4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 4:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا Open ayah 4:1 in the Quran reader

لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا (یعنی اوّل) اس نے اس کا جوڑا بنایا۔ پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد و عورت (پیدا کر کے روئے زمین پر) پھیلا دیئے اور خدا سے جس کے نام کو تم اپنی حاجت براری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو اور (قطع مودت) ارحام سے (بچو) کچھ شک نہیں کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔

(تفسیر) 1۔: (آیت)” یایھا الناس ۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔ نفس واحدۃ “ ۔ اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں ، (آیت)” وخلق منھا زوجھا “۔ اس سے مراد حضرت حواء (علیہا السلام) (آیت)” وبث منھما “۔ اور آدم وحواء (علیہما السلام) سے پھیلایا یا ظاہر کیا ، (آیت)” رجالا کثیرا ونساء واتقوا اللہ الذی تساء لون بہ “۔ یہاں دو تائیں تھیں اصل میں تتساء لون تھا ، سین کی تخفیف کے ساتھ یہاں ذکر کیا ہے جیسا کہ اس آیت (آیت)” وتعاونوا “ اصل میں ” تتعاونوا “ تھا (آیت)” والارحام “ بعض حضرات نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے مطلب یہ ہوگا کہ قطع رحمی سے ڈرتے رہو ، حمزہ نے اس کو مجرور پڑھا ہے اس صورت میں عبارت یوں ہوگی ، ” بالارحام “ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” سالتک باللہ والارحام “ کہ میں تجھ سے اللہ کا نام لے کر سوال کرتا ہوں اور ارحام کا ، پہلی قرات افصح ہے کیونکہ عرب کا دستور ہے کہ ایک لفظ کو پہلے کنایۃ ذکر کر کے دوبارہ ظاہرا ذکر کرتے ہیں جیسا کہ مثال مذکور میں ہے ” مررت بہ ویزید “ ۔۔۔۔ ان اللہ کان علیکم رقیبا “ رقیب کا معنی ہے حفاظت کرنے والا۔
Ayah 4:2

وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا Open ayah 4:2 in the Quran reader

اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ۔ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے۔

(تفسیر) 2۔: (آیت)” واتوا الیتامی اموالھم “۔ (واتوا الیتامی کا شان نزول) مقاتل اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ غطفان کے ایک شخص کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی کہ اس کے بھائی کے بیٹے کے پاس جو یتیم تھا اس کے پاس مال کثیر تھا جب یتیم مال حاصل کرنے کی عمر تک پہنچا اس نے مال طلب کیا ، چچا نے اسے مال دینے سے انکار کردیا ، یہ مسئلہ آپ ﷺ تک پہنچا تو آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی ، جب اس کے چچا نے یہ آیت سنی تو کہنے لگا کہ میں نے اللہ کی اطاعت کی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی اور میں پناہ مانگتاہوں اس بڑے وبال سے اس نے اپنا مال اس یتیم بچے کے حوالے کردیا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اپنے نفس کو بچایا اور اپنے رب کی اطاعت کی اللہ اس کے لیے گھر کو حلال کر دے گا ، گھر سے مراد جنت ہے اور جب وہ بچہ وفات پا جائے تو اس کے مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرے تو آپ ﷺ نے اس شخص کے لیے ارشاد فرمایا کہ اس کا اجر ثابت ہے اور اس کا وزر (سامان) باقی ہے ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے فرمایا کہ اس کا سامان باقی کیوں ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا غلام کا ثواب تو ثابت رہا اور اس کا سامان اس کے باپ کے لیے باقی رہ گیا ، ” واتوا “ یہ خطاب ہے اولیاء اور اوصیاء کے لیے ، یتامی جمع ہے یتیم کی ، اس چھوٹے بچے کو کہا جاتا ہے جس کا نہ باپ ہو اور نہ ہی دادا ، لہذا ان کو ان کا مال ان کی بلوغت کے بعد دیا جاتا ہے ” ولا تتبدلوا “ اور نہ ہی تم تبدیل کرو، ” الخبیث بالطیب “۔ پاک کو ناپاک کے بدلے میں نہ تبدیل کرو ، یعنی یتیم کے مال کو جو تمہارے لیے ناپاک اور حرام ہے اور اپنے مال کے عوض جو تمہارے لیے پاک اور حلال ہے نہ لو ۔ (ولا تتبدلوا الخبیث بالطیب کی تفسیر) اس تبدیلی کے متعلق ائمہ میں اختلاف ہے ، سعید بن المسیب (رح) ، امام نخعی (رح) ، زہری (رح) ، سدی (رح) ، کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ یتامی کے اولیاء یہ کہا کرتے تھے کہ یتیم کے مال سے جید لے لیتے تھے اور ان کے مال میں ردی ملا دیتے تھے یا موٹی بکری یتیم کے ریوڑ سے لے لیتے تھے اور دبلی بکری اسے دیتے تھے ، کھرا درہم نکال دیتے اور ردی درہم اس میں رکھ لیتے اور وہ یہ کہتے کہ درہم بدلے درہم ہوگیا ، ایسا کرنے سے منع کردیا گیا ہے ، بعض حضرات نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں عورتوں اور بچوں کو وراثت نہیں دیتے تھے اور بڑے مرد میراث لے لیتے تھے یا ان کے حصوں میں سے جید مال لے لیتے تھے اور اس کی جگہ خبیث مال رکھ دیتے تھے، مجاہد (رح) کا قول ہے کہ فوری حرام رزق کو نہ لو اور جس حلال رزق کا اللہ نے وعدہ کرلیا ہے اس کے ملنے سے پہلے حرام روزی حاصل کرنے میں عجلت نہ کرو ، (آیت)” ولا تاکلوا اموالھم الی اموالکم “۔ یعنی یتیموں کے مال کوا پنے مالوں کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ (جیسا کہ ” من انصاری الی اللہ) کا ترجمہ مع اللہ ہے اسی طرح یہاں بھی الی ” مع “ کے معنی میں ہے ۔ (آیت)” انہ کان حوبا کبیرا “۔ بڑا گناہ ہے۔
Ayah 4:3

وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ Open ayah 4:3 in the Quran reader

اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو۔ اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے

(یتامی کے ساتھ نکاح کا حکم اور شان نزول) (آیت)” وان خفتم ۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ مثنی وثلاث ورباع “۔ اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں ، بعض حضرات نے کہا کہ اگر تم کو خوف ہوائے یتامی کے اولیاء کہ تم ان میں عدل نہیں کرسکو گے کہ جب تم ان سے نکاح کرو تو تم ان کے علاوہ دوسری عورتوں کے ساتھ نکاح کرلو ، دو دو تین تین ، چار چار ہوں ۔ حضرت عروہ بن زبیر ؓ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے اس آیت کے متعلق سوال کیا کہ (آیت)” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی فانکحوا ماطاب لکم من النسائ “۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ارشاد فرمایا اس سے مراد وہ یتیمہ ہے جو اپنے کی سرپرستی میں ہوتی تھی اور ولی اس کا محرم نہیں ہوتا تھا جیسے چچا کا بیٹا ولی یتیمہ کے حسن ومال کو دیکھ کر اس کی طرف رغبت کرتا اور اس سے نکاح کرلینا چاہتا تھا مگر مہر مثل سے کم دینے کا ارادہ کرتا تھا ، آیت میں ایسے سرپرستوں کو اپنی زیر پرورش یتیم لڑکیوں سے بغیر تکمیل مہر کے نکاح کرنے کی ممانعت کردی گئی ، باقی دوسری عورتوں سے نکاح کی اجازت دے دی گئی ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ پھر لوگوں نے یتامی سے نکاح کا مسئلہ پوچھا تو یہ آیت نازل ہوئی ” ویستفتونک فی النساء الی قولہ ، وترغبون ان تنکحوھن “۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کھول کر بیان کردیا اگر یتیمہ حسین اور مال دار ہوتی تو لوگ اس کی طرف راغب ہوتے ہیں مگر اس کے درجہ کے موافق اس کو مہر نہیں دینا چاہتے ، جب مال و جمال کے لحاظ سے وہ گری ہوئی ہوتی ہے تو اس سے منہ موڑ لیتے ہیں اور دوسری عورتوں کے نکاح کے طلبگار ہوتے ہیں ، پس جس طرح مال وحسن کی کمی کے وقت لوگ یتیمہ سے نکاح کرنے کے خواہش مند نہیں ہوتے اسی طرح مال و جمال کی زیادتی کے وقت بھی ان کو نکاح کا طلبگار نہیں ہونا چاہیے ہاں اگر یتیمہ کا پور اپورا حق اور کامل ترین مہر ادا کردیں تو نکاح کرسکتے ہیں ۔ (زمانہ جاہلیت میں یتامی کے ساتھ سلوک کی کیفیت) حسن بصری (رح) نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں کچھ لوگوں کے پاس یتیم لڑکیاں رہتی تھیں ان میں سے جن کے ساتھ نکاح حلال ہوتا وہ مال کی غرض کی وجہ سے ان سے نکاح کرلیتے اور اس کو یہ گوارا نہیں ہوتا تھا ، کہ کوئی دوسرا اجنبی آجائے اور اس کے مال میں شریک ہوجائے ، اس کی صحبت کو برا سمجھتا اور وہ شخص اس یتیم کو اپنے پاس ہی رہنے دیتا یہاں تک کہ وہ مرجاتی اور اس کے مال کا وارث بن جاتا ، اللہ تعالیٰ کو یہ بات اچھی نہیں لگی اس پر یہ آیت نازل فرمائی ۔ (بیک وقت چار سے زائد نکاح کرنا زمانہ جاہلیت کاشیوا ہے) عکرمہ (رح) اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ قریش کے لوگ دس دس یا اس سے زائد عورتوں کے ساتھ نکاح کرلیتے تھے اور جب ان کے خرچ وغیرہ کا وقت ہوتا تو یہ اپنے زیر پرورش یتیم کے مال کی طرف مائل ہوتے اور پھر ان پر خرچ کرتے ، پھر ان کو حکم دے دیا گیا کہ چار سے زائد نکاح نہ کرو کہ یتیموں کا مال لینے کی ضرورت پڑے ، یہی روایت طاؤس کی حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے اور بعض نے کہا کہ یتیموں کے مال میں دقت ہوتی تھی اور عورتوں کے معاملہ زنا میں کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی جس سے چاہتے شادی کرتے اور عدل و انصاف کرتے اور کبھی کبھار انصاف نہ کرتے پھر جب اللہ تعالیٰ نے انکے متعلق یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” واتوا الیتمی اموالھم “ ۔۔۔۔۔۔ ” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی “۔ یعنی جس طرح تم یتیموں کے مالوں میں انصاف سے ڈرتے ہو اسی طرح عورتوں کے معاملے میں تم ڈرو کہ تم ان کے درمیان عدل نہیں کرسکو گے، لہذا تم بھی اتنی عورتوں کے ساتھ نکاح نہ کرو جن کے حقوق تم ادا نہیں کرسکتے ، کیونکہ جس طرح یتیم ضعیف و کمزور ہے اسی طرح عورتوں ضعیف اور کمزور ہیں ، یہی قول سعید بن جبیر ؓ ، قتادہ ؓ ، ضحاک (رح)، اور سدی (رح) کا ہے ۔ پھر چار کے ساتھ نکاح کرنے کی رخصت دی ہے جیسا کہ اس آیت ” فانکحوا ما طاب لکم الی آخر “۔ الایۃ ‘۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ جب تم یتیموں کی ولایت اور انکے مال میں تم حرج محسوس کرتے ہو اسی طرح تم عورتوں کے ساتھ زنا کے متعلق بھی حرج محسوس کرو ، لہذا تم حلال عورتوں کے ساتھ نکاح کرو جس کے ساتھ نکاح کرنا حلال پاکیزہ ہے ، پھر ان کی تعداد بھی بتلائی گئی ، وہزمانہ جاہلیت میں جتنی عورتوں سے چاہتے نکاح کرلیتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” فانکحوا ما طاب لکم من النسائ “۔ اس کا معنی ہے ” من طاب “ مطلب اس کا یہ ہے کہ جن پسندیدہ عورتوں سے چاہو نکاح کرلو ، یہاں ما بمعنی من کے ہے جیسے ” والسماء وما بنھا “ میں ما بمعنی من کے ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں (آیت)” قال فرعون وما رب العالمین “۔ عرب کے نزدیک ما ، من ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے رہتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔ (آیت)” فمنھم من یمشی علی بطنہ ومنھم منی یمشی علی رجلین “ ۔ یہاں پر من استعمال ہوا ہے ، یہاں پر (آیت)” ماطاب لکم “ کا مطلب ہوگا حلال کی گئی ہیں تمہارے لیے عورتیں دو دو ، تین تین ، اور چار چار۔ یہ معدول ہیں ، ’ ثنتین، تنتین، ثلاث ، ثلاث ، اربع ، اربع “ سے ، اسی وجہ سے یہ الفاظ غیر منصرف ہیں کیونکہ یہ معدول ہو کر آئی ہیں اور ان کے معنی میں وصفیت بھی شامل ہے ، یہاں واؤ بمعنی تخییر کے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں (آیت)” ان تقوموا للہ مثنی وفرادی “ اور اس فرمان میں ” اولی اجنحۃ مثنی وثلاث ورباع “ اس بات میں امت کا اجماع ہے کہ کوئی چار سے زائد عورتوں سے بیک وقت شادی نہیں کرسکتا ، چار سے زائد عورتوں سے نکاح کرنا آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے ہیں امت میں سے کوئی شخص اس میں شریک نہیں ، روایت میں آتا ہے کہ قیس بن حارث ؓ کی آٹھ بیویاں تھیں ، اس آیت کے نزول کے بعد حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا چار کو طلاق دے دو اور چار کو رکھ لو ، قیس کا بیان ہے کہ میں نے ان بیویوں سے جن کی اولاد نہیں ہوئی تھی کہہ دیا تم جاؤ اور جن بیویوں کی اولاد ہوئی تھی ان سے کہہ دیا تم آؤ۔ روایت میں آتا ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی ؓ جب مسلمان ہوئے تو ان کے ساتھ ان کی دس بیویاں بھی مسلمان ہوگئیں ، جو زمانہ جاہلیت میں ان کے نکاح میں تھیں ، حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا چار کو رہنے دو باقی کو چھوڑ دو ، آزاد مرد کے ساتھ چار آزاد عورتوں کا جمع ہونا جائز ہے ، غلام کے لیے جائز نہیں کہ وہ دو عورتوں سے زائد کے ساتھ نکاح کرے ، یہی اکثر اہل علم کا قول ہے ، جیسا کہ آگے حضرت عمر بن الخطاب ؓ کی روایت مستدل ہے۔ حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں ، کہ غلام دو عورتوں کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے اور اس کو دو طلاقوں کا اختیار ہے اور باندی دو حیض عدت گزارے گی ، اگر باندی کو حیض نہ آتا وہ تو پھر دو مہینے یا ایک ماہ مکمل اور ایک آدھا ماہ عدت گزارے گی ، ربیعہ فرماتے ہیں کہ غلام بھی آزاد مرد کی طرح چار عورتوں سے نکاح کرسکتا ہے ، ” فان خفتم “ یعنی تمہیں ڈر یا خوف ہو یا تم جانتے ہو ” الا تعدلوا “ کہ تم ان چار بیویوں کے ساتھ عدل نہیں کرسکو گے ، ” فواحدۃ “ تو ایک عورت کے ساتھ نکاح کرو ، ابو جعفر (رح) نے ” فواحدۃ “ مرفوع پڑھا ہے (آیت)” اوماملکت ایمانکم “۔ اس سے مراد لونڈی ہے کیونکہ ان کے متعلق وہ حقوق لازمی نہیں ہیں جو حقوق آزاد عورت کے ہوتے ہیں نہ ان کے درمیان تقسیم ضروری ہے اور نہ ہی تعداد ، یہاں ایمان جمع کا صیغہ ذکر کیا تقدیری عبارت یوں ہوگی ” اوماملکتم “۔ یعنی اہل معانی نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جن پر تمہاری قسمیں نافذ ہوسکتی ہیں ، گویا یہاں یمین کو قسم قرار دیا ہے ” ذلک ادنی “ بمعنی اقرب کے ہے ۔ ” ان لا تعولوا “ ایک طرف بہہ نہ جاؤ اور نہ ہی اس کی طرف مڑ جاؤ ، جیسا کہ کہا جاتا ہے میزان عائل یعنی ظالم اور مائل نہ ہو ، مجاہد (رح) نے ترجمہ کیا گمراہ نہ ہوجاؤ ، فراء نے کہا کہ اللہ کے فرائض کی حدود سے تجاوز نہ کرو ، عول کا اصل یہ ہے کہ تجاوز نہ کرو ، اسی سے عول الفرائض ہے ابو حاتم (رح) فرماتے ہیں کہ امام شافعی (رح) عرب میں فصیح تھے ان کی لغت ہے اور بعض حضرات نے کہا کہ یہ لغت حمیر میں سے ہے طلحہ بن مصرف نے اس کو ” ان لاتعیلوا “ پڑھا ہے ، یہ امام شافعی (رح) پر حجت ہے ، امام شافعی (رح) کا ترجمہ یہ تھا کہ تمہارے بچے زیادہ نہ ہوجائیں ۔
Ayah 4:4

وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader

اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دیا کرو۔ ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ تم کو چھوڑ دیں تو اسے ذوق و شوق سے کھالو۔

(تفسیر) 4۔: (آیت)” واتوا النساء صدقاتھن نحلۃ “۔ کلبی (رح) اور مجاہد (رح) کا قول ہے کہ یہ خطاب عورتوں کے اولیاء کو ہے عورت کا ولی اس کا نکاح کرا کر اس کا مہر خود لے لیتے تھے، اگر وہ عورت اسی خاندان میں رہتی تو ولی مہر خود لے لیتا ہے اور اس کو کچھ نہیں دیتا تھا ، نہ اس کو تھوڑا دیتا اور نہ ہی زیادہ اور اگر اس کا شوہر غریب ہوتا تو وہ اس عورت کو ایک اونٹ پر سوار کر کے روانہ کردیتا ، پس یہ اونٹ اس کو مہر میں ملتا اور کچھ نہ ملتا ، آپ ﷺ نے اس فعل سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ ان کا حق ان کے حوالے کرو ، حضرمی نے کہا کہ عورتوں کے اولیاء یہ کرتے تھے کہ کسی عورت کا نکاح دوسرے شخص سے کردیتا اور وہ شخص اپنی بہن یا بیٹی کا نکاح تبادلے میں اس کے ساتھ کرتا ، اس طرح عورتوں کا تبادلہ ہوجاتا ، مہر کسی کا کچھ نہ ہوتا ، آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ ہر عورت کا مہر مقرر متعین کیا جائے ۔ (نکاح شغار کا حکم) حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے شغار سے منع فرمایا اور شغار یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بہن یا بیٹی کا نکاح کسی شخص سے کر دے کہ وہ شخص اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح اس سے کر دے اور ان میں سے کسی کا مہر متعین نہ ہو ، دوسرے حضرات نے کہا کہ عورتوں کے اولیاء کو خطاب ہے کہ ان کو حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ عورتوں کے مہر ادا کریں ، یہی صحیح ہے کیونکہ یہی خطاب اس سے پہلے ناکحین کے لیے تھے، ” والصدقات “ سے مراد مہر ہے اور اس کا واحد ” صدقۃ “ ہے ، ” نحلۃ “ قتادہرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد فریضہ ہے، ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ وہ مہر جوان کے لیے فرض قرار دیا ہے ، ابوعبیدہ ؓ نے کہا کہ نحلہ کہتے ہیں اپنی خوشی سے جو مہر دیدو ، زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ مہر کا قانون اللہ کی طرف سے جاری کردہ ہے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ نے ارشاد فرمایا ، شروط کا حق یہ ہے کہ ان کو پورا کیا جائے ، عورتوں کے مہروں میں سے (جن کی وجہ سے تم نے عورتوں کو حلال جانا) ۔ (آیت)” فان طبن لکم عن شیء منہ نفسا “ اگر عورتیں اپنی خوشی سے کچھ مہر چھوڑ دیں تو وہ ان کی طرف سے تمہیں ہبہ ہے اصل میں عبارت اس طرح تھی ” فان طابت نفوسھن بشی من ذلک فوھبن منکم “۔ یہاں پر فعل نفوس کو نقل کرکے ماقبل کی طرف لوٹایا اور پھر آنے والا نفس اس پر دلالت کرتا ہے ، اسی وجہ سے آنے والے نفس کو واحد ذکر کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” وضاق بھم ذرعا “ بعض حضرات نے اس کو ” عینا “ پڑھا ہے ، بعض نے کہا کہ لفظ ایک ہی ہے معنی اس میں جمع ہے۔ (آیت)” فکلوہ ھنیئا مریئا “۔ مزے اور خوشگواری کے ساتھ ، ” ھنیئ “ پاکیزہ خوشگوار نون کے فتحہ کے ساتھ ، بعض نے کہا پاکیزہ خوشگوار جس میں کوئی تکدر نہ ہو ، بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے خوش انجام کامل الضم غیر مضر ، ابو جعفر (رح) نے اس کو تشدید کے ساتھ ” ھنیئا مریا ‘ ؓ پڑھا ہے بغیر ہمزہ کے جیسا کہ ” بری ، بریون “ وبریا “ ہے جیسا کہ ” ھیئۃ “ ہے ۔
Ayah 4:5

وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader

اور بےعقلوں کو ان کا مال جسے خدا نے تم لوگوں کے لیے سبب معیشت بنایا ہے مت دو (ہاں) اس میں سے ان کو کھلاتے اور پہناتے رہو اور ان سے معقول باتیں کہتے رہو۔

(تفسیر) 5۔ـ: (آیت)” ولا تؤتوا السفھاء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیاما “۔ (ولا تؤتوا السفھاء سے کون مراد ہیں) سفہاء کے متعلق مفسرین رحمہم اللہ کے مختلف اقوال ہیں ، بعض لوگوں نے کہا کہ مراد عورتیں ہیں ، ضحاک (رح) نے فرمایا کہ عورتیں میں بہت زیادہ سفیہ ہیں ۔ مجاہد (رح) نے فرمایا کہ مردون کو اس بات سے روکا گیا ہے کہ وہ اپنے اموال عورتوں کے ہاتھوں میں نہ دیں کیونکہ یہ کم عقل ہیں خواہ وہ تمہاری بیویاں ہوں یا بیٹیاں ہوں یامائیں ہوں ، بعض حضرات نے کہا کہ اس سے مراد اولاد ہے ، زہری رحمۃ اللہ علیہکا قول ہے کہ اپنے چھوٹے بچے کو مال کا مالک نہ بنا کیونکہ وہ بعد میں فساد کا سبب بن جائے گا ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد عورتیں اور بچے ہیں، حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے سفیہ عورت یا سفیہ بچہ مراد ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا جو مال اللہ نے تم کو عنایت فرمایا ہے اور ذریعہ معاش بنایا ہے اس پر اپنی عورتوں اور بچوں کو تسلط نہ دو ورنہ وہ تمہارے خلاف کھڑے ہوجائیں گے اور تم ان کے ہاتھوں کو تکتے رہو گے اس لیے اموال کو اپنے پاس قبضے میں رکھو اور اس میں کاروبار کے ذریعے ترقی دو اور خود اہل و عیال کی پرورش اور تربیت میں صرف کرو ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔ کلبی (رح) کا بیان ہے کہ جب کسی شخص کو اپنی بیوی کے معاملے میں پتہ چل جائے کہ وہ بیوقوف ہے یا اپنی اولاد کے بارے میں پتہ چل جائے کہ وہ بیوقوف ہے تو ان کو مال نہ دے ورنہ وہ تباہ کردیں گے ،۔ سعید بن جبیر ؓ اور عکرمہ (رح) کا قول ہے کہ یہ حکم مال یتیم کے بارے میں ہے جو اس کے پاس ہے اس کو اس وقت تک مال حوالے نہ کیا جائے جب تک کہ وہ بالغ نہ ہوجائے یا اضافت اولیاء ہے کیونکہ یہی اولیاء ان کے قوام اور سربراہ ہیں ۔ سفیہ وہ ہے جس کو ولی اس کا مال اس کے حوالے نہ کرے بلکہ وہ کسی کی پرورش کا مستحق ہے ، وہ ہے جو مال کو بےجا خرچ کرنے والا ہو یا دین میں فساد کردینے والا ہو۔ (آیت)” ولا تؤتوا السفھاء “۔ سے مراد جہال میں ان کو حق کی جگہ ذکر کیا ہے وہ جس کی وجہ سے ان کو سربراہ بنایا ہے بعض قراء نے ” فبما “ بغیر الف کے پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے ” قیاما “ پڑھا ہے جس کا اصل ” قواما ‘ ہے یہاں واؤ کو یاء سے بدل دیا گیا ہے وہ جن کا کام کا سربراہ یا کام سپرد کیا جاتا ہے ۔ یہاں پر وہ سربراہ مراد ہیں ، جن کی وجہ سے دنیا میں زندگی گزارنے کے اصول معلوم ہوتے ہیں ، ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سربراہ جو حج و جہاد اور نیک اعمال کی طرف متوجہ کرتے ہیں اور دوزخ سے گردن چھڑاتے ہیں ۔ (آیت)” وارزقوھم فیھا “۔ اور ان سے تم کھاتے ہو، ” واکسوھم “ ان کو تم پہناؤ جن پر تمہارا رزق واجب ہے اور ان کی مدد کرنا واجب ہے ۔ ” فیھا “۔ ارشاد فرمایا ۔ ” منھا “ نہیں کہا کیونکہ اصل رزق کا مالک اللہ ہی ہے لیکن کچھ محدود مدت کے لیے ان کو سربراہ بنایا ہے ۔ (آیت)” وقولوا لھم قولا معروفا “۔ اس مدت جمیلہ میں عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں ان کے اموال سے نفع حاصل ہوتا ہے تو وہ تمہارے حصہ میں غنیمت ہے، بعض نے کہا کہ وہ دعا ہے ، ابن زید (رح) کا قول ہے کہ اگر تمہارے اوپر ان کا نفقہ واجب نہ ہوتا تو یوں کہتے ” عافانا اللہ وایاک بارک اللہ فیک “ بعض نے کا ہ کہ ان کو ایسا نرم قول کریں کہ بات ان کو بھلی معلوم ہو ۔
Ayah 4:6

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور یتیموں کو بالغ ہونے تک کام کاج میں مصروف رکھو۔ پھر (بالغ ہونے پر) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کردو۔ اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے (یعنی بڑے ہو کر تم سے اپنا مال واپس لے لیں گے) اس کو فضول خرچی اور جلدی میں نہ اڑا دینا جو شخص آسودہ حال ہو اس کو ایسے مال سے قطعی طور پر پرہیز رکھنا چاہیے اور جو بےمقدور ہو وہ مناسب طور پر (یعنی بقدر خدمت) کچھ لے لے اور جب ان کا مال ان کے حوالے کرنے لگو تو گواہ کرلیا کرو اور حقیقت میں تو خدا ہی (گواہ اور) حساب لینے والا کافی ہے۔

