Ayah 6:1سورة الانعام
آیت نمبر 1
تفسیر :(الحمد للہ الذی خلق السموت والارض) کعب احبار (رح) فرماتے ہیں کہ یہ توریت کی پہلی آیت ہے اور توریت کی آخری آیت (وقل الحمدللہ الذی لم یتخذو لدا اور آپ کہہ دیجئے تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اولاد نہیں بنائی) ہے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ابتداء حمد سے کی اور فرمایا ” الحمدللہ الذی خلق السموت والارض “ اور اس کو ختم بھی حمد کے ساتھ کیا اور کہا ” وقضی بعھم بالحق مخلوقات کے درمیان وقیل الحمد للہ رب العلمین “ (بعض نے کہا اس کا مطلب ہے سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں) اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف خود کی بندوں کو سکھانے کے لیے کہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرو جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا۔ صرف آسمان و زمین کو ذکر کیا اس لیے کہ یہ مخلوقات میں سب سے بڑے ہیں بندوں کی نگاہ میں اور ان دونوں میں کئی عبرتیں اور منافع ہیں بندوں کے لیے (وجعل الظلمت والنور) یہاں جعل خلق کے معنی میں ہے۔ واقدی (رح) کہتے ہیں کہ قرآن مجید جہاں بھی ظلمات اور نور مذکور ہیں وہ کفر اور ایمان ہیں۔ سوائے اس آیت کے کیونکہ اس میں رات اور دن مراد ہیں اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ بنایا اندھیرا اور اجالا یعنی کفر اور ایمان اور کہا گیا ہے کہ ظلمات سے جہالت اور نور سے علم مراد ہے اور قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ یعنی جنت اور جہنم کو بنایا۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو زمین سے پہلے اور تاریکی کو اجالے سے پہلے اور جنت کو جہنم سے پہلے پیدا کیا۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنے نور میں سے کچھ ڈال دیا تو جس کو وہ نور پہنچا وہ ہدایت پا گیا اور جس سے چوک گیا وہ گمراہ ہوگیا۔ ( ثم الذین کفروا بربھم یعدلون)
یعنی اس کے بیان کے بعد بھی یہ کافر لوگ اپنے رب کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ عدل کا اصل معنی شے کے برابر کسی دوسری شے کو بنانا۔ یعنی اللہ کے برابر غیر اللہ کو بناتے ہیں اور بعض نے کہا نصر بن شمیل نے کہا کہ باء عن کے معنی میں ہے یعنی اپنے رب سے اعراض کرتے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ اس آیت کے تحت بڑا لطیف معنی ہے جیسے کوئی کسی کو کہے کہ میں نے تم پر اتنے احسانات کیے پھر تم نے میرے احسانات کی ناشکری کی۔
Ayahs 6:2–3آیت نمبر 3, 2
تفسیر : (ھوالذی خلقکم من طین) یعنی آدم (علیہ السلام) کو۔ تمام لوگوں کو یہ خطاب اس وجہ سے کیا کہ وہ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔
آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کیلئے زمین سے مٹی لینے کا واقعہ
سدی (رح) کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو زمین کی طرف بھیجا ہ اس کا کچھ حصہ لائیں تو زمین نے کہا کہ میں اللہ کی پناہ مانگتی ہوں تجھ سے کہ تو میرا کوئی حصہ کم کرے تو جبرئیل (علیہ السلام) خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے اور کچھ نہ لیا ا ور کہا اے میرے رب ! اس نے آپ کی پناہ لی ہے۔ پھر میکائیل (علیہ السلام) کو بھیجا تو وہی معاملہ ہوا پھر موت کے فرشتے کو بھیجا۔ اس نے اللہ کی پناہ مانگی تو اس نے کہا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ اس کے حکم کی مخالفت کروں تو زمین سے مٹی لی اور سرخ ، سیاہ اور سفید مٹی کو ملا دیا۔ اسی وجہ سے بنی آدم کے رنگ مختلف ہوگئے پھر اس کو میٹھے ، نمکین اور کڑوے پانی سے گوندھا تو اس وجہ سے ان کے اخلاق مختلف ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے موت کے فرشتے کو کہا کہ جبرئیل اور میکا ئیل (علیہما السلام) نے زمین پر رحم کیا اور تونے رحم نہیں کیا تو اس مٹی سے میں جن کو پیدا کروں گا ان کی روح بھی تو اپنے ہاتھ سے نکالنا ۔ ( ثم قضی اجلا ط واجل مسمی عندہ پھر مقرر کردیا ایک وقت اور ایک مدت مقرر ہے اللہ کے نزدیک)
ثم قضی اجلاً کی تفسیر
حسن ، قتادہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے اجل سے مراد ولادت سے موت تک کا وقت ہے اور دوسرے اجل سے موت سے دوبارہ اٹھنے تک کا اور وہ برزخ ہے اور یہی بات ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور انہوں نے فرمایا کہ ہر ایک کے لیے دو مدتیں ہیں ایک مدت پیدائش سے موت تک اور دوسری موت سے بعثت تک۔ پس اگر نیک، متقی اور رشتوں کو جوڑنے والا ہو تو اس کی بعثت کی مدت سے زندگی کی موت میں اضافہ کردیا جاتا ہے اور اگر گناہ گار رشتوں کو توڑنے والا ہو تو اس کی عمر کی مدت میں کمی ہوجاتی ہے اور بعثت کی مدت میں اضافہ اور مجاہد (رح) اور سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ پہلی مدت دنیا کی اور دوسری آخرت کی ہے اور عطاء (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” ثم قضیٰ اجلاً “ سے مراد نیند ہے کہ اس میں روح قبض کی جاتی ہے اور پھر بیداری کے وقت لوٹا دی جاتی ہے۔ ” واجل مسمی عندہ “ سے موت کا وقت مراد ہے ۔ (ثم انتم تمترون)
