Ayahs 3:1–2(تفسیر) 1۔:
(آیت)” الم (حروف مقطعات میں سے ہے)
شان نزول :
2۔ (اللہ) کلبی اور ربیع ان انس نے بیان کیا کہ ان آیات کا نزول نجران کے نمائندوں کے متعلق ہوا جن کی تعداد ساٹھ تک تھی یہ سوار ہو کر آپ ﷺ کے پاس آئے یہ کل چودہ افراد تھے اور ان چودہ افراد میں تین اشراف تھے ، ان میں عاقب سب کا لیڈر اور مشیر تھا ، اس سے لوگ مشورہ طلب کرتے تھے اور اس کی رائے بغیر کوئی کام نہیں کرتے تھے ، عاقب کا نام عبدال مسیح تھا اور امیر سفر سید تھا جس کا نام ایہم تھا اور ابو حارثہ بن علقمہ پادری اور قافلہ کے مذہبی عالم تھے ، رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز سے فارغ ہوچکے تھے اس وقت یہ مسجد نبوی میں داخل ہوئے ، ان کے اوپر یمنی منقش کپڑے کے جغے پہنے ہوئے تھے اور خوبصورت مردانہ چادریں اوڑھے ایسے بھلے معلوم ہوتے تھے کہ دیکھنے والے کہہ رہے تھے کہ ان جیسے لوگوں کو ہم نے کبھی نہیں دیکھا وہاں حارث بن کعب ؓ بھی تھے ، وہ کہہ رہے تھے کہ ہم نے ان جیسا کوئی وفد نہیں دیکھا نماز کا وقت بھی ہوگیا تھا ، آپ ﷺ نے ان کو مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دی ، انہوں نے مشرق کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی ، آپ ﷺ نے سید اور عاقب سے گفتگو کی ، آپ ﷺ نے ان دونوں کو اسلام لانے کی دعوت دی ، دونوں نے جواب دیا کہ ہم دونوں تو آپ ﷺ سے پہلے اسلام لا چکے ہیں ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم دونوں جھوٹ بولتے ہو ، تم کو اسلام سے روک دینے والی چیز یہ ہے کہ تم عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہو ، صلیب کی پوجا کرتے ہو اور خنزیر کو کھاتے ہو، کہنے لگے اچھا بتاؤ اگر عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ خدا نہیں تو ان کا باپ اور کون ہے ؟ یہ سب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق جھگڑنے لگے آپ ﷺ نے ان سب کو ارشاد فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ ہمارا رب زندہ ہے اس کو کبھی موت نہیں آئے گی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر موت بھی آئے گی ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں ، پھر آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ ہمارا رب ہر چیز پر قائم ہے وہ حفاظت بھی کرتا ہے اور رزق بھی عطا کرتا ہے ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا ان چیزوں کا مالک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہوسکتے ہیں ، وہ کہنے لگے نہیں ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ اللہ کے سامنے کوئی چیز پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں ؟ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو سوائے اپنے مخصوص علم کے اس سے زیادہ کچھ جانتے ہیں ؟ اہل وفد نے کہا کہ نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا کہہ ہمارے رب نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی صورت رحم میں بنائی جس طرح اس نے چاہا اور ہمارا رب نہ کھاتا ہے اور نہ پیتا ہے ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ حضرت مریم (علیہا السلام) نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے پیٹ میں اسی طرح رکھا جس طرح عورت اپنے بچے کو پیٹ میں رکھتی ہے پھر اس کو جنا جس طرح عورت اپنے بچے کو جنتی ہے ، پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو غذا دی گئی جیسا کہ بچے کو غذا دی جاتی ہے پھر وہ کھاتے بھی ہیں اور پیتے بھی ہیں اور باتیں بھی کرتے ہیں وہ کہنے لگے کیوں نہیں ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پھر جس طرح تم گمان کرتے ہو اس طرح کیسے ہوسکتا ہے ؟ وہ سب خاموش ہوگئے ، اس پر اللہ رب العزت نے اس صورت کی ابتدائی آیات اسی (80) سے کچھ اوپر آیات نازل ہوئیں ۔
” الم اللہ “ بعض نے کہا کہ میم مفتوح کے ساتھ اور لفظ اللہ اس کے ساتھ ذکر ہے اور بعض حضرات نے میم مفتوح پڑھا ہے التقاء ساکنین کی وجہ سے اور اخف حرکات میں فتحہ دیا اور ابو یوسف بن خلیفہ نے ابی بکر سے روایت کی ہے ” الم، اللہ “ اور بعض حضرات نے یہاں لفظ اللہ میں ہمزہ کو ساقط کردیا اور میم کے فتحہ کو لفظ اللہ کے لام کے ساتھ ملا دیا اور بعض نے لفظ میم کو ساکن پڑھا ہے وقف کرکے پھر ابتداء میں ہمزہ کو حذف کردیا ان لوگوں کے نزدیک جو اس کو حذف کردیتے ہیں ۔
(لا الہ الا ھو الحی القیوم اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندہ رہنے والا قائم رہنے والا ہے) لفظ اللہ مبتداء ہے اور اس کے مابعد خبر ہے اور ” الحی القیوم “ اس کی صفت ہے ۔
Ayah 3:3(تفسیر) 3۔:
(نزل علیک الکتاب نازل کیا تم پر کتاب کو) کتاب سے مراد قرآن ہے ۔ (بالحق حق کے ساتھ) حق بمعنی سچائی کے ہے ، (مصدقالما بین یدیہ تصدیق کرنے والی ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے گزری ہیں) اس سے پہلے جو کتابیں نازل ہوئیں توحید کے متعلق ، نبوت اور اخبار اور بعض شرائع کو (وانزل التوراۃ والانجیل اور نازل کیا تورات اور انجیل کو) ۔
Ayah 3:44۔ (من قبل اس سے پہلے ) گویا کہ اس طرح یوں کہا (آیت)” وانزل التوراۃ والانجیل “۔ کیونکہ تورات اور انجیل ایک ہی مرتبہ نازل ہوئی اور قرآن کے متعلق ” نزل “ کے الفاظ استعمال کیے ۔ ” انزال “ کے معنی ہیں پورے مجموعہ کا اتارنا اور ” نزل “ کے معنی تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کرنا اور تنزیل کے معنی ٹکڑے ٹکڑے کرکے نازل کرنا ، بصریین نے کہا کہ تورات کی اصل ” یہ فوعلۃ “ کے وزن پر ہے مثل ” دوخلۃ وحوقلۃ “ پہلی واؤ کو تاء سے اور یاء مفتوحہ کو الف سے بدل دیا تورات بن گیا پھر اصل کتاب میں یاء کو لکھ دیا گیا ۔ کو فیین کے نزدیک تورات کا اصل ” تفعلۃ “ مثل ” توصیۃ “ اور ” توفیۃ “ کی طرح ہے ، اس کو الف سے بدل دیا لغت طی کی وجہ سے اور یہ لوگ ” جاریۃ “ کو جاراۃ بولتے ہیں اور ” ناصیۃ “ کو ناصاۃ کہتے ہیں اور ان کے قول کے مطابق یہ ” وری الذند “ کا لفظ ہے چقماق سے جب آگ نکلتی ہے تو اس وقت کہا جاتا ہے ” واوریتہ انا “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” افرایتم النار التی تورون “ اس کا نام تورات اس لیے ہے کہ اس میں نور و روشنی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” وضیاء وذکری للمتقین “۔ بعض حضرات نے کہا یہ تورات ہی ہے اس میں اسرار کو چھپاتے تھے ۔