(تفسیر) 6۔: (آیت)” وابتلوا الیتمی “۔ یہ آیت ثابت بن رفاعہ اور اس کے چچا کے متعلق نازل ہوئی کہ رفاعہ وفات پاگئے اور ان کا بیٹا ثابت چھوٹا تھا ، ان کا چچا آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری گود میں میرے بھائی کا چھوٹا یتیم بچہ ہے اس کا مال میرے لیے کب تک حلال ہے ؟ اور اس کو کب مال حوالے کرسکتا ہوں ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمایا (آیت)” وابتلوا الیتمی “۔ ان کی عقلوں کا تم امتحان لو اور ان کے دین کا اور ان کے مال کی حفاظت کا (آیت)” حتی اذا بلغوا النکاح “ یہاں تک کہ وہ نکاح کی حد تک پہنچ جائیں ، (آیت)” فان انستم “۔ جب تم ان میں دیکھو ” منھم رشدا “۔ مفسرین رحمہم اللہ نے ان کے بارے میں مختلف اقوال نقل کیے ہیں ، بعض نے کہا کہ دین میں عقل و صلاحیت رکھتے ہوں اور مال کی حفاظت کرنا جانتے ہوں اور اصلاح کے لیے علم کا حصول بھی ضروری ہے ۔ (رشدا کی تفاسیر) سعید بن جبیر ؓ ، مجاہد (رح) اور شعبی (رح) کے نزدیک اگر کوئی بوڑھا شیخ ہو تو اس کو بھی مال حوالے نہیں کیا جائے گا ، یہاں تک کہ اس میں ہوشیاری اور تیزی ہو کیونکہ انسان کی مشکلات کی وجہ سے اس کے احوال بھی مختلف ہوجاتے ہیں ، اگر وہ شخص پہلے بازار میں خریدو فروخت کرتا تھا تو ولی اس شخص کو بازار بھیجے تاکہ کوئی چیز خرید کرلے آئے اور اس کے تصرف میں غور وفکر کرے اور اگر اس کا تعلق بازار سے نہ ہو بلکہ گھر کے امور سے ہو تو پھر اس کو گھر کے اخراجات پر مامور کیا جائے تاکہ وہ گھر کے اہل و عیال وغلاموں پر خرچ کرے اور اگر وہ عورت ہے تو اس کو گھر کے امور پر امتحان لیا جائے گا ، یعنی سامان کی حفاظت ، دھاگہ کا تنا وغیرہ ۔ اگر اس میں وہ حسن تدبیر والی ہوئی اور تمام امور پر اس کا تصرف بہتر ہے تو مال اس کو حوالے کر دے اور جان تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے صغر کی بچپن دور کردیا ، گویا مال کے حوالے کرنا دو اشیاء پر مبنی ہے ایک بلوغ اور دوسرا ہوشیاری ہے ، بلوغ چار اشیاء میں سے کسی ایک کا پایا جانا ضروری ہے دو تو مشترک ہے مردوں اور عورتوں کے درمیان اور دو علامات عورتوں کے ساتھ مختص ہیں جو مشترک ہیں (1) عمر (2) دوسرا بلوغ کے لیے احتلام کا ہونا ، عمر میں پندرہ سال بلوغت کا حکم ہے خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے احد کے دن پیش کیا گیا ، اس وقت میری عمر چودہ سال تھی ، آپ ﷺ نے جہاد میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دی تھی ، پھر خندق کے سال میری عمر پندرہ سال تھی مجھے آپ ﷺ کے ساتھ معائنہ کے لیے پیش کیا گیا ، اس وقت آپ ﷺ نے اجازت دے دی ، نافع (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز کے سامنے بیان کی اور کہا کہ یہ فرق قتال کرنے والے اور قتال نہ کرنے والوں کے درمیان جس کی عمر پندرہ سال تک پہنچی اس کے بارے میں قتال کا حکم دیا لیکن اس سے کم عمر میں بچے ہونے کی وجہ سے قتال کا حکم نہیں دیا ، یہی اکثر اہل علم کا قول ہے ۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ لڑکی کی بلوغت کی عمر سترہ سال ہے اور لڑکے کے بالغ ہونے کی مدت اٹھارہ سال ہے ، باقی رہی احتلام کی علامت وہ منی کے خروج سے معلوم ہوگا ، اگر کسی کو احتلام ہوگیا یا کسی لڑکے کے جماع سے کوئی عورت حاملہ ہوگئی تو وہ بالغ شمار ہوگا اور انیس سال کے بعد یہ دونوں بالغ شمار ہوں گے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” واذا بلغ الاطفال منکم الحلم فلیستاذنوا “۔ کہ جب بچے تم میں سے حلم کو پہنچ جائیں تو تم ان کو اجازت دے دو ، آپ ﷺ نے جب حضرت معاذ بن جبل ؓ کو یمن کا والی مقرر کر کے بھیجا تو ارشاد فرمایا کہ ہر ” حالم “ سے ایک دینار لینا ، باقی رہی بلوغت کی علامات میں بالوں کا زیر ناف اگنا ، یہ مشرکین کی اولاد کے بلوغ وعدم بلوغ کو پہچاننے کے لیے یہ علامت مقرر کردی گئی تھی ، جیسا کہ عطیہ قرظی نے فرمایا کہ بنی قریظہ کے دن مجھے رسول اللہ ﷺ کے معائنہ میں پیش کیا گیا کیونکہ لوگوں کو میرے بالغ اور نابالغ ہونے میں شک تھا ، رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ پوشیدہ بالوں کو دیکھ پیدا ہوگئے ہیں یا نہیں ۔ لوگوں نے حکم کی تعمیل کی مگر بال نہ پائے گئے اس لیے مجھے قتل سے چھوڑ دیا گیا اور قیدیوں میں چھوڑ دیا گیا جس میں متعبر مانی جائے گی یا نہیں اس میں دو قول ہیں ، پہلی یہ علامات بھی بلوغ کے لیے متعین کی جائیں گی ، دوسرا قول یہ ہے کہ یہ علامت صرف کافروں کے بچوں کو پہچاننے کے لیے ہے کیونکہ ان کے والدین تک اس کی رسائی ممکن نہیں کہ ان سے ان کے بلوغ اور عدم بلوغ کے متعلق پوچھا جائے ، دوسرا یہ کہ اگر رسائی ممکن بھی ہو تو پھر بھی ان کے قول کا اعتبار نہیں ہوسکتا ہے ، اپنے بچوں کی جان بچانے کے لیے وہ جھوٹ بولیں اور ان کی عورتوں کی بلوغت کی علامت حیض اور حاملہ ہونا ہے ، جب انیس سال کے بعد وہ حاملہ ہوجاتیں تو ان کی بلوغت کا حکم لگایا جائے گا اور اس طرح اگر وہ چھ ماہ سے پہلے وضع حمل کرلے کیونکہ وضع حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے ، باقی رہی رشد کی بات تو اس کی مصلحت اس کے دین اور اس کے مال میں ہے، صلاح فی الدین کا مطلب یہ ہے کہ وہ فواحش اور معاصی سے بچتا رہے جس کے ذریعے سے انسان کا عادل ہونا ساقط ہوجاتا ہے اور صلاح فی المال یہ ہے کہ وہ فضول خرچ نہ ہو تبذیر کہا جاتا ہے کہ کوئی اپنے مال کو اس طرح خرچ کرے کہ جس میں نہ دنیاوی فائدہ ہو اور نہ ہی اخروی فائدہ ہو اور نہ ہی اس میں اچھا تصرف ہو بلکہ خریدو فروخت غبن فاحش کرتا ہو ، لہـذا جب اپنے دین میں صحیح نہ ہو اور نہ ہی مال کے تصرفات میں صحیح ہو تو اس سے مال کو روک رکھو نہ اس کو مال دو اور نہ ہی اس کے تصرف کو نافذ سمجھو ۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر مال وغیرہ میں تصرف کرسکتا ہے اگرچہ دین میں کمزور ہے تو مال اس کے حوالے کیا جائے گا ، ہاں اگر وہ مال کے تصرفات میں کمزور ہو تو پچیس سال سے پہلے اس کو مال نہیں دیں گے ، اس کے بعد اس کے تصرف کو نافذ مان لیا جائے گا ، اس پر قرآن حجت ہے کہ جو شخص تصرفات نہیں کرسکتا اس سے مال روک دو ، (آیت)” حتی اذا بلغوا النکاح فان انستم منھم رشدا فادفعوا الیھم اموالھم “۔ اس آیت میں ان کی طرف مال حوالے کرنے کے بارے میں حکم دیا کہ بلوغ کے بعد جب ان میں ” ایناس “ اور رشد آجائے تو مال ان کو حوالے کر دو ، فاسق کچھ رشید نہیں ہوتا، بلوغت کے بعد جب اس کی عمر پچیس سال تک ہوجائے، پھر بھی خریدو فروخت کے مصالح سے واقف نہ ہو تو پھر بھی وہ ہوشیار نہیں ، لہذا جس طرح بلوغت سے قبل مال اس کے حوالے نہیں کیا اسی طرح بلوغت کے بعد بھی اس کے حوالے نہیں کیا جائے گا ۔ جب اس سے ایناس (ہوشیاری) اور خریدوفروخت کے معاملات پر عبور حاصل ہوجائے تو پھر ان کو ان کے مال حوالے کر دو ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت ۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ عورت کو مال حوالے نہیں کیا جائے گا جب تک کہ اس کی شادی نہیں ہوتی، جب وہ شادی کرلیں ، تو پھر تم ان کے مال ان کو لوٹا دو ، لیکن ان کے تصرف ان کے شوہروں کی اجازت کے بغیر نافذ نہیں ہوں گے ، جب تک کہ اس کا شوہر ظالم اور ناتجربہ کار نہ ہو اور اور جب بچہ ہوشیاری کو پہنچ جائے تو اس صورت میں اس کا حجر زائل ہوجائے گا، اگر ان کا سفیہ ہونا ظاہر ہوجائے تو پھر ان سے مال کو روک دیا جائے گا لیکن اگر وہ دین میں کمزور ہیں تو پھر اس کی دو صورتیں ہیں ، بعض نے کہاجس طرح مال میں ان کا حجر لوٹ آتا ہے ، اسی طرح دین میں نقص کی وجہ سے ان کا حجر لوٹ آئے گا ، بعض نے کہا کہ حجر کی طرف نہیں لوٹے گا اس لیے کہ پہلے کا حکم اقوی ہے دوسرے ابتداء سے ، امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ آزاد عاقل ، بالغ پر حجر قائم نہیں ہوسکتا ، غلام پر حجر کے ثبوت کے لیے امام صاحب نے ایک حدیث استدلال میں پیش کی ہے ۔ عبداللہ بن جعفر ؓ نے کچھ زمین ساٹھ ہزار درہم میں خریدی ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا میں عثمان کے پاس جا کر تیری اس خرید کا اختیار ختم کرا دوں گا ، عبداللہ ؓ نے جا کر حضرت زبیر ؓ سے بات کہہ دی ، حضرت زبیر ؓ نے کہا میں اس بیع میں تمہارا شریک ہوں ، حضرت علی ؓ حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے اور کہا اپنے بھتیجے کو تصرفات سے روک دو ، (وہ سفیہ ہے) حضرت زبیر ؓ نے کہا (مشورہ میں) اس کا شریک ہوں ، حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اب میں کسی کو کیسے اس تصرف سے روک دوں جس میں زبیر ؓ شریک ہیں، ” ولا تاکلوھا “ اے اولیاء کی جماعت ” اسرافا “ یعنی بغیر حق کے ” وبدارا “ جلدبازی میں ” ان یکبروا “ ان ناصبہ ہے ، مطلب یہ ہے کہ تم انکے بڑے ہونے اور ہوشیار ہونے کے ڈر کی وجہ سے تم ان کے مال کھانے میں جلدی نہ کرو کہ وہ بڑے ہوجائیں گے تو ان کو مال حوالے کرنا پڑے گا ، پھر جو تمہارے لیے حلال ہے اور ان کے لیے جو حلال ہے اس کو بیان کردیا ، (آیت)” ومن کان غنیا فلیستعفف “۔ تمہیں مال یتیم سے روک دیا گیا تاکہ تم ان کے قلیل مال سے بھی بچو اور کثیر سے بھی بچو، عفت جو حلال نہ ہو اس سے بچنا ، (آیت)” ومن کان فقیرا “۔ جو یتیم کے مال کی طرف محتاج ہے تو وہ اس کو یاد رکھے اور شمار کر کے لیے ، (آیت)” فلیاکل بالمعروف “ وہ دستور کے مطابق اس سے لے سکتا ہے ۔ (فلیاکل بالمعروف کی تفسیر) عمرو بن شعیب کے دادا کی روایت ہے کہ ایک شخص نے خدمت گرامی میں حاضر ہوکر عرض کیا میں محتاج ہوں ، میرے پاس کچھ نہیں ہے اور میرے زیر پرورش ایک یتیم ہے، حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے یتیم کے مال میں سے کچھ کھالو مگر زیادتی نہ کرنا نہ جلدی جلدی ختم کرنا نہ ہی اپنے مال کو بچا کر اس کے مال کو کھانا اگر کوئی یتیم کا مال کھالے تو کیا اس پر اس کی ادائیگی واجب ہے ان میں بعض حضرات اس طرف گئے ہیں کہ اس کی قرض کی ادائیگی واجب ہے جب کہ وہ آسان ہو اس آیت کے تحت (آیت)” فلیاکل بالمعروف “۔ معروف سے مراد قرض ہے یتیم کے مال سے قرض لے سکتا ہے جب اس کی طرف محتاج ہو اور جب اسے آسانی ہو تو وہ اسے پورا کرلے ، یہی قول مجاہد (رح) ، سعید بن جبیر ؓ ، کا ہے ۔ حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں ، کہ میں نے اللہ کا مال (بیت المال) کے معاملے میں اپنی ذات کو یتیم کے سرپرست کی طرح قرار دے رکھا ہے ، اگر غنی ہوں گا تو بچتا رہوں گا اور محتاج ہوں گا تو معروف کے ساتھ کھالوں گا اور جب فراخ دست ہوجاؤں گا تو ادا کر دوں گا ، امام شعبی (رح) فرماتے ہیں ایسی مجبوری کے بغیر جس میں آدمی مردار کھانے پر مجبور ہوجاتا ہے یتیم کا مال نہ کھائے اور بعض نے کہا کہ اس پر ادائیگی نہیں پھر اس کی کیفیت اکل کے متعلق ائمہ کا اختلاف ہے ۔ عطاء و عکرمہ رحھہما اللہ فرماتے ہیں کہ انگلیوں کے پوروں سے کھائے زیادتی نہ کرے اور کپڑے نہ پہنے ، نخعی (رح) فرماتے ہیں کہ یتیم کے مال سے کتان اور صوف خرید کر نہ پہنے صرف بھوک دور کرنے کے بقدر کھالے اور ستر پوشی کے بقدر پہن لے اور ان مصارف میں جتنی رقم آئی ہو اس کی واپسی لازم نہیں۔ حسن بصری (رح) اور ایک جماعت علماء نے کہا یتیم کے درخت کے پھل کھا سکتا ہے اس کے جانور کا دودھ پی سکتا ہے مگر دستور کے موافق اور اس کا معاوضہ لازم نہیں ، البتہ چاندی سونا نہ لے اگر لے گا تو اس کا معاوضہ ادا کرنا لازمی ہے ، کلبی (رح) نے کہا معروف سے مراد ہے یتیم کی سواری پر سوار ہونا اور ان کے خادم سے خدمت لینا یتیم کے مال میں سے کچھ کھانا جائز نہیں ۔ قاسم بن محمد کی روایت ہے کہ ایک شخص نے حاضر ہو کر حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے عرض کیا ، میرے زیر تربیت ایک یتیم ہے اور اس کے اونٹ ہیں کیا میں ان کا دودھ پی سکتا ہوں ؟ فرمایا اگر ایسا ہو کہ تم اس کے گم شدہ اونٹوں کو تلاش کرو ، خارشی اونٹوں کی مالش کرو ، ان کے پیاؤ کو درست کرو اور پانی پلانے کے دن ان کو پانی پلاؤ تو ان کا دودھ بھی پی سکتے ہو لیکن اس طرح کے اونٹوں کے بچوں کو ضرر نہ پہنچے اور نہ بالکل تھنوں سے دودھ نچوڑ لیا جائے اور بعض نے کہا کہ معروف کہتے ہیں کہ اس کے کھانے کے بقدر اس کے مال سے لے اور اس کے عمل کے مطابق اس کو بدلہ دے لیکن اس پر اس کا لوٹا واجب نہیں ، یہی قول حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور اہل علم کی ایک جماعت کا ہے (آیت)” فاذا دفعتم الیھم اموالھم فاشھدوا علیھم “۔ یہ حکم اور ارشاد ہے وجوبی حکم نہیں ہے ، ولی کو یہ حکم ہے کہ گواہوں کی موجودگی میں یتیم کے مال کو اس کی بلوغت کے بعد حوالے کر دے تاکہ وہ تہمت اور جھگڑے سے محفوظ رہے۔ ” وکفی باللہ حسیبا “۔ وہ حسباب کرنے والا بدلہ دینے والا اور شہادت دینے والا اللہ ہی کافی ہے ۔
Ayah 4:7