(وھواللہ فی السموت وفی الارض) یعنی آسمانوں اور زمین کا معبود اللہ ہے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ( اور وہی ہے آسمان میں معبود اور زمین میں معبود) اور محمد بن جریر (رح) نے کہا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ آسمانوں میں ہے تمہارے پوشیدہ اور ظاہر کو زمین میں جانتا ہے اور زجاج فرماتے ہیں کہ آیت میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی اور وہ علم سرکم وجھرکم اللہ جانتا ہے تمہارے پوشیدہ اور ظاہر کو آسمانوں اور زمین ( ویعلم ماتکسبون اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو) جو تم نیر اور شر کو جاتنے ہو۔
Ayahs 6:4–7آیت نمبر 7, 6, 5, 4
تفسیر : (وما تاتیھم) یعنی مکہ والوں کے پاس ( من ایۃ من ایت ربھم) جسے چاند کا ٹکڑے ہونا وغیرہ اور عطاء فرماتے ہیں کہ قرآن کی آیات مراد ہیں (الا کانوا عنھا معرضین) یعنی اس کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس کو جھٹلاتے ہیں۔
(فقد کذبوا بالحق) یعنی قرآن کو اور کہا گیا ہے کہ محمد ﷺ مراد ہیں (لما جاء ھم ط فسوف یاتیھم ام نبوا ما کانوا بہ یستھزء ون) یعنی انکے ستہزاء کی خبر اور اس کا بدلہ یعنی عنقریب اپنے استعزاء کا انجام جان لیں گے جب ان کو عذاب دیا جائے گا۔
(الم یروا کم اھلکنامن قبلھم من قرن)
قرن کی تفسیر
یعنی پہلی امتیں اور قرن لوگوں کی جماعت اس کی جمع قرون آتی ہے اور کہا گیا ہے کہ زمانے کی ایک مدت کو قرن کہتے ہیں۔ بعض نے وہ مدت اسی سال بعض نے ساٹھ سال بعض نے چالیس اور بعض نے تیس سال بتائی ہے اور سو سال کو بھی قرن کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں کہ نبی کریم ﷺ نے عبداللہ بن بشر مازنی ؓ کو کہا کہ آپ ایک قرن زندہ رہیں گے تو وہ سو سال زندہ رہے۔ ان تمام اقوال کے مطابق معنی یہ ہے کہ اہل قرآن کو ( مکنھم فی الارض مالم نمکن لکم ) یعنی ان کو وہ کچھ دیا جو تمہیں نہیں دیا اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے ان کو عمر میں مہلت دی جیسے نوح (علیہ السلام) کی قوم اور عادو ثمود کو کہا جاتا ہے ومکنت لہ۔ (وارسلنا السماء علیھم مذوارا) یعنی بارش کو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ” مددادا “ کا معنی یہ ہے کہ ضرورت کے وقت میں لگاتار برستی تھی اور باری تعالیٰ کا قول ( مالم نمکن لکم) خطاب تلوین ہے۔ اپنے قول ( لام یروا) خبر سے خطاب کی طرف رجوع کیا ہے جیسے باری تعالیٰ کا قول ( حتی اذا کنتم فی الفلک وجرین بھمض ہے اور اہل بصرہ فرماتے ہیں ان کی خبر دی ۔ ( الم یروا) اس میں محمد ﷺ اور صحابہ کرام ؓ شامل تھے پھر ان کو ان کے ساتھ خطاب کیا۔ ( وجعلنا الانھر تجری من تحتھم فاھلکتھم بذنوبھم وآنشانا من م بعدھم قرنا اخرین ہم نے اس کو پیدا کیا اور اس کی ابتداء کی)
کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت نضر بن حارث اور عبداللہ بن ابی امیہ اور نوفل بن خویلد کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ کہنے لگے اے محمد ! ہم آپ پر تب تک ایمان نہ لائیں گے جب تک آپ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے یو لکھا ہوا نہ لائیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور چار فرشتے گواہ ہوں جو بتائیں کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے اور آپ اس کے رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ولو نزلنا علیک کتبا فی قرطاس جو ان کے پاس لکھا ہوا موجود ہے۔
(فلمسوہ بایدیھم ) یعنی اس کا معائنہ کرکے اپنے ہاتھ سے چھولیں۔ آیت میں صرف چھونے کا ذکر ہے معائنہ کا نہیں کیونکہ چھونے سے معائنہ کی بنسبت زیادہ علم حاصل ہوتا ہے کیونکہ جادو کا اثر آنکھوں سے دیکھی جانے والی چیز پر تو ہوجاتا ہے لیکن چھونے والی چیز پر نہیں ہوتا۔ ( لقال الذین کفروا ان ھذا الا سحر مبین) مطلب یہ ہے کہ ان کو کوئی چیز نفع نہ دے گی کیونکہ ان کے بارے میں میرے علم میں یہی ہے۔
Ayahs 6:8–11آیت نمبر 11, 10, 9, 8
تفسیر : (وقالوا لولاانزل علیہ) محمد ﷺ پر (ملک ط ولوانزلنا ملکا لقضی الامر) یعنی عذاب واجب ہوجائے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کفار کے معاملہ میں طریقہ رہا ہے کہ جب وہ کسی نشانی کا مطالبہ کریں اور وہا تاری جائے اس کے بعد بھی ایمان نہ لائیں تو عذاب کے ذریعے ان کو جڑ سے اکھاڑ دیا جاتا ہے ( ثم لاینظرون) یعنی نہ ان کو کوئی مدت میعاد دی جائے گی اور نہ ہی مہلت دیئے جائیں گے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر ہم فرشتہ اتارتے پھر وہ ایمان نہ لاتے تو ان پر جلدی عذاب آجاتا اور آنکھ جھپکنے کی مہلت نہ دی جاتی اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ” لقضی الامر “ یعنی قیامت قائم ہوجاتی اور ضحاک (رح) کہتے ہیں کہ اگر فرشتہ اپنی صورت میں ان کے پاس آتا تو وہ سب مرجاتے۔