اور انجیل افعیل کے وزن پر ہے نجل سے ہے بمعنی خروج اور ولد کو بھی نجل کہتے ہیں اس کے پیدا ہونے کی وجہ سے انجیل کو یہ نام اسی وجہ سے دیا گیا ۔ اور کہا جاتا ہے کہ نجل سے مشتق ہے اور بعض حضرات نے کہا کہ تورات عبرانی زبان کا لفظ ہے تور اور تور اس کا معنی یہ ہے کہ شریعت اور انجیل سریانی زبان کا لفظ ہے اور اس کا معنی اکلیل ہے جو ایک خاص قسم کی گھاس ہوتی ہے (ھدی للناس اس میں ہدایت ہے لوگوں کے لیے) ان لوگوں کے جو پیروی کرتے ہیں ہدایت ہے لوگوں کے لیے اور یہ مصدر ہے (وانزل الفرقان اور تمہارے لیے فرقان نازل ہوا) جو حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والے ہوں ، امام سدی (رح) فرماتے ہیں کہ آیت میں تقدیم اور تاخیر ہے تقدیری عبارت یوں ہوگی (آیت)” وانزل التوراۃ والانجیل والفرقان ھدی للناس “۔۔۔۔۔۔۔ ان الذین کفروا بایات اللہ لھم عذاب شدید واللہ عزیز ذوانتقام “۔ (جن لوگوں نے اللہ کی نازل کردہ آیات کا انکار کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب انتقام لینے والا ہے)
Ayah 3:55۔ (آیت)” (ان اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ فی السماء بیشک زمین و آسمان میں کوئی بھی چیز اس کے نزدیک پوشیدہ نہیں)
Ayah 3:66۔ (آیت)” (ھو الذی ۔۔۔۔۔۔ یشاء اللہ وہ ذات ہے جو ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں بناتا ہے جیسی چاہتا ہے) مختلف صورتیں خواہ وہ مذکر ہوں یا مؤنث سفید ہوں یا سیاہ خوبصورت ہوں یا بدصورت ، مکمل ہوں یا ناقص (لا الہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الحکیم اس (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں ، گویا انہوں نے یہ کہا کہ وہ بیٹا کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ اس نے ماں کے پیٹ میں صورت بنائی ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو صادق ومصدوق ہیں تم میں ہر ایک شخص کو ماں کو پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ رکھا جاتا ہے ، پھر علقمہ بن جاتا ہے، پھر وہ گوشت کا ٹکڑا پھر اس کے بعد فرشتے کو چار چیزیں لکھنے کے لیے بھیجتا ہے تو فرشتہ اس کا رزق اس کا عمل اور اس کی اجل (مدت زندگی) اور اس کا نیک بخت ہونا یا بدبخت ہونا لکھ دیا جاتا ہے ، آپ ﷺ نے پھر ارشاد فرمایا کہ تم میں سے بعض لوگ جنتیوں والے اعمال کرتے رہتے ہیں اور ایک گز کا فاصلہ باقی رہتا ہے تو تقدیر سبقت کرتی ہے تو وہ شخص دوزخیوں کے اعمال کرتا ہے اور دوزخ میں چلا جاتا ہے اور کچھ لوگ دوزخیوں جیسے اعمال کرتے رہتے ہیں حتی کہ ایک گز کا فاصلہ باقی رہتا ہے تو تقدیر سبقت کرتی ہے تو یہ شخص اہل جنت کا کام کرتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے ، حضرت حذیفہ بن اسید ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رحم کے اندر نطفہ کے چالیس یا پینتالیس راتیں گزرنے کے بعد ایک فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور عرض کرتا ہے کہ اے میرے رب ! یہ نیک ہے یا بد ؟ تو اس کے لیے ایسا ہی لکھا جاتا ہے پھر وہ اپنے رب سے کہتا ہے اے میرے رب ! یہ مذکر ہے یا مؤنث ؟ پھر اس کے لیے یہ بھی لکھی جاتی ہیں ، اسی طرح اس کے اعمال اس کی زندگی اس کا رزق لکھ دیا جاتا ہے پھر وہ مکتوب لپیٹ دیا جاتا ہے نہ اس میں کوئی کمی کی جاتی ہے اور نہ ہی اس میں زیادتی کی جاتی ہے ۔
Ayah 3:7آیات محکمات کی تشریح :
(تفسیر) 7۔:
(آیت)” (ھو الذی ۔۔۔۔۔۔۔ محکمات وہی ہے جس نے نازل کیا تم پر کتاب جس کی کچھ آیات مضبوط تھیں) محکمات سے مراد مبینات ، مفصلات ہیں ، ان کو محکمات اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں احکام ہیں ، گویا ان میں ایسے احکام ہیں جس میں مخلوقات کو تصرف کرنے سے روکا گیا ہے ، ان میں احکام کے ظاہر اور واضح ہونے کی وجہ سے (ھن ام الکتاب آیات محکمہ اصول و فرائض ہیں) اس کا اصل ہر وہ کام جو احکام کی طرف واپس لوٹے ، اسی لیے ” ھن ام الکتاب “ کہا ہے اور امہات الکتاب نہیں کہا اس لیے کہ اس میں تمام آیات اس کے احکام مکمل اور مجتمع ہیں ، گویا کہ یہ آیت واحدہ کے حکم میں ہیں اور اللہ کا کلام واحد ہے، معنی ہوگا ان میں سے ہر ایک آیت ” ام الکتاب “ ہے ، جیسا کہ اللہ کا فرمان ” وجعلنا ابن مریم وامہ ایۃ “۔ یعنی ان میں سے ہر ایک نشانی ہے (واخر اور دوسری) ” اخر “ جمع ہے آخری کی ، یہ غیر منصرف ہے کیونکہ یہ دوسرے سے معدول ہو کر آیا ہے ، جیسے ” عمر اور زفر “ ” عامر اور زافر “ سے معدول ہو کر آیا ہے (متشابھات)
سوال و جواب :
بعض نے سوال کیا کہ یہاں محکم اور متشابہہ میں کیسے فرق کیا جائے گا حالانکہ پورے قرآن کو محکم قرار دیا ہے جبکہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا ” الرکتاب احکمت ایاتہ “ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ سارا قرآن متشابہہ ہے، اس کا جواب دیا کہ پورے قرآن کے محکم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تمام قرآن فساد معنی اور ضعف عبارت سے محفوظ ہے ، پورا قرآن حق ہے اس میں کوئی چیز بھی عبث نہیں اور پورے قرآن کے متشابہہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بعض قرآن بعض کے ساتھ متشابہہ ہے حق میں سچائی میں اور حسن میں اور اس جگہ تفریق و تقسیم سے مراد یہ ہے کہ بعض آیات کے معنی محکم ہیں اور بعض کے متشابہہ ۔
محکم اور متشابہ میں فرق :
مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ محکمات تین آیات جو سورة انعام میں ہیں ۔ (آیت)” قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم “۔ اور اس کی مثال سورة بنی اسرائیل میں ہے (آیت)” وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ “۔
اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ متشابہات وہ حروف جو سورتوں کے اوائل میں آئے ہیں یعنی حروف مقطعات ، مجاہد (رح) اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ محکم سے مراد حلال و حرام ہے اور اس کے علاوہ جو آیات ہیں وہ متشابہات ہیں ۔
اور بعض آیات بعض کی تصدیق کرتی ہیں ۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” وما یضل بہ الا لفاسقین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویجعل الرجس علی الذین لا یؤمنون “۔
امام قتادہ (رح) ، ضحاک (رح) اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ محکم وہ ہے جو ناسخ ہو اور معمول بہا ہو ، متشابہہ جو منسوخ اور معمول بہا نہ ہو ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ہیں کہ قرآن میں محکمات یہ ہیں ناسخ ، حلال ، حرام ، حدود ، فرائض جن پر ایمان لانا اور عمل کرنا ضروری ہے ، متشابہات یہ ہیں منسوخ ، مقدم ومؤخر ہونا اس کے افعال اور اس کی اقسام نہ ان پر ایمان لایا جاتا ہے اور نہ ہی ان پر عمل کیا جاتا ہے ۔
