8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 8:1

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو۔ اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو۔

سورة الانفال کا شان نزول تفسیر (1) (یسئلونک عن الانفال) مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بدر کے دن فرمایا تھا کہ جو اس جگہ آیا تو اس کے لئے مال غنیمت میں اتنا حصہ اور جس نے کسی کو قتل کیا تو اس کے لئے اتنا حصہ اور جس نے کسی کو قیدی بنایا تو اس کے لئے اتنا حصہ۔ جب دشمن سے مڈ بھیڑ ہوئی تو نوجانوں نے جلدی کی اور بزرگ حضرات نے ثابت قدمی دکھائی اور لوگوں کے چہرے جھنڈوں کی طرف تھے جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح دی۔ تو نوجوان مطالبہ کرنے آئے تو بزرگ حضرات نے کہا کہ ہم تمہارے پیچھے ڈھال تھے اگر تمہیں پسپائی ہوتی تو ہماری طرف لوٹتے تو اکیلے مال غنیمت نہ سمیٹو تو ابو الیسر بن عمرو انصاری ؓ بنی سلمہ کے بھائی کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسل ! آپ (علیہ السلام) نے وعدہ فرمایا تھا کہ جس نے کسی کو قتل کیا تو اس کو اتنا حصہ اور جس نے قیدی بنایا تو اس کو اتنا حصہ ملے گا اور ہم نے ان کے ستر مار ڈالے اور ستر کو قیدی بنایا تو حضرت سعد بن معاذ ؓ کھڑے ہوئے اور کہا کہ اللہ کی قسم ! اے اللہ کے رسول ﷺ چیز یہ مانگ رہے ہیں اس سے ہمارے لئے نہ آخرت سے بےرغبتی رکاوٹ بنی اور نہ دشمن کا خوف۔ بس ہمیں یہ ناپسند ہوا کہ ہم آپ (علیہ السلام) کو صفوں میں اکیلا چھوڑ دیں کہ مشرکین کا کوئی گھڑ سوار آپ کو نقصان پہنچا جائے تو نبی کریم ﷺ نے دونوں حضرات سے اعراض کیا تو سعید ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) بیشک لوگ زیادہ اور مال غنیمت کم ہے۔ اگر آپ صرف ان لوگوں کو دیتے ہیں جن کا آپ (علیہ السلام) نے تذکرہ کیا تھا تو آپ (علیہ السلام) کے باقی ساتھیوں کے لئے کچھ نہیں بچتا تو یہ آیت نازل ہوئی۔” یسئلونک عن الانفال “ ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت پورے لشکر سے جمع کرنے کا حم دیا تو مسلمانوں میں اختلاف ہوا جنہوں نے مال غنیمت دشمن کے لشکر سے جمع کیا تھا، انہوں نے کہا یہ ہمارا ہے کیونکہ آپ (علیہ السلام) پہلے یہ اعلان فرما چکے تھے کہ جس کے ہاتھ جو کچھ لگے وہ اس کا ہے اور جن حضرات نے لڑائی کی تھی انہوں نے کہا کہ اگر ہم نہ ہوتے تو تمہیں یہ نہ ملتا اور جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی چوکیداری کی تھی، انہوں نے کہا کہ ہم بھی دشمن سے قتال اور مال غنیمت جمع کرسکتے تھے لیکن ہم نے رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی دشمن کے حملہ سے تو تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو۔ مکحول (رح) نے ابوامامہ باہلی ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے عبادہ بن صامت ؓ سے انفال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم اصحاب بدر کے بارے میں نازل ہوئی جب ہمارا مال غنیمت کی تقسیم میں اختلاف ہوا اور ہمارے اخلاق برے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ہم سے لے کر رسول اللہ ﷺ کو اختیار دے دیا تو آپ (علیہ السلام) نے اس کو ہمارے درمیان برابر تقسیم کیا تو اس میں اللہ کا تقویٰ اور اس کے رسول کی اطاعت اور باہمی معاملات کی درستگی بھی پائی گئی۔ سعد بن ابی وقاص ؓ نے فرمایا کہ بدر کے دن میرا بھائی عمیر شہید ہوا اور میں نے سعید بن عاص بن امیہ کو قتل کیا اور اس کی تلوار لے لی اس کا نام ذوالکثیفہ تھا وہ مجھے بڑی اچھی لگی، میں اس کو لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے میرے سینہ کو مشرکین سے شفا دی ہے۔ آپ مجھے پر تلوار ھبہ کردیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ نہ میری اور نہ تیری اس کو پھینک دے، میں نے اس کو مال غنیمت کے ڈھیر پر پھینک دیا اور واپس لوٹ گیا، اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ اپنے بھائی کی شہادت اور اس تلوار کے نہ ملنے کا مجھے کتنا غم تھا اور میں نے کہا کہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ تلوار اس شخص کو دیں جس پر میرے جیسی آزمائش نہیں آئی۔ میں تھوڑا ہی آگے گیا تھا کہ آپ (علیہ السلام) میرے پاس تشریف لائے۔ آپ (علیہ السلام) پر یہ آیت نازل ہوچکی تھی۔ مجھے ڈر ہوا کہ میرے بارے میں کوئی حکم نہ اترا جب میں رسول اللہ ﷺ تک پہنچا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اے سعد ! ت نے مجھ سے تلوار مانگی اس وقت مجھے اختیار نہ تھا اب مجھے اختیار ہے جا کر اس کو لے لو (قل الانفال للہ والرسول) وہ اس کو تقسمی کریں جیسے چاہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ مجاہد، عکرمہ اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت دوسری آیت ” واعلموا انما غنمتم من شیء فان اللہ خمسہ و للرسول “ کی وجہ سے منسوخ ہوگئی ہے۔ اس وقت مال غنیمت کا اختیار رسول اللہ ﷺ کو تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو خمس کے ذریعے منسوخ کردیا اور عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت ثابت ہے منسوخ نہیں اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ کہہ دیں کو غنیمت دنیا اور آخرت میں اللہ کے لئے اور اس کے رسول کے لئے ہے اس کو خرچ کریں گے جہاں اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیں گے یعنی غنیمت کا فیصلہ اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے اور اس غنیمت کے مصارف ” واعلموا انما غنمتم “ میں بیان کردیئے ہیں (فاتقوا اللہ واصلحوا ذات بینکم) یعنی اللہ کا کہنا مان کر اس سے ڈر اور جھگڑا اور مخالفت چھوڑ کر آپس میں صلح کرو (واطیعوا اللہ و رسولہ ان نتم مئومنین)
Ayah 8:2

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

مومن تو وہ ہے مہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اسکی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

تفسیر 2 (ان کنتم مئومنین) یعنی وہ لوگ مئومن نہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں سچے مئومن تو وہ ہیں (انما المومنون الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم) بعض نے کہا جب اللہ سے ڈرائے جائیں تو اس کے عذاب کے خوف سے مطیع ہوجائیں (واذا تلیث علیھم ایتہ زادتھم ایماناً ) تصدیق اور یقین میں۔ عمیر بن حبیب ؓ فرماتے ہیں ان کو شرف صحابیت حاصل ہے کہ ایمان کے لئے بھی کمی اور زیادتی ہے۔ عرض کیا گیا اس کی زیادتی کیا ہے ؟ تو فرمایا کہ جب ہم اللہ کا ذکر اور اس کی حمد کرتے ہیں تو یہ ایمان کی زیادتی ہے اور جب غفلت کرتے ہیں تو یہ ایمان کی کمی ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے عدی بن عدی کی طرف خط لکھا کہ ایمان کے فرائض ، شرائع، حدود اور سنن ہیں جو ان کو مکمل کرلے تو اس نے ایمان کو مکمل کرلیا اور جس نے ان کو مکمل نہ کیا تو ایمان بھی مکمل نہ ہوا (وعلی ربھم یتوکلون) یعنی اپنے تمام امور اس کے سپرد کرتے ہیں اور اس پر اعتماد رکھتے ہیں اس کے غیر سے نہ کوئی امید رکھتے ہیں اور نہ اس کے سوا کسی سے ڈرتے ہیں۔
Ayah 8:3

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

(اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔

(3) الذین یقیمون الصلوۃ وما رزقنھم ینفقون)
Ayah 8:4

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

یہی سچے مومن ہیں۔ اور ان کے لئے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے) درجے اور بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

