھر اس جملہ سے مراد پانچوں نمازیں ہیں جنہیں لفظ مفرد کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” فبعث اللہ النبیین مبشرین ومنذرین وانزل معھم الکتاب بالحق “۔ یعنی کتابیں نازل فرمائیں تو گویا یہاں مفرد کتاب سے مراد کتابیں ہیں جو کہ جمع ہیں ۔ ” صلوۃ “ کا لغوی معنی دعا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” فصل علیھم “ یعنی ان کے لیے دعا کیجئے شریعت مقدسہ میں صلوہ افعال مخصوصہ کا نام ہے قیام ، رکوع ، سجود ، قعود ، دعا اور ثناء ، اور بعض نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت)” ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی “۔ الآیۃ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بیشک اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے صلوۃ کا معنی رحمت ہے اور فرشتوں کی صلوۃ کا معنی استغفار ہے اور مؤمنین کی صلوۃ کا معنی دعا ہے ، ” ومما رزقنھم “۔ اس کا معنی ہے ” اعطیناھم “ یعنی جو کچھ ہم نے اس کو عطا فرمایا اور رزق ہر اس کا نام ہے جس سے نفع اٹھایا جائے حتی کہ اولاد اور غلام لغت میں رزق کا معنی حصہ اور نصیب کے ہیں ۔ ” ینفقون “ بمعنی ” یتصدقون “ (یعنی صدقہ کرتے ہیں) حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور اس کی اطاعت میں خرچ کرتے ہیں ، انفاق کا اصل معنی ہاتھ اور ملک سے نکالنا ہے اسی سے نفاق السوق ہے (جب بازار میں لین دین خوب ہو) کیونکہ اس میں سامان کو ہاتھ سے نکالنا ہوتا ہے ، اسی سے ہے ” نفقت الدابۃ “ جبکہ اس کی روح نکل جائے (یعنی جانور ہلاک ہوجائے) پس یہ آیت ان ایمان والوں سے متعلق ہے جو مشرکین عرب سے تھے ۔
Ayah 2:4

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 2:4 in the Quran reader

اور جو کتاب (اے محمد) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں

(تفسیر) اس قرآن سے مراد ہے (آیت)” وما انزل من قبلک “ اس سے مراد تورات ، انجیل اور بقیہ وہ تمام کتب جو انبیاء کرام (علیہم السلام) پر نازل کی گئیں ۔ ابوجعفر اور ابن کثیر اور قالون اور اہل بصرہ اور یعقوب ہر اس مد کو چھوڑ دیتے ہیں اور جو دو کلموں کے درمیان واقع ہو اور باقی حضرات مد دیتے ہیں اور یہ آیت کریمہ ان مؤمنین کرام سے متعلق ہے جو اہل کتاب میں سے ایمان لائے ۔ ” وبالاخرۃ “ ای بالدار الاخرۃ (یعنی جو آخرت پر ایمان لائے) دنیا کو دنیا کا نام اس لیے دیا گیا کہ وہ بنسبت آخرت کے قریب ہے اور آخرت کو آخرت اس لیے کہا گیا کہ وہ متاخر اور دنیا کے بعد ہونے والی ہے ۔ ” ہم یوقنون “ وہ یقین رکھتے ہیں کہ بیشک وہ ہونے والی ہے ، یوقنون ایقان سے ہے اس کا معنی علم ہے اور کہا گیا ہے کہ ایقان اور یقین اس علم کا نام ہے جو دلیل سے حاصل شدہ ہو ، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو مؤقن نہیں کہا جاتا اور اللہ تعالیٰ کے علم کو یقین نہیں کہا جاتا کیونکہ علم الہی دلیل سے ماخوذ نہیں۔
Ayah 2:5

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:5 in the Quran reader

یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں

(تفسیر) ” اولئک “ یعنی ان صفات کے حامل حضرات اور اولاء کلمہ ہے اس کا معنی جماعت سے کنایہ ہے (یعنی اس سے مراد جماعت ہوتی ہے) جیسے کہ ” ھم “ اور کاف خطاب کا ہے جیسے کہ ذالک میں کاف خطاب کا ہے (علی ھدی) یعنی رشد وبیان اور بصیرت پر ہیں ، (یعنی ہدایت پر ہیں) ” من ربھم واولئک ھم المفلحون “ نجات پانے والے اور کامیاب جنت کے ساتھ کامیاب ہوئے اور آگ سے نجات پاگئے ۔ اور فلاح بمعنی بقاء بھی ہوتا ہے یعنی ہمیشہ کی نعمت میں پاقی رہنے والے فلاح کا اصل معنی قطع کرنا اور پھاڑنا ہے ، اسی معنی کے اعتبار سے کسان کو فلاح کا نام دیا گیا کیونکہ وہ زمین کو پھاڑتا ہے اور مثال میں ہے ” الحدید بالحدید یفلح “ یعنی لوہا لوہے سے کاٹا جاتا ہے ، پس یہ لوگ وہ ہیں جن کے لیے دنیا اور آخرت میں خیر کو قطع کردیا گیا ۔ (یعنی الات کردیا گیا ہے)
Ayah 2:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:6 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے، وہ ایمان نہیں لانے کے