بعض حضرات نے کہا کہ محکمات سے مراد وہ احکام ہیں جن کے معانی پر مطلع ہونے کے لیے مخلوق کو روکا گیا ہے اور متشابہہ وہ ہے جس کے جاننے پر مخلوق کو روکا نہ گیا ہو اور اس کے علم پر کوئی چارہ نہ ہو جیسے قیامت کے متعلق نشانیاں ، دجال کا خروج ، نزول عیسیٰ (علیہ السلام) ، طلوع شمس مغرب سے قیامت کا قائم ہونا ، دنیا کا فناء ہونا ( ان چیزوں کا جاننا ضروری ہے)
احمد بن جعفر بن زبیر نے فرمایا محکم وہ ہے جس میں کوئی تاویل کی گنجائش نہ ہو اور متشابہہ وہ ہے جس میں مختلف تاویلات کی گنجائش ہو ، بعض نے کہا کہ محکم وہ ہے جس کا معنی معلوم ہو اور وہ حجت واضح ہو اور اس کے دلائل میں کوئی اشتباہ بھی نہ ہو اور متشابہہ وہ ہے جس کا علم نظر وفکر پر ہو اور عام انسان اس کی تفصیل (حق اور باطل کے درمیان) نہ پہچان سکتا ہو۔
بعض نے کہا کہ محکم وہ ہے جس کا معنی فی نفسہ مستقبل ہو اور متشابہہ وہ ہے جو فی نفسہ مستقل نہ ہو۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے فرماتے ہیں کہ اس روایت کے بارے میں کہ متشابہہ جو سورتوں کے شروع میں نقل کیے گئے ہیں یہ اس وجہ سے ہے کہ یہود کی ایک جماعت جن میں حی بن اخطب ، کعب بن اشرف آپ کے پاس آئے ، حیی نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ ہم کو معلوم ہوا ہے کہ آپ پر ” الم “ نازل ہوئی ، ہم آپ کو اس کی قسم دے کر دریافت کرتے ہیں کہ کیا اللہ نے آپ پر اس کو نازل فرمایا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جی ہاں ! حیی بولا اگر یہ بات صحیح ہے تو میں آپ کی امت کی عمر جانتا ہوں اور یہ کل عمر (71) سال ہوگی ، اس نے کہا کہ کیا اس کے علاوہ بھی کوئی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا جی ہاں اس کے علاوہ اور کچھ بھی نازل ہوا ہے اور وہ ” المص “ ہے اس پر حیی نے کہا کہ اب تو مدت بہت ہوگئی ہے اور وہ 161 سال ہے ، پھر وہ بولا کیا اس کے علاوہ کچھ وہ بھی ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، جی ہاں ۔ ” الر “ حیی کہنے فرمایا کہ ” المر “ ہے کہنے لگا یہ بھی بہت مدت ہے ۔ 271 سال ہے ، پھر کہنے لگا کہ آپ نے ہمارے لیے گڑ بڑ کردی ہے ہم نہیں سمجھتے کہ زیادہ مدت قائم کریں یا کم مدت ، ہم ایسی چیزوں پر ایمان نہیں لاتے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” ھو الذین انزل علیک الکتاب منہ آیات محکمات ھن ام الکتاب واخر متشابھات “ (فام الذین۔۔۔۔۔ زیغ پس وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے) زیغ سے مراد حق سے روگردانی ہے۔ بعض نے کہا کہ زیغ سے مراد شک کرنا ہے ۔
(آیت)” (فیتبعون ۔۔۔۔۔۔ منہ پس وہ پیروی کرتے ہیں متشابہات کی اس سے) اس آیت کے معنی ہیں اختلاف ہے ۔
امام ربیع (رح) فرماتے ہیں کہ یہ وفد نجران جو آپ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے پوچھا کیا آپ عیسیٰ (علیہ السلام) کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ نہیں کہتے ، آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں ۔ اہل وفد نے کہا کہ بس یہی ہمارے لیے کافی ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
کلبی (رح) نے کہا کہ اس سے مراد یہودی ہے جنہوں نے اس امت کی موت اور بقاء کا علم حروف ابجد کے ذریعے سے حاصل کرنا چاہا، ابن جریج (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد منافقین ہیں ، حسن (رح) فرماتے ہیں کہ خوارج مراد ہیں ۔
حضرت قتادہ ؓ نے جب یہ آیت پڑھی (آیت)” فاما الذین فی قلوبھم زیغ “۔ تو فرمایا کہ یہ لوگ حروریہ اور سائبیہ نہیں ، میں نہیں جانتا کہ یہ کون لوگ ہیں ، بعض نے کہا کہ یہ تمام بدعتی لوگ ہیں ۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت)” ھو الذین انزل علیک الکتاب منہ آیات محکمات ھن ام الکتاب واخر متشابھات “ سے لے کر ” اولوالالباب “ تک حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم ایسے لوگ دیکھو جو قرآن کے متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں تو سمجھ لینا کہ وہی لوگ ہیں جن کا ذکر فرمایا ہے لہذا ان سے احتیاط رکھنا ، (ابتغاء تاویلہ) اور ڈھونڈنا اس کی تاویل (مطلب) اس کی تفسیر اور اس کا علم مراد ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” سانبک ب تاویل مالم تستطع علیہ صبرا “۔ بعض نے کہا کہ ابتغاء سے مراد اس کے انجام کو تلاش کرنا یا اس امت کی مدت کو حروف ابجد کے ذریعے سے معلوم ہونا ، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ذالک خیر واحسن تاویلا “۔ اس سے مراد عاقبت ہے۔
(آیت)” (وما یعلم۔۔۔۔ فی العلم اور نہیں جانتے اس کی تاویل مگر اللہ تعالیٰ ) ۔۔۔۔ (اور جو لوگ علم میں پکے ہیں) (آیت)” والراسخون “ کی واؤ میں علماء کا اختلاف ہے کہ واؤ کون سی ہے، بعض حضرات نے کہا کہ واؤ عاطفہ ہے تو اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ متشابہات کا علم ” راسخین فی العلم “۔ جانتے ہیں ساتھ ان لوگوں کے علم کے جو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے ، یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے (آیت)” ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری فللہ وللرسول ولذی القربی “۔ ثم فرمایا ” للفقراء المھاجرین الذین اخرجوا من دیارھم “۔ سے لے کر ” والذین تبوؤاالدار والایمان من قبلھم “۔ پھر فرمایا ” والذین جاء وامن بعدھم “۔ ان سب کا عطف ماقبل پر ہے ، پھر فرمایا ” یقولون ربنا اغفرلنا “ (اس آیت میں بھی یقولون جملہ حالیہ ہے) مطلب یہ ہوگا کہ ہم بھی ان کے ساتھ مال فئی کا حق رکھتے ہیں اور پھر وہ کہتے ہیں ” ربنا اغفرلنا “ اس حال میں کہ وہ یہ (دعا) کرتے ہیں ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے وہ آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں ” راسخین فی العلم “۔ میں سے ہوں ۔ مجاہد (رح) نے فرمایا کہ میں بھی متشابہات کی تاویل جاننے والوں میں سے ہوں ۔
