5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 5:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 5:1 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ تمہارے لئے چار پائے جانور ( جو چرنے والے ہیں) حلال کردیے گئے بجز انکے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔ مگر احرام (حج) میں شکار کو حلال نہ جاننا۔ خدا جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔

آیت نمبر 1 تفسیر : اللہ تعالیٰ کا فرمان ( یایھا الذین امنوا اوفوابالعقود) عہد کو پورا کرو۔ امام زجاج (رح) فرماتے ہیں۔ عقود پختہ ترین عہد کو کہتے ہیں۔ عرب کے محاورات میں کہا جاتا ہے ” عاقدت فلانا و عقدت علیہ “ یعنی میں نے فلاں کو ازسرنو یہ (معاہدہ) لازم کیا اور اس (عقود) کی اصل یہ ہے کہ ایک شک کو دوسری کے ساتھ گرہ لگاکر جوڑ دینا جیسا کہ رسی کو رسی کے ساتھ گرہ لگا کر جوڑا جاتا ہے۔ اوفوابالعقود کی تفسیر۔ عقود (جو آیت میں مذکور ہیں ) کی تعیین میں مفسرین کے مختلف اقوامل ہیں۔ ابن جریج (رح) فرماتے ہیں یہ خطاب اہل کتاب کو ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ ” اے وہ لوگو ! جو پہلی کتب پر ایمان لائے ان عہدوں کو پورا کرو جو میں نے تم سے محمد ﷺ کے بارے میں کیے اور وہ (عہد جو یہود سے کیا گیا) “ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” واذاخذاللہ میثاق الذین اوتوا الکتاب الایۃ “ میں ہے۔ اور دیگر مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں آیت میں عقود کا لفظ عام ہے ( یعنی ہر معاہدہ دنیاوی و اخروی مراد ہے) اور حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس (ایفاء عقود) سے وہ قسمیں مراد لی ہیں جو یہ لوگ زمانہ جاہلیت میں کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ایمان اور قرآن کے عہد ہیں اور بعض حضرات کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ آیت میں ” اوفوا بالعقود “ سے مراد وہ معاہدے ہیں جو لوگ آپس میں کرتے ہیں۔ بھیمۃ الانعام کی وضاحت (احلت لکم بھیمۃ الانعام) حضرت حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ” بھیمۃ الانعام “ سے مراد تمام چوپائے ہیں یعنی اونٹ ، گائے، بکری اور اللہ تعالیٰ کی مراد ان تمام جانوروں کو حلال کرنا ہے جو اہل جاہلیت نے اپنے اوپر حرام کیے ہوئے تھے۔ ابوظبیان (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ ” بھیمۃ الانعام “ سے مراد جنین ہیں (یعنی جانوروں کے وہ بچے جن کے اعضاء مکمل ہوں اور ان کی ولادت سے قبل ماں فوت ہوجائے) ۔ اور اسی کی مثل حضرت شعبی (رح) سے منقول ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ” بھیمۃ الانعام “ سے مراد وہ بچے ہیں جن کی والدہ کو جب ذبح یانحر کیا جائے تو وہ مردہ حالت میں ماں کے پیٹ میں ہوں۔ اکثر اہل علم اس بچہ کے حلال ہونے کے قائل ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو عرض کیا یا رسول اللہ (ﷺ) ہم اونٹنی کو نحر کرتے ہیں اور گائے کو ذبح کرتے ہیں تو ہم ان کے پیٹ میں مردہ بچہ پاتے ہیں کیا ہم اس بچہ کو کسی گڑھے میں ڈال دیں یا کھالیں ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تمہارا دل چاہے تو اس بچہ کو بھی کھالو کیونکہ اس کی ماں کا ذبح کرنا اس بچہ کو ذبح کرنا ہے۔ (ابودائود، کتاب الاضاحی، الترمذی کتاب الصید) اور ابوالزبیر (رح) نے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا ہے وہ حضور ﷺ کا قول نقل کرتے ہیں کہ جنین کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے اور بعض حضرات نے جنین کے حلال ہونے کے لیے اس کے بال نکلنا شرط قرار دیا ہے۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ مادہ جانور کا ذبح اس کے پیٹ کے بچہ کو اس وقت کافی ہوگا جب اس بچہ کے اعضاء مکمل ہوچکے ہوں اور جسم پر بال آچکے ہوں اور حضرت سعید بن المسیب سے بھی اسی کی مثل روایت ہے۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک مادہ جانور کے ذبح ہونے کے بعد جب اس کا مردہ بچہ نکلے تو اس کا کھانا حلال نہیں ہے۔ اور کلبی (رح) فرماتے ہیں ” بھیمۃ الانعام “ سے جنگلی جانور مراد ہیں جیسے ہرن، نیل گائے ، جنگلی گدھا، جنگلی جانوروں کو ” بھیمۃ “ اس وجہ سے کہکتے ہیں کہ ان کی پہچان پوشیدہ ہے اور بعض نے وجہ تسمیہ یہ بیان کی کہ ان کو قوت گویائی حاصل نہیں ہے۔ (الامایتلیٰ علیکم)… ” مایتلیٰ علیکم “ سے مراد وہ جانور ہیں جو آیت ” حرمت علیکم المیتۃ “ میں ” وما ذبح علی النصب “ تک بیان کیے گئے ہیں۔ ( غیر محلی الصید) یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ ” تمہارے لیے تمام چوپائے حلال کیے گئے ہیں ۔ سوائے جنگلی جانوروں کے کیونکہ یہ شکار ہونے کی وجہ سے حالت احرام میں تمہارے لیے حلال نہیں ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے وانتم حرم ان اللہ یحکم مایرید۔
Ayah 5:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا١ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا١ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا١ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 5:2 in the Quran reader

مومنو ! خدا کے نام کی چیزوں کی بےحرمتی نہ کرنا اور نہ ادب کے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی (جو خدا کی نذر کریئے گئے ہوں اور) جن کے گلوں میں پٹّے بندھے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو عزت کے گھر (یعنی بیت اللہ) کو جا رہے ہوں (اور) اپنے پروردگار کے فضل اور اسکی خوشنودی کے طلبگار ہوں۔ اور جب احرام اتار دو تو (پھر اختیار ہے کہ) شکار کرو۔ اور لوگوں کی دشمنی اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر زیادتی کرنے لگو۔ اور (دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کا عذاب سخت ہے۔

