Ayahs 7:1–2تفسیر (2) (کتب انزل الیک) یعنی قرآن (فلایکن فی صدرک حج منہ) مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ حرج شک کے معنی میں ہے اور خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور مراد امت ہے اور ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ حرج کا معنی تنگی ہے معنی یہ ہے کہ جس چیز کے ساتھ آپ رسول بنائے گئے اس کی وجہ سے دل تنگ نہ ہو۔ (لتذربہ) یعنی کتاب اتاری گئی ہے تاکہ آپ اس کے ذریعے ڈرائیں (وذکری للمومنین) کتاب پر ایمان لانے والوں کو۔
Ayah 7:3(3) (اتبعوا) یعنی آپ (علیہ السلام) ان سے کہیں کہ چلواسی پر (ما انزل الیکم من ربکم ولا تتبعوا من دونہ اولیآئ) یعنی اللہ کے علاوہ دوست نہ بنائو جن کی اطاعت کرو اللہ کی نافرمانی میں (قلیلاً ما تذکرون) ابن عامر (رح) نے ” یتذکرون “ یاء اور تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 7:4(4) (وکم من قریۃ اھلکنھا) عذاب کے ساتھ ” کم “ کثرت کے معنی دیتا ہے اور ” رب قلت “ کا معنی دیتا ہے۔ (فجآء ھا باسنا بیاتاً رات اوھم قائلون)” فیلولہ “ مصدر سے ہے۔ اصل عبارت ” فجاء ھابأسنا لیلا وھم نائمون اوتھاراً وھم قائلون “ قیلولہ کر رہے ہوں گے۔” اونائمون ظھیرۃ “ ” قیلولۃ “ آدھے دن میں آرام کرنا اگرچہ نیند نہ آئے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس ہمارا عذاب آیا اور ان کو امید نہ تھی، رات کو یا دن کو۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں ” او “ عذاب پھیرنے کے لئے ہے یعنی ایک مرتبہ رات کو اور ایک مرتبہ دن کو۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ بعض بستی والوں کو ہم نے رات کو ہلاک کیا اور بعض کو دن کے وقت ہلاک کیا یعنی ان کے ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ پہلے کہا ہم نے ان کو ہلاک کردیا، پھر اس کے بعد عذاب آنے کا کیا معنی ؟ تو جواب یہ ہے کہ ” اھلکنا “ کا معنی ہے کہ ان کی ہلاکت کا ہم نے فیصلہ کیا تو ان پر ہمارا عذاب آیا۔
اور بعض نے کہا ہے کہ ” فجاء ھا بأسنا “ یہ اللہ تعالیٰ کے قول ” اھلکناھا “ کا بیان ہے جیسے کہنے والا کہتا ہے ” اعطیتی فاحسنت الی “ اس قول اور اس کے اس قول ” احسنت الی فاعطیتی “ میں کوئی فرق نہیں ہے ان میں سے ایک دوسرے سے بدل ہے۔
Ayah 7:5(5) (فما کان دعوھم) یعنی ان کا قول اور پکارا اور تضرع و عاجزی اور الدعویٰ کبھی ادعاء بمعنی دعاء کے ہوتا ہے۔ سیبویہ کہتے ہیں عرب کہتے ہیں ” اللھم اشرکنا فی صالح دعویٰ المسلمین “ یعنی ان کی دعائوں میں (اذ جآء ھم باسنآ الا ان قالوا انا کنا ظلمین) مطلب یہ ہے کہ وہ عذاب کے رد کرنے پر قادر نہ ہوئے اور ان کا انجام یہ ہوا کہ انہوں نے جنایت کا اعتراف کرلیا لیکن اس اعتراف نے ان کو نفع نہ دیا۔
Ayah 7:6(6) (فلنسئلن الذین ارسل الیھم) یعنی امتوں سے کہ انہوں نے رسولوں کو کیا جواب دیا یہ سوال تو بیخی ہے یہ جاننے کے لئے سوال نہیں ہے۔ یعنی ہم ان سے سوال کریں گے ان کے بارے میں جو ان کو رسولوں نے پہنچا دی ہیں۔ (ولنسئلن المرسلین) پیغام پہنچانے کے بارے میں ۔
Ayah 7:7تفسیر (7) (فلنقصن علیھم بعلم) یعنی ہم ان کو اپنے علم سے خبردیں گے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کے خلاف ان کا اعمال نامہ بولے گا جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق (وما کنا غآئبین) رسولوں سے جو انہوں نے پہنچایا اور امتوں سے جو انہوں نے جواب دیا۔
Ayah 7:8(8) (والوزن یومئذ الحق) یعنی سوال کے دن۔
قیامت کے دن دن وزن اعمال کا ہوگا یا صاحب اعمال کا ؟
مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ فیصلہ اسی دن انصاف کے ساتھ ہوگا اور اکثر حضرات نے فرمایا ہے کہ مراد یہ ہے کہ اعمال کا وزن ترازو کے ساتھ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ ایک ترازو لگائیں گے اس کی ایک زبان اور دو پ لڑے ہوں گے۔ ہر پلڑا مشرق و مغرب کے درمیان جتنا بڑا ہوگا اس وزن کی کیفیت میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اعمال کے صحیفوں کا وزن کیا جائے گا۔
ہم تک روایت پہنچی ہے کہ ایک آدمی پر ننانوے رجسٹر کھولے جائیں گے۔ پھر اس کے لئے ایک کاغذ نکالا جائے گا جس پر ” اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمداً عبدہ و رسولہ “ لکھا ہوا ہوگا تو وہ تمام دفتر ایک پلڑے میں اور وہ کاغذ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو وہ دفتر اڑنے لگیں گے اور وہ کاغذ کا ٹکڑا بھاری ہوجائے گا۔ (رواہ الامام ابن ماجہ) اور بعض نے کہا صاحب عمل کو تولا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ سے ہمیں روایت پہنچی کہ قیامت کے دن لمبے قد موٹے جسم والا شخص لایا جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ کے پاس مچھر کے پر کے برابر وزن نہ ہوگا اور بعض نے کہا خود عمل کو تولا جائے گا۔ یہی بات ابن عباس ؓ سے مروی ہے تو اچھے اعمال کو اچھی شکل میں اور برے اعمال کو بری شکل میں لایا جائے گا اور ترازو میں رکھ دیا جائے گا۔ اعمال کے وزن کی حکمت دنیا میں اپنے بندوں کا امتحان لینا ہے کہ وہ اس پر ایمان لاتے ہیں یا نہیں اور آخرت میں ان کے خلاف حجت قائم کرنا ہے۔ (فمن ثقلت موازینہ) مجاہد (رح) فرماتے ہیں مراد اس کی نیکیاں ہیں (فاولئک ھم المفلحون)