دوسرے مفسرین کے نزدیک واؤ استیناف کے لیے ہے اس صورت میں (آیت)” وما یعلم تاویلہ الا اللہ “۔ میں کلام مکمل ہوجاتا ہے ، یہی قول ابی بن کعب ؓ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت زبیر ؓ کا ہے اور طاؤس نےے سے یہی قول روایت کیا ہے ، حسن (رح) اور اکثر تابعین نے بھی یہی کہا ہے اور کسائی (رح) فراء (رح) اخفش (رح) نے اسی کو اختیار کیا ہے ، یہ حضرات کہتے ہیں کہ متشابہات کی تاویل صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں اور قرآن میں متشابہات کی تاویل وہ لوگ کرسکتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ساتھ مخصوص کیا ہے (یعنی ان کو کچھ علم خاص عطا فرمایا) اور اس علم پر کوئی اور مطلع نہیں ہوسکتا ، جیسا کہ قیامت کا علم طلوع شمس من مغربھا کا علم خروج دجال نزول عیسیٰ (علیہ السلام) کا علم اور مخلوق کو متشابہات پر ایمان لانا ضروری ہے ، اور محکمات پر ایمان لانا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے ، ان کی تائید ابن مسعود ؓ کی دوسری قرات سے بھی ہوتی ہے کہ ” وما تاویلہ “ کی جگہ ” ان تاویلہ الا عند اللہ ، والراسخون فی العلم یقولون امنا “ اس قرات میں ” والراسخون “۔ کا عطف لفظ اللہ پر ہونا ممکن ہی نہیں ، حضرت ابی بن کعب ؓ کی قرات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ، (آیت)” ویقول الراسخون فی العلم امنا “۔ اس قرات میں بھی الراسخون کا عطف (اللہ) پر نہیں ہوسکتا ، عمر بن عبدالعزیز (رح) نے اس آیت کے متعلق فرمایا کہ تفسیر قرآن کریم کے علم میں رسوخ رکھنے والوں کے علم کی یہ آخری حد آگئی کہ انہوں نے کہا کہ ” امنا بہ “ کہ ہم ایمان لائے جو بھی رب کی طرف سے ہے یہ قول زیادہ قیاس کے قریب ہے اور ظاہری آیت کے مشابہہ ہے ۔
راسخون فی العلم ‘ کا مصداق کون ہیں ؟
(آیت)” والراسخون فی العلم “۔ سے مراد وہ لوگ جو علم میں ایسے پختہ اور جمے ہوئے ہیں جن کے علم پر ایسا یقین کیا جاسکتا ہے جس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہ ہو۔ (آیت)” راسخون “۔ کا اصل یہ ہے کہ کسی چیز میں خوب مہارت اور رسوخ ہونا اور اس کا ثبوت ہونا ہے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ فلاں کے دل میں ایمان راسخ ہوگیا ، یہ مادہ ہے ، ” یرسخ ، رسخا، ورسوخا “ بعض نے کہا کہ (آیت)” والراسخون فی العلم “۔ سے مراد وہ اہل کتاب جو ایمان لائے ، مثلا عبداللہ بن سلام اور اس کے ساتھی ، ان کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” لکن الراسخون فی العلم “۔ جو تورات اور انجیل کا درس دیا کرتے تھے۔
انس بن مالک ؓ سے ” راسخین فی العلم “ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا وہ عالم باعمل جو دیئے ہوئے علم کی پیروی کرنے والا ہو ۔
بعض نے کہا کہ ” راسخ فی العلم “ وہ ہوتا ہے جس کے علم میں چار چیزیں موجود ہو۔
1۔ التقوی بینہ وبین اللہ پرہیزگاری اس کے اور اس کے رب کے درمیان۔
2۔ تواضع اس کی اور مخلوق کے درمیان ۔
3۔ والذھد “ دنیا سے بےپروائی ۔
4۔ مجاہدہ اس کے نفس کے درمیان ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ امام مجاہد (رح) اور سدی کا قول ہے کہ جب راسخین نے کہا کہ ہم ایمان لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کا نام راسخ فی العلم رکھ دیا اور یہ اپنے علم میں خوب مہارت رکھنے لگے ، صرف اس قول کی وجہ سے کہ ’ امنا بہ “ مراد متشابہہ ہے ، (کل من عند ربنا یہ سب کچھ ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے)
کل سے مراد محکم ، متشابہہ ناسخ منسوخ اور جس کی مراد سے ہم واقف ہیں اور جس کی مراد سے ہم واقف نہیں ہیں وہ سب کچھ اللہ رب العزت کی طرف سے ہے (وما یذکر اور نہیں نصیحت حاصل کرتے) جو کچھ قرآن میں ہے (الا اولوالالباب مگر عقل والے ) اولوالالباب “ سے مراد ذوی العقول میں ۔
Ayah 3:8(تفسیر) 8۔:
(آیت)” ربنا لاتزغ قلوبنا “۔ اے ہمارے رب ہمارے دلوں کو نہ پھیر۔ یہ جملہ راسخین فی العلم کا ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمارے دلوں کو نہ پھیر حق سے باطل کی طرف ، ہدایت سے گمراہی کی طرف جس طرح کہ تو نے ان لوگوں کے دلوں کو حق سے پھیر دیا ہے جن کے دل میں کجی ہے ۔ (بعد اذ ھدیتنا ہدایت دینے کے بعد) اپنے دین کی توفیق دی اور کتاب بھیج کر تو نے ہم کو ہدایت دی اور محکم ومتشابہہ پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی (وھب لنا من لدنک رحمۃ “ اور ہم کو اپنے پاس سے رحمت عطا فرمایا) اپنی طرف سے ثابت قدمی اور ثبات ایمانی عطا فرما، امام ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد گناہ اور مغفرت ہے ۔ (انک انت الوھاب بلاشبہ آپ بڑے عطا فرمانے والے ہیں) ۔
انسان کا دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہے :
حضرت نواس بن سمعان کلابی ؓ نے حدیث بیان کی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی قلب ایسا نہیں جو رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان میں نہ ہو ، جب وہ ٹیڑھا کرنا چاہتا ہے تو وہ ٹیڑھا کردیتا ہے اور جب سیدھا کرنا چاہتا ہے تو اس کو سیدھا کردیتا ہے ، اس وجہ سے آپ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے (اے دلوں کے پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ) اور ترازو رحمن کے ہاتھ مین ہے، روز قیامت تک وہ کسی قوم کو اونچا اور کسی قوم کو نیچا کرتا رہے گا ۔
حضرت موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دل کی مثال ایسے پر کی مانند ہے جو چٹیل میدان میں پڑا ہو اور ہوائیں اس کو الٹ پلٹ کر رہی ہوں ۔
Ayah 3:99۔ (ربنا۔۔۔۔۔۔ لیوم اے ہمارے رب ! بیشک تو لوگوں کو قیامت کے دن جمع کرنے والا ہے) فیصلے کے دن ۔ بعض نے کہا کہ لیوم میں لام بمعنی (فی) کے ہے (لاریب فیہ جس کے واقع ہونے میں کوئی شک نہیں) اس دن کے واقع ہونے کے بارے میں کوئی شک نہیں اور وہ قیامت کا دن ہے ۔ (ان اللہ لایخلف المیعاد بیشک اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا) میعاد فعال کے وزن پر ہے وعد سے ہے ۔
Ayah 3:1010۔ (ان الذین ۔۔۔۔۔۔ تغنی بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہرگز کام نہیں آسکتے) نہیں نفع دے سکتے اور نہ ہی وہ دور کرسکتے ہیں ۔ (عنھم ۔۔۔۔۔ من اللہ نہ ان کا مال اور نہ ان کی اولاد اللہ سے) کلبی (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد اللہ کا عذاب اور ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ من بمعنی عند کے ہے یعنی اللہ کے نزدیک (شیئا۔۔۔۔ وقودالنار کسی چیز کا اور یہ لوگ ایسے ہیں جو جہنم کی آگ کا ایندھن ہوں گے) ۔۔۔۔۔
Ayah 3:1111۔ (کداب الی فرعون جیسا معاملہ تھا فرعون والوں کا)
(کداب الی فرعون کی تفسیر میں مختلف اقوال)
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ و عکرمہ (رح) و مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کا فعل کفر و تکذیب میں فرعون کی طرح تھا ۔
عطاء (رح) کسائی (رح) ابوعبیدہ ؓ فرماتے ہیں کہ ” داب “ سے مراد اہل فرعون کا قحط ہے ۔
اخفش کے نزدیک اس سے آل فرعون کا امر اور ان کی شان مراد ہے ۔