آیت نمبر 2 ” لاتحلوا شعائر اللہ “ کا شان نزول تفسیر : (یایھا الذین امنو لاتحلوا شعائر اللہ ) یہ آیت حطم کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کا نام شریح بن صبیعۃ البکری تھا۔ یہ مدینہ آیا اور اپنے گھڑ سوار ساتھیوں کو مدینہ سے باہر چھوڑ آیا اور تنہا حضور ل (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی آپ ﷺ لوگوں کو کس چیز کی طرف بلاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس بات کی گواہی کی طرف کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کی طرف۔ اس نے کہا یہ بہت اچھی بات ہے مگر میرے کچھ سردار ہیں، میں ان کے مشورہ کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔ شاید میں اسلام لے آئوں اور ان کو بھی ساتھ لائوں حالانکہ اس کے آنے سے پہلے حضور ﷺ صحابہ کرام ؓ سے ارشاد فرما چکے تھے کہ تمہارے پاس قبیلہ ربیعہ کا ایک آدمی آئے گا جو شیطان کی زبان بولتا ہے۔ یہ بات کرکے شریح خدمت اقدس ﷺ سے چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ ہماری مجلس میں کافر چہرے کے ساتھ داخل ہوا اور دھوکہ دینے والے گدی کے ساتھ نکلا اور یہ آدمی بالکل مسلمان نہیں ہے۔ شریح کا گزر مدینہ کے جانوروں پر ہوا وہ ان کو ہانک کرلے گیا۔ صحابہ کرام ؓ نے اس کا پیچھا کیا لیکن وہ نہیں ملا۔ پھر اگلے سال شریح یمامہ کے قبیلہ بکربن وائل کے حاجیوں کے ساتھ حج کے لیے اس حالت میں گیا کہ اس کے پاس بہت زیادہ مال تجارت تھا اور ان سب لوگوں نے ہدی کے جانور کو قلادہ پہنایا ہوا تھا۔ مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کو عرض کیا یہ حطم حج کرنے آیا ہوا ہے۔ ہمیں اجازت دیجیے اس کا کام تمام کرنے کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس نے ہدی کے جانور کو قلادہ پہنایا ہوا ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یہ کام تو ہم جاہلیت بھی بھی کرتے تھے لیکن نبی کریم ﷺ نے اس کے قتل کی اجازت دینے سے انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” یا یھا الذین امنو الاتحلو اشعائر اللہ “ نازل فرمائی۔ شعائر اللہ کی تفسیر حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ شعائر اللہ سے مراد مناسک حج ہیں اور مشرکین حج کرتے تھے اور ساتھ ہدی کے جانور لاتے تھے تو مسلمانوں کا ارادہ ہوا کہ ان کا مال لوٹ لیں تو اللہ تعالیٰ نے اس بات سے اس آیت میں منع کیا۔ اور ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ شعائر اللہ سے مراد ہدی کے وہ جانور ہیں جن کو کوئی ایسی علامت لگائی گئی ہو جس سے ان کا ہدی ہونا معلوم ہوجائے اور وہ علامت یہ ہے کہ اونٹ کی کوہان کے جانب میں لوہے سے اتنا زخم لگایا جائے کہ خون بہہ پڑے اور یہ علامت لگانا ہدی کے اونٹ میں مسنون ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے نقل کی ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہدی کے اونٹوں کی رسی اپنے ہاتھ سے بٹی پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کو اس رسی کا قلادہ پہنایا اور زخم کی علامت لگائی اور ان کو ہدی بنایا اور آپ (علیہ السلام) پر وہ چیزیں حرام ہوگئیں جو آپ پر حلال تھیں (آپ (علیہ السلام) محرم ہوگئے) اور امام شافعی (رح) نے گائے (بھینس) کو اونٹ پر قیاس کیا ہے علامت لگانے کے مسئلہ میں اور بکری وغیرہ کو زخم کے ساتھ علامت نہیں لگائی جائے گی کیونکہ یہ اپنی کمزوری کی وجہ سے ایسا زخم نہیں برداشت کرسکتی اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ہدی کے جانور کو زخم کی علامت نہیں لگائی جائے گی اور عطیہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ” لاتحلوا شعائر اللہ “ کا مطلب یہ ہے کہ حالت احرام میں شکار نہ کرو کیونکہ آیت کا اگلا حصہ ” واذا حللتم فاصطادو “ اس پر دلیل ہے کہ سابقہ حکم بھی محرم کو ہے اور امام سدی (رح) فرماتے ہیں کہ شعائر سے مراد اللہ کا حرم ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس سے مراد حرم میں قتل کرنے سے منع کرنا ہے اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ شعائر اللہ سے مراد اللہ کی حرام کردہ چیزوں اور اس کی ناراضگی سے بچنا اور اطاعت کرنا ہے۔ (ولاالشھرالحرام) یعنی محترم مہینوں میں جنگ کرکے ان کو حلال نہ کرو اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد نسئی سے منع کرنا ہے کیونکہ وہ لوگ ان محترم مہینوں کو ایک سال حلال سمجھتے تھے اور ایک سال حرام۔ ( ولاالھدی) ہدی ہر اس جانور کو کہتے ہیں جس کو بیت اللہ کی طرف لے جایا جائے خواہ وہ اونٹ، گائے ہو یا بکری۔ (ولاالقلائد) یعنی وہ جانور جن کو قلادہ پہنایا جائے اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ آیت میں قلائد سے اصحاب القلائد مراد ہیں کیونکہ جاہلیت میں جب لوگ حرم سے نکلنے کا ارادہ کرتے تھے تو اپنے اور اپنے اونٹ کے گلے میں حرم کے درختوں کی چھال ڈال لیتے تھے تاکہ کوئی ان کو لوٹ نہ سکے تو شریعت نے ان چیزوں میں سے کسی ایک کو حلال سمجھنے سے منع کیا ہے اور مطرف بن الشخیر (رح) فرماتے ہیں۔ آیت میں القلائد سے خود قلائد ہی مراد ہیں کیونکہ مشرکین مکہ کے درختوں کی چھال اتار کر اس کو گلے میں ڈالتے تھے تو ان کو درختوں سے چھال اتارنے سے منع کیا گیا۔ (ولا آمین البیت الحرام) یعنی بیت حرام کا ارادہ کرکے سفر کرنے والوں سے کوئی تعرض نہ کرو (یبتغون) وہ تلاش کرتے ہیں۔ (فضلا من ربھم) یعنی تجارت کے ذریعے رزق کو تلاش کرتے ہیں (ورضوانا) یعنی اپنے گمان کے مطابق اس لیے کہ کافروں کا اللہ تعالیٰکی رضا مندی میں کوئی حصہ نہیں ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی دنیاوی معاش درست کردیں گے اور سزا جلد نہیں دیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فضل (رزق) کی تلاش مومنین و مشرکین سب کے لیے عام ہے اور رضوان کی تلاش صرف مومنین کے ساتھ خاص ہے۔ اس لیے کہ مسلمان اور مشرک سب حج کرتے تھے اور آیت کا یہ حصہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” اقتلوا المشرکین حیث و جدتموھم اور فلایقربوا المسجد الحرام بعد عاھم ھذا “ کی وجہ سے منسوخ ہے۔ پس اب نہ مشرک کا حج جائز ہے اور نہ ہدی اور قلادہ کی وجہ سے کوئی کافر پرامن ہوگا۔ (واذا حللتم) یعنی جب تم اپنے احرام سے حلال ہو ( فاصطادو) یہ امراباحت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے غیر محرم کے لیے شکار کو مباح کردیا۔ جیسا کہ دوسری آیت میں (فاذا قصیت الصلوٰۃ فانتشروافی الارض) میں امر اباحت کے لیے ہے۔ ( ولایجرمنکم) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے نہ ابھارے تم کو۔ محاورہ میں کہا جاتا ہے۔ ” جرمنی فلان علی ان صنعت کذا “ (فلاں نے مجھے اس کام کے کرنے پر ابھارا) اور فراء (رح) فرماتے ہیں ” لایجرمنکم ، لا یکسبنکم “ کے معنی میں ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ” لایجرمنکم، لایدعونکم “ کے منعی میں ہے ۔ (شنآن قوم) یعنی ان کا بغض اور ان کی عداوت اور ” شنان شئت “ کا مصدر ہے۔ ابن عامر اور ابوبکر نے شنان قوم کو پہلے نون کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے پہلے نون کے فتحہ کے ساتھ اور یہ دونوں لغتیں ٹھیک ہیں لیکن نون پر زبر پڑھنا بہت عمدہ ہے اس لیے کہ اکثر مصدر فعلان عین کلمہ کے فتحہ کے ساتھ ہیں جیسے ضربان، سیلان، نسلان وغیرہ۔ (ان صدوکم المسجد الحرام) ابن کثیر اور ابوعمرو نے ان کو الف کے کسروہ کے ساتھ پڑھا ہے نیا جملہ ہونے کی وجہ سے اور دیگر حضرات نے الف کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور آیت کا معنی یہ ہے کہ ” کسی قوم کی دشمنی تمہیں زیادتی پر نہ ابھارے اس لیے کہ انہوں نے تمہیں روکا ہے۔ “ اور محمد بن جریر (رح) فرماتے ہیں کہ یہ سورة واقعہ حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی تھی۔ اور مسلمانوں کو حج سے روکنے کا واقعہ پہلے ہوچکا تھا۔ (ان تعتدوا) ان کو قتل کرکے اور مال لے کر ان پر زیادتی کرو۔ (وتعارنوا) یعنی تم ایک دوسرے کی مدد کرو۔ (علی البروالتقویٰ ) بر سے مراد او امر کو بجالانا اور تقویٰ سے مراد نواہی سے اجتناب ہے اور بعض نے کہا براسلام ہے اور تقویٰ سنت ہے۔ (ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان) کہا گیا ہے کہ اثم سے مراد کفر اور عدوان سے ظلم مراد ہے اور بعض نے کہا الاثم سے مراد تمام معاصی اور عدوان سے مراد بدعت ہے۔ نواس بن سمعان انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے بر اور اثم کی مراد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا بر اچھے اخلاق ہیں اور اثم جو تیرے دل میں کھٹکے اور تو اس بات کو ناپسند کرے کہ لوگ اس پر مطع ہوں۔
Ayah 5:3

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:3 in the Quran reader

تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا ہوا) لہو اور سُؤر کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلاگھٹ کر مرجائے اور چوٹ لگ کر مرجائے اور جو گر کر مرجائے اور جو سینگ لگ کر مرجائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کر کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو۔ اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے۔ اور یہ بھی کہ پانسوں سے قسمت معلوم کرو۔ یہ سب گناہ (کے کام) رہیں۔ آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہوگئے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو۔ (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کردیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔ ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہوجائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو۔ تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت نمبر 3 تفسیر :(حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ) (یعنی وہ جانور جن کو ذبح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کا نام لیا گیا ہو۔ ) (والمنخنقۃ) یعنی ایسا جانور جس کا گلا گھونٹ کر مارا گیا ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اہل جاہلیت بکری کو گلا گھونٹ کر مارتے تھے اور کھاتے تھے (اور لکڑی سے مارا ہوا جانور) یعنی ایسا جانور جس کو لکڑی سے قتل کیا گیا ہو۔ حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں لوگ جانور کو لاٹھی سے مارتے تھے جب وہ مرجاتا تو اس کو کھالیتے تھے۔ (والمتردیۃ) (اونچی جگہ سے گرنے والا جانور) یعنی وہ جانور جو بلند جگہ سے لڑھک گیا ہو یا کنویں میں گر کر مرگیا ہو ( والنطیحۃ) (سینگ سے ہلاک ہونے والا) وہ ایسا جانور ہے جس کو دوسرا جانور سینگ مار کر ہلاک کردے اور تانیث کی ھاء فعیل کے وزن پر اس وقت داخل ہوتی ہے جب وہ فاعل کے معنی میں ہو اور جب فعیل مفعول کے معنی میں ہو تو اس میں مذکر اور مونث برابر ہیں جیسے ” عین کحیل “ یمنی سرمگیں آنکھ اور ” کف خضیب “ مہندی والی ہتھیلی۔ پھر جب اسم کو حذف کرکے تنہا صفت کو لایا جائے تو ھاء داخل کردیتے ہیں جیسے اہل عرب کہتے ہیں ” راینا کحیلۃ و خضیبۃ “ ہم نے سرمگیں آنکھ اور مہندی والی ہتھیلی دیکھی اور آیت میں ” النطیحۃ “ پر ھاء داخل کی گئی ہے کیونکہ اس کا اسم پہلے مذکور نہیں ہے اگر ھاء کو نہ لایا جاتا تو یہ معلوم نہ ہوتا کہ مونث کی صفت ہے یا مذکر کی اور اسی کی مثل ” الذبیحۃ “ اور ” النسیکۃ “ اور ” اکیلۃ السبع “ کے الفاظ ہیں۔ (وما اکل السبع) (اور جو جانور کھالے) اس سے مراد وہ جانور ہے جو درندے کے کھانے کے بعد بچ جائے۔ اہل جاہلیت اس کو کھالیتے تھے۔ (الا ماذکیتم) (مگر جس کو تم ذبح کردو) یعنی مذکورہ تمام جانوروں میں سے کسی کے مرنے سے پہلے اگر تم اس کو ذبح کردو تو وہ حلال ہے اور تذکیہ کا اصل معنی کسی شے کو مکمل کرنا ہے، ” ذکیت النار “ اس وقت بولا جاتا ہے جب آپ اسی ک شعلے مکمل بھڑکالیں اور یہاں مراد ” ذکیتم “ سے یہ ہے کہ تمام رگوں کو کاٹ کر خون بہا دیاجائے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو چیز خون بہادے اور اللہ تعالیٰ کا نام اس پر کیا جائے تو اس کو کھالو سوائے دانت اور ناخن سے ذبح کیے ہوئے جانور کو جس جانور کے ذبح پر قدرت ہو اس میں ذبح کی کم از کم مقدار یہ ہے کہ سانس اور کھانے والی نالی کاٹ دی جائے اور مکمل ذبح یہ ہے کہ ان دو کے ساتھ خون کی دو رگیں بھی کاٹ دی جائیں اور ہر دھار والے آلہ سے ذبح کرنا جائز ہے خواہ وہ لوہے کا ہو یا نرکل کا یا شیشے کا لیکن ناخن اور دانت سے ذبح جائز نہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ان سے ذبح کرنے سے منع کیا ہے اور درندے کے حملے سے زخمی جانور کا کھانا اس وقت حلال ہے جب تو اس کو زندگی کی حالت میں پائے اور اس کو ذبح کرے اور جو جانور درندے کے حملے سے مرنے کے قریب ہوگیا ہو اس کو ذبح کرکے کھانا حلال نہیں کیونکہ یہ مردار کے حکم میں ہے اس کو اگرچہ ذبح کردیا جائے یہ حلال نہ ہوگا۔ جیسا کہ مردار کا حکم ہے اور یہی حکم اونچی جگہ سے گرنے والے اور سینگ سے زخمی جانور کا ہے کہ اگر تم اس کو زخم سے اس حالت میں پائو کہ اس کی زندگی کی امید ہے تو ذبح کرکے کھانا جائز ہے اور اگر وہ جاں بلب چکا ہے تو کھانا حلال نہیں ہے اور اگر فضا میں کسی پرندہ کو تیر مارا اور وہ پرندہ تیر لگنے کے بعد زمین پر گر کر مرگیا تو اس کا کھانا حلال ہے۔ اس لیے کہ زمین پر گرنا ناگزیر تھا اور اگر تیر لگنے کے بعد درخت یا پہاڑ پر گرا اور اس سے لڑھک کر زمین پر گر کر مرگیا تو یہ متردیہ کے حکم میں ہے اور حلال نہیں ہے۔ ہاں اگر تیر پرندہ کے ذبح کی رگوں کو لگے اور ان کو کاٹ دے تو وہ جس جگہ اور جس کیفیت سے گرے اس کا کھانا حلال ہے۔ (وما ذبح علی النصب) (اور جو جانور نصب کے نام پر ذبح کیا جائے) بعض حضرات نے کہا ہے کہ نصب جمع ہے اس کا مفرد نصاب ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ مفرد ہے اور اس کی جمع انصاب ہے جیسے عنق اور اعناق کا لفظ ہے اور نصب منصوب شے کو کہتے ہیں۔ نصب کی تفسیر میں آئمہ مفسرین کے اقوال اس کی مراد میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ حضرت مجاہد و قتادہ رحمہماا اللہ فرماتے ہیں کہ بیت اللہ کے اردگرد تین سو ساٹھ پتھر گاڑھے ہوئے تھے ۔ اہل جاہلیت ان کی عبادت و تعظیم کرتے تھے اور ان کے لیے جانور ذبح کرتے تھے اور یہ پتھر بت نہیں تھے کیونکہ بت تو منقش تصویریں ہوتے ہیں۔ اور دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ ” نصب “ سے مراد وہ بت ہیں جو وہاں رکھے ہوئے تھے اور آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ جانور نہ کھائو جو بتوں کے نام پر ذبح کیے گئے ہیں۔ ابن زید (رح) کہتے ہیں کہ جو جانور بتوں کے نام پر ذبح کیا جائے اور جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے یہ دونوں ایک ہیں۔ قطرب کہتے ہیں کہ ” علی النصب “ میں علی لام کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو جانور بتوں کی وجہ سے ذبح کیا جائے۔ ازلام کی تفسیر (وان تستفسموابالازلام) ( اور یہ حرام ہے کہ تم تیروں کے ساتھ تقسیم کرو) یعنی تم پر تیروں کے ساتھ تقسیم کو حرام کیا ہے اور استقسام کا معنی ہے تقسیم کو طلب کرنا اور ازلام اس تیر کو کہتے ہیں جس کے پر اور بھالانہ ہو اس کا واحد زلم اور زلم زا کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ آتا ہے۔ ان کے ازلام سات برابر سائز کے تیر ایک تھیلے میں ہوتے تے یہ تھیلا کعبہ کے خادم کے پاس ہوتا تھا۔ ایک پر (ہاں) لکھا ہوتا تھا اور ایک پر (نہیں) اور ایک پر (تم میں سے) اور ایک پر (تمہارے علاوہ سے) اور ایک پر (ملا ہوا) اور ایک پر (دیت) اور ایک خالی ہوتا۔ اس پر کوئی چیز نہیں لکھی ہوتی تھی۔ پھر جب ان لوگوں کا ارادہ ہوتا کسی سفر یا نکاح یا ختنہ وغیرہ کی تقریب کا یا کسی کے نسب میں دیت ادا کرنے میں اختلاف ہوتا تو وہ مکہ میں قریش کے بڑے بت ھبل کے پاس آتے تھے اور اپنے ساتھ سو درہم لاتے تھے وہ درہم اس تیروں والے کو دے دیتے تھے اور وہ تیروں کو گھماتا تھا اور وہ لوگ دعا مانگتے تھے ، اے ہمارے معبود ! ہمارا اس کام کا ارادہ ہے اگر ” ہاں “ والا تیر نکلتا تو اس کام کو کرتے اور اگر ” نہیں “ والا نکلات تو ایک سال تک اس کام کو نہ کرتے اور سال بعد پھر تیر والے کے پاس آتے اور اگر کسی کے نسب میں جھگڑا ہوتا اور ” تم میں سے “ والا تیر نکلتا تو وہ بچہ ان کے درمیان ہوتا اور اگر ” تمہارے غیر سے “ والا تیر نکلتا تو وہ بچہ ان کا حلیف ہوتا اور اگر (ملا ہوا) والا تیر نکلتا تو اس بچہ کا نہ نسب ہوتا اور نہ کوئی حلیف اور جب کسی دیت کی ادائیگی میں اختلاف ہوتا تو جس کے حق میں (دیت) والا تیر نکلتا تو وہ اس دیت کے ادا کرنے کا پابند ہوتا اور اگر خالی نکل آتا تو دوبارہ گھماتے رہتے۔ جب تک کسی لکھائی والا تیر نہ نکل آتا تو اللہ تعالیٰ نے اس کام سے منع کیا اور اس کو حرام کیا اور فرمایا کہ یہ گناہ ہے۔ سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ ازلام سفید کنکریاں تھیں جن کو وہ لوگ پھینکتے تھے۔ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ازلام فارس اور روم کے نرد کے مہرے تھے جن سے وہ جوا کھیلتے تھے اور اما شعبی (رح) اور دیگر فرماتے ہیں تیر عرب کے لیے ہیں اور نرد کے مہرے عجم کے لیے اور سفیان بن وکیع (رح) فرماتے ہیں کہ ازلام شطرنج ہے۔ اور مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا پرندوں کے نام ، آواز اور راستہ کاٹن ی سے فال نکالنا اور کسی شے سے بدفال نکالنا اور منحوس سمجھنا اور کنکر پھینکنا یہ اس جبت میں سے ہے جس سے قرآن میں اجتناب کا حکم ہے۔ (ابودائود) حضرت ابوالدرداء ؓ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کہانت کی یا تیروں کی تقسیم طلب کی یا ایسی بدفالی کی جس کی وجہ سے سفر سے رک گیا تو وہ قیامت کے دن بلند درجیات کی طرف نہیں دیکھ سکے گا۔ (الیوم یئس الذین کفروا من دینکم) (آج کے دن کافر لوگ تمہارے دین سے نامید ہوچکے ہیں) یعنی اس بات سے ناامید ہوگئے ہیں کہ تم کافر ہوکر ان کے دین کی طرف لوٹ جائو حالانکہ کافر لوگ اس سے پہلے یہ امید رکھتے تھے کہ مسلمان ان کے دین کی طرف لوٹ جائیں گے۔ پس جب اسلام مضبوط ہوگیا تو وہ ناامید ہوگئے اور ” یئس “ اور ” ایس “ کا ایک ہی معنی ہے۔ (فلا تخشوھم واخشون الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا) (تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا ہے اور تم پر اپنی نعمت مکمل کردی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کیا ہے) یہ بروز جمعہ عرفہ کے دن عصر کے بعد حجۃ الوداع میں نازل ہوئی۔ اس وقت آپ (علیہ السلام) میدان عرفات میں اپنی اونٹنی عضبا پر سوار تھے اس وحی کے بوجھ سے اس اونٹنی کی پنڈلیاں ٹوٹنے کے قریب ہوگئیں تو وہ بوجھ کی تاب نہ لاکر بیٹھ گئی۔ طارق بن شہاب حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ یہود کے ایک آدمی نے ان کو عرض کیا اے امیر المومنین ! کہ تمہاری کتاب میں ایک ایسی آیت ہے جس کو تم لوگ پڑھتے ہو اگر وہ ہم یہود پر نازل ہوتی تو ہم لوگ اسی دن کو عید کا دن بنالیتے۔ آپ ؓ نے پوچھا کون سی آیت ؟ اس نے کہا ” الیوم اکملت الخ “ حضرت عمر ؓ نے ارشاد فرمایا ہم اس دن اور اس جگہ کو اچھی طرح جانتے ہیں جس میں یہ آیت حضور ﷺ پر نازل ہوئی۔ آپ (علیہ السلام) جمعہ کے دن میدان عرفات میں کھڑے تھے۔ حضرت عمر ؓ نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ دن ہمارے لیے پہلے سے عید کا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس دن میں پانچ عیدیں تھیں۔ 1 ۔ جمعہ، 2 ۔ عرفہ، 3 ۔ یہود کی عید ، 4 ۔ نصاریٰ کی عید، 5 ۔ مجوس کی عید۔ اس دن سے پہلے تمام ادیان والے ایک دن میں عید کے اعتبار سے جمع نہیں ہوئے اور نہ اس کے بعد ایسا ہوگا کہ ایک ہی دن میں تمام اہل ملل کی عید ہو۔ ہارون بن عترہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر ؓ روپڑے تو آپ ؓ کو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کس چیز نے آپ کو رلایا ہے تو آپ ؓ نے عرض کیا مجھے اس بات نے رلایا ہے کہ ہم اپنے دین میں زیادتی میں تھے جب دین مکمل ہوگیا تو ہر مکمل شے میں پھر کمی آتی ہے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا آپ ؓ نے سچ کہا۔ یہ آیت آپ ﷺ کی وفات کی خبر تھی۔ آپ (علیہ السلام) اس آیت کے نزول کے بعد اکیاسی دن زندہ رہے اور آپ (علیہ السلام) کی وفات پیر کے دن 11 ہجری 3 ربیع الاول کو ہوئی اور بعض نے کہا ہے کہ 12 ربیع الاول کو آپ (علیہ السلام) کی وفات ہوئی اور بارہ ربیع الاول ہی کو آپ (علیہ السلام) نے ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” الیوم اکملت لکم… الخ “ کی تفسیر یہ ہے کہ اس آیت کے نزول کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کردیا یعنی فرائض، سنن ، حدود، جہاد، احکام ، حلال و حرام وغیرہ۔ اس آیت کے نزول کے بعد نہ کوئی حلال و حرام کا حکم نازل ہوا اور نہ فرائض و سنن اور حدود و احکام کا۔ ابن عباس ؓ کے قول کا بھی یہی معنی ہے کہ مطلب آیت کا یہ ہے کہ ” میں نے تمہارے لیے تمہارا دن مکمل کردیا، پس تمہارے ساتھ کوئی مشرک حج نہ کرے “ اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ ” میں نے تمہارا دین غالب و ظاہر کردیا اور تم کو دشمنوں سے بےخوف کردیا “ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان ” واتممت علیکم نعمتی “ کا معنی یہ ہے کہ میں نے تم سے دوسری جگہ وعدہ کیا تھا کہ ” ولائم نعمتی علیکم “ تاکہ تم پر اپنی نعمت مکمل کروں تو میں نے اپنا وہ وعدہ پورا کردیا اپنی نعمت کو مکمل کرکے اور اس مکمل نعمت کی ایک علامت یہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ مکہ میں امن کی حالت میں غلبہ کے ساتھ داخل ہوئے اور اتنے اطمینان سے حج کیا کہ کوئی مشرک ان کے ساتھ کہیں بھی نہیں تھا۔ (ورضیت لکم الاسلام دینا) (اور میں نے تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کیا) جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جبرئیل (علیہ السلام) فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ دین میں نے اپنے لیے پسند کیا ہے اور اس کو صرف سخاوت اور اچھے اخلاق سے ہی درست کیا جاسکتا ہے تو تم اس دین کا ان دو صفتوں کے ساتھ اکرام کرو جب تک تمہارے پاس یہ دین ہے۔ (فمن اضطرفی مخمصۃ) (پس جو شخص بھوک کی حالت میں مجبور ہوجائے) یعنی جو شخص بھوک کی وجہ سے سخت مشقت میں ہو۔” مخمصۃ “ کا معنی ہے پیٹ کا غذا سے خالی ہونا۔ ” رجل خمیص البطن “ اس وقت کہا جاتا ہ کے کہ جب کوئی بہت زیادہ بھوکا ہو ( غیر متجانف لالم) ( گناہ کی طرف مائل ہونے والے نہ ہو) یعنی گناہ کی طرف مائل ہونے والے نہ ہو اور وہ میلان یہ ہے کہ پیٹ بھرنے کی مقدار سے بھی زائد کھالیں اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اپنے ارادہ میں گناہ کا قصد کرنے والے نہ ہو ( فان اللہ غفور رحیم ) ( پس بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والے نہایت رحم کرنے والے ہیں ) اور اس عبارت میں اضمار ہے یعنی پس اس نے مردار وغیرہ کو کھالیا۔ ایسی حالت میں تو اللہ تعالیٰ بخشنے والے نہایت رحم کرنے والے ہیں۔ ابوداقدلیثی (رح) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم ایسے علاقوں میں ہوتے ہیں کہ ہمیں مخمصہ کی حالت آجاتی ہے تو ہمارے لیے مردار کب حلال ہوگا ؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم صبح کو کچھ نہ پی سکو نہ پچھلے دن میں کچھ بھی پی سکو نہ زمین سے کچھ سبزی اکھاڑ کر کھا سکو، اس وقت تم جانور اور مردار کو کھا سکتے ہو۔
Ayah 5:4

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١٘ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 5:4 in the Quran reader

تم سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لئے حلال ہیں (ان سے) کہہ دو کہ سب پاکیزہ چیزیں تم کو حلال ہیں۔ اور وہ (شکار) بھی حلال ہے جو تمہارے لئے ان شکاری جانوروں نے پکڑا ہو جن کو تم نے سدھا رکھا ہو۔ اور جس (طریق) سے خدا نے تمہیں (شکار کرنا) سکھایا ہے۔ (اس طریق سے) تم نے انکو سکھایا ہو تو جو شکار وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں اس کو کھالیا کرو اور (شکاری جانوروں کے چھوڑنے وقت) خدا کا نام لیا کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بیشک خدا جلد حساب لینے والا ہے۔

آیت نمبر 4 تفسیر : ” یسئلونک ماذا احل لھم “ (وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا چیز ان کے لیے حلال کی گئی) آیت مبارکہ کا شان نزول سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت عدی بن حاتم ؓ اور زید بن المھلھل ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ زید وہ صحابی ہیں جن کا نام زید الخیل تھا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کا نام زید الخیر رکھ دیا۔ ان دو حضرات نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم ایسی قوم ہیں جو کتوں اور بازوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں تو ہمارے لیے ان کے شکار سے کیا حلال ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی اور بعض نے کہا ہے کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب کتوں کے مارنے کا حکم دیا تو صحابہ ؓ نے عرضا کیا یا رسول اللہ ! اس مخلوق میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے ؟ جس کے قتل کا آپ (علیہ السلام) نے حکم دیا ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کتوں کے پالنے کی اجازت دے دی جن سے شکار ، چوکیداری وغیرہ کا نفع حاصل کیا جاسکے اور جن کتوں میں کوئی نفع نہ ہو ان کے پالنے سے منع کردیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کھیتی، شکار، ریوڑ کے علاوہ کے لیے کتا پالا تو اس کے اجر سے ہر روز ایک قیراط کم ہوجائے گا اور پہلا واقعہ حضرت عدی و زید ؓ کا آیت کا سبب نزول ہونے میں زیادہ صحیح ہے۔ ” قل احل لکم اطیبات “ (آپ فرما دیجئے تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں) یعنی وہ جانور حلال کیے گئے ہیں جو اللہ کے نام پر ذبح کیے گئے ہوں اور کہا گیا ہے کہ ” الطیبات “ سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کو عرب پاکیزدہ اور لذیذ سمجھتے ہوں اور اس کی حرمت پر قرآن و سنت کی کوئی صراحت نہ ہو۔ ” وما غلمتم من الجوارح “ (اور جن زخمی کرنے والے جانوروں کو تم تعلیم دو ) یعنی تمہارے لیے ان جانوروں کا شکار بھی حلال کیا گیا ہے جن کو تم نے تعلیم دی ہو۔ وما علمتم من الجوارح کی مختلف تفاسیر ان جوارح کی مراد میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ ضحاک اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جوارح سے مراد صرف کتے ہیں کتوں کے علاوہ کسی درندے کا شکار حلال نہیں ہے۔ جب تک آپ خود اس کو ذبح نہ کرو لیکن اس قول پر کسی کا عمل نہیں ہے بلکہ اکثر اہل علم کی رائے یہ ہے کہ جوارح سے مراد درندوں میں سے کام کرنے والے ہیں جیسے چیتا، تیندوا، کتا اور پرندوں میں سے باز، عقاب، شکرا اور ہر ایسا درندہ جو تعلیم کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ تو ان تمام جانوروں کا شکار کیا ہوا جانور حلال ہے۔ ان جانوروں کو جوارح زخمی کرنے والا اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ اپنے شکار کو زخمی کرکے روزی حاصل کرتے ہیں ( مکلبین) (شکار پر دوڑانے کو) مکلب اس شخص کو کہتے ہیں جو کتوں کو شکار پر چھوڑتا ہے اور ان کتوں کو تعلیم دینے والے کو بھی مکلب کہتے ہیں۔ مکلب اور کلاب سے مراد کتوں والا اور کتوں سے شکار کرنے والے کو کلاب بھی کہتے ہیں اور مکلبین منصوب ہے حلال ہونے کی وجہ سے یعنی ان شکاری جانوروں کو شکار پر چھوڑنے کی حالت میں اور کتوں کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ ان سے شکار کا عام معمول ہے ورنہ مراد تمام شکاری جانور ہیں۔ (تعلمونھن) ( ان کو تم سکھاتے ہو) ان کو شکار پکڑنے کے آداب سکھاتے ہو ( مما علمکم اللہ ) (اس میں سے جو تم کو اللہ نے سکھایا) یعنی اس علم سے سکھاتے ہو جو تم کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ امام سدی (رح) فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ جس طرح تم کو اللہ نے سکھایا اس طرح تعلیم دیتے ہو۔ آیت میں ” من کاف “ کے معنی میں ہے۔ فکلوا مما المسکن علیکم واذکرو اسم اللہ علیہ (سو کھائو اس میں سے جو پکڑ رکھیں تمہارے واسطے اور اللہ کا نام لو اس پر) کلب معلم کے شکار کی شرائط آیت میں اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ تعلیم یافتہ شکاری جانور کو جب اس کا مالک کسی شکار پر چھوڑے اور وہ شکار کو پکڑ کر قتل کردے تو وہ حلال ہے اور شکاری جانور کی تعلیم یہ ہے کہ اس میں تین باتیں پائی جائیں۔ 1 ۔ جب شکار پر اکسایا و ابھارا جائے تو بھڑک جائے ۔ 2 ۔ اور جب روکا جائے تو فوراً رک جائے۔ 3 ۔ اور جب شکار کو پکڑے تو اس سے کچھ بھی نہ کھائے اور جب یہ تین باتیں کئی دفعہ تجربہ میں آجائیں کم از کم تین دفعہ امتحان لیا جائے تو یہ شکاری جانور تعلیم یافتہ ہے۔ اب اس کا مارا ہوا جانور حلال ہے بشرطیکہ شکار پر اس کے مالک نے اس کو چھوڑا ہو۔ عدی بن حاتم ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تو اپنے تعلیم یافتہ کتے کو چھوڑے اور اللہ کا نام لے اور وہ کتا کسی شکار کو پکڑ کر قتل کردے تو اس کو کھالے اور اگر وہ کتا اس شکار کو کھالے تو اس کو نہ کھا کیونکہ اس نے یہ شکار اپنے لیے پکڑا ہے اور جب کئی کتے مل کر شکار کریں اور ان میں سے بعض کو چھوڑتے وقت تسمیہ نہ پڑھی گئی ہو اور وہ کسی شکار کو پکڑ کر قتل کردیں تو اس کو نہ کھا کیونکہ تو نہیں جانتا کہ کس کتے نے اس کو مارا ہے اور جب تو شکار کو تیر مارے اور وہ شکار ایک یا دو دن بعد ملے اور اسی پر تیر کے نشان کے علاوہ کوئی دوسرا زخم نہ ہو تو اس کو کھالے اور اگر پرندہ پانی میں گرجائے تو اس کو نہ کھا۔ شکاری جانور شکار سے کچھ کھالے تو اس کا حکم فقہاء کا اس صورت میں اختلاف ہے کہ جب شکاری جانور شکار میں سے کچھ کھالے تو کیا حکم ہے ؟ اکثر اہل علم کے نزدیک ایسا شکار حرام ہے۔ یہی بات حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور عطاء طائوس اور شعبی رحمہما اللہ کا بھی یہی قول ہے اور اسی کے مطابق ثوری، ابن مبارک اور اصحاب الرائے نے قول کیا ہے اور اما شافعی (رح) کا صحیح ترین قول ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” اگر شکاری جانور شکار میں سے کھالے تو تو نہ کھا کیونکہ اس نے شکار کو اپنے لیے روکا ہے۔ “ اور بعض حضرات نے اس کے کھانے کی اجازت دی ہے۔ یہی بات ابن عمر، سلمان فارسی اور سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے اور امام مالک (رح) نے بھی یہی کہا ہے۔ اس حدیث کی وجہ سے جو ابوثعلبۃ الخشنی ؓ نے نقل کی ہے کہ ” آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تو اپنے کتے کو چھوڑے اور اللہ کا نام ذکر کرے تو اس کو کھالے اگرچہ کتے نے اس سے کھالیا ہو۔ “ بہرحال غیر تعلیم یافتہ شکاری جانور جب کسی کو پکڑے یا تعلیم یافتہ شکاری جانور جب مالک کے چھوڑے بغیر کسی شکار کو پکڑ کر مار دے تو یہ شکار حلال نہیں ہے لیکن اگر ان کے پکڑنے کے بعد آدمی خود اس کو زندہ حالت میں پائے اور ذبح کردے تو حلال ہوجائے گا۔ ابو ثعلبۃ الخشنی ؓ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! (ﷺ) ہم اہل کتاب کی زمین میں ہیں کیا ہم ان کے برتنوں میں کھانا کھالیں ؟ اور ہم شکار والی زمین میں ہیں، میں اپنی کمان اور اپنے غیر تعلیم یافتہ کتے سے شکار کروں یا تعلیم یافتہ کتے سے تو کون سا میرے لیے صحیح ہے ؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو سوال آپ نے اہل کتاب کے برتنوں کے بارے میں کیا تو اگر تم اس کے علاوہ برتن پائو تو ان کے برتنوں میں نہ کھائو اور اگر کوئی اور برتن نہ ہوں تو ان کے برتن دھو کر ان میں کھالو اور جو شکار اپنی کمان سے کرے اور اللہ کا نام ذکر کرے تو اس کو کھالے اور جو تو شکار کرے اپنے غیر تعلیم یافتہ کتے سے اور تجھے اس کے ذبح کرنے کا موقع مل جائے تو اس کو بھی کھالے ۔ (واتقوا اللہ ان اللہ سریع الحساب) (اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والے ہیں) اس آیت میں یہ بیان ہے کہ جانور پر ذبح کے وقت اللہ کا نام ذکر کرنا ذبح کیے جانے والے جانور کے حلال ہونے کی شرط ہے اور شکار میں شرط یہ ہے کہ تیر مارنے کے وقت یا شکاری جانور کو چھوڑنے کے وقت اللہ کا نام لے۔ حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے دو مینڈھے سینگ والے قربان کیے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور اللہ کا نام لیا اور تکبیر پڑھی۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنا قدم مبارک ان کے پہلو پر رکھا ہوا تھا اور اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے ہوئے بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ رہے تھے۔
Ayah 5:5

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 5:5 in the Quran reader

آج تمہارے لئے سب پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئیں۔ اور اہل کتاب کا کھانا بھی تم کو حلال ہے اور تمہارا کھانا انکو حلال ہے اور پاک دامن مومن عورتیں اور پاک دامن اہل کتاب عورتیں بھی (حلال ہیں) جب کہ ان کا مہر دیدو اور ان کے عفت قائم رکھنی مقصود ہو کھلی بدکاری کرنی اور نہ چھپی دوستی کرنی۔ اور جو شخص ایمان سے منکر ہوا اس کے عمل ضائع ہوگئے اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔

آیت نمبر 5 تفسیر :(الیوم احل لکم الطیبات) (آج حلال ہوئیں تمہارے لیے سب پاکیزہ چیزیں) یعنی وہ جانور جو اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کیے جائیں ( وطعام الذین اوتوا الکتاب حل لکم) ( اور اہل کتاب کا کھانا تم کو حلال ہے) اس سے مراد یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کے ذبح کردہ جانور حلال ہیں اسی طرح حضور ﷺ کی بعثت کے بعد یہودی یا نصرانی ہوا اس کا ذبیحہ حلال نہیں ہے اور اگر یہودی یا نصرانی نے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جیسے کوئی نصرانی مسیح کے نام پر ذبح کرے تو اس میں اختلاف ہے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ جانور حلال نہیں اور یہی قول ربیعۃ کا ہے اور اکثر اہل علم اس جانب گئے ہیں کہ یہ جانور حلال ہے اور یہی شعبی ، عطا ، زہری اور مکحول رحمہما اللہ کا قول ہے۔ امام شعبی اور عطاء رحمہما اللہ سے سوال کیا گیا کہ نصرانی مسیح (علیہ السلام) کے نام پر ذبح کرے تو کیا حکم ہے ؟ ان دونوں نے فرمایا حلال ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذبیحہ کو حلال کہا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ ان باتوں کو خوب جانتے ہیں اور حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں کہ جب یہودی یا نصرانی ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لے اور تو سن لے تو اس کو نہ کھا اور اگر تیری غیر موجودگی میں ذبح کرے تو کھالے کیونکہ یہ تیرے لیے حلال ہے۔ (وطعامکم حل لھم) (اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے) اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے کھانے کو ان کے لیے کیسے حلال کردیا حالانکہ وہ تو کفار ہیں کسی شریعت کے مکلف نہیں ؟ تو زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تمہارے لیے حلال ہے کہ ان کو کھانا کھلا دو تو حلال ہونے کا خطاب مسلمانوں کو ہے اور بعض نے جواب دیا کہ اس کے بعد عورتوں کا حکم بیان کیا ہے اور مسلمان عورتوں کا ان کے لیے حلال ہونا ذکر نہیں کیا تو گویا کہ آیت کے اس حصہ میں کہا کہ ان کو کھانا کھلانا تو حلال ہے لیکن ان کو مسلمان عورت نکاح میں دینا حرام ہے۔ (والمحصنات من المومنات والمحصنات من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم ) (اور حلال ہیں تمہارے لیے مسلمان پاک دامن عورتیں اور حلال ہیں ان لوگوں کی پاک دامن عورتیں جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی) یہ حکم پہلے حکم کی طرف لوٹ رہا ہے یعنی تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں۔ یہ حصہ ” طعامکم حل لھم “ سے منقطع ہے۔ محصنات کے معنی میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ اکثر علمائ کی رائے یہ ہے کہ اس سے مراد آزاد عورتیں ہیں۔ انہوں نے ہر آزاد عورت کا نکاح جائز قرار دیا ہے خواہ وہ مومنہ ہو یا کتابیہ پاکدامن ہو یا فاجرہ اور یہی مجاہد (رح) کا قول ہے۔ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ مسلمان کے لیے اہل کتاب لونڈی سے نکاح جائز نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ’ د فمن ماملکت ایمانکم من فتیاتکم المومنات “ میں لونڈی کے نکاح کو اس شرط کے ساتھ جائز قرار دیا ہے کہ وہ لونڈی مومنہ ہو اور اکثر اہل علم نے حربی کتابی لونڈی کے نکاح کو جائز قرار دیا ہے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ نکاح جائز نہیں اور دلیل میں آیت ’ د قاتلوا الذین لا یومنون باللہ… الی قولہ… حتی یعطوا ا لجزیۃ عن یدھوھم صاغرون “ پڑھتے ہیں کہ جس نے جزیہ دے دیا اس کی عورتیں ہمارے لیے حلال ہیں اور جس نے جزیہ نہ دیا تو ہمارے لیے ان کی عورتیں حلال نہ ہوں گی۔ اور علماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ آیت میں محصنات سے مراد مومن اور اہل کتاب میں سے پاک دامن عورتیں ہیں خواہ آزاد ہوں یا لونڈیاں، ان حضرات نے کتابی لونڈی کے نکاح کو جائز قرار دیا ہے اور مومن و کتابی عورتوں میں سے بدکار عورتوں کے نکاح کو حرام کہا ہے اور یہی حضرت حسن (رح) کا قول ہے۔ اور امام شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ کتابی عورت کا احسان یہ ہے کہ زنا سے پاک دامن ہو اور جنابت سے غسل کرے۔ (اذا اتیتموھن اجورھن محصنین غیر مسافحین ) (جب تم ان کو ان کا مہر دے دو قید میں لانے کے لیے نہ کہ مستی نکالنے کے لیے ) یعنی اعلانیہ زنا کرنے والے نہ ہو ( ولا متخذی اخدان) ( اور نہ چھپی آشنائی کرنے کو) یعنی پوشیدہ زنا کرنے والے نہ ہو۔ اما زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے شہوت رانی کے لیے اور صرف دوستی لگانے کے لیے جماع کو حرام کیا ہے اور جماع احسان یعنی نکاح کے طریقے پر حلال کیا ہے ( ومن یکفر بالایمان فقد حبط عملہ وھو فی الاخرۃ الخاسرین) ( اور جو منکر ہو اور ایمان سے تو اس کے عمل ضائع ہوئے اور آخرت میں وہ خسارے والوں میں ہے) مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا احسان ان عورتوں کے بارے میں یہ نہیں ہے کہ ان کو کفر سے نکال دے یا ان کافر عورتوں سے ان کو مستغنی کردے بلکہ یہ سب کے لیے عام ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) اللہ تعالیٰ کے فرمان ؟ ؟ ومن یکفر بالایمان “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جو اللہ کا انکار کرے جس پر ایمان لانا واجب ہے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ایمان سے مراد کلمہ توحید ہے یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ایمان سے مراد وہ تمام قرآن ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہو اور بعض حضرات نے کہا کہ ایمان کے انکار سے مراد یہ ہے کہ حرام کو حلال سمجھے اور حلال کو حرام قرار دے تو اس کا عمل ضائع ہوگیا اور وہ آخرت میں خسارے والوں میں ہوگا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ثواب کا خسارہ ہوگا۔