(آیت)” ان الذین کفروا “ اس سے مراد مشرکین عرب، کلبی کہتے ہیں اس سے مراد یہود ہیں اور کفر جحود کے معنی میں سے یعنی انکار کرنا اور اس کا اصل معنی ستر ہے اسی اعتبار سے رات کو کافر کا نام دیا گیا کیونکہ وہ اپنی تاریکی سے چیزوں کو چھپا دیتی ہے اور کسان کو کافر کہ وہ دانہ کو مٹی میں چھپاتا ہے ، پس کافر حق کو اپنے انکار کے ساتھ چھپاتا ہے ۔ (اقسام کفر) کفر چار قسم پر ہے (1) کفر انکار (2) کفر جحود (3) کفر عناد (4) کفرنفاق۔ کفر انکار یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بالکل نہیں پہچانتا اور انہ اس کا اعتراف کرتا ہے اور اس کا کفر کرتا ہے ،۔ کفر جحود یہ ہے کہ نہ دل سے اللہ تعالیٰ کو پہچانتا ہے اور نہ زبان سے اقرار کرتا ہے جیسے کفر ابلیس اور کفر یہود ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” فلما جاء ھم مو عرفوا کفروا بہ “۔ کفر العناد یہ کہ اللہ تعالیٰ کو دل سے پہچانے اور زبان سے اقرار کرے مگر اطاعت نہ کرے جیسے ابو طالب کا کفر جبکہ وہ کہتا ہے (ابو طالب کے اشعار کا ترجمہ) اور البتہ تحقیق میں جانتا ہوں کہ دین محمد ﷺ دنیا کے بہترین دینوں میں سے ایک دین ہے ۔ اگر ملامت (لوگوں کی) اور گالی کا خوف نہ ہوتا (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو مجھے پاتا کہ میں کھلے دل سے اور کھلم کھلا قبول کرلیتا ۔ کفر نفاق یہ کہ زبان سے اقرار کرے اور دل میں عقیدہ نہ ہو یہ چاروں کفر اس بات میں برابر ہیں کہ جو شخص ان کفروں میں سے کسی ایک کفر کو لے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچے گا اللہ تعالیٰ اسے نہیں بخشیں گے ، (آیت)” سواء علیھم “ ان کے نزدیک یہ بات برابر ہے (آیت)” ء انذرتھم “ ان کو آپ خوف دلائیں اور ان کو ڈرائیں ، ” انذار “ کا معنی خوف دلانے اور ڈرانے کے ساتھ آگاہ کرنا لہذا ہر منذر (یعنی انذار کرنے) والا معلم (آگاہ کرنے والا) ہے اور ہر معلم (آگاہ کرنے والا) منذر (ڈرانے والا) نہیں ہے ، ابن عامر اور عاصم اور حمزہ اور کسائی نے ” انذرتھم “ میں دونوں ہمزوں کو ثابت رکھا ہے اور اسی طرح ہر وہ دو ہمزے ثابت رکھتے ہیں جو کلمہ کی ابتداء میں واقع ہوتے ہیں اور باقی حضرات دوسرے ہمزہ کو لین کرتے ہیں ، (یعنی مخرج ہمزہ اور مخرج الف کے مابین پڑھتے ہیں) (ام) استفہام پر حرف عطف ہے (لم) حرف جزم ہے فعل کے سوا کسی کے قریب واقع نہیں ہوتا ، کیونکہ جزم افعال کے ساتھ خاص ہے (اور لم جزم دیتا ہے) ” تنذرھم لا یؤمنون “ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے حق میں ہے جن پر اللہ تعالیٰ کے علم سابق کے اعتبار سے بدبختی کی بات ثابت ہوچکی ہے اس کے بعد ان کے ترک ایمان کا سبب ذکر کرتے ہوئے فرمایا :
Ayah 2:7

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 2:7 in the Quran reader

خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے، اور انکے لئے بڑا عذاب (تیار) ہے

(آیت)” ختم اللہ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے مہر لا دی (آیت)” علی قلوبھم “ پس نہ خیر کو مقصود بناتے ہیں اور نہ اسے سمجھتے ہیں حتم کا حقیقی معنی کسی شئی کو مضبوط ومستحکم اس طرح کرنا تاکہ جو چیز اس شئی سے نکل چکی ہے وہ اس میں داخل نہ ہو اور جو داخل ہوچکی ہے وہ اس سے نکل نہ سکے اور اسی سے ہے ختم علی الباب یعنی دروازہ پر تالا لگا دیا ، اہل السنۃ والجماعت فرماتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے عمل سابق ان کے دلوں پر کفر کا حکم کردیا ، معتزلہ کہتے ہیں ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے ایسی علامت لگا دی ہے جس کے ذریعے ان کافروں کو فرشتے پہچانتے ہیں۔ (آیت)” وعلی سمعھم “ یعنی ان کی سماعت کی جگہوں پر (مہر لگا دی) پس وہ حق کو نہیں سنتے اور نہ اس سے نفع اٹھاتے ہیں اور (آیت)” علی سمعھم “ سے مراد علی اسماعھم ہے جیسے دلوں کے بارے میں (آیت)” علی قلوبھم “ فرمایا لیکن کانوں کو مفرد اس لیے ذکر فرمایا کہ سمع مصدر ہے اور مصدر نہ تثنیہ ہوتی ہے اور نہ جمع ہوتی ہے ۔ (آیت)” وعلی ابصارھم غشاوۃ “ یہ کلام نئے سرے سے شروع کی گئی ، ” غشاوۃ کا معنی پردہ پس (جس سے وہ) حق کو نہیں دیکھتے ۔ ابو عمر اور کسائی نے (ابصارھم) کو امالہ کے ساتھ پڑھا (یعنی الف کو قدرے یاء کی طرف مائل کرکے اور اسی طرح ہر اس الف کا جس کے بعد راء مجرور ہو ، اسماء میں فعل کی لام کے مقابل اس کا امالہ کرتے ہیں اور ہمزہ ہر اس الف کا امالہ کرتے ہیں جس میں راء ہو جیسے قرار اور اس کے مثل اور کسائی نے جبارین ، جوار ، ماواکم اور من انصاری اور نسارع اور اس کے باب میں امالہ کا اضافہ کیا ہے اور اسی طرح یہ حضرات ہر اس الف کا امالہ کرتے ہیں جو الف کہ لام فعل کے قائم مقام ہو یا وہ تانیث کے لیے نام ہو جبکہ اس سے پہلے راء ہو ، تانیث کے نام کی مثال (کبری ، اخری ہے اور لام فعل کی مثال تری اور فتری) اس میں راء کو زیر دیتے ہیں ۔ (آیت)” ولاھم عذاب عظیم “ یعنی آخرت میں اور کہا گیا ہے دنیا میں قتل کرنا اور قید کرنا اور آخرت میں دائمی عذاب ، عذاب ہر وہ چیز ہے جو انسان کو مشقت میں ڈالے ، خلیل فرماتے ہیں عذاب ہر اس چیز کا نام ہے جو انسان کی مراد کے حصول میں رکاوٹ بن جائے اور اسی سے ہے ماء العذب یعنی ٹھنڈا میٹھا پانی کیونکہ وہ بھی پیاس کو منع یعنی ختم کرتا ہے ۔
Ayah 2:8