Ayah 7:9(9) (ومن خفت موازینہ فاولئک الذین خسروا انفسھم بما کانوا باتینا یظلمون) حضرت ابوبکر ؓ نے اپنی وفات کے وقت حضرت عمر ؓ کو ویت کی کہ اس شخص کی تولیں بھاری ہوں گی جس نے دنیا میں حق کا اتباع کیا اور اس شخص کی تولیں ہلکی ہوں گی جس نے دنیا میں باطل کا اتباع کیا۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ ” موازینہ “ جمع ہے حالانکہ ترازو نو قیامت کے دن ایک ہوگا ؟ تو جواب یہ ہے کہ اس جمع سے ایک مراد ہے جیسے ” یا ایھا الرسل “ میں جمع ہے لیکن مراد ایک ہے اور بعض نے کہا ہر بندے کا الگ ترازو ہوگا۔ بعض نے کہا کہ میزان دو پلڑوں دو گواہوں اور ایک زبان پر مشتمل ہے اور وزن ان کے مجموعہ سے مکمل ہوگا اس لئے جمع کا صیغہ ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 7:10تفسیر (10) ولقد مکنکم فی الارض) ” تمکین “ سے مراد مالک بنانا اور قدرت دینا ہے۔ (وجعلنا لکم فیھا معایش) یعنی ایسے اسباب جن کے ذریعے تم اپنی زندگی معاش حاصل کرتے ہو جیسے تجارت، مزدوری، کھانے، پینے، ” معایش معیشۃ “ کی جمع ہے۔ (قلیلاً ماتشکرون)
Ayah 7:11(11) (ولقد خلقنکم ثم صورنکم) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ تمہارے آباء و اجداد کو پیدا کیا۔ پھر تمہاری مائوں کے رحموں میں تمہاری صورتیں بنائیں۔ قتادہ، ضحاک، سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ” خلقناکم “ سے آدم (علیہ السلام) مراد ہیں اور ” صورناکم “ سے ان کی اولاد مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” خلقنا کم “ آدم (علیہ السلام) کو ۔” ثم صورناکم “ آدم کی پشت میں جمع کے لفظ سے ذکر کیا ہے اس لئے کہ وہ ابوالبشر ہیں تو ان کی تخلیق میں ان لوگوں کی بھی تخلیق ہے جو ان کی پشت سے نکلیں گے اور بعض نے کہا ہے کہ ” خلقنا کم، آدم (علیہ السلام) کی پشت میں ” ثم صورنا کم میثاق “ کے دن جب تم کو چیونٹیوں کی طرح نکالا تھا اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں ہم نے تم کو مردوں کی پشتوں میں پیدا کیا اور عورتوں کے رحموں میں تمہاری صورتیں بنائیں اور یمان (رح) فرماتے ہیں انسان کو رحم میں پیدا کیا پھر اس کی صورت بنائی تو اس کے کان، آنکھ، انگلیوں کی شکل دی اور بعض نے کہا ہے تمام آدم ہیں ان کو پیدا کیا اور ان کی صورت بنائی اور ” ثم “ وائو کے معنی میں ہے۔ ” ثم قلنا للملائکۃ اسجدوا الادم “ اگر اعتراض ہو کہ فرشتوں کو سجدہ کا حکم بنو آدم کی تخلیق سے پہلے تھا تو اللہ تعالیٰ کے قول ” ثم قلنا “ کی کیا توجیہ ہوگی کیونکہ ” ثم، تو ترتیب اور تراخی کے لئے آتا ہے ؟ جواب یہ ہے کہ جن حضرات نے خلق اور تصویر کا تعلق صرف آدم (علیہ السلام) سے کیا ہے ان کے قول پر تو کلام بالکل درست ہے اور جن نے اس کا تعلق اولاد آدم ع لیہ السلام سے کیا ہے تو ان کی طرف سے کئی جواب ہیں، ان میں سے ایک ” ثم “ وائو کے معنی میں ہے یعنی اور ہم نے فرشتوں کو کہا تو یہ وائو ترتیب اور تعقیب کے لئے نہ ہوگی اور بعض نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ پھر تمہیں خبر دی کہ ہم نے فرشتوں کو کہا تم سجدہ کرو اور بعض نے کہا ہے کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل عبارت یوں ہے ” ولقد خلقنا کم “ یعنی آدم (علیہ السلام) کو ” ثم قلنا للملائکۃ اسجدوا “ …” ثم صورناکم “ (ثم قلنا ل لملٓئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا) یعنی فرشتوں نے (انا ابلیس لم یکن من السجدین مگر ابلیس نہ تھا سجدہ والوں میں)
Ayah 7:12(12) (قال ما منعک الا تسجد اذ امرتک) اللہ تعالیٰ نے اسے ابلیس ! (تجھ کو کیا مانع تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے حکم دیا )” الا تسجد ”‘ میں لاء زائد ہے جیسے ” و حرام علی قریۃ اھلکنا ھا انھم لایرجعن “ میں لا زائد ہے (قال لا خیر منہ خلفتنی من نار وخلقنہ من طین) اور آ گ مٹی سے بہتر اور روشن ہوتی ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں پہلا قیاس ابلیس نے کیا اور اس میں غلطی کی۔ پس جو شخص دین میں اپنی رائے سے قیاس کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو شیطان کے ساتھ ملا دیتے ہیں۔ ابن سیرین (رح) فرماتے ہیں کہ سورج کی عبادت قیاس کے ذریعے کی گئی ۔ محمد بن جریر (رح) کہتے ہیں کہ اس خبیث نے یہ گمان کیا کہ آگ کو مٹی پر فضیلت ہے یہ نہ سمجھا کہ فضیلت اس شے کو حاصل ہے جس کو اللہ تعالیٰ فضیلت دیں اور اللہ تعالیٰ نے مٹی کو آگ پر فضیلت دی ہے۔ حکماء فرماتے ہیں کہ مٹی کو آگ پر کئی اعتبار سے فضیلت حاصل ہے۔ ان میں سے بعض یہ ہیں کہ مٹی کی خاصیت وزن، وقار، برد باری، صبر ہے۔ یہ چیزیں آدم (علیہ السلام) کے لئے داعی بنیں تو یہ تواضع، تضرع کی طرف جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو چن لیا اور ہدایت دی اور توبہ قبول کی اور آگ کی خاصیت ہلکا پن، طیش، جرأت ، بلند ہونا ہے اور یہی چیزیں ابلیس کی شقاوت کے بعد سبب بنیں تکبر اور گناہ پر ڈٹے رہنے کا تو اس کو ورثہ میں لعنت اور شقاوت ملی۔