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تھوڑا ہو یا بہت اس میں مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی۔ یہ حصے (خدا کے) مقرر کیے ہوئے ہیں۔

(للرجال نصیب مما ترک الوالدان کا شان نزول) 7۔ یہ آیت اوس بن ثابت انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ شخص جب وفات پا گیا تو اس نے ایک عورت ام کجہ اور اس سے تین بیٹیاں چھوڑیں ، اس کے دو چچا زاد بھائی خالد (سدید) اور عرفجہ تھے ، دونوں نے آکر ساری میراث پر قبضہ کرلیا (اس کی بیوی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا عرض کردیا) زمانہ جاہلیت میں عورتوں اور چھوٹے بچوں کو میراث سے حصہ نہیں دیتے تھے، اگرچہ وہ بچہ ہو یا بچی اور وہ کہتے کہ ہم وارثت کا حصہ نہیں دیتے مگر جس کا گھر والا جہاد میں شریک ہو اور شہید ہوجائے۔ وہ عورت آپ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ﷺ اوس بن ثابت تین بیٹیاں چھوڑ کر وفات پا گیا اور میں اس کی بیوی ہوں اور میرے پاس کوئی چیز نہیں جو ان بچیوں پر خرچ کروں اور اس کے باپ نے بہت سارا مال چھوڑا وہ سب سوید اور عرفجہ کے پاس ہے ، اس نے نہ مجھے کچھ دیا اور نہ ہی میری بیٹیوں کو کوئی چیز عطا فرمائی اور وہ میری پرورش میں ہیں ، میرے پاس نہ کھلانے کے لیے کچھ ہے اور نہ پلانے کے لیے کچھ ہے ، آپ ﷺ نے ان دونوں کو اپنے پاس بلا لیا اور وہ دونوں کہنے لگے کہ اس کا کوئی لڑکا نہیں جو سوار ہو سکے گھوڑے پر اور نہ کوئی بوجھ لاد سکتا ہے اور نہ ہی دشمن سے لڑ سکتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، ” للرجال “۔ میت کی مذکر اولاد اور اس کے قریبی رشتہ دار ” نصیب “ بمعنی حصہ ہے (آیت)” مما ترک الوالدان والاقربون “۔ میراث سے جو انہوں نے چھوڑا ہے ” وللنسائ “ ورثاء میں سے جو عورتیں ہیں ، (آیت)” نصیب مما ترک الوالدان والاقربون “۔ ۔۔۔۔” مما قل منہ “۔ اس سے مراد میراث کا مال ہے ، ” اوکثر “ (آیت)” نصیبا مفروضا “ منصوب ہے ، بعض نے کہا کہ عورتوں کا حصہ مقرر کیا گیا پھر ان کے لیے میراث ثابت ہوگئی ، یہ بیان نہیں کی کہ کتنی میراث ہے ، آپ ﷺ نے سوید اور عرفجہ کی طرف ایک شخص کو بھیجا اور بلوایا اور کہا کہ تم اس کے مال کو تقسیم نہ کرنا اللہ تعالیٰ نے ترکہ میں اس کی لڑکیوں کو حصہ دار بنایا ہے مگر حصہ متعین نہیں ہوا، میں لڑکیوں کے متعلق حکم کے نزول کا منتظر ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے ” یوصیکم اللہ “ نازل فرمائی ، جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے سوید اور عرفجہ کو حکم دیا کہ اس کی بیوی کو کل مال سے آٹھواں حصہ اور ان کی بیٹیوں کو ثلثان دیا جائے اور باقی مال تم دونوں کا ہے۔
Ayah 4:8

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور جب میراث کی تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار یتیم اور محتاج آجائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دیا کرو اور شیریں کلامی سے پیش آیا کرو۔