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ Open ayah 2:8 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے

(آیت)” ومن الناس من یقول آمنا باللہ “ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ، مثلا عبداللہ بن ابی ابن سلول ، متعب بن قشیر جد بن قیس اور ان کے ساتھی ، اس لیے کہ انہوں نے اظہار اسلام اس لیے کیا تاکہ حضور ﷺ اور آپ کے ساتھیوں سے بچیں اور کلمہ اسلام کے خلاف عقیدہ رکھا ، منافقین کی اکثریت یہود سے تھی ۔ (آیت)” الناس “ انسان کی جمع ہے ، انسان کی وجہ تسمیہ یہ کہ اس کی طرف عہد کیا گیا پس وہ بھول گیا جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ولقد عھدنا الی ادم من قبل فنسی “۔ اور کہا گیا ہے کہ انسان کو انسان اس لیے کہتے ہیں کہ وہ ظاہر و نمایاں انسان ان کے اس قول سے ماخوذ ہوگا ” انست “ بمعنی ابصرت یعنی میں نے دیکھا (اور دیکھی وہ چیز جاتی ہے جو نمایاں اور ظاہر ہو ، انسان کی یہ وجہ تسمیہ اضافی ہوگی یعنی بمقابلہ جن کے وہ نظروں سے مستور ہے) من لمترجم۔ اور کہا گیا ہے کہ انسان کو انسان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس سے مانوس ہوا جاتا ہے ۔ (آیت)” وبالیوم الاخر “ یعنی قیامت کے دن کے ساتھ ۔ (آیت)” وما ھم بمؤمنین یخادعون اللہ “ یعنی (آیت)” یخالفون اللہ “ اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں ۔
Ayah 2:9

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ Open ayah 2:9 in the Quran reader

یہ خدا کو اور مومنوں کو چکما دیتے ہیں مگر (حقیقت میں) اپنے سوا کسی کا چکما نہیں دیتے اور اس سے بیخبر ہیں