اور اس لئے کہ مٹی اشیاء کو جمع کرنے کا سبب ہے اور آگ ان کو متفرق کرنے کا اور اس لئے کہ مٹی زندگی کا سبب ہے اس لئے کہ درختوں اور پودوں کی زندگی اس کے ذریعے ہے اور آگ ہلاکت کا سبب ہے۔
Ayah 7:13تفسیر (13) (قال فاھبط منھا) جنت سے ۔ بعض نے کہا آسمان سے زمین کی طرف اتر۔ پھر اس کو زمین سے سمندر کے جزیروں کی طرف نکال دیا اس کا تخت سبز سمندر میں ہے اب وہ زمین میں ڈرتے ہوئے چپکے سے چور کی طرح داخل ہوتا ہے اس بوڑھے کی طرح جس پر پرانے کپڑے ہوں جن میں لوٹ رہا ہو، یہاں تک کہ اس سے نکل جائے۔ (فما یکون لک ان تنکبر فیھا فاخرج انک من الصغرین) امر کی مخالفت کر کے یہاں جنت میں اور یہ مناسب نہیں کہ جنت اور آسمان میں متکبر، اللہ کے امر کی مخالفت کرنے والا رہے۔ ذلیل اور گھٹیا لوگوں میں سے ہے۔
Ayah 7:14(14) (قال) ابلیس اس وقت کہا (انظرنی) مجھے مہلت دیجیے اور موت نہ دیجیے (الی یوم یبعثون) یعنی نفخہ اخیرہ تک قیامت کے وقت تک۔ اس خبیث کا ارادہ تھا کہ وہ موت کا ذائقہ نہ چکھے۔
Ayah 7:15(15) (قال انک من المنظرین) اس مہلت کی مدت دوسری آیت میں بیان کی گئی ہے (معلوم وقت کے دن تک) یعنی نفخہ اولیٰ تک جس وقت تمام مخلوق مرجائے گی۔
Ayah 7:16(16) (قال فبمآ اغویتنی)” ما “ میں اختلاف ہے بعض نے کہا ہے یہ استفہام ہے یعنی کس چیز کے ساتھ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے ؟ پھر نئی کلام شروع کی اور کہا ” لاقعدن لھم “ اور بعض نے کہا ہے کہ ” ماجزاء ہے یعنی اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں ان کے لئے بیٹھوں گا اور بعض نے کہا ہے ” ما “ مصدر کی ہے قسم کی جگہ ہے۔ اصل عبارت تیرے مجھے گمراہ کرنے کی وجہ سے میں ان کے لئے بیٹھوں گا۔ جیسے اس کا قول ہے ” بما غفرلی ربی “ یعنی میرے رب کے مجھے معاف کرنے کی وجہ سے اور معنی یہ ہے تیری مجھ پر قدرت اور میری سلطان کو نافذ کرنے کی وجہ سے اور ابن انباری (رح) فرماتے ہیں اس کی وجہ سے جو آپ نے میرے دل میں گمرایہ ڈلای جو میرے آسمان سے اترنے کا سبب بنی۔” اغویتنی “ یعنی تو نے مجھے ہدایت سے گمراہ کیا اور بعض نے کہا ہے تو نے مجھے ہلاک کیا اور بعض نے کہا ہے تو نے مجھے رسوا کیا۔” لاقعدن لھم صراطک المستقیم “ یعنی میں بنو آدم کے لئے آپ کے سیدھے راستے یعنی اسلام پر بیٹھوں گا۔ میں بھی ضرور بیٹھوں گا ان کی تاک میں تیری سیدھی راہ پر)
Ayah 7:17(17) (ثم لاتینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم) علی بن طلحہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” من بن ایدیھم “ سے مراد آخرت ہے کہ ان کو آخرت کے بارے میں شک میں مبتلا کروں گا۔ ” من خلفھم “ سے مراد ان کو دنیا میں رغبت دلائوں گا۔ (وعن ایمانھم) ان کو دین میں شبہ ڈالوں گا (وعن شمآئلھم) ان کو معاصی کی شہوت دلائوں گا۔
من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم کی مختلف تفاسیر
عطیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” من بین ایدیھم “ ان کی دنیا کی طرف سے یعنی دنیا کو ان کے بلوں میں مزین کر دوں گا ” ومن خلفھم “ آخرت کی جانب سے۔ میں کہوں گا کہ نہ دوبارہ اٹھنا ہے نہ کوئی جنت اور جہنم ہے۔ ” وعن ایمانھم “ ان کی نیکیوں کی جانب سے ” وعن شمائلھم “ ان کی برائیوں کی جانب سے اور حکم (رح) فرماتے ہیں ” من بین ایدیھم “ دنیا کی جانب سے اس کو ان کے لئے مزین کیا گیا ہے۔ ” ومن خلفھم “ آخرت کی جانب سے ان کو باز رکھے گا۔” وعن ایمانھم “ حق کی جانب سے ان کو روکے گا۔” وعن شمائلھم “ باطل کی جانب سے اس کو ان کے لئے مزین کرے گا۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ان کے سامنے سے ان کے پاس آئے گا اور ان کو خبر دے گا کہ دوبارہ اٹھنا اور جنت و جہنم نہیں ہے۔” ومن خلفھم “ دنیا کے امور ان کے لئے مزین کرے گا اور ان کو اس کی طرف بلائے گا۔” وعن ایمانھم “ ان کی نیکیوں کی جانب سے ان کو ان سے سست کرے گا۔” وعن شمائلھم “ ان کے لئے گناہ اور نافرمانیاں مزین کردیں اور ان کو اس کی طرف بلایا۔ اے ابن آدم ! وہ تیرے پاس ہر جانے سے آئے گا لیکن وہ تیرے اوپر سے نہ آئے گا، وہ یہ طاقت نہیں رکھتا کہ تیرے اور اللہ کی رحمت کے درمیان حائل ہوجائے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” من بین ایدیھم و عن ایمانھم “ ایسی جگہ کہ وہ دیکھ سکیں گے اور ” من خلفھم وعن شمائلھم “ ایسی جگہ سے کہ وہ دیکھ نہ سکیں گے اور ابن جریج (رح) فرماتے ہیں ” حیث لایبصرون “ کا معنی یہ ہے کہ ان کو عل نہ ہوگا کہ وہ خطا کر رہے ہیں۔ (ولا تجد اکثرھم شکرین) ۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ اس خبیث کو یہ بات کیسے معلوم ہوگئی ؟ تو جواب یہ ہے کہ اس نے محض گمان کیا تھا جو درست ہوگیا، اللہ تعالیٰ نے یہی بات فرمائی کہ (ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ)