(4) (اولئک ھم المئومنون حقاً ) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کفر سے بری ہیں۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے ایمان میں کوئی شک نہیں ہے۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ کسی کے لئے جائز نہیں کہ اپنے آپ کو مئومن حق کہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے صفت مخصوص صفات والے لوگوں کی بیان کی ہے اور ہر ایک میں یہ صفات پائی نہیں جا سکتیں۔ ابن ابی لجیح فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت حسن (رح) سے سوال کیا کہ کیا آپ مئومن ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر تو اللہ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور آخرت کے دن اور جنت اور جہنم اور دوبارہ جی اٹھنے اور حساب پر ایمان رکھنے کے بارے میں پوچھ رہا ہے تو میں ان پر ایمان رکھتا ہوں اور اگر تو اس آیت کے بارے میں پوچھا رہا ہے ” انما المومنون الذین اذا ذکر اللہ الخ “ تو مجھے معلوم نہیں کہ میں ایسا مئومن ہوں یا نہیں۔ علقمہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں تھے تو ہمیں ایک جماعت ملی تو ہم نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا ہم مئومنین حق ہیں تو ہم ان کو کوئی جواب نہ دے سکے یہاں تک کہ ہماری ملاقات حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے ہوئی تو ان کے قول کی ہم نے آپ ؓ کو خبر دی تو آپ ؓ نے پوچھا تم نے ان کو کیا جواب دیا ؟ ہم نے کہا کچھ نہیں کہا۔ تو آپ ؓ نے کہا کہ تم نے ان کو یہ کیوں نہ کہا کہ کیا تم جنتی لوگ ہو ؟ کیونکہ مئومنین تو جنتی لوگ ہیں۔ سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں کہ جس کا گمان ہے کہ وہ عند اللہ مئومن حق ہے پھر وہ اپنی جنتی ہونے کی گواہی نہیں دیتا تو وہ آدھی آیت پر ایمان لایا، آدھی پر نہیں لایا (لھم درجت عند ربھم) عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ جنت کے درجے ہیں جن پر اپنے اعمال کے ذریعے چڑھیں گے۔ ربیع بن انس (رح) فرماتے ہیں کہ ستر درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان تیز رفتار گھوڑے کے ستر سال دوڑنے جتنا فاصلہ ہے (ومغفرۃ) ان کے گناہوں کی (ورزق کریم) اچھی یعنی جو ان کے لئے جنت میں تیار کی گئی ہے۔
Ayah 8:5

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اس طرح نکلنا چاہئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں کی ایک جماعت ناخوش تھی۔

تفسیر (5) (کما اخرجک ربک من بیتک بالحق و ان فریقاً من المومنین لکرھون) اس میں اختلاف ہے کہ باری تعالیٰ کے قول ” کما اخرجک ربک “ میں کاف کو لانے کی وجہ کیا ہے ؟ مبر و (رح) فرماتے ہیں اس کی اصل عبارت ” الانفال للہ و الرسول و ان کرھوا کما اخرجک ربک من بیتک بالحق وان کرھوا “ ہے اور بعض نے کہا ہے اصل عبارت یہ ہے۔ انفال کے بارے اللہ کے حکم کو جاری کریں۔ اگرچہ وہ اس کو ناپسند کریں۔ جیسا کہ آپ (علیہ السلام) نے تجارتی قافلہ کی تلاش میں گھر سے نکلنے میں اللہ کے حکم کو جاری کیا تھا اور لوگ اس کو ناپسند کرتے تھے اور عکرمہ رحمتہ اللہ فرماتی ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ سے ڈرو اور اپنے درمیان معاملہ کی اصلاح کرو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ جیسا کہ محمد ﷺ کو ان کے گھر سے حق کے ساتھ نکالنا تمہارے لئے بہتر تھا۔ اگرچہ کچھ لوگوں نے اس کو ناپسند کیا تھا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ جیسا کہ ایک فریق کے ناپسند سمجھنے کے باوجود آپ کے رب نے آپ کو گھر سے نکالا حق کے ساتھ اسی طرح وہ قتال کو ناپسند کرتے اور اس کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے قول ” لھم درجات عند ربھم ‘ ذ کی طرف لوٹ رہا ہے۔ اصل عبارت یہے ان سے درجات کا وعدہ کرنا حق ہے اللہ تعالیٰ اس کو پورا کریں گے۔ جیسا کہ آپ (علیہ السلام) کو آپ کے گھر سے نکالا حق کے ساتھ اور مدد و کامیابی کا اپنا وعدہ پورا کیا اور بعض نے کہا ہے کہ کاف علی کے معنی میں ہے اس کی اصل عبارت یہ ہے۔ آپ (علیہ السلام) اس پر جاری رہیں جس پر آپ کے رب نے آپ کو نکالا اور اب عبیدہ فرماتے ہیں یہ قسم کے معنی میں ہے مجازاً ۔” والذی اخرجک “ اس لئے کہ ” ما الذی کی جگہ ہے اور اس کا جواب ” یجادلونک “ ہے اور اس پر قسم واقع ہوگی۔ اس کی تقدیر ” یجادولونک واللہ الذی اخرجک ربک من بیتک بالحق “ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ کاف ” اذا “ کے معنی میں ہے۔ اصل عبارت ” واذا کر اذا اخرجک ربک “ ہے اور بعض نے کہا ہے اس اخراج سے مراد آپ (علیہ السلام) کو مکہ سے مدینہ کی طرف نکالنا ہے اور ایک جماعت اہل ایمان کی راضی نہ تھی) اکثر مفسرین کے نزدیک اس میں نبی کریم ﷺ کا مدینہ سے بدر کی طرف نکلنا مراد ہے۔ یعنی جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کو اپنے گھر مدینہ سے نکلنے کا حکم حق کے واسطے۔ بعض نے کہا ہے وحی کے ساتھ مشرکین کی تلاش کے لئے ” ان فریقا من المئومنین “ ان میں سے۔” لکارھن “
Ayah 8:6

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے تم سے جھگڑنے لگے۔ گویا موت کی طرف ڈھکیلے جاتے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں۔

(6) (یجادولونک فی الحق) قتال میں (بعد ماتبین) اس کا پس منظر یہ ہے کہ مئومنین کو جب لڑائی کا یقین ہوگیا تو یہ بات ناپسندیدہ ہوئی اور کہنے لگے کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ دشمن سے ٹکرائو ہوگا تاکہ ہم بھی لڑائی کی تیاری کرلیتے ہم تو تجارتی قافلہ کے لئے نکلے تھے تو یہ ان کا جھگڑا ہے اس بات کے ظاہر ہونے کے بعد کہ آپ (علیہ السلام) وہی کرتے ہیں جو آپ کو حکم دیا جاتا ہے (کانما یساقون الی الموت) ان کے قتال کو سخت ناپسند سمجھنے کی وجہ سے (وھم ینظرون) اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل عبارت یوں بنے گی۔” وان فریقاً من المئومنین لکارھون کانما یساقون الی الموت وھم ینظرون یجادلونک فی الحق بعد ماتبین “ ابن زید (رح) فرماتے ہیں ان مشرکین نے آپ (علیہ السلام) سے حق کے بارے میں جھگڑا کیا ہے۔ جب ان کو اسلام کی طرف بلایا جائے تو گویا کہ وہ موت کی طرف بلائے جا رہے ہیں کیونکہ وہ اس کو ناپسند کرتے ہیں۔ ” وھم ینظرون “
Ayah 8:7

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابو سفیان اور ابو جہل کے) دو گرہوں میں ایک گردہ تمہارا مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بےہتھیار) ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور جو کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے۔