خداع کا لغوی معنی اخفاء ہے اور اسی سے مخدع ہے جو گھر کا خصوصی کمرہ (سٹور) ہوتا ہے جس میں سامان پوشیدہ رکھا جاتا ہے مخادع کو مخادع اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ ضمیر کے خلاف اظہار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول میں (آیت)” وھو خادعھم “ خداع کا معنی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ظاہرا دنیا میں ان کو نعمتیں عطا فرماتے ہیں ۔ یہ خلاف ہے اس کے جو اللہ تعالیٰ ان منافقوں کے لیے آخرت میں عذاب غائبانہ تیار کیے ہوئے ہیں، اور کہا گیا ہے کہ خداع کا اصل معنی فساد ہے اور اس جملہ کا معنی ہوگا کہ منافق لوگ ایمان کے اس بول کو (جو انہوں نے ظاہری طور پر بولا) دل میں پوشیدہ کفر کے ذریعے فاسد کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا قول یعنی ان منافقوں پر اللہ تعالیٰ دنیا کی نعمتوں کو فاسد کردیں گے ، بسبب اس (انجام کار) کے جس کی طرف اللہ تعالیٰ ان کو لوٹائیں گے ، عذاب آخرت سے (آیت)” یخادعون اللہ “ پر وارد شدہ سوال کے جوابات اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت)” یخادعون اللہ “ کا کیا معنی ہوگا ؟ جبکہ مفاعلہ مشارکۃ کے لیے (یعنی مفاعلہ کے وزن پر آنے والا فعل جانبین سے ہوا کرتا ہے) حالانکہ رب قدوس فعل مخادعۃ میں مشارکۃ یعنی شریک فعل ہونے سے بزرگ و برتر ہیں ، جوابا کہا گیا ۔ جواب (1) (کہ مفاعلہ کا باب کبھی مشارکۃ والے معنی میں نہیں ہوتا جیسے کہ تیرا کہنا ” عافاک اللہ “ (اب اس کا معنی یہ نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تجھے عافیت بخشے اور تو اللہ تعالیٰ کو) بلکہ اس کا معنی ہوگا اللہ تعالیٰ تجھے عافیت بخشے ، فقط۔ اسی طرح کہا جاتا ہے عافیت فلانا میں نے اس کو معاف کردیا یا طارقت النعل میں نے جوتے میں کیل ٹھونکے (یہ سب فعل جانب واحد سے ہیں) جواب (2) حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں (آیت)” یخادعون اللہ “ کا معنی ہے ” یخادعون رسول اللہ “ (یعنی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیے گئے خداع کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف نسبت کررہے ہیں) جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ان الذین یؤذون اللہ “ یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دوستوں کو ایذا دیتے (تو یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو دی گئی ایذا کو اپنی ایذا قرار دیا۔ ) جواب (3) بعض حضرات نے کہا گیا ہے کہ یخادعون اللہ “ میں لفظ اللہ کا ذکر محض تحسینا ہے اور مقصود ایمان والوں کے ساتھ کیا گیا دھوکہ ہے جیسے کہ اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” فان للہ خمسہ وللرسول “ (تو یہاں بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر تحسینا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو خمس کی ضرورت نہیں ہے۔ جواب (4) بعض حضرات نے کہا گیا ہے کہ (آیت)” یخادعون اللہ “ کا معنی ہے کہ وہ لوگ دین الہی میں وہ کام کرتے ہیں جو ان کے دین میں دھوکہ ہے خداع ہے۔ (آیت)” والذین امنوا “ یعنی اور دھوکہ دیتے ہیں ایمان والوں کو اپنے اس قول کے ساتھ جب ان کو دیکھتے ہیں ہم ایمان لائے حالانکہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ (آیت)” وما یخدعون “ ابن کثیر نافع اور ابو عمرو نے ” مایخدعون “ پڑھا پہلے حرف کی طرح اور اسے اس باب مفاعلہ سے بنایا جو مختص بالواحد ہے اور باقیوں نے (آیت)” وما یخدعون “ اصل باب (مجرد) پر پڑھا (آیت)” الا انفسھم “ (یعنی نہیں دھوکہ دیتے مگر اپنے آپ کو) یہ اس لیے کہ ان کے دھوکہ کا وبال انہیں کی طرف لوٹنے والا ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی (علیہ السلام) کو ان کی منافقت پر مطلع فرما دیں گے جس سے یہ منافع دنیا میں رسوا ہوجائیں گے اور آخرت میں عذاب کے مستحق ٹھہریں گے ، (آیت)” وما یشعرون “ یعنی وہ لوگ اس بات کو نہیں جانتے کہ وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں اور نہ اس کو جانتے ہیں کہ ان کے دھوکے کا وبال انہیں پر لوٹ رہا ہے ۔
Ayah 2:10

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 2:10 in the Quran reader

ان کے دلوں میں (کفر کا) مرض تھا خدا نے انکا مرض اور زیادہ کردیا اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

(تفسیر) (10) (آیت)” فی قلوبھم مرض “ شک ومنافقت کامرض مرض کا اصل معنی ضعف ہے، دنیا میں شک کو مرض کا نام دیا گیا ہے کیونکہ وہ دین کو کمزور کردیتا ہے جیسے مرض بدن کو کمزور کرتا (آیت)” فزادھم اللہ مرضا “۔ اس لیے کہ آیات یکے بعد دیگرے مسلسل ومتواتر نازل ہو رہی تھیں ، جب بھی کسی آیت کا انکار کرتے تو کفر ونفاق میں بڑھ جاتے اور یہی معنی ہے فرمان الہی کا ، (آیت)” واما الذین فی قلوبھم مرض فزادتھم رجسا الی رجسھم “ ابن عامر اور حمزہ نے (فزادھم اللہ مرضا) کو امالہ کے ساتھ پڑھا ہے اور حمزہ نے (زاد) کے امالہ کو زیادہ کیا اور جہاں کہیں واقع ہو وہاں پر بھی امالہ کیا اور لفظ (زاغ اور خاب اور طاب اور حاق اور ھناق) میں امالہ کیا اور باقی امالہ نہیں کرتے (آیت)” ولھم عذاب الیم “ یعنی درد رسیدہ ، اس کا درد ان کے دلوں تک پہنچ جائے گا (آیت)” بما کانوا یکذبون “ مابرائے مصدر ہے معنی ہوگا ان کی اللہ ورسول اکرم ﷺ کی پوشیدہ تکذیب کی وجہ سے اور کو فیوں نے یکذبون تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے پھر معنی ہوگا ” بکذبھم “ (یعنی ان کے جھوٹ کے باعث عذاب الیم ہوگا) جبکہ انہوں نے امنا کہہ کر (جھوٹ بولا) جب کہ غیر مؤمن تھے ۔
Ayah 2:11

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ Open ayah 2:11 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں

(آیت)” واذا قیل “ کسائی نے (قیل اور غیض اور جیئی اور جیل اور سیق اور سیئت) ان تمام لفظوں کے اول حروف کو قدرے پیش کی طرف مائل کرکے پڑھا ، اہل مدینہ نے (سیئی اور سیئت) میں موافقت کی اور ابن عامر نے (سیق اور جیل اور سیئی اور سیئت) میں موافقت کی اس لیے کہ ان کا اصل قول قاف کی پیش اور واؤ کی کسرہ کے ساتھ ہے ۔ ” قتل “ کی طرح پش پیش کی طرف اشارہ کیا گیا تاکہ اس واؤ پر دلالت کرے جواب (یاء سے) بدل چکی ہے اور باقی حضرت ان الفاظ کے پہلے حروف کو کسرہ کے ساتھ پڑھتے ہیں ، انہوں نے واؤ پر حرکت کو ثقیل محسوس کیا تو اس کی کسرہ (زیر) کو فعل کی فاء کی طرف منتقل کردیا اور واؤ پہلے حرف کی زیر کی وجہ سے یاء سے بدل گئی ۔ (11) (آیت)” واذا قیل لھم “ یعنی منافقین کو کہا گیا یہود کو، ان کو مؤمنون نے کہا (آیت)” الا تفسدوا فی الارض “ کفر کرکے اور حضرت محمد کریم ﷺ پر اور قرآن کریم پر ایمان لانے سے لوگوں کو زمین پر فساد نہ کرو اور کہا گیا ہے کہ ” لا تفسدو “ کا معنی ” لا تکفروا “ ہے اور کفر دین میں شدید ترین فساد ہے۔ (آیت)” قالوا انما نحن مصلحون “ ۔ یہ بات بھی ایسے ہی جھوٹی کہتے ہیں جیسے کہ ” آمنا “ کا جملہ اس حال میں کہتے ہیں کہ وہ جھوٹے ہوتے ہیں ۔
Ayah 2:12

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:12 in the Quran reader

دیکھو ! یہ بلاشبہ مفسد ہیں لیکن خبر نہیں رکھتے

(12) ۔۔۔۔۔ (الا) کلمہ تنبیہ ہے جس سے مخاطب کو متنبہ کیا جاتا ہے (آیت)” انھم ھم المفسدون “ اپنے آپ کو (فاسد کرنے والے ہیں) کفر کرکے اور لوگوں کو خراب کرنے والے ہیں ۔ ایمان سے روک کرکے۔ (آیت)” ولکن لا یشعرون “ ۔ یعنی نہیں جانتے اس بات کو کہ وہ فاسد کرنے والے ہیں کیونکہ ان کا گمان یہ ہے کہ بیشک وہ جس حال پر ہیں کفر (کی گندگی) سے باطن بھر کر یہ حال ، حال صلاح ہے اور کہا گیا ہے کہ ” لا یعلمون “ کا معنی ہے کہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کچھ عذاب تیار کر رکھا ہے ۔
Ayah 2:13

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:13 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لے آئے تم بھی ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں کہ بھلا جس طرح بیوقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں ؟ سن لو کہ یہی بیوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے

(13) (آیت)” واذا قیل لھم “ یعنی منافقوں کو کہا گیا ہے یا یہود کو ” امنوا کما امن الناس “ جیسے عبداللہ بن سلام وغیرہ جو اہل کتاب میں سے ایمان لائے اور گیا ہے جیسے کہ مہاجرین و انصار ایمان لائے (آیت)” قالوا انؤمن کما آمن السفھاء “ سے مراد جاہل لوگ ۔ منافقت سے متعلق سوال اور اس کا جواب : پس اگر کہا جائے کہ (آیت)” انومن کما امن السفھائ “ کا قول جہرا کہنے کے بعد ان پر نفاق کا قول کرنا صحیح ہوگا ، جوابا کہا گیا ہے کہ منافق کہ لوگ یہ بات آپس میں کہتے تھے ایمان والوں کے سامنے نہیں کہتے تھے ، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور ایمان والوں کو ان کے اس قول کی خبردی ، پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا رد کرتے ہوئے فرمایا (آیت)” الا انھم ھم السفھاء ولکن ولا یعلمون “ نہیں جانتے کہ وہ سفیہ ہیں ، سفیہ کا معنی کم عقل کمزور حوصلے والا ، یہ ان کے اس قول ثوب سفیہ سے ماخوذ ہے ، یعنی کپڑا پتلا ہے اور کہا گیا ہے سفیہ اس جھوٹے کو کہتے ہیں جو عمدا اپنے علم کے خلاف کرے ۔ اہل کوفہ وشام نے (آیت)” السفھاء الا “ کو دونوں ہمزوں کو ثابت رکھ کر پڑھا ہے اور اسی ان ہر دو ہمزوں کو ثابت رکھتے ہیں جو دوکلموں میں واقع ہوں وہ دونوں ہمزے باہم متفق ہوں یا مختلف ۔ دوسرے حضرات پہلے ہمزہ کو ثابت رکھتے ہیں اور دوسرے میں لیں کرتے ہیں (یعنی اس ہمزہ کے اپنے مخرج اور اس پر واقع حرکت کے موافق حرف علت کے مخرج کے درمیان پڑھتے ہیں) یہ اس وقت جب دونوں ہمزے مختلف ہوں تاکہ تخفیف ہو۔ اور ۔
Ayah 2:14

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 2:14 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ہم (پیروان محمد سے) تو ہنسی کیا کرتے ہیں