Ayah 7:18تفسیر (18) قال اخرج منھا مذء وما مدحوراً ) یعنی عیب دار ہو کر ذام شدید عیب کو کہتے ہیں کہا جاتا ہے ” ذاء یذامہ ذاما فھو مذئوم و ذامہ یذیمہ ذاما فھو مذیم سار یسیر سیراً “ کی طرح۔ اور مدحور دور کیا ہوا دھتکارا ہوا۔ کہا جاتا ہے ”’ حرہ یدحرہ دحراً “ جب اس کو دور کر دے اور دھتکار دے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” مذء وما “ یعنی مبغوض۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ” مذء و ما مدحور “ یعنی لعنتی بدبخت اور کلبی (رح) فرماتے ہیں جنت اور ہر خیر سے دور۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” مذء وما “ ناامید (لمن تبعک منھم) بنی آدم میں سے (لا ملئن جھنم) ۔ لام قسم کا لام ہے (منکم اجمعین) تمہاری اور تیری اولاد اور کفار کی اولاد جو بھی آدم کی ذریت ہو ان سب کو۔
Ayah 7:19-19 (ویادم اسکن انت و زوجک الجنۃ فکلا من حیث شتما ولا تقربا ھذہ الشجرۃ فتکونامن الظلمین)
Ayah 7:20(20) (فوسوس لھما الشیطن) وسوسہ وہ بات جو شیطان انسان کے دل میں ڈال دے (لیبدی لھما ماوری عنھما من سوا بھما) یعنی تاکہ ان دونوں کو ظاہر کر دے جو پوشیدہ تھی ان کی شرمگاہ کہا گیا ہے کہ اس میں لام لام عاقبیت ہے ابلیس نے اس لئے وسوسہ نہیں ڈالا تھا لیکن اس کے وسوسہ کا انجام یہ ہوا کہ ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ” فالتقطہ آل فرعون لیکون لھم عدواً وحزنا “ ہے۔ آگے اس کا وسوسہ بیان کیا ہے (وقال) ابلیس نے آدم و حوا اعلیہما السلام سے کہا (مانھکما ربکما عن ھذہ الشجرۃ الا ان تکونا ملیکن ) یعنی تمہارے فرشتے بننے کو ناپسند کیا کہ تم کو خیر اور شر معلوم ہوجائے گا (او تکونا من الخلدین) یعنی تمہیں موت نہ آئے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا ہے (ھل ادلک علی شجرۃ الخلد)
Ayah 7:21تفسیر (21) (وقاسمھمآ انی لکما لمن النصحین) یعنی قسم کھائی یہ اس مفاعلہ باب سے ہے جو ایک کے ساتھ خاص ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے لئے اللہ کی قسم کھا کر ان کو دھوکہ دیا اور کبھی مومن کو اللہ کا نام لے کر دھوکہ دیا جاتا ہے اور کہا میں تم سے پہلے پیدا ہوا ہوں اور تم سے زیادہ علم رکھتا ہوں تم میری اتباع کرو، میں تمہیں صحیح رہنمائی کروں گا۔ ابلیس پہلا شخص ہے جس نے اللہ کے نام کی جھوٹی قسم کھائی اور آدم (علیہ السلام) یہ سمجھتے تھے کہ اللہ کے نام کی جو بھی قسم کھائے گا وہ سچ ہی بولے گا تو اس کے دھوکہ میں آگئے۔
Ayah 7:22(22) (قدلھما بغرور) یعنی ان کو دھوکہ دیا۔ کہا گیا ہے کہ ” مازال ابلیس یدل فلانا بالغرور “ یعنی اس کو دھوکہ دیتا رہا اور چکنی چپڑی جھوٹی باتیں کرتا رہا۔ بعض نے کہا کہ ان کو طاعت کے مرتبہ سے معصیت کی طرف اتار دیا اور ” تدلی “ کا معنی اوپر سے نیچے لانا ہی ہوتا ہے۔ اور تدلیہ ڈول کو کنوئیں میں لٹکانا۔ کہا جاتا ہے تد کی بنفسہ و دعا غیرہ اور ازہری (رح) فرماتے ہیں اس کی اصل ” تدلیۃ العطشان البسر “ (پیاسوں کو کنوئیں پر لانا) سے ہے تاکہ وہ پانی سے سیراب ہوں اور پانی نہ ہو تو ” تدلی بالغرور “ یہ ہوا کہ خیر خواہی ظاہر کرے اور اندر دھوکہ اور کھوٹ چھپایا ہوا ہو۔ (فلما ذاقا الشجرۃ بدت لھما سوا تھما) ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس کھانے کو چبانے سے پہلے ان کو سزا مل گئی وہ یہ کہ ان کے لباس گرگئے اور ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھ لی جو پہلے چھپی ہوئی۔ وہب فرماتے ہیں کہ ان کا لباس نور کا تھا۔ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ظفر بوٹی کے کپڑے اللہ تعالیٰ نے ان کو پہنائے تھے۔ جب ان دونوں سے لغزش ہوئی تو ان کی شرمگاہیں اظہر ہوگئیں تو ان کو شرم آئی۔ (وطفقا یخصفن علیھما من ورق الجنۃ) یہ انجیر کے پتے تھے حتی کہ کپڑے جیسے بنا لئے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں پتوں پر پتے رکھنے لگے تاکہ اپنا ستر ڈھانپ لیں۔ ابی بن کعب ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ آدم (علیہ السلام) کا قد لمبا تھا۔ گویا کہ وہ مجور کے درخت ہیں اور سر کے بال بہت زیادہ تھے۔ جب چوک ہوگئی اور شرمگاہ کھل گئی تو آپ خوف سے جنت میں بھاگنے لگے تو جنت کے درختوں میں سے ایک نے آپ کو آ کے بالوں سے جکڑ لیا تو آپ (علیہ السلام) نے اس کو کہا مجھے چھوڑ دے اس نے کہا میں نہ چھوڑوں گا تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی۔ اے آدم (علیہ السلام) کیا مجھ سے بھاگ رہے ہو ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے عرض کیا نہیں اے میرے رب لیکن مجھے آپ سے شرم آرہی ہے (ونادھما ربھمآ آلم انھکما عن تلکما الشجرۃ) یعنی اس کے کھانے سے۔