(آیت 7) تفسیر 7 (واذ بعد کم اللہ احدی الطآئفتین) ابوسفیان کا تجارتی قافلہ اور عاتکہ بنت عبدالمطلب کا خواب ابن عباس، ابن زبیر ؓ ، محمد بن اسحاق اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ابوسفیان شام سے قریش کا ایک تجارتی قافلہ لے کر آ رہا تھا اس میں چالیس آدمی قریش کے بڑے بڑے تھے ان میں عمرو بن عاص ار مخرمہ بن نوفل زہری بھی تھے ۔ اس میں قریش کا بہت زیادہ تجارتی سامان تھا، جب وہ بدر کے قریب پہنچے تو نبی کریم ﷺ کو یہ بات پہنچی تو آپ (علیہ السلام) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو اطلاع دی کہ مال زیادہ ہے اور تعداد تھوڑی ہے اور فرمایا یہ قریش کا قافلہ ہے اس میں تمہارے مال ہیں تم نکلو شاید اللہ تعالیٰ اس کو تمہارے لئے مال غنیمت بنا دے تو لوگوں نے جلدی تیاری کی اور بعض نے تھوڑا سامان اٹھایا اور بعض نے زیادہ کیونکہ ان کو یہ خیال نہ تھا کہ آگے شمن سے ٹکرائو ہوگا، جب ابوسفیان نے نبی کریم ﷺ کے چلنے کی خبر سنی تو ضمضم بن عمرو غفاری کو اجرت پر پیغام پہنچانے کے لئے مکہ بھیجا کہ وہ قریش کو جا کر بتائے کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان کا مال لینے نکل پڑے ہیں۔ ضمضم بڑی تیزی سے مکہ کی طرف چلا، اس کے مکہ جانے سے تین دن پہلے عاتکہ بنت عبدالمطلب نے ایک خواب دیکھا جس کی وجہ سے گھبرا گئی اور اپنے بھائی عباس کو کہا کہ ایک خواب تجھے سناتی ہوں جس کی وجہ سے خوفزدہ ہوں لیکن تو کسی کو نہ بتانا مجھے ڈر ہے کہ تیری قوم پر کوئی شر اور مصیبت داخل ہونے لگی ہے انہوں نے کہا کیا خواب دیکھا ہے ؟ تو عاتکہ نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ ایک آدمی اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور وادی ابطح پر آ کر ٹھہر گیا، پھر بلند آواز سے چلایا سنو کوچ کرو اے غدار قوم اپنے مرھٹ کی طرف تین دن میں۔ پھر میں نے دیکھا کہ لوگ اس کے اردگرد جمع ہو رہے ہیں، پھر وہ مسجد میں داخل ہوا اور لوگ اس کے پچیھے تھے۔ پھر وہ اس کے اردگرد تھے وہ کعبہ کی چھت پر چڑھا اور پھر بلند آواز سے وہی اعلان کیا۔ پھر جبل ابی قبیس پر گیا اور پھر وہی اعلان کیا ، پھر ایک چٹان لے کر نیچے کی طرف پھینکی، جب وہ چٹان زمین پر گری تو ریزہ ریزہ ہوگئی اور مکہ کا کوئی گھر ایسا نہ تھا جس میں اس کی کنکری نہ گئی ہو تو حضرت عباس ؓ نے کہا کہ اللہ کی قسم یہ تو واقعی بڑا عجیب خواب ہے تو اس کو چھپالے، کسی سے تذکرہ نہ کرنا۔ پھر عباس وہاں سے نکلے تو ولید بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس سے ملاقات ہوئی۔ یہ حضرت عباس کا دوست تھا، آپ نے وہ خواب اس کو سنایا اور چھپانے کا کہا اس نے اپنے باپ عتبہ کو سنایا پھر تو بات اتنی پھیل گئی کہ قریش اسی کی باتیں کرنے لگے۔ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں اگلے دن بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا کہ ابوجہل بن ہشام قریش کی ایک جماعت میں بیٹھات ھا وہ لوگ عاتکہ کے خواب کی باتیں کر رہے تھے، جب ابوجہل نے مجھے دیکھا تو کہنے لگا اے ابو الفضل جب طواف سے فارغ ہو جائو تو ہمارے پاس آنا۔ عباس کہتے ہیں جب میں طواف سے فارغ ہوا تو ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا تو ابوجہل نے کہا اے عبدالمطلب کی اولاد یہ دلیل تم میں کب ظاہر ہوئی ؟ میں نے کہا کہ کون سی ؟ کہنے لگا وہ خواب جو عاتکہ نے دیکھا ہے ۔ میں نے کہا کیا دیکھا ہے ؟ تو وہ کہنے لگا اے عبدالمطلب کی اولاد کیا تم اپنے مردوں کے جھوٹینبی بننے سے راضی نہیں ہوئے، اس لئے تمہاری عورتیں بھی جھوٹی نبی بننے لگ گئی ہیں ؟ عاتکہ نے اپنے خواب کے مطابق یہ خیال کیا ہے کہ آنے والے نے کہا تین دن میں کوچ کرو ہم تین دن انتظار کریں گے اگر اس نے جو کہا ہے سچ ہوا تو ٹھیک ورنہ اگر تین دن گزر گئے اور ایسی کوئی بات نہ ہوئی تو ہم تم پر ایک تحریر لکھ دیں گے کہ تم عرب میں سب سے جھوٹا گھر نہ ہو۔ عباس کہتے ہیں کہ میرے پاس انکار کے سوا چارہ نہ تھا، پھر جب میں گھر آیا، تو بنو عبدالمطلب کی عورتیں مجھے آ کر طعن کرتی رہیں کہ تم نے اس خبیث فاسق کی بات مان لی۔ یہ پہلے تمہارے مردوں کو تنگ کرتا تھا اب تمہاری عورتوں کو ذلیل کرنا چاہتا ہے کیا تمہارے پاس غیرت نہیں ہے۔ میں نے کہا اب اگر اس نے ایسا کچھ کیا تو میں اس کو کافی ہو جائوں گا۔ ضمضم بن عمرو کا مکہ والوں کو خطرے سے آگاہ کرنا تیسرے دن حضرت عباس عاتکہ کی طرف غصہ میں چلے کہ اس نے ایسی بےبنیاد بات کیوں کی تو اتنے میں ضمضم بن عمرو کی آواز آئی وہ اپنے اونٹ پر بیٹھا آواز لگا رہا تھا، اپنے اونٹ کی ناک کاٹ دی تھی اور اپنے کجا وہ کو الٹ دیا تھا اور اپنی قمیض پھاڑی ہوئی تھی اور کہہ رہا تھا اے قریش کا گروہ ! تمہارا مال جو ابوسفیان کے پاس ہے محمد اس کے در پے ہیں میرا نہیں خیال کہ تم اس تک پہنچ سکو گے مدد مدد۔ تو لوگوں نے جلدی سے تیاری کی اور قریش کے سرداروں میں سے کوئی پیچھے نہ رہا سوائے ابولہب کے وہ پیچھے رہ گیا اور اپنی جگہ عاص بن ہشام بن مغیرہ کو بھیج دیا۔ جب قریش چلنے کے لئے جمع ہوگئے تو ان کو یاد آیا کہ ان کے اور بنو بکر بن عبد مناف بن کنانتہ بن حارث کے درمیان دشمنی ہے تو وہ آپس میں کہنے لگے کہ ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہمارے پیچھے حملہ نہ کردیں تو قریب تھا کہ وہ واپس پلٹ جاتے تو شیطان سراقہ بن مالک بن جعشم کی شکل میں آیا۔ یہ سراقہ بنو بکر کے معزز لوگوں میں سے تھا اور کہنے لگا میں تمہیں پناہ دیتا ہوں کہ تمہارے پیچھے بنو بکر کوئی حملہ نہ کریں گے تو وہ جلدی سے روانہ ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ بھی اپنے صحابہ کرام ؓ کے ساتھ رمضان کی چند راتیں گزرنے کے بعد چل پڑے۔ جب آپ (علیہ السلام) وادی ذوقرد پر پہنچے ت آپ (علیہ السلام) کے پاس قریش کے چلنے کی خبر پہنچی کہ وہ اپنے قافلہ کا دفاع کرنے آ رہے ہیں تو آپ (علیہ السلام) وہاں سے چل پڑے۔ مقام روحاء پہنچے تو ان کا ایک جاسوس پکڑا اور اس سے ساری خبر لی اور ٓپ (علیہ السلام) بھی انصار کے حلیف میں سے عبداللہ بن اریقط کو جاسوس بنا کر بھیج چکے تھے۔ یہ جہینہ قبیلہ کے شخص تھے تو یہ بھی خبریں لائے تجارتی قافلہ رسول اللہ ﷺ سے نکل گیا تو جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا یا تو قافلہ یا قریش اور تجارتی قافلہ ان کو پسند تھا۔ نبی کریم ﷺ کرام ؓ سے مشورہ اور صحابہ کرام کی جانثاری تو نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا کہ تجارتی قافلے کا پیچھا کیا جائے ؟ ہے ہم آپ (علیہ السلام) کے ساتھ ہیں، اللہ کی قسم ہم آپ کو وہ جواب نہ دیں گے جو بنو اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا کہ تو اور تیرا اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ اگر آپ ہمیں برک الغماد یعنی حبشہ لے جائیں تو وہاں تک پہنچنے تک ہم آپ کے ساتھ رہیں گے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا بہتر ہے اور ان کے لئے خیر کی دعا کی۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اے لوگو ! مجھے مشورہ دو ، آپ (علیہ السلام) کی مراد انصار تھے کیونکہ انصار سے یہ معاہدہ ہوا تھا کہ مدینہ سے باہر نکل کر وہ دشمن کا مقابلہ نہ کریں گے اور جو دشمن مدینہ میں آ کر آپ (علیہ السلام) کو تنگ کرے تو وہ خوب دفا کریں گے۔ جب آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو حضر ت سعد بن معاذ ؓ کہنے لگے شاید آپ (علیہ السلام) ہم سے مخاطب ہیں ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں تو انہوں نے کہا کہ ہم آپ (علیہ السلام) پر ایمان لائے، آپ کی تصدیق کی اور گواہی دی کہ جو دین آپ (علیہ السلام) لائے ہیں وہ حق ہے۔ ہم اس بات پر آپ (علیہ السلام) کو پختہ وعدے دے چکے کہ آپ کی سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔ آپ چلیں اے اللہ کے رسول ! اپنے ارادہ کی طرف۔ پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ اگر آپ ہمیں تیر کر اس سمندر کے پار کرنے کا حکم دیں گے تو ہم میں سے کوئی پیچھے نہ ہٹے گا اور امید ہے اللہ تعالیٰ آپ کو ہم سے وہ چیز دکھائے گا جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی تو آپ (علیہ السلام) کو حضرت سعد کی بات سے بڑی خوشی ہوئی تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ کی برکت کے ساتھ چلو اور خوش ہو جائو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا ہے ۔ اللہ کی قسم ! گویا میں قوم کے مرنے کی جگہ دیکھ رہا ہوں۔ حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ فلاں کے منے کے جگہ ہے، یہ فلاں کے مرنے کی جگہ ہے اور آپ (علیہ السلام) اپنا دست مبارک زمین پر رکھتے اور اشارہ کرتے۔ انس ؓ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص حضور ﷺ کے ہاتھ کی جگہ سے ہٹ کر نہ مرا۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان کا (انھا لکم و تودون ان غیر ذات الثوکۃ تکون لکم) یعنی تجارتی قافلہ جس میں لڑائی نہ ہوتی۔ الشوکۃ شدت اور قوت اور ہتھیار کو بھی کہا جاتا ہے۔ (ویرید اللہ ان یحق الحق) یعنی حق کو غالب کر دے تمہیں قتال کا حکم دے کر اور بعض نے کہا ہے کہ اپنے وعدوں کی وجہ سے جو پہلے سے طے ہے کہ وہ دین کو غالب کرے گا اور عزت دے گا (بکلمتہ ویقطع دابر الکفرین) یعنی ان کو جڑ سے اکھاڑ دے ان کفار عرب میں سے کوئی باقی نہ رہے۔
Ayah 8:8