نظر بن شمیل نے کہا اس سے عادت مراد ہے یعنی ان لوگوں کی عادت یہ تھی کہ یہ رسولوں کو جھٹلاتے اور فرعون کی طرح انکار کرتے (والذین من قبلھم اور ان لوگوں کا حال جو اس سے پہلے تھا ) ماقبل ملت کفریہ مثلا قوم عاد وثمود اور اس کے علاوہ (کانوا ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ انہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ، اللہ نے ان کو پکڑا) اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی (بذنوبھم ان کے گناہوں کے سبب) بعض حضرات نے کہا کہ آیت کا مطلب اس طرح ہوگا ” ان الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔ الایۃ “ بیشک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کو نہیں فائدہ پہنچائے گا ان کا مال اور نہ ان کی اولاد جب ان سے انتقام اور سزا دی جائے گی ۔ جیسا کہ فرعون کی آل کو اور ماقبل امتوں کو سزا دی گئی ، جب ان کو سخت پکڑا گیا تو ان کو مال واولاد نے کوئی فائدہ نہیں دیا ۔ (واللہ شدید العقاب اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے)
Ayah 3:12(تفسیر) 12۔:
(قل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جھنم کہہ دیں ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا عنقریب تم مغلوب کیے جاؤ گے اور جہنم کی طرف جمع کر کے لے جاؤ گے) حمزہ (رح) اور کسائی (رح) نے ” ستغلبون “ اور ” تحشرون “ کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے ، ” یغلبون ویحشرون “۔ اور دوسرے حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے خطاب کے صیغہ کے ساتھ ، مطلب یہ ہوگا کہ تم ان کو کہہ دو کہ تم عنقریب مغلوب کیے جاؤ گے اور جمع کیے جاؤ گے۔
(آیات کا شان نزول)
مقاتل کے نزدیک یہ کفار مشرکین کے بارے میں ہے، آیت کا معنی ہوگا کہ آپ مکہ کے کفار سے کہہ دیں کہ عنقریب تم بدر کے میدان میں مغلوب کیے جاؤ گے اور تمہیں جمع کیا جائے گا قیامت کے دن جہنم میں، جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے بدر کے دن ان سے فرمایا کہ اللہ تم پر غالب آگیا اور تم کو ہنکا کر جہنم کی طرف لے گیا ۔
اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد یہود ہیں ۔
کلبی (رح) نے بروایت ابو صالح (رح) ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ اہل مدینہ کے یہودیوں نے کہا جب آپ ﷺ نے بدر کے دن مشرکین کو شکست دی کہ یہ تو وہی نبی ہیں جن کی بشارت موسیٰ (علیہ السلام) نے دی تھی جن کی طرف ان کا رخ ہوجائے واپس نہیں لوٹایا جاتا ۔ چناچہ یہودیوں نے آپ کے اتباع کا ارادہ کیا تو بعض یہودیوں نے بعض سے کہا کہ ابھی جلدی نہ کرو یہاں تک کہ تم ایک اور واقعہ نہ دیکھ لو اس کے بعد جب احد کی لڑائی میں مسلمانوں کو فی الوقت شکست ہوئی تو یہودی شک میں پڑگئے اور ان پر بدبختی غالب آگئی اور مسلمان نہ ہو سکے ، آپ ﷺ اور یہود کے درمیان ایک معاہدہ تھا ، یہودیوں نے مقررہ مدت کے درمیان اس معاہدہ کو توڑ دیا اور کعب بن اشرف ساٹھ سواروں کو لے کر مکہ پہنچا ، پھر اس نے اہل مکہ کو آپ ﷺ پر چڑھائی کرنے کی دعوت دی اس پر سب نے اتفاق کرلیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔
سعید بن جبیر ؓ و عکرمہ (رح) اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں آپ ﷺ جب بدر سے کامیاب ہو کر مدینہ کو طرف لوٹے تو آپ نے بنی قینقاع کے بازار میں یہودیوں کو جمع کر کے خطاب کیا اور فرمایا اے یہودیوں کے گروہ قبل اس کے کہ قریشیوں کی طرف تم پر مصیبت آئے ، مسلمان ہوجاؤ اور تحقیق تم جان چکے ہو کہ میں نبی مرسل ہوں اور تم اس کو اپنی کتاب میں بھی پاتے ہو، وہ یہودی کہنے لگے محمد ﷺ اس کا غرور نہ کرنا ، کہ چند قریشیوں کو تم نے قتل کردیا ہے وہ تو ناتجربہ کار تھے جنگ سے واقف نہیں تھے ہم سے لڑو گے تو معلوم ہوجائے گا کہ ہم آدمی ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” کفروا “ سے مراد یہود ہیں ” ستغلبون “ تمہیں آپ ﷺ کے مقابلے میں شکست ہوگی ۔ ” وتحشرون “ جمع کیا جائے گا تم کو آخرت میں جہنم کی طرف ۔ (آیت)” بئس المھاد “۔ برا بچھونا ہے یعنی برا ہے وہ جوان کے لیے بچھایا گیا ہے وہ آگ ہے ۔
Ayah 3:1313۔ (قد کان لکم ایۃ، تحقیق اس میں نشانیاں ہیں تمہارے لیے) کان کے لفظ کے بجائے کانت کا ذکر نہیں کیا یہ آیت مؤنث ہے اس لیے کہ ان کے بیان کی طرف اس کو لوٹا دیا گیا ہے (آیت)” قدکان “ بیان ہے فراء کہتے ہیں ” کان “ کا لفظ اس وجہ سے ذکر کیا کہ صفت کی حالت اسم اور فعل کے درمیان حائل ہے ، اس وجہ سے فعل کو ذکر کیا ، نحو میں جہاں بھی اس طرح آیا ہے اس کی یہی وجہ مراد لی ہے ، آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اس میں عبرت اور سچائی کی واضح دلالت ہے کہ جو تم کہتے ہو کہ عنقریب تم مغلوب ہوجاؤ گے (فی فتئین ان دو گروہوں میں) ” فتئن “ سے مراد دو جماعتیں ہیں ، ” فئتین “ اصل میں ” افی الحرب “ ہے بمعنی لوٹنا کیونکہ بعض جماعت بعض کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں مارتے ہیں اور واپس لوٹ آتے ہیں (التقتاجن کا آپس میں مقابلہ ہوا) بدر کے دن۔
(بدر کے مجاہدین کی تعداد)
(فئۃ ۔۔۔ سبیل اللہ ایک گروہ اللہ کے راستے میں لڑتا ہے) اللہ کی فرمانبرداری میں لڑنے والی جماعت آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور وہ تین سو تیرہ افراد پر مشتمل تھی ، اس میں 77 مہاجرین اور 236 انصاری تھے ، مہاجرین کی سرپرستی کرنے والے حضرت علی کرم اللہ وجہہ تھے اور انصاری کی سرپرستی اور جھنڈا تھامنے والے سعد بن عبادہ ؓ تھے ، اس لشکر میں ستر اونٹ دو گھوڑے تھے ایک گھوڑا حضرت مقداد بن عمرو ؓ کا اور دوسرا مرثد بن ابی مرثد ؓ کا ، ان میں اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین پیدل تھے ان کے پاس اسلحہ میں چھ زرہیں اور آٹھ تلواریں تھیں ، (واخری کافرۃ اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا) دوسرا فرقہ کافروں کا تھا اور وہ مشرکین مکہ تھے ان کی تعداد 950 تھی اور ان کی کمان عتبۃ بن ربیعہ بن عبدالشمس کے پاس تھی ، ان کے پاس سو گھوڑے تھے یہ بدر کی لڑائی جس میں رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس خود شریک تھے اول ترین جنگ تھی جو ہجرت سے اٹھارہ مہینوں کے بعد ماہ رمضان 2 ہجری میں ہوئی تھی (یرونھم مثلھم تم کافروں کو مسلمانوں سے دگنا دیکھ رہے تھے)
اہل مدینہ اور یعقوب وغیرہ نے ” ترونھم “ پڑھا ہے ، مطلب یہ ہوگا کہ تم یہود کو مسلمانوں سے دگنا دیکھ رہے تھے وجہ یہ ہوئی تھی کہ بعض یہودی میدان بدر میں اس وجہ سے حاضر ہوئے تھے کہ دیکھیں کس کا پلا بھاری ہوتا ہے ، مشرکین کا یا مسلمانوں کا تو انہوں نے مشرکین کو دیکھا کہ وہ مسلمان سے دگنے ہیں لیکن پھر بھی مسلمانوں کے ساتھ مدد نازل ہوئی تو یہ معجزہ اور نشانی ہے ۔