(ولوجعلنہ ملکا) یعنی اگر ان کی طرف کوئی فرشتے بھیجتے ( لجعلنہ رجلا) کیونکہ وہ فرشتہ کی طرف دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے اور جبرئیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے پاس وحیہ کلبی ؓ کی شکل میں آتے تھے اور دو فرشتے دائود (علیہ السلام) کے پاس دو مردوں کی صورت میں آئے ( وللبسنا علیھم مایلبسون) یعنی ان پر معاملہ مشتبہ کردیتے تو ان کو پتہ نہ چلات کہ یہ فرشتہ ہے یا آدمی۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ اہل کتاب جنہوں نے اپنے دین میں فرقے کئے اور کلمات کو ان کی جگہ سے پھیرا تو اللہ نے ان پر معاملہ مشتبہ کردیا جو انہوں نے اپنے اوپر مشتبہ کیا تھا۔ اور زہری (رح) نے (للبسنا) شد کے ساتھ پڑھا ہے تکریر اور تاکید کی بنائپر۔
(ولقد استھزی برسل من قبلک) جسا کہ آپ (علیہ السلام) کے ساتھ ہنسی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی کریم ﷺ کو تسلی دی ہے ( فحاق بالذین سخروا منھم ما کانوا بہ یستھزء ون) ان کے استہزاء کے بدلے عذاب نے ۔
(قل) اے محمد ! ( ﷺ) ان جھٹلانے والوں اور ہنسی کرنے والوں کو ( سیرو فی الارض) عبرت حاصل کرنے کے لیے ( ثم انظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین) ان کے معاملہ کی جزاء کیا ہوئی ؟ اور کفر اور تکذیب نے ان کو کیسے ہلاک کردیا۔ اس آیت میں کفار مکہ کو پہلی امتوں کے عذاب سے ڈرایا جارہا ہے۔
Ayahs 6:12–13آیت نمبر 13, 12
تفسیر : (قل لمن مافی السموت والارض) اگر جواب دیں تو ٹھیک ورنہ آپ خود کہہ دیں ( قل للہ کتب) فیصلہ کیا ( علی نفسہ الرحمۃ) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شفقت کا اظہار ہے ان لوگوں کے لیے جو اس سے پیٹھ پیھر رہے ہیں تاکہ وہ اس پر متوجہ ہوں اور خبر ہے کہ اللہ بندوں پر مہربان ہے جلدی سزا نہیں دیتا اور توبہ اور رجوع کو قبول کرتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور ایک تحریر لکھی جو اللہ کے پاس عرش کے اوپر ہے کہ بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے دوسری روایت ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میری رحمت میرے غصہ سے سبقت لے گئی ہے۔ (روا البخاری)
اللہ تعالیٰ کی سو رحمتوں میں سے ایک رحمت دنیا کیلئے ہے
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے لیے سو رحمتیں ہیں ایک رحمت جن ، انسانوں، جانوروں اور حشرات کے درمیان تقسیم کردی۔ پس اسی کی وجہ سے ایک دوسرے پر شفقت اور رحم کرتے ہیں اور اسی وجہ سے وحشی جانور اپنے بچوں پر شفیق ہیں اور ننانوے رحمتیں اللہ نے موخر کردی ہیں ان کے ذریع اپنے بندوں پر قیامت کے دن رحم کریں گے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں کچھ قیدی لائے گئے ان میں ایک عورت تھی جس کے پستان سے دودھ نکل رہا تھا وہ قیدیوں میں جس چھوٹے بچے کو پاتی تو اس کو پکڑ کر اپنے ساتھ چمٹا لیتی اور دودھ پلا دیتی تو نبی کریم ﷺ نے ہم سے پوچھا کہ کیا تمہار خیال ہے کہ یہ عورت اپنے بچو کو آگ میں ڈال دے گی تو ہم نے عرض کیا نہیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس عورت کے اپنے بچے پر رحم کرنے سے زیادہ رحم کرتے ہیں ( لیجمعتکم ) اس میں لام قسم کا ہے اور نون تاکید ہے۔ یعنی الہل کی قسم اللہ تم کو ضرور اکٹھا کرے گا ص الی یوم القیمۃ) قیامت کے دن میں اور کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ تم کو تمہاری قبروں میں قیامت کے دن تک جمع کرے گا ( لاریب فیہ ط الذین خسروا انفسھم فیھم لا یومنون)
(ولہ ما سکن فی الیل والنھار) قرار پکڑتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ مراد وہ چیز ہے جو ساکن اور متحرک ہوتی ہو جیسے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” سرابل تقیکم الحر “ میں مطلب یہ ہے کہ وہ تمہیں گرمی اور سردی سے بچاتی ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ سکون کو ذکر کیا ہے کیونکہ اس میں نعمت زیادہ ہے اور محمد بن جریر (رح) کہتے ہیں کہ جس چیز پر سورج طلوع اور غروب ہو وہ ” ساکن اللیل والنھار “ ہے اس سے مراد زمین کی تمام چیزیں ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ اسی کے لیے ہے جس پر رات اور دن گزرتے ہیں۔ ( وھوالسمیع العلیم)
Ayahs 6:14–17آیت نمبر 17, 16, 15, 14
تفسیر :(قل اغیر اللہ اتخذ ولیا) جب نبی کریم ﷺ کو آپ کے آبائواجداد کے دین کی طرف بلایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اے محمد ! ( ﷺ) آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کے سوا کسی کو میں اپنا رب اور معبود اور مدد گار بنائوں ؟ (فاطرالسموت والارض) یعنی ان کا خالق اور ایجاد کرنے والا ہے۔ ( وھوا یطعم والا یطعم) یعنی وہ رزق دیتا ہے اس کو رزق نہیں دیا جاتا۔ جیسا کہ خود دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں ان سے کسی رزق کا ارادہ نہیں کرتا اور نہ یہ ارادہ کرتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔ ( قل انی امرت انی اکون اول من اسلم) یعنی اس امت میں سے اور اسلام یہاں اللہ کے حکم کے آگے سرجھکانے کے معنی میں ہے ( ولا تکونن) یعنی مجھے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تو ہرگز نہ ہو ( من المشرکین) ۔