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کر دے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں۔

تفسیر 8(لیحق الحق) یعنی اسلام کو ثابت کرے (ویبطل الباطل) کفر کو فنا کر دے (ولوکرہ المجرمون) مشرکین۔ بدر کا واقعہ جمعہ کے دن سترہ رمضان کو پیش آیا۔
Ayah 8:9

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا کہ) (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے۔

(9) (اذا تستغیثون ربکم) تم اس سے پناہ طلب کرنے لگے اور دشمن کے خلاف مدد طلب کرنے لگے۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کی طرف دیکھا، وہ ایک ہزار اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین تین سو سے کچھ زائد تھے آپ (علیہ السلام) حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ خیمہ میں تشریف لے گئے اور قبلہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ اے اللہ ! جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا اس کو پورا کر۔ اے اللہ ! اگر تو مسلمانوں کی اس جماعت کو ہلاک کر دیگاتو زمین میں تیری عبادت نہ ہوگی، آپ (علیہ السلام) دعا مانگتے رہے یہاں تک کہ آپ (علیہ السلام) کی چادر کندھوں سے گرگئی تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے چادر پکڑ کر دوبارہ کندھوں پر ڈال دی۔ پھر آپ (علیہ السلام) کو چمٹ گئے اور کہا اے اللہ کے نبی ! آپ ﷺ کا وعدہ پورا کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ” اذ تستغیثون ربکم “ (فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملٓئکۃ مردفین) روایت کیا گیا ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) اور میکائیل علیہالسلام پانچ پانچ سو فرشتوں کے ساتھ آئے۔ یہ انسانی شکل میں تھے۔ چتکبرے گھوڑوں پر ان پر سفید کپڑے اور سر پر سفید عمامی تھے، ان عاموں کی ایک جانب کندھوں کے درمیان لٹکائی ہوئی تھی۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بدر کے دن فرمایا یہ جبرئیل (علیہ السلام) ہیں، اپنے گھوڑے کے سر کو پکڑے ہوئے، اس پر لڑائی کے ہتھیار ہیں۔ عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ملائکہ کی علامت بدر کے دن سفید پگڑیاں اور حنین کے دن سبز پگڑیاں تھیں اور فرشتوں نے بدر کے علاوہ کسی جنگ میں لڑائی نہیں کی۔ بدر کے علاوہ غزوات میں یہ تعداد بڑھانے اور مدد کے لئے آئے تھے۔ ابو اسید مالک بن ربیعہ ؓ بدر میں شریک ہوئے تھے ان کی نگاہ جب چلی گئی تو فرمانے لگے اگر میں آج تمہارے ساتھ بدر میں ہوتا اور میری نگاہ ٹھیک ہوتی تو تمہیں وہ گھاٹی دکھاتا جس سے فرشتے نکلے تھے۔
Ayah 8:10

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل اس سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے بیشک خدا غالب حکمت والا ہے۔

تفسیر 10 (وما جعلہ اللہ الا بشریٰ ) یعنی فرشتوں کی مدد (ولیتطمئن بہ قلوبکم وما النصر الا من عند اللہ ان اللہ عزیز حکیم)
Ayah 8:11

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لئے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسا دیا تاکہ تم کو اس سے (نہلا کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کر دے۔ اور اس لئے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور اس سے تمہارے پاؤں جمائے رکھے۔

(11) (اذ یغشیکم النعاس امنۃ منہ) ابن کثیر ار ابو عمرو نے (یغشاکم) یاء کے زبر کے ساتھ اور (النعاس) پیش کے ساتھ پڑھا ہے اس بناء پر کہ یہ اس فعل کا فاعل ہے سورة آل عمران میں اللہ تعالیٰ کے قول (امنۃ تعاسا یغشی طائفۃ منکم) کی وجہ سے اہل مدینہ نے (یغشیکم) یاء کے پیش اور شین کی زیر کے ساتھ بغیر شد کے پڑھا ہے (النعاس) زبر کے ساتھ اس بناء پر کہ یہ فعل اللہ تعالیٰ کا ہے اللہ تعالیٰ کے قول (فعشا ھا ماغشی) کی وجہ سے اور النعاس ہلکی نیند (اونگھ) (امنۃ) امن ہے (منہ) مصدر ہے امنت امنا وامنۃ وامانا۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ قتال میں اونگھ اللہ کی طرف سے سکون ہے اور نماز میں شیطان کی طرف سے ہے۔ (وینزل علیکم من السمآء مآء لیطھرکم بہ) اس کا پس منظر یہ ہے کہ مسلمانوں نے غزوہ بدر میں ایسے ریتلے ٹیلے پر پڑائو ڈالا کہ اس میں پائوں اور گھوڑوں کے کھر دھنس جاتے تھے کیونکہ مشرکین ان سے پہلے اس جگہ پہنچ کر پختہ جگہ اور پانی کے کنوئیں پر قابض ہوچکے تھے تو صبح کو بعض مسلمانوں کو حدث لاحق ہوا اور بعض کو پیاس لگی تو شیطان نے وسوسہ ڈالا کہ تم کہتے ہو کہ ہم حق پر ہیں ہمارے ساتھ اللہ کا نبی ہے اور تم اللہ کے اولیاء ہو اور مشرکین پانی پر قابض ہیں اور تم جنبی اور بےوضو پڑھ رہے ہو تو تم ان پر غالب کیسے آئو گے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بارش بھیجی جس سے وادی بہہ پڑی اور مسلمانوں نے پانی پیا، غسل اور وضو کیا، جانوروں کو پلایا، برتن اور مشکیزے بھر لئے اور غبار جم گئی اور زمین سخت ہوگئی کہ اس پر پائوں جمنے لگے اور شیطان کا وسوسہ دور ہوگیا (لیطھر کم بہ سے مراد وحدث اور جنابت سے پاکی مراد ہے) (ویذھب عنکم رجز الشیطن) اور اس کا وسوسہ (ولیربط علی قلوبکم ویشبت بہ الاقدام) یہاں تک کہ ریت میں نہ جھنسیں اور بعض نے کہا ہے کہ صبر اور دل کو مضبوط کر کے قدم رکھا۔
Ayah 8:12