(یرونھم اور مثلیھم کی ضمائر میں مختلف توجہات)
اور دوسرے قراء نے ” یرونھم “ پڑھا ہے اور ہم ضمیر مسلمانوں کی طرف راجح ہو اس صورت میں اس کی مختلف توجیہات کی ہیں ، بعض حضرات نے روایت مسلمین مراد لی ہے اس صورت میں اس کی دو تاویلیں ہوں گی ، مسلمانوں نے مشرکین کو اپنے سے دگنا دیکھا ، سوال ہوتا ہے کہ مشرکین مسلمانوں سے دگنا تو نہیں تھے بلکہ وہ تو دو تہائی تھے ، جواب یہ دیا گیا کہ یہ ایسا ہے جیسا کہ کوئی شخص یوں کہے کو جس کے پاس ایک درہم ہو وہ کہے کہ میں اس کے مثل کا محتاج ہوں، مثل سے مراد خواہ اس کے برابر ہو یا اس کا ڈبل دو اور تو یہ تین پر اطلاق ہوا۔
(2) دوسری تاویل جو صحیح اور راجح ہے کہ جب مسلمانوں نے مشرکین کو اپنے سے دگنا دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی نظروں میں کم کر کے دکھایا حتی کہ وہ نو سو چھبیس (926) دکھائی دیئے جانے ل گے ، پھر دوسری مرتبہ اس سے بھی کم دکھائی دیئے یہاں تک کہ مشرکین مسلمانوں کے برابر لگنے لگے ابن مسعود ؓ نے ارشاد فرمایا کہ پہلے تو ہمیں مشرکین ہم سے دگنے نظر آتے تھے پھر ہم نے دوسری مرتبہ دیکھا تو ان کی تعداد ہمارے برابر نظر آنے لگی ، ایک آدمی بھی زیادہ نہ دکھائی دیا ، آخر میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کی تعداد ہماری نظر میں اتنی گھٹا دی کہ ہم ان کو اپنے سے کم دیکھنے لگے ، ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں یہاں تک کہ میں نے اپنے برابر والے آدمی سے کہا کہ ہم کو تو یہ ستر آدمی دکھائی دیتے ہیں دوسرے نے کہا کہ مجھے تو سو معلوم ہوتے ہیں ۔
اور بعض نے کہا کہ یرونھم کی ضمیر مشرکین کی طرف راجع ہو کہ روایت سے مراد مشرکین ہیں کہ مشرکین نے مسلمانوں کو اپنے دگنا دیکھا ، اللہ تعالیٰ نے جنگ سے پہلے مشرکین کو مسلمانوں کی تعداد بہت ہی کم کر کے دکھائی دی تاکہ مشرک مسلمان پر جری ہوجائیں لڑنے کے لیے آمادہ ہوجائیں ، جب لڑائی شروع ہوگئی تو پھر مشرکین کو دکھائی دیا کہ مسلمانوں کی تعداد ہم سے دگنی کردی گئی ہے تاکہ ان کے اندر بزدلی آجائے اور مؤمنین کو مشرکین کی تعداد کم کرکے دکھلائی گئی تاکہ مؤمنین کو لڑائی میں قوت حاصل ہو ، اس کی طرف اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” واذ یریکموھم ، اذالاتقیتم فی اعینکم قلیلا ویقللکم فی اعینھم “۔ ہے (رای العین آنکھوں دیکھتے) فی رای العین سے حرف جارہ محذوف ہے (واللہ ۔۔۔۔۔ ذلک اور اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی مدد سے قوی کردیتا ہے، بیشک اس میں) اس واقعہ میں جو ہم نے ذکر کیا (لعبرۃ لاولی الابصار عبرت ہے بصیرت والوں کیلیے) اس سے ذوی العقول مراد ہیں ، بعض نے کہا کہ جس نے ان دونوں گروہوں کو دیکھا وہ مراد ہے۔
Ayah 3:14(تفسیر) 14۔:
(زین ۔۔۔۔۔ الشھوات مزین کی جاتی ہے لوگوں کے لیے مرغوب چیزوں کی محبت) ” شھوات شھوۃ “ کی جمع ہے کسی چیز کی طرف نفس کی رغبت کا ہونا (من اللنساء عورتوں میں سے) اولا اس لیے ذکر کیا چونکہ یہ شیطان کا جال ہیں ۔ (البنین والقناطیر اور بیٹے اور ڈھیر) قناطیر جمع قنطار کی ہے اس میں اختلاف ہے۔
(قنطار کی وضاحت میں مفسرین کے اقوال :)
ربیع بن انس ؓ نے فرمایا قنطار مال کثیر کو کہتے ہیں جس میں مختلف قسم کے اموال ہوں، معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ ”‘ قنطار “ ایک ہزار دو سو اوقیہ ہیں ۔ ہر ایک اوقیہ میں چالیس درہم ہوتے ہیں۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ بارہ سو مثقال مراد ہیں ، اور دوسری روایت میں بارہ ہزار درہم یا ہزار دینار جیسا کہ تم میں کسی ایک کی دیت کے بقدر ہو۔
حسن (رح) فرماتے ہیں کہ ” قنطار تم میں سے کسی ایک کی دیت کے بقدر کا نام ہے ۔
سعید بن جبیر ؓ اور عکرمہ ؓ فرماتے ہیں کہ سو ہزار اور سوسیر اور سو رطل اور سو مثقال اور سو درہم ۔ جب اسلام آیا تو مکہ میں سو آدمیوں نے اقامت اختیار کی ، سعید بن مسیب اور قتادہ نے کہا کہ اس سے مراد اسی (80) ہزار ہے ۔
مجاہد (رح) نے ستر ہزار فرمایا ، سدی نے فرمایا چار ہزار مثقال ، حکم نے کہا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں قنطار ہیں ۔
ابو نصرۃ نے کہا کہ بیل کی کھال کے بھرنے بقدر سونا و چاندی کا ہونا ، انہی احکام کی وجہ سے ان کو قنطار کہا گیا کہ اس میں مضبوطی ہوتی ہے ، جیسا کہ محاورۃ کہا جاتا ہے ، ” قنطرت الشیء اذا احکمتہ “ کہ میں نے اس چیز کو مضبوط کردیا جب کسی چیز کو پختہ کردیا جاتا ہے (والمقنطرۃ جمع کیے ہوئے) ضحاک (رح) فرماتے ہیں اس کا ترجمہ مضبوط محکم سے ہے ۔
قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ کثیر مال جو تہ بہ تہ رکھا گیا ہو یمان نے کہا کہ وہ مدفون کردہ ہے ۔
امام سدی (رح) نے فرمایا کہ وہ سکہ جس کو منقش کردیا گیا ہو ، یہاں تک کہ وہ دراھم ودنانیر بن جاتا ہے ، فراء نے چند گنے چنے ترجمہ کیا ہے ۔
قناطیر تین تک بولے جاتے ہیں اور مقنطرۃ نو تک بولے جاتے ہیں ، (من الذھب والفضۃ سونے اور چاندی سے) سونا کو سونا اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا معنی ہے جانا اور سونا بھی آنے جانے والی چیز ہے اور چاندی کو چاندی اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا معنی منتشر ہونا اور چاندی بھی منتشر ہونے والی ہے (والخیل والمسومۃ اور گھوڑے نشان زدہ) خیل جمع ہے اس کا مفرد لفظوں میں موجود نہیں اس کا واحد فرس ہے جیسا کہ قوم جمع ہے اور نساء بھی جمع ہے اس کا مفرد من لفظہ موجود نہیں ۔
(مسومۃ کی تفسیر)
” مسومۃ “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں مکمل ساخت والے کامل الاعضاء ، عکرمہ (رح) کا قول ہے کہ ” تسویمھا “ کا معنی ہے خوبصورت ہونا۔
سعید بن جبیر ؓ سے مروی ہے کہ اس سے مراد جنگل میں آزادی سے چرنے والے ہیں ۔
حسن (رح) اور ابو عبیدہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد نشان زدہ ہے یہ لفظ سیماء مشتق ہے اور سیماء کا معنی علامت ہے ، ان میں سے بعض نے کہا کہ ” سیماء “ سے مراد جلد کا دھبہ اور رنگ ہے اور یہی قول امام قتادہ (رح) کا ہے ۔
اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد داغنا ہے (والانعام اور مویشی) جمع ” نعم “ آتی ہے اس میں اونٹ ، گائے ، بھیڑ شامل ہیں ، یہ جمع ہے اس کی واحد لفظوں میں موجود نہیں (والحرث اور کھیتی) حرث سے مراد کھیتی ہے (ذلک یہ) جو ہم نے ذکر کردیا (متاع الحیوۃ الدنیا سب استعمال کی چیزیں ہیں دنیا کی زندگی میں) یہ اس بات کی طرف اشارہ کہ یہ سب فانی اشیاء ہیں (واللہ عندہ حسن الماب اور انجام کی خوبی اللہ ہی کے پاس ہے) ” ماب “ بمعنی مرجع ، اس میں اشارہ ہے کہ زاہد فی الدنیا اور رغبت فی الاخرۃ ہونا چاہیے ۔