(قل انی اخاف ان عصیت ربی) ک کہ اس کے غیر کی عبادت کروں ( عذاب یوم عظیم) یعنی قیامت کے دن کے عذاب سے۔
(من یصرف عنہ) یعنی جس سے وہ عذاب ٹال دیا گیا۔ حمزہ اور کسائی اور ابوبک نے عاصم اور یعقوب سے روایت کرکے ” یصرف “ یاء کے زبر اور راء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی جس سے اللہ عذاب ٹال دیتے ہیں تو اس پر رحم کیا اور باقی حضرات نے یاء کے پیش اور راء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے (یومئذ) یعنی قیامت کے دن ( فقد رحمہ ط وذلک الفوز المبین) یعنی واضح نجات۔
(وان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ھو ط وان یمسسک بخیر فھو علی کل شیء قدیر) خیر اور نقصان میں سے۔
اللہ کے احکام کی حفاظت کرنے والے کی حفاظت اللہ تعالیٰ کرتا ہے
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا نبی کریم ﷺ کو ایک خچر کسریٰ نے ہدیہ کیا تو آپ (علیہ السلام) بالوں کی ایک رسی ڈال کر اس پر سوار ہوئے اور مجھے اپنے پیچھے سوار کیا اور تھوڑا سا چلے پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا اے لڑکے ! میں نیکہا میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو اللہ کی حفاظت کر وہ تیری حفاظت کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر اللہ کو اپنے سامنے پائے گا تو اللہ کو پہچان آسودگی میں وہ تجھے پہچانے گا سختی اور تنگی میں اور جب تو سوال کرے تو صرف اللہ سے سوال کر اور جب تو مدد طلب کرے تو صرف اللہ سے مدد طلب کر اور تحقیق قلم جاری ہوچکا ان چیزوں پر جو آگے ہوں گی اگر تمام مخلوق کوشش کرے کہ تجھے نفع دے اس چیز کا جو اللہ نے تیرے لیے فیصلہ نہیں کیا تو وہ اس پر قادر نہیں ہیں اور اگر تمام مخلوق کوشش کرے کہ تجھے وہ نقصان دے جو اللہ تعالیٰ نے تجھ پر نہیں لکھا تو وہ اس پر قادر نہیں۔ اگر تو طاقت رکھتا ہے کہ تو صبر کرے یقین کے ساتھ تو ایسا کر اگر طاقت نہیں رکھتا تو صرف صبر کر کیونکہ ناپسند چیز پر صبر کرنے میں بہت بڑی بھلائی ہے اور بیشک کشادگی تکلیف کے ساتھ آتی ہے اور تنگی کے ساتھ آسانی آتی ہے۔
Ayahs 6:18–20آیت نمبر 20, 19, 18
تفسیر : (وھوالقاھر فوق عبادہ) وہ غالب ہے اور بعض نے کہا ہے کہ وہ تدبیر میں منفرد ہے۔ مخلوق کو اپنی تدبیر پر مجبور کرتا ہے۔ فوق عبادہ یہ غلب کی صفت ہے جو تنہا اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے کے معنی میں قدرت کے معنی سے زیادتی ہے۔ اس کا معنی دوسرے کو مراد کے پہنچنے سے روکنا ( وھوالحکیم) اپنے کاموں میں (الخبیر) اپنے بندوں کے اعمال کی۔
(قل ای شیء اکبر شھادۃ) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ مکہ والے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے ہمیں وہ شخص دکھائیں جو یہ گواہی دے کہ آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں کیونکہ ہم نے کسی کو نہیں دیکھا ک وہ آپ کی تصدیق کرتا ہو اور ہم نے آپ کے بارے میں یہود و نصاریٰ سے بھی پوچھا ہے۔ ان کا گمان یہ ہے کہ ان کی کتابوں میں آپ کا تذکرہ نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (قل ای شیء اکبر شھادۃ ) (اگر وہ اس کا جواب دیں وگرنہ قل اللہ شھید م بینی وبینکم ) جو کچھ میں کہتا ہوں وہ میرے لیے حق ہونے کی اور تمہارے اوپر باطل ہو نیکی گواہی دیتا ہے۔ (واوحی الی ھذا القرآن لاندر کم بہ ومن م بلغ) یعنی قیامت تک عجم اور دیگر قوموں تک پہنچے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ سے پہنچائو اگرچہ ایک آیت ہو اور بنی اسرائیل سے باتیں نقل کرو اس میں کوئی حرج نہیں اور جس نے مجھ پر جھوٹ بولا جان بوجھ کر وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔ عبدالرحمن اپنے والد عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ترو تازہ رکھیں اس بندہ کو جس نے میری بات سنی پھر اس کو یاد کیا اور آپ سے پہنچایا۔ پس بہت سے فقہ کو اٹھانے والے جو خود فقیہ نہیں ہیں اور بہت سے فقہ کو اٹھانے والے اس شخص کی طرف جو ان سے زیادہ سمجھ دار ہے ۔ تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان پر کینہ نہیں کرتا، مسلمان کا دل ہمیشہ اللہ کے لیے عمل کو خاص کرنا اور مسلمانوں کی خیر خواہی اور ان کی جماعت کو لازم پکڑنا کیونکہ ان کی دعا ان کے علاوہ کو بھی گیھر لیتی ہے۔ مقاتل (رح) کہتے ہیں انسانوں اور جنوں میں سے جس تک قرآن پہنچ گیا تو قرآن اس کے لیے نذیر ہ۔ محمد بن کعب قرظی (رح) کہتے ہیں کہ جس شخص تک قرآن پہنچ گیا گویا کہ اس نے محمد ﷺ کو دیکھا اور ان سے سنا ( اتنکم لعشھدون ان مع اللہ الھۃ اخری) اس لیے کہ تانیث جمع کو لاحق ہوجاتی ہے جیسیے باری تعالیٰ کا قول ( واللہ الاسماء الحسنی فادعوہ بھا) ہے اور فرمایا فما بال القرون الاولی قل لا اشھد تو کہے دے اے محمد ﷺ آپ گواہی دیں تو میں تو گواہی نہ دوں گا) کہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہے ( قل انما ھو الہ واحد واننی بریء مما تشرکون)