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب اور ہیبت ڈالے دیتا ہوں تو ان کے سر مار (کر) اڑا دو اور اس کا پور پور مار (کر توڑ) دو ۔

(21) (اذ یوحی ربک الی الملٓئکۃ) ان فرشوتں کی طرف جن کے ذریعے مئومنین کی مدد کی (انی معکم فئبثوا الذین امنوا) یعنی ان کے دلوں کو مضبوط کرو۔ بعض نے کہا یہ ثابت قدمی ان کے لڑائی میں حاضر ہونے اور مدد کرنے کے ذریعے ہوئی اور مقاتل (رح) نے فرمایا کہ ان کو مدد کی خوشخبری دو ، فرشتے صف کے آگے انسانی شکل میں چلتے تھے اور کہتے تھے خوش ہو جائو بیشک اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ (سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب) عطاء فرماتے ہیں کہ اللہ کے الویاء کا خوف مراد ہے (فاضربوا فوق الاعتاق) بعض نے کہا یہ خطاب مئومنوں کو ہے اور بعض نے کہا یہ خطاب فرشتوں کو ہے اور یہ ” فتبتوا الذین امنوا “ کے ساتھ متصل ہے (واضربوا منھم کل بنان) عطیہ (رح) فرماتے ہیں یعنی ہر جوڑ کا ٹو۔ ابن عباس ؓ، ابن جریج اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے اطراف کاٹو ” بنان بناتۃ “ کی جمع ہے دونوں ہاتھ اور پائوں کی انگلیوں کے اطراف مراد ہیں۔ ابن الانباری (رح) فرماتے ہیں کہ فرشتوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ انسانوں کو کس طرح قتل کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ تعلیم دی۔ عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان جنگ میں ایک مشرک کا تعاقب کر رہا تھا کہ اچانک مسلمان نے اپین اوپر کوڑے اور گھوڑ سوار کی آاز سنی کہ وہ کہہ رہا ہے ۔ حیزوم آگے دیکھا مشرک تو گرا پڑا ہے جا کر دیکھا تو وہ مرچکا تھا اور اس کا چہرہ کوڑے کے لگنے کی وجہ سے پھٹ چکا تھا تو وہ انصاری حضور ﷺ کی خدمت میں آئے اور واقعہ بیان کیا تو آپ علیہالسلام نے فرمایا تو نے سچ کہا۔ یہ تیسرے آسمان سے مدد ہے تو اس دن ستر کو قتل کیا اور ستر کو قید کیا۔ ابو دائود مازنی ؓ سے روایت ہے یہ غزوہ بدر میں شریک تھے کہ میں ایک مشرک کے پیچھے قتل کرنے کے لئے لگا ہوا تھا تو میری تلوار اس کو لگنے سے پہلے اس کا سرکٹ گیا تو میں سمجھ گیا کہ اس کہ اس کو میرے علاوہ کسی اور نے قتل کیا ہے۔ ابو امامہ بن سہل بن حنیف نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو غزوہ بدر میں دیکھا کہ ہم میں سے کوئی تلوار سے اشارہ کرتا تو مشرک کا سر، اس کے جسم سے الگ ہوجاتا، تلوار لگنے سے پہلے۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے آزاد کردہ غلام ابو رافع ؓ فرماتے ہیں کہ میں عباس بن عبدالمطلب کا غلام تھا اور ہمارے گھر میں اسلام داخل ہوچکا تھا میں اور ام الفضل اسلام لا چکے تھے اور حضرت عباس پر ان کی قوم کا رعب تھا اور ان کی مخالفت سے ڈرتے تھے اور اسلام کو چھپائے ہوئی تھے، ان کا بہت سارا مال جو ان کی قوم میں پھیلا ہوا تھا اور ابو لہب اللہ کا دشمن بدر سے پیچھے رہ گیا تھا اور اپنی جگہ عاص بن ہشام بن مغیرہ کو بھیج دیا تھا۔ جب بدر والوں کے قتل ہونے کی خبر پہنچی تو اللہ نے اس کو ذلیل و رسوا کیا اور ہم اپین دل میں قوت و عزت محسوس کرنے لگے، میں ایک کمزور شخص تھا اور پیالے بناتا تھا اور ان کو زمزم کے پاس بیٹھ کر کھر چتا تھا، اللہ کی قسم ! میں وہاں بیٹھا پیالے کھرچ رہا تھا اور ام فضل میرے پاس بیٹھی تھیں کہ فاسق ابو الہب پائوں گھسٹیتا ہوا آیا اور وہاں پتھر پر بیٹھ گیا، اس کی پیٹھ میری پیٹھ کی طرف تھی وہ وہاں بیٹھا کہ لوگوں نے کہا ابوسفیان ابن حارث آگئے تو ابو لہب کہنے لگا اے بھتیجے میرے پاس آ تیرے پاس کوئی خبر ہے ؟ تو وہ آ کر بیٹھ گیا اور لوگ اس کے اردگرد کھڑے تھے۔ ابولہب نے پوچھا اے بھتیجے مجھے خبر دے لوگوں کا کیا معاملہ بنا ؟ اس نے کہا کچھ نہیں اللہ کی قسم ہماری ان سے لڑائی ہوئی، وہ ہمیں قتل کرنے لگے اور قید کرنے لگے جیسے ان کا دل چاہے اور اللہ کی قسم ! میں لوگوں کو ملامت نہیں کرتا، ہماری مڈ بھیڑ سفید لوگوں سے ہوئی، وہ چتکبڑے گھوڑوں پر آسمان و زمین کے درمیان تھے تو ابو رافع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا اللہ کی قسم ! وہ فرشتے تھے تو ابولہب نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور میرے چہرے پر زور کا تھپڑ مارا اور مجھے اٹھا کر زمین پ پھینک دیا، پھر مجھ پر چڑھا بیٹھا اور مجھے مارنے لگا، میں کمزور آدمی تھا، تو ام فضل کھڑی ہوئیں اور حجرہ کے ایک ستون کی لکڑی پکڑی اور ابولہب کو ماری تو اس کے سر میں زخم ہوگیا اور کہا کہ اس کا آقا نہیں ہے تو تو اس کو کمزور سمجھتا ہے ؟ تو وہ ذلیل ہو کر چلا گیا۔ پس اللہ کی قسم ! وہ اس کے بعد صرف سات راتیں زندہ رہا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک کنکر مار کر ہلاک کردیا۔ مقسم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عباس کو ابوالیسر کعب بن عمرو بن سلمہ کے بھائی نے قید کیا تھا حالانکہ حضرت عباس بڑے قدم آور صحتمند تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ابوالیسر سے پوچھا کہ آپ نے عباس کو کیسے قید کرلیا ؟ انہوں نے جواب دیا یا رسول اللہ اس پر میری ایک آدمی نے مدد کی، میں نے نہ اس کو اس سے پہلے دیکھا اور نہ اس کے بعد اس کی ہئیت اس طرح تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تیری مدد معزز فرشتے نے کی ہے۔
Ayah 8:13

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ (سزا) اس لئے دی گئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص خدا اور اسکے رسول کی مخالفت کرتا ہے۔ تو خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے۔

تفسیر (31) ذلک بانھم شاقرا اللہ و رسولہ ومن یشاقق اللہ و رسولہ فان اللہ شدید العقاب)
Ayah 8:14

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

یہ (مزہ تو یہاں) چکھو اور یہ (جانے رہو) کہ کافروں کے لئے (آخرت میں) دوزخ کا عذاب (بھی تیار ہے)

(41) (ذلکم) عذاب اور مار جو تم کو بدر میں جلدی ملی اے کافرو ! (قذوقوہ) جلدی (وان للکفرین عذاب النار) اور جان لو اور یقین کرلو کہ کافروں کا وقت مقرر ہے۔ (عذاب النار) عکرمہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بدر سے فارغ ہوئے تو ٓپ (علیہ السلام) کو عرض کیا گیا۔ آپ اب قافلہ کے لئے نکلیں اس سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے تو حضرت عباس ؓ نے قید کی حالت میں آواز دی کہ وہ آپ کو نہ ملے گا۔ آپ (علیہ السلام) نے پوچھا کیوں ؟ انہوںں نے جواب دیا کہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا اور آپ (علیہ السلام) کو آپ (علیہ السلام) کا وعدہ مل چکا ہے۔
Ayah 8:15