Ayah 3:15(تفسیر) 15۔:
(قل اؤنبئکم کیا میں تمہیں خبردوں) ” انبئکم “ سے مراد خبر دینا ہے (بخیر۔۔۔۔۔۔۔ من اللہ جو بہتر ہو ان چیزوں سے ایسے لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ان کے مالک کے پاس ایسے ایسے باغ ہیں جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ان کی بیویاں ہیں پاکیزہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشنودی) عام قراء نے اس کو راء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ” رضوان “ ابوبکررحمۃ اللہ علیہ اور عاصم کی قرات میں راء کے ضمہ کے ساتھ ہے ” رضوان “ یہ دونوں طرح پڑھا جاتا ہے جیسے کہ ” عدوان “ اور عدوان “ ہے۔
(جنتیوں کیلئے عظیم خوشخبری)
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ جنتیوں سے فرمائیں گے ، اے اہل جنت ! وہ کہیں گے لبیک اے ہمارے رب وسعدیک اور خیر ہے تمہارے ہاتھوں میں ، اب رب العزت فرمائیں گے ، کہ کیا تم مجھ سے راضی ہو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہم آپ سے کیونکر راضی نہ ہوں گے کہ تم نے ہمیں ہو چیزیں عطا کی ہیں جو اس سے کسی کو نہیں عطا کیں ۔
پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں تمہیں اس سے بھی افضل چیز نہ عطا کروں وہ کہیں گے کہ ہمارے رب اس سے افضل اور کون سی چیز ہے، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں تم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے راضی ہوں اور اس کے بعد کبھی بھی تم سے ناراض نہیں ہوں گے (اللہ تمام بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے) ۔
Ayah 3:16(تفسیر) 16۔:
(الذین یقولون ایسے لوگ جو یہ کہتے ہیں) اگر تو چاہے بنا دے ہمارے لیے جگہ ” الذین “ سے مراد خضوع وخشوع رکھنے والے مراد ہیں ، (للذین اتقوا ان لوگوں سے جو ڈرتے ہیں) اگر چاہیں تو بنالیں یہ مرفوع ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے یا منصوب ہے مفعول بہ ہونے کی وجہ سے فعل محذوف اعنی ہے ۔
(ربنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ امنا اے ہمارے رب ! بیشک ہم ایمان لائے) تصدیق کی (فاغفرلنا ذنوبنا بخش دے ہمارے گناہوں کو) ہم پر پردہ ڈال اور ہمیں ہمارے گناہوں کی سزا نہ دے (وقنا عذاب النار اور ہمیں بچا آگ کے عذاب سے) ۔
Ayah 3:1717۔ (الصابرین والصادقین، صبر کرنے والے اور سچ بولنے والے) یہ دونوں منصوب ہیں علی المدح یا تو صفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں ، عبارت یوں بنے گی ” الصابرین فی اداء الاوامر “ اللہ کے حکم کردہ امور پر عمل کرنے میں جو مشقت پہنچتی ہے اس پر صبر کرنا اور نہی (منع کردہ امور) کے ارتکاب سے بچنا اور تنگی و تکلیف کے وقت صبر کرنا اور اپنی قسموں میں سچے ، قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد کہ وہ اپنی نیت میں سچے اور ان کے دل استقامت والے اور اس پر ان کی زبان تصدیق کرتی ہے پوشیدہ اور ظاہرا بھی (والقانتین اور حکم بجا لانے والے ) اطاعت کرنے والے اور نماز پڑھنے والے (والمنفقین اور خرچ کرنے والے) اور اپنے اموال کو اللہ کی اطاعت میں خرچ کرنے والے (والمستغفرین بالاسماء اور بخشش مانگنے والے رات کے پچھلے حصہ میں)
مجاہدرحمۃ اللہ علیہ قتادہ (رح) اور کلبی (رح) فرماتے ہیں سحری کے وقت نماز پڑھنے والے مراد ہیں ۔
(مستغفرین بالاسحار کی تفصیل)
زید بن اسلم ؓ نے کہا کہ صبح کی نماز جماعت سے پڑھنے والے مراد ہیں ۔ اور بعض نے کہا کہ تہجد کی نماز پڑھنے والے کیونکہ یہ بھی صبح کے قریب ہوتی ہے ، حسن (رح) فرماتے ہیں کہ سحری کے وقت تک عبادت کرنا پھر استغفار کرنا ، نافع (رح) فرماتے ہیں کہ ابن عمر ؓ رات کو زندہ کرتے تھے پھر فرمایا اے نافع کیا سحری ہوگئی ، میں نے کہا کہ نہیں پھر وہ دوبارہ نماز پڑھنے لگے گئے جب نافع (رح) نے کہا کہ سحری ہوگئی تو آپ ؓ بیٹھ جاتے اور کثرت سے استغفار کرتے اور دعا مانگتے رہتے یہاں تک کہ صبح ہوجاتی ۔
(اللہ تعالیٰ ہر روز سحری کے وقت آسمان دنیا پر اجلال فرماتا ہے)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر تشریف لاتے ہیں رات کے تیسرے حصے میں اور کہتے ہیں کہ میں بادشاہ ہوں کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اس کی دعا قبول کروں ، کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اس کو عطا کروں ، کون ہے جو مجھ سے گناہوں کی معافی مانگے میں اس کو معاف کرو ، حسن (رح) سے حکایت ہے کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو وصیت کی تھی کہ اسے میرے بیٹے تو اس مرغ سے زیادہ عاجز نہ ہو جو سحری کے وقت آواز دیتا ہے اور تو سوتا رہے ۔
Ayah 3:1818۔ (شہد ۔۔۔۔۔۔ الا ھو گواہی دی اللہ تعالیٰ نے اس کی کہ اس ذات کے سوا کوئی معبود نہیں)
(شان نزول)
یہ آیت نجران کے نصاری کے بارے میں نازل ہوئی۔
کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ شام کے احبار میں سے حبران آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جب اس نے مدینہ منورہ کے شہر کو دیکھا تو ایک ساتھی نے دوسرے سے کہا کہ یہ شہر اس شہر کے بہت ہی مشابہ ہے جس میں نبی آخر الزمان ﷺ تشریف لائیں گے جب وہ دونوں شخص اس شہر میں داخل ہوگئے تو وہ اس شہر کی صفات کو جان گئے پھر آپ ﷺ کے پاس حاضر ہو کر کہنے لگے کہ آپ محمد ﷺ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جی ہاں۔ پھر ان دونوں نے پوچھا کہ آپ احمد ہیں ۔
آپ ﷺ نے جواب دیا کہ میں محمد ہوں احمد ہوں ، ان دونوں میں سے ایک نے پوچھا کہ ہم آپ سے ایک چیز کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، اگر آپ اس کے متعلق ہمیں بتلا دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پوچھو ان دونوں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ کتاب اللہ میں سب سے بڑی شہادت کے متعلق بتلائیے ، اس پر اللہ رب العزت نے یہ آیات نازل فرمائی ، پھر یہ دونوں اسلام لے آئے ،
(شہد اللہ کی تشریح)
(آیت)” شھد اللہ “ سے مراد اللہ بیان کرے گا کیونکہ شہادت کس چیز کو واضح کرنے اور بیان کرنے کے لیے ہوتی ہے ۔