(14) (آیت)” واذا لقوا الذین امنوا “۔ یعنی یہ منافق جب مہاجرین و انصار کو ملتے ہیں (آیت)” قالوا آمنا “ ہم ایمان لائے تمہارے ایمان کی طرح (آیت)” واذا خلوا “ جب لوٹتے ہیں ” لفظ خلوا “ جائز ہے کہ خلوت سے ہو اور (الی) بمعنی باء ہو تو (آیت)” الی شیاطینھم “ بمعنی بشیاطینھم “۔ ہوگا یعنی اپنے شیطانوں کے ہمزاہ اور کہا گیا ہے کہ الی بمعنی معنی ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ولا تاکلوا اموالھم الی اموالکم “۔ یعنی مع اموالکم (شیاطینھم) یعنی ان کے سردار اور ان کے کاہن شیاطین پانچ تھے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ یہود کے پانچ بڑے سرغنہ تھے ، 1۔ کعب بن اشرف مدینہ میں ۔ 2۔ ابو بردہ بنو اسلم میں ۔ 3۔ عبدالدار قبیلہ جہنیہ میں ۔ 4۔ عوف بن عامر بنی اسد میں ۔ 5۔ عبداللہ بن السوداء شام میں ۔ ہر کاہن کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے جو اس کے تابع ہوتا ہے شیطان لغت میں سرکش نافرمان اور حد سے گزرنے والے کو کہتے ہیں خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا آدمیوں میں سے جن میں سے انسانوں میں سے اور ہر چیز سے شیطان شطن سے ہے اس کا معنی بعد سے کہا جاتا ہے عرب کے محاورے میں بولا جاتا ہے بئر شطون یعنی گہرائی والا کنواں شیطان کو شیطان کا نام اس لیے دیا گیا کہ وہ بھی شر میں بڑھا ہوا ہے اور خیر سے دور ہوتا ہے ، اس لیے اس کا نام شیطان رکھا گیا ہے حضرت مجاہد ” الی شیاطینھم “ کا معنی کرتے ہیں الی اصحابھم یعنی اپنے ساتھیوں کی طرف جو منافقوں اور مشرکوں سے تھے ۔ ” قالوا انا معکم “ تمہارے دین پر (آیت)” انما نحن مستھزون “ ہم استہزاء کرتے ہیں ۔ محمد کریم ﷺ کے ساتھ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ بسبب اس کے کہ ہم اسلام ظاہر کرتے ہیں ۔ (تفسیر) ابوجعفر نے ” مستھزون اور یستھزون اور قل استھزوا اور استھزوا اور لیطفوا اور لیواطوا اور یستنبونک اور خاطین اور ” خاطون اور متکین اور متکون اور فمالون اور والمنشون “ ان سب میں ہمزہ چھوڑ دیتے ہیں ۔
Ayah 2:15

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 2:15 in the Quran reader

ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیے جاتا ہے کہ شرارت و سرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں

(15) (آیت)” اللہ یستھزی بھم “ یعنی ان کو بدلہ دیں گے ان کے استہزاء کا بدلہ استہزاء کے بدلہ کو بھی استہزا دیا گیا کیونکہ وہ استہزاء کے مقابلہ میں ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ استہزاء کا بدلہ اس طرح ہوگا کہ ان کے لیے جنت کا دروازہ کھولا جائے گا پس جب اس کی طرف پہنچیں گے تو وہ دروازہ ان سے بند کردیا جائے گا اور آگ کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے اور بعض نے کہا کہ استہزاء کا بدلہ اس طرح ہوگا کہ ایمان والوں کے لیے نور رکھا جائے گا جس سے وہ صراط پر چلیں گے ۔ جب منافق وہاں تک پہنچیں گے تو منافقوں اور مؤمنوں کے درمیان رکاوٹ کردی جائے گی جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” وحیل بینھم وبین ما یشتھون “۔ کہ منافقوں اور ان کی چاہتوں کے درمیان رکاوٹ قائم کردی جائے گی اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” فضرب بینھم بسولہ باب “۔ پھر ان کے درمیان ایک دیوار بنادی جائے گی جس کا ایک دروازہ ہوگا ۔ الا یہ کہ ان کے درمیان ایک فصیل قائم کردی جائے گی جس کا دروازہ ہوگا ۔ حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے اللہ ایمان والوں پر منافقوں کا نفاق ظاہر فرما دیں گے ” ویمدھم “ ان کو چھوڑتا ہے اور ان کو ڈھیل دیتا ہے مد اور امداد ایک چیز ہے اور اس کا اصل معنی زیادہ ہونا ہے مگر یہ کہ مد زیادہ تر شر میں استعمال ہوتا ہے اور امداد خیر میں مستعمل ہے ۔ اللہ تعالیٰ مداد ایک چیز ہے اور اس کا اصل معنی زیادہ ہونا مگر یہ کہ مدزیادہ تر شر میں استعمال ہوتا ہے اور امداد خیر میں مستعمل ہے ، اللہ تعالیٰ مد کے متعلق فرماتے ہیں (آیت)” ونمدلہ من العذاب مدا “ اور امداد کے متعلق فرمایا (آیت)” وامددنا کم ب اموال وبنین وامددناکم بفاکھۃ “ ۔۔۔ فی طغیانھم “ اپنی گمراہی میں طغیان کا اصل معنی ہے حد سے گزر جانا اور اسی سے ہے طغی الماء ” یعمھون “۔ یعنی گمراہی میں آتے جاتے ہیں اس حال میں کہ حیران ہیں ۔
Ayah 2:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى١۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 2:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے

(16) (آیت)” اولئک الذین اشتروا الضلالۃ بالھدی “۔ بالھدی کا معنی بالایمان (آیت)” فماربحت تجارتھم “ یعنی انہوں نے کفر کو بدلے میں لیا یعنی نہ نفع مند ہوئے وہ لوگ اپنی تجارت میں ، ربح یعنی نفع کی نسبت تجارت کی طرف کی کیونکہ نفع تجارت میں ہوتا ہے جیسے عرب والے کہتے ہیں ” ربح بیعک وخسرت صففتک “ یعنی تیری بیع نفع والی ہوئی اور تیرا سودا خسارہ کا ہوا ۔ (آیت)” وما کانوا مھتدین “ (یعنی نہیں تھے وہ راہ اپنانے والے گمراہی سے اور کہا گیا درست پہنچنے والے اپنی تجارت میں ۔
Ayah 2:17