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! جب میدان جنگ میں کفار سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا۔

(51) (یا یھا الذین امنوا اذا لقیتم الذین کفروا زحفاً ) یعنی اکٹھے ایک دوسرے میں گھستے ہوئے اور التزاحف قتال میں ایک دوسرے کے قریب ہونا اور الزحف مصدر میں اس لئے جمع نہیں لائی گئی ان کے قول قول عدل و رضا کی طرح لیث (رح) فرماتے ہیں از حف جماعۃ یزحفون الی عدولھم بمرۃ فرماتے ہیں ان سے اپنی پیٹھ نہ پھیرو۔ یعنی شکست کھا کر نہ بھاگو کیونکہ شکست کھا کر بھاگنے والا پیٹھ پھیر لیتا ہے۔ (فلا تونوھم الادبار) اس کا مطلب یہ ہے کہ از حف اس جماعت کو کہتے ہیں جو دشمن کو ایک ہی بار ملے۔
Ayah 8:16

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لئے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اسکا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔

61(ومن یولھم یومئذ دبرہ الا متحرفاً لقتال او متحیزاً الی) آیت کا معنی یہ ہے کہ کفار سے شکست کھا کر بھاگنا ممنع ہے ہاں اگر جنگ کی کوئی چال اختیار کرنے کے لئے یا مسلمانوں کی جماعت میں ملنے کے لئے پیٹھ پھیرے کہ ان کے ساتھ مل کر دوبارہ حملہ کروں گا تو جائز ہے اور جس کی یہ نیت نہ ہوا ور پیٹھ پھیر کر بھاگے تو اس کو یہ وعید لاحق ہوگی (فتۃ فقد بآء بغضب من اللہ وماوہ جھنم وبئس المصیر) علماء رحمہم اللہ کا اس آیت میں اختلاف ہے۔ ابو سعید خدری ؓ فمایت ہیں کہ یہ آیت اہل بدر کے ساتھ خصا ہے ان کے لئے شکست کھا کر بھاگنا جائز نہ تھا کیونکہ نبی کریم ﷺ ان کے ساتھ تھے اور آپ (علیہ السلام) کے علاوہ کوئی اور جماعت نہ تھی جس سے وہ جا کر ملتے۔ ان کے سوا وہاں صرف مشرکین کی جماعت تھی۔ لیکن نبی کریم ﷺ کے بعد مسلمان آپ میں سے ایک دوسرے کی جماعت ہیں تو اب میدان جنگ سے بھاگنے والا کسی جماعت ہی کو ملے گا تو اس کا بھاگنا کبیرہ گناہ نہ ہوگا اور یہی حسن، قتادہ اور ضحاک رحمہما اللہ کا قول ہے۔ یزید بن ابی حبیب (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آگ واجب کی ہے اس شخص کے لئے جو بدر کے دن بھاگتا۔ پھر جب احد کا دن آیا تو فرمایا (انما استزلھم الشیطن ببعض ماکسبوا ولقد عفا اللہ وعنھم) (ان کو پھسلایا ہے شیطان نے ان کے بعض اعمال کی وجہ سے اور البتہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کردیا ہے) پھر حنین کے دن فرمایا (ثم ولیتم مدبرین پھر تم پیٹھ بھر کر بھاگے، پھر اللہ توبہ قبول کریں گے اس کے بعد جس کی چاہیں گے۔ ) عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں ایک لشکر میں رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تو وہاں لوگ منتشر ہوگئے جس کی وجہ سے ہمیں شکست ہوئی تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ہم تو بھاگنے الے ہیں، آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بلکہ تم پلٹ کر حملہ کرنے والے ہو ہم مسلمانوں کی جماعت ہیں۔ محمد بن سیرین (رح) فرماتے ہیں کہ جب ابوعبیدہ ؓ شہید ہوئے تو حضرت عمر ؓ کے پاس خبر آئی تو آپ ؓ نے فرمایا کہ اگر وہ میری طرف لوٹ آتے تو میں ان کی فوج اور جماعت ہوتا کیونکہ میں ہر مسلمان کی جماعت ہوں اور بعض نے فرمایا کہ آیت کا حکم عام ہے ہر اس شخص کے بارے میں جو شکست کھا کر بھاگ جائے۔ حدیث میں آیا ہے کہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے میدان جنگ سے بھاگ جانا۔ عطاء بن ابی رباح (رح) فرماتے ہیں کہ آیت منسوخ ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” الان خفف اللہ عنکم “ کی وجہ سے۔ اب کسی قسم کے لئے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی جب اپنے دشمن کا نصف ہوں تو ان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں۔ ہاں اگر جنگ کی کوئی تدبیر کر رہے ہوں یا کسی جماعت سے ملنا ہو تو پھر ہر وقت پیٹھ پھیرنا جائز ہے اور اگر دشمن کے نصف سے بھی کم ہوں تو ان کے لئے پیٹھ پھیرنا جائز ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص تین سے بھاگا وہ بھاگنے والا نہیں ہے اور جو دو سے بھاگا وہ بھاگنے والا ہے۔
Ayah 8:17

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمد ﷺ جس وقت تم نے (کنکریاں) پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزما لے۔ بیشک خدا سنتا جانتا ہے۔

تفسیر 17 (فلم تقتلوھم ولکن اللہ قتلھم ) مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ جنگ بدر کے بعد کوئی شخص کہتا میں نے فلاں کو مارا ہے، دو سرا کہتا میں نے فلاں کو مارا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ تم نے اپنی قوت سے ان کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری مدد کر کے قتل کیا ہے اور بعض نے کہا کہ اللہ نے ان کو فرشتوں کی مدد بھیج کر قتل کیا ہے (وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی) اہل تفسیر رحمہما اور اہل مغازی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو لڑائی کی طرف متوجہ کیا تو وہ چلے اور بدر میں پڑائو ڈالا تو ان پر قریش کے چرواہے گزرے، ان میں اسلم بنو حجاج کا سیاہ غلام اور ابویسار بن عاص بن سعید کا غلام تھا۔ ان کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ قریش کہاں ہیں ؟ تو ان دونوں نے کہا کہ اس ٹیلے کے پیچھے اس ٹیلہ کا نام عقنقل تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کتنے لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا بہت زیادہ۔ آپ (علیہ السلام) نے پوچھا ان کی تعداد کتنی ہے ؟ انہوں نے کہا معلوم نہیں۔ آپ (علیہ السلام) نے پوچھا کہ ہر دن کتنے جانر ذبح کئے جاتے ہیں ؟ انہوں نے کہا ایک دن دس اونٹ، ایک دن نو تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ نو سو سے ہزار کے درمیان ہیں۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے ان دونوں کو فرمایا کہ قریش کے سرداروں میں سے کون کون ہیں ؟ ان دونوں نے کہا کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوالجنتری بن ہشام، حکیم بن حزام، حارث بن عامر، طعیمہ بن عدی، نضر بن حارث، ابوجہل بن ہشام، امیہ بن خلف اور حجاج کے بیٹے نبیہ اور منبہ سہیل بن عمرو تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ مکہ ہے کہ اس نے تمہاری طرف اپنے اہم لوگ (اپنے جگر کے ٹکڑے) ڈال دیئے ہیں۔ جب قریش سامنے آئے اور ان کو رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ وہ عقتقل ٹیلہ سے آ رہے ہیں۔ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ قریش اپنے تکبر اور فخر کے ساتھ آ رہے ہیں انہوں نے تمہارے رسول ﷺ کو جھٹلایا۔ اے اللہ ! تو اپنی مدد بھیج جس کا تو نے وعدہ کیا ہے تو جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور کہا کہ آپ (علیہ السلام) اپنی مٹھی میں مٹی پکڑ کر ان کی طرف پھینکیں۔ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوگئے تو آپ (علیہ السلام) نے کنکریوں کی مٹھی پکڑی، اس پر مٹی تھی تو اس کو کفار کے چہروں کی طرف پھینکا تو کوئی مشرک ایسا نہ بچا جس کی آنکھوں اور منہ اور ناک میں وہ مٹی نہ گئی ہو تو ان کو شکست ہوئی اور مسلمان ان کو پیچھے جا کر قتل کرنے لگے اور قیدی بنانے لگے۔ قتادہ بن زید (رح) فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن تین کنکریاں پکڑیں، ایک کنکری لشکر کے میمنہ پر ایک میسرہ پر ایک ان کے درمیان میں پھینکی تو اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اور آپ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی) کیونکہ کسی انسان کی طاقت میں نہیں ہے کہ کنکریوں کی ایک مٹھی لشکر کی طرف پھینکے اور وہ سب کی آنکھوں میں جا پڑے اور بعض نے کہا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ آپ نے کنکریوں کو نہیں پہنچایا، جب آپ نے پھینکا لیکن اللہ نے پہنچایا اور بعض نے کہا کہ جب آپ نے کنکریاں پھینکیں تو ان کے دل میں رعب آپ (علیہ السلام) نے نہیں ڈالا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں رعب ڈالا حتی کہ ان کو شکست ہوئی (ولبیلی المومنین منہ بلآء حسناً ) (ان اللہ سمیع علیم) تمہاری نیتوں کو
Ayah 8:18