(تفسیر) 8۔: (آیت)” واذا حضر القسمۃ “۔ تقسیم میراث کے وقت ” اولوالقربی “۔ وہ قرابت دار جن کا حصہ میراث میں مقرر نہیں (آیت)” والیتامی والمساکین فارزقوھم منہ “۔ ترکہ یا تقسیم سے ان کو کچھ مال دے دو (آیت)” وقولوالھم قولا معروفا “۔ (اذا حضر القسمۃ “۔۔۔۔۔۔۔ الایۃ کی تفسیر میں ائمہ کے مختلف اقوال) اس آیت کے حکم میں علماء کا اختلاف ہے ، بعض حضرات نے کہا کہ یہ آیت منسوخ ہے ، سعید بن جبیر ؓ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت میراث کی آیت سے پہلے کی ہے ان سب کو میراث کا اہل بنایا ہے اور اس آیت کو منسوخ کردیا گیا ہے ، دوسرے حضرات کے نزدیک یہ آیت محکم ہے یہی قول حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، شعبی (رح) ، نخعی (رح) ، اور زہری (رح) ، کا ہے مجاہد (رح) ، کا بیان ہے کہ اہل میراث میں سے جو خوشی سے دینا چاہیں ان پر یہ حکم واجب ہے ، حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ لوگ تابوت میں ، برتن ، پرانے کپڑے اور وہ سامان جس کو آپس میں بطور تقسیم کیا جاتا ہے رکھ دیا کرتے ہیں اور اگر میت کے وارث چھوٹے بچے ہوں تو اولیاء کو اس پر معذرت کر لینی چاہیے وہ کہہ دیں کہ یہ مال ان بچوں کا ہے اس میں میرا کوئی حق نہیں اگر میرا ہوتا تو میں ضرور کچھ دیتا ، جب یہ بچے بڑے ہوجائیں گے تو تمہارے حقوق پہنچائیں گے ، بعض حضرات نے کہا کہ یہ حق سب پر واجب ہے خواہ وارث چھوٹے ہوں یا بڑے ، اگر وارث بڑے ہوں تو خود ادا کردیں اور اگر چھوٹے ہوں تو ان کا ولی ان کو عطا کر دے ۔ محمد بن سیرین (رح) کی روایت ہے کہ اس آیت کی وجہ سے عبیدہ سلیمانی ؓ نے یتیموں کے مال میں سے بانٹ کر کچھ حصہ نکال کر ایک بکری خرید کر ذبح کر کے کھانا پکوایا اور اس آیت میں جن کا ذکر ہے ان کو دے دیا ہے اور فرمایا اگر یہ آیت نہ ہوتی تو یہ میرے مال سے ہوتا ، قتادہ (رح) ، یحیٰ بن معمر ؓ سے روایت نقل کی کہ تین آیات محکمات مدنی ہیں جن کو لوگوں نے چھوڑ دیا ایک یہ آیت اور دوسری استیذان والی آیت (آیت)” یایھا الذین امنوا لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم “۔ تیری آیت ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” یا ایھا الناس انا خلقناکم من ذکر وانثی “ ہے ۔ بعض نے کہا کہ وہی اول الاقاویل ہیں یہ ندب اور استحباب پر محمول ہے نہ وجوب پر۔
Ayah 4:9

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

اور ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو (ایسی حالت میں ہوں کہ) اپنے بعد ننھے ننھے بچے چھوڑ جائیں گے اور ان کو ان کی نسبت خوف ہو (کہ ان کے مرنے کے بعد ان بیچاروں کا کیا حال ہوگا) پس چاہیے کہ یہ لوگ خدا سے ڈریں اور معقول بات کہیں۔

(تفسیر) 9۔: (آیت)” ولیخش الذین لو ترکوا من خلفھم ذریۃ ضعافا “۔ ضعافا سے مراد چھوٹی اولاد ہے، ” خافوا علیھم “ فقر کے خوف سے، جب کسی شخص کو موت کا وقت قریب آجاتا ہے اس کے پاس جو ورثاء حاضر ہوتے ہیں اور اس کو وصیت کی جاتی ہے کہ میری اولاد اور میرے ورثاء میرے مال سے کوئی مستغنی نہ ہو تو وہ اپنے آپ کو مقدم کرے کہ فلاں کو آزاد کر دو اور فلاں فلاں کو عطا کرو۔ (یعنی عین تقسیم میراث کے وقت بعض ورثاء کو محروم کردیا جاتا ہے) اس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اس لیے حکم دیا گیا ہے کہ تہائی وصیت سے زائد قبول نہ کی جائے ، اسی طرح اگر کوئی وصیت کرنے والا چپکے سے اپنی اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے تاکہ اس کا مال کوئی اور نہ لے ۔ کلبی (رح) کا بیان ہے حکم مذکورہ یتیموں کے سرپرستوں اور وصیت والوں کو دیا گیا کہ یتیموں کے معاملے میں اللہ سے ڈریں اور ان سے اچھا سلوک کریں جیسا اپنے ان کمزور بچوں کے ساتھ لوگوں سے سلوک کرانا پسند کرتے ہیں جو ان کے پیچھے رہ جائیں (آیت)” فلیتقوا اللہ ولیقولوا قولا سدیدا “۔ کا معنی ہے عدل ، اس کا معنی بعض نے یہ کیا کہ مرنے کے وقت موجود ہونے والے لوگ مرنے والے کو مشورہ دیں کہ وہ تہائی مال سے کم خیرات کرنے اور کسی کو دینے کی وصیت کرے اور باقی ورثاء میں تقسیم کر دے ۔
Ayah 4:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

جو لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔

10۔ (آیت)” ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما “۔ مقاتل بن حیان ؓ ، کا بیان ہے کہ یہ آیت بنی غطفان کے ایک شخص کے متعلق نازل ہوئی جس کا نام مرثد بن زید تھا ، اس نے اپنے یتیم بچے کا مال کھالیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما “۔ ظلم سے مراد حرام مال ہے جو ناحق کسی سے کھایا جائے ، (آیت)” انما یاکلون فی بطونھم نارا “۔ ان کے مالوں کو ان کی خبر دی گئی کہ اس کا انجام یہی ہوگا ۔ (آیت)” وسیصلون سعیرا “۔ عام قراء نے یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اس کا معنی ہے کہ ان کو داخل کردیا جائے گا دہکتی ہوئی آگ میں جیسا کہ کہا جاتا ہے ” صلی النار یصلوھا “ کہ اس نے آگ کو بھڑکایا ، اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” الا من ھو صال الجحیم “۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو آگ میں داخل کیا جائے گا اور ان کو جلایا جائے گا ، اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” فسوس نصلیہ نارا “۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساصلیہ سقر “۔ حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا شب معراج میں میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ اونٹوں کے لبوں کی طرح تھے ، بالائی لب سکھڑا ہو اور دونوں نتھنوں پر تھا اور نچلا ہونٹ سینہ پر لٹکا ہوا ، جہنم کے کارندے ان کے منہ میں دوزخ کے انگارے اور پتھر بھر رہے تھے میں نے پوچھا جبرئیل (علیہ السلام) یہ کون ہیں ؟ جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کا مال بیجا طور پر کھاتے ہیں ۔