مجاہد (رح) نے کہا کہ اس سے اللہ کا حکم (فیصلہ) ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد (آیت)” علم اللہ انہ لا الہ الا ھو “۔ ہے۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ارواح کو پیدا کیا جسموں کو پیدا کرنے سے چار ہزار سال پہلے اور ارزاق (رزق) کو پیدا کیا روح کو پیدا کرنے سے چار ہزار سال پہلے ، پھر اللہ تعالیٰ نے شہادت دی مخلوقات کو پیدا کرنے سے پہلے جب نہ آسمان تھا اور زمین اور نہ بر اور بحر، اس وقت اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا (آیت)” شھد اللہ ان لا الہ الا ھو “۔ (ولملائکۃ اور فرشتے) اور فرشتوں نے بھی گواہی دی ، بعض حضرات نے کہا کہ شہادت کا معنی ہے اخبار واعلام مؤمنین اور ملائکۃ کی شہادت کا معنی ہوگا اقرار کرنا۔
(اولوالعلم کون لوگ ہیں ؟ )
(اولوالعلم اور اصحاب علم) اس سے مراد انبیاء کرام (علیہم السلام) ہیں ابن کیسان نے کہا کہ مہاجرین و انصار مراد ہیں ۔
مقاتل (رح) نے کہا کہ اہل کتاب کے علماء ہیں ۔ عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھ ۔
سدی (رح) اور کلبی (رح) نے کہا کہ اس سے تمام مؤمنین مراد ہیں (قاعا بالقسط قائم کرنے والے ہیں انصاف کے ساتھ) اس سے عدل مراد ہے ۔ (آیت)” شھد اللہ قائما بالقسط “ منصوب ہوگا حال ہونے کی وجہ سے اور بعض نے کہا منصوب ” ینزع الخافض “ ہوگا اور (آیت)” قائما بالقسط “ کا معنی ہوگا ، ” ای قائما ب تدبیر الخلق “ مخلوق کی تدبیر ، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ فلاں کھڑا ہے فلاں کے حکم سے، ” ای مدبر لہ ومتعھد لاسبابہ وفلان قائم بحق فلان ای مجاز لہ “ (لاالہ الا ھو العزیز الحکیم)
Ayah 3:19(تفسیر) 19۔:
(ان الدین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنداللہ “۔ بیشک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہے) وہ دین جس سے اللہ راضی ہوجائے جیسا کہ فرمایا (آیت)” ورضیت لکم الاسلام دینا “۔ اور دوسری جگہ فرمایا (آیت)” ومن یبتغ غیر الاسلام دینا “۔ کسائی (رح) ” ان الدین “ میں ہمزہ کو مفتوح پڑھا ہے اور کہا ہے کہ یہ رد ہے پہلے کلام پر تقدیری عبارت یوں ہوگی ، ” شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو وشھد ان الدین عند اللہ الاسلام اوشھد اللہ ان الدین عند اللہ الاسلام بانہ لا الہ الا ھو “۔
(الاسلام کی تعریف)
الاسلام کی تعریف سلامتی میں داخل ہوجانا اور وہ پیروی اور طاعت کرنا جیسا کہ کہا جاتا ہے ” اسلم “ یعنی داخل ہوجا سلامتی میں اور سلامتی والا ہوجا ، قتادہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق کہا (آیت)” ان الدین عند اللہ الاسلام “ فرمایا کہ اس سے مراد ” شھادۃ ان لا الہ الا اللہ “۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ احکام کا اقرار کرنا ہے اور وہ اللہ کا دین جو اس نے رسولوں کو دے کر بھیجا اور اس پر اولیاء کو سیدھا راستہ دکھایا ، ان کے علاوہ اور کسی دین کو قبول نہیں کیا اور نہیں بدلہ (ثواب) دیا جائے گا۔
عمرو بن مختار غالب بن قطان سے روایت نقل کرتے ہیں ، فرماتے ہیں کہ میں کوفہ میں تجارت کی غرض سے آیا تو میں حضرت اعمش کے قریب رکا اور ہم لوگ اس آیت میں اختلاف کرتے تھے ، جب ایک دن میں نے کوفہ سے بصرہ کی طرح کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو دیکھا حضرت اعمش رات کے تہائی حصہ میں نماز تہجد پڑھ رہے تھے ، جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت فرمائی ۔ (آیت)” شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو والملائکۃ والوا العلم قائما بالقسط لا الہ الا ھو العزیز الحکیم “۔ پھر حضرت اعمش نے فرمایا کہ میں بھی وہی شہادت دیتا ہوں جو اللہ نے دی ہے اور اس شہادت کو اللہ کے پاس امانت رکھتا ہوں ۔ (آیت)” ان الدین عنداللہ الاسلام “ کی شہادت اللہ تعالیٰ کے پاس میری ودیعت ہے ، اس طرح کئی مرتبہ فرمایا ، فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ آج میں نے اس طرح ، اس طرح آپ سے سنا ہے کہ میں نے صبح کے وقت آپ کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے اسی طرح ودیعت رکھی ، پھر میں نے ان سے کہا کہ میں نے آپ سے سنا کہ آپ اس آیت کو بار بار پڑھ رہے تھے ، یہ بات آپ تک کس نے پہنچائی ؟ یا یہ کہا کہ یہ بات آپ تک کب پہنچی کہ آپ اس طرح عمل کر رہے ہیں ، اعمش نے جواب دیا کہ مجھ سے ابو وائل نے جب یہ روایت بیان کی تو انہوں نے مجھے دو سال تک انتظار کروایا ، پھر اعمش نے فرمایا کہ میں بھی آگے آپ کو ایک سال تک بیان نہیں کروں گا ، غالب قطان فرماتے ہیں کہ یہ بات میں نے اپنے گھر کے دروازے کے باہر لکھ دی تاکہ مجھے یاد رہے جب سال مکمل ہوا تو میں دوبارہ اعمش کے پاس گیا تو میں نے کہا کہ ” ابا محمد سال گزر چکا ہے پھر انہوں نے مجھے حدیث سنائی ، حدثنی ابو وائل عن عبداللہ بن عمر ؓ قال قال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس شہادت والے کو قیامت کے دن لایا جائے گا ، اللہ فرمائے گا میرے اس بندے کا میرے پاس ایک عہد ہے اور میں سب سے زیادہ وعدہ پورا کرنے کے لائق ہوں ، میرے اس بندے کو جنت میں داخل کر دو ۔
(وما اختلف ۔۔۔۔ الکتاب اور اہل کتاب نے جو اختلاف کیا جن کو کتاب دی گئی)
(شان نزول)
کلبی (رح) نے کہا کہ یہ آیت یہود و نصاری کے بارے میں نازل ہوئی ، جب انہوں نے اسلام کو چھوڑ دیا ، آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ محمد ﷺ کی نبوت اور اسلام کی حقانیت میں یہود و نصاری نے اختلاف نہیں کیا (الا من بعد ما جاء ھم العلم مگر ان کو علم ہوجانے کے بعد) جو صفات ان کی کتابوں میں موجود ہے ان کے جاننے کے بھی اختلاف کیا ۔
ربیع بن انس نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قرب الموت کے وقت بنی اسرائیل کے ستر علماء کو طلب کیا اور تورات ان کو امانت دی اور یوشع بن نون کو اپنا خلیفہ مقرر کردیا ، جب پہلی ، دوسری اور تیسری صدی گزر گئی تھی یہاں تک کہ ان میں خوب خون ریزی ہوئی اور بدی پھیل گئی اور ” الا من بعد ما جاء ھم “ سے مراد اس چیز کا بیان ہے جو تورات میں تھی (محض ایک دوسرے سے بڑھنے کی وجہ سے) بادشاہت اور سیاست کی طلب کی وجہ سے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر جبابرۃ کو مسلط کیا ۔
محمد بن جعفر بن زبیر (رح) نے کہا کہ اس آیت کا نزول نجران کے عیسائیوں کے متعلق ہوا تھا ، آیت کا معنی یہ ہوگا کہ جن کو انجیل کی کتاب دی گئی ، انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے معاملے میں یہودیوں سے اختلاف نہیں کیا ، یہاں تک کہ یہودیوں کے مقابلے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہہ دیا ، اس علم کے بعد کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے ، ” بغیا بینھم “ صرف دشمنی اور مخالفت کی وجہ سے (آیت)” ومن یکفر بایات اللہ فان اللہ سریع الحساب “۔ اور جو شخص اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں تو یقینا اللہ اس سے جلد حساب لے گا) ۔