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

بات یہ (ہے) کہ کچھ شک نہیں کہ خدا کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔

تفسیر (18) (ذلکم) جو میں نے قتل اور رمی اور اچھی آزمائش کو ذکر کیا۔ (وان اللہ ) بعض نے کہا ہے یہاں لفظ محذوف ہے یعنی ” واعلموا ان اللہ “ (موھن) کمزور کرنے والا ہے۔” کید الکافرین “ ابن کثیر، نافع ار اہل بصرہ رحمہما اللہ نے (موھن) شد اور تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ (کید ) کے زبر کے ساتھ اور دیگر حضرات نے تخفیف اور تنوین کے ساتھ پڑھا ہے مگر حفص (رح) اس کو مضاف بناتے ہیں اور تنوین نہیں پڑھتے اور کید پر زیر پڑھتے ہیں۔ (موھن کید الکفرین)
Ayah 8:19

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

(کافرو) اگر تم (محمد ﷺ پر) فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی۔ (دیکھو) اگر تم (اپنے افعال سے) باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر پھر (نافرمانی) کرو گے تو ہم بھی پھر (تمہیں عذاب) کریں گے۔ اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ اور خدا تو مومنوں کے ساتھ ہے۔

(19) (ان تستفتحوا فقد جآء کم الفتح) کا پس منظر یہ ہے کہ ابو جہل ملعون بدر کے دن کہنے لگا جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں کہ ہم میں سے کوئی زیادہ فخر والا ہے ؟ میں یا محمد جو رشتہ داری کو توڑنے والا ہے اور ہمارے پاس ایسا دین لایا جس کو ہم نہیں پہچانتے تو کل اس کو شکست دے تو وہ اپنے لئے فتح طلب کر رہا تھا۔ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ فرماتے ہیں کہ میں بدر کے دن صف میں تھا، میں نے دائیں بائیں توجہ کو تو دو لڑکے تھے کم عمر تو میں ان کے ہونے کی وجہ سے مطمئن نہ ہوا، اچانک ایک نے مجھے آہستہ سے کہا کہ اے چچا مجھے ابوجہل دکھا میں نے کہا اے بھتیجے ! تو اس کا کیا کرے گا ؟ اس نے کہا میں نے اللہ سے وعدہ کیا ہے کہ اگر اس کو دیکھا تو یا اس کو قتل کر دوں گا یا خود مر جائوں گا تو دوسرے نے بھی آہستہ سے مجھ سے یہی بات پوچھی تو مجھے یہ بات اچھی نہ لگی کہ ان کی جگہ دو مردوں کے درمیان ہوتا تو میں نے ان دونوں کو ابو جہل کی طرف اشارہ کیا تو وہ اس پر عقاب کی طرح دوڑے اور اس کو مار دیا یہ دونوں عفراء کے بیٹے تھے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن فرمایا کہ کون ہمارے لئے یہ دیکھ کر آتا ہے کہ ابو جہل کے ساتھ کیا ہوا ؟ تو ابن مسعود ؓ گئے تو اس کو دیکھا کہ وہ ہلاکت کے قریب ہے تو اس کی داڑھی پکڑی اور کہا کہ تم ابوجہل ہے ؟ تو وہ کہنے لگا کہ کیا اس آدمی کے اوپر جس کو اس کی قوم نے قتل کیا یا کہا تم لوگوں نے قتل کیا۔ معاذ بن عمرو بن جموح ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تو حکم دیا کہ ابوجہل بن ہشام کو مقتولین میں تلاش کیا جائے، جب میں نے یہ سنا تو میں اس کا ارادہ کر کے چلا تو میں نے اس کو ایک ضرب لگائی تو اس کے پائوں ہوا میں اڑ گئے اور مجھے اس کے بیٹے عکرمہ ؓ نے کندھے پر تلوار ماری تو میرا ہاتھ کٹ گیا اور میری جلد سے لٹک کر رہ گیا اور مجھے اس کی وجہ سے لڑائی میں مشقت پیش آئی تو دن کا اکثر حصہ میں نے اس کو پیچھے لٹکا کر گزارا جب مجھے زیادہ تکلیف دینے لگا تو میں نے اس کو پائوں کے نیچے رکھ کر زور لگایا تو اس کو جدا کردیا۔ پھر ابوجہل پر گزر ہوا اس کو معاذ بن مسعود ؓ کا گزر ہوا وہ فرماتے ہیں کہ وہ آخری سانیں لے رہا تھا، میں نے اس کو پہچان لیا اور اپنا پائوں اس کی گردن پر رکھا اور کہا کیا تجھے اللہ نے رسوا کردیا ہے۔ اے اللہ کے دشمن ! اس نے کہا کسی چیز کے ساتھ رسوا کیا ہے ؟ تو مجھے بتا فتح کس کی ہوئی ؟ میں نے کہا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ۔ ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ مجھے ابوجہل نے کہا اے بکریوں کے چرواہے تو بڑی سخت جگہ پر چڑھا ہوا ہے۔ پھر میں نے اس کا سر الگ کیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! یہ ابوجہل کا سر ہے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا اللہ وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ؟ میں نے کہا جی ہاں اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر میں نے اس کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے ڈال دیا تو آپ (علیہ السلام) نے اللہ کی تعریف کی۔ سدی اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ مشرکین جب مکہ سے نکلنے لگے تو کعبہ کے پردوں کو پکڑ کر دعا کی۔ اے اللہ ! دونوں لشکروں میں سے اعلیٰ اور دونوں جماعتوں میں سے ہدایت یافتہ جماعت اور دونوں گروہوں میں سے معزز اور دونوں دینوں میں سے افضل کی مدد کر، تو یہ آیت نازل ہوئی ” ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتح “ ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ یہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کو خطاب ہے۔ حضرت خباب ؓ سے روایت ہے کہ آپ (علیہ السلام) کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر کو تکیہ بنا کر لیٹے ہوئے تھے مشرکین ہمیں تنگ کرتے تھے تو ہم نے آپ کو شکایت کی کہ آپ (علیہ السلام) اللہ سے دعا کریں تو آپ (علیہ السلام) جلدی سے اٹھ بیٹھے اور چہرہ انور سرخ ہوگیا اور فرمایا تم سے پہلے لوگوں میں کسی شخص کے لئے زمین میں گڑھا کھود کر زندہ ڈال دیا جاتا تھا اور آرا لا کر اس کے سر پر رکھ کر دو ٹکڑے کردیئے جاتے تھے یہ تکلیف اس کو اللہ کے دین سے نہ روکتی تھی اور لوہے کے کنگھی پھیری جاتی تھی جو اس کے گوشت سے گزر کر ہڈیوں اور پٹھوں تک پہنچ جاتی تھی لیکن یہ تکلیف اس کو اللہ کے دین سے نہ روکتی تھی۔ اللہ کی قسم ! اللہ اپنے اس دین کو مکمل کرے گا حتیٰ کہ ایک سوار صنعاء سے حضر موت کی طرف چلے گا، راستے میں اس کو اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا نہ اپنی بکریوں پر بھیڑیئے کا خوف ہوگا لیکن تم جلدی کر رہے ہو (وان تنتھوا فھو خیر لکم وان تعودو نعد) یعنی اگر تم دوبارہ لڑائی اور قتال کرو گے تو ہم بھی وہی معاملہ کریں گے جو بدر میں تمہارے ساتھ کیا اور بعض نے کہا کہ اگر تم دوبارہ فتح کی دعا کرو گے تو ہم بھی فتح محمد ﷺ کو دیں گے (ولن تغنی عنکم فتتکم شیئاً ولوکثرت ان اللہ مع الممنین) اہل مدینہ ما ابن عامر اور حفص نے (وان اللہ) ہمزہ کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی اور اس لئے کہ اللہ مومنین کے ساتھ ہے۔ اسی طرح (لن تغنی عنکم فتتکم شیئاً ) اور بعض نے کہا ہے کہ اس کا عطف اللہ تعالیٰ کے قول (ذلکم وان اللہ موھن کیدالکافرین) پر ہے اور دیگر حضرات نے (وان اللہ) الف کی زیر کے ساتھ نئی کلام ہونے کی بنا پر پڑھا ہے۔
Ayah 8:20