(واقل لکما ان الشیطن لکما عدومبین) اس کو تمہارے درمیان عداوت ہے۔ محمد بن قس (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پکارا اے آدم آپ (علیہ السلام) نے اس درخت کو کھایا حالانکہ میں نے آپ کو منع کیا تھا ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ مجھے حوا نے کھلایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حوا (علیہما السلام) سے پوچھا کہ کیوں کھلایا ہے ؟ تو انہوں نے کہا مجھے سانپ نے کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سانپ کو کہا تو نے کیوں حکم دیا ؟ اس نے کہا مجھے ابلیس نے کہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے حواء جیسے تو نے درخت کا خون نکالا تو بھی ہر ماہ خون بہائے گی اور اے سانپ میں تیرے ہاتھ پائوں کاٹ دوں گا تو اپنے پیٹ اور چہرے سے چلنا جو تجھ دیکھے گا تیرا سر کچل دے گا اور اے ابلیس تو ملعون اور مردود ہے۔
Ayah 7:23تفسیر (23) (قالا ربنا ظلمنآ انفسنا) وہ تمہیں مصیت کے ذریعے سے ضرر پہنچائے گا۔ (وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخسرین) ہلاک ہونے والے
Ayah 7:24(24) (قال اھبطوا بعضکم لبعض عدو ولکم فی الارض مستقرو متاع الی حین)
Ayah 7:25(25) (قال فیھا تحیون) یعنی زمین میں زندگی گزارو گے (وفیھا تموتون ومنھا تخرجون) یعنی زمین میں اپنی قبروں سے نکالے جائو گے۔ ابن عامر، حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” تخرجون “ تاء کے زبر کے ساتھ یہاں اور زخرف میں پڑھا ہے۔ یعقوب (رح) نے یہاں موافقت کی ہے اور حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے زیادہ کیا ہے ” وکذلک تخرجون “ الروم کی ابتداء میں اور باقی حضرات نے تاء کے پیش اور راء کے زبر کے ساتھ ان میں پڑھا ہے۔
Ayah 7:26(26) بینی ادم قد انزلنا علیکم) یعنی تمہارے لئے پیدا کی (لباساً ) یہاں لباس کے لئے ” انزلنا “ کہا ہے حالانکہ لباس تو زمین کی نباتات سے بنتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ نباتات آسمان کے پانی سے ہوتے ہیں۔ اب معنی یہ ہوگا کہ ہم نے اتارے لباس کے اسباب۔ بعض نے کہا زمین کی تمام برکات آسمان کی طرف منسوب ہیں جیسا کہ فرمایا ” وانزلنا الحدی ” ذ حالانکہ لوہا تو زمین سے نکلتا ہے۔
آیت لباساً یواری سواتکم کا شان نزول
اس آیت کے نزول کا سبب یعنی شان نزول یہ ہے کہ جاہلیت میں لوگ بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے اور کہتے ہیں جن کپڑوں میں اللہ کی نافرمانی کی اس میں طواف کیسے کریں تو مرد دن کو اور عورتیں رات کو طواف کرتیں قتادہ (رح) فرماتے ہیں عورت طواف کرتی اور اپنی شرم گاہ پر ہاتھ رکھ کر کہتی، آج کے دن یہ ساری یا تھوڑی ظاہر ہوجائے، جو حصہ اس کا ظاہر ہوگا میں اس کو نہ ڈھانپوں گی۔ تو اللہ تعالیٰ نے پردہ کا حکم دیا۔ اور فرمایا (قد انزلنا علیکم لباسا یواری سو آئکم) تمہاری شرمگاہ ڈھانپے اس کا واحد ” سواۃ “ ہے شرمگاہ کا نام سوأۃ (برائی) رکھا گیا ہے کیونکہ ہر شخص اس کے ظاہر ہنے کو برا سمجھتا ہے۔ پس تم ننگے طواف نہ کرو۔ (یواری سواتکم) تو تم ننگے طواف نہ کرو (وریشا) ابن عباس ؓ، مجاہد، ضحاک اور سد رحمہما اللہ کے قول میں اس سے مال مراد ہے کہا جاتا ہے ” تریش الرجل “ جب وہ مال دار ہوجائے اور بعض نے کہا جمال یعنی خوبصورتی مراد ہے یعنی وہ کپڑے اتارے جن سے تم خوبصورتی حاصل کرتے ہو اور بعض نے کہا لباس مراد ہے۔
(و لباس التقویٰ ذلک خیر) اہل مدینہ، ابن عامر اور کسائی رحمہما اللہ نے ” و لباس “ سین کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے ۔” لباسا “ پر عطف کرتے ہوئے اور دیگر حضرات نے پیش کے ساتھ پڑھا ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے اور اس کی خبر (خیر) ہے اور ” ذلک “ کو کلام میں صلہ بنایا ہے۔ اس لئے ابن مسعود ؓ اور ابی بن کعب ؓ نے ” و لباس التقوی خیر “ پڑھا ہے اور ” لباس التقوی “ میں اختلاف ہوا ہے۔
لباس التقوی کی تفسیر میں مختلف اقوال
(1) قتادہ اور سجدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ تقویٰ سے ایمان مراد ہے۔ (2) حسن (رح) فرماتے ہیں حیاء مراد ہے کیونکہ وہ تقویٰ پر ابھارتی ہے۔ (3) عطاء نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ نیک عمل مراد ہے۔ (4) عثمان بن عفان ؓ سے مروی ہے اچھے اخلاق ، عروہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ تقویٰ کا لباس اللہ کا خوف ہے۔ (5) اور کلبی (رح) فرماتے ہیں معنی یہ ہے کہ تقویٰ کا لباس اس کے صاحب کے لئے بہتر ہے۔ جب وہ خوبصورتی کے لئے پیدا کئے ہوئے لباس کو لے۔ (6) ابن انباری (رح) فرماتے ہیں تقویٰ کا لباس وہی پہلا لباس ہے اس کا اعادہ کیا ہے یہ خبر دینے کے لئے کہ تگیز کا ڈھانپنا طواف میں ننگا ہونے سے بہتر ہے۔ (8) بعض نے کہا اون کا لباس اور وہ کھردرے کپڑے جن کو پرہیز گار لوگ پہنتے ہیں۔ (ذلک من ایت اللہ لعلھم یذکرون)