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 2:17 in the Quran reader

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے (شب تاریک میں) آگ جلائی، جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان لوگوں کی روشنی زائل کردی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے

17۔ (آیت)” مثلھم “ ان کی مشابہت اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد ان کی صفات ہیں ۔۔۔۔۔ مثل معاشرہ میں اس مشہور قول کو کہتے ہیں جس سے کوئی چیز پہچانی جائے اور امثال قرآن کریم کی سات قسموں میں سے ایک قسم ہے ، ” کمثل الذی “ الذی بمعنی الذین ہے (گویا لفظا مفرد اور معنی کے لحاظ سے جمع) آیت کے سیاق کے لحاظ سے (یعنی بعد میں آنے والے صیغوں کے اعتبار سے) اور اس کی مثال (آیت)” والذی جاء بالصدق وصدق بہ اولئک ھم المتقون “۔ (یعنی جیسے یہاں ” والذی “ بمعنی ” الذین “ ہے کیونکہ اس کے بعد اسم اشارہ جمع لایا گیا یعنی ’ اولئک “ اس مقام میں الذی بھی بمعنی ” الذین “ کے ہے کیونکہ بعد میں اس کی طرف جمع کی ضمیریں لوٹ رہی ہیں (آیت)” بنورھم وترکھم “ (آیت)” استوقدنارا “۔ بمعنی اوقد نارا ہے (یعنی آگ کو جلایا) (آیت)” فلما اضاء ت “ آگ نے روشن کیا (ماحولہ) یعنی آگ جلانے والے کے ماحول کو اضاء لازم بھی ہے متعدی بھی ، چناچہ کہا جاتا ہے اضاء الشی بنفسہ اور اضاء غیرہ یعنی چیز روشن ہوئی (خود) چیز نے روشن کیا (دوسرے کو) اور یہاں متعدی ہے ۔ (آیت)” ذھب اللہ بنورھم ۔۔۔۔ لایبصرون “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ ؓ اور مقاتل ؓ اور ضحاک ؓ (تفسیر بغوی صفحہ 53) اور سدی (رح) فرماتے ہیں یہ منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ منافقوں کی مثال ان کے نفاق میں اس آدمی کی سی ہے جو جنگل میں تاریک رات کے اندر آگ جلاتا ہے پس سینکتا ہے اور اپنے ماحول کو دیکھتا ہے پس (سمجھتا ہے) کہ وہ ہر اس چیز سے بچ گیا جس کا اسے خوف تھا وہ اسی حال (اطمینان) میں ہوتا ہے کہ اچانک اس کی (جلائی ہوئی) آگ بجھ جاتی ہے پس وہ اندھیرے میں حیران و پریشان رہ جاتا ہے پس سی طرح منافق لوگ ایمان کا بول ، بول کر اپنے مال واولاد سے متعلق پرامن اور مطمئن ہوگئے ، ایمان والوں کے ہاں نکاح وغیرہ کردیئے ، مؤمنوں کی جائیداد کے وارث بن گئے مال غنیمت کے حصے لے اڑے ۔ یہ (مفادات) ان کا نور ہوئے پس جب مرے وہی تاریکی اور خوف ان کا مقدر ٹھہرا اور کہا گیا ہے اس کے نور کا چلا جانا قبر میں ہوگا ۔ بعض نے کہا کہ قیامت میں ہوگا جب وہ ایمان والوں کو کہتے پھریں گے ہمارا خیال کرو ہم تمہارے نور سے روشنی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور بعض نے کہا کہ ان کے نور کا چلا جانا اس اعتبار سے ہے کہ حضور ﷺ کی زبان مقدس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے عقیدہ نفاق کو ظاہر فرمایا تو آگ سے مثال دی گئی ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ” اطفا اللہ نارھم “ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی آگ کو بجھا دیا بلکہ فرمایا اللہ تعالیٰ ان کے نور کو ان سے لے گیا ، کیونکہ آگ کے اندر دو چیزیں ہوتی ہیں روشنی اور حرارت تو ان کا نور یعنی روشنی ختم شد اور حرارت ان پر باقی رہی ۔ حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں اضاء ۃ النار آگ کا روشن ہونا، ان منافقوں کا مؤمنین کی طرف متوجہ ہونا ہے اور ہدایت کی طرف مائل ہونا اور ان کے نور کے چلے جانے سے مراد ان کا مشرکین کی طرف جھکنا اور گمراہی کی طرف ۔ حضرت عطاء (رح) اور محمد بن کعب (رح) فرماتے ہیں یہ آیت کریمہ یہود کے بارے میں نازل ہوئی اور حضور ﷺ کی تشریف آوری سے متعلق ان کے انتظار سے متعلق اور مشرکین عرب کے خلاف حضور ﷺ کے حوالے سے رب تعالیٰ سے طلب فتح کرنا ، پھر جب حضور ﷺ تشریف لائے تو ان یہود نے حضور ﷺ کے ساتھ کفر کیا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کا حال بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ۔
Ayah 2:18

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ Open ayah 2:18 in the Quran reader

(یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے راستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے

18۔ (صم) یعنی وہ لوگ حق سے بہرے ہیں اسے قبول نہیں کرتے اور جب انہوں نے قبول نہ کیا پس گویا انہوں نے سنا ہی نہیں (بکم) حق سے گونگے ہیں کہ حق بات کہتے ہیں نہیں یا یہ کہ جب انہوں نے ظاہر (بول ایمان) کے خلاف دل میں (کفر) چھپایا پس گویا کہ وہ حق کا بول بولے ہی نہیں ۔ (عمی) یعنی ان کو بصیرتیں حاصل نہیں ہیں اور جسے بصیرت حاصل نہیں وہ بینائی سے بھی گویا کہ محروم ہے۔ (آیت)” فھم لا یرجعون “ گمراہی سے حق کی طرف لوٹیں گے ہی نہیں۔
Ayah 2:19

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:19 in the Quran reader

یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا ہو) اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور خدا کافروں کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے

19۔ (آیت)” او کصیب “۔ یعنی بارش والوں کی طرح ، یہ اور مثال ہے جسے اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے لیے بیان فرمایا بایں معنی کہ اے مخاطب اگر تو چاہے تو ان منافقوں کے لیے اس آگ جلانے والے کی مثال بیان کرے جو روشنی کے بعد اندھیرے میں پھنس گیا ہو یا تو چاہے تو بارش والوں کی مثال دے اور کہا گیا ہے کہ او بمعنی واؤ ہے ، یعنی جب اللہ تعالیٰ بارش برسانے کا ارادہ کرتے ہیں ۔ ” وکصیب “ جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے ” اویزیدون “ بمعنی ویزیدون اور صیب بارش ہے اور ہر وہ چیز جو اوپر سے نیچے کی طرف نازل ہو وہ صیب ہے ، صیب بروزن فیعل ہے صاب یصوب سے یعنی اترا (من السمائ) آسمان سے یعنی بادل سے اور کہا گیا ہے کہ سماء سے مراد بعینہ یہی آسمان ہے اور ہر وہ جو تجھ پر بلند ہو اور تجھ پر سایہ فگن ہو وہ سماء ہے یہ یہ اسم جنس ہے واحد اور جمع پر برابر صادق آتا ہے ، (فیہ) یعنی بارش میں اور کہا گیا ہے سماء میں یعنی بادل میں ۔ اسی لیے اس کو مذکر ذکر کیا اور کہا گیا ہے کہ سماء مزکر مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (السماء منفطربہ) اس جگہ سماء مذکر استعمال ہوا اور فرمایا (آیت)” اذا السماء انفطرت “ (ظلمات) ظلمت کی جمع (ورعد) رعد وہ آواز ہے جو بادل سے سنی جاتی ہے (وبرق) برق وہ آگ ہے جو بادل سے نکلتی ہے ۔ حضرت علی ؓ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور اکثر مفسرین فرماتے ہیں رعد اس فرشتے کا نام ہے جو بادل کو ہانکتا ہے اور برق اس فرشتے کے نورانی کوڑے کی چمک ہے جس سے وہ فرشتہ بادل کو ہانکتا ہے اور بعض نے کہا آواز فرشتے کی ڈانٹ ہے اور بعض نے کہا کہ فرشتے کی تسبیح ہے اور بعض نے کہا رعد فرشتے کا بولنا اور برق اس کا ہنسنا ہے حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ رعد فرشتے کا نام ہے اور اس کی آواز کو بھی رعد کہا جاتا ہے۔ رعد اور برق فرشتے کا نام ہیں جو بادل ہانکتا ہے ، شہر بن حوشب (رح) فرماتے ہیں رعد فرشتہ ہے جو ڈانٹتا ہے جب (بادل) پھیلتا ہے اسے ملاتا ہے جب اس فرشتہ کا غضب شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے منہ سے آگ اڑتی ہے ، پس یہ صواعق ہے اور کہا گیا ہے رعد۔ مگر اول زیادہ صحیح ہے (آیت)” یجعلون اصابعھم فی آذانھم من الصواعق “ صاعقہ کی جمع ہے اور یہ وہ سخت آواز ہے جو اسے سنے وہ مرجاتا ہے یا بےہوش ہوجاتا ہے اور ہر مہلک عذاب کو صاعقہ کہا جاتا ہے اور کہ صاعقہ عذاب کا ایک ٹکڑا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ بیشک جب حضور ﷺ رعد اور صواعق کی آواز کو سنتے تو فرماتے اے اللہ تو ہمیں اپنے غضب کے ساتھ قتل نہ فرما اور اپنے عذاب کے ساتھ ہمیں ہلاک نہ فرما اور اس سے پہلے ہمیں عافیت بخش اور اللہ تعالیٰ کا قول (حذرالموت) یعنی ہلاکت کے ڈر سے ۔ (آیت)” واللہ محیط بالکافرین “ اللہ تعالیٰ ان سب کو جانتا ہے اور بعض نے کہا کہ ان کو جمع کرنے والا ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں انکو جمع فرمائے گا پس انکو عذاب دے گا اور بعض نے کہا کہ ان کو ہلاک کرنے والے ہے ، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت)” الا ان یحاط بکم “ مگر یہ کہ تم سب ہلاک ہوجاؤ ، ابوعمرو اور کسائی کافرین میں زبر والی جگہ پر یا بوجہ زیر کے امالہ فرماتے ہیں اور (اول کافر بہ) میں امالہ نہیں فرماتے ۔