(الذین اتنھم الکتب) توریت اور انجیل ( یعرفونہ) یعنی محمد ﷺ کو ان کی صفات کے ساتھ ( کما یعرفون ابناء ھم) بچوں کے درمیان سے ( الذین خسرو انفسھم فھم لایومنون) جو لوگ نقصان میں ڈال چکے۔ یعنی غبن فاش۔
یہ نقصان اس طرح ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کا ٹھکانہ جنت اور جہنم میں بنایا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو جہنمیوں کے جتنی ٹھکانے دیں گے اور جہنمیوں کو جنت والوں کے جہنمی ٹھکانے۔ اور یہ خسارہ ہے۔
Ayahs 6:21–24آیت نمبر 24, 23, 22, 21
تفسیر : (ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا) ظلم سے مراد کفر ۔ کذبا سے مراد اس کے ساتھ شریک ٹھہرائے ( اوکذب بایتہ) کو (انہ لایفلح الظلمون) کافروں کو۔
(ویوم فحشرھم جمیعا) یعنی عابد اور معبود سب کو قیامت کے دن۔ یعقوب نے یہاں اور سورة سباء میں ” یحشرھم “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور حفص نے ان کی موافقت سورة سباء میں کی ہے اور باقی حضرات نے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ( ثم تقول للذین اشرکوا این شرکائو کم الذین کنتم تزعمون ) کہ وہ تماری سفارش کریں گے تمہارے رب کے سامنے۔
(ثم لم تکن فتنتھم ) حمزہ، کسائی اور یعقوب نے ” یکن “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اس لیے کہ فتنہ افتنان کے معنی میں ہے تو فعل کو مذکر لانا جائز ہے اور باقی حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” فتنۃ “ کے مونث ہونے کی وجہ سے اور ابن کثیر ، ابن عامر اور حفص نے عاصم رحمہما اللہ سے ” فتنتھم “ کو پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کو ” کان “ کا اسم قرار دیا ہے اور باقی حضرات نے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کو خبر بنایا ہے اور کان کا اسم ” ان قالوا “ کو بنایا ہے۔ ابن عباس ؓ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ فتنہ سے مراد ان کی معذرت ہے۔ بعض علماء نے فتنہ کا ترجمہ تجربہ سے کیا ہے چونکہ ان کے اندرونی خیال کو ظاہر کرانے کا ایک تجربہ ہوگا۔ اس لیے جواب کو تجبرہ فرمایا زجاج کا قول ہے کہ یہ لفظ اس جگہ ایک لطیف معنی کی طرف اشارہ کرہا ہے بعض محب محبوب پر شیفتہ فریفتہ ہوتے ہیں لیکن جب اس شیفتی اور عشق میں ان پر مصائب آتے ہیں تو وہ محبوب سے بیزار ہوجاتے ہیں۔ پھر اس وقت ان کو یہ کہا جاتا ہے کہ تمہارا عشق بس اتنا ہی ہوا کہ دکھ پڑا تو عشق بھول گیا۔ قیامت کے دن بتوں کی محبت سے بھی کافر اسی طرح بیزاری کریں گے۔ الا ان قالوا واللہ ربنا ماکنا مشرکین) حمزہ اورک سائی رحمہما اللہ نے ” ربنا “ کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ ” منادی “ مضاف ہے اور باقی حضرات نے زیر کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ ” واللہ “ کی لغت ہے اور کہا گیا ہے کہ جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا منظر اور اہل توحید سے درگزر کا معاملہ دیکھیں گے تو آپس میں کہنے لگیں گے کہ آئو ہم شرک کو چھپالیتے ہیں تاکہ اہل توحید کے ساتھ نجات پاجائیں تو کہیں گے ( الا ان قالواو اللہ ربنا ماکنا مشرکین) تو ان کے منہ پر مہر لگادی جائے گی اور ان کے خلاف ان کے اعضاء کفر کی گواہی دیں گے۔
(انظر کیف کذبوا علی انفسھم) باطل عذر کرکے اور شرک سے بیزاری ظاہر کرکے ( وضل عنھم ماکانوا یفترون) یعنی جن بتوں کو خدا بنایا کرتے تھے وہ ان سے چلے گئے کیونکہ وہ تو ان کی شاعت اور مدد کی امید رکھتے تھے قیامت کے دن اس سب امیدوں پر پانی پھر گیا۔
Ayahs 6:25–26آیت نمبر 26, 25
تفسیر :(ومنھم من یستمع الیک) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ابو سفیان بن حرب، ابو جہل بن ہشام، ولید بن مغیرہ ، نضر بن حارث، عتبہ اور شبیہ ربیعہ کے بیٹے اور امیہ اور ابی خلف کے بیٹے اور حارث بن عامر۔
قرآن مجید کو کان لگاکر سنتے تھے تو انہوں نے نضر کو کہا اے ابو قتیبہ محمد ( ﷺ) کیا کہہ رہے ہیں ؟ وہ کہکنے لگا معلوم نہیں کیا کہتے ہیں میرا خیال یہ ہے کہ وہ اپنی زبان کو حرکت دے رہے ہیں اور پہلے لوگوں کی کہانیاں پڑھ رہے ہیں جیسے میں تمہیں پہلی امتوں کے قصے سناتا ہوں اس نضر کو پہلی امتوں کے بہت سے واقعات یاد تھے تو ابو سفیان نے کہا میرا خیال ہے کہ محمد ﷺ کی بعض باتیں حق ہیں تو ابوجہل کہنے لگا ہرگز تو کسی چیز کا اقرار نہ کر اور ایک روایت میں ہے کہ موت ہم پر اس اقرار سے زیادہ آسان ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ( وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ) کنان کی جمع ہے جیسے ” اعنۃ) عنان کی جمع ہے ( ان یفقھوہ وفی اذانھم وقرا) بہرہ پن اور بوجھ اور یہ دلیل ہے اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ دنوں کو پلٹتے ہیں بعض کو ہدایت کے لیے کھول دیتے ہیں اور بعض کے اوپر پردے ڈال دیتے ہیں تو وہ اللہ کا کلام نہیں سمجھ سکتے اور نہ ہی ایمان لاتے ہیں (وان یروا کل ایۃ آیت سے مراد معجزات اور دلائل ہیں ۔ لا یومنوا بھاط حتی اذا جاء وک یجادلونک یقول الذین کفروا ان ھذا الا اساطیر الاولین) یعنی ان کے قصے اور اساطیر اسطورۃ اور اساطرۃ کی جمع ہے۔