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے رو گردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو۔

تفسیر 20 (یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ و رسولہ ولا تولوا عنہ وانتم تسمعون) قرآن اور اس کی نصیحتیں۔
Ayah 8:21

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے (حکم خدا) سن لیا مگز (حقیقت میں) نہیں سنتے۔

21 (ولا تکونوا کالذین قالوا سمعنا وھم لایسمعن) یعنی وہ زبان سے تو کہتے ہیں کہ ہم نے کانوں سے سن لیا لیکن اس سننے سے نہ نصیحت حاصل کرتے ہیں اور نہ سننا ان کو نفع دیتا ہے تو گویا کہ انہوں نے سنا ہی نہیں۔
Ayah 8:22

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے۔

22(ان شر الدوآب ) یعنی زمین پر اللہ کی مخلوق میں سب سے بدتر (عند اللہ الصم البکم الذین لایعفلون) حق سے جو نہ حق سنتے ہیں ار نہ حق بولتے ہیں (جو نہیں سمجھتے) اللہ کے حکم کو ان کو (دواب) کہا ہے اس لئے کہ وہ اپنی عقل سے کم نفع اٹھایت ہیں جیسا کہ فرمایا ہے (اولئک کالانعام بل ھم اضل) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ بنو عبدالداربن قصی کے لوگ ہیں وہ کہتے تھے جو دین محمد ﷺ لائے ہیں ہم اس سے گونگے بہرے اندھے ہیں۔ تو یہ سارے لوگ احد میں قتل کئے گئے اور یہ جھنڈوں والے تھے، ان میں سے صرف دو شخص مسلمان ہوئے ، مصعب بن عمیر اور سویبط بن حرملتۃ
Ayah 8:23

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو منہ پھیر کر بھاگ جاتے۔

23 (لو علم اللہ فیھم خیراً لاسمعھم) سمجھ اور قبولیت کا سنانا (ولو اسمعھم لتولوا وھم معرضون) ان کے ضد اور عناد کی وجہ سے اور حق ظاہر ہونے کے بعد اس کا انکار کرنے کی وجہ سے اور بعض نے کہا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کو کہتے تھے کہ ہمارے لئے قصی کو زندہ کردیں وہ بڑے بابرکت بزرگ تھے وہ آپ کی نبوت کی گواہی دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ولو اسمعھم ) قصی کی کلام (لتولوا وھم معرضون)
Ayah 8:24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

مومنو ! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو۔ جبکہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی (جاوداں) بخشتا ہے۔ اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اسکے روبرو جمع کئے جاؤ گے۔

24 (یایھا الذین امنوا استجیوا للہ وللرسول اذا دعا کم لما یحبیکم ) سدی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ کام ایمان ہے کیونکہ کافر مردہ ہے ایمان سے زندہ ہوتا ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ کام قرآن ہے اس میں زندگی ہے اور اسی کے ساتھ نجات اور دونوں جہانوں میں حفاظت ہے۔ ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ وہ کام جہاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ تمہیں عزت دی۔ قتیبی (رح) فرماتے ہیں کہ شہادت ہے کیونکہ شہداء کو اللہ تعالیٰ نے زندہ کہا ہے ۔ ہم تک روایت پہنچی کہ نبی کریم ﷺ کا گزرا بی بن کعب ؓ پر ہوا تو وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ (علیہ السلام) نے ان کو پکارا تو ابی ؓ نے جلدی نماز ختم کی۔ پھر آئے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میری پکار کا جاب دینے سے آپ کو کس نے منع کیا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا میں نماز میں تھا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ ” یایھا الذین امنوا استجیبوا للہ ولرسول اذا دعا کم) تو آپ ؓ نے کہا، اب اے اللہ کے رسول ! آپ مجھے جب پکاریں گے میں جواب دوں گا اگرچہ نماز پڑھ رہا ہوں (واعلموا ان اللہ یحول بین المرء وقلبہ) سعید بن جبیر ؓ اور عطاء (رح) جواب دوں گا اگرچہ نماز پڑھ رہا ہوں (واعلموا ان اللہ یحول بین المرء وقلبہ) سعید بن جبیر ؓ اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ مئومن اور کفر کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور کافر اور ایمان کے درمیان اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ بندے اور فرماتے ہیں کہ مئومن اور کفر کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور کافر اور ایمان کے درمیان اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ بندے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے وہ نہیں سمجھ سکتا کہ وہ کیا کر رہا ہے ار بعض نے کہا کہ قوم کو جب لڑائی کی طرف بلایا گیا تو وہ کمزوری کی حالت میں تھے تو ان کو بدگمانی ہونے لگی اور دل میں وسوسے آنے لگے تو ان کو کہا گیا کہ اللہ کے راستے میں قتال کرو اور خوب جان لو کہ اللہ بندے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے تو اللہ خوف کو امن سے اور بزدلی کو جرأت اور بہادری سے بدل دے گا (وانہ الیہ تحشرون) تو تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا مانگتے اے دلوں کے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر جماد تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ہم آپ (علیہ السلام) پر اور آپ (علیہ السلام) کے لائے ہوئے دین پر ایمان لائے تو کیا آپ کو ہم پر خوف ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں ان کو جیسے چاہتا ہے پلٹتا ہے۔
Ayah 8:25

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔

تفسیر 25 (واتقوا فتنۃ لاتصبین) قولہ ” لاتصیبن “ یہ محض جزاء نہیں ہے۔ اگر یہ جزاء ہوتی تو اس پر نون داخل نہ ہوتا۔ یہ نفی ہے اور اس میں جزاء کی ایک طرف بھی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” یا یھا النمل ادخلوا مساکنکم لایحطمنکم سلیمان و جنودہ “ ہے اور اس کی اصل عبارت ” واتقوافتنۃ ان لم تتقوھا اصابتکم “ ہے یعنی تم فتنہ سے بچو، اگر نہیں بچو گے تو وہ تمہیں آپہنچے گا۔ یہ کہنے والے کے قول ” انزل عن الدابۃ لاتطرحک ولا تطرحنک “ کی طرح ہے یعنی سواری سے اتر یہ تجھے پھینک نے دے۔ تو یہ امر کا جواب ہے نفی کے الفاظ میں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر تو اتر آئے تو یہ تجھے نہ پھینکے گی۔ (الذین ظلموا منکم خآصۃ) مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی اور اس کا معنی یہ یہ کہ اس فتنہ سے بچو جو ظالم اور غیر ظالم کو پہنچے گا ۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی، عمار، طلحہ اور زبیر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے ایک زمانہ تک یہ آیت پڑھی اور اس کا مصداق کوئی نہیں دیکھا تو ہم لوگ ہی اس سے مراد ہیں۔ یعنی جو جنگ جمل میں شریک ہوئے۔ سدی، مقاتل اور ضحاک اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے بعض مخصوص لوگوں کے بارے میں ہے جن کو جنگ جمل میں فتنہ پہنچا ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مئومنین کو حکم دیا کہ وہ کسی ناپسند کام کو اپنے درمیان رواج نہ پانے دیں ورنہ اللہ کا عمومی عذاب آئے گا جو ظالم اور غیر ظالم کو پہنچے گا۔ عدی بن عدی کندی (رح) فرماتے ہیں کہ ہمارے آزد کردہ غلام نے بیان کیا کہ اس نے میرے دادا سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ اللہ عام لوگوں کو چند خاص لوگوں کے عمل کی وجہ سے عذاب نہ دیں گے یہاں تک کہ وہ اپنے درمیان کسی ناپسند (گناہ کے کام) کام ک دیکھیں اور وہ اس کے انکار پر قادر ہونے کے باوجود انکار نہ کریں، جب وہ ایسا کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ عام و خاص ہر ایک کو عذاب دیں گے۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ فتنہ سے مراد باہمی مخالفت ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عنقریب فتنے ہوں گے کہ بیٹھا ہوا شخص ان میں کھڑے ہوئے سے بہتر ہوگا اور کھڑا شخص چلنے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا جو ان کو جھانکے گا وہ اس کو جھانکیں گے۔ پس جو شخص کوئی پناہ گاہ یا ٹھکانہ پائے تو اس کی پناہ لے۔ (واعلموآ ان اللہ شدید العاقب)