Ayah 7:27تفسیر (27) (یبنی ادم لا یفتنکم الشیطن اے اولاد آدم نہ گمراہ کرے تم کو شیطان۔ (کما اخرج ابویکم) یعنی تمہارے آباء آدم و حوا (علیہما السلام) کو فتنہ میں مبتلا کیا، پھر ان دونوں کو اس سے نکال دیا۔ (من الجنۃ ینزع عنھما لباسھما لبریھما سوا نھما) یعنی اے نبی آدم شیطان تم کو دیکھتا ہے (انہ یرکم ھو و قبیلہ) اس کا لشکر۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ اور اس کی اولاد اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں جن اور شیاطین کا قبیلہ مراد ہے (من حیث لاترونھم) مالک بن دینار (رح) فرماتے ہیں کہ دشمن تجھے دیکھے اور تو اس کو نہ دیکھے تو یہ سخت نقصان دہ ہے مگر جن کو اللہ بچا لے۔ (انا جعلنا الشیطین اولیآء للذین لایومنون) زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ ہم نے ان پر مسلط کردیا کہ ان کی سرکشی میں اضافہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا ہے ” انا ارسلنا الشیاطین علی الکافرین توزھم ازا “
Ayah 7:28(28) (واذا فعلوا فاحشۃ) ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ان کا ننگے طواف کرنا مراد ہے۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں شرک مراد ہے اور ” فاحشۃ “ ہر اس برے فعل کو کہتے ہیں جو قباحت کی انتہاء تک پہنچ چکا ہو۔ (قالوا وجدنا علیھآ ابآء نا) یہاں کچھ عبارت مقدر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ برا کام کرتے ہیں اور ان کو روکا جائے تو کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے آباء کو پایا تھا اور جب کہا جائے کہ تمہارے آباء نے یہ کام کہاں سے لیا تو کہتے ہیں (واللہ امرنا بھا ط قل ان اللہ لا یامربا لفحشآء اتقولون علی اللہ مالا تعلمون)
Ayah 7:29تفسیر (29) (قل امر ربی بالقسط) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” لا الہ الا اللہ ‘ کہنے کا اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں توحید کا اور مجاہد اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ انصاف کا (واقیموا وجوھکم عندکل مسجد)
واقیموا وجوھکم عند کل مسجد کی تفسیر
مجاہد اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جہاں بھی ہو نماز میں کعبہ کی طرف متوجہ ہو اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ جب نماز کا وقت آجائے اور تم کسی مسجد کے پاس ہو تو اسی میں نماز پڑھ لو یہ نہ کہو کہ میں اپنی مسجد میں جا کر نماز پڑھوں گا اور بعض نے کہا کہ اپنے سجدوں کو خالص اللہ کے لئے بنائو (وادعوہ مخلصین لہ الدین اور پکارو اس کو اس کی عبادت کرو خلاص اس کے فرمانبردار ہو کر طاعت و عبادت کو جیسا کہ تم کو پہلے پیدا کیا دوسری بار بھی پیدا ہو گے) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی تخلیق کی ابتداء مئومن اور کافر کے اعتبار سے کی۔ جیسا کہ خود فرمایا (ھو الذی خلقکم فمنکم کافرو منکم مومن) پھر قیامت کے دن اسی طرح لوٹائیں گے جیسا کہ ان کو پیدا کیا تھا کہ بعض مئومن بعض کافر۔ جابر ؓ فرماتے ہیں جس حالت پر مرے تھے اس پر اٹھائے جائیں گے۔
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر بندہ اسی چیز پر اٹھایا جائے گا جس پر مرا تھا مئومن اپنے ایمان پر اور کافر اپنے کفر پر۔ ابو العالیہ (رح) فرماتے ہیں وہ اپنے ان اعمال پر لوٹیں گے جو ان کے بارے میں ہیں۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں جیسا تمہارے بارے میں لکھا گیا ہے تم ویسے ہو گے۔ محمد بن کعب (رح) فرماتے ہیں کہ جس کی تخلیق اللہ نے شقاوت پر کی ۔ اسی کی طرف لوٹے گا اگر اہل سعادت والے عمل کرتا رہے جیسا کہ ابلیس نیک بختوں والے عمل کرتا رہا اور جیسا کہ جادوگر بدبختوں والے عمل کرتے رہے لیکن نیک بخت ہوگئے۔ سہل بن سعید ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بندہ لوگوں کے سامنے جنتیوں والے عمل کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جہنمیوں میں سے ہوتا ہے اور بیشک لوگوں کے سامنے جہنمیوں والے عمل کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے اور بیشک اعمال کا دار و مدار خاتمہ پر ہے۔
حسن اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں جیسا کہ تمہیں دنیا میں ابتداء پیدا کیا کہ تم کچھ نہ تھے، اسی طرح تم زندہ ہو کر قیامت کے دن لوٹو گے جیسا کہ ہم نے پہلے پیدا کیا ہم اس کو لوٹائیں گے قتادہ (رح) فرماتے ہیں ان کو مٹی سے ابتداء پیدا کیا، مٹی کی طرف وہ لوٹیں گے، اس کی نظریا للہ تعالیٰ کا قول ” منھا خلقنا کم و فیھا نعیدکم “ ہے۔