(وھم ینھون عنہ) یعنی لوگوں کو محمد ﷺ کی اتباع سے روکتے ہیں (وینئون عنہ) یعنی اور خود دور ہوتے ہیں۔
ینھون عنہ وبنا ون عنہ کا شان نزول
محمد بن حنفیہ اور سدی وضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ کفار مکہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن سے روکتے ہیں اور نبی کریم ﷺ سے اور آپ (علیہ السلام) سے دور ہوتے ہیں اور ابن عباس ؓ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی کہ لوگوں کو تو نبی کریم ﷺ کو تکلیف دینے سے روکتے تھے اور خود ایمان سے دور ہوتے تھے حتیٰ کہ مروی ہے کہ مشرکین کے سردار جمع ہوکر ابو طالب کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ آپ ایک خوبصورت نوجوان لے لیں اور ہمیں محمد ﷺ دے دیں تو ابو طالب نے کہا تم نے انصاف نہیں کیا۔ کیا میں تمہیں اپنا بچہ دے دوں کہ تم اس کو قتل کردو اور تمہاری اولاد کی پرورش کروں ؟ اور روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کو ایمان کی طرف بلایا تو انہوں نے کہا اگر قریش مجھے عار نہ دلاتے تو میں ایمان لاکر آپ کی آنکھوں کو ضرور ٹھنڈا کرتا لیکن جب تک زندہ رہوں گا آپ ﷺ کا دفاع کرتا رہوں اور چند اشعار کہے :
اللہ کی قسم وہ سب جمع ہوکر بھی آپ تک نہیں پہنچ سکتے
یہاں تک کہ میں مٹی میں دفن ہوجائوں
آپ اپنی ذمہ داری کو پورا کریں آپ پر کوئی پریشانی نہ ہو
اور اس بات سے خوش ہوجائیں اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں
آپ نے مجھے دعوت دی اور میں جانتا ہوں کہ آپ میرے خیر خواہ ہیں
اور تحقیق آپ نے سچ کہا اور آپ وہاں امین ہیں
اور آپ نے مجھ پر ایسا دین پیش کیا کہ میں جانتا ہوں کہ وہ
مخلوق کیتما اوبان میں سے بہتر دین
اگر ملامت اور برا بھلا کہا جانے کا خوف نہ ہوتا
تو آپ مجھے اس دین کا واضح مطیع پاتے
(وان یھلکون الا انفسھم) یعنی ان کے افعال کا وبال ان ہی پر لوٹے گا۔ (وما یشعرون)
Ayahs 6:27–30آیت نمبر 30, 29, 28, 27
تفسیر : (ولو تریٰ اذ وقفوا علی النار) کہا گیا ہے کہ آگ پر پیش کیے جائیں گے اور ’ د لو “ کا جواب محذوف ہے مطلب یہ ہے کہ اگر آپ ان کو اس حالت میں دیکھیں تو بڑا عجیب منظر دیکھیں گے ( فقالوا لیتا نرد) دنیا کی طرف لولا لکذب بایت ربما ونکون من المومنین)
(بل بدالھم) یعنی معاملہ ویسا نہیں جیسا یہ کہتے ہیں کہ اگر ان کو وہاں بھیج دیا جائے تو وہ ایمان لائیں گے بلکہ ظاہر ہوگیا ان کے لیے (ما کانوا یحفون من قبل) دنیا میں اپنا کفر اور گناہ ( ولو ردرا) دنیا میں ان کے کفر اور معصیت کی طرف اور ماکانو یحفون سے مراد ہیں رسول اللہ ﷺ کے وہ خصوصی اوصاف جو اہل کتاب جانتے تھے مگر ان صفا تکو چھپاتے تھے۔ مبرو کا قول ہے کہ مالکانو یخفون کو مبتدا متصمن شرط اور برالھم کو خبر متمصن جزا کے ہے۔ لضر بن شمیل نے کہا یدلھم کا معنی ہے ہذا عنھم پھر فرمایا ( ولوردوا) یعنی لوٹا دیئے جاتے ۔ دنیا کی طرف ( لعادو الماض تو وہ لوٹ آئے جس سے ان کو روکا گیا ( لھوا عنہ) یعنی کفر ( وانھم لکلمون) اس قول میں کہ اگر ہمیں دوبارہ بھیج دیا جائے تو ہم اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلائیں گے اور ایمان لائیں گے۔
(وقالو انھی الا حیاتنا الدنیا وما نحن بمبعوثین) یہ ان کے مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکار کی خبردی۔
(ولو تری ادوقفوا علی ربھم) اس کے حکم پر اور اس کے فیصہل پر اور بعض نے کہا کہ اپنے رب پر یش کیے جائیں گے (قال) ان کو اور کہا گیا ہے کہ جہنم کے دراوغہ کے حکم سے یہ کہیں گے ( الیس ھذا بالحق ) یعنی دوبارہ اٹھنا اور عذاب حق نہیں ہے ؟ ( قالوا بلی وربنا) کہ یہ حق ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قیامت میں کئی جگہ مجلس لگے گی، ایک مجلس میں اقرار کریں گے دوسری میں انکار کریں گے ان کا یہ قول ایک مجلس میں ہوگا اور ” واللہ ربنا ماکنا مشرکین “ والا قول دوسری مجلس میں ہوگا۔ ( قال فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون)
Ayahs 6:31–33آیت نمبر 33, 32, 31
تفسیر : (قد خسرالذین کذبو وا بلقاء اللہ ) یعنی اپنے آپ کو تباہ کیا اللہ کی طرف لوٹنے کے انکار کرنے ساتھ اور بعث بعد الموت کے انکار کرتا ہے۔ ( حتین اذا جاء نھم الشاعۃ بعثۃ قالو بحسرلننا جہاں تک کہ جب آپہنچے گی ان پر قیامت اچانک تو کہیں گے اسے افسوس) ندات کو نداء کے ذریعے ذکر کیا گیا ہے مبالغہ پیدا کرنے کے لیے۔ سیوپہ (رح) فرماتے ہیں کہ گویا کہ وہ کہہ رہے ہوں گے اے حسرت یہ تیرا وقت ہے ( غلی ما فرطنا فیھا کیسی کوتاہی ہم نے اس میں کی) یعنی کہنا ماننے میں اور کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ ہم نے دنیا میں آخرت کا عمل چھوڑ دیا اور محمد بن جریر (رح) فرماتے ہیں کہ ” فیھا “ کی ھباء ” صفتۃ “ یعنی سودے کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی جب ان پر ظاہر ہوا کہ ہم نے آخرت کو دنیا کے بدلے بیچ کر خسارہ کا سودا کیا تو کہنے لگے اے افسوس کہ اس سودے میں ہم نے کوتاہی کی۔ آیت میں ” صفقۃ “ کے ذکر کو چھوڑ دیا گیا کیونکہ ” قد خسر “ اس سر دلالت کررہا ہے اس لیے کہ خسران صرف بیج کے سودے میں ہوتا ہے حسرۃ یہ ندامت سے سخت ہے ( وھم یحملون او زارھم علی ظھورھم) اپنے بوجھ اور اپنے گناہ۔ سدی اور دیگر مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ مومن جب اپنی قبر سے نکالا جائے گا تو اس کا استقبال اچھی صورت اور عمدہ خوشبو والی چیز کرے گی اور اس سے پوچھے گی کیا تو مجھے پہچانتا ہے ؟ وہ کہے گا نہیں۔ تو وہ کہے گی میں تیرا نیک عمل ہوں مجھ پر سوار ہوجا۔ تحقیق دنیا میں ، میں نے بہت لمبا عصہ تجھ پر سواری کی۔ پس یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان ( جس دن ہم متقین کو جمع کریں گے رحمن کی طرف وفد بناکر) کا یعنی سوار کرکے اور بہرحال کافر تو اس کا ستقبال بدصورت چہرے والی اور انتہائی بدبودار چیز کرے گی اور کہے گی کیا تو مجھے پہچانتا ہے ؟ وہ کہے گا نہیں وہ کہے گی میں تیرے گندے اعمال ہوں دنیا میں بہت لمبا عرصہ تو مجھ پر سوار رہا اب میں تجھ پر سوار کروں گی۔ یہی معنی ہے اللہ کے فرمان ( او زاد ھم علی ظھورھم وہ اٹھائیں گے بوجھ اپن پیٹھوں پر ( کا۔ (الا ساء مایزرون)
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ بوجھ برا انہوں نے اٹھایا۔
(وما الحیوۃ الدنیا الا لعب ولھو) باطل اور دھوکہ اس کو بقاء نہیں (واللدار الاخرۃ) ابن عامر (رح) نے ” والدار الاخرۃ “ پڑھا ہے اور ” وارکعوا اخرۃ “ کو دار کی طرف مضاف کیا گیا اور شے کو اس کی ذات کی طرف مضاف کیا جاسکتا ہے۔ جب دونوں لفظوں میں مختلف ہوں جیسے قرآن میں ہے ” وحب الحصید “ اور لگوں کا قول ربیع الاول ، مسجد الجامع۔ دنیا کو قریب ہونے کی وجہ سے دنیا کہا جاتا ہے اور بعض نے کہا اس کے گھٹیا ہونے کی وجہ سے دنیا کہا گیا اور آخرت نام اس سے رکھا گیا ہے کہ یہ دنیا کے بعد ہے ( خیر للذین ینقون ط افلا تعلقون) کہ آخرت افضل ہے دنیا سے۔ اہل مدینہ، ابن عامر اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” افلا تعقلون “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے یہاں اور سورة اعراف ، سورة یوسف، سورة یٰسین میں اور ابوبکر (رح) نے ان کی موافقت سورة یوسف میں کی ہے اور حفص (رح) نے سورة یٰسین کے علاوہ تمام جگہ موافقت کی ہے اور باقی حضرات نے یاء کے ساتھ تمام جگہ پڑھا ہے۔
(قد نعلم انہ لیحزنک الذی یقولون) سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اخنس بن شریق اور ابوجہل بن ہشام کی ملاقات ہوئی تو اخنس نے ابوجہل کو کہا اے ابو الحکم محمد بن عبداللہ کے بارے میں بتا کہ وہ سچا ہے یا جھوٹا ؟
کیونکہ یہاں میرے علاوہ کوئی تیری بات سننے والا نہیں ہے تو ابوجہل کہنے لگا اللہ کی قسم ! بیشک محمد ﷺ سچا ہے اور انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بوالا لیکن اگر ” قصی “ کی اولاد جھنڈا ، پانی پلانے کی خدمت ، چوکیداری، مجلس مشورہ اور نبوت سب کچھ لے گئی تو باقی قریش کے قبیلوں کے لیے کیا بچے گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ناحیہ بن کعب کہتے ہیں کہ ابوجہل نے نبی کریم ﷺ کو کہا کہ ہم آپ پر تہمت نہیں لگاتے اور نہ آپ کو جھٹلاتے ہیں صرف آ کا وہ دین جھٹلاتے ہیں جس کو آپ (علیہ السلام) لائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ( ہم کو معلوم ہے کہ آپ کو غم میں ڈالتی ہیں ان کی باتیں) کہ آپ جھوٹے ہیں ( فانھم لایکذبونک لیکن الظلمین بایت اللہ یجحدون۔ نافع اور کسائی نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے شد کے ساتھ اور تکذیب یہ ہے کہ تو کسی کی جھوٹ کی طرف نسبت کرے اور اس کو کہے تو ن جھوٹ کہا ہے اور عدب یہ ہے کہ تو کسی کو جھوٹا پائے۔ عرب کہتے ہیں اجدیت الارض واخصب تھا جب تو زمین کو خشک سال اور بنجر پائے۔
لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں) یعنی وہ چھپ کر آپ کی تکذیب نہیں کرتے کیونکہ آپ کا سچا ہونا تو ان کو معلوم ہے وہ تو میری وحی اور میری آیات کو جھلاتے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا ( وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسھم)
Ayahs 6:34–35آیت نمبر 35, 34