Ayah 7:30(30) فریقا ھدی) یعنی ان کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی (وفریقاً حق علیھم الضللۃ ط انھم اتخذوا الشیطن اولیآء من دون اللہ ویحسبون انھم مھتدون اس میں دلیل ہے کافر خواہ ضد کی وجہ سے ہو یا انکار کی وجہ سے وہ اپنے کو دین میں حق گمان کرتا ہے۔
Ayah 7:31تفسیر (31) (یبنی ادم خذوا زینتکم عند کل مسجد) مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ بنو عامر بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ زینت سے مراد کپڑے ہیں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ جو چیز شرمگاہ کو ڈھانپ لے اگرچہ ایک عباء ہی کیوں نہ ہو اور کلبی (رح) فرماتے ہیں زینت ہر وہ چیز جو طواف اور نماز کے لئے شرم گاہ کو ڈھانپ لے۔ (وکلوا واشربوا) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ بنو عامر حج کے ایام میں پیٹ بھر کر کھانا کھاتے تھے اور چکنائی بھی نہ ھکاتے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ ان کاموں کے ہم زیادہ حق دار ہیں تو اللہ تعالیٰ نے حکم نازل کیا کہ کھائو گوشت اور چربی اور پیو (ولاتسرفوا) اس گوشت اور چکنائی کو حرا م کر کے جس کو اللہ نے حلال کیا (انہ لا یحب المسرفین) جو ایسے کام کرتے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جو چاہے کھائو اور جو چاہے پہنو لیکن اسراف اور تکبر نہ کرو۔ علی بن حسین بن واقد (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سارے علم طب کو آدھی آیت میں جمع کردیا ہے اور وہ ہے ” کلوا واشربوا “
Ayah 7:32(32) (قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ) یعنی طواف کے وقت کپڑے پہننا (والطیبت من الرزق) یعنی گوشت اور چکنائی حج کے ایام میں۔ ابن عباس رضی ال لہ عنہ اور قتادہ (رح) سے مروی ہے کہ مراد وہ چیزیں ہیں جن کو اہل جاہلیت حرام قرار دیتے تھے جیسے بحیرۃ ، سائبتہ وغیرہ ۔ (قل ھی للذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا خالصۃ یوم القیمۃ) آپ کہہ دیں یہ نعت میں اصل میں ایمان والوں کے واسطے ہیں دنیا کی زنگدی میں خالص انہی کے واسطے ہیں قیامت کے دن) عبارت محذوف ہے۔ اصل یہ یہ کہ یہ نعمتیں دنیا میں مئومنین اور مشرکین سب کے لئے ہیں کیونکہ مشرکین بھی مئومنین کے ساتھ صاف ستھری چیزوں کے استعمال کرنے میں شریک ہیں اور آخرت میں یہ صرمئومنین کے ساتھ خاص ہیں، مشروں کا کوئی حصہ نہیں اور بعض نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ یہ نعمتیں ہر غم اور مشقت سے خلاص ہو کر قیامت میں مئومنین کو ملیں گی کیونکہ دنیا میں تو غم اور مشقت کے ساتھ ملتی ہیں۔ نافع (رح) نے ” خالصۃ “ پیش کے ساتھ پڑھا ہے یعنی آپ کہہ دیں یہ ایمان والوں کے لئے دنیا میں مشترک ہے، قیامت کے دن خالص ہے اور دیگر حضرات نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ (کذلک نفصل الایت لقوم یعلمون)
Ayah 7:33(33) (قل انما حرم ربی الفواحش ماظھر منھا وما بطن) یعنی ننگے طواف کرنا۔” ماظھر “ مردں کا دن کو ننگے طواف کرنا اور ” مابطن “ عورتوں کا رات میں ننگے طواف کرنا۔ بعض نے کہا اعلانیہ اور چھپ کر زنا کرنا مراد ہے۔ عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سے زیادہ کوئی غیرت والا نہیں اسی لئے تو کھلے اور پوشیدہ برے کاموں کو حرام کیا اور اللہ سے زیادہ کسی کو تعریف پسند نہیں اس لئے اپنی تعریف خود کی (والاثم ) یعنی چھوٹے اور بڑے گناہ کو اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ وہ گناہ مراد ہے جس میں حد جاری نہ ہو۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اثم سے شراب مراد ہے۔ جیسا کہ اشعر کہتا ہے میں نے اثم یعنی شراب کو پیا تو میری عقل چلی گئی۔ اسی طرح اثم یعنی گناہ عقل کو ختم کردیتا ہے۔
(والبغی بغیر الحق) ظلم اور تکبر کو صوان تشرکوا باللہ مالم ینزل بہ سلطناً ) یعنی حجت اور برہان صوان تقولوا اعلی اللہ مالا تعلمون) کھیتی اور مویشی کی حرمت میں یہ مقاتل کا قول ہے اور باقی فرماتے ہیں کہ آیت عام ہے بغیر یقین کے دین میں کوئی بھی بات کہنا حرام ہے۔
Ayah 7:34تفسیر (34) (ولکل امۃ اجل) یعنی مدت اور کھانا، پینا۔ ابن عباس ؓ، عطاء اور حسن رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یعنی ان پر عذاب اترنے کا وقت مقرر ہے۔ (فاذا جآء اجلھم ) اور ان کا کھانا ختم ہ جائے گا (لایستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون) جب انہوں نے عذاب مانگا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔
Ayah 7:35(35) (یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم) بعض نے کہا کہ تمام رسول مراد ہیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یا بنی آدم سے عرب کے مشرکین اور رسل سے محمد ﷺ مراد ہیں (یقصون علیکم ایتی ) ابن عباس ؓ عن ہفرماتے ہیں کہ میرے فرائض اور احکام سنائیں (فمن اتقی و اصلح) یعنی شرک سے ڈرے اور نیک عمل کرے۔ (فلا خوف علیھم) جس وقت لوگوں پر خوف ہوگا (ولاھم یخزنون) جب وہ لوگ غمگین ہوں گے۔
Ayah 7:36(36) (والذین کذبوا بایتنا واستکبروا عنھآ) یعنی آیات پر ایمان لانے سے تکبر کیا، تکبر کو ذکر کیا کیونکہ ہر کافر اور تکذیب کرنے والا متکبر ہے (اولئک اصحب النارھم فیھا خلدون)
Ayah 7:37(37) (فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذباً ) اس کے لئے شریک بنائے (او کذب بایتہ ط اولئک ینالھم نصیبھم من الکتب) یعنی لوح محفوظ میں جوان کا حصہ لکھا ہوا ہے اس میں اختلاف ہے۔ حسن اور سجدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جو ان کے لئے عذاب لکھا ہوا ہے اور ان کے چہرے سیاہ کرنے اور نیلی آنکھیں کرنے کا جو فیصلہ لکھا ہوا ہے۔ عطیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جو شخص اللہ پر جھوٹ بولے اس کے لئے لکھا ہوا ہے کہ اس کا چہرہ سیاہ ہوگا خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
(ویوم القیامہ نزی الذین کذبوا علی اللہ جو ھھم مسودۃ) اور قیامت کے دن آپ دیکھیں گے کہ جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ بولا ان کے چہرے سیاہ ہیں) سعید بن جبیر ؓ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ بدبختی اور نیک بختی لکھ دی گئی ہے۔ ابن عباس ؓ، قتادہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی ان کے اعمال جو انہوں نے کئے ان کو لکھ دیا یا ہے اور اس پر جو خیر اور شر جاری ہوگا وہ بھی لکھ دیا گیا ہے۔ محمد بن کعب قرظی (رح) فرماتے ہیں کہ ان کا رزق اور عمل لکھ دیا گیا ہے (حتی اذا جآء تھم رسلنا یتوفونھم قالوا این ما کنتم تدعون من دون اللہ) یعنی فرشتے کفار کو کہیں گے کہ جن کی تم عبادت کرتے تھے یہ ڈانٹ کا سوال ہے (قالوا ضلوا عنا وشھدوا علی انفسھم انھم کانوا کفرین) یہ اقرار موت کا معائنہ کرنے کے وقت کریں گے۔
Ayah 7:38تفسیر (38) (قال ادخلوا فی امم) یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو کہیں گے کہ دوسری جماعتوں کے ساتھ داخل ہو جائو (قد خلت من قبلکم من الجن والانس فی النار) پہلی امتوں کے کفار کے ساتھ (کلما دخلت امۃ لغت اختھا) یہاں دینی بہن مراد ہے نہ کہ نسبی تو یہود یہود کو اور نصاریٰ نصاریٰ کو لعنت کریں گے۔ ہر جماعت اپنے دینی بھائیوں کو اور متعبین اپنے قائدین کو لعنت کریں گے۔ یہاں اخ کا لفظ استعمال نہیں کیا کیونکہ اتم اور جماعت مئونث ہیں۔ (حتی انا ادارکوا فیھا جمیعاً ) یعنی جہنم میں سب جمع ہوجائیں گے (قالت اخرھم لاولھم) مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ” اخری “ سے مراد وہ متعبین ہیں جو بعد میں جہنم میں داخل ہوں گے اور اولیٰ سے مراد قائدین ہیں کیونکہ یہ پہلے جہنم میں داخل ہو گے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہر امت کے بعد والے لوگ پہلوں کو کہیں گے (ربنا ھولآء اضلونا فاتھم عذاباً ضعفاً من النار قال) اللہ تعالیٰ (لکل صفت ولکن لاتعلمون) کہ تمہارے فریق کے لئے کیسا عذاب ہے اور ابوبکر نے (لایعلمون) یاء کے ساتھ پڑھا ہے یعنی پیروکار نہیں جانتے کہ قائدین کے لئے کیا ہیا ور قائدین نہیں جانتے کہ متعبین کے لئے کیا ہے۔
Ayah 7:39(39) (وقالت اولھم لاخرھم ) یعنی قائدین (پچھلوں کو) پیروکاروں کو (فما کان لکم علینا من فضل) کیونکہ تم نے بھی ہماری طرح کفر کیا تو کفر اور عذاب میں بھی ہم برابر ہوں گے (فذوقوا العذاب بما کنتم تکسبون)
Ayah 7:40تفسیر 40 (ان الذین کذبوا بایتنا واستکبروا عنھا لاتفتح ) تاء کے ساتھ باوعمرو نے بغیر شد کے پڑھا ہے اور یاء کے ساتھ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے اور باقی حضرات نے تاء اور رشد کے ساتھ پڑھا ہے۔ (لھم ابواب السمآء ) نہ ان کی دعائوں کے لئے اور نہ اعمال کے لئے۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کی روحوں کے لئے کیونکہ وہ خبیث ہیں ان کو آسمان پر نہیں چڑھایا جاتا بلکہ سجین میں لے جایا جائے گا۔ آسمان کے دروازے مئومنین کی روحوں کے لئے کھولے جائیں گے اور ان کی دعائوں اور اعمال کے لئے (ولا یدخلون الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط) یعنی جب اونٹ سوئی کے سوراخ میں داخل نہ ہوجائے۔ مخیط اور خیاط کا ایک معنی ہے یعنی سوئی مطلب آیت کا یہ ہے کہ وہ کبھی داخل نہ ہوں گے کیونکہ کسی شے کو جب محال شے کے ساتھ معلق کیا جائے تو یہ دلالت کرتا ہے کہ اس کا پایا جانا بالکل ممکن نہیں۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ میں نے کروں گا جب تک کوا بوڑھا نہ ہوجائے یا جب تک تارکول سفید نہ ہوجائے، مراد یہ ہوتی ہے کہ میں یہ کام کبھی نہ کروں گا۔ (وکذلک نجزی المجرمین)