تفسیر :(ولقد کذبت رسل من قبلک) ان کو بھی ان کی قوموں نے ایسے ہی جھٹلایا جیسے آپ (علیہ السلام) کو قریش نے ( صبروا علیٰ ما کذبوا وواوذوا حتی انھم نصرنا) ان لوگوں کو عذاب دینے کے ساتھ جنہوں نے جھٹلایا۔ ولا مبدل لکلمت اللہ) اور جو اس نے فیصلہ کردیا اس کو توڑنے والا کوئی نہیں اور اس نے اپنی کتاب میں اپنے انبیاء کی مدد کا فیصلہ لکھ دیا ہے اور فرمایا ( ولقد سبقت کلمتا لعبادنا المرسلین انھم لھم المنصورون ) وان جندنا لھم الغالبون اور فرمایا ( انا لعصررسلنا) اور فرمایا ( کتب اللہ لاغلبن اننا ورسلی) اور حسن بن فضل فرماتے ہیں اس کے وعدہ کے خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ ( ولقد جاء ک من نا المرسلین) اور من صلہ ہے جیسے تو کہے ۔
(وان کان کبرعلیک اعراضھم) یعنی اگر ان کا آپ ایمان لانے سے اعراض کرنا آپ (علیہ السلام) پر کہاں ہے اور نبی کریم ﷺ کو اپنی قوم کے ایمان لانے کی بڑی خواہش تھی اور وہ جب کوئی نشانی مانگتے تو نبی کریم ﷺ کو یہ بات پسند تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کو وہ نشانی دکھا دیں شاید وہ ایمان لے آئیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( فان استطعت ان تیتغی نفقا فی الارض اوسلما فی السماء فنا تیھم بایۃ ط ولوشاء اللہ لجمعھم علی الھدی) تو ایسا کرلیں (اور اگر اللہ چاہتا تو جم کردیتا سب کو سیدھی راہ پر) تو سب ایمان لے آتے ( فلا تکونن من الجھلین) یعنی اس حرف کے ساتھ اور وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ( ولو شاء اللہ لجمعھم علی الھدی) ہے اور جو کفر کرے گا وہ اللہ کے علم میں پہلے سے ہے۔
Ayahs 6:36–38آیت نمبر 38, 37, 36
تفسیر : (انما یستجیب الذین یسمعون) یعنی مومنین جو نصیحت کو سنتے اور اس کی اتبع کرتے ہیں تو ان کو نفع دیتی ہے نہ کہ وہ لوگ جن کے کانوں پر اللہ نے مہر کردی ہو ( والموتی یعنھم ) یعنی کفار کو ص اللہ ثم الیہ یرجعون ) پھر ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو رسوا کریں گے۔
(وقالوا) یعنی قریش کے سردار ( لولا نزل علیہ ایۃ من ربہ ط قل ان اللہ قادر علی ان ینزل ایۃ لوکن اکثرھم لایعلمون) کہ اس نشانی کے اتارنے میں ان پر کیا مصیبت ہوگی۔
(وما من دابۃ فی الارض ولا طنریطیر بجناحیہ الا امم امثالکم)
اھم امثالکم کی تفسیر
مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ہر ایک کی اقسام ہیں جو اپنے نام سے پہچانی جاتی ہیں یعنی حیوان کی ہر جنس ایک امت ہے پس پرندے ایک امت ہیں اور حشرات الگ امت اور مکھیاں الگ امت اور درندے الگ امت ہیں۔ ہر ایک اپنے نام سے پہچانی جاتی ہیں جیسے آدم (علیہ السلام) کی اولاد انسان اور ناس کے لفظ سے پہچانی جاتی ہے عبداللہ بن مغفل ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے کہ اگر کتے امتوں میں سے ایک نہ ہوتے تو میں ان کے قتل کا حکم دیتا۔ پس تم ان میں سے بالکل سیاہ کو قتل کردو اور کہا گیا ہے کہ ” امم امثالکم “ کا مطلب یہ ہے کہ بعض بعض سے کچھ حاصل کرتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ تمہاری طرح امت ہے پیدائش اور موت اور دوبارہ اٹھنے میں اور عطاء فرماتے ہیں کہ تمہاری طرح امت ہیں توحید اور معرفت میں ۔ ابن قتہیہ (رح) فرماتے ہیں کہ تمہاری طرح امت ہیں غذا اور رزق تلاش کرنے میں اور ہلاکت سے بچنے میں (مافرطنا فی الکتب) لوح محفوظ میں (من شیء ثم الی ربھم یحشرون) ابن عباس ؓ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ حشر سے موت مراد ہے ۔
قیامت کے دن کافر بھی مٹی ہوجانے کی تمنا کرے گا
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مخلوق کو یعنی درندوں، چوپایوں، پرندوں وغیرہ کو جمع کریں گے پھر سینگ والے جانور سے بغیر سینگ والے کو مارنے کا بدلہ لیا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم مٹی ہو جائو اس وقت کافر تمنا کریں گے اے کاش ! میں مٹی ہوجاتا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ بیشک اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا صاحب حق کو اس کا حق قیامت کے دن دیا جائے گا یہاں تک کہ بےسینگ والی بکری کے لئے سینگ والی سے بدلہ لیا جائے گا۔
Ayah 6:39تفسیر :-39 (والذین کذبوا بایتنا صم و بکم) نہ خیر کی بات سنتے ہیں اور نہ بولتے ہیں (فی الظلمت) کفر کے اندھیروں میں (من یشا اللہ یضللہ ط ومن یشا یجعلہ علی صراط مستقیم) اور وہ اسلام ہے۔
Ayah 6:40-40 (قل ارئیتکم) کیا تم دیکھتے ہو ؟ یہاں کاف تاکید کے لئے ہے اور فراء (رح) فرماتے ہیں کہ عرب ” ارایتک “ کا لفظ بولتے ہیں اور مراد یہ ہے کہ ہمیں خبر دو قراء اھل مدینہ ارأیتکم وأرأیتم وأرأیت دونوں ہمزہ کے ساتھ پڑھنے ہیں کسائی ان دونوں ہمزوں کے محذوف کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد آپ ان مشرکوں سے کہہ دیں بھلا بتائو تو (ان اتکم عذاب اللہ) موت سے پہلے (ائو اتتکم الساعۃ) یعنی قیامت کا دن (اغیر اللہ تدعون) اپنے سے عذاب ہٹانے کے لئے (ان کنتم صدقین) مراد یہ ہے کہ اضطراری حالت میں کفار اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں جیسے ان کے بارے میں خبر دی ہے۔ (واذا غشیھم موج کا لظلل دعوا اللہ مخلصین لہ الذین